بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
    Al-Quran Multilingual
    The Holy Quran
    Urdu
    Translation: urd-mahmoodulhassan
    Author: Mahmood Ul Hassan
    Source: https://dailyayat.com
    Generated on February 13, 2026
    Free • Open Source • Ad-Free
    About Al-Quran Multilingual

    Our Mission: We're on a mission to make the Holy Quran accessible to every Muslim worldwide, regardless of their native language, technical expertise, or economic situation.

    Al-Quran Multilingual is a free, open-source, and ad-free application offering 470+ editions in 90+ languages from verified Islamic scholars and institutions.

    Core Values:

    • ✓ Free Forever - No premium features or paywalls
    • ✓ Ad-Free Experience - Your spiritual journey uninterrupted
    • ✓ Open Source - Complete transparency and community contributions
    • ✓ Privacy & Respect - No data collection, no tracking
    Support This Project

    This app is maintained by volunteers dedicated to serving the Muslim community. If you find this helpful, please consider supporting our mission to keep it free and accessible for everyone.

    UPI Payment (India)
    8870358783@ybl
    Every contribution, no matter how small, helps us serve the Muslim Ummah better. May Allah reward you.
    Table of Contents
    1.الفاتحہ
    2.البقرہ
    3.آل عمران
    4.النساء
    5.المائدہ
    6.الانعام
    7.الاعراف
    8.الانفال
    9.التوبہ
    10.یونس
    11.ھود
    12.یوسف
    13.الرعد
    14.ابراہیم
    15.الحجر
    16.النحل
    17.بنی اسرائیل
    18.الکھف
    19.مریم
    20.طٰہٰ
    21.الانبیاء
    22.الحج
    23.المومنون
    24.النور
    25.الفرقان
    26.الشعراء
    27.النمل
    28.القصص
    29.العنکبوت
    30.الروم
    31.لقمان
    32.السجدہ
    33.الاحزاب
    34.سبا
    35.فاطر
    36.یٰس
    37.الصّٰفّٰت
    38.ص
    39.الزمر
    40.المومن
    41.حم السجدہ
    42.الشوریٰ
    43.الزخرف
    44.الدخان
    45.الجاثیہ
    46.الاحقاف
    47.محمد
    48.الفتح
    49.الحجرات
    50.ق
    51.الذاریات
    52.الطور
    53.النجم
    54.القمر
    55.الرحمٰن
    56.الواقعہ
    57.الحدید
    58.المجادلہ
    59.الحشر
    60.الممتحنہ
    61.الصّف
    62.الجمعہ
    63.المنافقون
    64.التغابن
    65.الطلاق
    66.التحریم
    67.الملک
    68.القلم
    69.الحاقہ
    70.المعارج
    71.نوح
    72.الجن
    73.المزمل
    74.المدثر
    75.القیامہ
    76.الدھر
    77.المرسلات
    78.النبا
    79.النازعات
    80.عبس
    81.التکویر
    82.الانفطار
    83.المطففین
    84.الانشقاق
    85.البروج
    86.الطارق
    87.الاعلیٰ
    88.الغاشیہ
    89.الفجر
    90.البلد
    91.الشمس
    92.اللّیل
    93.الضحیٰ
    94.الم نشرح
    95.التین
    96.العلق
    97.القدر
    98.البیّنہ
    99.الزلزال
    100.العادیات
    101.القارعہ
    102.التکاثر
    103.العصر
    104.الھمزہ
    105.الفیل
    106.قریش
    107.الماعون
    108.الکوثر
    109.الکافرون
    110.النصر
    111.اللهب
    112.الاخلاص
    113.الفلق
    114.الناس
    Surah 1
    الفاتحہ

    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے [۱] ﴿1﴾

    سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں [۲] جو پالنے والا سارے جہان کا [۳] ﴿2﴾

    بےحد مہربان نہایت رحم والا ﴿3﴾

    مالک روز جزا کا [۴] ﴿4﴾

    تیری ہی ہم بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں [۵] ﴿5﴾

    بتلا ہم کو راہ سیدھی ﴿6﴾

    راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے فضل فرمایا [۶] جن پر نہ تیرا غصہ ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے [۷] ﴿7﴾

    Surah 2
    البقرہ

    الم [۱] ﴿1﴾

    اس کتاب میں کچھ شک نہیں [۲] راہ بتلاتی ہے [۳] ڈرنے والوں کو [۴] ﴿2﴾

    جو کہ یقین کرتے ہیں بن دیکھی چیزوں کا [۵] اور قائم رکھتے ہیں نماز کو [۶] اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اسمیں سے خرچ کرتے ہیں [۷] ﴿3﴾

    اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں [۸] ﴿4﴾

    وہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے پروردگار کی طرف سے اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے [۹] ﴿5﴾

    بیشک جو لوگ کافر ہو چکے برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ ایمان نہیں لائیں گے [۱۰] ﴿6﴾

    مہر کر دی اللہ نے ان کےدلوں پر اور انکے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے [۱۱] اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ﴿7﴾

    اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہر گز مومن نہیں [۱۲] ﴿8﴾

    دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور ایمان والوں سے اور دراصل کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے [۱۳] ﴿9﴾

    ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھا دی اللہ نے انکی بیماری [۱۴] اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے اس بات پر کہ جھوٹ کہتےتھے[۱۵] ﴿10﴾

    اور جب کہا جاتا ہے ان کو فساد نہ ڈالو ملک میں تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں [۱۶] ﴿11﴾

    جان لو وہی ہیں خرابی کرنے والے لیکن نہیں سمجھتے [۱۷] ﴿12﴾

    اور جب کہا جاتا ہے ان کو ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں [۱۸] کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف [۱۹] جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے [۲۰] ﴿13﴾

    اور جب ملاقات کرتے ہیں مسلمانوں سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس [۲۱] تو کہتےہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں [۲۲] ہم تو ہنسی کرتے ہیں [۲۳] (یعنی مسلمانوں سے) ﴿14﴾

    اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے [۲۴] اور ترقی دیتا ہے انکو ان کی سرکشی میں(اور) حالت یہ ہے کہ وہ عقل کے اندھے ہیں [۲۵] ﴿15﴾

    یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے سو نافع نہ ہوئی ان کی سوداگری [۲۶] اور نہ ہوئے راہ پانے والے [۲۷] ﴿16﴾

    ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب روشن کر دیا آگ نے اس کے آس پاس کو تو زائل کر دی اللہ نے ان کی روشنی اور چھوڑا ان کو اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے [۲۸] ﴿17﴾

    بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے [۲۹] ﴿18﴾

    یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو آسمان سے اس میں اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی دیتے ہیں انگلیاں اپنے کانوں میں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے اور اللہ احاطہ کرنے والا ہے کافروں کا [۳۰] ﴿19﴾

    قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھیں جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگے ہیں اس کی روشنی میں اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لیجائے ان کے کان اور آنکھیں بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۳۱] ﴿20﴾

    اے لوگو بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ﴿21﴾

    جس نے بنایا واسطے تمہارے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتار آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے میوے تمہارے کھانے کے واسطے سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے مقابل اور تم تو جانتے ہو [۳۲] ﴿22﴾

    اور اگر تم شک میں ہو اس کلام سےجو اتارا ہم نے اپنے بندہ پر تو لے آؤ ایک سورت اس جیسی [۳۳] اور بلاؤ اس کو جو تمہارا مددگار ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو [۳۴] ﴿23﴾

    پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہر گز نہ کر سکو گے تو پھر بچو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار کی ہوئی ہے کافروں کے واسطے [۳۵] ﴿24﴾

    اور خوشخبری دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ان کے واسطے باغ ہیں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب ملے گا ان کو وہاں کا کوئی پھل کھانے کو تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ملا تھا ہم کو اس سے پہلے اور دیئے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے [۳۶] اور انکے لئے وہاں عورتیں ہوں گی پاکیزہ اور وہ وہیں ہمیشہ رہیں گے[۳۷] ﴿25﴾

    بیشک اللہ شرماتا نہیں اس بات سے کہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھکر ہے [۳۸] سو جو لوگ مومن ہیں وہ یقینًا جانتےہیں کہ یہ مثال ٹھیک ہے جو نازل ہوئی انکے رب کی طرف سے اور جو کافر ہیں سو کہتے ہیں کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے گمراہ کرتا ہے خدائے تعالیٰ اس مثال سے بہتیروں کو اور ہدایت کرتا ہے اس سے بہتیروں کو [۳۹] اور گمراہ نہیں کرتا اس مثل سے مگر بدکاروں کو ﴿26﴾

    جو توڑتے ہیں خدا کے معاہدہ کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے فرمایا ملانے کو [۴۰] اور فساد کرتے ہیں ملک میں [۴۱] وہی ہیں ٹوٹے والے [۴۲] ﴿27﴾

    کس طرح کافر ہوتے ہو خدا تعالیٰ سے حالانکہ تم بیجان تھے [۴۳] پھر جلایا تم کو [۴۴] پھر مارے گا تم کو [۴۵] پھر جلائے گا تم کو [۴۶] پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے [۴۷] ﴿28﴾

    وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے جو کچھ زمین میں ہے سب پھر قصد کیا آسمان کی طرف سو ٹھیک کر دیا انکو سات آسمان اور خدا تعالیٰ ہر چیز سے خبردار ہے [۴۸] ﴿29﴾

    اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانیوالا ہوں زمین میں ایک نائب [۴۹]کہا فرشتوں نے کیا قائم کرتا ہے تو زمین میں اسکو جو فساد کرے اس میں اور خون بہائے اور ہم پڑھتے رہتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو [۵۰] فرمایا بیشک مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے [۵۱] ﴿30﴾

    اور سکھلا دیے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے پھر سامنے کیا ان سب چیزوں کو فرشتوں کے پھر فرمایا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو ﴿31﴾

    بولے پاک ہے تو ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا تو نے ہم کو سکھایا بیشک تو ہی ہے اصل جاننے والا حکمت والا [۵۲] ﴿32﴾

    فرمایا اے آدم بتا دے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام پھر جب بتا دیے اس نے ان کے نام فرمایا کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو [۵۳] ﴿33﴾

    اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان [۵۴] اس نے نہ مانا اور تکبر کیا اور تھا وہ کافروں میں کا [۵۵] ﴿34﴾

    اور ہم نے کہا اے آدم رہا کر تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو اور پاس مت جانا اس درخت کے پھر تم ہو جاؤ گے ظالم [۵۶] ﴿35﴾

    پھر ہلا دیا انکو شیطان نے اس جگہ سے پھر نکالا انکو اس عزت و راحت سے کہ جس میں تھے [۵۷] اور ہم نے کہاتم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے [۵۸] اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک [۵۹] ﴿36﴾

    پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے چند باتیں پھر متوجہ ہو گیا اللہ اس پر بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان [۶۰] ﴿37﴾

    ہم نے حکم دیا نیچے جاؤ یہاں سے تم سب [۶۱] پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۶۲] ﴿38﴾

    اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ﴿39﴾

    اے بنی اسرائیل [۶۳] یاد کرو میرے وہ احسان جو میں نے تم پر کئے [۶۴] اور تم پورا کرو میرا اقرار تو میں پورا کروں تمہارا اقرار [۶۵] اور مجھ ہی سے ڈرو [۶۶] ﴿40﴾

    اور مان لو اس کتاب کو جو میں نے اتاری ہے سچ بتانے والی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے [۶۷] اور مت ہو سب میں اول منکر اس کے [۶۸] اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا اور مجھ ہی سے بچتے رہو۔ ﴿41﴾

    اور مت لاؤ صحیح میں غلط اور مت چھپاؤ سچ کو جان بوجھ کر ﴿42﴾

    اور قائم کرو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور جھکو نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ [۶۹] ﴿43﴾

    کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے ہو اپنے آپ کو اور تم تو پڑھتے ہو کتاب پھر کیوں نہیں سوچتے ہو [۷۰] ﴿44﴾

    اور مدد چاہو صبر سے اور نماز سے [۷۱] اور البتہ وہ بھاری ہے مگر انہی عاجزوں پر ﴿45﴾

    جن کو خیال ہے کہ وہ روبرو ہونے والے ہیں اپنے رب کے اور یہ کہ انکو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے [۷۲] ﴿46﴾

    اے بنی اسرائیل یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کئے اور اسکو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر [۷۳] ﴿47﴾

    اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی اور قبول نہ ہو اسکی طرف سے سفارش اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلہ اور نہ ان کو مدد پہنچے [۷۴] ﴿48﴾

    اور یاد کرو اس وقت کو جبکہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے جو کرتےتھے تم پر بڑا عذاب ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمہاری عورتوں کو [۷۵] اور اس میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بڑی [۷۶] ﴿49﴾

    اور جب پھاڑ دیا ہم نے تمہاری وجہ سے دریا کو پھر بچا دیا ہم نے تم کو اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھ رہے تھے [۷۷] ﴿50﴾

    اور جب ہم نے وعدہ کیا موسٰی سے چالیس رات کا پھر تم نے بنا لیا بچھڑا موسٰی کے بعد اور تم ظالم تھے [۷۸] ﴿51﴾

    پھر معاف کیا ہم نے تم کو اس پر بھی تاکہ تم احسان مانو [۷۹] ﴿52﴾

    اور جب ہم نے دی موسٰی کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ [۸۰] ﴿53﴾

    اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم سے [۸۱] اے قوم تم نے نقصان کیا اپنایہ بچھڑا بنا کر سو اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان [۸۲] یہ بہتر ہے تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک پھر متوجہ ہوا تم پر [۸۳] بیشک وہی ہے معاف کرنے والا نہایت مہربان ﴿54﴾

    اور جب تم نے کہا اے موسٰی ہم ہرگز یقین نہ کریں گے تیرا جب تک کہ نہ دیکھ لیں اللہ کو سامنے پھر آلیا تم کو بجلی نے اور تم دیکھ رہے تھے ﴿55﴾

    پھر اٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مر گئے پیچھے تاکہ تم احسان مانو [۸۴] ﴿56﴾

    اور سایہ کیا ہم نے تم پر ابر کا اور اتارا تم پر من اور سلویٰ [۸۵] کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دیں [۸۶] اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے [۸۷] ﴿57﴾

    اور جب ہم نے کہا داخل ہو اس شہر میں [۸۸] اور کھاتے پھرو اسمیں جہاں چاہو فراغت سے اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے [۸۹] اور کہتے جاؤ بخشدے تو معاف کر دیں گے ہم تمہارے قصور اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والوں کو [۹۰] ﴿58﴾

    پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اسکے جو کہہ دی گئی تھی ان سے پھر اتارا ہم نے ظالموں پر عذاب آسمان سے ان کی عدول حکمی پر [۹۱] ﴿59﴾

    اور جب پانی مانگا موسٰی نے اپنی قوم کے واسطے تو ہم نے کہا مار اپنے عصا کو پتھر پر سو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے [۹۲] پہچان لیا ہر قوم نے اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو اللہ کی روزی اور نہ پھرو ملک میں فساد مچاتے [۹۳] ﴿60﴾

    اور جب کہا تم نے اے موسٰی ہم ہر گز صبر نہ کریں گے ایک ہی کھانے پر سو دعا مانگ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے کہ نکال دے ہمارے واسطے جو اگتا ہے زمین سے ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز [۹۴] کہا موسٰی نے کیا لینا چاہتے وہ چیز جو ادنیٰ ہے اس کے بدلہ میں جو بہتر ہے [۹۵] اترو کسی شہر میں تو تم کو ملے جو مانگتے ہو [۹۶] اور ڈالی گئ ان پر ذلت اور محتاجی اور پھرے اللہ کا غضب لے کر [۹۷] یہ اس لئے ہوا کہ نہیں مانتے تھے احکام خداوندی کو اور خون کرتے تھے پیغمبروں کا ناحق یہ اس لئے کہ نافرمان تھے اور حد پر نہ رہتے تھے [۹۸] ﴿61﴾

    بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صائبین جو ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور روز قیامت پر اور کام کئے نیک تو انکے لئے ہے انکا ثواب انکے رب کے پاس اور نہیں ان پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۹۹] ﴿62﴾

    اور جب لیا ہم نے تم سے قرار اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو کہ پکڑو جو کتاب ہم نے تم کو دی زور سے اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم ڈرو [۱۰۰] ﴿63﴾

    پھر تم پھر گئے اس کے بعد سو اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اسکی مہربانی تو ضرور تم تباہ ہوتے [۱۰۱] ﴿64﴾

    اور تم خوب جان چکے ہو جنہوں نے کہ تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں تو ہم نے کہا ان سے ہو جاؤ بندر ذلیل [۱۰۲] ﴿65﴾

    پھر کیا ہم نے اس واقعہ کو عبرت ان لوگوں کے لئے جو وہاں تھے اور جو پیچھے آنے والے تھے اور نصیحت ڈرنے والوں کے واسطے [۱۰۳] ﴿66﴾

    اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم کو ذبح کرو ایک گائے [۱۰۴] وہ بولے کیا تو ہم سے ہنسی کرتا ہے [۱۰۵] کہا پناہ خدا کی کہ ہوں میں جاہلوں میں [۱۰۶] ﴿67﴾

    بولے کہ دعا کرو ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کہ وہ گائے کیسی ہے [۱۰۷] کہا وہ فرماتا کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ بن بیاہی درمیان میں ہے بڑھاپے اور جوانی کے اب کر ڈالو جو تم کو حکم ملا ہے [۱۰۸] ﴿68﴾

    بولے کہ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کیسا ہے اس کا رنگ کہا وہ فرماتا ہےکہ وہ ایک گائے ہے زرد خوب گہری ہے اس کی زردی خوش آتی ہے دیکھنے والوں کو ﴿69﴾

    بولے دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے کہ بتا دے ہم کو کس قسم میں ہے وہ [۱۰۹] کیونکہ اس گائے میں شبہہ پڑا ہے ہم کو اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور راہ پا لیں گے ﴿70﴾

    کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے محنت کرنے والی نہیں کہ جوتتی ہو زمین کو یا پانی دیتی ہو کھیتی کو بے عیب ہے کوئی داغ اسمیں نہیں [۱۱۰] بولے اب لایا تو ٹھیک بات پھر اس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کر لیں گے [۱۱۱] ﴿71﴾

    اور جب مار ڈالا تھا تم نے ایک شخص کو پھر لگے ایک دوسرے پر دھرنے اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو تم چھپاتے تھے [۱۱۲] ﴿72﴾

    پھر ہم نے کہا مارو اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا [۱۱۳] اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مردو ں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی قدرت کے نمونے تاکہ تم غور کرو [۱۱۴] ﴿73﴾

    پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کے بعد [۱۱۵] سو وہ ہو گئے جیسے پتھر یا ان سے بھی سخت اور پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں جن سے جاری ہوتی ہیں نہریں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور نکلتا ہے ان سے پانی اور ان میں ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے [۱۱۶] ﴿74﴾

    اب کیا تم اے مسلمانوں توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمہاری بات اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر اور وہ جانتے تھے [۱۱۷] ﴿75﴾

    اور جب ملتے ہیں مسلمانوں سے کہتے ہیں ہم مسلمان ہوئے اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس تو کہتے ہیں تم کیوں کہہ دیتے ہو ان سے جو ظاہر کیا ہے اللہ نے تم پر تاکہ جھٹلائیں تم کو اس سے تمہارے رب کے آگے کیا تم نہیں سمجھتے [۱۱۸] ﴿76﴾

    کیا اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں [۱۱۹] ﴿77﴾

    اور بعض ان میں بے پڑھے ہیں کہ خبر نہیں رکھتے کتاب کی سوائے جھوٹی آرزوؤں کے اور انکے پاس کچھ نہیں مگر خیالات [۱۲۰] ﴿78﴾

    سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ لیویں اس پر تھوڑا سا مول سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی اس کمائی سے [۱۲۱] ﴿79﴾

    اور کہتے ہیں ہم کو ہر گز آگ نہ لگے گی مگر چند روز گنے چنے [۱۲۲] کہدو کیا تم لے چکے ہو اللہ کے یہاں سے قرار کہ اب ہرگز خلاف نہ کرے گا اللہ اپنے قرار کے یا جوڑتے ہو اللہ پر جو تم نہیں جانتے کیوں نہیں [۱۲۳] ﴿80﴾

    جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے [۱۲۴] سو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ﴿81﴾

    اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ﴿82﴾

    اور جب ہم نے لیا قرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اللہ کی اور ماں باپ سے سلوک نیک کرنا اور کنبہ والوں سے اور یتیموں اور محتاجوں سے او رکہیو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اور دیتے رکھیو زکوٰۃ پھر تم پھر گئے مگر تھوڑے سے تم میں اور تم ہو ہی پھرنے والے [۱۲۵] ﴿83﴾

    اور جب لیا ہم نے وعدہ تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اقرار کر لیا اور تم مانتے ہو [۱۲۶] ﴿84﴾

    پھر تم وہ لوگ ہو کہ ایسے ہی خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے [۱۲۷] اور اگر وہی آویں تمہارے پاس کسی کے قیدی ہو کر تو ان کا بدلا دیکر چھڑاتے ہو حالانکہ حرام ہے تم پر انکا نکال دینا بھی تو کیا مانتے ہو بعض کتاب کو اور نہیں مانتے بعض کو [۱۲۸] سو کوئی سزا نہیں اس کی جو تم میں یہ کام کرتا ہے مگر رسوائی دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن پہنچائے جاویں سخت سےسخت عذاب میں اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کاموں سے [۱۲۹] ﴿85﴾

    یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا ہو گا ان پر عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی [۱۳۰] ﴿86﴾

    اور بیشک دی ہم نےموسٰی کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول اور دئے ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح پاک سے [۱۳۱] پھر بھلا کیا جب پاس لایا کوئی رسول وہ حکم جو نہ بھایا تمہارے جی کو تو تم تکبر کرنے لگے پھر ایک جماعت کو جھٹلایا [۱۳۲] اور ایک جماعت کو تم نے قتل کر دیا [۱۳۳] ﴿87﴾

    اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہے بلکہ لعنت کی ہے اللہ نے انکے کفر کے سبب سو بہت کم ایمان لاتے ہیں [۱۳۴] ﴿88﴾

    اور جب پہنچی انکے پاس کتاب اللہ کی طرف سے جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو انکے پاس ہے اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر پھر جب پہنچا ان کو جسکو پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہو گئے سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر [۱۳۵] ﴿89﴾

    بری چیز ہے وہ جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپکو کہ منکر ہوئے اس چیز کے جو اتاری اللہ نے اس ضد پر کہ اتارے اللہ اپنے فضل سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے [۱۳۶] سو کما لائے غصہ پر غصہ [۱۳۷] اور کافروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا [۱۳۸] ﴿90﴾

    اور جب کہا جاتا ہے ان سے مانو اس کو جو اللہ نے بھیجا ہے تو کہتے ہیں ہم مانتے ہیں جو اترا ہے ہم پر اور نہیں مانتے اس کو جو سوا اس کے ہے حالانکہ وہ کتاب سچی ہے تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو انکے پاس ہے [۱۳۹] کہدو پھر کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے پیغمبروں کو پہلے سے اگر تم ایمان رکھتے تھے [۱۴۰] ﴿91﴾

    اور آچکا تمہارے پاس موسٰی صریح معجزے لیکر پھر بنا لیا تم نے بچھڑا اس کے گئے پیچھے اور تم ظالم ہو [۱۴۱] ﴿92﴾

    اور جب ہم نے لیا قرار تمہارا اور بلند کیا تمہارے اوپر کوہ طور کو پکڑو جو ہم نے تم کو دیا زور سے اور سنو بولے سنا ہم نے اور نہ مانا اور پلائی گئ انکے دلوں میں محبت اسی بچھڑے کی بسبب انکے کفر کے [۱۴۲] کہدے کہ بری باتیں سکھاتا ہے تم کو ایمان تمہارا اگر تم ایمان والے ہو ﴿93﴾

    کہدے کہ اگر ہے تمہارے واسطے آخرت کا گھر اللہ کے ہاں تنہا سوا اور لوگوں کے تو تم مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچ کہتے ہو [۱۴۳] ﴿94﴾

    اور ہر گز آرزو نہ کریں گے موت کی کبھی بسبب ان گناہوں کے کہ بھیج چکے ہیں انکے ہاتھ اور اللہ خوب جانتا ہے گنہگاروں کو ﴿95﴾

    اور تو دیکھے گا ان کو سب لوگوں سے زیادہ حریص زندگی پر اور زیادہ حریص مشرکوں سے بھی چاہتا ہے ایک ایک ان میں کا کہ عمر پاوے ہزار برس اور نہیں اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں [۱۴۴] ﴿96﴾

    تو کہدے جو کوئی ہووے دشمن جبریل کا سو اس نے تو اتارا ہے یہ کلام تیرے دل پر اللہ کے حکم سے کہ سچا بتانے والا ہے اس کلام کو جو اسکے پہلے ہے اور راہ دکھاتا ہے اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو ﴿97﴾

    جو کوئی ہووے دشمن اللہ کا اور اسکے فرشتوں کا اور اسکے پیغمبروں کا اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے ان کافروں کا [۱۴۵] ﴿98﴾

    اور ہم نے اتاریں تیری طرف آیتیں روشن اور انکار نہ کریں گے ان کا مگر وہی جو نافرمان ہیں ﴿99﴾

    کیا جب کبھی باندھیں گے کوئی قرار تو پھینک دے گی اس کو ایک جماعت ان میں سے بلکہ ان میں اکثر یقین نہیں کرتے [۱۴۶] ﴿100﴾

    اور جب پہنچا انکے پاس رسول اللہ کی طرف سے تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو انکے پاس ہے تو پھینک دیا ایک جماعت نے اہل کتاب سے کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں [۱۴۷] ﴿101﴾

    اور پیچھے ہو لئے اس علم کے جو پڑتے تھے شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت [۱۴۸] اور کفر نہیں کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور اس علم کے پیچھے ہو لئے جو اترا دو فرشتوں پر شہر بابل میں جن کا نام ہاروت اور ماروت ہے اور نہیں سکھاتے تھے وہ دونوں فرشتے کسی کو جب تک یہ نہ کہدیتے کہ ہم تو آزمائش کے لئے ہیں سو تو کافر مت ہو پھر ان سے سیکھتے وہ جادو جس سے جدائی ڈالتے ہیں مرد میں اور اسکی عورت میں اور وہ اس سے نقصان نہیں کر سکتے کس کا بغیر حکم اللہ کے اور سیکھتے ہیں وہ چیز جو نقصان کرے ان کا اور فائدہ نہ کرے اور وہ خوب جان چکے ہیں کہ جس نے اختیار کیا جادو کو نہیں اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ اور بہت ہی بری چیز ہے جسکے بدلے بیچا انہوں نے اپنے آپکو اگر ان کو سمجھ ہوتی ﴿102﴾

    اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ کرتے تو بدلا پاتے اللہ کے ہاں سے بہتر اگر ان کو سمجھ ہوتی [۱۴۹] ﴿103﴾

    اے ایمان والو تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو اور کافروں کو عذاب ہے دردناک [۱۵۰] ﴿104﴾

    دل نہیں چاہتا ان لوگوں کا جو کافر ہیں اہل کتاب میں اور نہ مشرکوں میں اس بات کو کہ اترے تم پر کوئی نیک بات تمہارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جسکو چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے [۱۵۱] ﴿105﴾

    جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلا دیتے ہیں تو بھیج دیتے ہیں اس سے بہتر یا اسکے برابر کیا تجھکو معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۱۵۲] ﴿106﴾

    کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور نہیں تمہارے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۱۵۳] ﴿107﴾

    کیا تم مسلمان بھی چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے جیسے سوال ہو چکے ہیں موسٰی سے اس سے پہلے اور جو کوئی کفر لیوے بدلے ایمان کے تو وہ بہکا سیدھی راہ سے [۱۵۴] ﴿108﴾

    دل چاہتا ہے بہت سے اہل کتاب کا کہ کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر بنا دیں بسبب اپنے دلی حسد کے بعد اس کے کہ ظاہر ہو چکا ان پر حق [۱۵۵] سو تم در گذر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جبتک بھیجے اللہ اپنا حکم [۱۵۶] بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۱۵۷] ﴿109﴾

    اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور جو کچھ آگے بھیج دو گے اپنے واسطے بھلائی پاؤ گے اس کو اللہ کے پاس بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے [۱۵۸] ﴿110﴾

    اور کہتے ہیں کہ ہرگز نہ جاویں گے جنت میں مگر جو ہوں گے یہودی یا نصرانی [۱۵۹] یہ آرزؤیں باندھ لی ہیں انہوں نے کہدے لے آؤ سند اپنی اگر تم سچے ہو ﴿111﴾

    کیوں نہیں جس نے تابع کر دیا منہ اپنا اللہ کے اور وہ نیک کام کرنے والا ہےتو اس کے لئے ہے ثواب اس کا اپنے رب کے پاس اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہو نگے [۱۶۰] ﴿112﴾

    اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں کسی راہ پر باوجودیکہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب [۱۶۱] اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں ان ہی کی سی بات اب اللہ حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے [۱۶۲] ﴿113﴾

    اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا اور کوشش کی انکے اجاڑنے میں [۱۶۳] ایسوں کو لائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے [۱۶۴] انکے لئےدنیا میں ذلت ہے [۱۶۵] اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے ﴿114﴾

    اور اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ [۱۶۶] بیشک اللہ بے انتہا بخشش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے [۱۶۷] ﴿115﴾

    اور کہتے ہیں کہ اللہ رکھتا ہے اولاد وہ تو سب باتوں سے پاک ہے بلکہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سب اسی کے تابعدار ہیں ﴿116﴾

    نیا پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کا اور جب حکم کرتا ہے کسی کام کو تو یہی فرماتا ہے اس کو کہ ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے [۱۶۸] ﴿117﴾

    اور کہتے ہیں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی آیت [۱۶۹] اسی طرح کہ چکے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے انہی کی سی بات ایک سے ہیں دل ان کے بیشک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لاتے ہیں [۱۷۰] ﴿118﴾

    بیشک ہم نے تجھ کو بھیجا ہے سچا دین دیکر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے پوچھ نہیں دوزخ میں رہنے والوں کی [۱۷۱] ﴿119﴾

    اور ہر گرز راضی نہ ہوں گے تجھ سے یہود او ر نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا [۱۷۲] تو کہدے جو راہ اللہ بتلاوے وہی راہ سیدھی ہے [۱۷۳] اور اگر بالفرض تو تابعداری کرے انکی خواہشوں کی بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا اور نہ مددگار [۱۷۴] ﴿120﴾

    وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب وہ اسکو پڑھتے ہیں جو حق ہے اسکے پڑھنے کا وہی اس پر یقین لاتے ہیں اور جو کوئی منکر ہو گا اس سے تو وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں [۱۷۵] ﴿121﴾

    اے بنی اسرائیل یاد کرو احسان ہمارے جو ہم نے تم پر کئے اور اس کو کہ ہم نے تم کو بڑائی دی اہل عالم پر ﴿122﴾

    اور ڈرو اس دن سے کہ نہ کام آوے کوئی شخص کسی کی طرف سے ذرا بھی اور نہ قبول کیا جاوے گا اس کی طرف سے بدلہ اور نہ کام آوے اس کو سفارش اور نہ ان کو مدد پہنے [۱۷۶] ﴿123﴾

    اور جب آزمایا ابراہیم کو اسکے رب نے کئ باتوں میں [۱۷۷] پھر اسنے وہ پوری کیں تب فرمایا میں تجھ کو کروں گا سب لوگوں کا پیشوا [۱۷۸] بولا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا نہیں پہنچے گا میرا قرار ظالموں کو [۱۷۹] ﴿124﴾

    اور جب مقرر کیا ہم نے خانہ کعبہ کو اجتماع کی جگہ لوگوں کے واسطے اور جگہ امن کی [۱۸۰] اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ [۱۸۱] اور حکم کیا ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہ پاک کر رکھو میرے گھر کو [۱۸۲] واسطے طواف کرنے والوں کے اور اعتکاف کرنے والوں کے اور رکوع او رسجدہ کرنے والوں کے ﴿125﴾

    اور جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب بنا اس کو شہر امن کا [۱۸۳] اور روزی دے اسکے رہنے والوں کو میوے جو کوئی ان میں سے ایمان لاوے اللہ پر اور قیامت کے دن پر [۱۸۴] فرمایا اور جو کفر کریں اس کو بھی نفع پہنچاؤں گا تھوڑے دنوں پھر اسکو جبرًا بلاؤں گا دوزخ کے عذاب میں اور وہ بری جگہ ہے رہنے کی [۱۸۵] ﴿126﴾

    اور یاد کرو جب اٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسمٰعیل اور دعا کرتے تھے اے پروردگار ہمارے قبول کر ہم سے بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا [۱۸۶] ﴿127﴾

    اے پروردگار ہمارے اور کر ہم کو حکم بردار اپنا اور ہماری اولاد میں بھی کر ایک جماعت فرمانبردار اپنی اور بتلا ہم کو قاعدے حج کرنے کے اور ہم کو معاف کر بیشک تو ہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان ﴿128﴾

    اے پروردگار ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہی میں کا کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب اور تہ کی باتیں اور پاک کرے ان کو بیشک تو ہی ہے بہت زبردست بڑی حکمت والا [۱۸۷] ﴿129﴾

    اور کون ہے جو پھرے ابراہیم کے مذہب سے مگر وہی کہ جس نے احمق بنایا اپنے آپ کو اور بیشک ہم نےانکو منتخب کیا دنیا میں اور وہ آخرت میں نیکوں میں ہیں ﴿130﴾

    یاد کرو جب اس کو کہا اس کے رب نے کہ حکم برداری کر تو بولا کہ میں حکم بردار ہوں تمام عالم کے پروردگار کا ﴿131﴾

    اور یہی وصیت کر گیا ابراہیم اپنے بیٹوں کو اور یعقوب بھی کہ اے بیٹو بیشک اللہ نے چن کر دیا ہے تم کو دین سو تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان [۱۸۸] ﴿132﴾

    کیا تم موجود تھے جس وقت قریب آئی یعقوب کے موت جب کہا اپنے بیٹوں کو تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد بولے ہم بندگی کریں گے تیرے رب کی اور تیرے باپ دادوں کے رب کی جو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق ہیں وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں [۱۸۹] ﴿133﴾

    وہ ایک جماعت تھی جو گذر چکی انکے واسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا اور تم سے پوچھ نہیں ان کے کاموں کی [۱۹۰] ﴿134﴾

    اور کہتے ہیں کہ ہو جاؤ یہودی یا نصرانی تو تم پالو گے راہ راست [۱۹۱] کہدے کہ ہر گز نہیں بلکہ ہم نے اختیار کی راہ ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا اور نہ تھا شرک کرنے والوں میں [۱۹۲] ﴿135﴾

    تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اترا ہم پر اور جو اترا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اور جو ملا موسٰی کو اور عیسٰی کو اور جو ملا دوسرے پیغمبروں کو انکے رب کی طرف سے ہم فرق نہیں کرتے ان سب میں سے ایک میں بھی اور ہم اسی پروردگار کے فرمانبردار ہیں [۱۹۳] ﴿136﴾

    سو اگر وہ ابھی ایمان لاویں جس طرح پر تم ایمان لائے ہدایت پائی انہوں نے بھی اور اگر پھر جاویں تو پھر وہی ہیں ضد پر سو اب کافی ہے تیری طرف سے ان کو اللہ اور وہی ہے سننے والا جاننے والا [۱۹۴] ﴿137﴾

    ہم نے قبول کر لیا رنگ اللہ کا اور کس کا رنگ بہتر ہے اللہ کے رنگ سے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں [۱۹۵] ﴿138﴾

    کہدے کیا تم جھگڑا کرتے ہو ہم سے اللہ کی نسبت حالانکہ وہی ہےرب ہمارا اور رب تمہارا اور ہمارےلئے ہیں عمل ہمارے اور تمہارے لئے ہیں عمل تمہارے اور ہم تو خالص اسی کے ہیں [۱۹۶] ﴿139﴾

    کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق او ریعقوب اور اس کی اولاد تو یہودی تھے یا نصرانی کہدے کہ تم کو زیادہ خبر ہے یا اللہ کو اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے چھپائی وہ گواہی جو ثابت ہو چکی اس کو اللہ کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارے کاموں سے [۱۹۷] ﴿140﴾

    وہ ایک جماعت تھی جو گذر چکی ان کے واسطے ہے جو انہوں نے کیا اور تمہارے واسطے ہے جو تم نے کیا اور تم سے کچھ پوچھ نہیں ان کے کاموں کی [۱۹۸] ﴿141﴾

    اب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے پھیر دیا مسلمانوں کو انکے قبلہ سےجس پر وہ تھے [۱۹۹] تو کہہ اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ [۲۰۰] ﴿142﴾

    اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو امت معتدل تاکہ ہو تم گواہ لوگوں پر اور ہو رسول تم پر گواہی دینے والا [۲۰۱] اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ کہ جس پر تو پہلے تھا مگر اس واسطے کہ معلوم کریں کون تابع رہے گا رسول کا اور کون پھر جائے گا الٹے پاؤں [۲۰۲] اور بیشک یہ بات بھاری ہوئی مگر ان پر جن کو راہ دکھائی اللہ نے [۲۰۳] اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کرے تمہارا ایمان بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے [۲۰۴] ﴿143﴾

    بیشک ہم دیکھتے ہیں باربار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف سو البتہ پھیر یں گے ہم تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہے [۲۰۵] اب پھیر منہ اپنا طرف مسجد الحرام کے [۲۰۶] اور جس جگہ تم ہوا کرو پھیرو منہ اسی کی طرف [۲۰۷] اور جن کو ملی ہے کتاب البتہ جانتے ہیں کہ یہ ہی ٹھیک ہے انکے رب کی طرف سے اور اللہ بے خبر نہیں ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں [۲۰۸] ﴿144﴾

    اور اگر تو لائے اہل کتاب کےپاس ساری نشانیاں تو بھی نہ مانیں گے تیرے قبلہ کو اور نہ تو مانے ان کا قبلہ اور نہ ان میں ایک مانتا ہے دوسرے کا قبلہ [۲۰۹] اور اگر تو چلا ان کی خواہشوں پر بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو بیشک تو بھی ہوا بے انصافوں میں [۲۱۰] ﴿145﴾

    جن کو ہم نے دی ہے کتاب پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو اور بیشک ایک فرقہ ان میں سے البتہ چھپاتے ہیں حق کو جان کر ﴿146﴾

    حق تو وہی ہے جو تیرا رب کہے پھر تو نہ ہو شک لانے والا [۲۱۱] ﴿147﴾

    اور ہر کسی کے واسطے ایک جانب ہے یعنی قبلہ کہ وہ منہ کرتا ہے اس طرف سو تم سبقت کرو نیکیوں میں جہاں کہیں تم ہو گے کر لائے گا تم کو اللہ اکٹھا بیشک اللہ ہر چیز کر سکتا ہے [۲۱۲] ﴿148﴾

    اور جس جگہ سے تو نکلے سو منہ کر اپنا مسجدالحرام کی طرف اور بیشک یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں تمہارےکاموں سے ﴿149﴾

    اور جہاں سے تو نکلے منہ کر اپنا مسجدالحرام کی طرف اور جس جگہ تم ہوا کرو منہ کرو اسی کی طرف [۲۱۳] تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جگھڑنے کا موقع مگر جو ان میں بے انصاف ہیں سو ان سے [یعنی انکے اعتراضوں سے] مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو [۲۱۴] اور اس واسطے کہ کامل کروں تم پر فضل اپنا اور تاکہ تم پاؤ راہ سیدھی [۲۱۵] ﴿150﴾

    جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں رسول تم ہی میں کا پڑھتا ہے تمہارے آگے آیتیں ہماری اور پاک کرتا ہے تم کو اور سکھلاتا ہے تم کو کتاب اور اس کے اسرار اور سکھلاتا ہے تم کو جو تم نہ جانتے تھے [۲۱۶] ﴿151﴾

    سو تم یاد رکھو مجھ کو میں یاد رکھوں تم کو اور احسان مانو میرا اور ناشکری مت کرو [۲۱۷] ﴿152﴾

    اے مسلمانو مدد لو صبر اور نماز سے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے [۲۱۸] ﴿153﴾

    اور نہ کہو ان کو جو مارے گئے خدا کی راہ میں کہ مردے ہیں بلکہ وہ زندے ہیں لیکن تم کو خبر نہیں [۲۱۹] ﴿154﴾

    اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے [۲۲۰] اور خوشخبری دے ان صبر کرنے والوں کو ﴿155﴾

    کہ جب پہنچے ان کو کچھ مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ﴿156﴾

    ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر [۲۲۱] ﴿157﴾

    بیشک صفا اور مروہ نشانیوں میں سے ہیں اللہ کی [۲۲۲] سو جو کوئی حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ تو کچھ گناہ نہیں اس کو کہ طواف کرے ان دونوں میں اور جو کوئی اپنی خوشی سےکرےکچھ نیکی تو اللہ قدردان ہے سب کچھ جاننے والا [۲۲۳] ﴿158﴾

    بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارے صاف حکم اور ہدایت کی باتیں بعد اس کے کہ ہم انکو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں [۲۲۴] ان پر لعنت کرتا ہے اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے [۲۲۵] ﴿159﴾

    مگر جنہوں نے توبہ کی اور درست کیا اپنے کام کو اور بیان کر دیا حق بات کو تو انکو معاف کرتا ہوں [۲۲۶] اور میں ہوں بڑا معاف کرنے والا نہایت مہربان ﴿160﴾

    بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور مر گئے کافر ہی انہی پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی [۲۲۷] ﴿161﴾

    ہمیشہ رہیں گے اسی لعنت میں نہ ہلکا ہو گا ان پر سے عذاب اور نہ انکو مہلت ملے گی [۲۲۸] ﴿162﴾

    اور معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے کوٹی معبود نہیں اس کے سوا بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا [۲۲۹] ﴿163﴾

    بیشک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور کشتیوں میں جو کہ لے کر چلتی ہیں دریا میں لوگوں کے کام کی چیزیں اور پانی میں جس کو کہ اتارا اللہ نے آسمان سے پھر جلایا اس سے زمین کو اس کے مر گئے پیچھے اور پھیلائے اس میں سب قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں جو کہ تابعدار ہے اس کے حکم کا درمیان آسمان و زمین کے بیشک ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے [۲۳۰] ﴿164﴾

    اور بعضے لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو [۲۳۱] انکی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی [۲۳۲] اور ایمان والوں کو اس سے زیادہ تر ہے محبت اللہ کی [۲۳۳] اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جبکہ دیکھیں گے عذاب کہ قوۃ ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے [۲۳۴] ﴿165﴾

    جبکہ بیزار ہو جاویں گے وہ کہ جن کی پیروی کی تھی ان سے کہ جو انکے پیرو ہوٹے تھے اور دیکھیں گے عذاب اور منقطع ہو جائیں گے ان کے سب علاقے [۲۳۵] ﴿166﴾

    اور کہیں گے پیرو کیا اچھا ہوتا جو ہم کو دنیا کی طرف لوٹ جانا مل جاتا تو پھر ہم بھی بیزار ہو جاتے ان سے جیسے یہ ہم سے بیزار ہو گئے [۲۳۶] اسی طرح پر دکھلائے گا اللہ ان کو ان کے کام حسرت دلانے کو اور وہ ہرگز نکلنے والے نہیں مار سے [۲۳۷] ﴿167﴾

    اے لوگو کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ اور پیروی نہ کرو شیطان کی [۲۳۸] بیشک وہ تمہارا دشمن ہے صریح ﴿168﴾

    وہ تو یہی حکم کرے گا تم کو کہ برے کام اور بیحیائی کرو اور جھوٹ لگاؤ اللہ پر وہ باتیں جنکو تم نہیں جانتے [۲۳۹] ﴿169﴾

    اور جب کوئی ان سےکہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ ہی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ [۲۴۰/۱] ﴿170﴾

    اور مثال ان کافروں کی ایسی ہے جیسے پکارے کوئی شخص ایک چیز کو جو کچھ نہ سنے سوا پکارنے اور چلانے کے [۲۴۰/۲] بہرے گونگے اندھے ہیں سو وہ کچھ نہیں سمجھتے [۲۴۱] ﴿171﴾

    اے ایمان والو کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اسی کےبندے ہو [۲۴۲] ﴿172﴾

    اس نے تو تم پر یہی حرام کیا ہے مردہ جانور [۲۴۳] اور لہو [۲۴۴] اور گوشت سور کا [۲۴۵] اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا [۲۴۶] پھر جو کوئی بے اختیار ہو جائے نہ تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں [۲۴۷] بیشک اللہ ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان [۲۴۸] ﴿173﴾

    بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ کیا نازل اللہ نے کتاب [۲۴۹] اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول [۲۵۰] وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ [۲۵۱] اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن [۲۵۲] اور نہ پاک کرے گا ان کو [۲۵۳] اور انکے لئے ہے عذاب دردناک [۲۵۴] ﴿174﴾

    یہی ہیں جنہوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب بدلے بخشش کے [۲۵۴/۱] سو کس قدر صبر کرنے والے ہیں وہ دوزخ پر [۲۵۴/۲] ﴿175﴾

    یہ اس واسطے کہ اللہ نے نازل فرمائی کتاب سچی اور جنہوں نے اختلاف ڈالا کتاب میں وہ بیشک ضد میں دور جا پڑے [۲۵۵] ﴿176﴾

    نیکی کچھ یہی نہیں کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی [۲۵۶] لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اس کی محبت پر رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور قائم رکھے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب عہد کریں اور صبر کرنے والے سختی میں اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت [۲۵۷] یہی لوگ ہیں سچے اور یہی ہیں پرہیزگار [۲۵۸] ﴿177﴾

    اے ایمان والو فرض ہوا تم پر [قصاص] برابری کرنا مقتولوں میں [۲۵۹] آزاد کے بدلے آزاد [۲۶۰] اور غلام کے بدلے غلام [۲۶۱] اور عورت کےبدلے عورت [۲۶۲] پھر جس کو معاف کیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی تو تابعداری کرنی چاہیئے موافق دستور کے اور ادا کرنا چاہئے اس کو خوبی کے ساتھ [۲۶۳] یہ آسانی ہوئی تمہارے رب کی طرف سے اور مہربانی [۲۶۴] پھر جو زیادتی کرے اس فیصلہ کے بعد تو اس کے لئے ہے عذاب دردناک [۲۶۵] ﴿178﴾

    اور تمہارے واسطے قصاص میں بڑی زندگی ہے اے عقلمندو [۲۶۶] تاکہ تم بچتے رہو [۲۶۷] ﴿179﴾

    فرض کر دیا گیا تم پر جب حاضر ہو کسی کو تم میں موت بشرطیکہ چھوڑے کچھ مال وصیت کرنا ماں باپ کے واسطے اور رشتہ داروں کےلئے انصاف کے ساتھ یہ حکم لازم ہے پرہیز گاروں پر [۲۶۸] ﴿180﴾

    پھر جو کوئی بدل ڈالے وصیت کو بعد اس کے جو سن چکا تو اس کا گناہ انہی پر جنہوں نے اس کو بدلا بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے [۲۶۹] ﴿181﴾

    پھر جو کوئی خوف کرے وصیت کرنے والے سے طرفداری کا یا گناہ کا پھر ان میں باہم صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں [۲۷۰] بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے[۲۷۱] ﴿182﴾

    اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر [۲۷۲] تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ [۲۷۳] ﴿183﴾

    چند روز ہیں گنتی کے [۲۷۴] پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا مسافر تو اس پر ان کی گنتی ہے اور دنوں سے [۲۷۵] اور جن کو طاقت ہے روزہ کی انکے ذمہ بدلا ہے ایک فقیر کا کھانا [۲۷۶] پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہےاسکے واسطے [۲۷۷] اور روزہ رکھو تو بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم سمجھ رکھتے ہو [۲۷۸] ﴿184﴾

    مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت ہے واسطے لوگوں کو اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی [۲۷۹] سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے [۲۸۰] اور جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیئے اور دنوں سے [۲۸۱] اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم احسان مانو [۲۸۲] ﴿185﴾

    اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو سو میں تو قریب ہوں قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے تو چاہئے کہ وہ حکم مانیں میرا اور یقین لائیں مجھ پر تاکہ نیک راہ پر آئیں [۲۸۳] ﴿186﴾

    حلال ہوا تم کو روزہ کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی عورتوں سے [۲۸۴] وہ پوشاک ہیں تمہاری اور تم پوشاک ہو انکی [۲۸۵] اللہ کو معلوم ہے کہ تم خیانت کرتے تھے اپنی جانوں سے [۲۸۶] سو معاف کیا تم کو اور درگذر کی تم سے پھر ملو اپنی عورتوں سے اور طلب کرو اس کو جو لکھ دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے [۲۸۷] اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آئے تم کو دھاری سفید صبح کی جدا دھاری سیاہ سے [۲۸۸] پھر پورا کرو روزہ کو رات تک [۲۸۹] اور نہ ملو عورتوں سے جب تک تم اعتکاف کرو مسجدوں میں [۲۹۰] یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی سو انکے نزدیک نہ جاؤ اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ بچتے رہیں [۲۹۱] ﴿187﴾

    اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا آپس میں ناحق [۲۹۲] اور نہ پہنچاؤ انکو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کےمال میں سے ظلم کر کے [ناحق] اور تم کو معلوم ہے [۲۹۳] ﴿188﴾

    تجھ سے پوچھتےہیں حال نئے چاند کا [۲۹۴] کہہ دے کہ یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے واسطے اور حج کے واسطے [۲۹۵] اور نیکی یہ نہیں کہ گھروں میں آؤ انکی پشت کی طرف سے اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو کوئی ڈرے اللہ سے اور گھروں میں آؤ دروازوں سے اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو [۲۹۶] ﴿189﴾

    اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے [۲۹۷] اور کسی پر زیادتی مت کرو [۲۹۸] بیشک اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے زیادتی کرنے والوں کو ﴿190﴾

    اور مار ڈالو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا [۲۹۹] اور دین سے بچلانا مار ڈالنے سے بھی زیادہ سخت ہے [۳۰۰] اور نہ لڑو ان سے مسجدالحرام کے پاس جب تک کہ وہ نہ لڑیں تم سے اس جگہ پھر اگر وہ خود ہی لڑیں تم سےتو ان کو مارو یہی ہے سزا کافروں کی [۳۰۱] ﴿191﴾

    پھر اگر وہ باز آئیں تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے [۳۰۲] ﴿192﴾

    اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور حکم رہے خدا تعالیٰ ہی کا پھر اگر وہ باز آئیں تو کسی پر زیادتی نہیں مگر ظالموں پر [۳۰۳] ﴿193﴾

    حرمت والا مہینہ بدلا (مقابل) ہے حرمت والے مہینے کا اور ادب رکھنے میں بدلا ہے پھر جس نے تم پر زیادتی کی تم اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے زیادتی کی تم پر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے [۳۰۴] ﴿194﴾

    اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنی جان کو ہلاکت میں [۳۰۵] اور نیکی کرو بیشک اللہ دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو ﴿195﴾

    اورپورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے [۳۰۶] پھر اگر تم روک دیے جاؤ تو تم پر ہے جو کچھ کہ میسر ہو قربانی سے اور حجامت نہ کرو اپنے سروں کی جب تک پہنچ نہ چکے قربانی اپنے ٹھکانے پر [۳۰۷] پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کو تکلیف ہو سر کی تو بدلا دیوے روزے یا خیرات یا قربانی[۳۰۸] پھر جب تمہاری خاطر جمع ہو تو جو کوئی فائدہ اٹھائے عمرہ کو ملا کر حج کے ساتھ تو اس پر ہے جو کچھ میسر ہو قربانی سے [۳۰۹] پھر جس کو قربانی نہ ملے تو روزے رکھے تین حج کےدنوں میں اور سات روزے جب لوٹو یہ دس روزےہو ئے پورے [۳۱۰] یہ حکم اس کے لئے ہے جسکے گھر والے نہ رہتے ہوں مسجد الحرام کے پاس [۳۱۱] اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے ﴿196﴾

    حج کے چند مہینے ہیں معلوم [۳۱۲] پھر جس نے لازم کر لیا ان میں حج تو بے حجاب ہونا جائز نہیں عورت سے اور نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانہ میں اور جو کچھ تم کرتے ہو نیکی اللہ اس کو جانتا ہے [۲۱۳] اور زاد راہ لے لیا کرو کہ بیشک بہتر فائدہ زاد راہ کا بچنا ہے سوال سے اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقلمندو [۳۱۴] ﴿197﴾

    کچھ گناہ نہیں تم پر کہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا [۳۱۵] پھر جب طواف کے لئے لوٹو عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعر الحرام کے [۳۱۶] اور اس کو یاد کرو جس طرح تم کو سکھلایا اور بیشک تم تھے اس سے پہلے ناواقف[۳۱۷] ﴿198﴾

    پھر طواف کے لئے پھرو جہاں سے سب لوگ پھریں اور مغفرت چاہو اللہ سے بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے مہربان [۳۱۸] ﴿199﴾

    پھر جب پورے کر چکو اپنے حج کے کام کو تو یاد کرو اللہ کو جیسے تم یاد کرتے تھے اپنے باپ دادوں کو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو [۳۱۹] پھر کوئی آدمی تو کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں اور اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ﴿200﴾

    اور کوئی ان میں کہتا ہے اے رب ہمارے دے ہم کو دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی اور بچا لے ہم کو دوزخ کے عذاب سے ﴿201﴾

    انہی لوگوں کے واسطے حصہ ہے اپنی کمائی سے [۳۲۰] اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے [۳۲۱] ﴿202﴾

    اور یاد کرو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں [۳۲۲] پھر جو کوئی جلد چلا گیا دو ہی دن میں تو اس پر گناہ نہیں اور جو کوئی رہ گیا تو اس پر بھی گناہ نہیں جو کہ ڈرتا ہے [۳۲۳] اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو بیشک تم سب اسکے پاس جمع ہو گے [۳۲۴] ﴿203﴾

    اور بعضا آدمی وہ ہے کہ پسند آتی ہے تجھ کو اس کی بات دنیا کی زندگانی کے کاموں میں اور گواہ کرتا ہے اللہ کو اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑالو ہے ﴿204﴾

    اور جب پھرے تیرے پاس سے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ اس میں خرابی ڈالے اور تباہ کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ ناپسند کرتا ہے فساد کو ﴿205﴾

    اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو آمادہ کرےاس کو غرور گناہ پر سو کافی ہے اس کو دوزخ اور وہ بیشک برا ٹھکانہ ہے [۳۲۵] ﴿206﴾

    اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے کہ بیچتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا جوئی میں [۳۲۶] اور اللہ نہایت مہربان ہے اپنے بندوں پر [۳۲۷] ﴿207﴾

    اے ایمان والو داخل ہو جاؤ اسلام میں پورے [۲۲۸] اور مت چلو قدموں پر شیطان کے بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے [۳۲۹] ﴿208﴾

    پھر اگر تم بچلنے لگو اس کے بعد اس کہ پہنچ چکے تم کو صاف حکم تو جان رکھو کہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا [۳۳۰] ﴿209﴾

    کیا وہ اسی کی راہ دیکھتے ہیں کہ آوے ان پر اللہ ابر کے سائبانوں میں اور فرشتے اور طے ہو جاوے قصہ اور اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے سب کام [۳۳۱] ﴿210﴾

    پوچھ بنی اسرائیل سے کس قدر عنایت کیں ہم نے انکو نشانیاں کھلی ہوئیں [۳۳۲] اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت بعد اس کے کہ پہنچ چکی ہو وہ نعمت اس کو تو اللہ کا عذاب سخت ہے [۳۳۳] ﴿211﴾

    فریفتہ کا ہے کافروں کو دنیا کی زندگی پر اور ہنستے ہیں ایمان والوں کو [۳۳۴] اور جو پرہیزگار ہیں وہ ان کافروں سے بالاتر ہو ں گے قیامت کے دن اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بے شمار [۲۳۵] ﴿212﴾

    تھے سب لوگو ایک دین پر پھر بھیجے اللہ نے پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور اتاری انکےساتھ کتاب سچی کہ فیصلہ کرے لوگوں میں جس بات میں وہ جھگڑا کریں اور نہیں جھگڑا ڈالا کتاب میں مگر انہی لوگوں نے جن کو کتاب ملی تھی اس کے بعد کہ ان کو پہنچ چکے صاف حکم آپس کی ضد سے پھر اب ہدایت کی اللہ نے ایمان والوں کو اس سچی بات کی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے اور اللہ بتلاتا ہے جس کو چاہے سیدھا راستہ [۳۳۶] ﴿213﴾

    کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ تم پر نہیں گذرے حالات ان لوگوں جیسے جو ہو چکے تم سے پہلے کہ پہنچی انکو سختی اور تکلیف اور جھڑ جھڑائے گئے یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے کب آوے گی اللہ کی مدد سن رکھو اللہ کی مدد قریب ہے [۳۳۷] ﴿214﴾

    تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں [۳۳۸] کہہ دو کہ جو کچھ تم خرچ کرو مال سو ماں باپ کے لئے اور قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافروں کے اور جو کچھ کرو گے تم بھلائی سو وہ بیشک اللہ کو خوب معلوم ہے [۳۳۹] ﴿215﴾

    فرض ہوئی تم پر لڑائی [۳۴۰] اور وہ بری لگتی ہے تم کو [۳۴۱] اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے [۳۴۲] ﴿216﴾

    تجھ سے پوچھتے ہیں مہینہ حرام کو کہ اس میں لڑنا کیسا [۲۴۳] کہہ دے لڑائی اس میں بڑا گناہ ہے [۳۴۴] اور روکنا اللہ کی راہ سے اور اس کو نہ ماننا اور مسجد الحرام سے روکنا اور نکال دینا اسکے لوگوں کو وہاں سے اس سے بھی زیادہ گناہ ہے اللہ کے نزدیک [۳۴۵] اور لوگوں کو دین سے بچلانا قتل سے بھی بڑھ کر ہے [۳۴۶] اور کفار تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ تم کو پھیر دیں تمہارے دین سے اگر قابو پاویں [۳۴۷] اور جو کوئی پھرے تم میں سے اپنے دین سے پھر مر جاوے حالت کفر ہی میں تو ایسوں کے ضائع ہوئے عمل دنیا اور آخرت میں اور وہ لوگ رہنے والے ہیں دوزخ میں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے [۳۴۸] ﴿217﴾

    بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور لڑے اللہ کی راہ میں وہ امیدوار ہیں اللہ کی رحمت کے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۳۴۹] ﴿218﴾

    تجھ سے پوچھتے ہیں حکم شراب کا اور جوئے کا [۳۵۰] کہدے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے [۳۵۱] اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہدے جو بچے اپنے خرچ سے [۳۵۲] اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے حکم تا کہ تم فکر کرو ﴿219﴾

    دنیا و آخرت کی باتوں میں [۳۵۳] اور تجھ سے پوچھتے ہیں یتیموں کا حکم [۳۵۴] کہدے سنوارنا ان کے کام کا بہتر ہے اور اگر ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے خرابی کرنے والے اور سنوارنے والے کو [۳۵۵] اور اگر اللہ چاہتا تو تم پر مشقت ڈالتا [۳۵۶] بیشک اللہ زبردست ہے تدبیر والا [۳۵۷] ﴿220﴾

    اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لے آئیں اور البتہ لونڈی مسلمان بہتر ہے مشرک بی بی سے اگرچہ وہ تم کو بھلی لگے اور نکاح نہ کر دو مشرکین سے جب تک وہ ایمان نے لے آویں اور البتہ غلام مسلمان بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تم کو بھلا لگے [۳۵۸] وہ بلاتےہیں دوزخ کی طرف [۳۵۹] اور اللہ بلاتا ہے جنت کی اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے اور بتلاتا ہے اپنے حکم لوگوں کو تاکہ وہ نصیحت قبول کریں ﴿221﴾

    اور تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا کہدے وہ گندگی ہے سو تم الگ رہو عورتوں سے حیض کے وقت [۳۶۰] اور نزدیک نہ ہو ان کے جب تک پاک نہ ہوویں [۳۶۱] پھر جب خوب پاک ہو جاویں تو جاؤ ان کے پاس جہاں سے حکم دیا تم کو اللہ نے [۳۶۲] بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں توبہ کرنے والے اور پسند آتے ہیں گندگی سے بچنے والے [۳۶۳] ﴿222﴾

    تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں سو جاؤ اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو [۳۶۴] اور آگے کی تدبیر کرو اپنے واسطے [۳۶۵] اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ تم کو اس سے ملنا ہے اور خوشخبری سنا ایمان والوں کو ﴿223﴾

    اور مت بناؤ اللہ کے نام کو نشانہ اپنی قسمیں کھانے کے لئے کہ سلوک کرنے سے اور پرہیزگاری سے اور لوگوں میں صلح کرانے سے بچ جاؤ [۳۶۶] اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے [۳۶۷] ﴿224﴾

    نہیں پکڑتا تم کو اللہ بیہودہ قسموں پر تمہاری [۳۶۸] لیکن پکڑتا ہے تم کو ان قسموں پر کہ جن کا قصد کیا تمہارے دلوں نے [۳۶۹] اور اللہ بخشنے والا تحمل کرنے والا ہے [۳۷۰] ﴿225﴾

    جو لوگ قسم کھا لیتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے سے انکے لئے مہلت ہے چار مہینے کی پھر اگر باہم مل گئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ﴿226﴾

    اور اگر ٹھہرا لیا چھوڑ دینے کو تو بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے [۳۷۱] ﴿227﴾

    اور طلاق والی عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو تین حیض تک اور ان کو حلال نہیں کہ چھپا رکھیں جو پیدا کیا اللہ نے ان کے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اور پچھلے دن پر [۳۷۲] اور ان کے خاوند حق رکھتے ہیں انکے لوٹا لینے کا اس مدت میں اگر چاہیں سلوک سے رہنا [۳۷۳] اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پر حق ہے دستور کے موافق اور مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے [۳۷۴] اور اللہ زبردست ہے تدبیر والا ﴿228﴾

    طلاق رجعی ہے دو بار تک اسکے بعد رکھ لینا موافق دستور کے یا چھوڑ دینا بھلی طرح سے [۳۷۵] اور تم کو روا نہیں کہ لے لو کچھ اپنا دیا ہوا عورتوں سے مگر جبکہ خاوند عورت دونوں ڈریں اس بات سے کہ قائم نہ رکھ سکیں گے حکم اللہ کا [۳۷۶] پھر اگر تم لوگ ڈرو اس بات سے کہ وہ دونوں قائم نہ رکھ سکیں گے اللہ کا حکم تو کچھ گناہ نہیں دونوں پر اس میں کہ عورت بدلہ دیکر چھوٹ جاوے [۳۷۷] یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں سو ان سے آگے مت بڑھو اور جو کوئی بڑھ چلے اللہ کی باندھی ہوئی حدوں سےسو وہی لوگ ہیں ظالم [۳۷۸] ﴿229﴾

    پھر اگر اس عورت کو طلاق دی یعنی تیسری بار تو اب حلال نہیں اس کو وہ عورت اس کے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اسکے سوا پھر اگر طلاق دیدے دوسرا خاوند تو کچھ گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر باہم مل جاویں اگر خیال کریں کہ قائم رکھیں گے اللہ کا حکم اور یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں اللہ کی بیان فرماتا ہے ان کو واسطے جاننے والوں کے [۳۷۹] ﴿230﴾

    اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پہنچیں اپنی عدت تک [۳۸۰] تو رکھ لو ان کو موافق دستور کے یا چھوڑ دو ان کو بھلی طرف سے اور نہ روکے رکھو ان کو ستانے کے لئے تاکہ ان پر زیادتی کرو [۳۸۱] اور جو ایسا کرے گا وہ بیشک اپنا ہی نقصان کرے گا اور مت ٹھہراؤ اللہ کے احکام کو ہنسی اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور اس کو کہ جو اتاری تم پر کتاب اور علم کی باتیں کہ تم کو نصیحت کرتا ہے اسکے ساتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے [۳۸۲] ﴿231﴾

    اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو آپ نہ روکو ان کو اس سے کہ نکاح کر لیں اپنے انہی خاوندوں سے جبکہ راضی ہو جاویں آپس میں موافق دستور کے [۳۸۳] یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو کہ تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر [۳۸۴] اس میں تمہارے واسطے بڑی ستھرائی ہے اور بہت پاکیزگی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے [۳۸۵] ﴿232﴾

    اور بچے والی عورتیں دودھ پلاویں اپنے بچوں کو دو برس پوری جو کوئی چاہے کہ پوری کرے دودھ کی مدت [۳۸۶] اور لڑکے والے یعنی باپ پر ہے کھانا اور کپڑا ان عورتوں کا موافق دستور کے تکلیف نہیں دی جاتی کسی کو مگر اس کی گنجائش کے موافق نہ نقصان دیا جاوے ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ اس کو کہ جس کا وہ بچہ ہے یعنی باپ کو اسکے بچہ کی وجہ سے [۳۸۷] اور وارثوں پر بھی یہ لازم ہے [۳۸۸] پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں یعنی دو برس کے اندر ہی اپنی رضا اور مشورہ سے تو ان پر کچھ گناہ نہیں [۳۸۹] اور اگر تم لوگ چاہو کہ دودھ پلواؤ کسی دایہ سے اپنی اولاد کو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جبکہ حوالہ کر دو جو تم نے دینا ٹھہرایا تھا موافق دستور کے [۳۹۰] اور ڈرو اللہ سے اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتا ہے ﴿233﴾

    اور جو لوگ مر جاویں تم میں سے اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو چاہئے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن [۳۹۱] پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ کریں وہ اپنے حق میں قاعدہ کے موافق [۳۹۲] اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبر ہے ﴿234﴾

    اور کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ اشارہ میں کہو پیغام نکاح ان عورتوں کا یا پوشیدہ رکھو اپنے دل میں اللہ کو معلوم ہے کہ تم البتہ ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کر رکھو چھپ کر مگر یہی کہ کہدو کوئی بات رواج شریعت کے موافق اور نہ ارادہ کرو نکاح کا یہاں تک کہ پہنچ جاوے عدت مقررہ اپنی انتہا کو [۳۹۳] اور جان رکھو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ تمہارے دل میں ہے سو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور تحمل کرنے والا ہے[۳۹۴] ﴿235﴾

    کچھ گناہ نہیں تم پر اگر طلاق دو تم عورتوں کو اس وقت کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور نہ مقرر کیا ہو ان کے لئے کچھ مہر اور ان کو کچھ خرچ دو مقدور والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق جو خرچ کہ قاعدہ کے موافق ہے لازم ہے نیکی کرنے والوں پر [۳۹۵] ﴿236﴾

    اور اگر طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھہرا چکے تھے تم ان کے لئے مہر تو لازم ہوا آدھا اس کا کہ تم مقرر کر چکے تھے مگر یہ کہ درگذر کریں عورتیں یا درگذر کرے وہ شخص کہ اس کے اختیار میں ہے گرہ نکاح کی یعنی خاوند اور تم مرد درگذر کرو تو قریب ہے پرہیزگاری سے اور نہ بھلا دو احسان کرنا آپس میں بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو خوب دیکھتا ہے [۳۹۶] ﴿237﴾

    خبردار رہو سب نمازوں سے اور بیچ والی نماز سے اور کھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے [۳۹۷] ﴿238﴾

    پھر اگر تم کو ڈر ہو کسی کا تو پیادہ پڑھ لو یا سوار پھر جس وقت تم امن پاؤ تو یاد کرو اللہ کو جس طرح کہ تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہ جانتےتھے [۳۹۸] ﴿239﴾

    اور جو لوگ تم میں سے مر جاویں اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو وہ وصیت کر دیں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالنے کے گھر سے [۳۹۹] پھر اگر وہ عورتیں آپ نکل جاویں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں کہ کریں وہ عورتیں اپنے حق میں بھلی بات اور اللہ زبردست ہے حکمت والا [۴۰۰] ﴿240﴾

    اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ہے قاعدہ کے موافق لازم ہے پرہیزگاروں پر [۴۰۱] ﴿241﴾

    اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ تمہارے واسطے اپنے حکم تاکہ تم سمجھ لو [۴۰۲] ﴿242﴾

    کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے پھر فرمایا ان کو اللہ نے کہ مر جاؤ پھر ان کو زندہ کر دیا بیشک اللہ فضل کرنے والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے [۴۰۳] ﴿243﴾

    اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ بیشک خوب سنتا جانتا ہے ﴿244﴾

    کو ن شخص ہے ایسا جو کہ قرض دے اللہ کو اچھا قرض پھر دوگنا کر دے اللہ اس کو کئ گنا اور اللہ ہی تنگی کردیتا ہے اور وہی کشائش کرتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے [۴۰۴] ﴿245﴾

    کیا نہ دیکھا تو نے ایک جماعت بنی اسرائیل کو موسٰیؑ کے بعد [۴۰۵] جب انہوں نےکہا اپنےنبی سے مقرر کر دو ہمارے لئے ایک بادشاہ تا کہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں پیغمبر نے کہا کیا تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر حکم ہو تم کو لڑائی کا تو تم اس وقت نہ لڑو وہ بولے ہم کو کیا ہوا کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں اور ہم تو نکال دیے گئے اپنےگھروں سے اور بیٹوں سے پھر جب حکم ہوا ان کو لڑائی کا تو وہ سب پھر گئے مگر تھوڑے سے ان میں کے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہےگنہگاروں کو [۴۰۶] ﴿246﴾

    اور فرمایا ان سے ان کے نبی نے بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ کہنےلگے کیونکر ہو سکتی ہے اس کو حکومت ہم پر اور ہم زیادہ مستحق ہیں سلطنت کے اس سے اور اس کو نہیں ملی کشائش مال میں پیغمبر نے کہا بیشک اللہ نے پسند فرمایا اس کو تم پر اور زیادہ فراخی دی اس کو علم اور جسم میں اور اللہ دیتا ہے ملک اپنا جس کو چاہے اور اللہ ہے فضل کرنے والا سب کچھ جاننے والا [۴۰۷] ﴿247﴾

    اور کہا بنی اسرائیل سے ان کے نبی نے کہ طالوت کی سلطنت کی نشانی یہ ہے کہ آوے تمہارےپاس ایک صندوق کہ جس میں تسلی خاطر ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو چھوڑ گئ تھی موسٰیؑ اور ہارونؑ کی اولاد اٹھا لاویں گے اس صندوق کو فرشتے بیشک اس میں پوری نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم یقین رکھتے ہو [۴۰۸] ﴿248﴾

    پھر جب باہر نکلا طالوت فوجیں لے کر کہا بیشک اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے ایک نہر سے سو جس نے پانی پیا اس نہر کا تو وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا تو وہ بیشک میرا ہے مگر جو کوئی بھرےایک چلو اپنے ہاتھ سے پھر پی لیا سب نے اس کا پانی مگر تھوڑوں نے ان میں سے پھر جب پار ہوا طالوت اور ایمان والے ساتھ اس کے تو کہنےلگے طاقت نہیں ہم کو آج جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی کہنے لگے وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ ان کو اللہ سےملنا ہے بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی ہے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے [۴۰۹] ﴿249﴾

    اور جب سامنے ہوئے جالوت کے اور اس کی فوجوں کے تو بولے اے رب ہمارےڈال دے ہمارے دلوں میں صبر اور جمائے رکھ ہمارے پاؤں اور مدد کر ہماری اس کافر قوم پر ﴿250﴾

    پھر شکست دی مومنوں نے جالوت کے لشکر کو اللہ کے حکم سے اور مار ڈالا داؤد نے جالوت کو اور دی داؤد کو اللہ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا ان کو جو چاہاا اور اگر نہ ہوتا دفع کرا دینا اللہ کا ایک کو دوسرے سے تو خراب ہو جاتا ملک لیکن اللہ بہت مہربان ہے جہان کے لوگوں پر [۴۱۰] ﴿251﴾

    یہ آیتیں اللہ کی ہیں ہم تجھ کو سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک اور تو بیشک ہمارے رسولوں میں ہے [۴۱۱] ﴿252﴾

    یہ سب رسول فضیلت دی ہم نے ان میں بعض کو بعض سے کوئی تو وہ ہے کہ کلام فرمایا اس سے اللہ نے اور بلند کئے بعضوں کے درجے اور دیے ہم نے عیسٰیؑ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح القدس یعنی جبریل سے [۴۱۲] اور اگر اللہ چاہتا تو نہ لڑتے وہ لوگ جو ہوئے ان پیغمبروں کے پیچھے بعد اس کے کہ پہنچ چکے ان کے پاس صاف حکم لیکن ان میں اختلاف پڑ گیا پھر کوئی تو ان میں ایمان لایا اور کوئی کافر رہا اور اگر چاہتا اللہ تو وہ باہم نہ لڑتے لیکن اللہ کرتا ہے جو چاہے [۴۱۳] ﴿253﴾

    اے ایمان والو خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تم کو روزی دی پہلے اس دن کے آنے سے کہ جس میں نہ خرید و فرخت ہے اور نہ آشنائی اور نہ سفارش [۴۱۴] اور جو کافر ہیں وہی ہیں ظالم [۴۱۵] ﴿254﴾

    اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہں زندہ ہے سب کا تھامنے والا [۴۱۶] نہیں پکڑ سکتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ایسا کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اجازت سے جانتا ہے جو کچھ خلقت کے روبرو ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ہے اور وہ سب احاطہ نہیں کر سکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا اور وہی ہے سب سے برتر عظمت والا [۴۱۷] ﴿255﴾

    زبردستی نہں دین کے معاملہ میں بیشک جدا ہو چکی ہے ہدیات گمراہی سے [۴۱۸] اب جو کوئی نہ مانےگمراہ کرنےوالوں کو اور یقین لاوےاللہ پر تو اس نے پکڑ لیا حلقہ مضبوط جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے [۴۱۹] ﴿256﴾

    اللہ مددگار ہے ایمان والوں کا نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے رفیق ہیں شیطان نکالتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف یہی لوگ ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ﴿257﴾

    کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو جس نے جھگڑا کیا ابراہیم سے اس کے رب کی بابت اسی وجہ سے کہ دی تھی اللہ نے اس کو سلطنت جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ بولا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں کہا ابراہیم نے کہ بیشک اللہ تو لاتا ہے سورج کو مشرق سے اب تو لے آ اس کو مغرب کی طرف سے تب حیران رہ گیا وہ کافر اور اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا بے انصافوں کو [۴۲۰] ﴿258﴾

    یا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گذرا وہ ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مر گئے پیچھے پھر مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو [۴۲۱] کہا تو کتنی دیر یہاں رہا بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم [۴۲۲] کہا نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سڑ نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتےہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت [۴۲۳] پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۴۲۴] ﴿259﴾

    اور یاد کر جب کہا ابراہیم نے اے پروردگار میرے دکھلا دے مجھ کو کہ کیونکر زندہ کرے گا تو مردے فرمایا کیا تو نے یقین نہیں کیا کہا کیوں نہیں لیکن اس واسطے چاہتا ہوں کہ تسکین ہو جاوے میرے دل کو [۴۲۵] فرمایا تو پکڑ لے چار جانور اڑنے والے پھر انکو ہلا لے اپنے ساتھ پھر رکھ دے ہر پہاڑ پر ان کے بدن کا ایک ایک ٹکڑا پھر ان کو بلا چلے آویں گے تیرے پاس دوڑتے [۴۲۶] اور جان لے کہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا [۴۲۷] ﴿260﴾

    مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ اس سے اگیں سات بالیں ہر بال میں سو سو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے اور اللہ بینہایت بخشش کرنے والا ہے سب کچھ جانتا ہے [۴۲۸] ﴿261﴾

    جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں انہی کے لئے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے یہاں اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ غمگین ہوں گے [۴۲۹] ﴿262﴾

    جواب دینا نرم اور درگذر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے پیچھے ہو ستانا اور اللہ بے پروا ہے نہایت تحمل والا [۴۳۰] ﴿263﴾

    اے ایمان والو مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو اور یقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر [۴۳۱] سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر پڑی ہے کچھ مٹی پھر برسا اس پر زور کا مینہ تو کر چھوڑا اس کو بالکل صاف کچھ ہاتھ نہیں لگتا ایسے لوگوں کے ثواب اس چیز کا جو انہوں نےکمایا اور اللہ نہیں دکھاتا سیدھی راہ کافروں کو [۴۳۲] ﴿264﴾

    اور مثال ان کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کو اور اپنے دلوں کو ثابت کر کر ایسی ہے جیسے ایک باغ ہے بلند زمین پر اس پر پڑا زور کا مینہ تو لایا وہ باغ اپنا پھل دو چند اور اگر نہ پڑا اس پر مینہ تو پھورا ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے [۴۳۳] ﴿265﴾

    کیا پسند آتا ہے تم میں سے کسی کو یہ کہ ہووے اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا بہتی ہوں نیچے اس کے نہریں اس کو اس باغ میں اور بھی سب طرح کا میوہ حاصل ہو اور آ گیا اس پر بڑھاپا اور اس کی اولاد ہیں ضعیف تب آ پڑا اس باغ پر ایک بگولا جس میں آگ تھی جس سے وہ باغ جل گیا یوں سمجھاتا ہے تم کو اللہ آیتیں تاکہ تم غور کرو [۴۳۴] ﴿266﴾

    اے ایمان والو خرچ کرو ستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اور اس چیز میں سے کہ جو ہم نے پیدا کیا تمہارے واسطے زمین سے اور قصد نہ کرو گندی چیز کا اس میں سے کہ اس کو خرچ کرو حالانکہ تم اس کو کبھی نہ لو گے مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور جان رکھو کہ اللہ بے پروا ہے خوبیوں والا [۴۳۵] ﴿267﴾

    شیطان وعدہ دیتا ہے تم کو تنگدستی کا اور حکم کرتا ہے بے حیائی کا اور اللہ وعدہ دیتا ہے تم کو اپنی بخشش اور فضل کا اور اللہ بہت کشائش والا ہے سب کچھ جانتا ہے [۴۳۶] ﴿268﴾

    عنایت کرتا ہے سمجھ جس کسی کو چاہے اور جس کو سمجھ ملی اس کو بڑی خوبی ملی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں [۴۳۷] ﴿269﴾

    اور جو خرچ کرو گے تم خیرات یا قبول کرو گے کو ئی منت تو بیشک اللہ کو سب معلوم ہے اور ظالموں کا کوئی مدگار نہیں [۴۳۸] ﴿270﴾

    اگر ظاہر کر کے دو خیرات تو کیا اچھی بات اور اگر اس کو چھپاؤ اور فقیروں کو پہنچاؤ تو وہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور دور کرے گا کچھ گناہ تمہارے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے [۴۳۹] ﴿271﴾

    تیرا ذمہ نہیں انکو راہ پر لانا اور لیکن اللہ راہ پر لاوے جس کو چاہے اور جو کچھ خرچ کرو گے تم مال سو اپنے ہی واسطے جب تک کہ خرچ کرو گے اللہ ہی کی رضاجوئی میں اور جو کچھ خرچ کرو گے خیرات سو پوری ملے گی تم کو اور تمہارا حق نہ رہے گا [۴۴۰] ﴿272﴾

    خیرات ان فقیروں کے لئے ہے جو رکے ہوئے ہیں اللہ کی راہ میں چل پھر نہیں سکتے ملک میں سمجھے ان کو ناواقف مالدار ان کے سوال نہ کرنے سے تو پہچانتا ہے ان کو انکے چہرہ سے نہیں سوال کرتے لوگوں سے لپٹ کر [۴۴۱] اور جو کچھ خرچ کرو گے کام کی چیز وہ بیشک اللہ کو معلوم ہے [۴۴۲] ﴿273﴾

    جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں رات کو اور دن کو چھپا کر اور ظاہر میں تو انکے لئے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے پاس اور نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۴۴۳] ﴿274﴾

    جو لوگ کھاتےہیں سود نہیں اٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اٹھتا ہے وہ شخص کہ جس کے حواس کھو دیے ہوں جن نے لپٹ کر یہ حالت انکی اس واسطے ہو گی کہ انہوں نے کہا کہ سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود لینا حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری اور حرام کیا ہے سود کو [۴۴۴] پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آ گیا تو اس کے واسطے ہے جو پہلے ہو چکا اور معاملہ اس کا اللہ کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لیوے تو وہی لوگ ہیں دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے [۴۴۵] ﴿275﴾

    مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو [۴۴۶] اور اللہ خوش نہیں کسی نا شکر گنہگار سے [۴۴۷] ﴿276﴾

    جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور قائم رکھا نماز کو اور دیتے رہے زکوٰۃ انکے لئے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے پاس اور نہ ان کو خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۴۴۸] ﴿277﴾

    اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا [۴۴۹] ﴿278﴾

    پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤ لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اگر توبہ کرتے ہو تو تمہارے واسطے ہے اصل مال تمہارا نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر [۴۵۰] ﴿279﴾

    اور اگر ہے تنگدست تو مہلت دینی چاہیئے کشائش ہونے تک اور بخش دو تو بہت بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم کو سمجھ ہو [۴۵۱] ﴿280﴾

    اور ڈرتے رہو اس دن سے کہ جس دن لوٹائے جاؤ گے اللہ کی طرف پھر پورا دیا جائے گا ہر شخص کو جو کچھ اس نےکمایا اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۴۵۲] ﴿281﴾

    اے ایمان والو جب تم آپس میں معاملہ کرو ادھار کا کسی وقت مقرر تک تو اس کو لکھ لیا کرو اور چاہئے کہ لکھ دے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف سے اور انکار نہ کرے لکھنے والا اس سے کہ لکھ دیوے جیسا سکھایا اس کو اللہ نے سو اس کو چاہئے کہ لکھ دے اور بتلاتا جاوے وہ شخص کہ جس پر قرض ہے اور ڈرے اللہ سے جو اس کا رب ہے اور کم نہ کرے اس میں سےکچھ [۴۵۳] پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے عقل ہے یا ضعیف ہے یا آپ نہیں بتلا سکتا تو بتلاوے کارگذار اس کا انصاف سے [۴۵۴] اور گواہ کرو دو شاہد اپنے مردوں میں سے پھر اگر نہ ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے کہ جن کو تم پسند کرتے ہو گواہوں میں تاکہ اگر بھول جائے ایک ان میں سے تو یاد دلاوے اس کو وہ دوسری [۴۵۵] اور انکار نہ کریں گواہ جس وقت بلائے جاویں اور کاہلی نہ کرو اس کے لکھنے سے چھوٹا ہو معاملہ یا بڑا اس کی میعاد تک اس میں پورا انصاف ہے اللہ کے نزدیک اور بہت درست رکھنے والا ہے گواہی کو اور نزدیک ہے کہ شبہ میں نہ پڑو [۴۵۶] مگر یہ کہ سودا ہو ہاتھوں ہاتھ لیتے دیتے ہو اس کو آپس میں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اس کو نہ لکھو اور گواہ کر لیا کرو جب تم سودا کرو اور نقصان نہ کرےلکھنے والا اور نہ گواہ [۴۵۷] اور اگر ایسا کرو تو یہ گناہ کی بات ہے تمہارے اندر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ تم کو سکھلاتا ہے اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے ﴿282﴾

    اور اگر تم سفر میں ہو اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو گرو ہاتھ میں رکھنی چاہیئے پھر اگر اعتبار کرے ایک دوسرے کا تو چاہئے کہ پورا ادا کرے وہ شخص کہ جس پر اعتبار کیا اپنی امانت کو اور ڈرتا رہے اللہ سے جو رب ہے اس کا اور مت چھپاؤ گواہی کو اور جو شخص اس کو چھپاوے تو بیشک گنہگار ہے دل اس کا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے [۴۵۸] ﴿283﴾

    اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اگر ظاہر کرو گے اپنے جی کی بات یا چھپاؤ گے اس کو حساب لے گا اس کا تم سے اللہ پھر بخشے گا جس کو چاہے اور عذاب کرے گا جس کو چاہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۴۵۹] ﴿284﴾

    مان لیا رسول نے جو کچھ اترا اس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو کہتے ہیں کہ ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے اور کہہ اٹھے کہ ہم نےسنا اور قبول کیا تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے [۴۶۰] ﴿285﴾

    اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی کو مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے اس کو ملتا ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر پڑتا ہے جو اس نے کیا اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر اے رب ہمارے اور نہ اٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگذر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے مدد کر ہماری کافروں پر [۴۶۱] ﴿286﴾

    Surah 3
    آل عمران

    الم ﴿1﴾

    اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے سب کا تھامنے والا [۱] ﴿2﴾

    اتاری تجھ پر کتاب سچی [۲] تصدیق کرتی ہے اگلی کتابوں کی اور اتارا توریت اور انجیل کو ﴿3﴾

    اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے [۳] اور اتارے فیصلے [۴] بیشک جو منکر ہوئے اللہ کی آیتوں سے انکے واسطے سخت عذاب ہے اور اللہ زبردست ہے بدلا لینے والا [۵] ﴿4﴾

    اللہ پر چھپی نہیں کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں [۶] ﴿5﴾

    وہی تمہارا نقشہ بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہے کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا زبردست ہے حکمت والا [۷] ﴿6﴾

    وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں متشابہ یعنی جنکے معنیٰ معلوم یا معین نہیں سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے اور مضبوط علم والے کہتےہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے [۸] ﴿7﴾

    اے رب نہ پھیر ہمارے دلوں کو جب تو ہم کو ہدایت کر چکا اور عنایت کر ہم کو اپنے پاس سے رحمت تو ہی ہے سب کچھ دینے والا [۹] ﴿8﴾

    اے رب تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کچھ شبہ نہیں بیشک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ [۱۰] ﴿9﴾

    بیشک جو لوگ کافر ہیں ہر گز کام نہ آویں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ کے سامنے کچھ اور وہی ہیں ایندھن دوزخ کے [۱۱] ﴿10﴾

    جیسے دستور فرعون والوں کا اور جو ان سے پہلے تھے جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو پھر پکڑا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں پر اور اللہ کا عذاب سخت ہے [۱۲] ﴿11﴾

    کہہ دے کافروں کو کہ اب تم مغلوب ہو گے اور ہانکے جاؤ گے دوزخ کی طرف اور کیا برا ٹھکانہ ہے [۱۳] ﴿12﴾

    ابھی گذر چکا ہے تمہارے سامنے ایک نمونہ دو فوجوں میں جن میں مقابلہ ہوا ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اللہ کی راہ میں اور دوسری فوج کافروں کی ہے دیکھتے ہیں یہ ان کو اپنے سے دو چند صریح آنکھوں سے اور اللہ زور دیتا ہے اپنی مدد کا جس کو چاہے اسی میں عبرت ہے دیکھنے والوں کو [۱۴] ﴿13﴾

    فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے جیسے عورتیں [۱۵] اور بیٹے اور خزانے جمع کئے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے [۱۶] اور مویشی اور کھیتی یہ فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی میں اور اللہ ہی کے پاس ہے اچھا ٹھکانہ [۱۷] ﴿14﴾

    کہدے کیا بتاؤں میں تمکو اس سے بہتر پرہیزگاروں کے لئے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے جاری ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور عورتیں ہیں ستھری [۱۸] اور رضامندی اللہ کی [۱۹] اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے [۲۰] ﴿15﴾

    وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے ہیں سو بخش دے ہم کو گناہ ہمارے اور بچا ہم کو دوزخ کے عذب سے [۲۱] ﴿16﴾

    وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور گناہ بخشوانے والے پچھلی رات میں [۲۲] ﴿17﴾

    اللہ نے گواہی دی کہ کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا [۲۳] اور فرشتوں نے [۲۴] اور علم والوں نے بھی [۲۵] وہی حاکم انصاف کا ہے کسی کی بندگی نہیں سوا اس کے زبردست ہے حکمت والا [۲۶] ﴿18﴾

    بیشک دین جو ہے اللہ کے ہاں سو یہی مسلمانی حکمبرداری ہے [۲۷] اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہو چکا آپس کی ضد اور حسد سے [۲۸] اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے [۲۹] ﴿19﴾

    پھر بھی اگر تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے میں نے تابع کیا اپنا منہ اللہ کے حکم پر اور انہوں نے بھی کہ جو میرے ساتھ ہیں [۳۰] اور کہہ دے کتاب والوں کو اور ان پڑھوں کو کہ تم بھی تابع ہوتے ہو پھر اگر وہ تابع ہوئے تو انہوں نے راہ پائی سیدھی اور اگر منہ پھریں تو تیرے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے [۳۱] ﴿20﴾

    جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کے حکموں کا اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان کو جو حکم کرتے ہیں انصاف کرنے کا لوگوں میں سے سو خوشخبری سنا دے انکو عذاب دردناک کی ﴿21﴾

    یہی ہیں جن کی محنت ضائع ہوئی دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مددگار [۳۲] ﴿22﴾

    کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا [۳۳] ان کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ کتاب ان میں حکم کرے پھر منہ پھیرتےہیں بعضے ان میں سےتغافل کر کے [۳۴] ﴿23﴾

    یہ اس واسطے کہ کہتے ہیں وہ ہم کو ہرگز نہ لگے گی آگ دوزخ کی مگر چند دن گنتی کے اور بہکے ہیں اپنے دین میں اپنی بنائی باتوں پر [۳۵] ﴿24﴾

    پھر کیا ہو گا حال جب ہم انکو جمع کریں گے ایک دن کہ اسکے آنے میں کچھ شبہ نہیں اور پورا پاوے گا ہر کوئی اپنا کیا [۳۶] اور انکی حق تلفی نہ ہو گی[۳۷] ﴿25﴾

    تو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور سلطنت چھین لیوے جس سے چاہے اور عزت دیوے جس کو چاہے اور ذلیل کرے جس کو چاہے تیرے ہاتھ ہے سب خوبی بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے [۳۸] ﴿26﴾

    تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرے دن کو رات میں [۳۹] اور تو نکالے زندہ مردہ سے اور نکالے مردہ زندہ سے [۴۰] اور تو رزق دے جس کو چاہے بے شمار [۴۱] ﴿27﴾

    نہ بناویں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر اور جو کوئی یہ کام کرے تو نہیں اس کو اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ کرنا چاہو تم ان سے بچاؤ [۴۲] اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنے سے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے [۴۳] ﴿28﴾

    تو کہہ اگر تم چھپاؤ گے اپنے جی کی بات یا اسے ظاہر کرو گے جانتا ہے اس کو اللہ [۴۴] اور اس کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۴۵] ﴿29﴾

    جس دن موجود پاوے گا ہر شخص جو کچھ کہ کی ہے اس نے نیکی اپنےسامنے اور جو کچھ کہ کی ہے اس نے برائی آرزو کرے گا کہ مجھ میں اور اس میں فرق پڑ جاوے دور کا [۴۶] اور اللہ ڈراتا ہے تم کو اپنے سے اور اللہ بہت مہربان ہے بندوں پر [۴۷] ﴿30﴾

    تو کہہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۴۸] ﴿31﴾

    تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور رسول کا پھر اگر اعراض کریں تو اللہ کو محبت نہیں ہے کافروں سے [۴۹] ﴿32﴾

    بیشک اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو اور عمران کے گھر کو [۵۰] سارے جہان سے ﴿33﴾

    جو اولاد تھے ایک دوسرے کی [۵۱] اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے [۵۲] ﴿34﴾

    جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر سو تو مجھ سے قبول کر بیشک تو ہی ہے اصل سننے والا جاننے والا [۵۳] ﴿35﴾

    پھر جب اس کو جنا بولی اے رب میں نے تو اس کو لڑکی جنی [۵۴] اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ اس نے جنا اور بیٹا نہ ہو جیسی وہ بیٹی [۵۵] اور میں نے اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے [۵۶] ﴿36﴾

    پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے اچھی طرح کا قبول اور بڑھایا ا سکو اچھی طرح بڑھانا اور سپرد کی زکریا کو [۵۷] جس وقت آتے اس کے پاس زکریا حجرے میں پاتے اس کے پاس کچھ کھانا [۵۸] کہا اے مریم کہاں سے آیا تیرے پاس یہ کہنے لگی یہ اللہ کے پاس سے آتا ہے اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بے قیاس [۵۹] ﴿37﴾

    وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے کہا اے رب میرے عطا کر مجھ کو اپنے پاس سے اولاد پاکیزہ بیشک تو سننے والا ہے دعا کا [۶۰] ﴿38﴾

    پھر اس کو آواز دی فرشتوں نے جب وہ کھڑے تھے نماز میں حجرے کے اندر کہ اللہ تجھکو خوشخبری دیتا ہے یحیٰی کی [۶۱] جو گواہی دے گا اللہ کے ایک حکم کی [۶۲] اور سردار ہو گا اور عورت کے پاس نہ جائے گا [۶۳] اور نبی ہو گا صالحین سے [۶۴] ﴿39﴾

    کہا اے رب کہاں سے ہو گا میرے لڑکا اور پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا اور عورت میری بانجھ ہے فرمایا اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہے [۶۵] ﴿40﴾

    کہا اے رب مقرر کر میرے لئے کچھ نشانی [۶۶] فرمایا نشانی تیرے لئے یہ ہے کہ نہ بات کرے گا تو لوگوں سے تین دن مگراشارہ سے [۶۷] اور یاد کر اپنے رب کو بہت اور تسبیح کر شام اور صبح [۶۸] ﴿41﴾

    اور جب فرشتے بولے اے مریم اللہ نے تجھ کو پسند کیا اور ستھرا بنایا اور پسند کیا تجھ کو سب جہان کی عورتوں پر [۶۹] ﴿42﴾

    اے مریم بندگی کر اپنے رب کی اور سجدہ کر [۷۰] اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنےوالوں کے [۷۱] ﴿43﴾

    یہ خبریں غیب کی ہیں جو ہم بھیجتے ہیں تجھکو [۷۲] اور تو نہ تھا ان کے پاس جب ڈالنے لگے اپنے قلم کہ کون پرورش میں لے مریم کو اور تو نہ تھا ان کے پاس جب وہ جھگڑتے تھے [۷۳] ﴿44﴾

    جب کہا فرشتوں نے اے مریم اللہ تجھ کو بشارت دیتا ہے ایک اپنے حکم کی جس کا نام مسیح ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا مرتبہ والا دنیا میں اور آخرت میں اور اللہ کے مقربوں میں [۷۴] ﴿45﴾

    اور باتیں کرے گا لوگوں سے جبکہ ماں کی گود میں ہو گا اور جبکہ پوری عمر کا ہو گا اور نیک بختوں میں ہے [۷۵] ﴿46﴾

    بولی اے رب کہاں سے ہو گا میرے لڑکا اور مجھ کو ہاتھ نہیں لگایا کسی آدمی نے [۷۶] فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہے جب ارادہ کرتا ہے کسی کام کا تو یہی کہتا ہے اس کو کہ ہو جا سو وہ ہو جاتا ہے [۷۷] ﴿47﴾

    اور سکھاوےگا اس کو کتاب اور تہ کی باتیں اور تورات اور انجیل [۷۸] ﴿48﴾

    اور کرے گا اس کو پیغمبر بنی اسرائیل کی طرف بیشک میں آیا ہوں تمہارےپاس نشانیاں لے کر تمہارے رب کی طرف سے [۷۹] کہ میں بنا دیتا ہوں تم کو گارے سے پرندہ کی شکل پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو ہو جاتا ہے وہ اڑتا جانور اللہ کے حکم سے [۸۰] اور اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں مردے اللہ کے حکم سے [۸۱] اور بتا دیتا ہوں تم کو جو کھا کر آؤ اور جو رکھ آؤ اپنے گھر میں [۸۲] اس میں نشانی پوری ہے تم کو اگر تم یقین رکھتے ہو ﴿49﴾

    اور سچا بتاتا ہوں اپنےسے پہلی کتاب کو جو توریت ہے اور اس واسطے کہ حلال کر دوں تم کو بعضی وہ چیزیں جو حرام تھیں تم پر [۸۳] اور آیا ہوں تمہارے پاس نشانی لے کر تمہارے رب کی سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو [۸۴] ﴿50﴾

    بیشک اللہ ہے رب میرا اور رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو یہی راہ سیدھی ہے [۸۵] ﴿51﴾

    پھر جب معلوم کیا عیسٰی نے بنی اسرائیل کا کفر [۸۶] بولا کون ہے کہ میری مدد کرے اللہ کی راہ میں [۸۷] کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد کرنے والے اللہ کی [۸۸] ہم یقین لائے اللہ پر اور تو گواہ رہ کہ ہم نے حکم قبول کیا [۸۹] ﴿52﴾

    اے رب ہم نے یقین کیا اس چیز کا جو تو نے اتاری اور ہم تابع ہوئے رسول کے سو تو لکھ لے ہم کو ماننے والوں میں [۹۰] ﴿53﴾

    اور مکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے [۹۱] ﴿54﴾

    جس وقت کہا اللہ نے اے عیسٰی میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں غالب ان سے جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک پھر میری طرف ہے تم سب کو پھر آنا پھر فیصلہ کر دوں گا تم میں جس بات میں تم جھگڑتے تھے ﴿55﴾

    سو وہ لوگ جو کافر ہوئے ان کو عذاب کروں گا سخت عذاب دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مددگار ﴿56﴾

    اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور کام نیک کئے سو انکو پورا دے گا ان کا حق اور اللہ کو خوش نہیں آتے بے انصاف [۹۲] ﴿57﴾

    یہ پڑھ کو سناتے ہیں ہم تجھ کو آیتیں اور بیان تحقیقی ﴿58﴾

    بیشک عیسٰی کی مثال اللہ کے نزدیک جیسے مثال آدم کی بنایا اس کو مٹی سے پھر کہا اس کو کہ ہو جا وہ ہو گیا [۹۳] ﴿59﴾

    حق وہ ہے جو تیرا رب کہے پھر تو مت رہ شک لانے والوں سے [۹۴] ﴿60﴾

    پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصہ میں بعد اس کے کہ آ چکی تیرے پاس خبر سچی تو تو کہدے آؤ بلادیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جان اور تمہاری جان پھر التجا کریں ہم سب اور لعنت کریں اللہ کی ان پر کہ جو جھوٹے ہیں [۹۵] ﴿61﴾

    بیشک یہی ہے بیان سچا اور کسی کی بندگی نہیں ہے سوا اللہ کے [۹۶] اور اللہ جو ہے وہی ہے زبردست حکمت والا [۹۷] ﴿62﴾

    پھر اگر قبول نہ کریں تو اللہ کو معلوم ہے فساد کرنے والے [۹۸] ﴿63﴾

    تو کہہ اے اہل کتاب آؤ ایک بات کی طرف جو برابر ہے ہم میں اور تم میں کہ بندگی نہ کریں ہم مگر اللہ کی اور شریک نہ ٹھہراویں اس کا کسی کو اور نہ بناوے کوئی کسی کو رب سوا اللہ کے [۹۹] پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم تو حکم کے تابع ہیں [۱۰۰] ﴿64﴾

    اے اہل کتاب کیوں جھگڑتے ہو ابراہیم کی بابت اور توریت اور انجیل تو اتریں اس کے بعد کیا تم کو عقل نہیں ﴿65﴾

    سنتے ہو تم لوگ جھگڑ چکے جس بات میں تم کو کچھ خبر تھی اب کیوں جھگڑتے ہو جس بات میں تم کو کچھ خبر نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے [۱۰۱] ﴿66﴾

    نہ تھا ابراہیم یہودی اور نہ تھا نصرانی لیکن تھا حنیف یعنی سب جھوٹے مذہبوں سے بیزار اور حکم بردار اور نہ تھا مشرک [۱۰۲] ﴿67﴾

    لوگوں میں زیادہ مناسبت ابراہیم سے ان کو تھی جو ساتھ اس کے تھے اور اس نبی کو اور جو ایمان لائے اس نبی پر [۱۰۳] اور اللہ والی ہے مسلمانوں کا [۱۰۴] ﴿68﴾

    آرزو ہے بعضے اہل کتاب کو کہ کسی طرح گمراہ کریں تم کو اور گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے [۱۰۵] ﴿69﴾

    اے اہل کتاب کیوں انکار کرتے ہو اللہ کے کلام کا اور تم قائل ہو [۱۰۶] ﴿70﴾

    اے اہل کتاب کیوں ملاتے ہو سچ میں جھوٹ اور چھپاتے ہو سچی بات جان کر [۱۰۷] ﴿71﴾

    اور کہا بعضے اہل کتاب نے مان لو جو کچھ اترا مسلمانوں پر دن چڑھے اور منکر ہو جاؤ آخر دن میں شاید وہ پھر جاویں [۱۰۸] ﴿72﴾

    اور نہ مانیو مگر اسی کی جو چلے تمہارےدین پر [۱۰۹] کہدے کہ بیشک ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت کرے [۱۱۰] اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ اور کسی کو بھی کیوں مل گیا جسیا کچھ تم کو ملا تھا یا وہ غالب کیوں آ گئے تم پر تمہارے رب کے آگے [۱۱۱] تو کہہ بڑائی اللہ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ بہت گنجائش والا ہے خبردار ﴿73﴾

    خاص کرتا ہے اپنی مہربانی جس پر چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے [۱۱۲] ﴿74﴾

    اور بعضے اہل کتاب میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ڈھیر مال کا تو ادا کر دیں تجھ کو اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ اگر تو انکے پاس امانت رکھے ایک اشرفی تو ادا نہ کریں تجھ کو مگر جب تک کہ تو رہے اس کے سر پر کھڑا [۱۱۳] یہ اس واسطے کہ انہوں کے کہہ رکھا ہے کہ نہیں ہے ہم پر امی لوگوں کے حق لینے میں کچھ گناہ [۱۱۴] اور جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر اور وہ جانتے ہیں [۱۱۵] ﴿75﴾

    کیوں نہیں جو کوئی پورا کرے اپنا قرار اور پرہیز گار ہے تو اللہ کو محبت ہے پرہیزگاروں سے [۱۱۶] ﴿76﴾

    جو لوگ مول لیتے ہیں اللہ کے قرار پر اور اپنی قسموں پر تھوڑا سا مول [۱۱۷] ان کا کچھ حصہ نہیں آخرت میں اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ اور نہ نگاہ کرے گا انکی طرف قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور انکے واسطے عذاب ہے دردناک [۱۱۸] ﴿77﴾

    اور ان میں ایک فریق ہے کہ زبان مڑوڑ کر پڑھتے ہیں کتاب تاکہ تم جانو کہ وہ کتاب میں ہے اور وہ نہیں کتاب میں اور کہتے ہیں وہ اللہ کا کہا ہے اور وہ نہیں اللہ کا کہا [۱۱۹] اور اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں جان کر ﴿78﴾

    کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ اس کو دیوے کتاب اور حکمت اور پیغمبر کرے پھر وہ کہے لوگوں کو کہ تم میرے بندے ہو جاؤ اللہ کو چھوڑ کر [۱۲۰] لیکن یوں کہے کہ تم اللہ والے ہو جاؤ جیسے کہ تم سکھلاتے تھے کتاب اور جیسے کہ تم آپ بھی پڑھتے تھے اسے [۱۲۱] ﴿79﴾

    اور نہ یہ کہے تم کو کہ ٹھہرا لو فرشتوں کو اور نبیوں کو رب [۱۲۲] کیا تم کو کفر سکھائے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو چکے ہو [۱۲۳] ﴿80﴾

    اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتب اور علم پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا بولے ہم نے اقرار کیا [۱۲۴] فرمایا تو اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں [۱۲۵] ﴿81﴾

    پھر جو کوئی پھر جاوے اس کے بعد تو وہی لوگ ہیں نافرمان [۱۲۶] ﴿82﴾

    اب کوئی اور دین ڈھونڈھتے ہیں سوا دین اللہ کے اور اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے خوشی سے یا لاچاری سے [۱۲۷] اور اسی کی طرف سب پھر جاویں گے [۱۲۸] ﴿83﴾

    تو کہہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کچھ اترا ہم پر اور جو کچھ اترا ابراہیم پر اور اسمٰعیل پر اور اسحٰق پر اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور جو ملا موسٰی کو اور عیسٰی کو اور جو ملا سب نبیوں کو انکے پروردگار کی طرف سے ہم جدا نہیں کرتے ان میں کسی کو اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں [۱۲۹] ﴿84﴾

    اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین سو اس سے ہر گز قبول نہ ہو گا [۱۳۰] اور وہ آخرت میں خراب ہے [۱۳۱] ﴿85﴾

    کیونکر راہ دے گا للہ ایسے لوگوں کو کہ کافر ہو گئے ایمان لا کر اور گواہی دے کر کہ بیشک رسول سچا ہے اور آئیں ان کے پاس نشانیاں روشن اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو [۱۳۲] ﴿86﴾

    ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی [۱۳۳] ﴿87﴾

    ہمیشہ رہیں گے اس میں [۱۳۴] نہ ہلکا ہو گا ان سے عذاب اور نہ ان کو فرصت ملے [۱۳۵] ﴿88﴾

    مگر جنہوں نے توبہ کی اس کےبعد اور نیک کام کئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے [۱۳۶] ﴿89﴾

    جو لوگ منکر ہوئے مان کر پھر بڑھتے رہے انکار میں ہر گز قبول نہ ہوگی ان کی توبہ اور وہی ہیں گمراہ [۱۳۷] ﴿90﴾

    جو لوگ کافر ہوئے اور مر گئے کافر ہی تو ہر گز قبول نہ ہوگا کسی ایسے سے زمین بھر کو سونا [۱۳۸] اور اگرچہ بدلا دیوے اس قدر سونا ان کو عذاب دردناک ہے اور کوئی نہیں ان کا مددگار [۱۳۹] ﴿91﴾

    ہر گز حاصل نہ کر سکو گے نیکی میں کمال جب تک نہ خرچ کرو اپنی پیاری چیز سے کچھ اور جو چیز خرچ کرو گے سو اللہ کو معلوم ہے [۱۴۰] ﴿92﴾

    سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں بنی اسرائیل کو مگر وہ جو حرام کر لی تھی اسرائیل نے اپنے اوپر توریت نازل ہونے سے پہلے [۱۴۱] تو کہہ لاؤ توریت اور پڑھو اگر سچے ہو [۱۴۲] ﴿93﴾

    پھر جو کوئی جوڑے اللہ پر جھوٹ اس کے بعد تو وہی ہیں بڑے بے انصاف [۱۴۳] ﴿94﴾

    تو کہہ سچ فرمایا اللہ نے اب تابع ہو جاؤ دین ابراہیم کے جو ایک ہی کا ہو رہا تھا اور نہ تھا شرک کرنے والا [۱۴۴] ﴿95﴾

    بیشک سب سے پہلا گھر جو مقرر ہوا لوگوں کے واسطے یہی ہے جو مکہ میں ہے [۱۴۵] برکت والا اور ہدایت جہان کے لوگوں کو ﴿96﴾

    اس میں نشانیاں ہیں ظاہر جیسے مقام ابراہیم اور جو اس کے اندر آیا اس کو امن ملا [۱۴۶] اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اسکی طرف راہ چلنے کی اور جو نہ مانے تو پھر اللہ پروا نہیں رکھتا جہان کے لوگوں کی [۱۴۷] ﴿97﴾

    تو کہہ اے اہل کتاب کیوں منکر ہوتے ہو اللہ کے کلام سے اور اللہ کے روبرو ہے جو تم کرتے ہو [۱۴۸] ﴿98﴾

    تو کہہ اے اہل کتاب کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے ایمان لانے والوں کو کہ ڈھونڈتے ہو اس میں عیب اور تم خود جانتے ہو اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کام سے [۱۴۹] ﴿99﴾

    اے ایمان والو اگر تم کہا مانو گے بعضے اہل کتاب کا تو پھر کر دیں گے وہ تم کو ایمان لائے پیچھے کافر [۱۵۰] ﴿100﴾

    اور تم کس طرح کافر ہوتے ہو اور تم پر پڑھی جاتی ہیں آیتیں اللہ کی اور تم میں اس کا رسول ہے اور جو کوئی مضبوط پکڑے اللہ کو تو اس کو ہدایت ہوئی سیدھے رستہ کی [۱۵۱] ﴿101﴾

    اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے جیسا چاہیئے اس سے ڈرنا اور نہ مریو مگر مسلمان [۱۵۲] ﴿102﴾

    اور مضبوط پکڑو رسی اللہ کی سب مل کر اور پھوٹ نہ ڈالو [۱۵۳] اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب کہ تھے تم آپس میں دشمن پھر الفت دی تمہارے دلوں میں اب ہو گئے اس کے فضل سے بھائی [۱۵۴] اور تم تھے کنارے پر ایک آگ کے گڑھے کے پھر تم کو اس سے نجات دی [۱۵۵] اسی طرح کھولتا ہے اللہ تم پر آیتیں تاکہ تم راہ پاؤ [۱۵۶] ﴿103﴾

    اور چاہیئے کہ رہے تم میں ایک جماعت ایسی جو بلاتی رہے نیک کام کی طرف اور حکم کرتی رہے اچھے کاموں کا اور منع کریں برائی سے اور وہی پہنچے اپنی مراد کو [۱۵۷] ﴿104﴾

    اور مت ہو ان کی طرح جو متفرق ہو گئے اور اختلاف کرنے لگے بعد اس کے کہ پہنچ چکے ان کو حکم صاف اور ان کو بڑا عذاب ہے [۱۵۸] ﴿105﴾

    جس دن کہ سفید ہوں گے بعضے منہ اور سیاہ ہوں گے بعضے منہ [۱۵۹] سو وہ لوگ کہ سیاہ ہوئے منہ ان کے ان سے کہا جائے گا کیا تم کافر ہو گئے ایمان لا کر [۱۶۰] اب چکھو عذاب بدلا اس کفر کرنے کا ﴿106﴾

    اور وہ لوگ کہ سفید ہوئے منہ ان کے سو رحمت میں ہیں اللہ کی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے [۱۶۱] ﴿107﴾

    یہ حکم ہیں اللہ کے ہم سناتے ہیں تجھ کو ٹھیک ٹھیک اور اللہ ظلم کرنا نہیں چاہتا خلقت پر [۱۶۲] ﴿108﴾

    اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ کہ ہے زمین میں اور اللہ کی طرف رجوع ہے ہر کام کا [۱۶۳] ﴿109﴾

    تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئ عالم میں [۱۶۴] حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو برے کاموں سے [۱۶۵] اور ایمان لاتے ہو اللہ پر [۱۶۶] اور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو ان کے لئے بہتر تھا کچھ تو ان میں سے ہیں ایمان پر اور اکثر ان میں نافرمان ہیں [۱۶۷] ﴿110﴾

    وہ کچھ نہ بگاڑ سکیں گے تمہارا مگر ستانا زبان سے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ دیں گے پھر ان کی مدد نہ ہو گی [۱۶۸] ﴿111﴾

    ماری گئ ان پر ذلت جہاں دیکھے جائیں سوائے دست آویز اللہ کے اور دست آویز لوگوں کے [۱۶۹] اور کمایا انہوں نے غصہ اللہ کا اور لازم کر دی گئ انکے اوپر حاجت مندی یہ اس واسطے کہ وہ انکار کرتے رہے ہیں اللہ کی آیتوں سے اور قتل کرتے رہے ہیں پیغمبروں کو ناحق یہ اس واسطے کہ نافرمانی کی انہوں نے اور حد سے نکل گئے [۱۷۰] ﴿112﴾

    وہ سب برابر نہیں اہل کتاب میں ایک فرقہ ہے سیدھی راہ پر پڑھتے ہیں آیتیں اللہ کی راتوں کے وقت اور وہ سجدے کرتے ہیں ﴿113﴾

    ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور حکم کرتے ہیں اچھی بات کا اور منع کرتے ہیں برے کاموں سے اور دوڑتے ہیں نیک کاموں پر اور وہی لوگ نیک بخت ہیں [۱۷۱] ﴿114﴾

    اور جو کچھ کریں گے وہ لوگ نیک کام اس کی ہرگز ناقدری نہ ہو گی [۱۷۲] اور اللہ کو خبر ہے پرہیزگاروں کی [۱۷۳] ﴿115﴾

    وہ لوگ جو کافر ہیں ہرگز کام نہ آویں گے ان کو ان کےمال اور نہ اولاد اللہ کے آگے کچھ اور وہی لوگ رہنے والے ہیں آگ میں دوزخ کی وہ اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے ﴿116﴾

    جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس دنیا کی زندگی میں اس کی مثال جیسے ایک ہوا کہ اس میں ہو پالا جا لگی کھیتی کو اس قوم کی کہ انہوں نے اپنے حق میں برا کیا تھا پھر اس کو نابود کر گئ [۱۷۴] اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں [۱۷۵] ﴿117﴾

    اے ایمان والو نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کےسوا وہ کمی نہیں کرتےتمہاری خرابی میں انکی خوشی ہےتم جس قدر تکلیف میں رہو نکلی پڑتی ہےدشمنی انکی زبان سےاور جو کچھ مخفی ہے انکے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے ہم نےبتا دیےتم کو پتے اگر تم کو عقل ہے [۱۷۶] ﴿118﴾

    سن لو تم لوگ ان کے دوست ہو اور وہ تمہارےدوست نہیں اور تم سب کتابوں کو مانتے ہو [۱۷۷] اور جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں [۱۷۸] اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو کاٹ کاٹ کھاتے ہیں تم پر انگلیاں غصہ سے [۱۷۹] تو کہہ مرو تم اپنے غصہ میں [۱۸۰] اللہ کو خوب معلوم ہیں دلوں کی باتیں [۱۸۱] ﴿119﴾

    اگر تم کو ملے کچھ بھلائی تو بری لگی ہے ان کو اور اگر تم پر پہنچے کوئی برائی تو خوش ہو ں اس سے [۱۸۲] اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو تو کچھ نہ بگڑے گا تمہارا ان کے فریب سے بیشک جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے [۱۸۳] ﴿120﴾

    اور جب صبح کو نکلا تو اپنے گھر سے بٹھلانے لگا مسلمانوں کو لڑائی کے ٹھکانوں پر اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے ﴿121﴾

    جب قصد کیا دو فرقوں نے تم میں سے کہ نامردی کریں اور اللہ مددگار تھا ان کا اور اللہ ہی پر چاہیئے بھروسہ کریں مسلمان ﴿122﴾

    اور تمہاری مدد کر چکا ہے اللہ بدر کی لڑائی میں اور تم کمزور تھے سو ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم احسان مانو [۱۸۴] ﴿123﴾

    جب تو کہنے لگا مسلمانوں کو کیا تم کو کافی نہیں کہ تمہاری مدد کو بھیجے رب تمہارا تین ہزار فرشتے آسمان سے اترنے والے [۱۸۵] ﴿124﴾

    البتہ اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو اور وہ آئیں تم پر اسی دم تو مدد بھیجے تمہارا رب پانچ ہزار فرشتے نشان دار گھوڑوں پر [۱۸۶] ﴿125﴾

    اور یہ تو اللہ نے تمہارےدل کی خوشی کی اور تاکہ تسکین ہو تمہارے دلوں کو اس سے اور مدد ہے صرف اللہ ہی کی طرف سے جو کہ زبردست ہے حکمت والا [۱۸۷] ﴿126﴾

    تاکہ ہلاک کرے بعضے کافروں کو یا انکو ذلیل کرے تو پھر جاویں محروم ہو کر [۱۸۸] ﴿127﴾

    تیرا اختیار کچھ نہیں یا انکو توبہ دیوے خدائے تعالیٰ یا انکو عذاب کرے کہ وہ ناحق پر ہیں [۱۸۹] ﴿128﴾

    اور اللہ ہی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے بخش دے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۹۰] ﴿129﴾

    اے ایمان والو مت کھاؤ سود [۱۹۱] دونے پر دونا [۱۹۲] اور ڈرو اللہ سے تاکہ تمہارا بھلا ہو [۱۹۳] ﴿130﴾

    اور بچو اس آگ سے جو تیار ہوئی کافروں کے واسطے [۱۹۴] ﴿131﴾

    اور حکم مانو اللہ کا اور رسول کا تاکہ تم پر رحم ہو [۱۹۵] ﴿132﴾

    اور دوڑو بخشش کی طرف اپنے رب کی اور جنت کی طرف [۱۹۶] جس کا عرض ہے آسمان اور زمین [۱۹۷] تیار ہوئی ہے واسطے پرہیزگاروں کے ﴿133﴾

    جو خرچ کئے جاتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں [۱۹۸] اور دبا لیتےہیں غصہ اور معاف کرتے ہیں لوگوں کو اور اللہ چاہتا ہے نیکی کرنے والوں کو [۱۹۹] ﴿134﴾

    اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ کھلا گناہ یا برا کام کریں اپنے حق میں [۲۰۰] تو یاد کریں اللہ کو اور بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی اور کون ہے گناہ بخشنے والا سوا اللہ کے اور اڑتے نہیں اپنے کئے پر اور وہ جانتے ہیں ﴿135﴾

    انہی کی جزاء ہے بخشش ان کے رب کی اور باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ ان باغوں میں اور کیا خوب مزدوری ہے کام کرنے والوں کی [۲۰۱] ﴿136﴾

    ہو چکے ہیں تم سے پہلے واقعات سو پھرو زمین میں اور دیکھو کہ کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا [۲۰۲] ﴿137﴾

    یہ بیان ہے لوگوں کے واسطے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کو [۲۰۳] ﴿138﴾

    اور سست نہ رہو اور نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان رکھتے ہو [۲۰۴] ﴿139﴾

    اگر پہنچا تم کو زخم تو پہنچ چکا ہے ان کو بھی زخم ایسا ہی اور یہ دن باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو لوگوں میں [۲۰۵] اور اس لئے کہ معلوم کرے اللہ جن کو ایمان ہے [۲۰۶] اور کرے تم میں سےشہید اور اللہ کو محبت نہیں ظلم کرنے والوں سے [۲۰۷] ﴿140﴾

    اور اس واسطے کہ پاک صاف کرے اللہ ایمان والوں کو اور مٹا دیوے کافروں کو [۲۰۸] ﴿141﴾

    کیا تم کو خیال ہے کہ داخل ہو جاؤ گے جنت میں اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیا ثابت رہنے والوں کو [۲۰۹] ﴿142﴾

    اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو آنکھوں کے سامنے [۲۱۰] ﴿143﴾

    اور محمد تو ایک رسول ہے ہو چکے اس سے پہلے بہت رسول پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا تو تم پھر جاؤ گے الٹے پاؤں اور جو کوئی پھر جائے گا الٹے پاؤں تو ہر گز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ اور اللہ ثواب دے گا شکر گذاروں کو [۲۱۱] ﴿144﴾

    اور کوئی مر نہیں سکتا بغیر حکم اللہ کے لکھا ہوا ہے ایک وقت مقرر [۲۱۲] اور جو کوئی چاہے گا بدلہ دنیا کا دیویں گے ہم اس کو دنیا ہی سے [۲۱۳] اور جو کوئی چاہے گا بدلہ آخرت کا اس میں سےدیویں گے ہم اسکو [۲۱۴] اور ہم ثواب دیں گے احسان ماننے والوں کو [۲۱۵] ﴿145﴾

    اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے [۲۱۶] ﴿146﴾

    اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے رب ہمارےبخش ہمارے گناہ اور جو ہم سےزیادتی ہوئی ہمارےکام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر [۲۱۷] ﴿147﴾

    پھر دیا اللہ نے ان کو ثواب دنیا کا اور خوب ثواب آخرت کا اور اللہ محبت رکھتا ہے نیک کام کرنے والوں سے [۲۱۸] ﴿148﴾

    اے ایمان والو اگر تم کہا مانو گے کافروں کا تو وہ تم کو پھیر دیں گے الٹے پاؤں پھر جا پڑو گے تم نقصان میں [۲۱۹] ﴿149﴾

    بلکہ اللہ تمہارا مددگار ہے اور اس کی مدد سب سے بہتر ہے [۲۲۰] ﴿150﴾

    اب ڈالیں گے ہم کافروں کے دل میں ہیبت اس واسطے کہ انہوں نے شریک ٹھہرایا اللہ کا جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے ظالموں کا [۲۲۱] ﴿151﴾

    اور اللہ تو سچا کر چکا تم سے اپنا وعدہ جب تم قتل کرنے لگے انکو اسکے حکم سے [۲۲۲] یہاں تک کہ جب تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی [۲۲۳] بعد اس کے کہ تم کو دکھا چکا تمہاری خوشی کی چیز کوئی تم میں سے چاہتا تھا دنیا اور کوئی تم میں چاہتا تھا آخرت [۲۲۴] پھر تم کو الٹ دیا ان پر سے تاکہ تم کو آزماوے [۲۲۵] اور وہ تو تم کو معاف کر چکا [۲۲۶] اور اللہ کا فضل ہے ایمان والوں پر [۲۲۷] ﴿152﴾

    جب تم چڑھے چلے جاتے تھے اور پیچھے پھر کر نہ دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکارتا تھا تم کو تمہارے پیچھے سے [۲۲۸] پھرپہنچا تم کو غم عوض میں غم کے تاکہ تم غم نہ کیا کرو اس پر جو ہاتھ سے نکل جاوے اور نہ اس پر کہ جو کچھ پیش آ جاوے [۲۲۹] اور اللہ کو خبر ہے تمہارے کام کی [۲۳۰] ﴿153﴾

    پھر تم پر اتارا تنگی کے بعد امن کو جو اونگھ تھی کہ ڈھانک لیا اس اونگھ نے بعضوں کو تم میں سے [۲۳۱] اور بعضوں کو فکر پڑ رہا تھا اپنی جان کا [۲۳۲] خیال کرتےتھے اللہ پر جھوٹے خیال جاہلوں جیسے [۲۳۳] کہتے تھے کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں [۲۳۴] تو کہہ سب کام ہے اللہ کے ہاتھ [۲۳۵] وہ اپنے جی میں چھپاتے ہیں جو تجھ سے ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں اگر کچھ کام ہوتا ہمارے ہاتھ تو ہم مارےنہ جاتے اس جگہ [۲۳۶] تو کہہ اگر تم ہوتے اپنے گھروں میں البتہ باہر نکلتےجن پر لکھ دیا تھا مارا جانا اپنے پڑاؤ پر [۲۳۷] اور اللہ کو آزمانا تھا جو کچھ تمہارےجی میں ہے اور صاف کرنا تھا اس کا جو تمہارے دل میں ہے اور اللہ جانتا ہے دلوں کے بھید [۲۳۸] ﴿154﴾

    جو لوگ تم میں سے ہٹ گئے جس دن لڑیں دو فوجیں سو انکو بہکا دیا شیطان نے ان کے گناہ کی شامت سے اور ان کو بخش چکا اللہ اللہ بخشنے والا ہے تحمل کرنے والا[۲۳۹] ﴿155﴾

    اے ایمان والو تم نہ ہو ان کی طرح جو کافر ہوئے [۲۴۰] اور کہتےہیں اپنے بھائیوں کو [۲۴۱] جب وہ سفر کو نکلیں ملک میں یا ہوں جہاد میں اگر رہتے ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے تاکہ اللہ ڈالے اس گمان سے افسوس ان کے دلوں میں [۲۴۲] اور اللہ ہی جلاتا ہے اور مارتا ہے [۲۴۳] اور اللہ تمہارے سب کام دیکھتا ہے [۲۴۴] ﴿156﴾

    اور اگر تم مارے گئے اللہ کی راہ میں یا مر گئے [۲۴۵] تو بخشش اللہ کی اور مہربانی اسکی بہتر ہے اس چیز سے جو وہ جمع کرتے ہیں ﴿157﴾

    اور اگر تم مر گئے یا مارے گئے تو البتہ اللہ ہی کے آگے اکٹھے ہو گے تم سب [۲۴۶] ﴿158﴾

    سو کچھ اللہ ہی کی رحمت ہے جو تو نرم دل مل گیا ان کو اور اگر تو ہوتا تندخو سخت دل تو متفرق ہو جاتے تیرے پاس سے سو تو ان کو معاف کر اور ان کے واسطے بخشش مانگ اور ان سے مشورہ لے کام میں پھر جب قصد کر چکا تو اس کام کا تو پھر بھروسہ کر اللہ پر اللہ کو محبت ہے توکل والوں سے [۲۴۷] ﴿159﴾

    اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہ ہو سکے گا اور اگر مدد نہ کرے تمہاری تو پھر ایسا کون ہے جو مدد کر سکے تمہاری اس کے بعد اور اللہ ہی پر بھروسا چاہئے مسلمانوں کو [۲۴۸] ﴿160﴾

    اور نبی کا کام نہیں کہ کچھ چھپا رکھے اور جو کوئی چھپاوے گا وہ لائے گا اپنی چھپائی چیز دن قیامت کے پھر پورا پاوے گا ہر کوئی جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۲۴۹] ﴿161﴾

    کیا ایک شخص جو تابع ہے اللہ کی مرضی کا برابر ہو سکتا ہے اسکے جس نے کمایا غصہ اللہ کا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پہنچا [۲۵۰] ﴿162﴾

    لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ کرتے ہیں [۲۵۱] ﴿163﴾

    اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسول انہی میں کا [۲۵۲] پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی اور پاک کرتا ہے انکو یعنی شرک وغیرہ سے اور سکھلاتا ہے انکو کتاب اور کام کی بات اور وہ تو پہلے سے صریح گمراہی میں تھے [۲۵۳] ﴿164﴾

    کیا جس وقت پہنچی تم کو ایک تکلیف کہ تم پہنچا چکے ہو اس سے دوچند تو کہتے ہو یہ کہاں سے آئی [۲۵۴] تو کہہ دے یہ تکلیف تم کو پہنچی تمہاری ہی طرف سے [۲۵۵] بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿165﴾

    اور جو کچھ تم کو پیش آیا اس دن کہ ملیں دو فوجیں سو اللہ کے حکم سے اور اس واسطے کہ معلوم کرے ایمان والوں کو ﴿166﴾

    اور تاکہ معلوم کرے ان کو جو منافق تھے [۲۵۶] اور کہا گیا ان کو کہ آؤ لڑو اللہ کی راہ میں یا دفع کرو دشمن کو [۲۵۷] بولے اگر ہم کو معلوم ہو لڑائی تو البتہ تمہارےساتھ رہیں [۲۵۸] وہ لوگ اس دن کفر کے قریب ہیں بہ نسبت ایمان کے [۲۵۹] کہتےہیں اپنے منہ سے جو نہیں ان کے دل میں اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں [۲۶۰] ﴿167﴾

    وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو اور آپ بیٹھ رہے ہیں اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے [۲۶۱] تو کہہ دے اب ہٹا دیجو اپنے اوپر سے موت کو اگر تم سچے ہو [۲۶۲] ﴿168﴾

    اور تو نہ سمجھ ان لوگوں کو جو مارے گئے اللہ کی راہ میں مردے بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے ﴿169﴾

    خوشی کرتے ہیں اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوش وقت ہوتے ہیں انکی طرف سے جو ابھی تک نہیں پہنچے ان کے پاس ان کے پیچھے سے اس واسطے کہ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ انکو غم ﴿170﴾

    خوش وقت ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ ضائع نہیں کرتا مزدوری ایمان والوں کی [۲۶۳] ﴿171﴾

    جن لوگوں نے حکم مانا اللہ کا اور رسول کا بعد اس کے کہ پہنچ چکے تھے ان کو زخم جو ان میں نیک ہیں اور پرہیزگار ان کو ثواب بڑا ہے ﴿172﴾

    جن کو کہا لوگوں نے کہ مکہ والے آدمیوں نے جمع کیا ہے سامان تمہارے مقابلہ کو سو تم ان سے ڈرو تو اور زیادہ ہوا ان کا ایمان اور بولے کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے [۲۶۴] ﴿173﴾

    پھر چلے آئے مسلمان اللہ کے احسان اور فضل کے ساتھ کچھ نہ پہنچی ان کو برائی اور تابع ہوئے اللہ کی مرضی کے اور اللہ کا فضل بڑا ہے [۲۶۵] ﴿174﴾

    یہ جو ہے سو شیطان ہے کہ ڈراتا ہے اپنے دوستوں سے سو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو [۲۶۶] ﴿175﴾

    اور غم میں نہ ڈالیں تجھ کو وہ لوگ جو دوڑتے ہیں کفر کی طرف وہ نہ بگاڑیں گے اللہ کا کچھ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو فائدہ نہ دے آخرت میں اور ان کے لئے عذاب ہے بڑا [۲۶۷] ﴿176﴾

    جنہوں نے مول لیا کفر کو ایمان کے بدلے وہ نہ بگاڑیں گے اللہ کا کچھ اور انکے لئے عذاب ہے دردناک [۲۶۸] ﴿177﴾

    اور یہ نہ سمجھیں کافر کہ ہم جو مہلت دیتے ہیں ان کو کچھ بھلا ہے ان کے حق میں ہم تو مہلت دیتے ہیں ان کو تاکہ ترقی کریں وہ گناہ میں اور ان کے لئے عذاب ہے خوار کرنے والا [۲۶۹] ﴿178﴾

    اللہ وہ نہیں کہ چھوڑ دےمسلمانوں کو اس حالت پر جس پر تم ہو جب تک کہ جدا نہ کر دے ناپاک کو پاک سے اور اللہ نہیں ہے کہ تم کو خبر دے غیب کی لیکن اللہ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جس کو چاہے [۲۷۰] سو تم یقین لاؤ اللہ پر اور اسکے رسولوں پر اور اگر تم یقین پر رہو اور پرہیزگاری پر تو تم کو بڑا ثواب ہے [۲۷۱] ﴿179﴾

    اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو اللہ نے انکو دی ہے اپنے فضل سے کہ یہ بخل بہتر ہے انکے حق میں بلکہ یہ بہت برا ہے انکے حق میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا انکے گلوں میں وہ مال جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن [۲۷۲] اور اللہ وارث ہے آسمان اور زمین کا [۲۷۳] اور اللہ جو کرتے ہو سو جانتا ہے [۲۷۴] ﴿180﴾

    بیشک اللہ نے سنی ان کی بات جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار [۲۷۵] اب لکھ رکھیں گے ہم انکی بات اور جو خون کئے ہیں انہوں نے انبیاء کے ناحق اور کہیں گے چکھو عذاب جلتی آگ کا [۲۷۶] ﴿181﴾

    یہ بدلہ اس کا ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجا اور اللہ ظلم نہیں کرتا بندوں پر [۲۷۷] ﴿182﴾

    وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو کہہ رکھا ہے کہ یقین نہ کریں کسی رسول کا جب تک نہ لاوے ہمارے پاس قربانی کہ کھا جائے اس کو آگ [۲۷۸] تو کہہ تم میں آ چکے کتنے رسول مجھ سے پہلے نشانیاں لے کر اور یہ بھی جو تم نے کہا پھر ان کو کیوں قتل کیا تم نے اگر تم سچے ہو [۲۷۹] ﴿183﴾

    پھر اگر یہ تجھ کو جھٹلاویں تو پہلے تجھ سے جھٹلائے گئے بہت رسول جو لائے نشانیاں اور صحیفے اور کتاب روشن [۲۸۰] ﴿184﴾

    ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن [۲۸۱] پھر جو کوئی دور کیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا اور نہیں زندگانی دنیا کی مگر پونجی دھوکے کی [۲۸۲] ﴿185﴾

    البتہ تمہاری آزمائش ہو گی مالوں میں اور جانوں میں اور البتہ سنو گے تم اگلی کتاب والوں سے اور مشرکوں سے بدگوئی بہت اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو یہ ہمت کے کام ہیں [۲۸۳] ﴿186﴾

    اور جب اللہ نے عہد لیا کتاب والوں سے کہ اس کو بیان کرو گے لوگوں سے اور نہ چھپاؤ گے پھر پھینک دیا انہوں نے وہ عہد اپنی پیٹھ کے پیچھے اور خرید کیا اس کے بدلے تھوڑا سا مول سو کیا برا ہے جو خریدتے ہیں [۲۸۴] ﴿187﴾

    تو نہ سمجھ کہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پر اور تعریف چاہتے ہیں بن کئے پر سو مت سمجھ ان کو کہ چھوٹ گئے عذاب سے اور ان کے لئےعذاب ہے دردناک [۲۸۵] ﴿188﴾

    اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۲۸۶] ﴿189﴾

    بیشک آسمان اور زمین کا بنانا اور رات اور دن کا آنا جانا اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو [۲۸۷] ﴿190﴾

    وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے [۲۸۸] اور فکر کرتے ہیں آسمان اور زمین کی پیدائش میں کہتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ عبث نہیں بنایا تو پاک ہے سب عیبوں سے ہم کو بچا دوزخ کے عذاب سے [۲۸۹] ﴿191﴾

    اے رب ہمارے جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا سو اس کو رسوا کر دیا [۲۹۰] اور نہیں کوئی گنہگاروں کا مددگار [۲۹۱] ﴿192﴾

    اے رب ہمارے ہم نے سنا کہ ایک پکارنے والا پکارتا ہے ایمان لانے کو کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر [۲۹۲] سو ہم ایمان لے آئے [۲۹۳] اے رب ہمارے اب بخش دے گناہ ہمارے اور دور کر دے ہم سے برائیاں ہماری اور موت دے ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ [۲۹۴] ﴿193﴾

    اے رب ہمارے اور دے ہم کو جو وعدہ کیا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے واسطہ سے اور رسوا نہ کر ہم کو قیامت کے دن [۲۹۵] بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا [۲۹۶] ﴿194﴾

    پھر قبول کی ان کی دعا انکے رب نے کہ میں ضائع نہیں کرتا محنت کسی محنت کرنے والے کی تم میں سے مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو [۲۹۷] پھر وہ لوگ کہ ہجرت کی انہوں نے اور نکالے گئے اپنے گھروں سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور لڑے اور مارے گئے البتہ دور کروں گا میں ان سے برائیاں ان کی اور داخل کروں گا ان کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں [۲۹۸] یہ بدلہ ہے اللہ کےہاں سے اور اللہ کے ہاں ہے اچھا بدلہ [۲۹۹] ﴿195﴾

    تجھ کو دھوکا نہ دے چلنا پھرنا کافروں کا شہروں میں ﴿196﴾

    یہ فائدہ ہے تھوڑا سا پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے [۳۰۰] ﴿197﴾

    لیکن جو لوگ ڈرتے رہے اپنے رب سے انکے لئے باغ ہیں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں [۳۰۱] مہمانی ہے اللہ کے ہاں سے [۳۰۲] اور جو اللہ کے ہاں ہے سو بہتر ہے نیک بختوں کے واسطے ﴿198﴾

    اور کتاب والوں میں بعضے وہ بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور جو اترا تمہاری طرف اور جو اترا انکی طرف عاجزی کرتےہیں اللہ کے آگے نہیں خریدتے اللہ کی آیتوں پر مول تھوڑا یہی ہیں جن کے لئے مزدوری ہے ان کے رب کے ہاں [۳۰۳] بیشک اللہ جلد لیتا ہے حساب [۳۰۴] ﴿199﴾

    اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو [۳۰۵] ﴿200﴾

    Surah 4
    النساء

    اے لوگو ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے بہت مرد اور عورتیں [۱] اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے واسطے سے سوال کرتے ہو آپس میں اور خبردار رہو قرابت والوں سے [۲] بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے [۳] ﴿1﴾

    اور دے ڈالو یتیموں کو ان کا مال اور بدل نہ لو برے مال کو اچھے مال سے اور نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ یہ ہے بڑا وبال [۴] ﴿2﴾

    اور اگر ڈرو کہ انصاف نہ کر سکو گے یتیم لڑکیوں کے حق میں تو نکاح کر لو جو اور عورتیں تم کو خوش آویں دو دو تین تین چار چار [۵] پھر اگر ڈرو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا لونڈی جو اپنا مال ہے [۶] اس میں امید ہے کہ ایک طرف نہ جھک پڑو گے[۷] ﴿3﴾

    اور دے ڈالو عورتوں کو مہر ان کے خوشی سے [۸] پھر اگر وہ اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تم کو اپنی خوشی سے تو اس کو کھاؤ رچتا پچتا [۹] ﴿4﴾

    اور مت پکڑا دو بے عقلوں کو اپنے وہ مال جن کو بنایا ہے اللہ نے تمہارےگذران کا سبب اور ان کو اس میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور کہو ان سے بات معقول [۱۰] ﴿5﴾

    اور سدھاتے رہو یتیموں کو جب تک پہنچیں نکاح کی عمر کو پھر اگر دیکھو ان میں ہوشیاری تو حوالہ کر دو ان کے مال ان کو [۱۱] اور کھا نہ جاؤ یتیموں کا مال ضرورت سے زیادہ اور حاجت سے پہلے کہ یہ بڑے نہ ہو جائیں [۱۲] اور جس کو حاجت نہ ہو تو مال یتیم سے بچتا رہے اور جو کوڑی محتاج ہو تو کھاوے موافق دستور کے [۱۳] پھر جب ان کو حوالہ کرو ان کے مال تو گواہ کر لو اس پر اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو [۱۴] ﴿6﴾

    مردوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو چھوڑ مریں ماں باپ او رقرابت والے اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں جو چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے تھوڑا ہو یا بہت ہو حصہ مقرر کیا ہوا ہے [۱۵] ﴿7﴾

    اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھلا دو اس میں سے اور کہہ دو ان کو بات معقول [۱۶] ﴿8﴾

    اور چاہئے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر چھوڑی ہے اپنے پیچھے اولاد ضعیف تو ان پر اندیشہ کریں یعنی ہمارے پیچھے ایسا ہی حال انکا ہو گا تو چاہئے کہ ڈریں اللہ سے اور کہیں بات سیدھی [۱۷] ﴿9﴾

    جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب داخل ہوں گے آگ میں [۱۸] ﴿10﴾

    حکم کرتا ہے تم کو اللہ تمہاری اولاد کے حق میں کہ ایک مرد کا حصہ ہے برابر ہے دو عورتوں کے [۱۹] پھر اگر صرف عورتیں ہی ہوں دو سے زیادہ تو ان کے لئے ہے دو تہائی اس مال سےجو چھوڑ مرا اور اگر ایک ہی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے [۲۰] اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کے لئے دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے اس مال سے جو کہ چھوڑ مرا اگر میت کے اولاد ہے [۲۱] اور اگر اس کے اولاد نہیں اور وارث ہیں اسکے ماں باپ تو اس کی ماں کا ہے تہائی [۲۲] پھر اگر میت کے کئ بھائی ہیں تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ [۲۳] بعد وصیت کے جو کر مرا یا بعد ادائے قرض کے [۲۴] تمہارے باپ اور بیٹے تم کو معلوم نہیں کون نفع پہنچائے تم کو زیادہ حصہ مقرر کیا ہوا اللہ کا ہے بیشک اللہ خبردار ہے حکمت والا [۲۵] ﴿11﴾

    اور تمہارا ہے آدھا مال جو کہ چھوڑ مریں تمہاری عورتیں اگر نہ ہو ان کے اولاد اور اگر ان کےاولاد ہے تو تمہارے واسطے چوتھائی ہے اس میں سے جو چھوڑ گئیں بعد وصیت کے جو کر گئیں یا بعد قرض کے [۲۶] اور عورتوں کے لئے چوتھائی مال ہے اس میں سے جو چھوڑ مرو تم اگر نہ ہو تمہارے اولاد اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس میں سے کہ جو کچھ تم نے چھوڑا بعد وصیت کے جو تم کر مرو یا قرض کے [۲۷] اور اگر وہ مرد کہ جس کی میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا یا عورت ہو ایسی ہی اور اس میت کے ایک بھائی ہے یا بہن ہے تودونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے [۲۸] اور اگر زیادہ ہوں اس سے تو سب شریک ہیں ایک تہائی میں بعد وصیت کے جو ہو چکی ہے یا قرض کے جب اوروں کا نقصان نہ کیا ہو [۲۹] یہ حکم ہے اللہ کا اور اللہ ہی سب کچھ جاننے والا تحمل کرنے والا [۳۰] ﴿12﴾

    یہ حدیں باندھی ہوئی اللہ کی ہیں اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور سول کے اس کو داخل کرے گا جنتوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہ ہے بڑی مراد ملنی ﴿13﴾

    اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ کی اور اسکے رسول کی اور نکل جاوے اس کی حدوں سے ڈالے گا اس کو آگ میں ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس کے لئے ذلت کا عذاب ہے [۳۱] ﴿14﴾

    اور جو کوئی بدکاری کرے تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ لاؤ ان پر چار مرد اپنوں میں سے پھر اگر وہ گواہی دے دیویں تو بند رکھو ان عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ اٹھا لیوے ان کو موت یا مقرر کر دے اللہ ان کے لئے کوئی راہ [۳۲] ﴿15﴾

    اور جو دو مرد کریں تم میں سے وہی بدکاری تو ان کو ایذا دو [۳۳] پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان کا خیال چھوڑ دو بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے [۳۴] ﴿16﴾

    توبہ قبول کرنی اللہ کو ضرور تو انکی ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے پھر توبہ کرتے ہیں جلدی سے تو ان کو اللہ معاف کر دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے حکمت والا [۳۵] ﴿17﴾

    اور ایسوں کی توبہ نہیں جو کئے جاتے ہیں برے کام یہاں تک کہ جب سامنے آ جائے ان میں سے کسی کے موت تو کہنے لگا میں توبہ کرتا ہوں اب اور نہ ایسوں کی توبہ جو کہ مرتے ہیں حالت کفر میں ان کے لئے تو ہم نے تیار کیا ہے عذاب دردناک [۳۶] ﴿18﴾

    اے ایمان والو حلال نہیں تم کو کہ میراث میں لے لو عورتوں کو زبردستی اور نہ روکے رکھو ان کو اس واسطے کہ لے لو ان سے کچھ اپنا دیا ہوا مگر کہ وہ کریں بے حیائی صریح [۳۷] اور گذران کرو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح پھر اگر وہ تم کو نہ بھاویں تو شاید تم کو پسند نہ آوے ایک چیز اور اللہ نے رکھی ہو اس میں بہت خوبی [۳۸] ﴿19﴾

    اور اگر بدلنا چاہو ایک عورت کی جگہ دوسری عورت کو اور دے چکے ہو ایک کو بہت سا مال تو مت پھیر لو اس میں سے کچھ کیا لیا چاہتے ہو اس کو ناحق اور صریح گناہ سے [۳۹] ﴿20﴾

    اور کیونکہ اس کو لے سکتے ہو اور پہنچ چکا ہے تم میں کا ایک دوسرے تک اور لے چکیں وہ عورتیں تم سے عہد پختہ [۴۰] ﴿21﴾

    اور نکاح میں نہ لاؤ جن عورتوں کو نکاح میں لائے تمہارے باپ مگر جو پہلے ہو چکا یہ بے حیائی ہے اور کام ہے غضب کا اور برا چلن ہے [۴۱] ﴿22﴾

    حرام ہوئی ہیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بیٹیاں بھائی کی اور بہن کی [۴۲] اور جن ماؤں نے تم کو دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں [۴۳] اور تمہاری عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں جن کو کہ جنا ہے تمہاری ان عورتوں نے جن سے تم نے صحبت کی اور اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس نکاح میں اور عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو تمہاری پشت سے ہیں اور یہ کہ اکٹھا کرو دو بہنوں کو مگر جو پہلے ہو چکا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۴۴] ﴿23﴾

    اور خاوند والی عورتیں مگر جن کےمالک ہو جائیں تمہارے ہاتھ حکم ہوا اللہ کا تم پر [۴۵] اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کےسوا بشرطیکہ طلب کرو انکو اپنے مال کے بدلے قید میں لانے کو نہ مستی نکالنے کو [۴۶] پھر جس کو کام میں لائے تم ان عورتوں میں سے تو ان کو دو ان کے حق جو مقرر ہوئے [۴۷] اور گناہ نہیں تم کو اس بات میں کہ ٹھہرا لو تم دونوں آپس کی رضا سے مقرر کیے پیچھے بیشک اللہ ہے خبردار حکمت والا [۴۸] ﴿24﴾

    اور جو کوئی نہ رکھے تم میں مقدور اس کا کہ نکاح میں لائے بیبیاں مسلمان تو نکاح کر لے ان سے جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں جو کہ تمہارے آپس کی لونڈیاں ہیں مسلمان [۴۹] اور اللہ کو خوب معلوم ہے تمہاری مسلمانی تم آپس میں ایک ہو [۵۰] سو ان سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور دو ان کے مہر موافق دستور کے قید میں آنے والیاں ہوں نہ مستی نکالنے والیاں اور نہ چھپی یاری کرنے والیاں [۵۱] پھر جب قید نکاح میں آ چکیں تو اگر کریں بے حیائی کا کام تو ان پر آدھی سزا ہے بیبیوں کی سزا سے [۵۲] یہ اس کے واسطے ہے جو کوئی تم میں ڈرے تکلیف میں پڑنے سے اور صبر کرو تو بہتر ہے تمہارے حق میں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۵۳] ﴿25﴾

    اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے واسطے اور چلائے تم کو پہلوں کی راہ اور معاف کرے تم کو اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا [۵۴] ﴿26﴾

    اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر متوجہ ہووے اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو لگے ہوئے ہیں اپنے مزوں کے پیچھے کہ تم پھر جاؤ راہ سے بہت دور [۵۵] ﴿27﴾

    اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان بنا ہے کمزور [۵۶] ﴿28﴾

    اے ایمان والو نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کے آپس میں ناحق مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے [۵۷] اور نہ خون کرو آپس میں بیشک اللہ تم پر مہربان ہے [۵۸] ﴿29﴾

    اور جو کوئی یہ کام کرے تعدی سے اور ظلم سے تو ہم اس کو ڈالیں گے آگ میں اور یہ اللہ پر آسان ہے [۵۹] ﴿30﴾

    اگر تم بچتے رہو گے ان چیزوں سے جو گناہوں میں بڑی ہیں تو ہم معاف کر دیں گے تم سے چھوٹے گناہ تمہارے اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام میں [۶۰] ﴿31﴾

    اور ہوس مت کرو جس چیز میں بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر [۶۱] مردوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور عورتوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور مانگو اللہ سے اس کا فضل بیشک اللہ کو ہر چیز معلوم ہے [۶۲] ﴿32﴾

    اور ہر کسی کے لئے ہم نے مقرر کر دیے ہیں وارث اس مال کے کہ چھوڑ مریں ماں باپ اور قرابت والے اور جن سے معاہدہ ہوا تمہارا ان کو دے دو ان کا حصہ بیشک اللہ کے روبرو ہے ہر چیز [۶۳] ﴿33﴾

    مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر اور اس واسطے کہ خرچ کیے انہوں نے اپنے مال [۶۴] پھر جو عورتیں نیک ہیں سو تابعدار ہیں نگہبانی کرتی ہیں پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے [۶۵] اور جن کی بدخوئی کا ڈر ہو تم کو تو ان کو سمجھاؤ اور جدا کرو سونے میں اور مارو [۶۶] پھر اگر کہا مانیں تمہارا تو مت تلاش کرو ان پر راہ الزام کی بیشک اللہ ہے سب سے اوپر بڑا [۶۷] ﴿34﴾

    اور اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو کھڑ اکرو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک منصف عورت والوں میں سے [۶۸] اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرا دیں تو اللہ موافقت کر دے گا ان دونوں میں بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے [۶۹] ﴿35﴾

    اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو [۷۰] اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والےاور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والا [۷۱] ﴿36﴾

    جو کہ بخل کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں لوگوں کو بخل اور چھپاتے ہیں جو ان کو دیا اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے لئے عذاب ذلت کا [۷۲] ﴿37﴾

    اور وہ لوگ جو کہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ قیامت کے دن پر اور جس کا ساتھی ہوا شیطان تو وہ بہت برا ساتھی ہے [۷۳] ﴿38﴾

    اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور خرچ کرتے اللہ کے دیے ہوئے میں سے اور اللہ کو ان کی خوب خبر ہے [۷۴] ﴿39﴾

    بیشک اللہ حق نہیں رکھتا کسی کا ایک ذرہ برابر اور اگر نیکی ہو تو اس کو دونا کر دیتا ہے اور دیتا ہے اپنے پاس سے بڑا ثواب [۷۵] ﴿40﴾

    پھر کیا حال ہو گا جب بلاویں گے ہم ہر امت میں سے احوال کہنے والا اور بلاویں گے تجھ کو ان لوگوں پر احوال بتانے والا [۷۶] ﴿41﴾

    اس دن آرزو کریں گے وہ لوگ جو کافر ہوئے تھے اور رسول کی نافرمانی کی تھی کہ برابر ہو جاویں زمین کے اور نہ چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات [۷۷] ﴿42﴾

    اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے یہاں تک کہ غسل کر لو [۷۸] اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں یا آیا ہے کوئی شخص جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ ملا تم کو پانی تو ارادہ کرو زمین پاک کا پھر ملو اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو [۷۹] بیشک اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والا [۸۰] ﴿43﴾

    کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب سے خرید کرتے ہیں گمراہی اور چاہتے ہیں کہ تم بھی بہک جاؤ اپنی راہ سے ﴿44﴾

    اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے حمایتی اور اللہ کافی ہے مددگار [۸۱] ﴿45﴾

    بعضے لوگ یہودی پھیرتے ہیں بات کو اس کے ٹھکانے سے [۸۲] اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نہ مانا [۸۳] اور کہتے ہیں کہ سن نہ سنایا جائیو [۸۴] اور کہتے ہیں راعنا [۸۵] موڑ کر اپنی زبان کو اور عیب لگانے کو دین میں [۸۶] اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور مانا اور سن اور ہم پر نظر کر تو بہتر ہوتا ان کے حق میں اور درست لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم [۸۷] ﴿46﴾

    اے کتاب والو ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا تصدیق کرتا ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے پہلے اس سے کہ ہم مٹا ڈالیں بہت سے چہروں کو پھر الٹ دیں انکو پیٹھ کی طرف یا لعنت کریں ان پر جیسے ہم نےلعنت کی ہفتہ کے دن والوں پر اور اللہ کا حکم تو ہو کر ہی رہتا ہے [۸۸] ﴿47﴾

    بیشک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا اس نے بڑا طوفان باندھا [۸۹] ﴿48﴾

    کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں بلکہ اللہ ہی پاکیزہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ان پر ظلم نہ ہو گا تاگے برابر [۹۰] ﴿49﴾

    دیکھ کیسا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور کافی ہے یہی گناہ صریح [۹۱] ﴿50﴾

    کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا جو مانتے ہیں بتوں کو اور شیطان کو اور کہتے ہیں کافروں کو کہ یہ لوگ زیادہ راہ راست پر ہیں مسلمانوں سے [۹۲] ﴿51﴾

    یہ وہی ہیں جن پر لعنت کی ہے اللہ نے اور جس پر لعنت کرے اللہ نہ پاوے گا تو اس کا کوئی مددگار [۹۳] ﴿52﴾

    کیا ان کا کچھ حصہ ہےسلطنت میں پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابر [۹۴] ﴿53﴾

    یا حسد کرتے ہیں لوگوں کا اس پر جو دیا ہے انکو اللہ نے اپنے فضل سےسو ہم نے تو دی ہے ابراہیم کے خاندان میں کتاب اور علم اور انکو دی ہے ہم نے بڑی سلطنت [۹۵] ﴿54﴾

    پھر ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے ہٹا رہا اور کافی ہے دوزخ کی بھڑکتی آگ [۹۶] ﴿55﴾

    بیشک جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے ان کو ہم ڈالیں گے آگ میں [۹۷] جس وقت جل جائے گی کھال ان کی تو ہم بدل دیویں گے ان کو اور کھال تاکہ چکھتے رہیں عذاب [۹۸] بیشک اللہ ہے زبردست حکمت والا [۹۹] ﴿56﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے نیک البتہ انکو ہم داخل کریں گے باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں ان میں ہمیشہ ان کے لئے وہاں عورتیں ہیں ستھری اور انکو ہم داخل کریں گے گھنی چھاؤں میں [۱۰۰] ﴿57﴾

    بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے [۱۰۱] اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو بیشک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا [۱۰۲] ﴿58﴾

    اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں [۱۰۳] پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر [۱۰۴] یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام [۱۰۵] ﴿59﴾

    کیا تو نے نہ دیکھا ان کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اترا تیری طرف اور جو اترا تجھ سے پہلے چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف اور حکم ہو چکا ہے انکو کہ اس کو نہ مانیں اور چاہتا ہےشیطان کہ ان کو بہلا کر دور جا ڈالے [۱۰۶] ﴿60﴾

    اور جب ان کو کہے کہ آؤ اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے اتارا اور رسول کی طرف تو دیکھے تو منافقوں کو کہ ہٹتے ہیں تجھ سے رک کر [۱۰۷] ﴿61﴾

    پھر کیا ہو کہ جب ان کو پہنچے مصیبت اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے سے پھر آویں تیرے پاس قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی کہ ہم کو غرض نہ تھی مگر بھلائی اور ملاپ [۱۰۸] ﴿62﴾

    یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو ان کے دل میں ہے سو تو ان سے تغافل کر اور ان کو نصیحت کر اور ان سےکہہ ان کے حق میں بات کام کی [۱۰۹] ﴿63﴾

    اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے اور اگر وہ لوگ جس وقت انہوں نے اپنا برا کیا تھا آتے تیرے پاس پھر اللہ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کو بخشواتا تو البتہ اللہ کو پاتے معاف کرنے والا مہربان [۱۱۰] ﴿64﴾

    سو قسم ہے تیرے رب کی وہ مومن نہ ہوں گے یہاں تک کہ تجھ کو ہی منصف جانیں اس جھگڑے میں جو ان میں اٹھے پھر نہ پاویں اپنے جی میں تنگی تیرے فیصلہ سے اور قبول کریں خوشی سے [۱۱۱] ﴿65﴾

    اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ ہلاک کرو اپنی جان یا چھوڑ نکلو اپنے گھر تو ایسا نہ کرتے مگر تھوڑے ان میں سے اور اگر یہ لوگ کریں وہ جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو البتہ انکے حق میں بہتر ہو اور زیادہ ثبات رکھنے والا ہو دین میں ﴿66﴾

    اور اس وقت البتہ دیں ہم انکو اپنے پاس سے بڑا ثواب ﴿67﴾

    اور چلاویں ان کو سیدھی راہ [۱۱۲] ﴿68﴾

    اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اس کے رسول کا سو وہ ان کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا کہ وہ نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بخت ہیں اور اچھی ہے ان کی رفاقت [۱۱۳] ﴿69﴾

    یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کافی ہے جاننے والا [۱۱۴] ﴿70﴾

    اے ایمان والو لے لو اپنے ہتھیار پھر نکلو جدی جدی فوج ہو کر یا سب اکھٹے [۱۱۵] ﴿71﴾

    اور تم میں بعضا ایسا ہے کہ البتہ دیر لگا دے گا [۱۱۶] پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچے تو کہے اللہ نے مجھ پر فضل کیا کہ میں نہ ہوا ان کے ساتھ [۱۱۷] ﴿72﴾

    اور اگر تم کو پہنچا فضل اللہ کی طرف سے تو اس طرح کہنے لگے گا کہ گویا نہ تھی تم میں اور اس میں کچھ دوستی اے کاش کہ میں ہوتا انکے ساتھ تو پاتا بڑی مراد [۱۱۸] ﴿73﴾

    سو چاہئے لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو بیچتے ہیں دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے اور جو کوئی لڑے اللہ کی راہ میں پھر مارا جاوے یا غالب ہووے تو ہم دیں گے اس کو بڑا ثواب [۱۱۹] ﴿74﴾

    اور تم کو کیا ہوا کہ نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں اور ان کے واسطے جو مغلوب ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جو کہتے ہیں اے رب ہمارے نکال ہم کو اس بستی سے کہ ظالم ہیں یہاں کےلوگ اور کر دے ہمارے واسطے اپنے پاس سےکوئی حمایتی اور کر دے ہمارے واسطے اپنے پاس سے مددگار [۱۲۰] ﴿75﴾

    جو لوگ ایمان والے ہیں سو لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں سو لڑتے ہیں شیطان کی راہ میں سو لڑو تم شیطان کے حمایتیوں سے بیشک فریب شیطان کا سست ہے [۱۲۱] ﴿76﴾

    کیا تو نے نہ دیکھا ان لوگوں کو جن کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ہاتھ تھامے رکھو اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ [۱۲۲] پھر جب حکم ہوا ان پر لڑائی کا اسی وقت ان میں ایک جماعت ڈرنےلگی لوگوں سے جیسا ڈر ہو اللہ کا یا اس سے بھی زیادہ ڈر اور کہنے لگے اے رب ہمارے کیوں فرض کی ہم پر لڑائی کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک [۱۲۳] کہہ دےکہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے برابر [۱۲۴] ﴿77﴾

    جہاں کہیں تم ہو گے موت تم کو آ پکڑے گی اگرچہ تم ہو مضبوط قلعوں میں [۱۲۵] اور اگر پہنچے لوگوں کو کچھ بھلائی تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو پہنچے کچھ برائی تو کہیں یہ تیری طرف سے ہے [۱۲۶] کہدے کہ سب اللہ کی طرف سے ہے سو کیا حال ہے ان لوگوں کا ہرگز نہیں لگتے کہ سمجھیں کوئی بات [۱۲۷] ﴿78﴾

    جو پہنچے تجھ کو کوئی بھلائی سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو تجھ کو برائی پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے [۱۲۸] اور ہم نے تجھ کو بھیجا پیغام پہنچانے والا لوگوں کو اور اللہ کافی ہے سامنے دیکھنے والا [۱۲۹] ﴿79﴾

    جس نے حکم مانا رسول کا اس نے حکم مانا اللہ کا اور جو الٹا پھرا تو ہم نے تجھ نہیں بھیجا ان پر نگہبان [۱۳۰] ﴿80﴾

    اور کہتے ہیں کہ قبول ہے پھر جب باہر گئے تیرے پاس سے تو مشورہ کرتے ہیں بعضے بعضے ان میں سے رات کو اس کےخلاف جو تجھ سےکہہ چکے تھے اور اللہ لکھتا ہے جو وہ مشورہ کرتے ہیں سو تو تغافل کر ان سے اور بھرسہ کر اللہ پر اور اللہ کافی ہے کارساز [۱۳۱] ﴿81﴾

    کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر یہ ہوتا کسی اور کا سوائے اللہ کے تو ضرور پاتےاس میں بہت تفاوت [۱۳۲] ﴿82﴾

    اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اسکو مشہور کر دیتے ہیں [۱۳۳] اور اگر اسکو پہنچا دیتے رسول تک اور اپنے حکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی [۱۳۴] اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہو لیتے شیطان کے مگر تھوڑے [۱۳۵] ﴿83﴾

    سو تو لڑ اللہ کی راہ میں تو ذمہ دار نہیں مگر اپنی جان کا اور تاکید کر مسلمانوں کو قریب ہے کہ اللہ بند کر دے لڑائی کافروں کی [۱۳۶] اور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا دینے میں [۱۳۷] ﴿84﴾

    جو کوئی سفارش کرے نیک بات میں اس کو بھی ملے گا اس میں سے ایک حصہ اور جو کوئی سفارش کرے بری بات میں اس پر بھی ہے ایک بوجھ اس میں سے [۱۳۸] اور اللہ ہے ہر چیز پر قدرت رکھنے والا [۱۳۹] ﴿85﴾

    اور جب تم کو دعا دیوے کوئی تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا وہی کہو الٹ کر بیشک اللہ ہے ہر چیز کا حساب کرنے والا [۱۴۰] ﴿86﴾

    اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں بیشک تم کو جمع کرے گا قیامت کے دن اس میں کچھ شبہ نہیں اور اللہ سے سچی کس کی بات [۱۴۱] ﴿87﴾

    پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے معاملہ میں دو فریق ہو رہے ہو اور اللہ نے انکو الٹ دیا بسبب ان کے اعمال کے کیا تم چاہتے ہو کہ راہ پر لاؤ جس کو گمراہ کیا اللہ نے اور جس کو گمراہ کرےاللہ ہر گز نہ پاوے گا تو اس کے لئے کوئی راہ [۱۴۲] ﴿88﴾

    چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہو جاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو پھر تم سب برابر ہو جاؤ سو تم ان میں سےکسی کو دوست مت بناؤ یہاں تک کہ وطن چھوڑ آویں اللہ کی راہ میں پھر اگر اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور نہ بناؤ ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مددگار [۱۴۳] ﴿89﴾

    مگر وہ لوگ جو ملاپ رکھتے ہیں ایک قوم سے کہ تم میں اور ان میں عہد ہے یا آئے ہیں تمہارے پاس کہ تنگ ہو گئے ہیں دل ان کے تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے بھی اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر زور دے دیتا تو ضرور لڑتے تم سےسو اگر یکسو رہیں وہ تم سے پھر تم سے نہ لڑیں اور پیش کریں تم پر صلح تو اللہ نے نہیں دی تم کو ان پر راہ [۱۴۴] ﴿90﴾

    اب تم دیکھو گے ایک اور قوم کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور اپنی قوم سے بھی جب کبھی لوٹائے جاتے ہیں وہ فساد کی طرف تو اسکی طرف لوٹ جاتے ہیں پھر اگر وہ تم سے یکسو نہ رہیں اور نہ پیش کریں تم پر صلح اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور مار ڈالو جہاں پاؤ اور ان پر ہم نے تم کو دی ہے کھلی سند [۱۴۵] ﴿91﴾

    اور مسلمان کا کام نہیں کہ قتل کرے مسلمان کو مگر غلطی سے [۱۴۶] اور جو قتل کرے مسلمان کو غلطی سے تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور خون بہا پہنچائے اسکے گھر والوں کو مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں پھر اگر مقتول تھا ایسی قوم میں سےکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور خود وہ مسلمان تھا تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی اور اگر وہ تھا ایسی قوم میں سےکہ تم میں اور ان میں عہد ہے تو خون بہا پہنچائے اس کےگھر والوں کو اور آزاد کرے گردن ایک مسلمان کی پھر جس کو میسر نہ ہو تو روزے رکھے دو مہینے کے برابر گناہ بخشوانے کو اللہ سے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۴۷] ﴿92﴾

    اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر تو اس کی سزا دوزخ ہے پڑا رہے گا اسی میں اور اللہ کا اس پر غضب ہوا اور اس کو لعنت کی اور اسکے واسطے تیار کیا بڑا عذاب [۱۴۸] ﴿93﴾

    اے ایمان والو جب سفر کرو اللہ کی راہ میں تو تحقیق کر لیا کرو اور مت کہو اس شخص کو جو تم سے سلام علیک کرے کہ تو مسلمان نہیں تم چاہتے ہو اسباب دنیا کی زندگی کا سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں [۱۴۹] تم بھی تو ایسے ہی تھے اس سے پہلے پھر اللہ نے تم پر فضل کیا سو اب تحقیق کر لو [۱۵۰] بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے [۱۵۱] ﴿94﴾

    برابر نہیں بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ مسلمان جو لڑنے والے ہیں اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے اللہ نے بڑھا دیا لڑنے والوں کا اپنے مال اور جان سے بیٹھ رہنے والوں پر درجہ اور ہر ایک سے وعدہ کیا اللہ نے بھلائی کا اور زیادہ کیا اللہ نے لڑنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں سے اجر عظیم میں ﴿95﴾

    جو کہ درجے ہیں اللہ کی طرف سے اور بخشش ہے اور مہربانی ہے [۱۵۲] اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۱۵۳] ﴿96﴾

    وہ لوگ کہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اس حالت میں کہ وہ برا کر رہے ہیں اپنا کہتے ہیں ان سے فرشتے تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں ہم تھے بے بس اس ملک میں کہتے ہیں فرشتے کیا نہ تھی زمین اللہ کی کشادہ جو چلے جاتے وطن چھوڑ کر وہاں سو ایسوں کا ٹھکانا ہے دوزخ اور وہ بہت بری جگہ پہنچے ﴿97﴾

    مگر جو ہیں بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے جو نہیں کر سکتے کوئی تدبیر اور نہ جانتےہیں کہیں کا راستہ ﴿98﴾

    سو ایسوں کو امید ہے کہ اللہ معاف کرے اور اللہ ہے معاف کرنے والا بخشنے والا [۱۵۴] ﴿99﴾

    اور جو کوئی وطن چھوڑے اللہ کی راہ میں پاوے گا اس کے مقابلہ میں جگہ بہت اور کشائش اور جو کوئی نکلے اپنے گھر سے ہجرت کر کے اللہ اور رسول کی طرف پھر آ پکڑے اس کو موت تو مقرر ہو چکا اس کا ثواب اللہ کے ہاں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان [۱۵۵] ﴿100﴾

    اور جب تم سفر کرو ملک میں تو تم پر گناہ نہیں کہ کچھ کم کرو نماز میں سےاگر تم کو ڈر ہو کہ ستاویں گے تم کو کافر البتہ کافر تمہارے صریح دشمن ہیں [۱۵۶] ﴿101﴾

    اور جب تو ان میں موجود ہو پھر نماز میں کھڑا کرے تو چاہئے ایک جماعت ان کی کھڑی ہو تیرے ساتھ اور ساتھ لے لیویں اپنے ہتھیار پھر جب یہ سجدہ کریں تو ہٹ جاویں تیرے پاس سے اور آوے دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ نماز پڑھیں تیرے ساتھ اور ساتھ لیویں اپنا بچاؤ اور ہتھیار کافر چاہتے ہیں کسی طرح تم بے خبر ہو اپنے ہتھیاروں سے اور اسباب سے تاکہ تم پر حملہ کریں یکبارگی [۱۵۷] اور تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم کو تکلیف ہو مینہ سے یا تم بیمار ہو کہ اتار رکھو اپنے ہتھیار اور ساتھ لے لو اپنا بچاؤ [۱۵۸] بیشک اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے عذاب ذلت کا [۱۵۹] ﴿102﴾

    پھر جن تم نماز پڑھ چکو تو یاد کرو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے [۱۶۰] پھر جب خوف جاتا رہے تو درست کرو نماز کو بیشک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقررہ وقتوں میں [۱۶۱] ﴿103﴾

    اور ہمت نہ ہارو ان کا پیچھا کرنے سے اگر تم بے آرام ہوتے ہو تو وہ بھی بے آرام ہوتے ہیں جس طرح تم ہوتے ہو اور تم کو اللہ سے امید ہے جو ان کو نہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۶۲] ﴿104﴾

    بیشک ہم نے اتاری تیری طرف کتاب سچی کہ تو انصاف کرے لوگوں میں جو کچھ سمجھاوے تجھ کو اللہ اور تو مت ہو دغابازوں کی طرف سے جھگڑنے والا [۱۶۳] ﴿105﴾

    اور بخشش مانگ اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۶۴] ﴿106﴾

    اور مت جھگڑ ان کی طرف سے جو اپنے جی میں دغا رکھتے ہیں اللہ کو پسند نہیں جو کوئی ہو دغاباز گنہگار ﴿107﴾

    شرماتےہیں لوگوں سے اور نہیں شرماتے اللہ سے اور وہ انکے ساتھ ہے جبکہ مشورہ کرتے ہیں رات کو اس بات کا جس سے اللہ راضی نہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے [۱۶۵] ﴿108﴾

    سنتے ہو تم لوگ جھگڑا کرتے ہو ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں پھر کون جھگڑا کرے گا ان کے بدلے اللہ سے قیامت کے دن یا کون ہو گا ان کا کارساز [۱۶۶] ﴿109﴾

    اور جو کوئی کرے گناہ یا اپنا برا کرے پھر اللہ سے بخشوا دے تو پاوے اللہ کو بخشنے والا مہربان [۱۶۷] ﴿110﴾

    اور جو کوئی کرے گناہ سو کرتا ہے اپنے ہی حق میں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۶۸] ﴿111﴾

    اور جو کوئی کرے خطا یا گناہ پھر تمہت لگاوے کسی بے گناہ پر تو اس نے اپنے سر دھرا طوفان اور گناہ صریح [۱۶۹] ﴿112﴾

    اور اگر نہ ہوتا تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تو قصد کر ہی چکی تھی ان میں ایک جماعت کہ تجھ کو بہکاویں اور بہکا نہیں سکتے مگر اپنے آپ کو اور تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نےاتاری تجھ پر کتاب اور حکمت اور تجھ کو سکھائیں وہ باتیں جو تو نہ جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر بہت بڑا ہے [۱۷۰] ﴿113﴾

    کچھ اچھے نہیں ان کےاکثر مشورے مگر جو کوئی کہ کہے صدقہ کرنے کو یا نیک کام کو یا صلح کرانے کو لوگوں میں اور جو کوئی یہ کام کرے اللہ کی خوشی کے لئے تو ہم اس کو دیں گے بڑا ثواب [۱۷۱] ﴿114﴾

    اور جو کوئی مخالفت کرے رسول کی جبکہ کھل چکی اس پر سیدھی راہ اور چلے سب مسلمانوں کے رستہ کے خلاف تو ہم حوالہ کریں گے اس کو وہی طرف جو اس نے اختیار کی اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بہت بری جگہ پہنچا [۱۷۲] ﴿115﴾

    بیثک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے کسی کو اور بخشتا ہے اس کے سوا جس کو چاہے [۱۷۳] اور جس نے شریک ٹھرایا اللہ کا وہ بہک کر دور جا پڑا [۱۷۴] ﴿116﴾

    اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے مگر شیطان سرکش کو ﴿117﴾

    جس پر لعنت کی اللہ نے [۱۷۵] اور کہا شیطان نے کہ میں البتہ لوں گا تیرے بندوں سےحصہ مقررہ [۱۷۶] ﴿118﴾

    اور انکو بہکاؤں گا اور انکو امیدیں دلاؤں گا اور انکو سکھلاؤں گا کہ چیریں جانوروں کے کان اور انکو سکھلاؤں گا کہ بدلیں صورتیں بنائی ہوئی اللہ کی [۱۷۷] اور جو کوئی بناوے شیطان کو دوست اللہ کو چھوڑ کر تو وہ پڑا صریح نقصان میں ﴿119﴾

    انکو وعدہ دیتا ہے اور انکو امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ وعدہ دیتا ہے انکو شیطان سو سب فریب ہے ﴿120﴾

    ایسوں کا ٹھکانا ہے دوزخ اور نہ پاویں گے وہاں سے کہیں بھاگنے کو جگہ [۱۷۸] ﴿121﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے اچھے انکو ہم داخل کریں گے باغوں میں کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں ان میں ہی ہمیشہ وعدہ ہے اللہ کا سچا اور اللہ سےسچا کون ہے [۱۷۹] ﴿122﴾

    نہ تمہاری امیدوں پر مدار ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر جو کوئی برا کام کرے گا اس کی سزا پاوے گا اور نہ پاوے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار ﴿123﴾

    اور جو کوئی کام کرے اچھے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان رکھتا ہو سو وہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور ان کا حق ضائع نہ ہو گا تل بھر [۱۸۰] ﴿124﴾

    اور اس سے بہتر کس کا دین ہو گا جس نے پیشانی رکھی اللہ کے حکم پر اور نیک کاموں میں لگا ہوا ہے اور چلا دین ابراہیم پر جو ایک ہی طرف کا تھا اور اللہ نے بنا لیا ابراہیم کو خالص دوست [۱۸۱] ﴿125﴾

    اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور سب چیزیں اللہ کے قابو میں ہیں [۱۸۲] ﴿126﴾

    اور تجھ سے رخصت مانگے ہیں عورتوں کے نکاح کی کہہ دے اللہ تم کو اجازت دیتا ہے ان کی اور وہ جو تم کو سنایا جاتا ہے قرآن میں سو حکم ہے ان یتیم عورتوں کا جن کو تم نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان کو نکاح میں لے آؤ اور حکم ہے ناتوان لڑکوں کا اور یہ کہ قائم رہو یتیموں کےحق میں انصاف پر [۱۸۳] اور جو کرو گے بھلائی سو وہ اللہ کو معلوم ہے [۱۸۴] ﴿127﴾

    اور اگر کوئی عورت ڈرے اپنے خاوند کے لڑنے سے یا جی پھر جانے سو تو کچھ گناہ نہیں دونوں پر کہ کر لیں آپس میں کسی طرح صلح اور صلح خوب چیز ہے [۱۸۵] اور دلوں کے سامنے موجود ہے حرص [۱۸۶] اور اگر تم نیکی کرو اور پرہیزگاری کرو تو اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے [۱۸۷] ﴿128﴾

    اور تم ہرگز برابر نہ رکھ سکو گے عورتوں کو اگرچہ اس کی حرص کرو سو بالکل پھر بھی نہ جاؤ کہ ڈال رکھو ایک عورت کو جیسے ادھر میں لٹکتی [۱۸۸] اور اگر اصلاح کرتے رہو اور پرہیزگاری کرتے رہو تو للہ بخشنے والا مہربان [۱۸۹] ﴿129﴾

    اور اگر دونوں جدا ہو جاویں تو اللہ ہر ایک کو بے پروا کر دے گا اپنی کشائش سے اور اللہ کشائش والا تدبیر جاننے والا ہے [۱۹۰] ﴿130﴾

    اور اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور ہم نے حکم دیا ہے پہلے کتاب والوں کو اور تم کو کہ ڈرتے رہو اللہ سے اور اگر نہ مانو گے تو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ کہ ہے زمین میں اور اللہ ہے بے پروا سب خوبیوں والا ﴿131﴾

    اور اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اللہ کافی ہے کارساز [۱۹۱] ﴿132﴾

    اگر چاہے تو تم کو دور کر دے اے لوگو اور لے آئے اور لوگوں کو اور اللہ کو یہ قدرت ہے [۱۹۲] ﴿133﴾

    جو کوئی چاہتا ہو ثواب دنیا کا سو اللہ کے یہاں ہے ثواب دنیا کا اور آخرت کا [۱۹۳] اور اللہ سب کچھ سنتا دیکھتا ہے [۱۹۴] ﴿134﴾

    اے ایمان والو قائم رہو انصاف پر گواہی دو اللہ کی طرف کی اگرچہ نقصان ہو تمہارا یا ماں باپ کا یا قرابت والوں کا [۱۹۵] اگر کوئی مالدار ہے یا محتاج ہے تو اللہ ان کا خیرخواہ تم سے زیادہ ہے سو تم پیروی نہ کرو دل کی خواہش کی انصاف کرنے میں [۱۹۶] اور اگر تم زبان ملو گے یا بچا جاؤ گے تو اللہ تمہاے سب کاموں سے واقف ہے [۱۹۷] ﴿135﴾

    ایمان والو یقین لاؤ اللہ پر اور اسکے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے اور جو کوئی یقین نہ رکھے اللہ پر اور اسکے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کےدن پر وہ بہک کر دور جا پڑا [۱۹۸] ﴿136﴾

    جو لوگ مسلمان ہوئے پھر کافر ہو گئے پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہو گئے پھر بڑھتے رہے کفر میں تو اللہ ان کو ہرگز بخشنے والا نہیں اور نہ دکھلاوے ان کو راہ [۱۹۹] ﴿137﴾

    خوشخبری سنا دے منافقوں کو کہ ان کے واسطے ہے عذاب دردناک ﴿138﴾

    وہ جو بناتے ہیں کافروں کو اپنارفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا ڈھونڈھتے ہیں ان کے پاس عزت سو عزت تو اللہ ہی کے واسطے ہے ساری [۲۰۰] ﴿139﴾

    اور حکم اتار چکا تم پر قرآن میں کہ جب سنو اللہ کی آیتوں پر انکار ہوتے اور ہنسی ہوتے تو نہ بیٹھو ان کےساتھ یہاں تک کہ مشغول ہوں کسی دوسری بات میں نہیں تو تم بھی انہی جیسے ہو گئے اللہ اکٹھا کرے گا منافقوں کو اور کافروں کو دوزخ میں ایک جگہ [۲۰۱] ﴿140﴾

    وہ منافق جو تمہاری تاک میں ہیں پھر اگر تم کو فتح ملے اللہ کی طرف سے تو کہیں کیا ہم نہ تھےتمہارے ساتھ اور اگر نصیب ہو کافروں کو تو کہیں کیا ہم نےگھیر نہ لیا تھا تم کو اور بچا دیا تم کو مسلمانوں سے [۲۰۲] سو اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کےدن اور ہرگز نہ دے گا اللہ کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ کی راہ [۲۰۳] ﴿141﴾

    البتہ منافق دغابازی کرتےہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغا دے گا [۲۰۴] اور جب کھڑے ہوں نماز کو تو کھڑے ہوں ہارے جی سے لوگوں کے دکھانے کو اور یاد نہ کریں اللہ کو مگر تھوڑا سا [۲۰۵] ﴿142﴾

    ادھر میں لٹکتے ہیں دونوں کے بیچ نہ ان کی طرف اور نہ اُن کی طرف اور جس کو گمراہ کرے اللہ تو ہر گز نہ پاوے گا تو اسکے واسطے کہیں راہ [۲۰۶] ﴿143﴾

    اے ایمان والو نہ بناؤ کافروں کو اپنا رفیق مسلمانوں کو چھوڑ کر کیا لیا چاہتے ہو اپنے اوپر اللہ کا الزام صریح ﴿144﴾

    بیشک منافق ہیں سب سے نیچے درجہ میں دوزخ کے اور ہر گز نہ پاوے گا تو ان کے واسطے کوئی مددگار [۲۰۷] ﴿145﴾

    مگر جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی اور مضبوط پکڑا اللہ کو اور خالص حکم بردار ہوئے اللہ کے سو وہ ہیں ایمان والوں کےساتھ اور جلد دے گا اللہ ایمان والوں کو بڑا ثواب [۲۰۸] ﴿146﴾

    کیا کرے گا اللہ تم کو عذاب کر کے اگر تم حق کو مانو اور یقین رکھو اور اللہ قدردان ہے سب کچھ جاننے والا [۲۰۹] ﴿147﴾

    اللہ کو پسند نہیں کسی کی بری بات کا ظاہر کرنا مگر جس پر ظلم ہوا ہو اور اللہ ہے سننے والا جاننے والا [۲۱۰] ﴿148﴾

    اگر تم کھول کر کرو کوئی بھلائی یا اسکو چھپاؤ یا معاف کرو برائی کو تو اللہ بھی معاف کرنے والا بڑی قدرت والا ہے[۲۱۱] ﴿149﴾

    جو لوگ منکر ہیں اللہ سے اور اسکے رسولوں سے اور چاہتے ہیں کہ فرق نکالیں اللہ میں اور اسکے رسولوں میں اور کہتے ہیں ہم مانتے ہیں بعضوں کو اور نہیں مانتے بعضوں کو اور چاہتے ہیں کہ نکالیں اس کے بیچ میں ایک راہ ﴿150﴾

    ایسے لوگ وہی ہیں اصل کافر اور ہم نےتیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے ذلت کا عذاب[۲۱۲] ﴿151﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اسکے رسولوں پر اور جدا نہ کیا ان میں سے کسی کو ان کو جلد دے گا انکے ثواب اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۲۱۳] ﴿152﴾

    تجھ سےدرخواست کرتے ہیں اہل کتاب کہ تو ان پر اتار لاوے لکھی ہوئی کتاب آسمان سے سو مانگ چکے ہیں موسٰی سے اس سے بھی بڑی چیز اور کہا ہم کو دکھا دے اللہ کو بالکل سامنے سو آ پڑی ان پر بجلی انکے گناہ کے باعث پھر بنا لیا بچھڑےکو بہت کچھ نشانیاں پہنچ چکنے کے بعد پھر ہم نے وہ بھی معاف کیا [۲۱۴] اور دیا ہم نے موسٰی کو غلبہ صریح [۲۱۵] ﴿153﴾

    اور ہم نے اٹھایا ان پر پہاڑ قرار لینے کے واسطے [۲۱۶] اور ہم نے کہا داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے [۲۱۷] اور ہم نے کہا کہ زیادتی مت کرو ہفتہ کے دن میں اور ہم نے ان سے لیا قول مضبوط [۲۱۸] ﴿154﴾

    ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کر دی انکے دل پر کفر کے سبب سو ایمان نہیں لاتے مگر کم [۲۱۹] ﴿155﴾

    اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر ﴿156﴾

    اور انکے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسٰی مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا [۲۲۰] اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا و لیکن وہی صورت بن گئ انکے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بیشک ﴿157﴾

    بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا [۲۲۱] ﴿158﴾

    اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسٰی پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہو گا ان پر گواہ [۲۲۲] ﴿159﴾

    سو یہود کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے حرام کیں ان پربہت سے پاک چیزیں جو ان پر حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ روکتے تھے اللہ کی راہ سے بہت ﴿160﴾

    اور اس وجہ سے کہ سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہو چکی تھی اور اس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق اور تیار کر رکھا ہے ہم نے کافروں کے واسطے جو ان میں ہیں عذاب دردناک [۲۲۳] ﴿161﴾

    لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں اور ایمان والے سو مانتے ہیں اسکو جو نازلہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلےاور آفریں ہے نماز پر قائم رہنے والوں کو اور جو دینے والے ہیں زکوٰۃ کے اور یقین رکھنے والے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر سو ایسوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب [۲۲۴] ﴿162﴾

    ہم نے وحی بھیجی تیری طرف [۲۲۵] جیسے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اسکے بعد ہوئے [۲۲۶] اور وحی بھیجی ابراہیم پر اور اسمٰعیل پر اور اسحٰق پر اور یعقوب پر اور اسکی اولاد پراور عیسٰی پر اور ایوب پر اور یونس پر اور ہارون پر اور سلیمان پر اور ہم نے دی داؤد کو زبور ﴿163﴾

    اور بھیجے ایسے رسول کہ جن کا احوال ہم نے سنایا تجھ کو اس سے پہلےاور ایسے رسول جن کا احوال نہیں سنایا تجھ کو اور بایتں کیں اللہ نے موسٰی سے بول کر [۲۲۷] ﴿164﴾

    بھیجے پیغمبر خوشخبری اور ڈر سنانے والے تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کو اللہ پر الزام کا موقع رسولوں کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والا [۲۲۸] ﴿165﴾

    لیکن اللہ شاہد ہے اس پر جو تجھ پر نازل یا کہ یہ نازل کیا ہے اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ کافی ہےحق ظاہر کرنے والا [۲۲۹] ﴿166﴾

    جو لوگ کافر ہوئے اور روکا اللہ کی راہ سے وہ بہک کر دور جا پڑے ﴿167﴾

    جو لوگ کافر ہوئے اور حق دبا رکھا ہر گز اللہ بخشنے والا نہیں ان کو اور نہ دکھلا دے گا ان کو سیدھی راہ ﴿168﴾

    مگر راہ دوزخ کی رہا کریں اس میں ہمیشہ اور یہ اللہ پر آسان ہے [۲۳۰] ﴿169﴾

    اے لوگو تمہارے پاس رسول آ چکا ٹھیک بات لیکر تمہارے رب کی سو مان لو تاکہ بھلا ہو تمہارا اور اگر نہ مانو گے تو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا [۲۳۱] ﴿170﴾

    [اے کتاب والو مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں اور مت کہو اللہ کی شان میں مگر پکی بات بیشک مسیح جو ہے عیسٰی مریم کا بیٹا وہ رسول ہے اللہ کا اور اس کا کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح ہے اس کے ہاں کی سو مانو اللہ کو اور اسکے رسولوں کو اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں اس بات کو چھوڑ دو بہتر ہو گا تمہارے واسطے بیشک اللہ معبود ہے اکیلا اسکے لائق نہیں ہے کہ اس کے اولاد ہو ]۲۳۲] اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کارساز [۲۳۳] ﴿171﴾

    مسیح کو اس سے ہرگز عار نہیں کہ وہ بندہ ہو اللہ کا اور نہ فرشتوں کو جو مقرب ہیں [۲۳۴] اور جس کو عار آوے اللہ کی بندگی سے اور تکبر کرے سو وہ جمع کرے گا ان سب کو اپنے پاس اکٹھا ﴿172﴾

    پھر جو لوگ ایمان لائے اور عمل کئے انہوں نے اچھے تو انکو پورا دے گا ان کا ثواب اور زیادہ دے گا اپنے فضل سے اور جنہوں نے عار کی اور تکبر کیا سو انکو عذاب دے گا عذاب دردناک اور نہ پاویں گے اپنے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۲۳۵] ﴿173﴾

    اے لوگو تمہارے پاس پہنچ چکی تمہارے رب کی طرف سےسند اور اتاری ہم نے تم پر روشنی واضح ﴿174﴾

    سو جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کو مضبوط پکڑا تو ان کو داخل کرے گا اپنی رحمت میں اور فضل میں اور پہنچاوے گا ان کو اپنی طرف سیدھے راستہ پر [۲۳۶] ﴿175﴾

    حکم پوچھتے ہیں تجھ سے سو کہہ دے اللہ حکم بتاتا ہے تم کو کلالہ کا [۲۳۷] اگر کوئی مرد مر گیا اور اس کے بیٹا نہیں اور اس کے ایک بہن ہے تو اس کو پہنچے آدھا اس کا جو چھوڑ مرا [۲۳۸] اور وہ بھائی وارث ہے اس بہن کا اگر نہ ہو اس کے بیٹا [۲۳۹] پھر اگر بہنیں دو ہوں تو انکو پہنچے دو تہائی اس مال کا جو چھوڑ مرا [۲۴۰] اور اگر کئ شخص ہوں اسی رشتہ کے کچھ مرد اور کچھ عورتیں تو ایک مرد کا حصہ ہے برابر دو عورتوں کے [۲۴۱] بیان کرتا ہے اللہ تمہارے واسطے تاکہ تم گمراہ نہ ہو [۲۴۲] اور اللہ ہر چیز سےواقف ہے [۲۴۳] ﴿176﴾

    Surah 5
    المائدہ

    اے ایمان والو پورا کرو عہدوں کو [۱] حلا ل ہوئے تمہارے لئے چوپائے مویشی [۲] سو اے انکے جو تم کو آگے سنائےجاویں گے [۳] مگر حلال نہ جانو شکار کو احرام کی حالت میں [۴] اللہ حکم کرتا ہے جو چاہے [۵] ﴿1﴾

    اے ایمان والو حلال نہ سمجھو اللہ کی نشانیوں کو [۶] اور نہ ادب والے مہینہ کو [۷] اور نہ اس جانور کو جو نیاز کعبہ کی ہو اور نہ جنکے گلے میں پٹا ڈال کر لیجاویں کعبہ کو [۸] اور نہ آنے والوں کو حرمت والے گھر کی طرف جو ڈھونڈتے ہیں فضل اپنے رب کا اور اسکی خوشی [۹] اور جب احرام سے نکلو تو شکار کر لو [۱۰] اور باعث نہ ہو تم کو اس قوم کی دشمنی جو کہ تم کو روکتی تھی حرمت والی مسجد سے اس پر کہ زیادتی کرنے لگو [۱۱] اور آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور ظلم پر [۱۲] اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے [۱۳] ﴿2﴾

    حرام ہوا تم پر مردہ جانور [۱۴] اور لہو [۱۵] اور گوشت سور کا اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اور جو مر گیا ہو گلا گھونٹنے سے یاچوٹ سے یا اونچے سے گر کر یا سینگ مارنے سے اور جس کو کھایا ہو درندہ نے مگر جس کو تم نےذبح کر لیا اور حرام ہے جو ذبح ہوا کسی تھان پر [۱۶] اور یہ کہ تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے [۱۷] یہ گناہ کا کام ہے آج ناامید ہو گئے کافر تمہارے دین سے سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو [۱۸] آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا [۱۹] اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا [۲۰] اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطےاسلام کو دین [۲۱] پھر جو کوئی لاچار ہو جاوے بھوک میں لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۲] ﴿3﴾

    تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز ان کےلئے حلال ہے کہہ دے تم کو حلال ہیں ستھری چیزیں [۲۳] اور جو سدھاؤ شکاری جانور شکار پر دوڑانے کو کہ ان کو سکھاتے ہو اس میں سےجو اللہ نے تم کو سکھایا ہے سو کھاؤ اس میں سے جو پکڑ رکھیں تمہارےواسطے اور اللہ کا نام لو اس پر [۲۴] اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ جلد لینے والا ہے حساب [۲۵] ﴿4﴾

    آج حلال ہوئیں تم کو سب ستھری چیزیں [۲۶] اور اہل کتاب کا کھانا تم کو حلال ہے [۲۷] اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے [۲۸] اور حلال ہیں تم کو پاکدامن عورتیں مسلمان [۲۹] اور پاکدامن عورتیں ان میں سےجن کو دی گئ کتاب [۳۰] تم سے پہلےجب دو ان کو مہر ان کے قید میں لانے کو [۳۱] نہ مستی نکالنے کو اور نہ چھپی آشنائی کرنے کو [۳۲] اور جو منکر ہوا ایمان سے تو ضائع ہوئی محنت اس کی اور آخرت میں وہ ٹوٹے والوں میں ہے [۳۳] ﴿5﴾

    اے ایمان والو [۳۴] جب تم اٹھو [۳۵] نماز کو تو دھو لو اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک اور مل لو اپنے سر کو [۳۶] اور پاؤں ٹخنوں تک [۳۷] اور اگر تم کو جنابت ہو تو خوب طرح پاک ہو [۳۸] اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا کوئی تم میں آیا ہے جائے ضرور سے یا پاس گئے ہو عورتوں کے پھر نہ پاؤ تم پانی تو قصد کرو مٹی پاک کا اور مل لو اپنے منہ اور ہاتھ اس سے [۳۹] اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے [۴۰] لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے [۴۱] اور پورا کرے اپنا احسان تم پر تاکہ تم احسان مانو [۴۲] ﴿6﴾

    اور یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر اور عہد اس کا جو تم سے ٹھہرایا تھا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مانا [۴۳] اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات [۴۴] ﴿7﴾

    اے ایمان والو کھڑے ہو جایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی [۴۵] اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو [۴۶] عدل کرو یہ بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ سے [۴۷] اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو [۴۸] ﴿8﴾

    وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں سے اور جو نیک عمل کرتے ہیں کہ انکے واسطے بخشش اور بڑا ثواب ہے [۴۹] ﴿9﴾

    اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلائیں ہماری آیتیں وہ ہیں دوزخ والے [۵۰] ﴿10﴾

    اے ایمان والو یاد رکھو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب قصد کیا لوگوں نے کہ تم پر ہاتھ چلاویں پھر روک دیے تم سے ان کے ہاتھ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ ہی پر چاہئے بھروسہ ایمان والوں کو [۵۱] ﴿11﴾

    اور لے چکا ہے اللہ عہد بنی اسرائیل سے [۵۲] اور مقرر کئے ہم نے ان میں بارہ سردار [۵۳] اور کہا اللہ نے میں تمہارے ساتھ ہو [۵۴] اگر تم قائم رکھو گے نماز اور دیتے رہو گے زکوٰۃ اور یقین لاؤ گے میرے رسولوں پر اور مدد کرو گے ان کی [۵۵] اور قرض دو گے اللہ کو [۵۶] اچھی طرح کا قرض [۵۷] تو البتہ دور کروں گا میں تم سے گناہ تمہارے اور داخل کروں گا تم کو باغوں میں کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں [۵۸] پھر جو کوئی کافر رہا تم میں سے اس کے بعد تو وہ بیشک گمراہ ہوا سیدھے راستہ سے [۵۹] ﴿12﴾

    سو ان کے عہد توڑنے پر ہم نے ان پر لعنت کی [۶۰] اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت پھیرتے ہیں کلام کو اسکے ٹھکانے سے [۶۱] اور بھول گئے نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو انکو کی گئ تھی [۶۲] اور ہمیشہ تو مطلع ہوتا رہتا ہے ان کی کسی دغا پر [۶۳] مگر تھوڑے لوگ ان میں سے [۶۴] سو معاف کر اور درگذر کر ان سے اللہ دوست رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو [۶۵] ﴿13﴾

    اور وہ جو کہتے ہیں اپنے کو نصاریٰ [۶۶] ان سے بھی لیا تھا ہم نے عہد ان کا پھر بھول گئے نفعع اٹھانا اس نصیحت سے جو انکو کی گئ تھی [۶۷] پھر ہم نے لگا دی آپس میں انکی دشمنی اور کینہ [۶۸] قیامت کے دن تک [۶۹] اور آخر جتا دے گا ان کو اللہ جو کچھ کرتے تھے [۷۰] ﴿14﴾

    اے کتاب والو تحقیق آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا ظاہر کرتا ہے تم پر بہت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت چیزوں سے [۷۱] بیشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب ظاہر کرنے والی ﴿15﴾

    جس سے اللہ ہدایت کرتا ہے اس کو جو تابع ہوا اسکی رضا کا سلامتی کی راہیں اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی میں اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ [۷۲] ﴿16﴾

    بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا [۷۳] تو کہہ دے پھر کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ ہیں زمین میں سب کو [۷۴] اور اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے پیدا کرتا ہے جو چاہے [۷۵] اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۷۶] ﴿17﴾

    اور کہتے ہیں یہود اور نصاریٰ ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اسکے پیارے [۷۷] تو کہہ پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر [۷۸] کوئی نہیں بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اسکی مخلوق میں [۷۹] بخشے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے [۸۰] اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی اور جو کچھ دونوں کے بیچ میں ہے اور اسکی کی طرف لوٹ کر جانا ہے [۸۱] ﴿18﴾

    اے کتاب والو آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا کھولتا ہے تم پر [۸۲] رسولوں کے انقطاع کے بعد کبھی تم کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ آیا کوئی خوشی یا ڈر سنانے والا سو آ چکا تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والا [۸۳] اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۸۴] ﴿19﴾

    اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر [۸۵] جب پیدا کئے تم میں نبی [۸۶] اور کر دیا تم کو بادشاہ [۸۷] اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں [۸۸] ﴿20﴾

    اے قوم داخل ہو زمین پاک میں جو مقرر کر دی ہے اللہ نے تمہارے واسطے [۸۹] اور نہ لوٹو اپنی پیٹھ کی طرف پھر جا پڑو گے نقصان میں [۹۰] ﴿21﴾

    بولے اے موسٰی وہاں ایک قوم ہے زبردست [۹۱] اور ہم ہر گز وہاں نہ جاویں گے یہاں تک کہ وہ نکل جاویں اس میں سے پھر اگر وہ نکل جاویں گے اس میں سےتو ہم ضرور داخل ہوں گے [۹۲] ﴿22﴾

    کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے کہ خدا کی نوازش تھی ان دو پر [۹۳] گھس جاؤ ان پرحملہ کر کے دروازہ میں پھر جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے [۹۴] اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر یقین رکھتے ہو [۹۵] ﴿23﴾

    بولے اے موسٰی ہم ہرگز نہ جاویں گے ساری عمر جب تک وہ رہیں گے اس میں سو تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں [۹۶] ﴿24﴾

    بولا اے رب میرے میرے اختیار میں نہیں مگر میری جان اور میرا بھائی [۹۷] سو جدائی کر دے تو ہم میں اور اس نافرمان قوم میں [۹۸] ﴿25﴾

    فرمایا تحقیق وہ زمین حرام کی گئ ہے ان پر چالیس برس سر مارتے پھریں گے ملک میں سو تو افسوس نہ کر نافرمان لوگوں پر ﴿26﴾

    اور سنا ان کو حال واقعی آدم کے دو بیٹوں کا [۹۹] جب نیاز کی دونوں نے کچھ نیاز اور مقبول ہوئی ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی [۱۰۰] کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا [۱۰۱] وہ بولا اللہ قبول کرتا ہے تو پرہیزگاروں سے [۱۰۲] ﴿27﴾

    اگر تو ہاتھ چلادے گا مجھ پر مارنے کو میں نہ ہاتھ چلاؤں گا تجھ پر مارنے کو [۱۰۳] میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا [۱۰۴] ﴿28﴾

    میں چاہتا ہوں کہ تو حاصل کرے میرا گناہ اور اپنا گناہ [۱۰۵] پھر ہو جاوے تو دوزخ والوں میں اور یہی ہے سزا ظالموں کی [۱۰۶] ﴿29﴾

    پھر اس کو راضی کیا اسکے نفس نے خون پر اپنے بھائی کے [۱۰۷] پھر اسکو مار ڈالا سو ہو گیا نقصان اٹھانے والوں میں [۱۰۸] ﴿30﴾

    پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا جو کریدتا تھا زمین کو تاکہ اس کو دکھلا دے کس طرح چھپاتا ہے لاش اپنے بھائی کی بولا اے افسوس مجھ سے اتنا نہ ہو سکا کہ ہوں برابر اس کوے کی کہ میں چھپاؤں لاش اپنے بھائی کی [۱۰۹] پھر لگا پچتانے [۱۱۰] ﴿31﴾

    اسی سبب سے لکھا ہم نے [۱۱۱] بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلاعوض جان کے یا بغیر فساد کرنے کے ملک میں [۱۱۲] تو گویا قتل کر ڈالا اس نے سب لوگوں کو اور جس نے زندہ رکھا ایک جان کو تو گویا زندہ کر دیا سب لوگوں کو [۱۱۳] اور لا چکے ہیں انکے پاس رسول ہمارے کھلے ہوئے حکم [۱۱۴] پھر بہت لوگ ان میں سے اس پر بھی ملک میں دست درازی کرتے ہیں [۱۱۵] ﴿32﴾

    یہی سزا ہے ان کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اسکے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو [۱۱۶] ان کو قتل کیا جائےیا سولی چڑھائے جاویں یا کاٹے جاویں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے [۱۱۷] یا دور کر دیے جاویں اس جگہ سے [۱۱۸] یہ ان کی رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے [۱۱۹] ﴿33﴾

    مگر جنہوں نے توبہ کی تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۲۰] ﴿34﴾

    اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اس تک وسیلہ [۱۲۱] اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو [۱۲۲] ﴿35﴾

    جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس ہو جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو تاکہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سےقبول نہ ہو گا اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے [۱۲۳] ﴿36﴾

    چاہیں گے کہ نکل جاویں آگ سے اور وہ اس سے نکلنے والے نہیں اور ان کے لئے عذاب دائمی ہے [۱۲۴] ﴿37﴾

    اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کاٹ ڈالو انکے ہاتھ [۱۲۵] سزا میں ان کی کمائی کی تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے [۱۲۶] اور اللہ غالب ہے حکمت والا [۱۲۷] ﴿38﴾

    پھر جس نے توبہ کہ اپنے ظلم کے پیچھے اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۲۸] ﴿39﴾

    تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت آسمان اور زمین کی عذاب کرے جس کو چاہے اور بخشے جس کو چاہے اور اللہ سب چیز پر قادر ہے [۱۲۹] ﴿40﴾

    اے رسول غم نہ کر ان کو جو دوڑ کر گرتے ہیں کفر میں[۱۳۰] وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے منہ سے اور ان کے دل مسلمان نہیں اور وہ جو یہودی ہیں [۱۳۱] جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لئے وہ جاسوس ہیں دوسری جماعت کے جو تجھ تک نہیں آئے [۱۳۲] بدل ڈالتے ہیں بات کو اس کا ٹھکانہ چھوڑ کر [۱۳۳] کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا [۱۳۴] اور جس اللہ نے گمراہ کرنا چاہا سو تو اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتا اللہ کے ہاں [۱۳۵] یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نےنہ چاہا کہ دل پاک کرےان کے [۱۳۶] ان کو دنیا میں ذلت ہے اور ان کو آخرت میں بڑا عذاب ہے ﴿41﴾

    جاسوسی کرنے والے جھوٹ بولنے کے لئے اور بڑے حرام کھانے والے سو اگر آویں وہ تیرے پاس تو فیصلہ کر دے ان میں یا منہ پھیر لے ان سے [۱۳۷] اور اگر تو منہ پھیر لے گا ان سے تو وہ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو فیصلہ کر ان میں انصاف سے بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو [۱۳۸] ﴿42﴾

    اور وہ تجھ کو کس طرح منصف بنائیں گے اور ان کے پاس تو توریت ہے جس میں حکم ہے اللہ کا پھر اس کے پیچھے پھرے جاتے ہیں اور وہ ہر گز ماننے والے نہیں ہیں [۱۳۹] ﴿43﴾

    ہم نےنازل کی توریت کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے [۱۴۰] اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے یہود کو اور حکم کرتے تھے درویش اور عالم [۱۴۱] اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے [۱۴۲] سو تم نہ ڈرو لوگوں سے اور مجھ سے ڈرو اور مت خریدو میری آیتوں پر مول تھوڑا [۱۴۳] اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو کہ اللہ نے اتارا سو وہی لوگ ہیں کافر [۱۴۴] ﴿44﴾

    اور لکھ دیا ہم نے ان پر اس کتاب میں کہ جی کے بدلے جی اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلا انکے برابر [۱۴۵] پھر جس نے معاف کر دیا تو وہ گناہ سے پاک ہو گیا [۱۴۶] اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو کہ اللہ نے اتارا سو وہی لوگ ہیں ظالم [۱۴۷] ﴿45﴾

    اور پیچھے بھیجا ہم نے انہی کےقدموں پر عیسٰی مریم کے بیٹے کو [۱۴۸] تصدیق کرنے والا توریت کی جو آگے سے تھے اور اس کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرتی تھی اپنے سے اگلی کتاب توریت کی اور راہ بتلانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کو [۱۴۹] ﴿46﴾

    اور چاہئے کہ حکم کریں انجیل والے موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے اس میں اور جو کوئی حکم نہ کرے موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نےسو وہی لوگ ہیں نافرمان [۱۵۰] ﴿47﴾

    اور تجھ پر اتاری ہم نے کتاب سچی تصدیق کرنے والی سابقہ کتابوں کی اور ان کے مضامیں پر نگہبان [۱۵۱] سو تو حکم کر ان میں موافق اسکے جو کہ اتارا اللہ نے [۱۵۲] اور انکی خوشی پر مت چل چھوڑ کر سیدھا راستہ جو تیرے پاس آیا [۱۵۳] ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ [۱۵۴] اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک دین پر کر دیتا لیکن تم کو آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں [۱۵۵] سو تم دوڑ کر لو خوبیاں [۱۵۶] اللہ کے پاس تم سب کو پہنچنا ہے پھر جتا دے گا جس بات میں تم کو اختلاف تھا [۱۵۷] ﴿48﴾

    اور یہ فرمایا کہ حکم کر ان میں موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے اور مت چل ان کی خوشی پر اور بچتا رہ ان سے کہ تجھ کو بہکا نہ دیں کسی اسےحکم سے جو اللہ نے اتارا تجھ پر [۱۵۸] پھر اگر نہ مانیں تو جان لے کہ اللہ نے یہی چاہا ہے کہ پہنچا دے انکو کچھ سزا ان کے گناہوں کی [۱۵۹] اور لوگوں میں بہت ہیں نافرمان [۱۶۰] ﴿49﴾

    اب کیا حکم چاہتے ہیں کفر کے وقت کا اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا یقین کرنے والوں کے واسطے [۱۶۱] ﴿50﴾

    اے ایمان والو مت بناؤ یہود اور نصاریٰ کو دوست [۱۶۲] وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے [۱۶۳] اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے [۱۶۴] اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو [۱۶۵] ﴿51﴾

    اب تو دیکھے گا ان کو جن کے دل میں بیماری ہے دوڑ کر ملتے ہیں ان میں کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ نہ آجائے ہم پر گردش زمانہ کی [۱۶۶] سو قریب ہے کہ اللہ جلد ظاہر فرماوے فتح یا کوئی حکم اپنے پاس سے تو لگیں اپنے جی کی چھپی بات پر پچتانے [۱۶۷] ﴿52﴾

    اور کہتے ہیں مسلمان کیا یہ وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھاتے تھے اللہ کی تاکید سے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں برباد گئے ان کےعمل پھر رہ گئے نقصان میں ﴿53﴾

    اے ایمان والو جو کوئی تم میں پھرے گا اپنے دین سے تو اللہ عنقریب لاوے گا ایسی قوم کو کہ اللہ انکو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں نرم دل ہیں مسلمانوں پر زبردست ہیں کافروں پر لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور ڈرتے نہیں کسی کے الزام سے [۱۶۸] یہ فضل ہے اللہ کا دے گا جس کو چاہے اور اللہ کشائش والا ہے خبردار [۱۶۹] ﴿54﴾

    تمہارا رفیق تو وہی اللہ ہے اور اس کا رسول اور جو ایمان والے ہیں جو کہ قائم ہیں نماز پر اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں [۱۷۰] ﴿55﴾

    اور جو کوئی دوست رکھے اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو تو اللہ کی جماعت وہی سب پر غالب ہے [۱۷۱] ﴿56﴾

    اے ایمان والو مت بناؤ ان لوگوں کو جو ٹھہراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل وہ لوگ جو کتاب دیے گئے تم سے پہلے اور نہ کافروں کو [۱۷۲] اپنا دوست اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم ایمان والے [۱۷۳] ﴿57﴾

    اور جب تم پکارتے ہو نماز کے لئے تو وہ ٹھہراتے ہیں اس کو ہنسی اور کھیل یہ اس واسطے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں [۱۷۴] ﴿58﴾

    تو کہہ اے کتاب والو کیا ضد ہے تم کو ہم سے مگر یہی کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل ہوا ہم پر اور جو نازل ہو چکا پہلے اور یہی کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں [۱۷۵] ﴿59﴾

    تو کہہ میں تم کو بتلاؤں ان میں کس کی بری جزا ہے اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر غضب نازل کیا اور ان میں سے بعضوں کو بندر کر دیا اور بعضوں کو سور اور جنہوں نے بندگی کی شیطان کی وہی لوگ بدتر ہیں درجہ میں اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے [۱۷۶] ﴿60﴾

    اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور حالت یہ ہے کہ کافر ہی آئے تھے اور کافر ہی چلے گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ چھپائے ہوئے تھے [۱۷۷] ﴿61﴾

    اور تو دیکھے گا بہتوں کو ان میں سے کہ دوڑتے ہیں گناہ پر اور ظلم اور حرام کھانے پر بہت برے کام ہیں جو کر رہے ہیں [۱۷۸] ﴿62﴾

    کیوں نہیں منع کرتے انکے درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے بہت ہی برے عمل ہیں جو کر رہے ہیں [۱۷۹] ﴿63﴾

    اور یہود کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا [۱۸۰] انہی کے ہاتھ بند ہو جاویں [۱۸۱] اور لعنت ہےانکو اس کہنے پر بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں [۱۸۲] خرچ کرتا ہے جس طرح چاہے [۱۸۳] اور ان میں بہتوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور انکار [۱۸۴] اور ہم نے ڈال رکھی ہے ان میں دشمنی اور بیر قیامت کے دن تک [۱۸۵] جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لئے اللہ اس کو بجھا دیتا ہے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرتے ہوئے اور اللہ پسند نہیں کرتا فساد کرنے والوں کو [۱۸۶] ﴿64﴾

    اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم دور کر دیتے ان سے ان کی برائیاں اور ان کو داخل کرتے نعمت کے باغوں میں [۱۸۷] ﴿65﴾

    اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل کو اور اس کو جو کہ نازل ہوا ان پر انکے رب کی طرف سے [۱۸۸] تو کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے [۱۸۹] کچھ لوگ ان میں ہیں سیدھی راہ پر [۱۹۰] اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں ﴿66﴾

    اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام اور اللہ تجھ کو بچا لے گا لوگوں سے بیشک اللہ راستہ نہیں دکھلاتا قوم کفار کو [۱۹۱] ﴿67﴾

    کہہ دے اے کتاب والو تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارےرب کی طرف سے [۱۹۲] اور ان میں بہتوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو تو افسوس نہ کر اس قوم کفار پر [۱۹۳] ﴿68﴾

    بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور فرقہ صابی اور نصاریٰ جو کوئی ایمان لاوے اللہ پر اور روز قیامت پر اور عمل کرے نیک نہ ان پر ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں گے [۱۹۴] ﴿69﴾

    ہم نے لیا تھا پختہ قول بنی اسرائیل سے [۱۹۵] اور بھیجے ان کی طرف رسول جب لایا ان کے پاس کوئی رسول وہ حکم جو خوش نہ آیا ان کے جی کو تو بہتوں کو جھٹلایا اور بہتوں کو قتل کر ڈالتےتھے [۱۹۶] ﴿70﴾

    اور خیال کیا کہ کچھ خرابی نہ ہو گی سو وہ اندھے ہو گئے اور بہرے پھر توبہ قبول کی اللہ نے ان کی پھر اندھے اور بہرے ہوئے ان میں سےبہت [۱۹۷] اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں [۱۹۸] ﴿71﴾

    بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا اور میسح نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی رب ہے میرا اور تمہارا بیشک جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی نہیں گنہگاروں کی مدد کرنے والا [۱۹۹] ﴿72﴾

    بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ ہے تین میں کا ایک [۲۰۰] حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے اور اگر نہ باز آویں گے اس بات سے کہ کہتے ہیں تو بیشک پہنچے گا ان میں سےکفر پر قائم رہنے والوں کو عذاب دردناک ﴿73﴾

    کیوں نہیں توبہ کرتے اللہ کے آگے اور گناہ بخشواتے اس سے اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۲۰۱] ﴿74﴾

    نہیں ہے مسیح مریم کا بیٹا مگر رسول گذر چکے اس سے پہلے بہت رسول [۲۰۲] اور اسکی ماں ولی ہے [۲۰۳] دونوں کھاتےتھے کھانا دیکھ ہم کیسے بتلاتے ہیں ان کو دلیلیں پھر دیکھ وہ کہاں الٹے جارہے ہیں [۲۰۴] ﴿75﴾

    تو کہہ دے کیا تم ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے برے کی اور نہ بھلے کی اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا [۲۰۵] ﴿76﴾

    تو کہہ اے اہل کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں ناحق کا [۲۰۶] اور مت چلو خیالات پر ان لوگوں کے جو گمراہ ہو چکے پہلے اور گمراہ کر گئے بہتوں کو اور بہک گئے سیدھی راہ سے [۲۰۷] ﴿77﴾

    ملعون ہوئے کافر بنی اسرائیل میں کے داؤد کی زبان پر اور عیسٰی بیٹے مریم کے یہ اس لئے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گذر گئےتھے [۲۰۸] ﴿78﴾

    آپس میں منع نہ کرتے برے کام سے جو وہ کر رہے تھے [۲۰۹] کیا ہی برا کام ہے جو کرتے تھے ﴿79﴾

    تو دیکھتا ہے ان میں کہ بہت سے لوگ دوستی کرتے ہیں کافروں سے [۲۱۰] کیا ہی برا سامان بھیجا انہوں نے اپنے واسطے وہ یہ کہ اللہ کا غضب ہوا ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں [۲۱۱] ﴿80﴾

    اور اگر وہ یقین رکھتے اللہ پر اور نبی پر اور جو نبی پر اترا تو کافروں کو دوست نہ بناتے [۲۱۲] لیکن ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیں [۲۱۳] ﴿81﴾

    تو پاوے گا سب لگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا یہودیوں کو اور مشرکوں کو اور تو پاوے گا سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس واسطے کہ نصاریٰ میں عالم ہیں اور درویش ہیں اور اس واسطے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ﴿82﴾

    اور جب سنتے ہیں اس کو جو اترا رسول پر تو دیکھے تو ان کی آنکھوں کو کہ ابلتی ہیں آنسوؤں سے اس وجہ سے کہ انہوں نے پہچان لیا حق بات کو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے سو تو لکھ ہم کو ماننے والوں کے ساتھ ﴿83﴾

    اور ہم کو کیا ہوا کہ یقین نہ لاویں اللہ پر اور اس چیز پر جو پہنچی ہم کو حق سےاور توقع رکھیں اسکی کہ داخل کرے ہم کو رب ہمارا ساتھ نیک بختوں کے ﴿84﴾

    پھر انکو بدلے میں دیے اللہ نے اس کہنے پر ایسے باغ کہ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں ان میں ہی اور یہ ہے بدلا نیکی کرنے والوں کا ﴿85﴾

    اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلانےلگے ہمای آیتوں کو وہ ہیں دوزخ کے رہنے والے [۲۱۴] ﴿86﴾

    اے ایمان والو مت حرام ٹھہراؤ وہ لذیذ چیزیں جو اللہ نے تمہارے لئےحلال کردیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک اللہ پسند نہیں کرتا حد سے بڑھنے والوں کو ﴿87﴾

    اور کھاؤ اللہ کے دیے ہوئے میں سے جو چیز حلال پاکیزہ ہو اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو [۲۱۵] ﴿88﴾

    نہیں پکڑتا اللہ تم کو تمہاری بیہودہ قسموں پر [۲۱۶] لیکن پکڑتا ہے اس پر جس قسم کو تم نے مضبوط باندھا سو اس کا کفارہ کھانا دینا ہے دس محتاجوں کو اوسط درجہ کا کھانا جو دیتے ہو اپنے گھر والوں کو [۲۱۷] یا کپڑا پہنا دینا دس محتاجوں کو [۲۱۸] یا ایک گردن آزاد کرنی [۲۱۹] پھر جس کو میسر نہ ہوتو روزے رکھنے ہیں تین دن کے [۲۲۰] یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھا بیٹھو اور حفاطت رکھو اپنی قسموں کی [۲۲۱] اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لئے اپنے حکم تاکہ تم احسان مانو [۲۲۲] ﴿89﴾

    اے ایمان والو یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور پانسے [۲۲۳] سب گندے کام ہیں شیطان کے سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ [۲۲۴] ﴿90﴾

    شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب اور جوئے کے اور روکےتم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے سو اب بھی تم باز آؤ گے [۲۲۵] ﴿91﴾

    اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور بچتے رہو پھر اگر تم پھر جاؤ گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف پہنچا دینا ہے کھول کر [۲۲۶] ﴿92﴾

    جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کئے ان پر گناہ نہیں اس میں جو کچھ پہلے کھا چکے جب کہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور عمل نیک کئے پھر ڈرتے رہے اور یقین کیا پھر ڈرتے رہے اور نیکی کی اور اللہ دوست رکھتا ہےنیکی کرنے والوں کو [۲۲۷] ﴿93﴾

    اے ایمان والو البتہ تم کو آزماوے گا اللہ ایک بات سے اس شکار میں کہ جس پر پہنچے ہیں ہاتھ تمہارے اور نیزےتمہارے [۲۲۸] تاکہ معلوم کرے اللہ کون اس سے ڈرتا ہے بن دیکھے [۲۲۹] پھر جس نے زیادتی کی اس کے بعد تو اس کے لئے عذاب دردناک ہے ﴿94﴾

    اے ایمان والو نہ مارو شکار جس وقت تم ہو احرام میں [۲۳۰] اور جو کوئی تم میں اس کو مارے جان کر [۲۳۱] تو اس پر بدلا ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے جو تجویز کریں دو آدمی معتبر تم میں سے اس طرح سے کہ وہ جانور بدلے کا بطور نیاز پہنچایا جاوے کعبہ تک یا اس پر کفارہ ہے چند محتاجوں کو کھلانا یا اس کےبرابر روزے تاکہ چکھے سزا اپنے کام کی [۲۳۲] اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہو چکا [۲۳۳] اور جو کوئی پھر کرے گا اس سے بدلا لے گا اللہ اور اللہ زبردست ہے بدلا لینے والا [۲۳۴] ﴿95﴾

    حلال ہوا تمہارے لئے دریا کا شکار اور دریا کا کھانا تمہارے فائدہ کے واسطے اور سب مسافروں کے اور حرام ہوا تم پر جنگل کا شکار جب تک تم احرام میں رہو اور ڈرتے رہو اللہ سےجس کے پاس تم جمع ہو گے [۲۳۵] ﴿96﴾

    اللہ نے کر دیا کعبہ کو جو کہ گھر ہے بزرگی والا قیام کا باعث لوگوں کے لئے اور بزرگی والے مہینوں کو اور قربانی کو جو نیاز کعبہ کی ہو اور جنکے گلے میں پٹہ ڈال کر لیجاویں کعبہ کو [۲۳۶] یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ بیشک اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے [۲۳۷] ﴿97﴾

    جان لو کہ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے اور بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۳۸] ﴿98﴾

    رسول کے ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر میں کرتے ہو اور جو چھپا کر کرتے ہو [۲۳۹] ﴿99﴾

    تو کہہ دے کہ برابر نہیں ناپاک اور پاک اگرچہ تجھ کو بھلی لگے ناپاک کی کثرت سو ڈرتے رہو اللہ سے اے عقلمندو تاکہ تمہاری نجات ہو [۲۴۰] ﴿100﴾

    اے ایمان والو مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جاویں تو تم کو بری لگیں اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جاویں گی [۲۴۱] اللہ نے ان سے درگذر کی ہے [۲۴۲] اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے ﴿101﴾

    ایسی باتیں پوچھ چکی ہے ایک جماعت تم سے پہلے پھر ہو گئے ان باتوں سے منکر [۲۴۳] ﴿102﴾

    نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حامی و لیکن کافر باندھتے ہیں اللہ پر بہتان اور ان میں اکثروں کو عقل نہیں [۲۴۴] ﴿103﴾

    اور جب کہا جاتا ہے ان کو آؤ اسکی طرف جو کہ اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں ہم کو کافی ہے وہ جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگر انکے باپ دادے نہ کچھ علم رکھتے ہوں اور نہ راہ جانتے ہوں تو بھی ایسا ہی کریں گے [۲۴۵] ﴿104﴾

    اے ایمان والو تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی گمراہ ہوا جبکہ تم ہوئے راہ پر [۲۴۶] اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے تم سب کو پھر وہ جتلاوے گا تمکو جو کچھ تم کرتےتھے [۲۴۷] ﴿105﴾

    اے ایمان والو گواہ درمیان تمہارے جبکہ پہنچے کسی کو تم میں موت وصیت کے وقت دو شخص معتبر ہونے چاہئیں [۲۴۸] تم میں سے [۲۴۹] یا دو شاہد اور ہوں تمہارے سوا [۲۵۰] اگر تم نے سفر کیا ہو ملک میں پھرپہنچے تم کو مصیبت موت کی تو کھڑا کرو ان دونوں کو بعد نماز کے [۲۵۱] وہ دونوں قسم کھاویں اللہ کی اگر تم کو شبہ پڑے کہیں کہ ہم نہیں لیتے قسم کے بدلے مال اگرچہ کسی کو ہم سے قرابت بھی ہو اور ہم نہیں چھپاتے اللہ کی گواہی نہیں تو ہم بیشک گنہگار ہیں [۲۵۲] ﴿106﴾

    پھر اگر خبر ہو جاوے کہ وہ دونوں حق بات دبا گئے تو دو گواہ اور کھڑے ہوں ان کی جگہ [۲۵۳] ان میں سے کہ جن کا حق دبا ہے جو سب سے زیادہ قریب ہوں میت کے پھر قسم کھاویں اللہ کی کہ ہماری گواہی تحقیقی ہے پہلوں کی گواہی سے اور ہم نے زیادتی نہیں کی نہیں تو ہم بیشک ظالم ہیں [۲۵۴] ﴿107﴾

    اس میں امید ہے کہ ادا کریں شہادت کو ٹھیک طرح پر اور ڈریں کہ الٹی پڑے گی قسم ہماری ان کی قسم کے بعد [۲۵۵] اور ڈرتے رہو اللہ سے اور سن رکھو اور اللہ نہیں چلاتا سیدھی راہ پر نافرمانوں کو [۲۵۶] ﴿108﴾

    جس دن اللہ جمع کرے گا سب پیغمبروں کو پھر کہے گا تم کو کیا جواب ملا تھا [۲۵۷] وہ کہیں گے ہم کو خبر نہیں [۲۵۸] تو ہی ہے چھپی باتوں کو جاننے والا ﴿109﴾

    جب کہے گا اللہ [۲۵۹] اے عیسٰی مریم کے بیٹے یاد کر میرا احسان جو ہوا ہے تجھ پر اور تیری ماں پر [۲۶۰] جب مدد کی میں نے تیری روح پاک سے تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں اور جب سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور تہہ کی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی صورت میرے حکم سے پھر پھونک مارتا تھا اسمیں تو ہو جاتا اڑنے والا میرے حکم سے اور اچھا کرتا تھا مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے او رجب نکال کھڑا کرتا تھا مردوں کو میرے حکم سے [۲۶۱] اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا انکے پاس نشانیاں تو کہنے لگے جو کافر تھے ان میں اور کچھ نہیں یہ تو جادو ہے صریح [۲۶۲] ﴿110﴾

    اور جب میں نے دل میں ڈال دیا حواریوں کے کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہنے لگے ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم فرمانبردار ہیں ﴿111﴾

    جب کہا حواریوں نے اے عیسٰی مریم کے بیٹے تیرا رب کر سکتا ہے [۲۶۳] کہ اتارے ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے [۲۶۴] بولا ڈرو اللہ سے اگر ہو تم ایمان والے [۲۶۵] ﴿112﴾

    بولے کہ ہم چاہتے ہیں کہ کھاویں اس میں سے اور مطمئن ہو جاویں ہمارے دل اور جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا او رہیں ہم اس پر گواہ [۲۶۶] ﴿113﴾

    کہا عیسٰی مریم کے بیٹے نے اے اللہ رب ہمارے اتار ہم پر خوان بھرا ہوا آسمان سے کہ وہ دن عید رہے ہماری پہلوں او رپچھلوں کے واسطے [۲۶۷] اور نشانی ہو تیری طرف سے [۲۶۸] اور روزی دے ہم کو اور تو ہی ہے سب سے بہتر روزی دینے والا [۲۶۹] ﴿114﴾

    کہا اللہ نے میں بیشک اتاروں گا وہ خوان تم پر پھر جو کوئی تم میں ناشکری کرے گا اس کے بعد تو میں اس کو وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دوں گا جہان میں [۲۷۰] ﴿115﴾

    اور جب کہے گا اللہ اے عیسٰی مریم کے بیٹے تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہرا لو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے [۲۷۱] کہا تو پاک ہے مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے بیشک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کا [۲۷۲] ﴿116﴾

    میں نے کچھ نہیں کہا انکو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا [۲۷۳] اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے [۲۷۴] ﴿117﴾

    اگر تو انکو عذاب دے تو وہ بندے ہیں تیرے اور اگر تو ان کو معاف کر دے تو تو ہی ہے زبردست حکمت والا [۲۷۵] ﴿118﴾

    فرمایا اللہ نے یہ دن ہے کہ کام آوے گا سچوں کے ان کا سچ [۲۷۶] انکے لئے ہیں باغ جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں رہا کریں گے انہی میں ہمیشہ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے یہی ہے بڑی کامیابی [۲۷۷] ﴿119﴾

    اللہ ہی کے لئے سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے [۲۷۸] ﴿120﴾

    Surah 6
    الانعام

    [۱] سب تعریفیں اللہ کےلئے ہیں جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور بنایا اندھیرا اور اجالا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کےساتھ اوروں کو برابر کئے دیتے ہیں [۲] ﴿1﴾

    وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے پھر مقرر کر دیا ایک وقت اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک پھر بھی تم شک کرتے ہو [۳] ﴿2﴾

    اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں [۴] جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۵] ﴿3﴾

    اور نہیں آتی انکے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر کرتے ہیں اس سے تغافل [۶] ﴿4﴾

    سو بیشک جھٹلایا انہوں نے حق کو جب ان تک پہنچا سو اب آئی جاتی ہے انکے آگے حقیقت اس بات کی جس پر ہنستے تھے [۷] ﴿5﴾

    کیا دیکھتے نہیں کہ کتنی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں جن کو جما دیا تھا ہم نے ملک میں اتنا کہ جتنا تم کو نہیں جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے پھر ہلاک کیا ہم نے انکو انکے گناہوں پر اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد اور امتوں کو [۸] ﴿6﴾

    اور اگر اتاریں ہم تجھ پر لکھا ہوا کاغذ میں پھر چھو لیویں وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے البتہ کہیں گے کافر یہ نہیں ہے مگر صریح جادو [۹] ﴿7﴾

    اور کہتے ہیں کیوں نہیں اترا اس پر کوئی فرشتہ [۱۰] اور اگر ہم اتاریں فرشتہ تو طے ہو جاوے قصہ پھر ان کو مہلت بھی نہ ملے [۱۱] ﴿8﴾

    اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور انکو اسی شبہہ میں ڈالتے جس میں اب پڑ رہے ہیں [۱۲] ﴿9﴾

    اور بلاشبہہ ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے پھرگھیر لیا ان سے ہنسی کرنے والوں کو اس چیز نے کہ جس پر ہنسا کرتے تھے [۱۳] ﴿10﴾

    تو کہہ دے کہ سیر کرو ملک میں پھر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا [۱۴] ﴿11﴾

    پوچھ کہ کس کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں اور زمین میں کہہ دے اللہ کا ہے اس نے لکھی ہے اپنے ذمہ مہربانی البتہ تم کو اکٹھا کر دے گا قیامت کے دن تک کہ اس میں کچھ شک نہیں جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے [۱۵] ﴿12﴾

    اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں اور وہی ہے سب کچھ سننے والا جاننے والا ﴿13﴾

    تو کہہ دے کیا اور کسی کو بناؤں اپنا مددگار اللہ کے سوا جو بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا [۱۶] اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اسکو کوئی نہیں کھلاتا [۱۷] کہہ دے مجھ کو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں [۱۸] اور تو ہرگز نہ ہو شرک والا ﴿14﴾

    تو کہہ میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بڑے دن کے عذاب سے [۱۹] ﴿15﴾

    جس پر سے ٹل گیا وہ عذاب اس دن تو اس پر رحم کر دیا اللہ نے اور یہی ہے بڑی کامیابی [۲۰] ﴿16﴾

    اور اگر پہنچاوے تجھ کو اللہ کچھ سختی تو کوئی اسکو دور کرنے والا نہیں سوا اسکے اور اگر تجھ کو پہنچاوےبھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿17﴾

    اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے بڑی حکمت والا سب کی خبر رکھنے والا [۲۱] ﴿18﴾

    تو پوچھ سب سے بڑا کون ہے کہہ دے اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان [۲۲] اور اترا ہے مجھ پر یہ قرآن تاکہ تم کو اس سے خبردار کر دوں اور جس کو یہ پہنچے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ معبود اور بھی ہیں تو کہہ دے میں تو گواہی نہ دوں گا کہہ دے وہی ہے معبود ایک اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے [۲۳] ﴿19﴾

    جن کو ہم نے دی ہے کتاب وہ پہچانتے ہیں اسکو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے [۲۴] ﴿20﴾

    اور اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر یا جھٹلا دے اسکی آیتوں کو بلاشک بھلائی نصیب نہیں ہوتی ظالموں کو [۲۵] ﴿21﴾

    اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا تھا کہاں ہیں شریک تمہارے جن کا تم کو دعویٰ تھا [۲۶] ﴿22﴾

    پھر نہ رہے گا انکے پاس کوئی فریب مگر یہی کہ کہیں گے قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم نہ تھے شرک کرنے والے [۲۷] ﴿23﴾

    دیکھو تو کیسا جھوٹ بولے اپنے اوپر اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو بنایا کرتے تھے [۲۸] ﴿24﴾

    اور بعضے ان میں کان لگائے رہتے ہیں تیری طرف اور ہم نے ان کے دلوں پر ڈال رکھے ہیں پردے تاکہ اس کو نہ سمجھیں اور رکھ دیا انکےکانوں میں بوجھ اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیاں تو بھی ایمان نہ لاویں ان پر [۲۹] یہاں تک کہ جب آتے ہیں تیرے پاس تجھ سےجھگڑنے کو تو کہتے ہیں وہ کافر نہیں ہے یہ مگر کہانیاں پہلے لوگوں کی ﴿25﴾

    اور یہ لوگ روکتے ہیں اس سے اور بھاگتے ہیں اس سے اور نہیں ہلاک کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے [۳۰] ﴿26﴾

    اور اگر تو دیکھے جس وقت کہ کھڑے کئے جاویں گے وہ دوزخ پر پس کہیں گے اے کاش ہم پھر بھیجدئے جاویں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جاویں ہم ایمان والوں میں [۳۱] ﴿27﴾

    کوئی نہیں بلکہ ظاہر ہو گیا جو چھپاتے تھے پہلے [۳۲] اور اگر پھر بھیجے جاویں تو پھر بھی وہی کام کریں جس سے منع کئے گئے تھے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں [۳۳] ﴿28﴾

    اور کہتے ہیں ہمارےلئے زندگی نہیں مگر یہی دنیا کی اور ہم کو پھر نہیں زندہ ہونا [۳۴] ﴿29﴾

    اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت وہ کھڑے کئے جاویں گے اپنے رب کے سامنے فرمائے گا کیا یہ سچ نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے اپنے رب کی فرمائے گا تو چکھو عذاب بدلے میں اپنے کفر کے [۳۵] ﴿30﴾

    تباہ ہوئے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ جانا ملنا اللہ کا یہاں تک کہ جب آ پہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اے افسوس کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی اور وہ اٹھاویں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر خبردار ہو جاؤ کہ برا بوجھ ہے جس کو وہ اٹھاویں گے [۳۶] ﴿31﴾

    اور نہیں ہے زندگانی دنیا کی مگر کھیل اور جی بھلانا اور آخرت کا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کے لئے کیا تم نہیں سمجھتے [۳۷] ﴿32﴾

    ہم کو معلوم ہے کہ تجھ کو غم میں ڈالتی ہیں ان کی باتیں سو وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ﴿33﴾

    اور جھٹلائے گئے ہیں بہت سے رسول تجھ سے پہلے پس صبر کرتے رہے جھٹلانے پر اور ایذا پر یہاں تک کہ پہنچی ان کو مدد ہماری اور کوئی نہیں بدل سکتا للہ کی باتیں اور تجھ کو پہنچ چکے ہیں کچھ حالات رسولوں کے [۳۸] ﴿34﴾

    اور اگر تجھ پر گراں ہے ان کا منہ پھیرنا تو اگر تجھ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالے کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لاوے انکے پاس ایک معجزہ اور اگر اللہ چاہتا تو جمع کر دیتا سب کو سیدھی راہ پر سو تو مت ہو نادانوں میں [۳۹] ﴿35﴾

    مانتے وہی ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو زندہ کرے گا اللہ پھر اسکی طرف لائے جاویں گے [۴۰] ﴿36﴾

    اور کہتےہیں کیوں نہیں اتری اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے [۴۱] کہہ دے کہ اللہ کو قدرت ہے اس بات پر کہ اتارے نشانی لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے [۴۲] ﴿37﴾

    اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو بازوؤں سے مگر ہر ایک امت ہے تمہاری طرح ہم نےنہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے [۴۳] ﴿38﴾

    اور جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں [۴۴] جسکو چاہے اللہ گمراہ کرے [۴۵] اور جس کو چاہے ڈال دے سیدھی راہ پر ﴿39﴾

    تو کہہ دیکھو تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا یا آوے تم پر قیامت کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے بتاؤ اگر تم سچے ہو ﴿40﴾

    بلکہ اسی کو پکارتے ہو پھر دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اسکو پکارتے ہو اگر چاہتا ہے اور تم بھول جاتے ہو جنکو شریک کرتے تھے [۴۶] ﴿41﴾

    اور ہم نے رسول بھیجے تھے بہت سی امتوں پر تجھ سے پہلے پھر ان کو پکڑا ہم نے سختی میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑاویں ﴿42﴾

    پھر کیوں نہ گڑگڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا لیکن سخت ہو گئے دل انکے اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے ﴿43﴾

    پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو انکو کی گئ تھی کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو انکو دی گئیں پکڑ لیا ہم نے انکو اچانک پس اس وقت وہ رہ گئے نا امید [۴۷] ﴿44﴾

    پھر کٹ گئ جڑ ان ظالموں کی اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہان کا [۴۸] ﴿45﴾

    تو کہہ دیکھو تو اگر چھین لے اللہ تمہارےکان اور آنکھیں اور مہر کر دے تمہارے دلوں پر [۴۹] تو کون ایسا رب ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دیوے [۵۰] دیکھ ہم کیونکر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں پھر بھی وہ کنارہ کرتے ہیں ﴿46﴾

    تو کہہ دیکھو تو اگر آوے تم پر عذاب اللہ کا اچانک [۵۱] یا ظاہر ہو کر تو کون ہلاک ہو گا ظالم لوگوں کےسوا [۵۲] ﴿47﴾

    اور ہم رسول نہیں بھیجتے مگر خوشی اور ڈر سنانے کو پھر جو کوئی ایمان لایا اور سنور گیا تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں ﴿48﴾

    اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو انکو پہنچے گا عذاب اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے [۵۳] ﴿49﴾

    تو کہہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں جانوں غیب کی بات اور نہ میں کہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں [۵۴] میں تو اسی پر چلتا ہوں جو میرے پاس اللہ کا حکم آتا ہے تو کہہ دے کب برابر ہو سکتا ہے اندھا اور دیکھنے والا سو کیا تم غور نہیں کرتے [۵۵] ﴿50﴾

    اور خبردار کر دے اس قرآن سے ان لوگوں کو جنکو ڈر ہے اسکا کہ وہ جمع ہونگے اپنے رب کے سامنے اس طرح پر کہ اللہ کے سوا نہ کوئی انکا حمایتی ہو گا اور نہ سفارش کرنے والا [۵۶] تاکہ وہ بچتے رہیں [۵۷] ﴿51﴾

    اور مت دور کر ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام اور چاہتے ہیں اسی کی رضا [۵۸] تجھ پر نہیں ہے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر ہے کچھ کہ تو ان کو دور کرنے لگے پس ہو جاوے گا تو بے انصافوں میں [۵۹] ﴿52﴾

    اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعضے لوگوں کو بعضوں سے تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے فضل کیا ہم سب میں کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو [۶۰] ﴿53﴾

    اور جب آویں تیرے پاس ہماری آیتوں کے ماننے والے تو کہہ دے تو سلام ہے تم پر لکھ لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو کہ جو کوئی کرے تم میں سے برائی ناواقفیت سے پھر اس کے بعد توبہ کر لے اور نیک ہو جائے تو بات یہ ہےکہ وہ ہے بخشنے والا مہربان ﴿54﴾

    اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتوں کو اور تاکہ کھل جاوےطریقہ گنہگاروں کا [۶۱] ﴿55﴾

    تو کہہ دے مجھ کو روکا گیا ہے اس سے کہ بندگی کروں انکی جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا تو کہہ میں نہیں چلتا تمہاری خوشی پر بیشک اب تو میں بہک جاؤں گا اور نہ رہوں گا ہدایت پانے والوں میں [۶۲] ﴿56﴾

    تو کہہ دے کہ مجھ کو شہادت پہنچی میرے رب کی اور تم نے اسکو جھٹلایا [۶۳] میرے پاس نہیں جس چیز کی تم جلدی کر رہے ہو [۶۴] حکم کسی کا نہیں سوا اللہ کے بیان کرتا ہے حق بات اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے ﴿57﴾

    تو کہہ اگر ہوتی میرے پاس وہ چیز جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہو چکا ہوتا جھگڑا درمیان میرے اور درمیان تمہارے [۶۵] اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو ﴿58﴾

    اور اُسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی کہ انکو کوئی نہیں جانتا اسکے سوا اور وہ جانتا ہے جو کچھ جنگل اور دریا میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتا مگر وہ جانتا ہے اسکو اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے [۶۶] ﴿59﴾

    اور وہ ہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں [۶۷] اور جانتا ہے جو کچھ کہ تم کر چکے ہو دن میں [۶۸] پھر تم کو اٹھا دیتا ہے اُس میں تاکہ پورا ہو وہ وعدہ جو مقرر ہو چکا ہے [۶۹] پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے پھر خبر دے گا تم کو اس کی جو کچھ تم کرتے ہو [۷۰] ﴿60﴾

    اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان [۷۱] یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضہ میں لے لیتے ہیں اسکو ہمارے بھیجے ہوئےفرشتے [۷۲] اور وہ کوتاہی نہیں کرتے [۷۳] ﴿61﴾

    پھر پہنچائے جاویں گے اللہ کی طرف جو مالک انکا ہے سچا سن رکھو حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے [۷۴] ﴿62﴾

    تو کہہ کون تم کو بچا لاتا ہے جنگل کے اندھیروں سے اور دریا کے اندھیروں سے اس وقت میں کہ پکارتے ہو تم اسکو گڑا گڑا کر اور چپکے سے کہ اگر ہم کو بچا لیوے اس بلا سے تو البتہ ہم ضرور احسان مانیں گے ﴿63﴾

    تو کہہ دے اللہ تم کو بچاتا ہے اس سے اور ہر سختی سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو [۷۵] ﴿64﴾

    تو کہہ اسی کو قدرت ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب [۷۶] اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا بھڑا دے تم کو مختلف فرقے کر کے اور چکھاوے ایک کو لڑائی ایک کی [۷۷] دیکھ کس کس طرح ہم بیان کرتے ہیں آیتوں کو تاکہ وہ سمجھ جاویں [۷۸] ﴿65﴾

    اور اسکو جھوٹ بتلایا تیری قوم نے حالانکہ وہ حق ہے تو کہہ دے کہ میں نہیں تم پر داروغہ ﴿66﴾

    ہر ایک خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور قریب ہے کہ اس کو جان لو گے [۷۹] ﴿67﴾

    اور جب تو دیکھے ان لوگوں کہ کہ جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ کر یہاں تک کہ مشغول ہو جاویں کسی اور بات میں اور اگر بھلا دے تجھ کو شیطان تو مت بیٹھ یاد آجانے کے بعد ظالموں کےساتھ [۸۰] ﴿68﴾

    اور پرہیزگاروں پر نہیں ہے جھگڑنے والوں کے حساب میں سے کوئی چیز لیکن انکے ذمہ نصیحت کرنی ہے تاکہ وہ ڈریں [۸۱] ﴿69﴾

    اور چھوڑ دے انکو جنہوں نے بنا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل اور تماشا [۸۲] اور دھوکا دیا انکو دنیا کی زندگی نے [۸۳] اور نصیحت کر انکو قرآن سے تاکہ گرفتار نہ ہو جاوے کوئی اپنے کئے میں کہ نہ ہو اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر بدلے میں دے سارے بدلے تو قبول نہ ہوں اس سے [۸۴] وہی لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے میں انکو پینا ہے گرم پانی اور عذاب ہے دردناک بدلے میں کفر کے [۸۵] ﴿70﴾

    تو کہہ دے کیا ہم پکاریں اللہ کےسوا ان کو جو نہ نفع پہنچا سکیں ہم کو اور نہ نقصان اور کیا پھر جاویں ہم الٹے پاؤں اسکے بعد کہ اللہ سیدھی راہ دکھا چکا ہم کو مثل اس شخص کے کہ رستہ بھلا دیا ہو اسکو جنوں نے جنگل میں جبکہ وہ حیران ہے اس کے رفیق بلاتے ہیں اسکو رستہ کی طرف کہ چلا آ ہمارے پاس [۸۶] تو کہہ دے کہ اللہ نے جو راہ بتلائی وہی سیدھی راہ ہے [۸۷] اور ہم کو حکم ہوا ہے کہ تابع رہیں پروردگار عالم کے ﴿71﴾

    اور یہ کہ قائم رکھو نماز کو اور ڈرتے رہو اللہ سے اور وہی ہے جس کے سامنے تم سب اکھٹے ہو گے ﴿72﴾

    اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر اور جس دن کہے گا کہ ہو جا [۸۸] تو وہ ہو جائے گا اسی کی بات سچی ہے اور اسی کی سلطنت ہے جس دن پھونکا جائے گا صور [۸۹] جاننے والا چھپی اور کھلی باتوں کا اور وہی ہے حکمت والا جاننے والا [۹۰] ﴿73﴾

    اور یاد کرو جب کہا ابراہیم نے [۹۱] اپنے باپ آزر کو [۹۲] تو کیا مانتا ہے بتوں کو خدا میں دیکھتا ہوں کہ تو اور تیری قوم صریح گمراہ ہیں [۹۳] ﴿74﴾

    اور اسی طرح ہم دکھانے لگے ابراہیم کو عجائبات آسمانوں اور زمینوں کے اور تاکہ اس کو یقین آ جاوے [۹۴] ﴿75﴾

    پھر جب اندھیرا کر لیا اس پر رات نے دیکھا اس نے ایک ستارہ بولا یہ ہے رب میرا پھر جب وہ غائب ہو گیا تو بولا میں پسند نہیں کرتا غائب ہو جانے والوں کو [۹۵] ﴿76﴾

    پھر جب دیکھا چاند چمکتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا پھر جب وہ غائب ہو گیا بولا اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو رب میرا تو بیشک میں رہوں گا گمراہ لوگوں میں [۹۶] ﴿77﴾

    پھر جب دیکھا سورج جھلکھتا ہوا بولا یہ ہے رب میرا یہ سب سے بڑا ہے [۹۷] پھر جب وہ غائب ہو گیا بولا اے میری قوم میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو [۹۸] ﴿78﴾

    میں نے متوجہ کر لیا اپنے منہ کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والا [۹۹] ﴿79﴾

    اور اس سے جھگڑا کیا اسکی قوم نے بولا کیا تم مجھ سے جھگڑا کرتے ہو اللہ کے ایک ہونے میں اور وہ مجھ کو سمجھا چکا [۱۰۰] اور میں ڈرتا نہیں ہوں ان سے جنکو تم شریک کرتے ہو اس کا مگر یہ کہ میرا رب ہی کوئی تکلیف پہنچانی چاہے احاطہ کر لیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا کیا تم نہیں سوچتے [۱۰۱] ﴿80﴾

    اور میں کیونکر ڈروں تمہارے شریکوں سے اور تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ شریک کرتے ہو اللہ کا انکو جسکی نہیں اتاری اس نے تم پر کوئی دلیل [۱۰۲] اب دونوں فرقوں میں کون مستحق ہے دل جمعی کا بولو اگر تم سمجھ رکھتے ہو ﴿81﴾

    جو لوگ یقین لے آئے اور نہیں ملا دیا انہوں نے اپنے یقین میں کوئی نقصان انہی کے واسطے ہے دل جمعی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر [۱۰۳] ﴿82﴾

    اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے دی تھی ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں درجے بلندکرتے ہیں ہم جس کے چاہیں تیرا رب حکمت والا ہے جاننے والا [۱۰۴] ﴿83﴾

    اور بخشا ہم نے ابراہیم کو اسحٰق اور یعقوب سب کو ہم نے ہدایت دی [۱۰۵] اور نوح کو ہدایت کی ہم نے ان سب سے پہلے [۱۰۶] اور اسکی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان کو اور ایوب اور یوسف کو اور موسٰی اور ہارون کو [۱۰۷] اور ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتےہیں نیک کام والوں کو ﴿84﴾

    اور زکریا اور یحیٰی اور عیسٰی اور الیاس کو سب ہیں نیک بختوں میں ﴿85﴾

    اور اسمٰعیل اور الیسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر [۱۰۸] ﴿86﴾

    اور ہدایت کی ہم نے بعضوں کو انکے باپ دادوں میں سے اور انکی اولاد میں سےاور بھائیوں میں سے اور انکو ہم نے پسند کیا اور سیدھی راہ چلایا ﴿87﴾

    یہ اللہ کی ہدایت ہے اس پر چلاتا ہے جسکو چاہے اپنے بندوں میں سے [۱۰۹] اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو البتہ ضائع ہو جاتا جو کچھ انہوں نے کیا تھا [۱۱۰] ﴿88﴾

    یہ لوگ تھے جن کو دی ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت پھر اگر ان باتوں کو نہ مانیں مکہ والے تو ہم نے ان باتوں کے لئے مقرر کر دیے ہیں ایسے لوگ جو ان سے منکر نہیں [۱۱۱] ﴿89﴾

    یہ وہ لوگ تھے جن کو ہدایت کی اللہ نے سو تو چل ان کے طریقہ پر [۱۱۲] تو کہہ دے کہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری یہ تو محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کو [۱۱۳] ﴿90﴾

    اور نہیں پہچانا انہوں نے اللہ کو پورا پہچاننا جب کہنے لگے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز [۱۱۴] پوچھ تو کس نے اتاری وہ کتاب جو موسٰی لے کر آیا تھا روشن تھی اور ہدایت تھی لوگوں کے واسطے جس کو تم نے ورق ورق کر کے لوگوں کو دکھلایا اور بہت سی باتوں کو تم نے چھپا رکھا اور تم کو سکھلا دیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمہارے باپ دادے [۱۱۵] تو کہہ دے کہ اللہ نےاتاری پھر چھوڑ دے ان کو اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں [۱۱۶] ﴿91﴾

    اور یہ قرآن وہ کتاب ہے جو کہ ہم نے اتاری برکت والی تصدیق کرنے والی ان کی جو اس سے پہلی ہیں [۱۱۷] اور تاکہ تو ڈرا دے مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس والوں کو [۱۱۸] اور جن کو یقین ہے آخرت کا وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ ہیں اپنی نماز سے خبردار [۱۱۹] ﴿92﴾

    اور اس سے زیادہ ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا کہے مجھ پر وحی اتری اور اس پر وحی نہیں اتری کچھ بھی اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں مثل اسکے جو اللہ نے اتارا [۱۲۰] اور اگر تو دیکھے جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں [۱۲۱] اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں [۱۲۲] آج تم کو بدلے میں ملے گا ذلت کا عذاب [۱۲۳] اس سبب سے کہ تم کہتےتھے اللہ پر جھوٹی باتیں اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے [۱۲۴] ﴿93﴾

    اور البتہ تم ہمارے پاس آ گئے ایک ایک ہو کر جیسے ہم نے پیدا کیا تھا تم کو پہلی بار اور چھوڑ آئے تم جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا اپنی پیٹھ کے پیچھے [۱۲۵] اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارش والوں کو جن کو تم بتلایا کرتے تھے کہ ان کا تم میں ساجھا ہے البتہ منقطع ہو گیا تمہاا علاقہ اور جاتے رہے جو دعوے کہ تم کیا کرتے تھے [۱۲۶] ﴿94﴾

    اللہ ہے کہ پھوڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی نکالتا ہے مردہ سے زندہ اور نکالنے والا ہے زندہ سے مردہ یہ ہے اللہ پھر تم کدھر بہکے جاتے ہو [۱۲۷] ﴿95﴾

    پھوڑ نکالنے والا صبح کی روشنی کا [۱۲۸] اور اسی نے رات بنائی آرام کو اور سورج اور چاند حساب کے لئے یہ اندازہ رکھا ہوا ہے زورآور خبردار کا [۱۲۹] ﴿96﴾

    اور اسی نے بنا دیے تمہارے واسطے ستارے کہ انکے وسیلہ سے راستے معلوم کرو اندھیروں میں جنگل اور دریا کے [۱۳۰] البتہ ہم نے کھول کر بیان کر دیے پتے ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں ﴿97﴾

    اور وہی ہے جس نے تم کو سب کو پیدا کیا ایک شخص سے [۱۳۱] پھر ایک تو تمہارا ٹھکانہ ہے اور ایک امانت رکھے جانے کی جگہ [۱۳۲] البتہ ہم نے کھول کر سنا دیے پتے اس کو جو سوچتے ہیں ﴿98﴾

    اور اسی نے اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے اگنے والی ہر چیز [۱۳۳] پھر نکالی اس میں سے سبز کھیتی جس سے ہم نکالتے ہیں دانے ایک پر ایک چڑھا ہوا اور کھجور کے گابھے میں سے پھل کے گچھے جھکے ہوئے [۱۳۴] اور باغ انگور کے اور زیتون کے اور انار کے آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی [۱۳۵] دیکھو ہر ایک درخت کے پھل کو جب وہ پھل لاتا ہے اور اسکے پکنے کو [۱۳۶] ان چیزوں میں نشانیاں ہیں واسطے ایمان والوں کے [۱۳۷] ﴿99﴾

    اور ٹھہراتے ہیں اللہ کے شریک جنوں کو حالانکہ اس نے انکو پیدا کیا ہے [۱۳۸] اور تراشتے ہیں اسکے واسطے بیٹے اور بیٹیاں جہالت سے [۱۳۹] وہ پاک ہے اور بہت دور ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں [۱۴۰] ﴿100﴾

    نئی طرح پر بنانے والا آسمان اور زمین کا [۱۴۱] کیونکر ہو سکتا ہے اسکے بیٹا حالانکہ اس کی کوئی عورت نہیں اور اس نے بنائی ہر چیز اور وہ ہر چیز سے واقف ہے [۱۴۲] ﴿101﴾

    یہ اللہ تمہارا رب ہے نہیں ہے کوئی معبود سوا اسکے پیدا کرنے والا ہر چیز کا سو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہرچیز پر کارساز ہے [۱۴۳] ﴿102﴾

    نہیں پا سکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پا سکتا ہے آنکھوں کو اور وہ نہایت لطیف اور خبردار ہے [۱۴۴] ﴿103﴾

    تمہارے پاس آ چکیں نشانیاں تمہارے رب کی طرف سے پھر جس نے دیکھ لیا سو اپنے واسطے اور جو اندھا رہا سو اپنے نقصان کو اور میں نہیں تم پر نگہبان [۱۴۵] ﴿104﴾

    اور یوں طرح طرح سے سمجھاتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ کہیں کہ تو نے کسی سے پڑھا ہے اور تاکہ واضح کر دیں ہم اسکو واسطے سمجھ والوں کے [۱۴۶] ﴿105﴾

    تو چل اس پر جو حکم تجھ کو آوے تیرے رب کا کوئی معبود نہیں سوا اسکے اور منہ پھیر لے مشرکوں سے [۱۴۷] ﴿106﴾

    اور اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ شرک نہ کرتے [۱۴۸] اور ہم نے نہیں کیا تجھ کو ان پر نگہبان اور نہیں ہے تو ان پر داروغہ [۱۴۹] ﴿107﴾

    اور تم لوگو برا نہ کہو ان کو جنکی یہ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا پس وہ برا کہنے لگیں گے اللہ کو بے ادبی سے بدون سمجھے [۱۵۰] اسی طرح ہم نے مزین کر دیا ہر ایک فرقہ کی نظر میں انکے اعمال کو پھر ان سب کو اپنے رب کے پاس پہنچنا ہے تب وہ جتلاوے گا انکو جو کچھ وہ کرتے تھے [۱۵۱] ﴿108﴾

    اور وہ قسمیں کھاتےہیں اللہ کی تاکید سے کہ اگر آوے انکے پاس کوئی نشانی تو ضرور اس پر ایمان لاویں گے [۱۵۲] تو کہہ دے کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تم کو اے مسلمانو کیا خبر ہے کہ وہ نشانیاں آئیں گی تو یہ لوگ ایمان لے ہی آویں گے [۱۵۳] ﴿109﴾

    اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے انکو انکی سرکشی میں بہکتے ہوئے [۱۵۴] ﴿110﴾

    اور اگر ہم اتاریں ان پر فرشتے اور باتیں کریں ان سے مردے اور زندہ کر دیں ہم ہر چیز کو ان کےسامنے تو بھی یہ لوگ ہرگز ایمان لانےوالے نہیں مگر یہ کہ چاہے اللہ لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں [۱۵۵] ﴿111﴾

    اور اسی طرح کر دیا ہم نے [۱۵۶] ہر نبی کے لئے دشمن شریر آدمیوں کو اور جنوں کو جو کہ سکھلاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں فریب دینے کے لئے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ لوگ یہ کام نہ کرتے سو تو چھوڑ دے وہ جانیں اور انکا جھوٹ [۱۵۷] ﴿112﴾

    اور اس لئے کہ مائل ہوں ان کی ملمع کی باتوں کی طرف ان لوگوں کے دل جنکو یقین نہیں آخرت کا اور وہ اسکو پسند بھی کر لیں اور کئے جاویں جو کچھ برے کام کر رہے ہیں [۱۵۸] ﴿113﴾

    سو کیا اب اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بناؤں حالانکہ اسی نے اتاری تم پر کتاب واضح اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ نازل ہوئی ہے تیرے رب کی طرف سے ٹھیک سو تو مت ہو شک کرنے والوں میں سے ﴿114﴾

    اور تیرے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی کوئی بدلنے والا نہیں اس کی بات کو اور وہی ہے سننے والا جاننے والا [۱۵۹] ﴿115﴾

    اور اگر تو کہنا مانے گا ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو تجھ کو بہکا دیں گے اللہ کی راہ سے وہ سب تو چلتے ہیں اپنے خیال پر اور سب اٹکل ہی دوڑاتے ہیں [۱۶۰] ﴿116﴾

    تیرا رب خوب جاننے والا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سے اور وہی خوب جاننے والا ہے انکو جو اس کی راہ پر ہیں ﴿117﴾

    سو تم کھاؤ اس جانور میں سے جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا اگر تم کو اس کے حکموں پر ایمان ہے [۱۶۱] ﴿118﴾

    اور کیا سبب کہ تم نہیں کھاتے اس جانور میں سے کہ جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا اور وہ واضح کر چکا ہے جو کچھ کہ اس نے تم پر حرام کیا ہے مگر جب کہ مجبور ہو جاؤ اسکے کھانے پر [۱۶۲] اور بہت لوگ بہکاتے پھرتے ہیں اپنے خیالات پر بغیر تحقیق تیرا رب ہی خوب جانتا ہے حد سے بڑھنے والوں کو [۱۶۳] ﴿119﴾

    اور چھوڑ دو کھلا ہوا گناہ اور چھپا ہوا جو لوگ گناہ کرتے ہیں عنقریب سزا پاویں گے اپنے کئے کی [۱۶۴] ﴿120﴾

    اور اس میں سے نہ کھاؤ جس پر نام نہیں لیا گیا اللہ کا [۱۶۵] اور یہ کھانا گناہ ہے اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے انکا کہا مانا تو تم بھی مشرک ہوئے [۱۶۶] ﴿121﴾

    بھلا ایک شخص جو کہ مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کر دیا اور ہم نے اس کو دی روشنی کہ لئے پھرتا ہے اس کو لوگوں میں برابر ہو سکتا ہےاسکے کہ جس کا حال یہ ہے کہ پڑا ہے اندھیروں میں وہاں سے نکل نہیں سکتا اسی طرح مزین کر دیے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام [۱۶۷] ﴿122﴾

    اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر بستی میں گنہگاروں کے سردار کہ حیلے کیا کریں وہاں اور جو حیلہ کرتے ہیں سو اپنی ہی جان پر اور نہیں سوچتے [۱۶۸] ﴿123﴾

    اور جب آتی ہے انکے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گےجب تک کہ نہ دیا جاوے ہم کو جیسا کچھ کہ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو کہ جہاں بھیجے اپنے پیغام عنقریب پہنچے گی گنہگاروں کو ذلت اللہ کے ہاں اور عذاب سخت اس وجہ سےکہ وہ مکر کرتے تھے [۱۶۹] ﴿124﴾

    سو جس کو اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت کرے تو کھول دیتا ہے اسکے سینہ کو واسطے قبول کرنے اسلام کے اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے کر دیتا ہے اس کےسینہ کو تنگ بے نہایت تنگ گویا وہ زور سے چڑھتا ہے آسمان پر [۱۷۰] اسی طرح ڈالے گا اللہ عذاب کو ایمان نہ لانے والوں پر ﴿125﴾

    اور یہ رستہ ہے تیرے رب کا سیدھا ہم نے واضح کر دیا نشانیوں کو غور کرنے والوں کے واسطے [۱۷۱] ﴿126﴾

    انہی کے لئےہے سلامتی کا گھر اپنے رب کے ہاں اور وہ انکا مددگار ہے بسبب انکے اعمال کے [۱۷۲] ﴿127﴾

    اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو فرمائے گا اے جماعت جنات کی تم نے بہت کچھ تابع کر لئے اپنے آدمیوں میں سے [۱۷۳] اور کہیں گے ان کے دوستدار آدمیوں میں سے اے رب ہمارے کام نکالا ہم میں ایک نے دوسرے سے اور ہم پہنچے اپنے اس وعدہ کو جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا [۱۷۴] فرماوے گا آگ ہے گھر تمہارا رہا کرو گے اسی میں مگر جب چاہے اللہ [۱۷۵] البتہ تیرا رب حکمت والا خبردار ہے [۱۷۶] ﴿128﴾

    اور اسی طرح ہم ساتھ ملاویں گے گنہگاروں کو ایک کو دوسرے سے ان کے اعمال کے سبب [۱۷۷] ﴿129﴾

    اے جماعت جنوں کی اور انسانوں کی کیا نہیں پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تمہی میں سے کہ سناتے تھے تم کو میرے حکم اور ڈراتے تھے تم کو اس دن کے پیش آنے سے [۱۷۸] کہیں گے کہ ہم نے اقرار کر لیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکا دیا دنیا کی زندگی نے [۱۷۹] اور قائل ہو گئے اپنے اوپر اس بات کے کہ وہ کافر تھے [۱۸۰] ﴿130﴾

    یہ اس واسطے کہ تیرا رب ہلاک کرنے والا نہیں بستیوں کو انکے ظلم پر اور وہاں کے لوگ بے خبر ہوں ﴿131﴾

    اور ہر ایک کے لئے درجے ہیں انکے عمل کے اور تیرا رب بیخبر نہیں ان کے کام سے [۱۸۱] ﴿132﴾

    اور تیرا رب بے پروا ہے رحمت والا اگر چاہے تو تم کو لے جاوے اور تمہارے پیچھے قائم کر دے جس کو چاہے جیسا تم کو پیدا کیا اوروں کی اولاد سے ﴿133﴾

    جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے [۱۸۲] ﴿134﴾

    تو کہہ دے اے لوگو تم کام کرتے رہو اپنی جگہ پر میں بھی کام کرتا ہوں سو عنقریب جان لو گے تم کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر بالیقین بھلا نہ ہوگا ظالموں کا [۱۸۳] ﴿135﴾

    اور ٹھہراتے ہیں اللہ کا اس کی پیدا کی ہوئی کھیتی او رمواشی میں ایک حصہ پھر کہتے ہیں یہ حصہ اللہ کا ہے اپنے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے سو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہے وہ تو نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو اللہ کا ہے وہ پہنچ جاتا ہے ان کے شریکوں کی طرف کیا ہی برا انصاف کرتے ہیں [۱۸۴] ﴿136﴾

    اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کی نگاہ میں ان کی اولاد کے قتل کو انکے شریکوں نے تاکہ ان کو ہلاک کریں اور رلا ملا دیں ان پر انکے دین کو [۱۸۵] اور اللہ چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے سو چھوڑ دے وہ جانیں اور انکا جھوٹ [۱۸۶] ﴿137﴾

    اور کہتے ہیں کہ یہ مواشی اور کھیتی ممنوع ہے اس کو کوئی نہ کھاوے مگر جس کو ہم چاہیں انکے خیال کے موافق اور بعضے مواشی کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کیا اور بعض مواشی کے ذبح کے وقت نام نہیں لیتے اللہ کا اللہ پر بہتان باندھ کر عنقریب وہ سزا دے گا انکو اس جھوٹ کی [۱۸۷] ﴿138﴾

    اور کہتے ہیں جو بچہ ان مویشی کے پیٹ میں ہے اس کو تو خاص ہمارے مرد ہی کھاویں اور وہ حرام ہے ہماری عورتوں پر اور جو بچہ مردہ ہو تو اس کے کھانے میں سب برابر ہیں وہ سزا دے گا ان کو ان تقریروں کی وہ حکمت والا جاننے والا ہے [۱۸۸] ﴿139﴾

    بیشک خراب ہوئے جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو نادانی سے بغیر سمجھے اور حرام ٹھہرا لیا اس رزق کو جو اللہ نے انکو دیا بہتان باندھ کر اللہ پر بیشک وہ گمراہ ہوئے اور نہ آئے سیدھی راہ پر [۱۸۹] ﴿140﴾

    اور اسی نے پیدا کئے باغ جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے [۱۹۰] اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں انکے پھل اور پیدا کیا زیتون کو اور انار کو ایک دوسرے کے مشابہ اور جدا جدا بھی [۱۹۱] کھاؤ انکے پھل میں سے جس وقت پھل لاویں اور ادا کرو ان کا حق جس دن ان کو کاٹو اور بیجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے [۱۹۲] ﴿141﴾

    اور پیدا کئے مواشی میں بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے [۱۹۳] کھاؤ اللہ کے رزق میں سے اور مت چلو شیطان کے قدموں پر وہ تمہارا دشمن ہے صریح [۱۹۴] ﴿142﴾

    پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ بھیڑ میں سے دو [۱۹۵] اور بکری میں سے دو پوچھ تو کہ دونوں نر اللہ نے حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے بتلاؤ مجھ کو سند اگر تم سچے ہو [۱۹۶] ﴿143﴾

    اور پیدا کئے اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو پوچھ تو دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ بچہ کہ اس پر مشتمل ہیں بچہ دان دونوں مادہ کے کیا تم حاضر تھے جس وقت تم کو اللہ نے یہ حکم دیا تھا پھر اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بلاتحقیق بیشک اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو [۱۹۷] ﴿144﴾

    تو کہہ دے کہ میں نہیں پاتا اس وحی میں کہ مجھ کو پہنچی ہے کسی چیز کو حرام کھانے والے پر جو اس کو کھاوے مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا گوشت سور کا کہ وہ ناپاک ہے یا ناجائز ذبیحہ جس پر نام پکارا جاوے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی بھوک سے بے اختیار ہو جاوے نہ نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو تیرا رب بڑا معاف کرنے والا ہے نہایت مہربان [۱۹۸] ﴿145﴾

    اور یہود پر ہم نے حرام کیا تھا ہر ایک ناخن والا جانور اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی مگر جو لگی ہو پشت پر یا انتڑیوں پر یا جو چربی کہ ملی ہو ہڈی کے ساتھ یہ ہم نے انکو سزا دی تھی انکی شرارت پر اور ہم سچ کہتے ہیں [۱۹۹] ﴿146﴾

    پھر اگر تجھ کو جھٹلاویں تو کہہ دے کہ تمہارے رب کی رحمت میں بڑی وسعت ہے اور نہیں ٹلے گا اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے [۲۰۰] ﴿147﴾

    اب کہیں گے مشرک اگر اللہ چاہتا تو شرک نہ کرتے ہم اور نہ ہمارےباپ دادے اور نہ ہم حرام کر لیتے کوئی چیز اسی طرح جھٹلایا کئے ان سےاگلے یہاں تک کہ انہوں نے چکھا ہمارا عذاب تو کہہ کچھ علم بھی ہے تمہارے پاس کہ اس کو ہمارے آگے ظاہر کرو تم تو نری اٹکل پر چلتے ہو اور صرف تخمینے ہی کرتے ہو ﴿148﴾

    تو کہہ دے بس اللہ کا الزام پورا ہے سو اگر وہ چاہتا تو ہدایت کر دیتا تم سب کو [۲۰۱] ﴿149﴾

    تو کہہ کہ لاؤ اپنے گواہ جو گواہی دیں اس بات کی اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں بھی تو تو نہ اعتبار کر ان کا اور نہ چل ان کی خوشی پر جنہوں نے جھٹلایا ہمارے حکموں کو اور جو یقین نہینں کرتے آخرت کا اور وہ اپنے رب کے برابر کرتے ہیں اوروں کو [۲۰۲] ﴿150﴾

    تو کہہ تم آؤ میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے کہ شریک نہ کرو اسکے ساتھ کسی چیز کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور مار نہ ڈالو اپنی اولاد کو مفلسی سے ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو [۲۰۳] اور پاس نہ جاؤ بیحیائی کے کام کے جو ظاہر ہو اس میں سے اور جو پوشیدہ ہو [۲۰۴] اور مار نہ ڈالو اس جان کو جس کو حرام کیا ہے اللہ نے مگر حق پر [۲۰۵] تم کو یہ حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو [۲۰۶] ﴿151﴾

    اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طرح سے کہ بہتر ہو یہاں تک کہ پہنچ جاوے اپنی جوانی کو [۲۰۷] اور پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف سے ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جسکی اسکو طاقت ہو [۲۰۸] اور جب بات کہو تو حق کی کہو اگرچہ وہ اپنا قریب ہی ہو [۲۰۹] اور اللہ کا عہد پورا کرو [۲۱۰] تم کو یہ حکم کر دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو ﴿152﴾

    اور حکم کیا کہ یہ راہ ہے میری سیدھی سو اس پر چلو اور مت چلو اور رستوں پر کہ وہ تم کو جدا کر دیں گے اللہ کے راستہ سے [۲۱۱] یہ حکم کر دیا ہے تم کو تاکہ تم بچتے رہو ﴿153﴾

    پھر دی ہم نے موسٰی کو کتاب واسطے پورا کرنے نعمت کے نیک کام والوں پر اور واسطے تفصیل ہر شے کے اور ہدایت اور رحمت کے لئے تاکہ وہ لوگ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں [۲۱۲] ﴿154﴾

    اور ایک یہ کتاب ہے کہ ہم نے اتاری برکت والی سو اس پر چلو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت ہو [۲۱۳] ﴿155﴾

    اس واسطے کہ کبھی تم کہنے لگو کہ کتاب جو اتری تھی سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی [۲۱۴] ﴿156﴾

    یا کہنے لگو کہ اگر ہم پر اترتی کتاب تو ہم تو راہ پر چلتے ان سے بہتر سو آ چکی تمہارے پاس حجت تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت [۲۱۵] اب اس سے زیادہ ظالم کون جو جھٹلاوے اللہ کی آیتوں کو اور ان سے کتراوے ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں برا عذاب بدلے میں اس کترانے کے [۲۱۶] ﴿157﴾

    کاہے کی راہ دیکھتے ہیں لوگ مگر یہی کہ ان پر آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب یا آئے کوئی نشانی تیرے رب کی جس دن آئے گی ایک نشانی تیرے رب کی کام نہ آئے گا کسی کے اس کا ایمان لانا جو کہ پہلے سے ایمان نہ لایاتھا یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی تھی تو کہہ دے تم راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں [۲۱۷] ﴿158﴾

    جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہو گئے بہت سے فرقے تجھ کو ان سےکچھ سروکار نہیں ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہی جتلائے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے [۲۱۸] ﴿159﴾

    جو کوئی لاتا ہے ایک نیکی تو اسکے لئے اس کا دس گنا ہے اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی سو سزا پائے گا اسی کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۲۱۹] ﴿160﴾

    تو کہہ دے مجھ کو سجھائی میرے رب نے راہ سیدھی دین صحیح ملت ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا تھا [۲۲۰] اور نہ تھا شرک والوں میں [۲۲۱] ﴿161﴾

    تو کہہ کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو پالنے والا سارے جہان کا ہے ﴿162﴾

    کوئی نہیں اس کا شریک [۲۲۲] اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں [۲۲۳] ﴿163﴾

    تو کہہ کیا اب میں اللہ کے سوا تلاش کروں کوئی رب اور وہی ہے رب ہر چیز کا [۲۲۴] اور جو کوئی گناہ کرتا ہے سو وہ اس کے ذمہ پر ہے اور بوجھ نہ اٹھائے گا ایک شخص دوسرے کا پھر تمہارے رب کے پاس ہی تم سب کو لوٹ کر جانا ہے سو وہ جتلائے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے [۲۲۵] ﴿164﴾

    اور اسی نے تم کو نائب کیا ہے زمین میں [۲۲۶] اور بلند کر دیے تم میں درجے ایک کے ایک پر [۲۲۷] تاکہ آزمائے تم کو اپنی دیئے ہوئے حکموں میں تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے [۲۲۸] ﴿165﴾

    Surah 7
    الاعراف

    المص ﴿1﴾

    یہ کتاب اتری ہے تجھ پر سو چاہئے کہ تیرا جی تنگ نہ ہو اس کے پہنچانے سے [۱] تاکہ تو ڈرائے اس سے اور نصیحت ہو ایمان والوں کو [۲] ﴿2﴾

    چلو اسی پر جو اترا تم پر تمہارے رب کی طرف سے اور نہ چلو اسکے سوا اور رفیقوں کے پیچھے تم بہت کم دھیان کرتے ہو [۳] ﴿3﴾

    اور کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے ﴿4﴾

    پھر یہی تھی ان کی پکار جس وقت کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب کہ کہنے لگے بیشک ہمی تھے گنہگار [۴] ﴿5﴾

    سو ہم کو ضرور پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے تھے اور ہم کو ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے [۵] ﴿6﴾

    پھر ہم انکو احوال سنائیں گے اپنے علم سے اور ہم کہیں غائب نہ تھے [۶] ﴿7﴾

    اور تول اس دن ٹھیک ہو گی پھر جس کی تولیں بھاری ہوئیں سو وہی ہیں نجات پانے والے ﴿8﴾

    اور جس کی تولیں ہلکی ہوئیں سو وہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا [۷] اس واسطے کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے [۸] ﴿9﴾

    اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں اور مقرر کر دیں اس میں تمہارے لئے روزیاں تم بہت کم شکر کرتے ہو [۹] ﴿10﴾

    اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر صورتیں بنائیں تمہاری پھر حکم کیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سجدہ کیا سب نے مگر ابلیس نہ تھا سجدہ والوں میں ﴿11﴾

    کہا تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے حکم دیا بولا میں اس سے بہتر ہوں مجھ کو تو نے بنایا آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے ﴿12﴾

    کہا تو اتر یہاں سے [۱۰] تو اس لائق نہیں کہ تکبر کرے یہاں پس باہر نکل تو ذلیل ہے [۱۱] ﴿13﴾

    بولا کہ مجھے مہلت دے اس دن تک کہ لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں ﴿14﴾

    فرمایا تجھ کو مہلت دی گئ [۱۲] ﴿15﴾

    بولا تو جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں بھی ضرور بیٹھوں گا انکی تاک میں تیری سیدھی راہ پر [۱۳] ﴿16﴾

    پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے [۱۴] اور نہ پائے گا تو اکثروں کو ان میں شکرگذار [۱۵] ﴿17﴾

    کہا نکل یہاں سے برے حال سے مردود ہو کر جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں ضرور بھر دوں گا دوزخ کو تم سب سے [۱۶] ﴿18﴾

    اور اے آدم رہ تو اور تیری عورت جنت میں پھر کھاؤ جہاں سے چاہو اور پاس نہ جاؤ اس درخت کے پھر تم ہو جاؤ گے گنہگار [۱۷] ﴿19﴾

    پھر بہکایا ان کو شیطان نے تاکہ کھول دے ان پر وہ چیز کہ انکی نظر سے پوشیدہ تھی انکی شرمگاہوں سے اور وہ بولا کہ تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے مگر اسی لئے کہ کبھی تم ہو جاؤ فرشتہ یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والے ﴿20﴾

    اور انکے آگے قسم کھائی کہ میں البتہ تمہارا دوست ہوں ﴿21﴾

    پھر مائل کر لیا انکو فریب سے [۱۸] پھر جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو کھل گئیں ان پر شرمگاہیں انکی [۱۹] اور لگے جوڑنے اپنے اوپر بہشت کے پتے [۲۰] اور پکارا انکو انکے رب نے کیا میں نے منع نہ کیا تھا تم کو اس درخت سے اور نہ کہہ دیا تھا تم کو کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ﴿22﴾

    بولے وہ دونوں اے رب ہمارے ظلم کیا ہم نے اپنی جان پر اور اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور ہو جائیں گے تباہ ﴿23﴾

    فرمایا تم اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے [۲۱] اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک ﴿24﴾

    فرمایا اسی میں تم زندہ رہو گے [۲۲] اور اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے ﴿25﴾

    اےاولاد آدم کی ہم نے اتاری تم پر پوشاک جو ڈھانکے تمہاری شرمگاہیں اور اتارے آرائش کے کپڑے [۲۳] اور لباس پرہیزگاری کا وہ سب سے بہتر ہے [۲۴] یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ لوگ غور کریں [۲۵] ﴿26﴾

    اے اولاد آدم کی نہ بہکائے تم کو شیطان جیسا کہ اس نے نکال دیا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے اتروائے ان سے ان کے کپڑے [۲۶] تاکہ دکھلائے انکو شرمگاہیں انکی وہ دیکھتا ہے تم کو اور اسکی قوم جہاں سے تم انکو نہیں دیکھتے [۲۷] ہم نےکر دیا شیطانوں کو رفیق ان لوگوں کا جو ایمان نہیں لاتے [۲۸] ﴿27﴾

    اور جب کرتے ہیں کوئی برا کام تو کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا اسی طرح کرتے اپنے باپ دادوں کو اور اللہ نے بھی ہم کو یہ حکم کیا ہے تو کہہ دے کہ اللہ حکم نہیں کرتا برے کام کا کیوں لگاتے ہو اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں [۲۹] ﴿28﴾

    تو کہہ دے کہ میرے رب نے حکم کر دیا ہے انصاف کا [۳۰] اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت اور پکارو اسکو خالص اس کے فرمانبردار ہو کر [۳۱] جیسا تم کو پہلے پیدا کیا دوسری بار بھی پیدا ہو گے [۳۲] ﴿29﴾

    ایک فرقہ کو ہدایت کی اور ایک فرقہ پر مقرر ہو چکی گمراہی انہوں نے بنایا شیطانوں کو رفیق اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں [۳۳] ﴿30﴾

    اے اولاد آدم کی لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیئو اور بیجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے [۳۴] ﴿31﴾

    تو کہہ کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو اس نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی تو کہہ یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن اسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں انکے لئے جو سمجھتے ہیں [۳۵] ﴿32﴾

    تو کہہ دے میرے رب نے حرام کیا ہے صرف بیحیائی کی باتوں کو جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو [۳۶] اور ناحق زیادتی کو اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری اور اس بات کو کہ لگاؤ اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں [۳۷] ﴿33﴾

    اور ہر فرقےکے واسطے ایک وعدہ ہے پھر جب آ پہنچے گا ان کا وعدہ نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے [۳۸] ﴿34﴾

    اے اولاد آدم کی اگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں کے کہ سنائیں تم کو آیتیں میری تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿35﴾

    اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے وہی ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے [۳۹] ﴿36﴾

    پھر اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا یا جھٹلائے اسکے حکموں کو [۴۰] وہ لوگ ہیں کہ ملے گا ان کو جو انکا حصہ لکھا ہوا ہے کتاب میں [۴۱] یہاں تک کہ جب پہنچیں ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے انکی جان لینے کو تو کہیں کیا ہوئے وہ جن کو تم پکارا کرتے تھے سوا اللہ کے بولیں گے وہ ہم سےکھوئے گئے اور اقرار کر لیں گے اپنے اوپر کہ بیشک وہ کافر تھے [۴۲] ﴿37﴾

    فرمائے گا داخل ہو جاؤ ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے ہو چکی ہیں جن اور آدمیوں میں سے دوزخ کے اندر [۴۳] جب داخل ہو گی ایک امت تو لعنت کرے گی دوسری امت کو [۴۴] یہاں تک کہ جب گر چکیں گے اس میں سارے تو کہیں گے انکے پچھلے پہلوں کو اے رب ہمارے ہم کو انہی نے گمراہ کیا سو تو انکو دے دونا عذاب آگ کا فرمائے گا کہ دونوں کو دو گنا ہے لیکن تم نہیں جانتے [۴۵] ﴿38﴾

    اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے [۴۶] ﴿39﴾

    بیشک جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا نہ کھولے جائیں گے انکے لئےدروازے آسمان کے [۴۷] اور نہ داخل ہوں گے جنت میں یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں [۴۸] اور ہم یوں بدلا دیتے ہیں گنہگاروں کو ﴿40﴾

    انکے واسطے دوزخ کا بچھونا ہے اور اوپر سے اوڑھنا [۴۹] اور ہم یوں بدلا دیتے ہیں ظالموں کو ﴿41﴾

    اور جو ایمان لائے اور کیں نیکیاں ہم بوجھ نہیں رکھتے کسی پر مگر اس کی طاقت کے موافق وہی ہیں جنت میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے [۵۰] ﴿42﴾

    اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی [۵۱] بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں اور وہ کہیں گے شکر اللہ کا جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ بیشک لائے تھے رسول ہمارے رب کے سچی بات [۵۲] اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے وارث ہوئے تم اس کے بدلے میں اپنے اعمال کے [۵۳] ﴿43﴾

    اور پکاریں گے جنت والے دوزخ والوں کو کہ ہم نے پایا جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہمارے رب نے سچا سو تم نے بھی پایا اپنے رب کے وعدہ کو سچا وہ کہیں گے کہ ہاں پھر پکارے گا ایک پکارنے والا انکے بیچ میں کہ لعنت ہے اللہ کی ان ظالموں پر ﴿44﴾

    جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈتے تھے اس میں کجی اور وہ آخرت سے منکر تھے [۵۴] ﴿45﴾

    اور دونوں کے بیچ میں ہو گی ایک دیوار [۵۵] اور اعراف کے اوپر مرد ہوں گے کہ پہچان لیں گے ہر ایک کو اس کی نشانی سے اور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلامتی ہے تم پر وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور وہ امیدوار ہیں [۵۶] ﴿46﴾

    اور جب پھرے گی ان کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف تو کہیں گے اے رب ہمارے مت کر ہم کو گنہگار لوگوں کے ساتھ [۵۷] ﴿47﴾

    اور پکاریں گے اعراف والے ان لوگوں کو کہ انکو پہچانتے ہیں انکی نشانی سے [۵۸] کہیں گے نہ کام آئی تمہارے جماعت تمہاری اور جو تم تکبر کیا کرتے تھے [۵۹] ﴿48﴾

    اب یہ وہی ہیں کہ تم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہ پہنچے گی ان کو اللہ کی رحمت چلے جاؤ جنت میں نہ ڈر ہےتم پر اور نہ تم غمگین ہو گے [۶۰] ﴿49﴾

    اور پکاریں گے دوزخ والے جنت والوں کو کہ بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی تم کو دی اللہ نےکہیں گے اللہ نے ان دونوں کو روک دیا ہے کافروں سے ﴿50﴾

    جنہوں نے ٹھہرایا اپنا دین تماشا اور کھیل اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیا کی زندگی نے سو آج ہم انکو بھلا دیں گے جیسا انہوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں سےمنکر تھے [۶۱] ﴿51﴾

    اور ہم نے ان لوگوں کے پاس پہنچا دی ہے کتاب جس کو مفصل بیان کیا ہے ہم نے خبرداری سے راہ دکھانے والی اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے [۶۲] ﴿52﴾

    کیا اب اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلےسے بیشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات سو اب کوئی ہماری سفارش والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں تو ہم عمل کریں خلاف اس کےجو ہم کر رہے تھے بیشک تباہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افترا کیا کرتے تھے [۶۳] ﴿53﴾

    بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین [۶۴] چھ دن میں [۶۵] پھر قرار پکڑا عرش پر [۶۶] اوڑھاتا ہے رات پر دن کہ وہ اسکے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور پیدا کئے سورج اور چاند اور تارے [۶۷] تابعدار اپنے حکم کے [۶۸] سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا [۶۹] ﴿54﴾

    پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے [۷۰] اس کو خوش نہیں آتے حد سے بڑھنے والے [۷۱] ﴿55﴾

    اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور پکارو اس کو ڈر اور توقع سے [۷۲] بیشک اللہ کی رحمت نزدیک ہے نیک کام کرنے والوں سے ﴿56﴾

    اور وہی ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والی مینہ سے پہلے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بھاری بادلوں کو تو ہانک دیتے ہیں ہم اس بادل کو ایک شہر مردہ کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس بادل سے پانی پھر اس سے نکالتے ہیں سب طرح کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم غور کرو ﴿57﴾

    اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر ناقص یوں پھیر پھیر کر بتلاتے ہیں ہم آیتیں حق ماننے والے لوگوں کو [۷۳] ﴿58﴾

    بیشک بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف پس اس نے کہا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا میں خوف کرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ﴿59﴾

    بولے سردار اس کی قوم کے ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا [۷۴] ﴿60﴾

    بولا اے میری قوم میں ہرگز بہکا نہیں و لیکن میں بھیجا ہوا ہوں جہان کے پروردگار کا ﴿61﴾

    پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور نصیحت کرتا ہوں تمکو اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے [۷۵] ﴿62﴾

    کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم ہو [۷۶] ﴿63﴾

    پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا پھر ہم نے بچا لیا اسکو اور انکو کہ جو اسکے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کر دیا انکو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو بیشک وہ لوگ تھے اندھے [۷۷] ﴿64﴾

    اور قوم عاد کی طرف بھیجا انکے بھائی ہود کو [۷۸] بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اسکے سوا سو کیا تم ڈرتے نہیں [۷۹] ﴿65﴾

    بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں ہم تو دیکھتے ہیں تجھ کو عقل نہیں اور ہم تو تجھ کو جھوٹا گمان کرتے ہیں [۸۰] ﴿66﴾

    بوالا اے میری قوم میں کچھ بےعقل نہیں لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا ﴿67﴾

    پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیرخواہ ہوں اور اطمینان کے لائق [۸۱] ﴿68﴾

    کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ تمکو ڈرائے اور یاد کرو جبکہ تم کو سردار کر دیا پیچھے قوم نوح کے [۸۲] اور زیادہ کر دیا تمہارے بدن کا پھیلاؤ [۸۳] سو یاد کرو اللہ کےاحسان تاکہ تمہارا بھلا ہو [۸۴] ﴿69﴾

    بولےکیا تو اس واسطے ہمارے پاس آیا کہ ہم بندگی کریں اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادےپس تو لے آ ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے اگر تو سچا ہے [۸۵] ﴿70﴾

    کہا تم پر واقع ہو چکا ہے تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ [۸۶] کیوں جھگڑتے ہو مجھ سے ان ناموں پر کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں [۸۷] ﴿71﴾

    پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کےساتھ تھے اپنی رحمت سے اور جڑ کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو او رنہیں مانتے تھے [۸۸] ﴿72﴾

    اور ثمود کی طرف بھیجا انکے بھائی صالح کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اسکے سوا تم کو پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے [۸۹] یہ اونٹنی اللہ کی ہے تمہارے لئے نشانی سو اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں اور اس کو ہاتھ نہ لگاؤ بری طرح پھر تم کو پکڑے گا عذاب دردناک [۹۰] ﴿73﴾

    اور یاد کرو جبکہ تم کو سردار کر دیا عاد کے پیچھے اور ٹھکانہ دیا تم کو زمین میں کہ بناتے ہو نرم زمین میں محل اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر سو یاد کرو احسان اللہ کے اور مت مچاتے پھرو زمین میں فساد [۹۱] ﴿74﴾

    کہنے لگے سردار جو متکبر تھے اس کی قوم میں غریب لوگوں کو کہ جو ان میں ایمان لا چکے تھے کیا تم کو یقین ہے کہ صالح کو بھیجا ہے اس کے رب نے بولے ہم کو تو جو وہ لے کر آیا اس پر یقین ہے ﴿75﴾

    کہنے لگے وہ لوگ جو متکبر تھے جس پر تم کو یقین ہے ہم اسکو نہیں مانتے [۹۲] ﴿76﴾

    پھر انہوں نے کاٹ ڈالا اونٹنی کو اور پھر گئے اپنے رب کے حکم سے [۹۳] اور بولے اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے [۹۴] ﴿77﴾

    پس آ پکڑا انکو زلزلہ نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اندھے پڑے [۹۵] ﴿78﴾

    پھر صالح الٹا پھرا ان سے اور بولا اے میری قوم میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کا اور خیرخواہی کی تمہاری لیکن تمکو محبت نہیں خیرخواہوں سے [۹۶] ﴿79﴾

    اور بھیجا لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں [۹۷] ﴿80﴾

    تم تو دوڑتے ہو مردوں پر شہوت کے مارے عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم لوگ ہو حد سے گذرنے والے [۹۸] ﴿81﴾

    اور کچھ جواب نہ دیا اس کی قوم نے مگر یہی کہا کہ نکالو ان کو اپنے شہر سے یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ﴿82﴾

    پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اسکے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہ گئ وہاں کے رہنے والوں میں [۹۹] ﴿83﴾

    اور برسایا ہم نے انکے اوپر مینہ یعنی پتھروں کا [۱۰۰] پھر دیکھ کیا ہوا انجام گنہگاروں کا [۱۰۱] ﴿84﴾

    اور مدین کی طرف بھیجا ان کےبھائی شعیب کو [۱۰۲] بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اسکے سوا تمہارے پاس پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے [۱۰۳] سو پوری کرو ماپ اور تول اور مت گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد یہ بہتر ہےتمہارےلئے اگر تم ایمان والے ہو [۱۰۴] ﴿85﴾

    اور مت بیٹھو راستوں پر کہ ڈراؤ اور روکو اللہ کے راستہ سے اس کو جو کہ ایمان لائے اس پر اور ڈھونڈو اس میں عیب [۱۰۵] اور یاد کرو جبکہ تھے تم بہت تھوڑے پھر تم کو بڑھا دیا اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا [۱۰۶] ﴿86﴾

    اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا تو صبر کرو جب تک اللہ فیصلہ کرے درمیان ہمارے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے [۱۰۷] ﴿87﴾

    بولے سردار جو متکبر تھے اس کی قوم میں ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو کہ ایمان لائے تیرےساتھ اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ ہمارے دین میں [۱۰۸] بولا کیا ہم بیزار ہوں تو بھی [۱۰۹] ﴿88﴾

    بیشک ہم نے بہتان باندھا اللہ پر جھوٹا اگر لوٹ آئیں تمہارے دین میں [۱۱۰] بعد اس کی کہ نجات دے چکا ہم کو اللہ اس سے [۱۱۱] اور ہمارا کام نہیں کہ لوٹ آئیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ رب ہمارا گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں اللہ ہی پر ہم نے بھروسا کیا اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ اور تو سب سےبہتر فیصلہ کرنے والا ہے [۱۱۲] ﴿89﴾

    اور بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں اگر پیروی کرو گے تم شعیب کی تو تم بیشک خراب ہو گے [۱۱۳] ﴿90﴾

    پھر آ پکڑا ان کو زلزلہ نے پس صبح کو رہ گئے اپنے گھروں کے اندر اوندھے پڑے [۱۱۴] ﴿91﴾

    جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو گویا کبھی بسے ہی نہ تھے وہاں جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو وہی ہوئے خراب [۱۱۵] ﴿92﴾

    پھر الٹا پھر ان لوگوں سے اور بولا اے میری قوم میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیر خواہی کر چکا تمہاری اب کیا افسوس کروں کافروں پر [۱۱۶] ﴿93﴾

    اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی کہ نہ پکڑا ہو ہم نے وہاں کےلوگوں کو سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑائیں ﴿94﴾

    پھر بدل دی ہم نے برائی کی جگہ بھلائی یہاں تک کہ وہ بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ پہنچتی رہی ہے ہمارےباپ دادوں کو بھی تکلیف اورخوشی پھر پکڑا ہم نے ان کو ناگہاں اور ان کو خبر نہ تھی [۱۱۷] ﴿95﴾

    اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم کھول دیتے ان پر نعمتیں آسمان اور زمین سے لیکن جھٹلایا انہوں نے پس پکڑا ہم نے ان کو ان کے اعمال کےبدلے [۱۱۸] ﴿96﴾

    اب کیا بے ڈر ہیں بستیوں والے اس سے کہ آ پہنچے ان پر آفت ہماری راتوں رات جب سوتے ہوں ﴿97﴾

    یا بے ڈر ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آ پہنچے ان پر عذاب ہمارا دن چڑھے جب کھیلتے ہوں [۱۱۹] ﴿98﴾

    یا بے ڈر ہو گئے اللہ کے داؤ سے سو بے ڈر نہیں ہوتے اللہ کے داؤ سےمگر خرابی میں پڑنے والے [۱۲۰] ﴿99﴾

    کیا نہیں ظاہر ہوا ان لوگوں پر جو وارث ہوئے زمین کے وہاں کے لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو پکڑ لیں ان کے گناہوں پر [۱۲۱] اور ہم نے مہر کر دی ہے انکے دلوں پر سو وہ نہیں سنتے ﴿100﴾

    یہ بستیاں ہیں کہ سناتے ہیں ہم تجھ کو ان کے کچھ حالات اور بیشک ان کے پاس پہنچ چکے ان کے رسول نشانیاں لے کر پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے یوں مہر کر دیتا ہے اللہ کافروں کے دلوں پر [۱۲۲] ﴿101﴾

    اور نہ پایا ان کے اکثر لوگوں میں ہم نے عہد کا نباہ اور اکثر ان میں پائےنافرمان [۱۲۳] ﴿102﴾

    پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے [۱۲۴] موسٰی کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکےسرداروں کے پاس پس کفر کیا انہوں نےانکے مقابلہ میں سو دیکھ کیا انجام ہوا مفسدوں کا [۱۲۵] ﴿103﴾

    اور کہا موسٰی نے اے فرعون میں رسول ہوں پروردگار عالم کا ﴿104﴾

    قائم ہوں اس بات پر کہ نہ کہوں اللہ کی طرف سے مگر جو سچ ہے لایا ہوں تمہارے پاس نشانی تمہارے رب کی [۱۲۶] سو بھیجدے میرےساتھ بنی اسرائیل کو [۱۲۷] ﴿105﴾

    بولا اگر تو آیا ہے کوئی نشانی لے کر تو لا اس کو اگر تو سچا ہے ﴿106﴾

    تب ڈال دیا اس نے اپنا عصا تو اسی وقت ہو گیا اژدھا صریح [۱۲۸] ﴿107﴾

    اور نکالا اپنا ہاتھ تو اسی وقت وہ سفید نظر آنے لگا دیکھنے والوں کو [۱۲۹] ﴿108﴾

    بولے سردار فرعون کی قوم کے یہ تو کوئی بڑا واقف جادوگر ہے [۱۳۰] ﴿109﴾

    نکالنا چاہتا ہےتم کو تمہارےملک سے اب تمہاری کیا صلاح ہے [۱۳۱] ﴿110﴾

    بولےڈھیل دے اس کو اور اسکے بھائی کو اور بھیج پرگنوں میں جمع کرنے والوں کو ﴿111﴾

    کہ جمع کر لائیں تیرے پاس جو ہو کامل جادوگر [۱۳۲] ﴿112﴾

    اور آئےجادوگر فرعون کے پاس بولے ہمارے لئے کچھ مزدوری ہے اگر ہم غالب ہوئے [۱۳۳] ﴿113﴾

    بولا ہاں اور بیشک تم مقرب ہو جاؤ گے [۱۳۴] ﴿114﴾

    بولے اے موسٰی یا تو تو ڈال اور یا ہم ڈالتے ہیں [۱۳۵] ﴿115﴾

    کہا ڈالو [۱۳۶] پھر اجب انہوں نےڈالا باندھ دیا لوگوں کی آنکھوں کو اور ان کو ڈرا دیا اور لائے بڑا جادو [۱۳۷] ﴿116﴾

    اور ہم نے حکم بھیجا موسٰی کو کہ ڈال دے اپنا عصا سو وہ جبہی لگا نگلنے جو سانگ انہوں نے بنایا تھا ﴿117﴾

    پس ظاہر ہو گیا حق اور غلط ہو گیا جو کچھ انہوں نے کیا تھا ﴿118﴾

    پس ہار گئے اس جگہ اور لوٹ گئے ذلیل ہو کر ﴿119﴾

    اور گر پڑے جادوگر سجدہ میں [۱۳۸] ﴿120﴾

    بولے ہم ایمان لائے پروردگار عالم پر ﴿121﴾

    جو رب ہے موسٰی اور ہارون کا [۱۳۹] ﴿122﴾

    بولا فرعون کیا تم ایمان لے آئے اس پر میری اجازت سے پہلے یہ تو مکر ہے جو بنایا تم سب نے اس شہر میں تاکہ نکال دو اس شہر سے اسکے رہنے والوں کو سو اب تم کو معلوم ہو جائے گا [۱۴۰] ﴿123﴾

    میں ضرور کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں پھر سولی پر چڑھاؤں گا تم سب کو ﴿124﴾

    وہ بولے ہم کو تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہی ہے [۱۴۱] ﴿125﴾

    اور تجھ کو ہم سے یہی دشمنی ہے کہ مان لیا ہم نے اپنے رب کی نشانیوں کو جب وہ ہم تک پہنچیں اے ہمارے رب دہانے کھول دے ہم پرصبر کے اور ہم کو مار مسلمان [۱۴۲] ﴿126﴾

    اور بولے سردار قوم فرعون کےکیوں چھوڑتا ہے تو موسٰی کو اور اسکی قوم کو کہ اودھم مچائیں ملک میں [۱۴۳] اور موقوف کر دے تجھ کو اور تیرے بتوں کو [۱۴۴] بولا اب ہم مار ڈالیں گے انکے بیٹوں کو اور زندہ رکھیں گے انکی عورتوں کو اور ہم ان پر زور آور ہیں [۱۴۵] ﴿127﴾

    موسٰی نے کہا اپنی قوم سے مدد مانگو اللہ سے اور صبر کرو بیشک زمین ہے اللہ کی اس کا وارث کر دے جسکو وہ چاہے اپنے بندوں میں اور آخر میں بھلائی ہے ڈرنے والوں کے لئے [۱۴۶] ﴿128﴾

    وہ بولے ہم پر تکلیفیں رہیں تیرے آنے سے پہلے اور تیرے آنے کے بعد [۱۴۷] کہا نزدیک ہے کہ رب تمہارا ہلاک کر دے تمہارے دشمن کو اور خلیفہ کر دے تم کو ملک میں پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو [۱۴۸] ﴿129﴾

    اور ہم نے پکڑ لیا فرعون والوں کو قحطوں میں اور میوؤں کے نقصان میں تاکہ وہ نصیحت مانیں ﴿130﴾

    پھر جب پہنچی انکو بھلائی کہنے لگے یہ ہے ہمارے لائق اور اگر پہنچی برائی تو نحوست بتلاتے موسٰی کی اور اسکے ساتھ والوں کی سن لو ان کی شومی تو اللہ کے پاس ہے پر اکثر لوگ نہیں جانتے [۱۴۹] ﴿131﴾

    اور کہنے لگے جو کچھ تو لائے گا ہمارے پاس نشانی کہ ہم پر اسکی وجہ سے جادو کرے سو ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے [۱۵۰] ﴿132﴾

    پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان [۱۵۱] اور ٹڈی اور چچڑی [۱۵۲] اور مینڈک اور خون بہت سی نشانیاں جدی جدی پھر بھی تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گنہگار [۱۵۳] ﴿133﴾

    اور جب پڑتا ان پر کوئی عذاب تو کہتے اے موسٰی دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے جیسا کہ اس نے بتلا رکھا ہے تجھ کو [۱۵۴] اگر تو نے دور کر دیا ہم سے یہ عذاب تو بیشک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ﴿134﴾

    پھر جب ہم نے اٹھا لیا ان سےعذاب ایک مدت تک کہ ان کو اس مدت تک پہنچنا تھا اسی وقت عہد توڑ ڈالتے [۱۵۵] ﴿135﴾

    پھر ہم نے بدلہ لیا ان سے سو ڈبو دیا ہم نے انکو دریا میں اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے تغافل کرتے تھے [۱۵۶] ﴿136﴾

    اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے [۱۵۷] اس زمین کے مشرق او رمغرب کا کہ جس میں برکت رکھی ہے ہم نے [۱۵۸] اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب انکے صبر کرنے کے اور خراب کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اسکی قوم نے اور جو اونچا کر کے چھایا تھا [۱۵۹] ﴿137﴾

    اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سےتو پہنچے ایک قوم پر جو پوجنے میں لگے رہتے تھے اپنے بتوں کے [۱۶۰] کہنے لگے اے موسٰی بنا دے ہماری عبادت کے لئے بھی ایک بت جیسے ان کے بت ہیں کہا تم لوگ تو جہل کرتے ہو [۱۶۱] ﴿138﴾

    یہ لوگ تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں [۱۶۲] ﴿139﴾

    کہا کیا اللہ کےسوا ڈھونڈوں تمہارے واسطے کوئی اور معبود حالانکہ اس نے تمکو بڑائی دی تمام جہان پر [۱۶۳] ﴿140﴾

    اور وہ وقت یاد کرو جب نجات دی ہم نے تم کو فرعون والوں سے کہ دیتے تھے تم کو برا عذاب کہ مار ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور جیتا رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں احسان ہے تمہارے رب کا بڑا [۱۶۴] ﴿141﴾

    اور وعدہ کیا ہم نےموسٰی سے تیس رات کا اور پورا کیا ان کو اور دس سے پس پوری ہو گئ مدت تیرے رب کی چالیس راتیں [۱۶۵] اور کہا موسٰی نے اپنے بھائی ہارون سےکہ میرا خلیفہ رہ میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کی راہ [۱۶۶] ﴿142﴾

    اور جب پہنچا موسٰی ہمارے وعدہ پر اور کلام کیا اس سے اسکے رب نے بولا اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں [۱۶۷] فرمایا تو مجھ کو ہر گز نہ دیکھے گا [۱۶۸] لیکن تو دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو تو مجھ کو دیکھ لے گا [۱۶۹] پھر جب تجلی کی اسکے رب نے پہاڑ کی طرف کر دیا اس کو ڈھا کر برابر اور گر پڑ اموسٰی بےہوش ہو کر [۱۷۰] پھر جب ہوش میں آیا بولا تیری ذات پاک ہے میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں سب سے پہلے یقین لایا [۱۷۱] ﴿143﴾

    فرمایا اے موسٰی میں نے تجھ کو امتیاز دیا لوگوں سے اپنے پیغام بھیجنے کا اور اپنے کلام کرنے کا سو لے جو میں نے تجھ کو دیا اور شاکر رہ [۱۷۲] ﴿144﴾

    اور لکھ دی ہم نے اس کو تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی [۱۷۳] سو پکڑ لے انکو زور سے اور حکم کر اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں عنقریب میں تم کو دکھلاؤں گا گھر نافرمانوں کا [۱۷۴] ﴿145﴾

    میں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے انکو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں ساری نشانیاں ایمان نہ لائیں ان پر اور اگر دیکھیں رستہ ہدایت کا تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ اور اگر دیکھیں رستہ گمراہی کا تو اس کو ٹھہرا لیں راہ یہ اس لئے کہ انہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور رہے ان سے بے خبر [۱۷۵] ﴿146﴾

    اور جنہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو برباد ہوئیں ان کی محنتیں وہی بدلا پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے [۱۷۶] ﴿147﴾

    اور بنا لیا موسٰی کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا [۱۷۷] ایک بدن کہ اسمیں گائے کی آواز تھی کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتاا ور نہیں بتلاتا رستہ معبود بنا لیا اس کو اور وہ تھے ظالم [۱۷۸] ﴿148﴾

    اور جب پچتائے اور سمجھے کہ ہم بیشک گمراہ ہو گئے تو کہنے لگے اگر نہ رحم کرے ہم پر ہمارا رب اور نہ بخشے ہم کو تو بیشک ہم تباہ ہوں گے [۱۷۹] ﴿149﴾

    اور جب لوٹ آیا موسٰی اپنی قوم میں غصہ میں بھرا ہوا افسوسناک [۱۸۰] بولا کیا بری نیابت کی تم نے میری میرےبعد [۱۸۱] کیوں جلدی کی تم نےاپنے رب کےحکم سے [۱۸۲] اور ڈالدیں وہ تختیاں اور پکڑا سر اپنے بھائی کا لگا کھینچنے اس کو اپنی طرف [۱۸۳] وہ بولا کہ اے میری ماں کے جنے لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں سو مت ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ ملا مجھ کو گنہگار لوگوں میں [۱۸۴] ﴿150﴾

    بولا اے میرے رب معاف کر مجھ کو اور میرے بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے [۱۸۵] ﴿151﴾

    البتہ جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا ان کو پہنچے گا غصہ ان کے رب کا اور ذلت دنیا کی زندگی میں اور یہی سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو [۱۸۶] ﴿152﴾

    اور جنہوں نے کئے برے کام پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لائے تو بیشک تیرا رب توبہ کے پیچھے البتہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۸۷] ﴿153﴾

    اور جب تھم گیا موسٰی کا غصہ تو اس نے اٹھا لیا تختیوں کو اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان کے واسطے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ﴿154﴾

    اور چن لئے موسٰی نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدہ کے وقت پر لانے کو پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو بولا اے رب میرے اگر تو چاہتا تو پہلے ہی ہلاک کر دیتا انکو اور مجھ کو کیا ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا ہماری قوم کے احمقوں نے یہ سب تیری آزمائش ہے بچلا دے اس میں جسکو تو چاہے اور سیدھا رکھے جس کو چاہے تو ہی ہے ہمارا تھامنے والا سو بخش دے ہم کو اور رحمت کر ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے [۱۸۸] ﴿155﴾

    اور لکھ دے ہمارےلئے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں ہم نے رجوع کیا تیری طرف فرمایا میرا عذاب ڈالتا ہوں میں اسکو جس پر چاہوں اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈر رکھتے ہیں اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور جو ہماری باتوں پر یقین رکھتے ہیں [۱۸۹] ﴿156﴾

    وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے [۱۹۰] کہ جس کو پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس توریت اور انجیل میں [۱۹۱] وہ حکم کرتا ہے ان کو نیک کام کا اور منع کرتا ہے برے کام سے اور حلال کرتا ہے انکے لئے سب پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں جو ان پر تھیں [۱۹۲] سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اسکی رفاقت کی اور اس کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو اسکے ساتھ اترا ہے [۱۹۳] وہی لوگ پہنچے اپنی مراد کو ﴿157﴾

    تو کہہ اے لوگو میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں کسی کی بندگی نہیں اسکےسوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو کہ یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اسکے سب کلاموں پر اور اسکی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ [۱۹۴] ﴿158﴾

    اور موسٰی کی قوم میں ایک گروہ ہے جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں [۱۹۵] ﴿159﴾

    اور جدا جدا کر دیئے ہم نے ان کو بارہ دادوں کی اولاد بڑی بڑی جماعتیں [۱۹۶] اور حکم بھیجا ہم نے موسٰی کو جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے کہ مار اپنی لاٹھی اس پتھر پر تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے پہچان لیا ہر قبیلہ نے اپنا گھاٹ اور سایہ کیا ہم نے ان پر ابر کا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ کھاؤ ستھری چیزیں جو ہم نے روزی دی تم کو اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے رہے ﴿160﴾

    اور جب حکم ہوا ان کو کہ بسو اس شہر میں [۱۹۷] اور کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور کہو ہم کو بخش دے اور داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے تو بخشدیں گے ہم تمہاری خطائیں البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو [۱۹۸] ﴿161﴾

    سو بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے دوسرا لفظ اسکے سوا جو ان سے کہہ دیا گیا تھا پھر بھیجا ہم نے ان پر عذاب آسمان سے بسبب ان کی شرارت کے [۱۹۹] ﴿162﴾

    اور پوچھ ان سےحال اس بستی کا جو تھی دریا کے کنارے [۲۰۰] جب حد سے بڑھنے لگے ہفتہ کے حکم میں جب آنے لگیں انکے پاس مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر اور جس دن ہفتہ نہ ہو تو نہ آتی تھیں اس طرح ہم نے ان کو آزمایا اس لئے کہ وہ نافرمان تھے [۲۰۱] ﴿163﴾

    اور جب بولا ان میں سے ایک فرقہ کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنکو اللہ چاہتا ہےکہ ہلاک کرے یا ان کو عذاب دے سخت [۲۰۲] وہ بولے الزام اتارنے کی غرض سے تمہارے رب کے آگے اور اسلئے کہ شاید وہ ڈریں [۲۰۳] ﴿164﴾

    پھر جب وہ بھول گئے اس کو جو انکو سمجھایا تھا تو نجات دی ہم نے ان کو جو منع کرتے تھے برے کام سے اور پکڑا گنہگاروں کو برے عذاب میں بسبب ان کی نافرمانی کے [۲۰۴] ﴿165﴾

    پھر جب بڑھنےلگےاس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے تو ہم نے حکم کیا کہ ہو جاؤ بندر ذلیل [۲۰۵] ﴿166﴾

    اور اس وقت کو یاد کرو جب خبر کر دی تھی تیرے رب نے کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو کہ دیا کرے ان کو برا عذاب [۲۰۶] بیشک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۰۷] ﴿167﴾

    اور متفرق کر دیا ہم نے ان کو ملک میں فرقے فرقے [۲۰۸] بعضے ان میں نیک اور بعضے اور طرح کے اور ہم نے انکی آزمائش کی خوبیوں میں او ربرائیوں میں تاکہ وہ پھر آئیں [۲۰۹] ﴿168﴾

    پھر ان کے پیچھے آئے ناخلف جو وارث بنے کتاب کے لے لیتے ہیں اسباب اس ادنیٰ زندگانی کا اور کہتے ہیں کہ ہم کو معاف ہو جائے گا اور اگر ایسا ہی اسباب انکے سامنے پھر آئے تو اسکو لے لیویں [۲۱۰] کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوا سچ کے اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ اسمیں لکھا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے کیا تم سمجھتے نہیں [۲۱۱] ﴿169﴾

    اور جو لوگ خوب پکڑ رہے ہیں کتاب کو اور قائم رکھتے ہیں نماز کو بیشک ہم ضائع نہ کریں گے ثواب نیکی والوں کا [۲۱۲] ﴿170﴾

    اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر مثل سائبان کے اور ڈرے کہ وہ ان پر گرے گا ہم نے کہا پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے زور سے اور یاد رکھو جو اس میں ہے تاکہ تم بچتے رہو [۲۱۳] ﴿171﴾

    اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب بولے ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی ﴿172﴾

    یا کہنے لگو کہ شرک تو نکالا تھا ہمارے باپ دادوں نے ہم سے پہلے اور ہم ہوئے انکی اولاد ان کے پیچھے تو کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا گمراہوں نے [۲۱۴] ﴿173﴾

    اور یوں ہم کھول کر بیان کرتے ہیں باتیں تاکہ وہ پھر آئیں [۲۱۵] ﴿174﴾

    اور سنا دے ان کو حال اس شخص کا جسکو ہم نے دی تھیں اپنی آیتیں پھر وہ انکو چھوڑ نکلا پھر اس کے پیچھےلگا شیطان تو وہ ہو گیا گمراہوں میں ﴿175﴾

    اور ہم چاہتے تو بلند کرتے اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت لیکن وہ تو ہو رہا زمین کا اور پیچھے ہو لیا اپنی خواہش کے تو اس کا حال ایسا جیسے کتا اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو سو بیان کر یہ احوال تاکہ وہ دھیان کریں [۲۱۶] ﴿176﴾

    بری مثال ہے ان لوگوں کی کہ جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو اور وہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے [۲۱۷] ﴿177﴾

    جس کو اللہ رستہ دے وہی رستہ پاوے اور جس کو وہ بچلا دے سو وہی ہیں ٹوٹے میں [۲۱۸] ﴿178﴾

    اور ہم نے پیدا کئے دوزخ کے واسطے بہت سے جن اور آدمی [۲۱۹] انکے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سےسنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی زیادہ بیراہ وہی لوگ ہیں غافل [۲۲۰] ﴿179﴾

    اور اللہ کےلئے ہیں سب نام اچھے سو اسکو پکارو وہی نام کہہ کر اور چھوڑ دو انکو جو کج راہ چلتے ہیں اس کے ناموں میں وہ بدلہ پا رہیں گے اپنے کئے کا [۲۲۱] ﴿180﴾

    اور ان لوگوں میں کہ جنکو ہم نے پیدا کیا ہے ایک جماعت ہے کہ راہ بتلاتے ہیں سچی اور اسی کے موافق انصاف کرتےہیں [۲۲۲] ﴿181﴾

    اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ہم ان کو آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سےجہاں سے انکو خبر بھی نہ ہو گی ﴿182﴾

    اور میں انکو ڈھیل دوں گا بیشک میرا داؤ پکا ہے [۲۲۳] ﴿183﴾

    کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا کہ ان کے رفیق کو کچھ بھی جنون نہیں وہ تو ڈرانے والا ہے صاف ﴿184﴾

    کیا انہوں نے نظر نہیں کی سلطنت میں آسمان اور زمین کی اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے ہر چیز سے اور اس میں کہ شاید قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ [۲۲۴] سو اس کے پیچھے کس بات پر ایمان لائیں گے [۲۲۵] ﴿185﴾

    جس کو اللہ بچلائے اس کو کوئی نہیں راہ دکھلانے والا اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے انکو ان کی شرارت میں سرگرداں [۲۲۶] ﴿186﴾

    تجھ سے پوچھتے ہیں قیامت کو کہ کب ہے اسکے قائم ہونے کا وقت تو کہہ اسکی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے وہی کھول دکھائے گا اس کو اسکے وقت پر وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں جب تم پر آئے گی تو بیخبر آئے گی [۲۲۷] تجھ سے پوچھنے لگتے ہیں کہ گویا تو اسکی تلاش میں لگا ہوا ہے تو کہہ دے اس کی خبر ہے خاص اللہ کے پاس لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے [۲۲۸] ﴿187﴾

    تو کہہ دے کہ میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جان لیا کرتا غیب کی بات تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھ کو برائی کبھی نہ پہنچتی [۲۲۹] میں تو بس ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایماندار لوگوں کو ﴿188﴾

    وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ اسکے پاس آرام پکڑے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانکا حمل رہا ہلکا سا حمل تو چلتی پھرتی رہی اسکے ساتھ پھر جب بوجھل ہو گئ تو دونوں نے پکارا اللہ اپنے رب کو کہ اگر تو ہم کو بخشے چنگا بھلا تو ہم تیرا شکر کریں ﴿189﴾

    پھر جب ان کو دیا چنگا بھلا تو بنانے لگے اسکے لئے شریک اسکی بخشی ہوئی چیز میں سو اللہ برتر ہے انکے شریک بنانے سے [۲۳۰] ﴿190﴾

    کیا شریک بناتے ہیں ایسوں کو جو پیدا نہ کریں ایک چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں [۲۳۱] ﴿191﴾

    اور نہیں کر سکتے ہیں ان کی مدد اور نہ اپنی مدد کریں ﴿192﴾

    اور اگر تم ان کو پکارو رستہ کی طرف تو نہ چلیں تمہاری پکار پر برابر ہے تم پر کہ ان کو پکارو یا چپکے رہو ﴿193﴾

    جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا وہ بندے ہیں تم جیسے بھلا پکارو تو ان کو پس چاہیئے کہ وہ قبول کریں تمہارے پکارنے کو اگر تم سچے ہو ﴿194﴾

    کیا انکے پاؤں ہیں جن سے چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہیں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہیں تو کہہ دے کہ پکارو اپنے شریکوں کو پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو [۲۳۲] ﴿195﴾

    میرا حمایتی تو اللہ ہے جس نے اتاری کتاب اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی [۲۳۳] ﴿196﴾

    اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا وہ نہیں کر سکتے تمہاری مدد اور نہ اپنی جان بچا سکیں ﴿197﴾

    اور اگر تم ان کو پکارو رستہ کی طرف تو کچھ نہ سنیں اور تو دیکھتا ہے انکو کہ تک رہے ہیں تیری طرف اور وہ کچھ نہیں دیکھتے [۲۳۴] ﴿198﴾

    عادت کر درگذر کی اور حکم کر نیک کام کرنے کا اور کنارہ کر جاہلوں سے ﴿199﴾

    اور اگر ابھارے تجھ کو شیطان کی چھیڑ تو پناہ مانگ اللہ سے وہی ہےسننے والا جاننے والا [۲۳۵] ﴿200﴾

    جن کے دل میں ڈر ہے جہاں پڑ گیا ان پر شیطان کا گذر چونک گئے پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے ﴿201﴾

    اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں وہ انکو کھینچتے چلے جاتے ہیں گمراہی میں پھر وہ کمی نہیں کرتے [۲۳۶] ﴿202﴾

    اور جب تو لیکر نہ جائے انکے پاس کوئی نشانی تو کہتے ہیں کیوں نہ چھانٹ لایا تو کچھ اپنی طرف سے تو کہہ دے میں تو چلتا ہوں اس پر جو حکم آئے میری طرف میرے رب سے یہ سوجھ کی باتیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کو جو مومن ہیں [۲۳۷] ﴿203﴾

    اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگائے رہو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم ہو [۲۳۸] ﴿204﴾

    اور یاد کرتا رہ اپنے رب کو اپنے دل میں گڑگڑاتا ہوا اور ڈرتا ہوا اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو [۲۳۹] صبح کے وقت اور شام کے وقت اور مت رہ بے خبر ﴿205﴾

    بیشک جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وہ تکبر نہیں کرتے اس کی بندگی سے اور یاد کرتے ہیں اسکی پاک ذات کو اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں [۲۴۰] ﴿206﴾

    Surah 8
    الانفال

    [۱] تجھ سے پوچھتے ہیں حکم غنیمت کا تو کہہ دے کے مال غنیمت اللہ کا ہے اور رسول کا سو ڈرو اللہ سے اور صلح کرو آپس میں اور حکم مانو اللہ کا اور اسکے رسول کا اگر تم ایمان رکھتے ہو ﴿1﴾

    ایمان والے وہی ہیں کہ جب نام آئے اللہ کا تو ڈر جائیں ان کے دل اور جب پڑھا جائے ان پر اس کا کلام تو زیادہ ہو جاتا ہےان کا ایمان اور وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں ﴿2﴾

    وہ لوگ جو کہ قائم رکھتے ہیں نماز کو اور ہم نے جو انکو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ﴿3﴾

    وہی ہیں سچے ایمان والے انکے لئے درجے ہیں اپنے رب کے پاس اور معافی اور روزی عزت کی [۲] ﴿4﴾

    جیسے نکالا تجھ کو تیرے رب نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے اور ایک جماعت اہل ایمان کی راضی نہ تھی ﴿5﴾

    وہ تجھ سے جھگڑتے تھے حق بات میں اسکے ظاہر ہو چکنے کے بعد گویا وہ ہانکے جاتے ہیں موت کی طرف آنکھوں دیکھتے [۳] ﴿6﴾

    اور جس وقت تم سے وعدہ کرتا تھا اللہ دو جماعتوں میں سے ایک کا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے سچ کو اپنے کلاموں سے اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی ﴿7﴾

    تاکہ سچا کرے سچ کو اور جھوٹا کر دے جھوٹ کو اور اگرچہ ناراض ہوں گنہگار [۴] ﴿8﴾

    جب تم لگے فریاد کرنے اپنے رب سے تو وہ پہنچا تمہاری فریاد کو کہ میں مدد بھیجوں گا تمہاری ہزار فرشتے لگاتار آنے والے ﴿9﴾

    اور یہ تو دی اللہ نے فقط خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہو جائیں اس سے تمہارےدل اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بیشک اللہ زورآور ہے حکمت والا [۵] ﴿10﴾

    جس وقت کہ ڈالدی اس نے تم پر اونگھ اپنی طرف سے تسکین کے واسطے اور اتارا تم پر آسمان سے پانی کہ اس سے تم کو پاک کر دے اور دور کر دے تم سے شیطان کی نجاست اور مضبوط کر دے تمہارے دلوں کو اور جما دے اس سے تمہارے قدم [۶] ﴿11﴾

    جب حکم بھیجا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں ساتھ ہوں تمہارے سو تم دل ثابت رکھو مسلمانوں کے میں ڈال دوں گا دل میں کافروں کے دہشت سو مارو گردنوں پر اور کاٹو ان کی پور پور ﴿12﴾

    یہ اس واسطے ہے کہ وہ مخالف ہوئے اللہ کے اور اسکے رسول کے اور جو کوئی مخالف ہوا اللہ کا اور اس کے رسول کا تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے ﴿13﴾

    یہ تو تم چکھ لو اور جان رکھو کہ کافروں کے لئے ہے عذاب دوزخ کا [۷] ﴿14﴾

    اے ایمان والو جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں تو مت پھیرو ان سے پیٹھ [۸] ﴿15﴾

    اور جو کوئی ان سے پھیرے پیٹھ اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں سو وہ پھرا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے [۹] ﴿16﴾

    سو تم نے ان کو نہیں مارا لیکن اللہ نے ان کو مارا اور تو نے نہینں پھینکی مٹھی خا ک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی اور تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان بیشک اللہ ہے سننے والا جاننے والا [۱۰] ﴿17﴾

    یہ تو ہو چکا اور جان رکھو کہ اللہ سست کر دے گا تدبیر کافروں کی [۱۱] ﴿18﴾

    اگر تم چاہتے ہو فیصلہ تو پہنچ چکا تمہارے پاس فیصلہ اور اگر باز آؤ تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر پھر یہی کرو گے تو ہم بھی پھر یہی کریں گے اور کچھ کام نہ آئے گا تمہارے تمہارا جتھا اگرچہ بہت ہوں اور جان لو کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے [۱۲] ﴿19﴾

    اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور اسکے رسول کا اور اس سے مت پھرو سن کر [۱۳] ﴿20﴾

    اور ان جیسے مت ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں [۱۴] ﴿21﴾

    بیشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہی بہرےگونگے ہیں جو نہیں سمجھتے [۱۵] ﴿22﴾

    اور اگر اللہ جانتا ان میں کچھ بھلائی تو ان کو سنا دیتا اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور بھاگیں گے منہ پھیر کر [۱۶] ﴿23﴾

    اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور رسول کا جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے [۱۷] اور جان لو کہ اللہ روک لیتا ہے آدمی سے اس کے دل کو اور یہ کہ اسی کے پاس تم جمع ہو گے [۱۸] ﴿24﴾

    اور بچتے رہو اس فساد سے کہ نہیں پڑے گا تم میں سے خاص ظالموں ہی پر اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے [۱۹] ﴿25﴾

    اور یاد کرو جس وقت تم تھوڑے تھے مغلوب پڑے ہوئے ملک میں ڈرتے تھے کہ اچک لیں تم کو لوگ پھر اس نے تم کو ٹھکانہ دیا اور قوت دی تم کو اپنی مدد سے اور روزی دی تم کو ستھری چیزیں تاکہ تم شکر کرو [۲۰] ﴿26﴾

    اے ایمان والو خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کرو آپس کی امانتوں میں جان کر [۲۱] ﴿27﴾

    اور جان لو کہ بیشک تمہارےمال اور اولاد خرابی میں ڈالنے والے ہیں اور یہ کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے [۲۲] ﴿28﴾

    اے ایمان والو اگر تم ڈرتے رہو گے اللہ سے تو کر دے گا تم میں فیصلہ [۲۳] اور دور کر دے گا تم سے تمہارے گناہ اور تم کو بخش دے گا اور اللہ کا فضل بڑا ہے ﴿29﴾

    اور جب فریب کرتے تھے کافر کہ تجھ کو قید میں کر دیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے [۲۴] ﴿30﴾

    اور جب کوئی پڑھے ان پر ہماری آیتیں تو کہیں ہم سن چکے اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ لیں ایسا یہ تو کچھ بھی نہیں مگر احوال ہیں اگلوں کے [۲۵] ﴿31﴾

    اور جب وہ کہنے لگے کہ یا اللہ اگر یہی دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا لا ہم پر کوئی عذاب دردناک [۲۶] ﴿32﴾

    اور اللہ ہر گز نہ عذاب کرتا ان پر جب تک تو رہتا ان میں [۲۷] اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرے گا ان پر جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے [۲۸] ﴿33﴾

    اور ان میں کیا بات ہے کہ عذاب نہ کرے ان پر اللہ اور وہ تو روکتے ہیں مسجد حرام سے اور وہ اس کے اختیار والے نہیں اس کے اختیار والے تو وہی ہیں جو پرہیزگار ہیں لیکن ان میں اکثروں کو اس کی خبر نہیں [۲۹] ﴿34﴾

    اور ان کی نماز نہیں تھی کعبہ کے پاس مگر سیٹیاں بجانی اور تالیاں سو چکھو عذاب بدلا اپنے کفر کا [۳۰] ﴿35﴾

    بیشک جو لوگ کافر ہیں وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں اللہ کی راہ سے [۳۱] سو ابھی اور خرچ کریں گے پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس اور آخر مغلوب ہوں گے اور جو کافر ہیں وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے [۳۲] ﴿36﴾

    تاکہ جدا کر دے اللہ ناپاک کو پاک سے اور رکھے ناپاک کو ایک کو ایک پر پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا پھر ڈالدے اسکو دوزخ میں [۳۳] وہی لوگ ہیں نقصان میں [۳۴] ﴿37﴾

    تو کہہ دے کافروں کو کہ اگر وہ باز آ جائیں تو معاف ہو ان کو جو کچھ ہو چکا [۳۵] اور اگر پھر بھی وہی کریں گے تو پڑ چکی ہے راہ اگلوں کی [۳۶] ﴿38﴾

    اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فساد [۳۷] اور ہو جائے حکم سب اللہ کا [۳۸] پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے کام کو دیکھتا ہے [۳۹] ﴿39﴾

    اور اگر وہ نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے کیا خوب حمایتی ہے اور کیا خوب مددگار [۴۰] ﴿40﴾

    اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کو غنیمت ملے کسی چیز سے سو اللہ کے واسطے ہے اس میں سے پانچواں حصہ اور رسول کے واسطے اور اسکے قرابت والوں کے واسطے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے واسطے [۴۱] اگر تم کو یقین ہے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اتاری اپنے بندے پر فیصلہ کے دن [۴۲] جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۴۳] ﴿41﴾

    جس وقت تم تھے ورلے کنارہ پر اور وہ پرلے کنارہ پر [۴۴] اور قافلہ نیچے اتر گیا تھا تم سے [۴۵] اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتےتو نہ پہنچتے وعدہ پر ایک ساتھ [۴۶] لیکن اللہ کو کر ڈالنا تھا ایک کام کو جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ مرے جس کو مرنا ہے قیام حجت کےبعد اور جیوے جس کو جینا ہے قیام حجت کے بعد [۴۷] اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے [۴۸] ﴿42﴾

    جب اللہ نے وہ کافر دکھلائے تجھ کو تیری خواب میں تھوڑے [۴۹] اور اگر تجھ کو بہت دکھلا دیتا تو تم لوگ نامردی کرتے اور جھگرا ڈالتے کام میں لیکن اللہ نے بچا لیا اس کو خوب معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں [۵۰] ﴿43﴾

    اور جب تم کو دکھلائی وہ فوج مقابلہ کے وقت تمہاری آنکھوں میں تھوڑی اور تم کو تھوڑا دکھلایا ان کی آنکھوں میں تاکہ کر ڈالے اللہ ایک کام جو مقرر ہو چکا تھا اور اللہ تک پہنچتا ہے ہر کام [۵۱] ﴿44﴾

    اے ایمان والو جب بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو [۵۲] تاکہ تم مراد پاؤ ﴿45﴾

    اور حکم مانو اللہ کا اور اسکے رسول کا اور آپس میں نہ جھگڑو پس نامرد ہو جاؤ گے اور جاتی رہے گی تمہاری ہوا [۵۳] اور صبر کرو بیشک اللہ ساتھ ہے صبر والوں کے [۵۴] ﴿46﴾

    اور نہ ہو جاؤ ان جیسے جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھانے کو اور روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور اللہ کے قابو میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں [۵۵] ﴿47﴾

    اور جس وقت خوشنما کر دیا شیطان نے انکی نظروں میں ان کے عملوں کو اور بولا کہ کوئی بھی غالب نہ ہوگا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں تمہارا حمایتی ہوں پھر جب سامنے ہوئیں دونوں فوجیں تو وہ الٹا پھرا اپنی ایڑیوں پر اور بولا میں تمہارے ساتھ نہیں ہو ں میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں ڈرتا ہوں اللہ سے اور اللہ کا عذاب سخت ہے [۵۶] ﴿48﴾

    جب کہنے لگے منافق اور جن کےدلوں میں بیماری ہے یہ لوگ مغرور ہیں اپنے دین پر اور جو کوئی بھروسہ کرے اللہ پر تو اللہ زبردست ہے حکمت والا [۵۷] ﴿49﴾

    اور اگر تو دیکھے جس وقت جان قبض کرتے ہیں کافروں کی فرشتے مارتے ہیں ان کے منہ پر اور ان کے پیچھے اور کہتے ہیں چکھو عذاب جلنے کا [۵۸] ﴿50﴾

    یہ بدلا ہے اسی کا جو تم نے آگے بھیجا اپنے ہاتھوں اور اس واسطے کہ اللہ ظلم نہیں کرتا بندوں پر [۵۹] ﴿51﴾

    جیسے دستور فرعون والوں کا اور جو ان سے پہلے تھے کہ منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے سو پکڑا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں پر بیشک اللہ زور آور ہے سخت عذاب کرنے والا [۶۰] ﴿52﴾

    اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ہر گز بدلنے والا نہیں اس نعمت کو جو دی تھی اس نے کسی قوم کو جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے جیوں کی بات اور یہ کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے [۶۱] ﴿53﴾

    جیسے دستور فرعون والوں کا اور جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے جھٹلائیں باتیں اپنے رب کی پھر ہلاک کر دیا ہم نے انکو انکے گناہوں پر اور ڈبو دیا ہم نے فرعون والوں کو اور سارے ظالم تھے [۶۲] ﴿54﴾

    بدتر سب جانداروں میں اللہ کے ہاں وہ ہیں جو منکر ہوئے پھر وہ نہیں ایمان لاتے ﴿55﴾

    جن سے تو نے معاہدہ کیا ہے ان میں سے پھر وہ توڑتے ہیں اپنا عہد ہر بار اور وہ ڈر نہیں رکھتے [۶۳] ﴿56﴾

    سو اگر کبھی تو پائے ان کو لڑائی میں تو انکو ایسی سزا دے کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے تاکہ ان کو عبرت ہو ﴿57﴾

    اور اگر تجھ کو ڈر ہو کسی قوم سےدغا کا تو پھینک دے انکا عہد انکی طرف ایسی طرح پر کہ ہو جاؤ تم اور وہ برابر بیشک اللہ کو خوش نہیں آتے دغاباز [۶۴] ﴿58﴾

    اور یہ نہ سمجھیں کافر لوگ کہ وہ بھاگ نکلے وہ ہرگز تھکا نہ سکیں گے ہم کو [۶۵] ﴿59﴾

    اور تیار کرو انکی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کر سکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے [۶۶] کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور دوسروں پر ان کےسوا جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے [۶۷] اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ پورا ملے گا تم کو اور تمہار حق نہ رہ جائے گا [۶۸] ﴿60﴾

    اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو تو بھی جھک اسی طرف اور بھروسہ کر اللہ پر بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا [۶۹] ﴿61﴾

    اور اگر وہ چاہیں کہ تجھ کو دغا دیں تو تجھ کو کافی ہے اللہ اسی نے تجھ کو زور دیا اپنی مدد کا اور مسلمانوں کا [۷۰] ﴿62﴾

    اور الفت ڈالی انکے دلوں میں اگر تو خرچ کر دیتا جو کچھ زمین میں ہے سارا نہ الفت ڈال سکتا ان کے دلوں میں لیکن اللہ نے الفت ڈالی ان میں بیشک وہ زورآور ہے حکمت والا [۷۱] ﴿63﴾

    اے نبی کافی ہے تجھ کو اللہ اور جتنے تیرے ساتھ ہیں مسلمان [۷۲] ﴿64﴾

    اے نبی شوق دلا مسلمانوں کو لڑائی کا اگر ہوں تم میں بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سو شخص تو غالب ہوں ہزار کافروں پر اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے [۷۳] ﴿65﴾

    اب بوجھ ہلکا کر دیا اللہ نے تم پر سے اور جانا کہ تم میں سستی ہےسو اگر ہوں تم میں سو شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر اور اگر ہوں تم میں ہزار تو غالب ہوں دو ہزار پر اللہ کے حکم سے اور اللہ ساتھ ہے ثابت قدم رہنے والوں کے [۷۴] ﴿66﴾

    نبی کو نہیں چاہئے کہ اپنے ہاں رکھے قیدیوں کو جب تک خوب خونریزی نہ کر لے ملک میں تم چاہتے ہو اسباب دنیا اور اور اللہ کے ہاں چاہئے آخرت اور اللہ زور آور ہے حکمت والا [۷۵] ﴿67﴾

    اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب [۷۶] ﴿68﴾

    سو کھاؤ جو تم کو غنیمت میں ملا حلال ستھرا اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۷۷] ﴿69﴾

    اے نبی کہہ دے ان سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں قیدی اگر جانے گا اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی تو دے گا تم کو بہتر اس سے جو تم سے چھن گیا اور تم کو بخشے گا اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان ﴿70﴾

    اور اگر چاہیں گے تجھ سے دغا کرنی سو وہ دغا کر چکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے پھر اس نے انکو پکڑوا دیا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۷۸] ﴿71﴾

    جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑا اور لڑے اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو ایمان لائے اور گھر نہیں چھوڑا تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں جب تک وہ گھر نہ چھوڑ آئیں اور اگر وہ تم سے مدد چاہیں دین میں تو تم کو لازم ہے انکی مدد کرنی مگر مقابلہ میں ان لوگوں کے کہ ان میں اور تم میں عہد ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے [۷۹] ﴿72﴾

    اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اگر تم یوں نہ کرو گے تو فتنہ پھیلے گا ملک میں اور بڑی خرابی ہو گی [۸۰] ﴿73﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اور اپنے گھر چھوڑے اور لڑے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور انکی مدد کی وہی ہیں سچے مسلمان انکے لئے بخشش ہے اور روزی عزت کی [۸۱] ﴿74﴾

    اور جو ایمان لائے اسکے بعد اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے تمہارے ساتھ ہو کر سو وہ لوگ بھی تمہی میں ہیں اور رشتہ دار آپس میں حقدار زیادہ ہیں ایک دوسرے کے اللہ کے حکم میں [۸۲] تحقیق اللہ ہر چیز سے خبردار ہے [۸۳] ﴿75﴾

    Surah 9
    التوبہ

    (اس سورت کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئ اس کے مختلف اسباب بیان کئے گئے ہیں) [۱] صاف جواب ہے اللہ کی طرف سے اور اسکے رسول کی ان مشرکوں کو جن سے تمہارا عہد ہوا تھا ﴿1﴾

    سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے اور جان لو کہ تم نہ تھکا سکو گے اللہ کو اور یہ کہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو [۲] ﴿2﴾

    اور سنا دینا ہے اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی لوگوں کو دن بڑے حج کے [۳] کہ اللہ الگ ہے مشرکوں سے اور اس کا رسول سو اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم ہرگز نہ تھکا سکو گے اللہ کو اور خوشخبری سنادے کافروں کو عذاب دردناک کی [۴] ﴿3﴾

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے کچھ قصور نہ کیا تمہارے ساتھ اور مدد نہ کی تمہارے مقابلہ میں کسی کی سو ان سے پورا کر دو ان کا عہد ان کے وعدہ تک بیشک اللہ کو پسند ہیں احتیاط والے [۵] ﴿4﴾

    پھر جب گذر جائیں مہینے پناہ کے تو مارو مشرکوں کو جہاں پاؤ اور پکڑو اور گھیرو اور بیٹھو ہر جگہ ان کی تاک میں پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا رستہ بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۶] ﴿5﴾

    اور اگر کوئی مشرک تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پنادہ دیدے یاں تک کہ وہ سن لے کلام اللہ کا پھر پہنچا دے اسکو اسکی امن کی جگہ یہ اس واسطے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے [۷] ﴿6﴾

    کیونکر ہووے مشرکوں کے لئے عہد اللہ کے نزدیک اور اسکے رسول کے نزدیک مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس سو جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو پسند ہیں احتیاط والے ﴿7﴾

    کیونکر رہے صلح اور اگر وہ تم پر قابو پائیں تو نہ لحاظ کریں تمہاری قرابت کا اور نہ عہد کا تم کو راضی کر دیتے ہیں اپنے منہ کی بات سے اور انکے دل نہیں مانتے اور اکثر ان میں بد عہد ہیں [۸] ﴿8﴾

    بیچ ڈالے انہوں نے اللہ کے حکم تھوڑی قیمت پر پھر روکا اس کے رستہ سے برے کام ہیں جو وہ لوگ کر رہے ہیں [۹] ﴿9﴾

    نہیں لحاظ کرتے کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا اور نہ عہد کا اور وہی ہیں زیادتی پر [۱۰] ﴿10﴾

    سو اگر توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیتے رہیں زکوٰۃ تو تمہارے بھائی ہیں حکم شریعت میں [۱۱] اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں حکموں کو جاننے والے لوگوں کے واسطے ﴿11﴾

    اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگائیں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک انکی قسمیں کچھ نہیں تاکہ وہ باز آئیں [۲۱] ﴿12﴾

    کیا نہیں لڑتے ایسے لوگوں سے جو توڑیں اپنی قسمیں اور فکر میں رہیں کہ رسول کو نکال دیں اور انہوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے کیا تم ان سے ڈرتے ہو سو اللہ کا ڈر چاہئے تم کو زیادہ اگر تم ایمان رکھتے ہو [۱۳] ﴿13﴾

    لڑو ان سے تا عذاب دے اللہ انکو تمہارے ہاتھوں اور رسوا کرے اور تم کو ان پر غالب کرے اور ٹھنڈے کرے دل مسلمانوں کے ﴿14﴾

    اور نکالے ان کے دل کی جلن اور اللہ توبہ نصیب کرے گا جس کو چاہے گا [۱۴] اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۵] ﴿15﴾

    کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ چھوٹ جاؤ گے اور حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے اور نہیں پکڑا انہوں نے سوا اللہ کے اور اسکے رسول کے اور مسلمانوں کے کسی کو بھیدی اور اللہ کو خبر ہے جو تم کر رہے ہو [۱۶] ﴿16﴾

    مشرکوں کا کام نہیں کہ آباد کریں اللہ کی مسجدیں اور تسلیم کر رہے ہوں اپنے اوپر کفر کو وہ لوگ خراب گئے ان کےعمل اور آگ میں رہیں گے وہ ہمیشہ ﴿17﴾

    وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو یقین لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو اور دیتا رہا زکوٰۃ اور نہ ڈرا سوائے اللہ کے کسی سے سو امیدوار ہیں وہ لوگ کہ ہوویں ہدایت والوں میں [۱۷] ﴿18﴾

    کیا تم نے کر دیا حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد الحرام کا بسانا برابر اس کے جو یقین لایا اللہ پر اور آخرت کےدن پر اور لڑا اللہ کی راہ میں یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ رستہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو [۱۸] ﴿19﴾

    جو ایمان لائے اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے ان کے لئے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں ﴿20﴾

    خوشخبری دیتا ہے انکو پروردگار انکا اپنی طرف سے مہربانی کی اور ضامندی کی اور باغوں کی کہ جن میں انکو آرام ہے ہمیشہ کا ﴿21﴾

    رہا کریں ان میں مدام بیشک اللہ پاس بڑا ثواب ہے [۱۹] ﴿22﴾

    اےایمان والو مت پکڑو اپنے باپوں کو اور بھائیوں کو رفیق اگر وہ عزیز رکھیں کفر کو ایمان سے اور جو تم میں انکی رفاقت کرے سو وہی لوگ ہیں گنہگار [۲۰] ﴿23﴾

    تو کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جسکے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جنکو پسند کرتے ہو تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اسکے رسول سے اور لڑنے سے اسکی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ رستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو [۲۱] ﴿24﴾

    مدد کر چکا ہے اللہ تمہاری بہت میدانوں میں اور حنین کے دن جب خوش ہوئے تم اپنی کثرت پر پھر وہ کچھ کام نہ آئی تمہارے اور تنگ ہو گئی تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے پھر ہٹ گئے تم پیٹھ دے کر ﴿25﴾

    پھر اتاری اللہ نے اپنی طرف سے تسکین اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اور اتاریں فوجیں کہ جنکو تم نے نہیں دیکھا اور عذاب دیا کافروں کو اور یہ سزا ہے منکروں کی [۲۲] ﴿26﴾

    پھر توبہ نصیب کرے گا اللہ اس کے بعد جس کو چاہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۳] ﴿27﴾

    اے ایمان والو مشرک جو ہیں سو پلید ہیں سو نزدیک نہ آنے پائیں مسجدالحرام کے اس برس کے بعد [۲۴] اور اگر تم ڈرتے ہو فقر سے تو آئندہ غنی کر دے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۲۵] ﴿28﴾

    لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ حرام جانتے ہیں اسکو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اسکے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا ان لوگوں میں سے جو کہ اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر [۲۶] ﴿29﴾

    اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے [۲۷] اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے ریس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات کی [۲۸] ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں [۲۹] ﴿30﴾

    ٹھہرا لیا اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا اللہ کو چھوڑ کر [۳۰] اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی اور انکو حکم یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک معبود کی کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا وہ پاک ہے ان کے شریک بتلانے سے ﴿31﴾

    چاہتے ہیں کہ بھجا دیں روشنی اللہ کی اپنے منہ سے اور اللہ نہ رہے گا بدون پورا کئے اپنی روشنی کے اور پڑے برا مانیں کافر [۳۱] ﴿32﴾

    اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر تاکہ اس کو غلبہ دے ہر دین پر اور پڑے برا مانیں مشرک [۳۲] ﴿33﴾

    اے ایمان والو بہت سے عالم اور درویش اہل کتاب کے کھاتے ہیں مال لوگوں کے ناحق اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے [۳۳] اور جو لوگ گاڑھ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسکو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو انکو خوشخبری سنا دے عذاب دردناک کی [۳۴] ﴿34﴾

    جس دن کہ آگ دہکائیں گے اس مال پر دوزخ کی پھر داغیں گے اس سے ان کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں (کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے گاڑھ کر رکھا تھا اپنے واسطے اب چکھو مزا اپنے گاڑھنے کا [۳۵] ﴿35﴾

    مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کےحکم میں جس دن اس نے پیدا کئے تھے آسمان اور زمین ان میں چار مہینے ہیں ادب کے یہی ہے سیدھا دین [۳۶] سو ان میں ظلم مت کرو اپنے اوپر اور لڑو سب مشرکوں سے ہر حال میں جیسے وہ لڑتے ہیں تم سب سے ہر حال میں اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے ڈرنے والوں کے [۳۷] ﴿36﴾

    یہ جو مہینہ ہٹا دینا ہے سو بڑھائی ہوئی بات ہے کفر کےعہد میں گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر حلال کر لیتے ہیں اُس مہینہ کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں دوسرے برس تاکہ پوری کر لیں گنتی ان مہینوں کی جو اللہ نے ادب کے لئے رکھے ہیں پھر حلال کر لیتے ہیں جو مہینہ کہ اللہ نے حرام کیا بھلے کر دیئے گئے انکی نظر میں ان کے برے کام اور اللہ راستہ نہیں دیتا کافر لوگوں کو [۳۸] ﴿37﴾

    اے ایمان والو تم کو کیا ہوا جب تم سے کہا جاتا ہے کہ کوچ کرو اللہ کی راہ میں تو گرے جاتے ہو زمین پر کیا خوش ہو گئے دنیا کی زندگی پر آخرت کو چھوڑ کر سو کچھ نہیں نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلہ میں مگر بہت تھوڑا [۳۹] ﴿38﴾

    اگر تم نہ نکلو گے تو دے گا تم کو عذاب دردناک اور بدلے میں لائے گا اور لوگ تمہارے سوا اور کچھ نہ بگاڑ سکو گے تم اس کا اور اللہ سب چیز پر قادر ہے [۴۰] ﴿39﴾

    اگر تم نہ مدد کرو گے رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اللہ نے جس وقت اس کو نکالا تھا کافروں نے کہ وہ دوسرا تھا دو میں کا جب وہ دونوں تھے غار میں جب وہ کہہ رہا تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اسکی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں اور نیچے ڈالی کافروں کی اور اللہ کی بات ہمیشہ اوپر ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا [۴۱] ﴿40﴾

    نکلو ہلکے اور بوجھل [۴۲] اور لڑو اپنے مال سے اور جان سے اللہ کی راہ میں یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے [۴۳] ﴿41﴾

    اگر مال ہو تا نزدیک اور سفر ہلکا تو وہ لوگ ضرور تیرے ساتھ ہو لیتے لیکن لمبی نظر آئی ان کو مسافت [۴۴] اور اب قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہم سے ہو سکتا تو ہم ضرور چلتے تمہارے ساتھ وبال میں ڈالتے ہیں اپنی جانوں کو اور اللہ جانتا ہےکہ وہ جھوٹے ہیں [۴۵] ﴿42﴾

    اللہ بخشے تجھ کو کیوں رخصت دے دی تو نے انکو یہاں تک کہ ظاہر ہو جاتے تجھ پر سچ کہنے والے اور جان لیتا تو جھوٹوں کو [۴۶] ﴿43﴾

    نہیں رخصت مانگتے تجھ سے وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس سے کہ لڑیں اپنے مال اور جان سے اور اللہ خوب جانتا ہے ڈر والوں کو ﴿44﴾

    رخصت وہی مانگتے ہیں تجھ سے جو نہیں ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور شک میں پڑے ہیں دل ان کے سو وہ اپنے شک ہی میں بھٹک رہے ہیں [۴۷] ﴿45﴾

    اور اگر وہ چاہتے نکلنا تو ضرور تیار کرتے کچھ سامان اس کا لیکن پسند نہ کیا اللہ نے ان کا اٹھنا سو روک دیا انکو اور حکم ہوا کہ بیٹھے رہو ساتھ بیٹھنے والوں کے [۴۸] ﴿46﴾

    اگر نکلتےتم میں تو کچھ نہ بڑھاتے تمہارے لئے مگر خرابی اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر بگاڑ کروانے کی تلاش میں [۴۹] اور تم میں بعضے جاسوس ہیں انکے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو [۵۰] ﴿47﴾

    وہ تلاش کرتے رہے ہیں بگاڑ کی پہلے سے اور الٹتے رہے ہیں تیرے کام یہاں تک کہ آ پہنچا سچا وعدہ اور غالب رہا حکم اللہ کا اور وہ ناخوش ہی رہے [۵۱] ﴿48﴾

    اور بعضے ان میں کہتے ہیں مجھ کو رخصت دے اور گمراہی میں نہ ڈال سنتا ہے وہ تو گمراہی میں پڑ چکے ہیں اور بیشک دوزخ گھیر رہی ہے کافروں کو [۵۲] ﴿49﴾

    اگر تجھ کو پہنچے کوئی خوبی تو وہ بری لگتی ہے انکو اور اگر پہنچے کوئی سختی تو کہتےہیں ہم نے تو سنبھال لیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور پھر کر جائیں خوشیاں کرتے [۵۳] ﴿50﴾

    تو کہہ دے ہم کو ہر گز نہ پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لئے وہی ہے کارساز ہمارا اور اللہ ہی پر چاہئے کہ بھروسہ کریں مسلمان ﴿51﴾

    تو کہہ دے تم کیا امید کرو گے ہمارے حق میں مگر دو خوبیوں میں سے ایک کی اور ہم امیدوار ہیں تمہارے حق میں کہ ڈالے تم پر اللہ کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سو منتظر رہو ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں [۵۴] ﴿52﴾

    کہہ دے کہ مال خرچ کرو خوشی سے یا ناخوشی سے ہر گز قبول نہ ہوگا تم سے بیشک تم نافرمان لوگ ہو [۵۵] ﴿53﴾

    اور موقوف نہیں ہوا قبول ہونا ان کے خرچ کا مگر اسی بات پر کہ وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اسکے رسول سے اور نہیں آتے نماز کو مگر ہارے جی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے [۵۶] ﴿54﴾

    سو تو تعجب نہ کر ان کے مال اور اولاد سے یہی چاہتا ہے اللہ کہ انکو عذاب میں رکھے ان چیزوں کی وجہ دنیا کی زندگی میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں [۵۷] ﴿55﴾

    اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بیشک تم میں ہیں اور وہ تم میں نہیں و لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں تم سے ﴿56﴾

    اگر وہ پائیں کوئی پناہ کی جگہ یا غار یا سر گھسانے کو جگہ تو الٹے بھاگیں اسی طرف رسیاں تڑاتے [۵۸] ﴿57﴾

    اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ تجھ کو طعن دیتےہیں خیرات بانٹنے میں سو اگر ان کو ملے اس میں سے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے تو جبہی وہ ناخوش ہو جائیں [۵۹] ﴿58﴾

    اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ راضی ہو جاتے اسی پر جو دیا انکو اللہ نے اور اسکے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہم کو اللہ وہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم کو تو اللہ ہی چاہیئے [۶۰] ﴿59﴾

    زکوٰۃ جو ہے سو وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰۃ کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پرچانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے رستہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۶۱] ﴿60﴾

    اور بعضے ان میں بدگوئی کرتے ہیں نبی کی اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے تو کہہ کان ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مسلمانوں کی بات کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے حق میں تم میں سے اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ان کے لئے عذاب ہے دردناک [۶۲] ﴿61﴾

    قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمہارےآگے تاکہ تم کر راضی کریں اور اللہ کو اور اسکے رسول کو بہت ضرور ہے راضی کرنا اگر وہ ایمان رکھتے ہیں [۶۳] ﴿62﴾

    کیا وہ جان نہیں چکے کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اسکے رسول سے تو اسکے واسطے ہے دوزخ کی آگ سدا رہے اس میں یہی ہے بڑی رسوائی [۶۴] ﴿63﴾

    ڈرا کرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل ہو مسلمانوں پر ایسی سورت کہ جتا دے انکو جو انکے دل میں ہے تو کہہ دے ٹھٹھے کرتے رہو اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس کا تم کو ڈر ہے [۶۵] ﴿64﴾

    اور اگر تو ان سے پوچھے تو وہ کہیں گے ہم تو بات چیت کرتےتھے اور دل لگی [۶۶] تو کہہ کیا اللہ سے اور اسکے حکموں سے اور اسکے رسول سے تم ٹھٹھے کرتے تھے [۶۷] ﴿65﴾

    بہانے مت بناؤ تم تو کافر ہو گئے اظہار ایمان کے پیچھے اگر ہم معاف کر دیں گے تم میں سے بعضوں کو تو البتہ عذاب بھی دیں گے بعضوں کو اس سبب سےکہ وہ گنہگار تھے [۶۸] ﴿66﴾

    منافق مرد اور منافق عورتیں سب کی ایک چال ہے سکھائیں بات بری اور چھڑائیں بات بھلی اوربند رکھیں اپنی مٹھی بھول گئے اللہ کو سو وہ بھول گیا انکو تحقیق منافق وہی ہیں نافرمان [۶۹] ﴿67﴾

    وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو دوزخ کی آگ کا پڑے رہیں گے اس میں وہی بس ہے انکو [۷۰] اور اللہ نے انکو پھٹکار دیا اور انکے لئے عذاب ہے برقرار رہنے والا [۷۱] ﴿68﴾

    جس طرح تم سے اگلے لوگ زیادہ تھے تم سے زور میں اور زیادہ رکھتے تھے مال اور اولاد پھر فائدہ اٹھا گئے اپنے حصہ سے [۷۲] پھر فائدہ اٹھایا تم نے اپنے حصہ سے جیسے فائدہ اٹھا گئے تم سے اگلے اپنے حصہ سے اور تم بھی چلتے ہو انہی کی سی چال [۷۳] وہ لوگ مٹ گئے ان کے عمل دنیا میں اور آخرت میں اور وہی لوگ پڑے نقصان میں [۷۴] ﴿69﴾

    کیا پہنچی نہیں انکو خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے قوم نوح کی اور عاد کی اور ثمود کی اور قوم ابراہیم کی اور مدین والوں کی اور ان بستیوں کی خبر جو الٹ دی گئ تھیں [۷۵] پہنچے انکے پاس انکے رسول صاف حکم لے کر سو اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے [۷۶] ﴿70﴾

    اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کی مددگار ہیں سکھلاتے ہیں نیک بات اور منع کرتے ہیں بری بات سے اور قائم رکھتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور حکم پر چلتے ہیں اللہ کے اور اسکے رسول کے وہی لوگ ہیں جن پر رحم کرے گا اللہ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا [۷۷] ﴿71﴾

    وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہا کریں انہی میں اور ستھرے مکانوں کا رہنے کے باغوں میں اور رضامندی اللہ کی ان سب سے بڑی ہے یہی ہے بڑی کامیابی [۷۸] ﴿72﴾

    اے نبی لڑائی کر کافروں سے اور منافقوں سے اور تندخوئی کر ان پر اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے [۷۹] ﴿73﴾

    قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ ہم نے نہیں کہا اور بیشک کہا ہے انہوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہو گئے مسلمان ہو کر [۸۰] اور قصد کیا تھا اس چیز کا جو ان کو نہ ملی [۸۱] اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ دولتمند کر دیا ان کو اللہ نے اور اسکے رسول نے اپنے فضل سےسو اگر توبہ کر لیں تو بھلا ہے ان کے حق میں اور اگر نہ مانیں گے تو عذاب دے گا انکو اللہ عذاب دردناک دنیا اور آخرت میں اور نہیں ان کا روئے زمین پر کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۸۲] ﴿74﴾

    اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ عہد کیا تھا اللہ سے اگر دیوے ہم کو اپنے فضل سے تو ہم ضرور خیرات کریں اور ہو رہیں ہم نیکی والوں میں ﴿75﴾

    پھر جب دیا انکو اپنے فضل سے تو اس میں بخل کیا اور پھر گئے ٹلا کر [۸۳] ﴿76﴾

    پھر اس کا اثر رکھ دیا نفاق انکے دلوں میں جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ بولتے تھے جھوٹ [۸۴] ﴿77﴾

    کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو [۸۵] ﴿78﴾

    وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں ان مسلمانوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان پر جو نہیں رکھتے مگر اپنی محنت کا پھر ان پر ٹھٹھے کرتے ہیں اللہ نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے اور ان کے لئے عذاب دردناک ہے [۸۶] ﴿79﴾

    تو انکے لئے بخشش مانگ یا نہ مانگ اگر ان کے لئےستر بار بخشش مانگے تو بھی ہرگز نہ بخشے گا انکو اللہ یہ اس واسطے کہ وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ رستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو [۸۷] ﴿80﴾

    خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے جدا ہو کر رسول اللہ سے اور گھبرائے اس سے کہ لڑیں اپنے مال سےاور جان سے اللہ کی راہ میں [۸۸] اور بولے کہ مت کوچ کرو گرمی میں [۸۹] تو کہہ دوزخ کی آگ سخت گرم ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی [۹۰] ﴿81﴾

    سو وہ ہنس لیویں تھوڑ ا اور روویں بہت سا بدلا اس کا جو وہ کماتے تھے [۹۱] ﴿82﴾

    سو اگر پھر لے جائے تجھ کو اللہ کسی فرقہ کی طرف ان میں سے [۹۲] پھر اجازت چاہیں تجھ سے نکلنے کی تو تو کہہ دینا کہ تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے تم کو پسند آیا بیٹھ رہنا پہلی بار سو بیٹھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ [۹۳] ﴿83﴾

    اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر [۹۴] وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اسکے رسول سے اور وہ مر گئے نافرمان [۹۵] ﴿84﴾

    اور تعجب نہ کر ان کے مال اور اولاد سے اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ عذاب میں رکھے انکو ان چیزوں کے باعث دنیا میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں [۹۶] ﴿85﴾

    اور جب نازل ہوتی ہے کوئی سورت کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور لڑائی کرو اسکے رسول کے ساتھ ہو کر جو تجھ سے رخصت مانگتے ہیں مقدور والے انکے اور کہتے ہیں ہم کو چھوڑ دے کہ رہ جائیں ساتھ بیٹھنے والوں کے ﴿86﴾

    خوش ہوئے کہ رہ جائیں پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ [۹۷] اور مہر کر دی گئی ان کے دل پر سو وہ نہیں سمجھتے [۹۸] ﴿87﴾

    لیکن رسول اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ساتھ اسکے وہ لڑے ہیں اپنے مال اور جان سے اور انہی کے لئے ہیں خوبیاں اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے ﴿88﴾

    تیار کر رکھے ہیں اللہ نےانکے واسطے باغ کہ بہتی ہیں نیچے انکے نہریں رہا کریں ان میں یہی ہے بڑی کامیابی [۹۹] ﴿89﴾

    اور آئے بہانہ کرنے والے گنوار تاکہ انکو رخصت مل جائے اور بیٹھ رہے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ سے اور اسکے رسول سے اب پہنچے گا انکو جو کافر ہیں ان میں عذاب دردناک [۱۰۰] ﴿90﴾

    نہیں ہے ضعیفوں پر اور نہ مریضوں پر اور نہ ان لوگوں پر جنکے پاس نہیں ہے خرچ کرنے کو کچھ گناہ جبکہ دل سےصاف ہوں اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ نہیں ہے نیکی والوں پر الزام کی کوئی راہ [۱۰۱] اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۰۲] ﴿91﴾

    اور نہ ان لوگوں پر کہ جب تیرے پاس آئے تاکہ تو ان کو سواری دے تو نے کہا میرے پاس کوئ چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو الٹے پھرے اور انکی آنکھوں سے بہتے تھے آنسو اس غم میں کہ نہیں پاتے وہ چیز جو خرچ کریں [۱۰۳] ﴿92﴾

    راہ الزام کی تو ان پر ہے جو رخصت مانگتے ہیں تجھ سے اور وہ مالدار ہیں خوش ہوئے اس بات سے کہ رہ جائیں ساتھ پیچھے رہنے والیوں کے اور مہر کر دی اللہ نے انکے دلوں پر سو وہ نہیں جانتے [۱۰۴] ﴿93﴾

    بہانے لائیں گے تمہارے پاس جب تم پھر کر جاؤ گے ان کی طرف تو کہہ بہانے مت بناؤ ہم ہر گز نہ مانیں گے تمہاری بات ہم کو بتا چکا ہے اللہ تمہارے احوال اور ابھی دیکھے گا اللہ تمہارےکام اور اس کا رسول پھر تم لوٹائے جاؤ گے طرف اس جاننے والے چھپے اور کھلے کی سو وہ بتائے گا تم کو جو تم کر رہے تھے [۱۰۵] ﴿94﴾

    اب قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمہارے سامنے جب تم پھر کر جاؤ گے ان کی طرف تاکہ ان سے درگذر کرو سو تم درگذر کرو ان سے بیشک وہ لوگ پلید ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے بدلا ان کے کاموں کا [۱۰۶] ﴿95﴾

    وہ لوگ قسمیں کھائیں گے تمہارے سامنے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ سو اگر تم راضی ہو گئے ان سے تو اللہ راضی نہیں ہوتا نافرمان لوگوں سے [۱۰۷] ﴿96﴾

    گنوار بہت سخت ہیں کفر میں اور نفاق میں اور اسی لائق ہیں کہ نہ سیکھیں وہ قاعدے جو نازل کئے اللہ نے اپنے رسول پر [۱۰۸] اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۰۹] ﴿97﴾

    اور بعضے گنوار ایسے ہیں کہ شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانہ کی گردشوں کا ان ہی پر آئے گردش بری اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے [۱۱۰] ﴿98﴾

    اور بعضے گنوار وہ ہیں کہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو نزدیک ہونا اللہ سے اور دعا لینی رسول کی سنتا ہے وہ ان کے حق میں نزدیکی ہے داخل کرے گا انکو اللہ اپنی رحمت میں بیشک اللہ بخشننے والا مہربان ہے [۱۱۱] ﴿99﴾

    اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو انکے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور تیار کر رکھے ہیں واسطے انکے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کےنہریں رہا کریں انہی میں ہمیشہ یہی ہے بڑی کامیابی [۱۱۲] ﴿100﴾

    اور بعضے تمہارے گرد کے گنوار منافق ہیں اور بعضے لوگ مدینہ والے اڑ رہے ہیں نفاق پر تو انکو نہیں جانتا ہم کو وہ معلوم ہیں [۱۱۳] انکو ہم عذاب دیں گے دو بار پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف [۱۱۴] ﴿101﴾

    اور بعضے لوگ ہیں کہ اقرار کیا انہوں نے اپنے گناہوں کا ملایا انہوں نے ایک کام نیک اور دوسرا بد قریب ہے کہ اللہ معاف کرے انکو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۱۵] ﴿102﴾

    لے انکے مال میں سے زکوٰۃ [۱۱۶] کہ پاک کرے تو انکو اور بابرکت کرے تو انکو اسکی وجہ سے اور دعا دے انکو بیشک تیری دعا ان کے لئے تسکین ہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے [۱۱۷] ﴿103﴾

    کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ آپ قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں سے اور لیتا ہے زکوٰتیں اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے [۱۱۸] ﴿104﴾

    اور کہہ کہ عمل کئے جاؤ پھر آگے دیکھ لے گا اللہ تمہارے کام کو اور اس کا رسول اور مسلمان اور تم جلد لوٹائے جاؤ گے اسکے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں سے واقف ہے پھر وہ جتا دے گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے [۱۱۹] ﴿105﴾

    اور بعضے اور لوگ ہیں کہ انکا کام ڈھیل میں ہے حکم پر اللہ کے یا وہ انکو عذاب دے اور یا انکو معاف کرے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۲۰] ﴿106﴾

    اور جنہوں نے بنائی ہے ایک مسجد ضد پر اور کفر پر اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور گھات لگانے کو اس شخص کی جو لڑ رہا ہے اللہ سے اور اسکے رسول سے پہلے سے اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں [۱۲۱] ﴿107﴾

    تو نہ کھڑا ہو اس میں کبھی البتہ وہ مسجد جسکی بنیاد دھری گئ پرہیزگاری پر اول دن سے وہ لائق ہے کہ تو کھڑا ہو اسمیں اس میں ایسےلوگ ہیں جو دوست رکھتے ہیں پاک رہنے کو اور اللہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو [۱۲۲] ﴿108﴾

    بھلا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ سے ڈرنے پر اور اسکی رضامندی پر وہ بہتر یا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی کنارہ پر ایک کھائی کے جو گرنے کو ہے پھر اسکو لیکر ڈھے پڑا دوزخ کی آگ میں [۱۲۳] اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو [۱۲۴] ﴿109﴾

    ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی شبہ انکے دلوں میں مگر جب ٹکڑے ہو جائیں انکے دل کے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۱۲۵] ﴿110﴾

    اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ انکے لئے جنت ہے لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں وعدہ ہو چکا اسکے ذمہ پر سچا توریت اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے قول کا پورا اللہ سے زیادہ سو خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے کیا ہے اس سے اور یہ یہی ہے بڑی کامیابی [۱۲۶] ﴿111﴾

    وہ توبہ کرنے والے ہیں بندگی کرنے والے شکر کرنے والے بے تعلق رہنے والے [۱۲۷] رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے حکم کرنے والے نیک بات کا اور منع کرنے والے بری بات سے [۱۲۸] اور حفاظت کرنے والے ان حدود کی جو باندھی اللہ نے اور خوشخبری سنا دے ایمان والوں کو [۱۲۹] ﴿112﴾

    لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے جب کہ کھل چکا ان پر کہ وہ ہیں دوزخ والے [۱۳۰] ﴿113﴾

    اور بخشش مانگنا ابراہیم کا اپنے باپ کے واسطے سو نہ تھا مگر وعدہ کے سبب کہ وعدہ کر چکا تھا اس سے پھر جب کھل گیا ابراہیم پر کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو اس سے بیزار ہو گیا بیشک ابراہیم بڑا نرم دل تھا تحمل کرنے والا [۱۳۱] ﴿114﴾

    اور اللہ ایسا نہیں کہ گمراہ کرے کسی قوم کو جبکہ ان کو راہ پر لا چکا جب تک کھول نہ دے ان پر جس سے انکو بچنا چاہئے بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے [۱۳۲] ﴿115﴾

    اللہ ہی کی ہے سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں جلاتا ہے اور مارتا ہے اور تمہارا کوئی نہیں اللہ کے سوا حمایتی اور نہ مددگار [۱۳۳] ﴿116﴾

    اللہ مہربان ہوا نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر جو ساتھ رہے نبی کے مشکل کی گھڑی میں [۱۳۴] بعد اسکے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں بعضوں کے ان میں سے پھر مہربان ہوا ان پر بیشک وہ ان پر مہربان ہے رحم کرنے والا [۱۳۵] ﴿117﴾

    اور ان تین شخصوں پر جن کو پیچھے رکھا تھا [۱۳۶] یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں اور سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اس کی طر ف پھر مہربان ہوا ان پر تاکہ وہ پھر آئیں بیشک اللہ ہی ہے مہربان رحم والا [۱۳۷] ﴿118﴾

    اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور رہو ساتھ سچوں کے [۱۳۸] ﴿119﴾

    نہ چاہئے مدینہ والوں کو اور انکے گرد کے گنواروں کو کہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے اور نہ یہ کہ اپنی جان کو چاہیں زیادہ رسول کی جان سے [۱۳۹] یہ اس واسطے کہ جہاد کرنے والے نہیں پہنچتی انکو پیاس اور نہ محنت اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر اور نہ چھینتے ہیں دشمن سے کوئی چیز مگر لکھا جاتا ہے ان کے واسطے اسکے بدلے نیک عمل بیشک اللہ نہیں ضائع کرتا حق نیکی کرنے والوں کا [۱۴۰] ﴿120﴾

    اور نہ خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور نہ طے کرتے ہیں کوئی میدان مگر لکھ لیا جاتا ہے انکے واسطے [۱۴۱] تاکہ بدلا دے ان کو اللہ بہتر اس کام کا جو کرتے تھے [۱۴۲] ﴿121﴾

    اور ایسے تو نہیں مسلمان کہ کوچ کریں سارے سو کیوں نہ نکلا ہر فرقہ میں سے ان کا ایک حصہ تاکہ سمجھ پیدا کریں دین میں اور تاکہ خبر پہنچائیں اپنی قوم کو جب کہ لوٹ کر آئیں ان کی طرف تاکہ وہ بچتے رہیں [۱۴۳] ﴿122﴾

    اے ایمان والو لڑتے جاؤ اپنے نزدیک کے کافروں سے [۱۴۴] اور چاہئے کہ ان پر معلوم ہو تمہارے اندر سختی [۱۴۵] اور جانو کہ اللہ ساتھ ہے ڈر والوں کے [۱۴۶] ﴿123﴾

    اور جب نازل ہوتی ہے کوئی سورت تو بعضے ان میں کہتے ہیں کس کا تم میں سے زیادہ کر دیا اس سورت نے ایمان سو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کا زیادہ کر دیا اس سورت نے ایمان اور وہ خوش وقت ہوتے ہیں ﴿124﴾

    اور جنکے دل میں مرض ہے سو انکے لئے بڑھا دی گندگی پر گندگی اور وہ مرنے تک کافر ہی رہے [۱۴۷] ﴿125﴾

    کیا نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس میں ایک بار یا دو بار پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں [۱۴۸] ﴿126﴾

    اور جب نازل ہوتی ہے کوئی سورت تو دیکھنے لگتا ہے ان میں ایک دوسرے کی طرف کہ کیا دیکھتا ہے تم کو کوئی مسلمان پھر چل دیتےہیں [۱۴۹] پھیر دیے ہیں اللہ نے دل ان کے اس واسطے کہ وہ لوگ ہیں کہ سمجھ نہیں رکھتے [۱۵۰] ﴿127﴾

    آیا ہے تمہارے پاس رسول تم میں کا [۱۵۱] بھاری ہے اس پر جو تم کو تکلیف پہنچے [۱۵۲] حریص ہے تمہارے بھلائی پر [۱۵۳] ایمان والوں پر نہایت شفیق مہربان ہے [۱۵۴] ﴿128﴾

    پھر بھی اگر منہ پھیریں تو کہہ دے کہ کافی ہے مجھ کو اللہ کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا [۱۵۵] ﴿129﴾

    Surah 10
    یونس

    یہ آیتیں ہیں پکی کتاب کی [۱] ﴿1﴾

    کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ وحی بھیجی ہم نے ایک مرد پر ان میں سے یہ کہ ڈر سنا دے لوگوں کو اور خوشخبری سنا دے ایمان لانے والوں کو کہ ان کے لئے پایہ سچا ہے اپنے رب کے یہاں [۲] کہنے لگے منکر بیشک یہ تو جادوگر ہے صریح [۳] ﴿2﴾

    تحقیق تمہارا رب اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں [۴] پھر قائم ہوا عرش پر [۵] تدبیر کرتا ہے کام کی [۶] کوئی سفارش نہیں کر سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد [۷] وہ اللہ ہے رب تمہارا سو اسکی بندگی کرو کیا تم دھیان نہیں کرتے [۸] ﴿3﴾

    اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو [۹] وعدہ ہے اللہ کا سچا وہی پیدا کرتا ہے اول بار پھر دوبارہ کرے گا اس کو تاکہ بدلا دے انکو جو ایمان لائے تھے اور کئے تھے کام نیک انصاف کے ساتھ [۱۰] اور جو کافر ہوئے ان کو پینا ہے کھولتا پانی اور عذاب ہے دردناک اس لئے کہ کفر کرتے تھے ﴿4﴾

    وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمک (چمکتا) اور چاند کو چاندنا [۱۱] اور مقرر کیں اسکے لئے منزلیں [۱۲] تاکہ پہچانو گنتی برسوں کی اور حساب [۱۳] یوں ہی نہیں بنایا اللہ نے یہ سب کچھ مگر تدبیر سے [۱۴] ظاہر کرتا ہے نشانیاں ان لوگوں کے لئے جن کو سمجھ ہے [۱۵] ﴿5﴾

    البتہ بدلنے میں رات اور دن کے اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو ڈرتے ہیں [۱۶] ﴿6﴾

    البتہ جو لوگ امید نہیں رکھتے ہمارے ملنے کی اور خوش ہوئے دنیا کی زندگی پر اور اسی پر مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں (قدرتوں) سے بے خبر ہیں [۱۷] ﴿7﴾

    ایسوں کا ٹھکانا ہے آگ بدلا اس کا جو کماتے تھے [۱۸] ﴿8﴾

    البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے اچھے ہدایت کرے گا انکو رب ان کا ان کے ایمان سے [۱۹] بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں باغوں میں آرام کے ﴿9﴾

    ان کی دعا اس جگہ یہ کہ پاک ذات ہے تیری یا اللہ [۲۰] اور ملاقات ان کی سلام [۲۱] اور خاتمہ انکی دعا کا اس پر کہ سب خوبی اللہ کو جو پروردگار سارے جہان کا [۲۲] ﴿10﴾

    اور اگر جلدی پہنچا دے اللہ لوگوں کو برائی جیسے کہ جلدی مانگتے ہیں وہ بھلائی تو ختم کر دی جائے انکی عمر سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں انکو جن کو امید نہیں ہماری ملاقات کی انکی شرارت میں سرگرداں [۲۳] ﴿11﴾

    اور جب پہنچے انسان کو تکلیف پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر اسی طرح پسند آیا ہے بیباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں [۲۴] ﴿12﴾

    اور البتہ ہم ہلاک کر چکے ہیں جماعتوں کو تم سے پہلے جب ظالم ہو گئے حالانکہ لائے تھے انکے پاس رسول انکے کھلی نشانیاں اور ہرگز نہ تھے ایمان لانے والے یوں ہی سزا دیتے ہیں ہم قوم گنہگاروں کو [۲۵] ﴿13﴾

    پھر تم کو ہم نے ناٹب کیا زمین میں ان کے بعد تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو [۲۶] ﴿14﴾

    اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے آیتیں ہماری واضح کہتے ہیں وہ لوگ جن کو امید نہیں ہم سے ملاقات کی لے آ کوئی قرآن اس کے سوا یا اس کو بدل ڈال [۲۷] تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اس کو بدل ڈالوں اپنی طرف سے میں تابعداری کرتا ہوں اسی کی جو حکم آئے میری طرف میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی بڑے دن کے عذاب سے [۲۸] ﴿15﴾

    کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اس کو تمہارے سامنے اور نہ وہ تم کو خبر کرتا اسکی کیونکہ میں رہ چکا ہوں تم میں ایک عمر اس سے پہلے کیا پھر تم نہیں سوچتے [۲۹] ﴿16﴾

    پھر اس سے بڑا ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا جھٹلائے اس کی آیتوں کو بیشک بھلا نہیں ہوتا گنہگاروں کا [۳۰] ﴿17﴾

    اور پرستش کرتے ہیں اللہ کےسوا اس چیز کی جو نہ نقصان پہنچا سکے ان کو نہ نفع اور کہتے ہیں یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس [۳۱] تو کہہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اسکو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جسکو شریک کرتے ہیں [۳۲] ﴿18﴾

    اور لوگ جو ہیں سو ایک ہی امت ہیں پیچھے جدا جدا ہو گئے اور اگر نہ ایک بات پہلے ہو چکتی تیرے رب کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں جس بات میں کہ اختلاف کر رہے ہیں [۳۳] ﴿19﴾

    اور کہتے ہیں کیوں نہ اتری اس پر ایک نشانی اس کے رب سے سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات اللہ ہی جانے سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں [۳۴] ﴿20﴾

    اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا بعد ایک تکلیف کے جو ان کو پہنچی تھی اسی وقت بنانے لگیں حیلے ہماری قدرتوں میں کہہ دے کہ اللہ سب سے جلد بنا سکتا ہے حیلے تحقیق ہمارے فرشتے لکھتے ہیں حیلہ بازی تمہاری [۳۵] ﴿21﴾

    وہی تم کو پھراتا ہے جنگل اور دریا میں یہاں تک کہ جب تم بیٹھے کشتیوں میں اور لے کر چلیں وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے اور خوش ہوئے اس سے آئی کشتیوں پر ہوا تند اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور جان لیا انہوں نےکہ وہ گھر گئے پکارنے لگے اللہ کو خالص ہو کر اس کی بندگی میں اگر تو نے بچا لیا ہم کو اس سے تو بیشک ہم رہیں گے شکر گذار ﴿22﴾

    پھر جب بچا دیا ان کو اللہ نے لگے شرارت کرنے اسی وقت زمین میں ناحق کی [۳۶] سنو لوگو تمہاری شرارت ہے تمہی پر نفع اٹھا لو دنیا کی زندگانی کا پھر ہمارے پاس ہے تم کو لوٹ کر آنا پھر ہم بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے [۳۷] ﴿23﴾

    دنیا کی زندگانی کی وہی مثل ہے جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس سے سبزہ زمین کا جو کہ کھائیں آدمی اور جانور [۳۸] یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اور مزین ہو گئی اور خیال کیا زمین والوں نے کہ یہ ہمارے ہاتھ لگے گی [۳۹] ناگاہ پہنچا اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو پھر کر ڈالا اس کو کاٹ کر ڈھیر گویا کل یہاں نہ تھی آبادی اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں نشانیوں کو ان لوگوں کے سامنے جو غور کرتے ہیں [۴۰] ﴿24﴾

    اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف اور دکھلاتا ہے جس کو چاہے راستہ سیدھا [۴۱] ﴿25﴾

    جنہوں نے کی بھلائی انکے لئے ہے بھلائی اور زیادتی [۴۲] اور نہ چڑھے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی وہ ہیں جنت والے وہ اسی میں رہا کریں گے [۴۳] ﴿26﴾

    اور جنہوں نے کمائیں برائیاں بدلا ملے برائی کا اس کے برابر [۴۴] اور ڈھانک لے گی انکو رسوائی کوئی نہیں انکو اللہ سے بچانے والا گویا کہ ڈھانک دیے گئے انکے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے [۴۵] وہ ہیں دوزخ والے وہ اسی میں رہا کریں گے ﴿27﴾

    اور جس دن جمع کریں گے ہم ان سب کو پھر کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک [۴۶] پھر تڑا دیں گے ہم آپس میں انکو اور کہیں گے ان کے شریک تم ہماری تو بندگی نہ کرتے تھے ﴿28﴾

    سو اللہ کافی ہے شاہد ہمارے اور تمہارے بیچ میں ہم کو تمہاری بندگی کی خبر نہ تھی [۴۷] ﴿29﴾

    وہاں جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا تھا اور رجوع کریں گے اللہ کی طرف جو سچا مالک ہے ان کا اور جاتا رہے گا انکے پاس سے جو جھوٹ باندھا کرتےتھے [۴۸] ﴿30﴾

    تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے [۴۹] یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا [۵۰] اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے [۵۱] اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی [۵۲] سو بو ل اٹھیں گے کہ اللہ تو تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو ﴿31﴾

    سو یہ اللہ ہے رب تمہارا سچا پھر کیا رہ گیا سچ کے پیچھے مگر بھٹکنا سو کہاں سے لوٹے جاتے ہو [۵۳] ﴿32﴾

    اسی طرح ٹھیک آئی بات تیرے رب کی ان نافرمانوں پر کہ یہ ایمان نہ لائیں گے [۵۴] ﴿33﴾

    پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے خلق کو پھر دوبارہ زندہ کرے تو کہہ اللہ پیدا کرتا ہے پھر اس کو دہرائے گا سو کہاں سے پلٹے جاتے ہو [۵۵] ﴿34﴾

    پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو راہ بتلائے صحیح تو کہہ اللہ راہ بتلاتا ہے صحیح تو اب جو کوئی راہ بتائے صحیح اسکی بات ماننی چاہئے یا اسکی جو آپ نہ پائے راہ مگر جب کوئی اور اسکو راہ بتلائے سو کیا ہو گیا تم کو کیسا انصاف کرتے ہو [۵۶] ﴿35﴾

    اور وہ اکثر چلتے ہیں محض اٹکل پر سو اٹکل کام نہیں دیتی حق بات میں کچھ بھی [۵۷] اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ﴿36﴾

    اور وہ نہیں یہ قرآن کہ کوئی بنا لے اللہ کےسوا [۵۸] اور لیکن تصدیق کرتا ہے اگلے کلام کی [۵۹] اور بیان کرتا ہے ان چیزوں کو جو تم پر لکھی گئیں جس میں کوئی شبہ نہیں پروردگار عالم کی طرف سے [۶۰] ﴿37﴾

    کیا لوگ کہتےہیں کہ یہ بنا لایا ہے تو کہہ دے تم لے آؤ ایک ہی سورت ایسی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو [۶۱] ﴿38﴾

    بات یہ ہے کہ جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر انہوں نےقابو نہ پایا [۶۲] اور ابھی آئی نہیں اسکی حقیقت [۶۳] اسی طرح جھٹلاتے رہے ان سے اگلے سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گنہگاروں کا ﴿39﴾

    اور بعضے ان میں یقین کریں گے قرآن کا اور بعضے یقین نہ کریں گے اور تیرا رب خوب جانتا ہے شرارت والوں کو [۶۴] ﴿40﴾

    اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ میرے لئے میرا کام اور تمہارے لئے تمہارا کام تم پر ذمہ نہیں میرے کام کا اور مجھ پر ذمہ نہیں جو تم کرتے ہو [۶۵] ﴿41﴾

    اور بعضے ان میں کان رکھتے ہیں تیری طرف کیا تو سنائے گا بہروں کو اگرچہ ان کو سمجھ نہ ہو ﴿42﴾

    اور بعضے ان میں نگاہ کرتے ہیں تیری طرف کیا تو راہ دکھائے گا اندھوں کو اگرچہ وہ سوجھ نہ رکھتے ہوں [۶۶] ﴿43﴾

    اللہ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے ہیں [۶۷] ﴿44﴾

    اور جس دن انکو جمع کرے گا گویا وہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی دن [۶۸] ایک دوسرے کو پہچانیں گے [۶۹] بیشک خسارے میں پڑے جنہوں نے جھٹلایا اللہ سے ملنے کو اور نہ آئے وہ راہ پر [۷۰] ﴿45﴾

    اور اگر ہم دکھائیں گے تجھ کو کوئی چیز ان وعدوں میں سے جو کئے ہیں ہم نے ان سے یا وفات دیں تجھ کو سو ہماری ہی طرف ہے ان کو لوٹنا پھر اللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں [۷۱] ﴿46﴾

    اور ہر فرقہ کا ایک رسول ہے پھر جب پہنچا انکے پاس رسول ان کا فیصلہ ہوا ان میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں ہوتا [۷۲] ﴿47﴾

    اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو [۷۳] ﴿48﴾

    تو کہہ میں مالک نہیں اپنے واسطے برے کا نہ بھلے کا مگر جو چاہے اللہ ہر فرقہ کا ایک وعدہ ہے جب آ پہنچے گا ان کا وعدہ پھر نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے [۷۴] ﴿49﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر آ پہنچے تم پر عذاب اس کا راتوں رات یا دن کو تو کیا کر لیں گے اس سے پہلے گنہگار [۷۵] ﴿50﴾

    کیاپھر جب عذاب واقع ہو چکے گا تب اس پر یقین کرو گے اب قائل ہوئے اور تم اسی کا تقاضا کرتے تھے [۷۶] ﴿51﴾

    پھر کہیں گے گنہگاروں کو چکھتے رہو عذاب ہمیشگی کا وہی بدلا ملتا ہے جو کچھ کماتے تھے [۷۷] ﴿52﴾

    اور تجھ سے خبر پوچھتے ہیں کیا سچ ہے یہ بات تو کہہ البتہ قسم میرے رب کی یہ سچ ہے اور تم تھکا نہ سکو گے [۷۸] ﴿53﴾

    اور اگر ہو ہر شخص گنہگار کے پاس جتنا کچھ ہے زمین میں البتہ دے ڈالے اپنے بدلے میں [۷۹] اور چھپے چھپے پچھتائیں گے جب دیکھیں گےعذاب اور ان میں فیصلہ ہو گا انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۸۰] ﴿54﴾

    سن رکھو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سن رکھو وعدہ اللہ کا سچ ہے [۸۱] پر بہت لوگ نہیں جانتے [۸۲] ﴿55﴾

    وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے [۸۳] ﴿56﴾

    اے لوگو تمہارے پاس آئی ہے نصیحت تمہارے رب سے اور شفا دلوں کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے واسطے [۸۴] ﴿57﴾

    کہہ اللہ کے فضل سے اور اسکی مہربانی سے سو اسی پر انکو خوش ہونا چاہئے [۸۵] یہ بہت ہے ان چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں [۸۶] ﴿58﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اللہ نے جو اتاری تمہارے واسطے روزی پھر تم نے ٹھہرائی اس میں سے کوئی حرام اور کوئی حلال کہہ کیا اللہ نے حکم دیا تم کو یا اللہ پر افترا کرتے ہو [۸۷] ﴿59﴾

    اور کیا خیال ہے جھوٹ باندھنے والوں کا اللہ پر قیامت کے دن [۸۸] اللہ تو فضل کرتا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے [۸۹] ﴿60﴾

    اور نہیں ہوتا تو کسی حال میں اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن اور نہیں کرتے ہو تم لوگ کچھ کام کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تمہارے پاس جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں اور غائب نہیں رہتا تیرے رب سے ایک ذرہ بھر زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا جو نہیں ہے کھلی ہوئی کتاب میں [۹۰] ﴿61﴾

    یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۹۱] ﴿62﴾

    جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے [۹۲] ﴿63﴾

    ان کے لئے ہے خوشخبری دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں [۹۳] بدلتی نہیں اللہ کی باتیں[۹۴] یہی ہے بڑی کامیابی ﴿64﴾

    اور رنج مت کر ان کی بات سے اصل میں سب زور اللہ کے لئے ہے وہی ہے سننے والا جاننے والا [۹۵] ﴿65﴾

    سنتا ہے بیشک اللہ کا ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں اور یہ جو پیچھے پڑے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے ہیں اپنے خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں [۹۶] ﴿66﴾

    وہی ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ چین حاصل کرو اس میں اور دن دیا دکھلانے والا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں [۹۷] ﴿67﴾

    کہتےہیں ٹھہرا لیا اللہ نے بیٹا وہ پاک ہے وہ بے نیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں نہیں تمہارےپاس کوئی سند اس کی کیوں جھوٹ کہتے ہو اللہ پر جس بات کی تم کو خبر نہیں [۹۸] ﴿68﴾

    کہہ جو لوگ باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے ﴿69﴾

    تھوڑا سا نفع اٹھا لینا دنیا میں پھر ہماری طرف ہے ان کو لوٹنا پھر چکھائیں گے ہم انکو سخت عذاب بدلا ان کے کفر کا [۹۹] ﴿70﴾

    اور سنا ان کو حال نوح کا [۱۰۰] جب کہا اپنی قوم کو اے قوم اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور نصیحت کرنا اللہ کی آیتوں سےتو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام اور جمع کرو اپنے شریکوں کو پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں شبہ پھر کر گذرو میرے ساتھ اور مجھ کو مہلت نہ دو [۱۰۱] ﴿71﴾

    پرھ اگر منہ پھیرو گے تو میں نے نہیں چاہی تم سے مزدروی میری مزدوری ہے اللہ پر اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں فرمانبردار [۱۰۲] ﴿72﴾

    پھر اس کو جھٹلایا سو ہم نے بچا لیا اسکو اور جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو قائم کر دیا جگہ پر اور ڈبا دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری باتوں کو سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا تھا [۱۰۳] ﴿73﴾

    پھر بھیجے ہم نے نوح کے بعد کتنے پیغمبر ان کی قوم کی طرف پھر لائے انکے پاس کھلی دلیلیں سو ان سے یہ نہ ہوا کہ ایمان لے آئیں اس بات پر جسکو جھٹلا چکے تھے پہلے سے [۱۰۴] اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں دلوں پر حد سے نکل جانے والوں کے [۱۰۵] ﴿74﴾

    پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر پھر تکبر کرنے لگے اور وہ تھے لوگ گنہگار [۱۰۶] ﴿75﴾

    پھر جب پہنچی ان کو سچی بات ہمارے پاس سے کہنے لگے یہ تو جادو ہے کھلا [۱۰۷] ﴿76﴾

    کہا موسٰی نے کیا تم یہ کہتے ہو حق بات کو جب وہ پہنچے تمہارے پاس کیا یہ جادو ہے اور نجات نہیں پاتے جادو کرنے والے [۱۰۸] ﴿77﴾

    بولے کیا تو آیا ہے کہ ہم کو پھیر دے اس رستہ سے جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو اور تم دونوں کو سرداری مل جائے اس ملک میں اور ہم نہیں ہیں تم کو ماننے والے [۱۰۹] ﴿78﴾

    اور بولا فرعون لاؤ میرے پاس جو جادوگر ہو پڑھا ہوا [۱۱۰] ﴿79﴾

    پھر جب آئے جادوگر کہا ان کو موسٰی نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو [۱۱۱] ﴿80﴾

    پھر جب انہوں نے ڈالا موسٰی بولا کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے [۱۱۲] اب اللہ اسکو بگاڑتا ہے بیشک اللہ نہیں سنوارتا شریروں کے کام [۱۱۳] ﴿81﴾

    اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے اور پڑے برا مانیں گنہگار ﴿82﴾

    پھر کوئی ایمان نہ لایا موسٰی پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے [۱۱۴] ڈرتے ہوئے فرعون سے اور انکے سرداروں سے کہ کہیں انکو بچلا نہ دے [۱۱۵] اور فرعون چڑھ رہا ہے ملک میں اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے [۱۱۶] ﴿83﴾

    اور کہا موسٰی نے اے میری قوم اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر ہو تم فرمانبردار [۱۱۷] ﴿84﴾

    تب وہ بولے ہم نے اللہ پر بھرسہ کیا اے رب ہمارے نہ آزما ہم پر زور اس ظالم قوم کا [۱۱۸] ﴿85﴾

    اور چھڑا دے ہم کو مہربانی فرما کر ان کافر لوگوں سے [۱۱۹] ﴿86﴾

    اور حکم بھیجا ہم نے موسٰی کو اور اسکے بھائی کو کہ مقرر کرو اپنی قوم کے واسطے مصر میں سے گھر [۱۲۰] اور بناؤ اپنے گھر قبلہ رو اور قائم کرو نماز [۱۲۱] اور خوشخبری دے ایمان والوں کو [۱۲۲] ﴿87﴾

    اور کہا موسٰی نے اے رب ہمارے تو نے دی ہے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو رونق اور مال دنیا کی زندگی میں [۱۲۳] اے رب اس واسطے کہ بہکائیں تیری راہ سے [۱۲۴] اے رب مٹا دے ان کے مال اور سخت کر دے ان کے دل کہ نہ ایمان لائیں جب تک دیکھ لیں عذاب دردناک [۱۲۵] ﴿88﴾

    فرمایا قبول ہو چکی دعا تمہاری [۱۲۶] سو تم دونوں ثابت رہو اور مت چلو راہ انکی جو ناواقف ہیں [۱۲۷] ﴿89﴾

    اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پھرپیچھا کیا ان کا فرعون نے اور اس کے لشکر نے شرارت سے اور تعدی سے یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا بولا یقین کر لیا میں نے کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر کہ ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرمانبرداروں میں ﴿90﴾

    اب یہ کہتا ہے اور تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور رہا گمراہوں میں [۱۲۸] ﴿91﴾

    سو آج بچائے دیتے ہیں ہم تیرے بدن کو تاکہ ہووے تو اپنے پچھلوں کے واسطے نشانی اور بیشک بہت لوگ ہماری قدرتوں پر توجہ نہیں کرتے [۱۲۹] ﴿92﴾

    اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو پسندیدہ جگہ اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں [۱۳۰] سو ان میں پھوٹ نہیں پڑی یہاں تک کہ پہنچی ان کو خبر بیشک تیرا رب ان میں فیصلہ کر ے گا قیامت کے دن جس بات میں کہ ان میں پھوٹ پڑی [۱۳۱] ﴿93﴾

    سو اگر تو ہے شک میں اس چیز سے کہ اتاری ہم نے تیری طرف تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے بیشک آئی ہے تیرے پاس حق بات تیرے رب سے سو تو ہرگز مت ہو شک کرنے والا ﴿94﴾

    اور مت ہو ان میں جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو پھر تو بھی ہو جائے خرابی میں پڑنے والا ﴿95﴾

    جن پر ثابت ہو چکی بات تیرے رب کی وہ ایمان نہ لائیں گے ﴿96﴾

    اگرچہ پہنچیں انکو ساری نشانیاں جب تک نہ دیکھ لیں عذاب دردناک [۱۳۲] ﴿97﴾

    سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی کہ ایمان لاتی پھر کام آتا انکو ایمان لانا مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لائی اٹھا لیا ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگانی میں اور فائدہ پہنچایا ہم نے انکو ایک وقت تک [۱۳۳] ﴿98﴾

    اور اگر تیرا رب چاہتا بیشک ایمان لے آتے جتنے لوگ کہ زمین میں ہیں سارےتمام اب کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پر کہ ہو جائیں با ایمان [۱۳۴] ﴿99﴾

    اور کسی سے نہیں ہو سکتا کہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے اور وہ ڈالتا ہے گندگی ان پر جو نہیں سوچتے [۱۳۵] ﴿100﴾

    تو کہہ دیکھو تو کیا کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو نہیں مانتے [۱۳۶] ﴿101﴾

    سو اب کچھ نہیں جس کا انتظار کریں مگر انہی کے سے دن جو گذر چکے ہیں ان سے پہلے تو کہہ اب راہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھتا ہوں [۱۳۷] ﴿102﴾

    پھر ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان کو جو ایمان لائے اسی طرح ذمہ ہے ہمارا بچا دیں گے ایمان والوں کو [۱۳۸] ﴿103﴾

    کہہ دے اے لوگو اگر تم شک میں ہو میرے دین سے تو میں عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کےسوا اور لیکن میں عبادت کرتا ہوں اللہ کی جو کھینچ لیتا ہے تم کو اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں ایمان والوں میں ﴿104﴾

    اوریہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف ہو کر اور مت ہو شرک والوں میں ﴿105﴾

    اور مت پکار اللہ کے سوا ایسے کو کہ نہ بھلا کرے تیرا اور نہ برا پھر اگر تو ایسا کرے تو تو بھی اس وقت ہو ظالموں میں [۱۳۹] ﴿106﴾

    اور اگر پہنچا دیوے تجھ کو اللہ کچھ تکلیف تو کوئی نہیں اس کو ہٹانے والا اس کے سوا اور اگر پہنچانا چاہے تجھ کو کچھ بھلائی تو کوئی پھرنے والا نہیں اس کے فضل کو پہنچائے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں اور وہی ہے بخشنے والا مہربان [۱۴۰] ﴿107﴾

    کہہ دے اے لوگو پہنچ چکا حق تم کو تمہارے رب سے اب جو کوئی راہ پر آئے سو وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا پھرے سو بہکا پھرے گا اپنے برے کو اور میں تم پر نہیں ہوں مختار [۱۴۱] ﴿108﴾

    اور تو چل اسی پر جو حکم پہنچے تیری طرف اور صبر کر جب تک فیصلہ کرے اللہ اور وہ ہے سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا [۱۴۲] ﴿109﴾

    Surah 11
    ھود

    یہ کتاب ہے کہ جانچ لیا ہے اسکی باتوں کو پھر کھولی گئی ہیں ایک حکمت والے خبردار کے پاس سے [۱] ﴿1﴾

    کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی [۲] میں تم کو اسی کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں [۳] ﴿2﴾

    اور یہ کہ گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسکی طرف کہ فائدہ پہنچائے تم کو اچھا فائدہ ایک وقت مقرر تک [۴] اور دیوے ہر زیادتی والے کو زیادتی اپنی [۵] اور اگر تم پھر جاؤ گے تو میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کےعذاب سے [۶] ﴿3﴾

    اللہ کی طرف ہے تم کو لوٹ کر جانا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿4﴾

    سنتا ہے وہ دوہرے کرتے ہیں اپنے سینے تاکہ چھپائیں اس سے سنتا ہے جس وقت اوڑھتے ہیں اپنے کپڑے جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ تو جاننے والا ہے دلوں کی بات [۷] ﴿5﴾

    اور کوئی نہیں ہے چلنے والا زمین پر مگر اللہ پر ہے اس کی روزی [۸] اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے [۹] سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں [۱۰] ﴿6﴾

    اور وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں [۱۱] اور تھا اس کا تخت پانی پر [۱۲] تاکہ آزمائے تم کو کہ کون تم میں اچھا کرتا ہے کام [۱۳] اور اگر تو کہے کہ تم اٹھو گے مرنے کے بعد تو البتہ کافر کہنے لگیں یہ کچھ نہیں مگر جادو ہے کھلا ہوا [۱۴] ﴿7﴾

    اور اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب کو ایک مدت معلوم تک تو کہنے لگیں کس چیز نے روک دیا عذاب کو سنتا ہے جس دن آئے گا ان پر نہ پھیرا جائے گا ان سے اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس پر ٹھٹھے کیا کرتے تھے [۱۵] ﴿8﴾

    اور اگر ہم چکھا دیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت پھر وہ چھین لیں اس سے تو وہ ناامید ناشکر ہوتا ہے [۱۶] ﴿9﴾

    اور اگر ہم چکھاویں اسکو آرام بعد تکلیف کے جو پہنچی تھی اسکو تو بول اٹھے دور ہوئیں برائیاں مجھ سے وہ تو اترانے والا شیخی خورا ہے [۱۷] ﴿10﴾

    مگر جو لوگ صابر ہیں اور کرتے ہیں نیکیاں انکے واسطے بخشش ہے اور ثواب بڑا [۱۸] ﴿11﴾

    سو کہیں تو چھوڑ بیٹھے گا کچھ چیز ان میں سے جو وحی آئی تیری طرف اور تنگ ہو گا اس سے تیرا جی اس بات پر کہ وہ کہتے ہیں کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اسکے ساتھ فرشتہ تو تو ڈرانے والا ہے اور اللہ ہے ہر چیز کا ذمہ دار [۱۹] ﴿12﴾

    کیا کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے تو قرآن کو کہہ دے تم بھی لے آؤ ایک دس سورتیں ایسی بنا کر اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر ہو تم سچے ﴿13﴾

    پھر اگر نہ پورا کریں تمہارا کہنا تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کی وحی سے اور یہ کہ کوئی حاکم نہیں اسکے سوا پھر اب تم حکم مانتے ہو [۲۰] ﴿14﴾

    جو کوئی چاہے دنیا کی زندگانی اور اسکی زینت بھگتا دیں گے ہم انکو ان کے عمل دنیا میں اور انکو اس میں کچھ نقصان نہیں [۲۱] ﴿15﴾

    یہی ہیں جن کے واسطے کچھ نہیں آخرت میں آگ کے سوا [۲۲] اور برباد ہوا جو کچھ کیا تھا یہاں اور خراب گیا جو کمایا تھا [۲۳] ﴿16﴾

    بھلا ایک شخص جو ہے صاف رستہ پر اپنے رب کے اور اس کے ساتھ ساتھ ہے ایک گواہ اللہ کی طرف سے اور اس سے پہلے گواہ تھی موسٰی کی کتاب رستہ بتلاتی اور بخشواتی (اورونکی برابر ہے)[۲۴] یہی لوگ مانتے ہیں قرآن کو اور جو کوئی منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سےسو دوزخ ہے ٹھکانہ اس کا [۲۵] سو تو مت رہ شبہ میں اس سے بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور پر بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے [۲۶] ﴿17﴾

    اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ [۲۷] وہ لوگ روبرو آئیں گے اپنے رب کے اور کہیں گے گواہی دینے والے یہی ہیں جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر [۲۸] سن لو پھٹکار ہے اللہ کی ناانصاف لوگوں پر ﴿18﴾

    جو کہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں آخر ت سے منکر [۲۹] ﴿19﴾

    وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں بھاگ کر اور نہیں انکے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی [۳۰] دونا ہے ان کے لئے عذاب [۳۱] نہ طاقت رکھتے تھے سننے کی اور نہ دیکھتے تھے [۳۲] ﴿20﴾

    وہی ہیں جو کھو بیٹھے اپنی جان اور گم ہو گیا ان سےجو جھوٹ باندھا تھا [۳۳] ﴿21﴾

    اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں یہی ہیں سب سے زیادہ نقصان میں ﴿22﴾

    البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے نیک اور عاجزی کی اپنے رب کے سامنے وہ ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں رہا کریں گے [۳۴] ﴿23﴾

    مثال ان دونوں فرقوں کی جیسے ایک تو اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا کیا برابر ہے دونوں کا حال پھر کیا تم غور نہیں کرتے [۳۵] ﴿24﴾

    اور ہم نے بھیجا نوح کو اسکی قوم کی طرف کہ میں تم کو ڈر کی بات سناتا ہوں کھول کر [۳۶] ﴿25﴾

    کہ نہ پرستش کرو اللہ کے سوا [۳۷] میں ڈرتا ہوں تم پر دردناک دن کے عذاب سے [۳۸] ﴿26﴾

    پھر بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم کے ہم کو تو تو نظر نہیں آتا مگر ایک آدمی ہم جیسا اور دیکھتے نہیں کوئی تابع ہوا ہو تیرا مگر جو ہم میں نیچ قوم ہیں بلا تامل اور ہم نہیں دیکھتے تم کو اوپر اپنے کچھ بڑائی بلکہ ہم کو تو خیال ہے کہ تم سب جھوٹے ہو [۳۹] ﴿27﴾

    بولا اے قوم دیکھو تو اگر میں ہوں صاف راستہ پر اپنے رب کے اور اس نے بھیجی مجھ پر رحمت اپنے پاس سے پھر اس کو تمہاری آنکھ سے مخفی رکھا تو کیا ہم تم کو مجبور کر سکتے ہیں اس پر اور تم اس سے بیزا ہو [۴۰] ﴿28﴾

    اور اے میری قوم نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ مال میری مزدوری نہیں مگر اللہ پر اور میں نہیں ہانکنے والا ایمان والوں کو ان کو ملنا ہے اپنے رب سے [۴۱] لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ جاہل ہو [۴۲] ﴿29﴾

    اور اےقوم کون چھڑائے مجھ کو اللہ سے اگر ان کو ہانک دوں کیا تم دھیان نہیں کرتے [۴۳] ﴿30﴾

    اور میں نہیں کہتا تم کو کہ میر ے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں خبر رکھوں غیب کی اور نہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ کہوں گا کہ جو لوگ تمہاری آنکھ میں حقیر ہیں نہ دے گا ان کو اللہ بھلائی اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ انکے جی میں ہے یہ کہوں تو میں بے انصاف ہوں [۴۴] ﴿31﴾

    بولے اے نوح تو نے ہم سے جگھڑا کیا اور بہت جھگڑ چکا اب لے آ جو تو وعدہ کرتا ہے ہم سے اگر تو سچا ہے [۴۵] ﴿32﴾

    کہا کہ لائے گا تو اس کو اللہ ہی اگر چاہے گا اور تم نہ تھکا سکو گے بھاگ کر [۴۶] ﴿33﴾

    اور نہ کارگر ہو گی تم کو میری نصیحت جو چاہوں کہ تم کو نصیحت کروں اگر اللہ چاہتا ہو گا کہ تم کو گمراہ کرے وہی ہے رب تمہارا اور اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے [۴۷] ﴿34﴾

    کیا کہتے ہیں کہ بنا لایا قرآن کو [۴۸] کہہ دے اگر میں بنا لایا ہوں تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میرا ذمہ نہیں جو تم گناہ کرتے ہو [۴۹] ﴿35﴾

    اور حکم ہوا طرف نوح کی کہ اب ایمان نہ لائے گا تیری قوم میں مگر جو ایمان لاچکا سو غمگین نہ رہ ان کاموں پر جو کر رہے ہیں [۵۰] ﴿36﴾

    اور بنا کشتی روبرو ہمارے اور ہمارے حکم سے اور نہ بات کر مجھ سے ظالموں کے حق میں یہ بیشک غرق ہوں گے [۵۱] ﴿37﴾

    اور وہ کشتی بناتا تھا [۵۲] اور جب گذرتے اس پر سردار اس کی قوم کے ہنسی کرتے اس سے [۵۳] بولا اگر تم ہنستے ہو ہم سے تو ہم ہنستے ہیں تم سے جیسے تم ہنستے ہو [۵۴] ﴿38﴾

    اب جلد جان لو گے کہ کس پر آتا ہے عذاب کہ رسوا کرے اسکو اور اترتا ہے اس پر عذاب دائمی [۵۵] ﴿39﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچا حکم ہمارا اور جوش مارا تنور نے [۵۶] کہا ہم نے چڑھا لے کشتی میں ہر قسم سے جوڑا دو عدد [۵۷] اور اپنے گھر کے لوگ مگر جس پر پہلے ہو چکا ہے حکم [۵۸] اور سب ایمان والوں کو اور ایمان نہ لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے [۵۹] ﴿40﴾

    اور بولا سوار ہو جاؤ اس میں اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا تحقیق میرا رب ہے بخشنے والا مہربان [۶۰] ﴿41﴾

    اور وہ لئے جارہی تھی انکو لہروں میں جیسے پہاڑ اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو اور وہ ہو رہا تھا کنارے اے بیٹے سوار ہو جا ساتھ ہمارے اور مت رہ ساتھ کافروں کے [۶۱] ﴿42﴾

    بولا جا لگوں گا کسی پہاڑ کو جو بچا لے گا مجھ کو پانی سے [۶۲] کہا کوئی بچانے والا نہیں آ ج اللہ کے حکم سے مگر جس پر وہی رحم کرے اور حائل ہو گئ دونوں میں موج پھر ہو گیا ڈوبنے والوں میں [۶۳] ﴿43﴾

    اور حکم آیا اے زمین نگل جا اپنا پانی اور اے آسمان تھم جا اور سکھا دیا گیا پانی اور ہو چکا کام اور کشتی ٹھہری جودی پہاڑ پر اور حکم ہوا کہ دور ہو قوم ظالم [۶۴] ﴿44﴾

    اور پکارا نوح نے اپنے رب کو کہا اے رب میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے ﴿45﴾

    فرمایا اے نوح وہ نہیں تیرے گھر والوں میں اس کے کام ہیں خراب سو مت پوچھ مجھ سے جو تجھ کو معلوم نہیں میں نصیحت کرتا ہو ں تجھ کو کہ نہ ہو جائے تو جاہلوں میں [۶۵] ﴿46﴾

    بولا اے رب میں پناہ لیتا ہوں تیری اس سے کہ پوچھوں تجھ سےجو معلوم نہ ہو مجھ کو [۶۶[ اور اگر تو نہ بخشے مجھ کو اور رحم نہ کرے تو میں ہوں نقصان والوں میں [۶۷] ﴿47﴾

    حکم ہوا اے نوح اتر سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتوں کےساتھ تجھ پر اور ان فرقوں پر جو تیرے ساتھ ہیں اور دوسرے فرقے ہیں کہ ہم فائدہ دیں گے انکو پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب دردناک [۶۸] ﴿48﴾

    یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کی ہیں کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف نہ تجھ کو ان کی خبر تھی اور نہ تیری قوم کو اس سے پہلے [۶۹] سو تو صبر کر البتہ انجام بھلا ہے ڈرنے والوں کا [۷۰] ﴿49﴾

    اور عاد کی طرف ہم نے بھیجا انکے بھائی ہود کو بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی تمہارا حاکم نہیں سوائے اس کے تم سب جھوٹ کہتے ہو [۷۱] ﴿50﴾

    اےقوم میں تم سے نہیں مانگتا اس پر مزدوری میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا [۷۲] پھر کیا تم نہیں سمجھتے [۷۳] ﴿51﴾

    اور اے قوم گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسکی طرف [۷۴] چھوڑے گا تم پر آسمان سے دھاریں [۷۵] اور زیادہ دے گا تم کو زور پر زور اور روگردانی نہ کرو گنہگار ہو کر [۷۶] ﴿52﴾

    بولے اے ہود تو ہمارے پاس کوئی سند لے کر نہیں آیا اور ہم نہیں چھوڑنے والے اپنے ٹھاکروں (معبودوں) کو تیرے کہنے سے اور ہم نہیں تجھ کو ماننے والے [۷۷] ﴿53﴾

    ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھ کو آسیب پہنچایا ہے کسی ہمارے ٹھاکروں (معبودوں) نے بری طرح [۷۸] بولا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور تم گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو ﴿54﴾

    اس کے سوا سو برائی کرو میرے حق میں تم سب مل کر پھر مجھ کو مہلت نہ دو ﴿55﴾

    میں نے بھروسہ کیا اللہ پر جو رب ہے میرا اور تمہارا کوئی نہیں زمین پر پاؤں دھرنے والا مگر اللہ کے ہاتھ میں ہے چوٹی اسکی بیشک میرا رب ہے سیدھی راہ پر [۷۹] ﴿56﴾

    پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو میں پہنچا چکا تم کو جو میرے ہاتھ بھیجا تھا تمہاری طرف اور قائم مقام کرے گا میرا رب کوئی اور لوگ اور نہ بگاڑ سکو گے اللہ کا کچھ تحقیق میرا رب ہے ہر چیز پر نگہبان [۸۰] ﴿57﴾

    اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے ہود کو اور جو لوگ ایمان لائے تھے اس کےساتھ اپنی رحمت سے اور بچا دیا انکو ایک بھاری عذاب سے [۸۱] ﴿58﴾

    اور یہ تھے عاد کہ منکر ہوئے اپنے رب کی باتوں سے اور نہ مانا اسکے رسولوں کو اور مانا حکم انکا جو سرکش تھے مخالف [۸۲] ﴿59﴾

    اور پیچھے سے آئی انکو اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن بھی [۸۳] سن لو عاد منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے عاد کو جو قوم تھی ہود کی [۸۴] ﴿60﴾

    اور ثمود کی طرف بھیجا ان کا بھائی صالح [۸۵] بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی حاکم نہیں تمہارا اس کے سوا اسی نے بنایا تم کو زمین سے [۸۶] اور بسایا تم کو اس میں سو گناہ بخشواؤ اس سے اور رجوع کرو اسکی طرف تحقیق میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا [۸۷] ﴿61﴾

    بولے اے صالح تجھ سے تو ہم کو امید تھی اس سے پہلے کیا تو ہم کو منع کرتا ہے کہ پرستش کریں جنکی پرستش کرتے رہے ہمارے باپ دادے اور ہم کو تو شبہ ہے اس میں جس کی طرف تو بلاتا ہے ایسا کہ دل نہیں مانتا [۸۸] ﴿62﴾

    بولا اے قوم بھلا دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ مل گئ اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھ کو دی رحمت اپنی طرف سے پھر کون بچائے مجھ کو اس سے اگر اسکی نافرمانی کروں [۸۹] سو تم کچھ نہیں بڑھاتے میرا سوائے نقصان کے [۹۰] ﴿63﴾

    اور اے قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمہارے لئے نشانی سو چھوڑ دو اسکو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور مت ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح پھر تو آ پکڑے گا تم کو عذاب بہت جلد ﴿64﴾

    پھر اسکے پاؤں کاٹے تب کہا فائدہ اٹھالو اپنے گھروں میں تین دن یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہو گا [۹۱] ﴿65﴾

    پھر جب پہنچا حکم ہمارا بچا دیا ہم نے صالح کو اور جو ایمان لائے اسکے ساتھ اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے [۹۲] بیشک تیرا رب وہی ہے زور والا زبردست [۹۳] ﴿66﴾

    اور پکڑ لیا ان ظالموں کو ہولناک آواز نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ﴿67﴾

    جیسے کبھی رہے ہی نہ تھے وہاں [۹۴] سن لو ثمود منکر ہوئے اپنے رب سےسن لو پھٹکار ہے ثمود کو [۹۵] ﴿68﴾

    اور البتہ آ چکے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر بولے سلام وہ بولا سلام ہے پھر دیر نہ کی کہ لے آیا ایک بچھڑا تلا ہوا [۹۶] ﴿69﴾

    پھر جب دیکھا ان کے ہاتھ نہیں آتے کھانے پر تو کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرا [۹۷] وہ بولے مت ڈر ہم بھیجے ہوئے آئے ہیں طرف قوم لوط کی [۹۸] ﴿70﴾

    اور اس کی عورت کھڑی تھی تب وہ ہنس پڑی پھر ہم نے خوشخبری دی اسکو اسحٰق کے پیدا ہونے کی اور اسحٰق کے پیچھے یعقوب کی [۹۹] ﴿71﴾

    بولی اے خرابی کیا میں بچہ جنوں گی اور میں بڑھیا ہوں اور یہ خاوند میر اہے بوڑھا [۱۰۰] یہ تو ایک عجیب بات ہے [۱۰۱] ﴿72﴾

    وہ بولے کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے اللہ کی رحمت ہے اور برکتیں تم پر اے گھر والو تحقیق اللہ ہے تعریف کیا گیا بڑائیوں والا [۱۰۲] ﴿73﴾

    پھر جب جاتا رہا ابراہیم سے ڈر اور آئی اس کو خوشخبری جھگڑنے لگا ہم سے قوم لوط کے حق میں ﴿74﴾

    البتہ ابراہیم تحمل والا نرم دل ہے رجوع رہنے والا ﴿75﴾

    اے ابراہیم چھوڑ یہ خیال وہ تو آ چکا حکم تیرے رب کا اور ان پر آتا ہے عذاب جو لوٹایا نہیں جاتا [۱۰۳] ﴿76﴾

    اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس غمگین ہوا انکے آنے سے اور تنگ دل ہوا دل میں اور بولا آج دن بڑ اسخت ہے [۱۰۴] ﴿77﴾

    اور آئی اس کے پاس قوم اسکی دوڑتی بے اختیار اور آگے سے کر رہے تھے برے کام [۱۰۵] بولا اے قوم یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں یہ پاک ہیں تم کو اُن سے سو ڈرو تم اللہ سے اور مت رسوا کرو مجھ کو میرے مہمانوں میں کیا تم میں ایک مرد بھی نہیں نیک چلن [۱۰۶] ﴿78﴾

    بولے تو تو جانتا ہے ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ غرض نہیں اور تجھ کو تو معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں [۱۰۷] ﴿79﴾

    کہنے لگا کاش مجھ کو تمہارے مقابلہ میں زور ہوتا یا جا بیٹھتا کسی مستحکم پناہ میں [۱۰۸] ﴿80﴾

    مہمان بولے اے لوط ہم بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے ہرگز نہ پہنچ سکیں گے تجھ تک [۱۰۹] سو لے نکل اپنے لوگوں کو کچھ رات سے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں کوئی مگر عورت تیری کہ اس کو پہنچ کر رہے گا جو ان کو پہنچے گا [۱۱۰] ان کے وعدہ کا وقت ہے صبح کیا صبح نہیں ہے نزدیک [۱۱۱] ﴿81﴾

    پھر جب پہنچا حکم ہمارا کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر نیچے اور برسائے ہم نے اس پر پتھر کنکر کے [۱۱۲] تہہ بہ تہہ [۱۱۳] ﴿82﴾

    نشان کئے ہوئے تیرے رب کے پاس [۱۱۴] اور نہیں ہے وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور [۱۱۵] ﴿83﴾

    اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوائے اور نہ گھٹاؤ ماپ اور تول کو [۱۱۶] میں دیکھتا ہوں تم کو آسودہ حال اور ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیر لینے والے دن کے [۱۱۷] ﴿84﴾

    اور اے قوم پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف سے [۱۱۸] اور نہ گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں [۱۱۹] اور مت مچاؤ زمین میں فساد [۱۲۰] ﴿85﴾

    جو بچ رہے اللہ کا دیا وہ بہتر ہے تم کو اگر ہو تم ایمان والے [۱۲۱] اور میں نہیں ہوں تم پر نگہبان [۱۲۲] ﴿86﴾

    بولے اے شعیب کیا تیرے نماز پڑھنے نے تجھ کو یہ سکھایا کہ ہم چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے یا چھوڑ دیں کرنا جو کچھ کہ کرتے ہیں اپنے مالوں میں تو ہی بڑ ابا وقار ہے نیک چلن [۱۲۳] ﴿87﴾

    بولا اے قوم دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ آ گئ اپنے رب کی طرف سے اور اس نے روزی دی مجھ کو نیک روزی [۱۲۴] اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد کو خود کروں وہ کام جو تم سے چھڑاؤں [۱۲۵] میں تو چاہتا ہوں سنوارنا جہاں تک ہو سکے اور بن آنا ہے اللہ کی مدد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے [۱۲۶] ﴿88﴾

    اور اے قوم نہ کمائیو میری ضد کر کے یہ کہ پڑے تم پر جیسا کچھ کہ پڑ چکا قوم نوح پر یا قوم ہود پر یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور ہی نہیں [۱۲۷] ﴿89﴾

    اور گناہ بخشواؤ اپنے رب سے اور رجوع کرو اسکی طرف البتہ میرا رب ہے مہربان محبت والا [۱۲۸] ﴿90﴾

    بولے اے شعیب ہم نہیں سمجھتے بہت باتیں جو تو کہتا ہے [۱۲۹] اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے [۱۳۰] اور اگر نہ ہوتے تیرے بھائی بند تو تجھ کو تو ہم سنگسار کر ڈالتے اور ہماری نگاہ میں تیری کچھ عزت نہیں [۱۳۱] ﴿91﴾

    بولا اے قوم کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر زیادہ ہے اللہ سے اور اس کو ڈال رکھا تم نے پیٹھ پیچھے بھلا کر تحقیق میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ کرتے ہو [۱۳۲] ﴿92﴾

    اور اے میری قوم کام کئےجاؤ اپنی جگہ میں بھی کام کرتا ہوں آگے معلوم کر لو گے کس پر آتا ہے عذاب رسوا کرنے والا اور کون ہے جھوٹا اور تاکتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ تاک رہا ہوں [۱۳۳] ﴿93﴾

    اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے شعیب کو اور جو ایمان لائے تھے اسکے ساتھ اپنی مہربانی سے اور آ پکڑا ان ظالموں کو کڑک نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ﴿94﴾

    گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے [۱۳۴] سن لو پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو [۱۳۵] ﴿95﴾

    اور البتہ بھیج چکے ہیں ہم موسٰی کو اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر [۱۳۶] ﴿96﴾

    فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی [۱۳۷] ﴿97﴾

    آگے ہو گا اپنی قوم کے قیامت کے دن پھر پہنچائے انکو آگ پر اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے [۱۳۸] ﴿98﴾

    اور پیچھے سے ملتی رہی اس جہان میں لعنت اور دن قیامت کے بھی برا انعام ہے جو ان کو ملا [۱۳۹] ﴿99﴾

    یہ تھوڑے سے حالات ہیں بستیوں کے کہ ہم سناتے ہیں تجھ کو بعض ان میں سےابتک قائم ہیں اور بعض کی جڑ کٹ گئ [۱۴۰] ﴿100﴾

    اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن ظلم کر گئے وہی اپنی جان پر پھر کچھ کام نہ آئے ان کے ٹھاکر (معبود) جن کو پکارتے تھے سوائے اللہ کے کسی چیز میں جس وقت پہنچا حکم تیرے رب کا [۱۴۱] اور نہیں بڑھایا انکے حق میں سوائے ہلاک کرنے کے [۱۴۲] ﴿101﴾

    اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتا ہے بستیوں کو اور وہ ظلم کرتے ہوتے ہیں بیشک اس کی پکڑ دردناک ہے شدت کی [۱۴۳] ﴿102﴾

    اس بات میں نشانی ہے اس کو جو ڈرتا ہے آخرت کے عذاب سے [۱۴۴] وہ ایک دن ہے جس میں جمع ہوں گے سب لوگ اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا [۱۴۵] ﴿103﴾

    اور اس کو ہم دیر جو کرتے ہیں سو ایک وعدہ کے لئے جو مقرر ہے [۱۴۶] ﴿104﴾

    جس دن وہ آئے گا بات نہ کر سکے گا کوئی جاندار مگر اسکے حکم سے سو ان میں بعضے بدبخت ہیں اور بعضے نیک بخت [۱۴۷] ﴿105﴾

    سو جو لوگ بد بخت ہیں وہ تو آگ میں ہیں انکو وہاں چیخنا ہے اور دہاڑنا ﴿106﴾

    ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے آسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بیشک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہے ﴿107﴾

    اور جو لوگ نیک بخت ہیں سو جنت میں ہیں ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے آسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بخشش ہے بے انتہا [۱۴۸] ﴿108﴾

    سو تو نہ رہ دھوکے میں ان چیزوں سے جن کو پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر ویسا ہی جیسا کہ پوجتے تھے انکے باپ دادے اس سے پہلے اور ہم دینے والے ہیں انکو انکا حصہ یعنی عذاب سے بلا نقصان [۱۴۹] ﴿109﴾

    اور البتہ ہم نے دی تھی موسٰی کو کتاب پھر اس میں پھوٹ پڑ گئ اور اگر نہ ہوتا ایک لفظ کہ پہلے فرما چکا تھا تیرا رب تو فیصلہ ہو جاتا ان میں اور ان کو اس میں شبہ ہے کہ مطمئن نہیں ہونے دیتا [۱۵۰] ﴿110﴾

    اور جتنے لوگ ہیں جب وقت آیا پورا (بھگتا دے گا) دے گا رب تیرا ان کو ان کے اعمال اس کو سب خبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں [۱۵۱] ﴿111﴾

    سو تو سیدھا چلا جا جیسا تجھ کو حکم ہوا اور جس نے توبہ کی تیرے ساتھ اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۱۵۲] ﴿112﴾

    اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے [۱۵۳] ﴿113﴾

    اور قائم کر نماز کو دونوں طرف دن کے اورکچھ ٹکڑوں میں رات کے [۱۵۴] البتہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو یہ یادگاری ہے یاد رکھنے والوں کو [۱۵۵] ﴿114﴾

    اور صبر کر البتہ اللہ ضائع نہیں کرتا ثواب نیکی کرنے والوں کا [۱۵۶] ﴿115﴾

    سو کیویں نہ ہوئے ان جماعتوں میں جو تم سے پہلے تھیں ایسے لوگ جن میں اثر خیر رہا ہو کہ منع کرتے رہتے بگاڑ کرنے سے ملک میں مگر تھوڑے کہ جن کو ہم نے بچا لیا ان میں سے اور چلے وہ لوگ (اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا) جو ظالم تھے وہی راہ جس میں عیش سے رہتے تھے اور تھے گنہگار [۱۵۷] ﴿116﴾

    اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے اور لوگ وہاں کے نیک ہوں [۱۵۸] ﴿117﴾

    اور اگر چاہتا تیرا رب کر ڈالتا لوگوں کو ایک راستہ پر اور ہمیشہ رہتے ہیں اختلاف میں ﴿118﴾

    مگر جن پر حم کیا تیرے رب نے [۱۵۹] اور اسی واسطے انکو پیدا کیا ہے اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ البتہ بھر دوں گا دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے [۱۶۰] ﴿119﴾

    اور سب چیز بیان کرتے ہیں ہم تیرے پاس رسولوں کےاحوال سے جس سے تسلی دیں تیرے دل کو اور آئی تیرے پاس اس سورت میں تحقیق بات اور نصیحت اور یاداشت ایمان والوں کو [۱۶۱] ﴿120﴾

    اور کہہ دے ان کو جو ایمان نہیں لاتے کام کئے جاؤ اپنی جگہ پر ہم بھی کام کرتے ہیں ﴿121﴾

    اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں [۱۶۲] ﴿122﴾

    اور اللہ کے پا س ہے چھپی بات آسمانوں کی اور زمین کی اور اسی کی طرف رجوع ہے سب کام کا سو اسی کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ اور تیرا رب بیخبر نہیں جو کام تم کرتے ہو [۱۶۳] ﴿123﴾

    Surah 12
    یوسف

    یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی [۱] ﴿1﴾

    ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھ لو [۲] ﴿2﴾

    ہم بیان کرتے ہیں تیرے پاس بہت اچھا بیان اس واسطے کہ بھیجا ہم نے تیری طرف یہ قرآن اور تو تھا اس سے پہلے البتہ بیخبروں میں [۳] ﴿3﴾

    جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے اے باپ میں نے دیکھا خواب میں گیارہ ستاروں کو اور سورج کو اور چاند کو دیکھا میں نے انکو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے [۴] ﴿4﴾

    کہا اے بیٹے مت بیان کرنا خواب اپنا اپنے بھائیوں کے آگے پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب البتہ شیطان ہے انسان کا صریح دشمن [۵] ﴿5﴾

    اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھ کو تیرا رب [۶] اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا [۷] اور پورا کرے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھر پر [۸] جیسا پورا کیا ہے تیرے دو باپ دادوں پر اس سے پہلے ابراہیم اور اسحٰق پر [۹] البتہ تیرا رب خبردار ہے حکمت والا [۱۰] ﴿6﴾

    البتہ ہیں یوسف کے قصہ میں اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں پوچھنے والوں کے لئے [۱۱] ﴿7﴾

    جب کہنے لگے البتہ یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے اور ہم ان سے قوت والے لوگ ہیں البتہ ہمارا باپ صریح خطا پر ہے [۱۲] ﴿8﴾

    مار ڈالو یوسف کو یا پھینک دو کسی ملک میں کہ خالص رہے تم پر توجہ تمہارے باپ کی [۱۳] اور ہو رہنا اس کے بعد نیک لوگ [۱۴] ﴿9﴾

    بولا ایک بولنے والا ان میں مت مار ڈالو یوسف کو اور ڈال دو اس کو گمنام کنوئیں میں کہ اٹھالے جائے اس کو کوئی مسافر اگر تم کو کرنا ہے [۱۵] ﴿10﴾

    بولے اے باپ کیا بات ہے کہ تو اعتبار نہیں کرتا ہمارا یوسف پر اور ہم تو اسکے خیرا خواہ ہیں [۱۶] ﴿11﴾

    بھیج اسکو ہمارےساتھ کل کو خوب کھائے اور کھیلے اور ہم تو اسکے نگہبان ہیں [۱۷] ﴿12﴾

    بولا مجھ کو غم ہوتا ہے اس سے کہ تم اس کو لے جاؤ اور ڈرتا ہوں اس سے کہ کھا جائے اسکو بھیڑیا اور تم اس سے بیخبر رہو [۱۸] ﴿13﴾

    بولے اگر کھا گیا اس کو بھیڑیا اور ہم ایک جماعت ہیں وقت ور تو تو ہم نے سب کچھ گنوا دیا [۱۹] ﴿14﴾

    پھر جب لیکر چلے اس کو اور متفق ہوئے کہ ڈالیں اسکو گمنام کنویں میں اور ہم نے اشارہ کر دیا اسکو کہ تو جتائے گا انکو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے [۲۰] ﴿15﴾

    اور آئے اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے [۲۱] ﴿16﴾

    کہنے لگے اے باپ ہم لگے دوڑنے آگے نکلنے کو اور چھوڑا یوسف کو اپنے اسباب کے پاس پھر اس کو کھا گیا بھیڑیا [۲۲] اور تو باور نہ کرے گا ہمارا کہنا اور اگرچہ ہم سچے ہوں [۲۳] ﴿17﴾

    اور لائے اس کے کرتے پر لہو لگا کر جھوٹ [۲۴] بولا یہ ہر گز نہیں بلکہ بنا دی ہے تم کو تمہارے جیوں نےایک بات اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو تم ظاہر کرتے ہو [۲۵] ﴿18﴾

    اور آیا ایک قافلہ پھر بھیجا اپنا پانی بھرنے والا اس نے لٹکایا اپنا ڈول کہنے لگا کیا خوشی کی بات ہے یہ ہے ایک لڑکا [۲۶] اور چھپا لیا اس کو تجارت کا مال سمجھ کر [۲۷] اور اللہ خوب جانتا ہی جو کچھ وہ کرتے ہیں [۲۸] ﴿19﴾

    اور بیچ آئے اسکو بھائی ناقص قیمت کو گنتی کی چونیاں [۲۹] اور ہو رہے تھے اس سے بیزار [۳۰] ﴿20﴾

    اور کہا جس شخص نےخرید کیا اسکو مصر سے اپنی عورت کو آبرو سے رکھ اس کو شاید ہمارےکام آئے یا ہم کر لیں اسکو بیٹا [۳۱] اور اسی طرح جگہ دی ہم نے یوسف کو اس ملک میں اور اس واسطے کہ اسکو سکھائیں کچھ ٹھکانے پر بٹھانا باتوں کو [۳۲] اور اللہ در رہتا ہے اپنے کام میں و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے [۳۳] ﴿21﴾

    اور جب پہنچ گیا اپنی قوت کو دیا ہم نے اسکو حکم اور علم [۳۴] اور ایسا ہی بدلہ دیتےہیں ہم نیکی والوں کو [۳۵] ﴿22﴾

    اور پھسلایا اسکو اس عورت نے جسکے گھر میں تھا اپنا جی تھامنے سے اور بند کردیئے دروازے اور بولی شتابی کر [۳۶] کہا خدا کی پناہ وہ عزیز مالک ہے میرا اچھی طرح رکھا ہے مجھ کو بیشک بھلائی نہیں پاتے جو لوگ کہ بے انصاف ہوں [۳۷] ﴿23﴾

    اور البتہ عوت نے فکر کیا اس کا اور اس نے فکر کیا عورت کا [۳۸] اگر نہ ہوتا یہ کہ دیکھے قدرت اپنے رب کی [۳۹] یوں ہی ہوا تاکہ ہٹائیں ہم اس سے برائی اور بے حیائی البتہ وہ ہے ہمارے برگزیدہ بندوں میں [۴۰] ﴿24﴾

    اور دونوں دوڑے دروازہ کو اور عورت نے چیر ڈالا اس کا کرتہ پیچھے سے اور دونوں مل گئے عورت کے خاوند سے دروازہ کے پاس [۴۱] بولی اور کچھ سزا نہیں ایسے شخص کی جو چاہے تیرے گھر میں برائی مگر یہی کہ قید میں ڈالا جائے یا عذاب دردناک [۴۲] ﴿25﴾

    یوسف بولا اسی نے خواہش کی مجھ سے کہ نہ تھاموں اپنے جی کو اور گواہی دی ایک گواہ نے عورت کے لوگوں میں سے [۴۳] اگر ہے کرتا اس کا پھٹا آگے سے تو عورت سچی ہے اور وہ ہے جھوٹا ﴿26﴾

    اور اگر ہے کرتہ اس کا پھٹا پیچھے سے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے ﴿27﴾

    پھر جب دیکھا عزیز نے کرتہ اس کا پھٹا ہوا پیچھے سے کہا بیشک یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا البتہ تمہارا فریب بڑا ہے ﴿28﴾

    یوسف جانے دے اس ذکر کو اور عورت تو بخشوا اپنا گناہ بیشک تو ہی گنہگار تھی [۴۴] ﴿29﴾

    اور کہنے لگیں عورتیں اس شہر میں عزیز کی عورت خواہش کرتی ہے اپنے غلام سے اسکے جی کو فریفتہ ہو گیا اس کا دل اسکی محبت میں ہم تو دیکھتے ہیں اسکو صریح خطا پر [۴۵] ﴿30﴾

    پھر جب سنا اس نے ان کا فریب [۴۶] بلوا بھیجا انکو اور تیار کی انکے واسطے ایک مجلس اور دی انکو ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری اور بولی یوسف نکل آ انکے سامنے پھر جب دیکھا اس کو ششدر رہ گئیں اور کاٹ ڈالے اپنے ہاتھ [۴۷] اور کہنے لگیں حاشا للہ نہیں یہ شخص آدمی یہ تو کوئی فرشتہ ہے بزرگ [۴۸] ﴿31﴾

    بولی یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اسکے واسطے [۴۹] اور میں نے لینا چاہا تھا اس سے اس کا جی پھر اس نے تھام رکھا [۵۰] اور بیشک اگر نہ کرے گا جو میں اسکو کہتی ہوں تو قید میں پڑے گا اور ہو گا بےعزت [۵۱] ﴿32﴾

    یوسف بولا اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جسکی طرف مجھ کو بلاتی ہیں اور اگر تو نہ دفع کرے گا مجھ سے ان کا فریب تو مائل ہو جاؤں گا انکی طرف اور ہو جاؤں گا بے عقل [۵۲] ﴿33﴾

    سو قبول کر لی اس کی دعا اس کے رب نے پھر دفع کیا اس سے ان کا فریب [۵۳] البتہ وہی ہے سننے والا خبردار [۵۴] ﴿34﴾

    پھر یوں سمجھ آیا لوگوں کی ان نشانیوں کے دیکھنے پر کہ قید رکھیں اسکو ایک مدت [۵۵] ﴿35﴾

    اور داخل ہوئے قید خانہ میں اسکے ساتھ دو جوان کہنے لگا ان میں سے ایک میں دیکھتا ہوں کہ میں نچوڑتا ہوں شراب اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اٹھار رہا ہوں اپنے سر پر روٹی کہ جانور کھاتے ہیں اس میں سے بتلا ہم کو اس کی تعبیر ہم دیکھتے ہیں تجھ کو نیکی والا [۵۶] ﴿36﴾

    بولا نہ آنے پائے گا تم کو کھانا جو ہر روز تم کو ملتا ہے مگر بتا چکوں گا تم کو اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے یہ علم ہے کہ مجھ کو سکھایا میرے رب نے میں نے چھوڑا دین اس قوم کا کہ ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت سے وہ لوگ منکر ہیں [۵۷] ﴿37﴾

    اور پکڑا میں نے دین اپنے باپ دادوں کا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ہمارا کام نہیں کہ شریک کریں اللہ کا کسی چیز کو یہ فضل ہے اللہ کا ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن بہت لوگ احسان نہیں مانتے [۵۸] ﴿38﴾

    اے رفیقو قید خانہ کے بھلا کئی معبود جدا جدا بہتر یا اللہ اکیلا زبردست [۵۹] ﴿39﴾

    کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند [۶۰] حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو [۶۱] یہی ہے راستہ سیدھا پر بہت لوگ نہیں جانتے [۶۲] ﴿40﴾

    اے رفیقو قید خانہ کے ایک جو ہے تم دونوں میں سو پلائے گا اپنے خاوند (مالک) کو شراب اور دوسرا جو ہے سو سولی دیا جائے گا (چڑھے گا) پھر کھائیں گے جانور اس کے سر میں سے فیصل ہوا وہ کام جس کی تحقیق تم چاہتے تھے [۶۳] ﴿41﴾

    اور کہہ دیا یوسف نے اسکو جسکو گمان کیا تھا کہ بچے گا ان دونوں میں میرا ذکر کرنا اپنے خاوند (مالک) کے پاس [۶۴] سو بھلا دیا اسکو شیطان نے ذکر کرنا اپنے خاوند (مالک) سے پھر رہا قید میں کئ برس [۶۵] ﴿42﴾

    اور کہا بادشاہ نے میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی انکو کھاتی ہیں سات گائیں دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی [۶۶] اے دربار والو تعبیر کہو مجھ سے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر دینے والے [۶۷] ﴿43﴾

    بولے یہ خیالی خواب ہیں اور ہم کو ایسے خوابوں کی تعبیر معلوم نہیں [۶۸] ﴿44﴾

    اور بولا وہ جو بچا تھا ان دونوں میں سے اور یاد آ گیا اس کو مدت کے بعد میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر سو تم مجھ کو بھیجو [۶۹] ﴿45﴾

    جا کر کہا اے یوسف اے سچے [۷۰] حکم دےہم کو اس خواب میں سات گائیں موٹی انکو کھائیں سات دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی تاکہ لے جاؤں میں لوگوں کے پاس شاید انکو معلوم ہو [۷۱] ﴿46﴾

    کہا تم کھیتی کرو گے سات برس جم کر سو جو کاٹو اس کو چھوڑ دو اس کی بال میں مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ ﴿47﴾

    پھر آئیں گے اس کے بعد سات برس سختی کے کھا جائیں گے جو رکھا تم نے انکے واسطے مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے بیج کے واسطے ﴿48﴾

    پھر آئے گا اس کے پیچھے ایک برس اس میں مینہ برسے گا لوگوں پر اور اس میں رس نچوڑیں گے [۷۲] ﴿49﴾

    اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اسکو میرے پاس پھر جب پہنچا اس کے پاس بھیجا ہوا آدمی کہا لو ٹ جا اپنے خاوند (مالک) کے پاس اور پوچھ اس سے کیا حقیقت ہے ان عورتوں کی جنہوں نے کاٹے تھے ہاتھ اپنے [۷۳] میرا رب تو ان کا فریب سب جانتا ہے [۷۴] ﴿50﴾

    کہا بادشاہ نے عورتوں کو کیا حقیقت ہے تمہاری جب تم نے پھسلایا یوسف کو اسکے نفس کی حفاظت سے [۷۵] بولیں حاشا للہ ہم کو معلوم نہیں اس پر کچھ برائی بولی عورت عزیز کی اب کھل گئ سچی بات میں نے پھسلایا تھا اسکو اس کے جی سے اور وہ سچا ہے [۷۶] ﴿51﴾

    یوسف نے کہا یہ اس واسطے کہ عزیز معلوم کر لیوے کہ میں نے اسکی چوری نہیں کی چھپ کر اور یہ کہ اللہ نہیں چلاتا (چلنے نہ دیتا) فریب دغا بازوں کا [۷۷] ﴿52﴾

    اور میں پاک نہیں کہتا اپنے جی کو بیشک جی تو سکھلاتا ہے برائی مگر جو رحم کر دیا میرے رب نے بیشک میرا رب بخشنے والا ہے مہربان [۷۸] ﴿53﴾

    اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اسکو میرے پاس میں خالص کر رکھوں اسکو اپنے کام میں [۷۹] پھر جب بات چیت کی اس سے کہا واقعی تو نے آج سے ہمارے پاس جگہ پائی معتبر ہو کر [۸۰] ﴿54﴾

    یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر میں نگہبان ہوں خوب جاننے والا [۸۱] ﴿55﴾

    اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا [۸۲] پہنچا دیتے ہیں ہم رحمت اپنی جس کو چاہیں اور ضائع نہیں کرتے ہم بدلا بھلائی والوں کا ﴿56﴾

    اور ثواب آخرت کا بہتر ہے انکو جو ایمان لائے اور رہے پرہیزگاری میں [۸۳] ﴿57﴾

    اور آئے بھائی یوسف کے پھر داخل ہوئے اسکے پاس تو اس نے پہچان لیا انکو اور وہ نہیں پہچانتے [۸۴] ﴿58﴾

    اور جب تیار کر دیا انکو ان کا اسباب کہا لے آیئو میرے پاس ایک بھائی جو تمہارا ہے باپ کی طرف سے تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں پورا دیتا ہوں ماپ اور خوب طرح اتارتا ہوں مہمانوں کو [۸۵] ﴿59﴾

    پھر اگر اس کو نہ لائے میرے پاس تو تمہارے لئے بھرتی نہیں میرے نزدیک اور میرےپاس نہ آئیو [۸۶] ﴿60﴾

    بولے ہم خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہم کو یہ کام کرنا ہے [۸۷] ﴿61﴾

    اور کہدیا اپنے خدمت گاروں کو رکھ دو انکی پونجی انکے اسباب میں شاید اس کو پہچانیں جب پھر کر پہنچیں اپنے گھر شاید وہ پھر آ جائیں [۸۸] ﴿62﴾

    پھر جب پہنچے اپنے باپ کے پاس بولے اے باپ روک دی گئ ہم سے بھرتی سو بھیج ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو کہ بھرتی لے آئیں اور ہم اسکے نگہبان ہیں [۸۹] ﴿63﴾

    کہا میں کیا اعتبار کروں تمہارا اس پر مگر وہی جیسا اعتبار کیا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے سو اللہ بہتر ہے نگہبان اور وہی ہے سب مہربانوں سے مہربان [۹۰] ﴿64﴾

    اور جب کھولی اپنی چیز بست پائی اپنی پونچی کہ پھیر دی گئ انکی طرف بولے اے باپ ہم کو اور کیا چاہیئے یہ پونچی ہماری پھیر دی ہے ہم کو اب جائیں تو رسد لائیں ہم اپنے گھر کو اور خبرداری کر یں گے اپنے بھائی کی اور زیادہ لیویں بھرتی ایک اونٹ کی [۹۱] وہ بھرتی آسان ہے [۹۲] ﴿65﴾

    کہا ہر گز نہ بھیجوں گا اسکو تمہارے ساتھ یہاں تک کہ دو مجھ کو عہد خدا کا کہ البتہ پہنچا دو گے اسکو میرے پاس مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب پھر جب دیا اسکو سب نے عہد بولا اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے [۹۳] ﴿66﴾

    اور کہا اے بیٹو نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے اور داخل ہونا کئ دروازوں سے جدا جدا اور میں نہیں بچا سکتا تم کو اللہ کی کسی بات سے حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ چاہئے بھروسہ کرنے والوں کو [۹۴] ﴿67﴾

    اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا انکے باپ نے [۹۵] کچھ نہ بچا سکتا تھا انکو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کر چکا اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے اس کو سکھایا لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں [۹۶] ﴿68﴾

    اور جب داخل ہوئے یوسف کے پاس اپنے پاس رکھا اپنے بھائی کو کہا تحقیق میں ہوں بھائی تیرا سو غمگین مت ہو ان کاموں سے جو انہوں نے کئے ہیں [۹۷] ﴿69﴾

    پھر جب تیار کر دیا انکے واسطے اسباب انکا رکھ دیا پینے کا پیالہ اسباب میں اپنے بھائی کے پھر پکارا پکارنے والے نے اے قافلہ والو تم تو البتہ چور ہو [۹۸] ﴿70﴾

    کہنے لگے منہ کر کے انکی طرف تمہاری کیا چیز گم ہو گئ [۹۹] ﴿71﴾

    بولے ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے اسکو ملے ایک بوجھ اونٹ کا اور میں ہوں اس کا ضامن [۱۰۰] ﴿72﴾

    بولے قسم اللہ کی تم کو معلوم ہے ہم شرارت کرنے کو نہیں آئے ملک میں اور نہ ہم کبھی چور تھے [۱۰۱] ﴿73﴾

    بولے پھر کیا سزا ہے اسکی اگر تم نکلے جھوٹے [۱۰۲] ﴿74﴾

    کہنے لگے اس کی سزا یہ کہ جس کے اسباب میں سے ہاتھ آئے وہی اسکے بدلے میں جائے ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو [۱۰۳] ﴿75﴾

    پھر شروع کیں یوسف نے انکی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے[۱۰۴] یوں داؤ بتا دیا ہم نے یوسف کو [۱۰۵] وہ ہر گز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین (قانون) میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ [۱۰۶] ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں [۱۰۷] اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا [۱۰۸] ﴿76﴾

    کہنے لگےاگر اس نے چرایا تو چوری کی تھی اسکے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے [۱۰۹] تب آہستہ سے کہا یوسف نے اپنے جی میں اور انکو نہ جتایا کہا جی میں کہ تم بدتر ہو درجہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو [۱۱۰] ﴿77﴾

    کہنے لگے اے عزیز اس کا ایک باپ ہے بوڑھا بڑی عمر کا سو رکھ لے ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ ہم دیکھتے ہیں تو ہے احسان کرنے والا [۱۱۱] ﴿78﴾

    بولا اللہ پناہ دے کہ ہم کسی کو پکڑیں مگر جس کے پاس پائی ہم نے اپنی چیز [۱۱۲] تو تو ہم ضرور بے انصاف ہوئے [۱۱۳] ﴿79﴾

    پھر جب ناامید ہوئے اس سے اکیلے ہو بیٹھے مشورہ کرنے کو بولا ان میں کا بڑا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے لیا ہے تم سے عہد اللہ کا اور پہلے جو قصور کر چکے ہو یوسف کے حق (قصہ) میں سو میں تو ہرگز نہ سرکوں گا اس ملک سے جب تک کہ حکم دے مجھ کو باپ میرا یا قضیہ چکا دے اللہ میری طرف اور وہ ہے سب سے بہتر چکانے والا [۱۱۴] ﴿80﴾

    پھر جاؤ اپنے باپ کے پاس اور کہو اے باپ تیرے بیٹے نے تو چوری کی اور ہم نے تو وہی کہا تھا جو ہم کو خبر تھی اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا [۱۱۵] ﴿81﴾

    اور پوچھ لے اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں [۱۱۶] ﴿82﴾

    بولا کوئی نہیں بنالی ہے تمہارے جی نے ایک بات اب صبر ہی بہتر (کام آئے ، بن پڑے) ہے شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو وہی ہے خبردار حکمتوں والا [۱۱۷] ﴿83﴾

    اور الٹا پھرا انکے پاس سے اور بولا اے افسوس یوسف پر [۱۱۸] اور سفید ہو گئیں آنکھیں اسکی غم سے [۱۱۹] سو وہ آپ کو گھونٹ رہا تھا [۱۲۰] ﴿84﴾

    کہنے لگے قسم اللہ کی تو نہ چھوڑے گا یوسف کی یاد کو جب تک کہ گھل جائے یا ہو جائے مردہ ﴿85﴾

    بولا میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب اور غم اللہ کے سامنے اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے [۱۲۱] ﴿86﴾

    اے بیٹو جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی اور اسکے بھائی کی اور ناامید مت ہو اللہ کے فیض سے بیشک نا امید نہیں ہوتے اللہ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں [۱۲۲] ﴿87﴾

    پھر جب داخل ہوئے اسکے پاس بولے اے عزیز پڑی ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص سو پوری دے ہم کو بھرتی اور خیرات کر ہم پر اللہ بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو [۱۲۳] ﴿88﴾

    کہا کچھ تم کو خبر ہے کہ کیا کیا تم نے یوسف سے اور اسکے بھائی سے [۱۲۴] جب تم کو سمجھ نہ تھی [۱۲۵] ﴿89﴾

    بولے کیا سچ تو ہی ہے یوسف [۱۲۶] کہا میں یوسف ہوں اور یہ ہے میرا بھائی [۱۲۷] اللہ نے احسان کیا ہم پر [۱۲۸] البتہ جو کوئی ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا [۱۲۹] ﴿90﴾

    بولے قسم اللہ کی البتہ پسند کر لیا تجھ کو اللہ نے ہم سے اور ہم تھے چوکنے والے [۱۳۰] ﴿91﴾

    کہا کچھ الزام نہیں تم پر آج بخشے اللہ تم کو [۱۳۱] اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان [۱۳۲] ﴿92﴾

    لیجاؤ یہ کرتا میرا اور ڈالو اسکو منہ پر میرے باپ کے کہ چلا آئے آنکھوں سے دیکھتا ہوا اور لے آؤ میرے پاس گھر اپنا سارا [۱۳۳] ﴿93﴾

    اور جب جدا ہوا قافلہ کہا انکے باپ نے میں پاتا ہوں بو یوسف کی [۱۳۴] اگر نہ کہو مجھ کو کہ بوڑھا بہک گیا [۱۳۵] ﴿94﴾

    لوگ بولے قسم اللہ کی تو تو اپنی اسی قدیم غلطی میں ہے [۱۳۶] ﴿95﴾

    پھر جب پہنچا خوشخبری والا ڈالا اس نے وہ کرتا اس کے منہ پر پھر لوٹ کر ہو گیا دیکھنے والا [۱۳۷] بولا میں نے نہ کہا تھا تم کو کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے [۱۳۸] ﴿96﴾

    بولے اے باپ بخشوا ہمارے گناہوں کو بیشک ہم تھے چوکنے والے [۱۳۹] ﴿97﴾

    کہا دم لو بخشواؤں گا تم کو اپنے رب سے وہی ہے بخشنے والا مہربان [۱۴۰] ﴿98﴾

    پھر جب داخل ہوئے یوسف کے پاس جگہ دی اپنے پاس ماں باپ کو اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے [۱۴۱] ﴿99﴾

    اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر اور سب گرے اس کے آگے سجدہ میں [۱۴۲] اور کہا اے باپ یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا اس کو میرے رب نے سچ کر دیا [۱۴۳] اور اس نے انعام کیا مجھ پر جب مجھ کو نکالا قید خانہ سے اور تم کو لے آیا گاؤں سے بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال چکا تھا شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بیشک وہی ہے خبردار حکمت والا [۱۴۴] ﴿100﴾

    اے رب تو نے دی مجھ کو کچھ حکومت اور سکھایا مجھ کو کچھ پھیرنا باتوں کا [۱۴۵] اے پیدا کرنے والے آسمان اور زمین کے تو ہی میرا کارساز ہے دنیا میں اور آخرت میں موت دے مجھ کو اسلام پر [۱۴۶] اور ملا مجھ کو نیک بختوں میں [۱۴۷] ﴿101﴾

    یہ خبریں ہیں غیب کی ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس اور تو نہیں تھا انکے پاس جب وہ ٹھہرانے لگے اپنا کام اور فریب کرنے لگے [۱۴۸] ﴿102﴾

    اور اکثر لوگ نہیں ہیں یقین کرنے والے اگرچہ تو کتنا ہی چاہے [۱۴۹] ﴿103﴾

    اور تو مانگتا نہیں ان سے اس پر کچھ بدلا یہ تو اور کچھ نہیں مگر نصیحت سارے عالم کو [۱۵۰] ﴿104﴾

    اور بہتیری نشانیاں ہیں آسمان اور زمین میں جن پر گذر ہوتا رہتا ہے ان کا اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے [۱۵۱] ﴿105﴾

    اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں [۱۵۲] ﴿106﴾

    کیا نڈر ہو گئے اس سے کہ آ ڈھانکے انکو ایک آفت اللہ کے عذاب کی یا آ پہنچے قیامت اچانک اور انکو خبر نہ ہو [۱۵۳] ﴿107﴾

    کہہ دے یہ میری راہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف سمجھ بوجھ کر میں اور جو میرے ساتھ ہے اور اللہ پاک ہے اور میں نہیں شریک بتانے والوں میں [۱۵۴] ﴿108﴾

    اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے وہ سب مرد ہی تھے کہ وحی بھیجتے تھے ہم انکو بستیوں کے رہنے والے سو کیا ان لوگوں نے نہیں سیر کی ملک کی کہ دیکھ لیتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور آخرت کا گھر تو بہتر ہے پرہیز کرنے والوں کو کیا اب بھی نہیں سمجھتے [۱۵۵] ﴿109﴾

    یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا پہنچی انکو ہماری مدد پھر بچا دیا جنکو ہم نے چاہا اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گنہگار سے [۱۵۶] ﴿110﴾

    البتہ انکے احوال سے اپنا حال قیاس کرنا ہے عقل والوں کو [۱۵۷] کچھ بنائی ہوئی بات نہیں لیکن موافق ہے اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے اور بیان ہر چیز کا اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں [۱۵۸] ﴿111﴾

    Surah 13
    الرعد

    یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور جو کچھ اترا تجھ پر تیرے رب سے سو حق ہے لیکن بہت لوگ نہیں مانتے [۱] ﴿1﴾

    اللہ وہ ہے جس نے اونچے بنائے آسمان بغیر ستون دیکھتے ہو [۲] پھر قائم ہوا عرش پر [۳] اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے وقت مقرر پر (تک) [۴] تدبیر کرتا ہے کام کی ظاہر کرتا ہے نشانیاں کہ (تاکہ) شاید تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو [۵] ﴿2﴾

    اور وہی ہے جس نے پھیلائی زمین اور رکھے اس میں بوجھ (پہاڑ) اور ندیاں [۶] اور ہر میوے کے رکھے اس میں جوڑے دو دو قسم [۷] ڈھانکتا ہے دن پر رات کو [۸] اس میں نشانیاں ہیں انکے واسطے جو کہ دھیان کرتے ہیں ﴿3﴾

    اور زمین میں کھیت ہیں مختلف ایک دوسرے (پاس پاس) سے متصل اور باغ ہیں انگور کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی اور بعضی بن ملی انکو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے اور ہم ہیں کہ بڑھا دیتے ہیں ان میں ایک کو ایک سے میووں میں ان چیزوں میں نشانیاں ہیں انکو جو غور کرتے ہیں [۹] ﴿4﴾

    اور اگر تو عجیب بات چاہے تو عجیب ہے ان کا کہنا کہ کیا جب ہو گئے ہم مٹی کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے [۱۰] وہی ہیں جو منکر ہو گئے اپنے رب سے اور وہی ہیں کہ طوق ہیں انکی گردنوں میں اور وہ ہیں دوزخ والے وہ اسی میں رہیں گے برابر [۱۱] ﴿5﴾

    اور جلد مانگتے ہیں تجھ سے برائی کو پہلے بھلائی سے [۱۲] اور گذر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے عذاب (مثالیں) اور تیرا رب معاف بھی کرتا ہے لوگوں کو باوجود انکے ظلم کے اور تیرے رب کا عذاب بھی سخت ہے [۱۳] ﴿6﴾

    اور کہتے ہیں کافر کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اسکے رب سے [۱۴] تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لئے ہوا ہے راہ بتانے والا [۱۵] ﴿7﴾

    اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ [۱۶] اور جو سکڑتے ہیں پیٹ اور بڑھتے ہیں اور ہر چیز کا اس کے یہاں اندازہ ہے [۱۷] ﴿8﴾

    جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کا سب سے بڑا برتر [۱۸] ﴿9﴾

    برابر ہے تم میں جو آہستہ بات کہے اور جو کہے پکار کر اور جو چھپ رہا ہے رات میں اور جو گلیوں میں پھرتا ہے دن کو [۱۹] ﴿10﴾

    اسکے پہرے والے ہیں بندہ کے آگے سے پیچھے سے اسکی نگہبانی کرتے ہیں اللہ کے حکم سے [۲۰] اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت کو جب تک وہ نہ بدلیں جو ان کے جیوں میں ہے اور جب چاہتا ہے اللہ کسی قوم پر آفت پھر وہ نہیں پھرتی اور کوئی نہیں ان کا اس کےسوا مدگار [۲۱] ﴿11﴾

    وہی ہےکہ تم کو دکھلاتا ہے بجلی ڈر کو (ڈرانے کو) اور امید کو اور اٹھاتا ہے بادل بھاری [۲۲] ﴿12﴾

    اور پڑھتا ہے گرج والا خوبیاں اسکی اور سب فرشتے اس کے ڈر سے [۲۳] اور بھیجتا ہے کڑک بجلیاں پھر ڈالتا ہے جس پر چاہے اور یہ لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی آن (پکڑ) سخت ہے [۲۴] ﴿13﴾

    اسی کا پکارنا سچ ہے اور جن لوگوں کو کہ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ نہیں کام آتے ان کے کچھ بھی مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ آ پہنچے اسکے منہ تک اور وہ کبھی نہ پہنچے گا اس تک اور جتنی پکار ہے کافروں کی سب گمراہی ہے [۲۵] ﴿14﴾

    اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں خوشی سے اور زور سے اور انکی پرچھائیاں صبح اور شام [۲۶] ﴿15﴾

    پوچھ کون ہے رب آسمان اور زمین کا کہدے اللہ ہے کہہ پھر کیا تم نے پکڑے ہیں اس کے سوا ایسے حمایتی جو مالک نہیں اپنے بھلے اور برے کے [۲۷] کہہ کیا برابر ہوتا ہے اندھا اور دیکھنے والا یا کہیں برابر ہے اندھیرا اور اجالا [۲۸]کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اللہ کے لئے شریک کہ انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے جیسے پیدا کیا اللہ نے پھر مشتبہ ہو گئ پیدائش انکی نظر میں کہہ اللہ ہے پیدا کرنے والا ہر چیز کا اور وہی ہے اکیلا زبردست [۲۹] ﴿16﴾

    اتارا اس نے آسمان سے پانی پھر بہنے لگے نالےاپنی اپنی موافق پھر اوپر لے آیا وہ نالا جھاگ پھولا ہوا اور جس چیز کو دھونکتے ہیں آگ میں واسطے زیور کے یا اسباب کے اسمیں بھی جھاگ ہے ویسا ہی یوں بیان (ٹھہراتا ہے) کرتا ہے اللہ حق اور باطل کو سو وہ جھاگ تو جاتا رہتا ہے سوکھ کر اور وہ جو کام آتا ہے لوگوں کے سو باقی رہتا ہے زمین میں اس طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں [۳۰] ﴿17﴾

    جنہوں نے مانا اپنے رب کا حکم ان کے واسطے بھلائی ہے [۳۱] اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر انکے پاس ہو جو کچھ کہ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اس کےساتھ اور تو سب دیویں (دے ڈالیں) اپنے بدلہ میں [۳۲] ان لوگوں کے لئے ہے برا حساب [۳۳] اور ٹھکانا ان کا دوزخ ہے اور وہ بری (برا بچھونا ہے) آرام کی جگہ ہے ﴿18﴾

    بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا تجھ پر تیرے رب سے حق ہے برابر ہو سکتا ہے اسکے جو کہ اندھا ہے سمجھتے وہی ہیں جنکو عقل ہے [۳۴] ﴿19﴾

    وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں اللہ کے عہد کو اور نہیں توڑتے اس عہد کو [۳۵] ﴿20﴾

    اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کو اللہ نے فرمایا ملانا [۳۶] اور ڈرتے ہیں اپنے رب سے اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا [۳۷] ﴿21﴾

    اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا خوشی کو اپنے رب کی [۳۸] اور قائم رکھی نماز اور خرچ کیا ہمارے دیے میں سے پوشیدہ (چھپے) اور ظاہر [کھلے) [۳۹] اور کرتے ہیں برائی کے مقابلہ میں بھلائی [۴۰] ان لوگوں کے لئے ہے آخرت کا گھر ﴿22﴾

    باغ ہیں رہنے کے [۴۱] داخل ہوں گے ان میں اور جو نیک ہوئے انکے باپ دادوں میں اور جو روؤں میں اور اولاد میں [۴۲] اور فرشتے آئیں ان کے پاس ہر دروازے سے ﴿23﴾

    کہیں گے سلامتی تم پر بدلے اسکے کہ تم نے صبر کیا سو خوب ملا عاقبت کا گھر [۴۳] ﴿24﴾

    اور جو لوگ توڑتے ہیں عہد اللہ کا مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو فرمایا اللہ نے جوڑنا اور فساد اٹھاتے ہیں ملک میں ایسےلوگ انکے واسطے ہے لعنت اور انکے لئے ہے برا گھر [۴۴] ﴿25﴾

    اللہ کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور تنگ کرتا ہے [۴۵] اور فریفتہ ہیں دنیا کی زندگی پر اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں آخرت کے آگے مگر متاع (مال) حقیر [۴۶] ﴿26﴾

    اور کہتے ہیں کافر کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب سے کہہ دے اللہ گمراہ (بچلاتا ہے) کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اسکو جو رجوع ہوا [۴۷] ﴿27﴾

    وہ لوگ جو ایمان لائے اور چین پاتے ہیں انکے دل اللہ کی یاد سے [۴۸] سنتا ہے اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں دل [۴۹] ﴿28﴾

    جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے اچھے خوشحالی (خوبی) ہے انکے واسطے اور اچھا ٹھکانا [۵۰] ﴿29﴾

    اسی طرح تجھ کو بھیجا ہم نے ایک امت میں کہ گذر چکی ہیں اس سے پہلے بہت امتیں تاکہ سنا دے تو انکو جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف [۵۱] اور وہ منکر ہوتے ہیں رحمٰن سے [۵۲] تو کہہ وہی رب میرا ہے کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف آتا ہوں رجوع کر کے [۵۳] ﴿30﴾

    اور اگر کوئی قرآن ہوا ہوتا کہ چلیں اس سے پہاڑ یا ٹکڑے ہووے اس سے زمین یا بولیں ( بولنے لگیں) اس سے مردے تو کیا ہوتا بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں [۵۴] سو کیا خاطر جمع نہیں ایمان والوں کو اس پر کہ اگر چاہے اللہ تو راہ پر لائے سب لوگوں کو [۵۵] اور برابر پہنچتا رہے گا منکروں کو ان کے کرتوت پر صدمہ (دھڑکا) یا اترے گا انکے گھر سے نزدیک جب تک کہ پہنچے وعدہ اللہ کا بیشک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ [۵۶] ﴿31﴾

    اور ٹھٹھا کر چکے ہیں کتنے رسولوں سے تجھ سے پہلے سو ڈھیل دی میں نے منکروں کو پھر ان کو پکڑ لیا سو کیسا تھا میرا بدلہ [۵۷] ﴿32﴾

    بھلا جو لئے کھڑا ہے ہر کسی کے سر پر جو کچھ اس نے کیا ہے (اوروں کی برابر ہو سکتا ہے) اور مقرر کرتے ہیں اللہ کے لئے شریک [۵۸] کہہ ان کا نام لو [۵۹] یا اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں [۶۰] یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں [۶۱] یہ نہیں بلکہ بھلے سمجھا دیے ہیں منکروں کو ان کے فریب اور وہ روک دیئے گئے ہیں راہ سے [۶۲] اور جس کو گمراہ کرے اللہ سو کوئی نہیں اسکو راہ بتانے والا [۶۳] ﴿33﴾

    ان کو مار پڑتی ہے دنیا کی زندگی میں [۶۴] اور آخرت کی مار تو بہت ہی سخت ہے اور کوئی نہیں انکو اللہ سے بچانے والا [۶۵] ﴿34﴾

    حال جنت کا جس کا وعدہ ہے پرہیزگاروں سے بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں میوہ اس کا ہمیشہ ہے [۶۶] اور سایہ بھی [۶۷] یہ بدلہ ہے ان کا جو ڈرتے رہے [۶۸] اور بدلہ منکروں کا آگ ہے [۶۹] ﴿35﴾

    اور وہ لوگ جن کو ہم نے دی ہے کتاب خوش ہوتے ہیں اس سے جو نازل ہوا تجھ پر [۷۰] اور بعضےفرقے نہیں مانتے اسکی بعضی بات [۷۱] کہہ مجھ کو یہی حکم ہوا کہ بندگی کروں اللہ کی اور شریک نہ کروں اس کا اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف ہے میرا ٹھکانہ [۷۲] ﴿36﴾

    اور اسی طرح اتارا ہم نے یہ کلام حکم عربی زبان میں [۷۳] اور اگر تو چلے انکی خواہش کے موافق بعد اس علم کےجو تجھ کو پہنچ چکا کوئی نہیں تیرا اللہ سے حمایتی اور نہ بچانے والا [۷۴] ﴿37﴾

    اور بھیج چکے ہیں ہم کتنے رسول تجھ سے پہلے اور ہم نے دی تھیں انکو جو روئیں اور اولاد اور نہیں ہوا کسی رسول سے کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے اذن سے ہر ایک وعدہ ہے لکھا ہوا [۷۵] ﴿38﴾

    مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب [۷۶] ﴿39﴾

    اور اگر دکھلا دیں ہم تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم نے کیا ہے ان سے یا تجھ کو اٹھالیویں سو تیرا ذمہ تو پہنچا دینا ہے اور ہمارا ذمہ ہے حساب لینا [۷۷] ﴿40﴾

    کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اس کے کناروں سے [۷۸] اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی نہیں کہ پیچھے ڈالے اس کا حکم [۷۹] اور وہ جلد لیتا ہے حساب [۸۰] ﴿41﴾

    اور فریب کر چکے ہیں جو ان سے پہلے تھے سو اللہ کے ہاتھ میں ہے سب فریب [۸۱] جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر ایک جی [۸۲] اور اب معلوم کئے لیتے ہیں کافر کہ کس کا ہوتا ہے پچھلا گھر [۸۳] ﴿42﴾

    اور کہتےہیں کافر تو بھیجا ہوا نہیں آیا کہدے اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے بیچ میں [۸۴] اور جس کو خبر ہے کتاب کی [۸۵] ﴿43﴾

    Surah 14
    ابراہیم

    الرٓ یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے اتاری تیری طرف کہ تو نکالے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف انکے رب کے حکم سے [۱] رستہ (راہ) پر (کی طرف) اس زبردست خوبیوں والے ﴿1﴾

    اللہ کہ جس کا ہے جو کچھ کہ موجود ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں [۲] اور مصیبت ہے کافروں کو ایک سخت عذاب سے [۳] ﴿2﴾

    جو کہ پسند رکھتے ہیں زندگی دنیا کی آخرت سے اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں (نکالنا چاہے ہیں) اس میں کجی وہ راستہ بھول کر جاپڑے ہیں دور [۴] ﴿3﴾

    اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے [۵] پھر راستہ بھلاتا ہے (بھٹکاتا ہے) اللہ جس کو چاہے اور راستہ دکھلا دیتا ہے (دیتا ہے ) جسکو چاہے اور وہ ہے زبردست حکمتوں والا [۶] ﴿4﴾

    اور بھیجا تھا ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیاں دے کر کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے کی طرف اور یاد دلا انکو دن اللہ کے البتہ اس میں نشانیاں ہیں اس کو جو صبر کرنے والا ہے شکر گذار (حق ماننے والا) [۷] ﴿5﴾

    اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم کو یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب چھڑا دیا تم کو فرعون کی قوم سے وہ پہنچاتے تھے تم کو برا عذاب [۸] اور ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تمہاری عورتوں کو اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی طرف سے بڑی [۹] ﴿6﴾

    اور جب سنا دیا تمہارے رب نے اگر احسان مانو گے تو اور بھی دوں گا تم کو [۱۰] اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب البتہ سخت ہے [۱۱] ﴿7﴾

    اور کہا موسٰی نے اگر کفر (منکر ہو گے) کرو گے تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے تو اللہ بے پروا ہے سب خوبیوں والا [۱۲] ﴿8﴾

    کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جو پہلے تھے تم سے قوم نوح کی اور عاد اور ثمود اور جو ان سے پیچھے ہوئے کسی کو انکی خبر نہیں مگر اللہ کو [۱۳] آئے انکے پاس انکے رسول نشانیاں لے کر پھر لوٹائے (الٹے دے لئے) انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں [۱۴] اور بولے ہم نہیں مانتے جو تم کو دے کر بھیجا اور ہم کو تو شبہ ہے اس راہ میں جسکی طرف تم ہم کو بلاتے ہو خلجان میں ڈالنے والا ﴿9﴾

    بولے انکے رسول کیا اللہ میں شبہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین [۱۵] وہ تم کو بلاتا ہے تاکہ بخشے تم کو کچھ گناہ تمہارے [۱۶] اور ڈھیل دے تم کو ایک وعدہ تک جو ٹھہر چکا ہے [۱۷] کہنے لگے تم تو یہی آدمی ہو ہم جیسے تم چاہتے ہو کہ روک دو ہم کو ان چیزوں سے جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے سو لاؤ کوئی سند کھلی ہوئی [۱۸] ﴿10﴾

    ان کو کہا ان کے رسولوں نے ہم تو یہی آدمی ہیں جیسےتم لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں جس پر چاہے [۱۹] اور ہمارا کام نہیں کہ لے آئیں تمہارے پاس سند مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ پر بھروسہ چاہئے ایمان والوں کو [۲۰] ﴿11﴾

    اور ہم کو کیا ہوا کہ بھروسہ نہ کریں اللہ پر اور وہ سمجھا چکا ہم کو ہماری راہیں [۲۱] اور ہم صبر کریں گے ایذا پر جو تم ہم کو دیتے ہو اور اللہ پر بھروسہ چاہئے بھروسے والوں کو [۲۲] ﴿12﴾

    اور کہا کافروں نے اپنے رسولوں کو ہم نکال دیں گے تم کو اپنی زمین سے یا لوٹ آؤ ہمارے دین میں [۲۳] تب حکم بھیجا انکو ان کے رب نے ہم غارت کریں گے ان ظالموں کو ﴿13﴾

    اور آباد کریں گے تم کو اس زمین میں ان کے پیچھے [۲۴] یہ ملتا ہے اس کو جو ڈرتا ہے کھڑے ہونے سے میرے سامنے اور ڈرتا ہے میرے عذاب کے وعدہ سے [۲۵] ﴿14﴾

    اور فیصلہ (فتح) لگے ماننے پیغمبر [۲۶] اور نامراد ہو ا ہر ایک سرکش ضدی (ضد کرنے والا) [۲۷] ﴿15﴾

    پیچھے اس کے دوزخ ہے اور پلائیں گے اس کو پانی پیپ کا [۲۸] ﴿16﴾

    گھونٹ گھونٹ پیتا ہے اسکو اور گلے سے نہیں اتار سکتا [۲۹] اور چلی آتی ہے اس پر موت ہر طرف (جگہ) سے اور وہ نہیں مرتا اور اس کے پیچھے عذاب ہے سخت [۳۰] ﴿17﴾

    حال ان لوگوں کا جو منکر ہوئے اپنے رب سے انکے عمل ہیں جیسے وہ راکھ کہ زور کی چلے اس پر ہوا آندھی کے دن کچھ ان کے ہاتھ میں نہ ہو گا اپنی کمائی میں سے یہی ہے بہک کر دور جا پڑنا [۳۱] ﴿18﴾

    تو نے کیا نہیں دیکھا کہ اللہ نے بنائے آسمان اور زمین جیسی چاہئے اگر چاہے تم کو لیجائے اور لائے کوئی پیدائش (مخلوق) نئی ﴿19﴾

    اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں [۳۲] ﴿20﴾

    سامنے کھڑے ہوں گے اللہ کے سارے [۳۳] پھر کہیں گے کمزور بڑائی والوں کو ہم تو تمہارے تابع تھے سو کیا بچاؤ گے ہم کو اللہ کے کسی عذاب سے کچھ[۳۴] وہ کہیں گے اگر ہدایت (راہ پر لانا) کرتا ہم کو اللہ تو البتہ ہم تم کو ہدایت (راہ پر لاتے) کرتے اب برابر ہے ہمارےحق میں ہم بے قراری کریں یا صبر کریں ہم کو نہیں خلاصی [۳۵] ﴿21﴾

    اور بولا شیطان جب فیصل ہو چکا سب کام بیشک اللہ نے تم کو دیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر (سو) جھوٹا کیا اور میری تم پر کچھ حکومت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے بلایا تم کو پھر تم نے مان لیا میری بات کو سو الزام نہ دو مجھ کو اور الزام دو اپنے آپ کو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچوں نہ تم میری فریاد کو پہنچو میں منکر ہوں (مجھ کو قبول نہیں) جو تم نے مجھ کو شریک بنایا تھا اس سے پہلے البتہ جو ظالم ہیں انکے لئے ہے عذاب دردناک [۳۶] ﴿22﴾

    اور داخل کئے گئے جو لوگ ایمان لائے تھے اور کام کئے تھے نیک باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں (رہا کریں انہی میں) ان میں اپنے رب کے حکم سے [۳۷] انکی ملاقات ہے وہاں سلام [۳۸] ﴿23﴾

    تو نے نہ دیکھا کیسی بیان کی اللہ نے ایک مثال [۳۹] بات ستھری [۴۰] جیسے ایک درخت ستھرا [۴۱] اسکی جڑ مضبوط ہے اور ٹہنے (شاخیں) ہیں آسمان میں [۴۲] ﴿24﴾

    لاتا ہے پھل اپنا ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے [۴۳] اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ فکر کریں (سوچیں) ﴿25﴾

    اور مثال گندی بات کی [۴۴] جیسے درخت گندا [۴۵] اکھاڑ لیا (پھینکا) اسکو زمین کے اوپر سے کچھ نہیں اسکو ٹھہراؤ (جماؤ) [۴۶] ﴿26﴾

    مضبوط کرتا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں [۴۷] اور بچلا (راہ بھلا دیتا ہے) دیتا ہے اللہ بے انصافوں کو [۴۸] اور کرتا ہے اللہ جو چاہے [۴۹] ﴿27﴾

    تو نے نہ دیکھا انکو جنہوں نے بدلہ کیا اللہ کے احسان کا ناشکری اور اتارا اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں [۵۰] ﴿28﴾

    جو دوزخ ہے داخل ہوں گے اس میں اور وہ برا ٹھکانہ ہے ﴿29﴾

    اور ٹھہرائے اللہ کے لئے مقابل کہ بہکائیں لوگوں کو اس کی راہ سے [۵۱] تو کہہ مزا اڑا لو پھر تو کو لوٹنا ہے طرف آگ کی [۵۲] ﴿30﴾

    کہدے میرے بندوں کو جو ایمان لائے ہیں قائم رکھیں نماز اور خرچ کریں ہماری دی ہوئی روزی میں سے پوشیدہ اور ظاہر (چھپے اور کھلے) [۵۳] پہلے اس سے کہ آئے وہ دن جس میں نہ سودا (خرید و فروخت) ہے نہ دوستی [۵۴] ﴿31﴾

    اللہ وہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتارا آسمان سے پانی [۵۵] پھر اس سے نکالی روزی تمہاری میوے [۵۶] اور کہنے میں کیا تمہارے کشتی کو (کام میں دیں تمہارے کشتیاں کہ چلیں) کہ چلے دریا میں اسکے حکم سے [۵۷] اور کام میں لگایا (دیں) تمہارے ندیوں (ندیاں) کو ﴿32﴾

    اور کام میں لگا دیا تمہارے سورج اور چاند کو ایک دستور پر برابر اور کام میں لگا دیا تمہارے رات اور دن کو [۵۸] ﴿33﴾

    اور دیا تم کو ہر چیز میں سےجو تم نے مانگی [۵۹] اور اگر گنو احسان اللہ کے نہ پورے کر سکو [۶۰] بیشک آدمی بڑا بے انصاف ہے ناشکر [۶۱] ﴿34﴾

    اور جس وقت کہا ابراہیم نے [۶۲] اے رب کر دے اس شہر کو امن والا اور دور کر مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم پوجیں مورتوں کو [۶۳] ﴿35﴾

    اے رب انہوں نے گمراہ کیا (گمراہی میں ڈالا) بہت لوگوں کو [۶۴] سو جس نے پیروی کی میری (جو کوئی میرے رستہ پر چلا) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہنا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے [۶۵] ﴿36﴾

    اے رب میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو میدان میں کہ جہاں کھیتی نہیں تیرے محترم (حرمت والے) گھر کے پاس اے رب ہمارے تاکہ قائم رکھیں نماز کو سو رکھ بعض لوگوں کے دل کہ مائل (جھکتے رہیں ) ہوں ان کی طرف اور روزی دے انکو میووں سے شاید وہ شکر کریں [۶۶] ﴿37﴾

    اے رب ہمارے تو تو جانتا ہے جو کچھ ہم کرتے ہیں چھپا کر اور جو کچھ کرتے ہیں دکھا کر (کھول کر) اور مخفی نہیں اللہ پر کوئی چیز زمین میں نہ آسمان میں [۶۷] ﴿38﴾

    شکر ہے اللہ کا جس نے بخشا مجھ کو اتنی بڑی عمر میں اسمٰعیل اور اسحٰق بیشک میرا رب سنتا ہے دعا کو [۶۸] ﴿39﴾

    اے رب میرے کر مجھ کو کہ قائم رکھوں نماز اور میری اولاد میں سے بھی اے رب میرے [۶۹] اور قبول کر میری دعا [۷۰] ﴿40﴾

    اے ہمارے رب بخش مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور سب ایمان والوں کو جس دن قائم ہو حساب [۷۱] ﴿41﴾

    اور ہرگز مت خیال کر کہ اللہ بیخبر ہے ان کاموں سے جو کرتے ہیں بے انصاف [۷۲] ان کو تو ڈھیل دے رکھی ہے (چھوڑ رکھا ہے) اس دن کے لئے کہ پتھرا جائیں گی (کھلی رہ جائیں گی) آنکھیں [۷۳] ﴿42﴾

    دوڑتے ہوں گے اوپر اٹھائے اپنے سر پھر کر نہیں آئیں گی انکی طرف انکی آنکھیں اور دل انکے اڑ گئے ہوں گے [۷۴] ﴿43﴾

    اور ڈرا دے لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا ان پر عذاب [۷۵] تب کہیں گے ظالم اے رب ہمارے مہلت دے ہم کو تھوڑی مدت تک کہ ہم قبول کر لیں تیرے بلانے کو اور پیروی کر لیں رسولوں کی [۷۶] کیا تم پہلے قسم نہ کھاتے تھے کہ تم کو نہیں دنیا سے ٹلنا (کچھ زوال) [۷۷] ﴿44﴾

    اور آباد تھے تم بستیوں میں انہی لوگوں کی جنہوں نے ظلم کیا اپنی جان پر اور کھل چکا تھا تم کو کہ کیسا کیا ہم نے ان سے اور بتلائے ہم نے تم کو سب قصے [۷۸] ﴿45﴾

    اور یہ بنا چکے ہیں اپنا داؤ اور اللہ کے آگے ہے ان کا داؤ [۷۹] اور نہ ہو گا ان کا داؤ کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ [۸۰] ﴿46﴾

    سو خیال مت کر کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے [۸۱] بیشک اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا [۸۲] ﴿47﴾

    جس دن بدلی جائے اس زمین سے اور زمین اور بدلے جائیں آسمان اور لوگ نکل کھڑے ہوں سامنے اللہ اکیلے زبردست کے [۸۳] ﴿48﴾

    اور دیکھے تو گنہگاروں کو اس دن باہم جکڑے ہوئے زنجیروں میں [۸۴] ﴿49﴾

    کرتے ان کے ہیں گندھک کے [۸۵] اور ڈھانکے لیتی ہے انکے منہ کو آگ [۸۶] ﴿50﴾

    تاکہ بدلہ دے اللہ ہر ایک جی کو اس کی کمائی کا بیشک اللہ جلد کرنے والا ہے حساب [۸۷] ﴿51﴾

    یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو اور تاکہ چونک جائیں اس سے اور تاکہ جان لیں کہ معبود وہی ہے ایک ہے اور تاکہ سوچ لیں عقل والے [۸۸] ﴿52﴾

    Surah 15
    الحجر

    یہ آیتیں ہیں کتاب کی [۱] اور واضح قراآن کی [۲] ﴿1﴾

    کسی وقت آرزو کریں گے یہ لوگ جو منکر ہیں کیا اچھا ہوتا جو ہوتے مسلمان [۳] ﴿2﴾

    چھوڑ دے انکو کھالیں اور برت لیں (فائدہ اٹھا لیں) اور امید میں (پر بھولے) لگے رہیں سو آئندہ معلوم کر لیں گے [۴] ﴿3﴾

    اور کوئی بستی ہم نے غارت نہیں کی مگر اس کا وقت لکھا ہوا تھا مقرر [۵] ﴿4﴾

    نہ سبقت کرتا ہے کوئی فرقہ اپنے وقت مقرر سے اور نہ پیچھے رہتا ہے [۶] ﴿5﴾

    اور لوگ کہتے ہیں اے وہ شخص کہ تجھ پر اترا ہے قرآن (نصیحت) تو بیشک دیوانہ ہے [۷] ﴿6﴾

    کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس فرشتوں کو اگر تو سچا ہے [۸] ﴿7﴾

    ہم نہیں اتارتے فرشتوں کو مگر کام پورا (ٹھیک) کر کے اور اس وقت نہ ملے گی ان کو مہلت (ڈھیل) [۹] ﴿8﴾

    ہم نے آپ اتاری ہے یہ نصیحت اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں [۱۰] ﴿9﴾

    اور ہم بھیج چکے ہیں رسول تجھ سے پہلے اگلے فرقوں میں ﴿10﴾

    اور نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول مگر کرتے رہے ہیں اس سے ہنسی [۱۱] ﴿11﴾

    اسی طرح بٹھا دیتے ہیں ہم اسکو دل میں گنہگاروں کے [۱۲] ﴿12﴾

    یقین نہ لائیں گے اس پر اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی [۱۳] ﴿13﴾

    اور اگر ہم کھول دیں ان پر دروازہ آسمان سے اور سارے دن اس میں چڑھتے رہیں ﴿14﴾

    توبھی یہی کہیں گے کہ باندھ دیا ہے ہماری نگاہ کو نہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو ہوا ہے [۱۴] ﴿15﴾

    اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج [۱۵] اور رونق دی اسکو دیکھنے والوں کی نظر میں [۱۶] ﴿16﴾

    اور محفوظ رکھا ہم نے اسکو ہر شیطان مردود سے ﴿17﴾

    مگر جو چوری سے سن بھاگا سو اسکے پیچھے پڑا انگارہ چمکتا ہوا [۱۷] ﴿18﴾

    اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور رکھ دیے اس پر بوجھ (پہاڑ) اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے ﴿19﴾

    اور بنا دیے تمہارے واسطے اس میں معیشت کے اسباب اور وہ چیزیں جنکو تم روزی نہیں دیتے [۱۸] ﴿20﴾

    اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں اور اتارتے ہیں ہم اندازہ معین پر (ٹھہرے ہوئے اندازہ پر) [۱۹] ﴿21﴾

    اور چلائیں ہم نے ہوائیں رس بھری (بوجھل کرنے والی ابر کی) پھر اتارا ہم نے آسمان سے پانی پھر تم کو وہ پلایا [۲۰] اور تمہارے پاس نہیں اس کا خزانہ [۲۱] ﴿22﴾

    اور ہم ہی ہیں جلانے والے اور مارنے والے اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے [۲۲] ﴿23﴾

    اور ہم نے جان رکھا ہے آگے بڑھنے والوں کو تم میں سے اور جان رکھا ہے پیچھے رہنے والوں کو [۲۳] ﴿24﴾

    اور تیرا رب وہی اکٹھا کر لائے گا انکو بیشک وہی ہے حکمتوں والا خبردار [۲۴] ﴿25﴾

    اور بنایا ہم نے آدمی کو کھنکھناتے (بجنے والی مٹی سے) سنے (جو بنی ہے سڑے ہوئے گارے سے) ہوئے گارے سے[۲۵] ﴿26﴾

    اور جان (جنوں کو) بنایا ہم نے اس سے پہلے لو کی آگ سے [۲۶] ﴿27﴾

    اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناؤں گا ایک بشر کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے ﴿28﴾

    پھر جب ٹھیک کروں اسکو اور پھونک دوں اس میں اپنی جان سے تو گر پڑیو اسکے آگے سجدہ کرتے ہوئے [۲۷] ﴿29﴾

    تب سجدہ کیا ان فرشتوں نے سب نے مل کر ﴿30﴾

    مگر ابلیس نے نہ مانا کہ ساتھ ہو سجدہ کرنے والوں کے ﴿31﴾

    فرمایا اے ابلیس کیا ہوا تجھ کو کہ ساتھ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں کے ﴿32﴾

    بولا میں وہ نہیں کہ سجدہ کروں ایک بشر کو جسکو تو نے بنایا کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے ﴿33﴾

    فرمایا تو تو نکل یہاں سے [۲۸] تجھ پر مار ہے [۲۹] ﴿34﴾

    اور تجھ پر پھٹکار ہے اس دن تک کہ انصاف ہو [۳۰] ﴿35﴾

    بولا اے رب تو مجھ کو ڈھیل دے اس دن تک کہ مردے زندہ ہوں ﴿36﴾

    فرمایا تو تجھ کو ڈھیل دی ﴿37﴾

    اسی مقرر وقت کے دن تک [۳۱] ﴿38﴾

    بولا اے رب جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھو دیا میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں اور راہ سےکھو دوں گا ان سب کو ﴿39﴾

    مگر جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں [۳۲] ﴿40﴾

    فرمایا یہ راہ ہے مجھ تک سیدھی [۳۳] ﴿41﴾

    جو میرے بندے ہیں تیرا ان پر کچھ زور نہیں مگر جو تیری راہ چلا بہکے ہوؤں میں [۳۴] ﴿42﴾

    اور دوزخ پر وعدہ ہے ان سب کا [۳۵] ﴿43﴾

    اسکے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کے واسطے ان میں سے ایک فرقہ ہے بانٹا ہوا [۳۶] ﴿44﴾

    پرہیزگار ہیں باغوں میں اور چشموں میں [۳۷] ﴿45﴾

    کہیں گے انکو جاؤ ان میں سلامتی سے خاطر جمع سے (بے کھٹکے) [۳۸] ﴿46﴾

    اور نکال ڈالی ہم نے جو انکے جیوں میں تھی خفگی بھائی ہو گئے [۳۹] تختوں پر بیٹھے آمنے سامنے [۴۰] ﴿47﴾

    نہ پہنچے گی انکو وہاں کچھ تکلیف اور نہ انکو وہاں سے کوئی نکالے [۴۱] ﴿48﴾

    خبر سنا دے میرے بندوں کو کہ میں ہوں اصل بخشنے والا مہربان ﴿49﴾

    اور یہ بھی کہ میرا عذاب وہی عذاب دردناک ہے [۴۲] ﴿50﴾

    اور حال سنا دے انکو ابراہیم کے مہمانوں کا [۴۳] ﴿51﴾

    جب چلے آئے اسکے گھر میں اور بولے (کیا انہوں نے) سلام وہ بولا ہم کو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے [۴۴] ﴿52﴾

    بولے ڈر مت ہم تجھ کو خوشخبری سناتے ہیں ایک ہوشیار لڑکے کی [۴۵] ﴿53﴾

    بولا کیا خوشخبری سناتے ہو مجھ کو جب پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا اب کاہے پر خوشخبری سناتے ہو [۴۶] ﴿54﴾

    بولے ہم نے تجھ کو خوشخبری سنائی سچی (پکی) سو مت ہو تو نا امیدوں میں ﴿55﴾

    بولا اور کون آس توڑے اپنے رب کی رحمت سے مگر (وہی) جو گمراہ ہیں [۴۷] ﴿56﴾

    بولا پھر کیا مہم ہے تمہاری اے اللہ کے بھیجے ہوؤ [۴۸] ﴿57﴾

    بولے ہم بھیجے ہوئے آئے ہیں ایک قوم گنہگار پر ﴿58﴾

    مگر لوط کے گھر والے ہم انکو بچا لیں گے سب کو ﴿59﴾

    مگر ایک اسکی عورت ہم نے ٹھہرا لیا وہ ہے رہ جانے والوں میں [۴۹] ﴿60﴾

    پھر جب پہنچے لوط کے گھر وہ بھیجے ہوئے ﴿61﴾

    بولا تم لوگ ہو اوپرے (جن سے کھٹکا ہوتا ہے) [۵۰] ﴿62﴾

    بولے نہیں پر ہم لیکر آئے ہیں تیرے پاس وہ چیز جس میں وہ جھگڑتے تھے [۵۱] ﴿63﴾

    اور ہم لائے ہیں تیرے پاس پکی بات اور ہم سچ کہتے ہیں [۵۲] ﴿64﴾

    سو لے نکل اپنے گھر کو کچھ رات رہے سے اور تو چل ان کے پیچھے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے کوئی [۵۳] اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم ہے [۵۴] ﴿65﴾

    اور مقرر کر دی ہم نے اس کو یہ بات کہ ان کی جڑ کٹے گی صبح ہوتے [۵۵] ﴿66﴾

    اور آئے شہر کے لوگ خوشیاں کرتے [۵۶] ﴿67﴾

    لوط نے کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھ کو رسوا مت کرو [۵۷] ﴿68﴾

    اور ڈرو اللہ سے اور میری آبرو مت کھوؤ [۵۸] ﴿69﴾

    بولے کیا ہم نے تجھ کو منع نہیں کیا جہان کی حمایت سے [۵۹] ﴿70﴾

    بولا یہ حاضر ہیں میری بیٹیاں اگر تم کو کرنا ہے [۶۰] ﴿71﴾

    قسم ہے تیری جان کی وہ اپنی مستی میں مدہوش (نشے) ہیں [۶۱] ﴿72﴾

    پھر آ پکڑا انکو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت (ہی) [۶۲] ﴿73﴾

    پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے اور برسائے ان پر پتھر کھنگر (کنکر) کے [۶۳] ﴿74﴾

    بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو [۶۴] ﴿75﴾

    اور وہ بستی واقع ہےسیدھی راہ پر [۶۵] ﴿76﴾

    البتہ اس میں نشانی ہے ایمان والوں کو (یقین کرنے والوں کو) [۶۶] ﴿77﴾

    اور تحقیق تھے بن کے رہنے والے گنہگار [۶۷] ﴿78﴾

    سو ہم نے بدلہ لیا ان سے اور یہ دونوں بستیاں واقع ہیں کھلے راستہ پر [۶۸] ﴿79﴾

    اور بیشک جھٹلایا حجر والوں نے (حجر کے رہنے والوں نے) رسولوں کو [۶۹] ﴿80﴾

    اور دیں ہم نے انکو اپنی نشانیاں سو رہے ان سے منہ پھیرتے (ان کو ٹالنے) [۷۰] ﴿81﴾

    اور تھے کہ تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ [۷۱] ﴿82﴾

    پھر پکڑا انکو چنگھاڑ نے صبح ہونے (ہوتے) کے وقت ﴿83﴾

    پھر کام نہ آیا انکے جو کچھ کمایا تھا [۷۲] ﴿84﴾

    اور ہم نے بنائے نہیں آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے بغیر حکمت (تدبیر) اور قیامت بیشک آنے والی ہے سو کنارہ کر اچھی طرح کنارہ [۷۳] ﴿85﴾

    تیرا رب جو ہے وہی ہے پیدا کرنے والا خبردار [۷۴] ﴿86﴾

    اور ہم نے دی ہیں تجھ کو سات آیتیں وظیفہ اور قرآن بڑے درجہ کا [۷۵] ﴿87﴾

    مت ڈال اپنی آنکھیں ان چیزوں پر جو برتنے کو دیں ہم نے ان میں سے کئ طرح کے لوگوں کو [۷۶] اور نہ غم کھا ان پر اور جھکا اپنے بازو ایمان والوں کے واسطے [۷۷] ﴿88﴾

    اور کہہ کہ میں وہی ہوں ڈرانے والا کھول کر [۷۸] ﴿89﴾

    جیسا ہم نے بھیجا ہے ان بانٹنے والوں پر ﴿90﴾

    جنہوں نے کیا ہے قرآن کو بوٹیاں [۷۹] ﴿91﴾

    سو قسم ہے تیرے رب کی ہم کو پوچھنا ہے ان سب سے ﴿92﴾

    جو کچھ وہ کرتے تھے [۸۰] ﴿93﴾

    سو سنا دے کھول کر جو تجھ کو حکم ہوا اور پروا نہ کر مشرکوں کی [۸۱] ﴿94﴾

    ہم بس (کافی) ہیں تیری طرف سے ٹھٹھے کرنے والوں کو [۸۲] ﴿95﴾

    جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے کی بندگی سو عنقریب معلوم کر لیں گے [۸۳] ﴿96﴾

    اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا جی رکتا ہے انکی باتوں سے ﴿97﴾

    سو تو یاد کر خوبیاں اپنے رب کی اور ہو سجدہ کرنے والوں سے [۸۴] ﴿98﴾

    اور بندگی کئے جا اپنے رب کی جب تک آئے تیرے پاس یقینی بات [۸۵] ﴿99﴾

    Surah 16
    النحل

    آ پہنچا حکم اللہ کا سو اس کی جلدی مت کرو [۱] وہ پاک ہے اور برتر ہے انکے شریک بتلانے سے [۲] ﴿1﴾

    اتارتا ہے فرشتوں کو [۳] بھید دے کر [۴] اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں [۵] کہ خبردار کر دو کہ کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو مجھ سے ڈرو [۶] ﴿2﴾

    بنائے آسمان اور زمین ٹھیک ٹھیک وہ برتر ہے انکے شریک بتلانے سے [۷] ﴿3﴾

    بنایا آدمی کو ایک بوند سے پھر جبھی ہو گیا جھگڑا کرنے والا بولنے والا [۸] ﴿4﴾

    اور چوپائے بنا دیے تمہارے واسطے ان میں جڑا دل ہے اور کتنے فائدے اور بعضوں کو کھاتے ہو [۹] ﴿5﴾

    اور تم کو ان سے عزت ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو [۱۰] ﴿6﴾

    اور اٹھا لے چلتے ہیں بوجھ تمہارے ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مار کر بیشک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے [۱۱] ﴿7﴾

    اور گھوڑے پیدا کئے اور خچریں اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے [۱۲] اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے [۱۳] ﴿8﴾

    اور اللہ تک پہنچتی ہے سیدھی راہ اور بعضی راہ کج بھی ہے [۱۴] اور اگر وہ چاہے تو سیدھی راہ دے تم سب کو [۱۵] ﴿9﴾

    وہی ہے جس نے اتارا آسمان سے تمہارے لئے پانی اس سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جس میں چراتے ہو [۱۶] ﴿10﴾

    اگاتا ہے تمہارے واسطے اس سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کو جو غور کرتے ہیں [۱۷] ﴿11﴾

    اور تمہارے کام میں لگا دیا رات اور دن اور سورج اور چاند کو اور ستارے کام میں لگے ہیں اسکے حکم سے [۱۸] اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو سمجھ رکھتے ہیں ﴿12﴾

    اور جو چیزیں پھیلائیں تمہارے واسطے زمین میں رنگ برنگ کی [۱۹] اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیں ﴿13﴾

    اور وہی ہے جس نے کام میں لگا دیا دریا کو کہ کھاؤ اس میں سے گوشت تازہ اور نکالو اس میں سے گہنا جو پہنتے ہو اور دیکھتا ہے تو کشتیوں کو چلتی ہیں پانی پھاڑ کر اسمیں (دریا میں) [۲۰] اور اس واسطے کہ تلاش کرو اسکے فضل سے اور تاکہ احسان مانو [۲۱] ﴿14﴾

    اور رکھ دیے زمین پر بوجھ (پہاڑ) کہ کبھی جھک پڑے تم کو لے کر [۲۲] اور بنائیں ندیاں [۲۳] اور راستے تا کہ تم راہ پاؤ [۲۴] ﴿15﴾

    اور بنائیں (رکھیں) علامتیں [۲۵] اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں [۲۶] ﴿16﴾

    بھلا جو پیدا کرے برابر ہے اس کے جو کچھ نہ پیدا کرے کیا تم سوچتے نہیں [۲۷] ﴿17﴾

    اور اگر شمار (گنو) کرو اللہ کی نعمتوں کو نہ پورا کر سکو گے ان کو [۲۸] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۹] ﴿18﴾

    اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو [۳۰] ﴿19﴾

    اور جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوائے کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں [۳۱] ﴿20﴾

    مردے ہیں جن میں جان نہیں [۳۲] اور نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے [۳۳] ﴿21﴾

    معبود تمہارا معبود ہے اکیلا سو جن کو یقین نہیں آخرت کی زندگی کا ان کے دل نہیں مانتے اور وہ مغرور ہیں [۳۴] ﴿22﴾

    ٹھیک بات ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر (جتلاتے ہیں) کرتے ہیں بیشک وہ نہیں پسند کرتا غرور کرنے والوں کو [۳۵] ﴿23﴾

    اور جب کہے ان سےکہ کیا اتارا ہے تمہارے رب نے تو کہیں کہانیاں ہیں پہلوں کی [۳۶] ﴿24﴾

    تاکہ اٹھائیں بوجھ اپنے پورے دن قیامت کے اور کچھ بوجھ ان کے جن کو بہکاتے ہیں بلا تحقیق سنتا ہے برا بوجھ ہے جو اٹھاتے ہیں [۳۷] ﴿25﴾

    البتہ دغابازی کر چکے ہیں جو تھے ان سے پہلے (ان سے اگلے) پھر پہنچا حکم اللہ کا ان کی عمارت پر بنیادوں سے پھر گر پڑی ان پر چھت اوپر سے اور آیا ان پرعذاب جہاں سے ان کو خبر نہ تھی [۳۸] ﴿26﴾

    پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا ان کو اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن پر تم کو بڑی ضد تھی [۳۹] بولیں گے جن کو دی گئ تھی خبر بیشک رسوائی آج کے دن اور برائی منکروں پر ہے [۴۰] ﴿27﴾

    جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اور وہ برا کر رہے ہیں اپنے حق میں [۴۱] تب ظاہر کریں گے اطاعت کہ ہم تو کرتے نہ تھے کچھ برائی [۴۲] کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے تھے [۴۳] ﴿28﴾

    سو داخل ہو دروازوں میں دوزخ کے رہا کرو سدا اسی میں سو کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا ﴿29﴾

    اور کہا پرہیزگاروں کو کیا اتارا تمہارے رب نے بولے نیک بات جنہوں نے بھلائی کی اس دنیا میں انکو بھلائی ہے[۴۴] اور آخرت کا گھر بہتر ہے اور کیا خوب گھر ہے پرہیزگاروں کا [۴۵] ﴿30﴾

    باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ جائیں گے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ان کے واسطے وہاں ہے جو چاہیں [۴۶] ایسا بدلہ دے گا اللہ پرہیزگاروں کو [۴۷] ﴿31﴾

    جن کی جان قبض کرتے ہیں فرشتے اور وہ ستھری ہیں [۴۸] کہتےہیں فرشتے سلامتی تم پر جاؤ بہشت میں [۴۹] بدلہ ہے اس کا جو تم کرتے تھے [۵۰] ﴿32﴾

    کیا کافر اب اس کے منتظر ہیں کہ آئیں ان پر فرشتے یا پہنچے حکم تیرے رب کا [۵۱] اسی طرح کیا تھا ان سے اگلوں نے اور اللہ نے ظلم نہ کیا ان پر لیکن وہ خود اپنا برا کرتے رہے ﴿33﴾

    پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام اور الٹ پڑا ان پر جو ٹھٹھا کرتے تھے [۵۲] ﴿34﴾

    اور بولے شرک کرنے والے اگر چاہتا اللہ نہ پوجتے ہم اس کےسوا کسی چیز کو اور نہ ہمارے باپ اور نہ حرام ٹھہرا لیتے ہم بدون اسکے حکم کے کسی چیز کو [۵۳] اسی طرح کیا ان سے اگلوں نے سو رسولوں کے ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا صاف صاف [۵۴] ﴿35﴾

    اور ہم نے اٹھائے ہیں (بھیجے ہیں) ہر امت میں رسول [۵۵] کہ بندگی کرو اللہ کی اور بچو ہڑونگے سے (جھوٹے معبودوں سے) [۵۶] پھر کسی کو ان میں سے ہدایت کی (راہ سمجھائی) اللہ نے اور کسی پر ثابت ہوئی گمراہی سو سفر کرو (چلو پھرو زمین میں) ملکوں میں پھر دیکھو کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا ﴿36﴾

    اگر تو طمع کرے انکو راہ پر لانے کی تو اللہ راہ نہیں دیتا جن کو بچلاتا ہے اور کوئی نہیں ان کا مددگار [۵۷] ﴿37﴾

    اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی سخت قسمیں کہ نہ اٹھائے گا اللہ جو کوئی مر جائے [۵۸] کیوں نہیں (بیشک اٹھائے گا) وعدہ ہو چکا ہے اس پر پکا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے [۵۹] ﴿38﴾

    اٹھائے گا تاکہ ظاہر کر دے ان پر جس بات میں کہ جھگڑتے ہیں اور تاکہ معلوم کر لیں کافر کہ وہ جھوٹے تھے [۶۰] ﴿39﴾

    ہمارا کہنا کسی چیز کو جب ہم اس کو کرنا چاہیں یہی ہے کہ کہیں اس کو ہو جا تو وہ ہو جائے [۶۱] ﴿40﴾

    اور جنہوں نے گھر چھوڑا اللہ کے واسطے بعد اس کے کہ ظلم اٹھایا البتہ انکو ہم ٹھکانا دیں گے دنیا میں اچھا اور ثواب آخرت کا تو بہت بڑا ہے اگر ان کو معلوم ہوتا [۶۲] ﴿41﴾

    جو ثابت قدم رہے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا [۶۳] ﴿42﴾

    اور تجھ سے پہلے بھی ہم نے یہی مرد بھیجے تھے کہ حکم بھیجتے تھے ہم انکی طرف سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں [۶۴] ﴿43﴾

    بھیجا تھا انکو نشانیاں دے کر اور ورقے (اوراق) [۶۵] اور اتاری ہم نے تجھ پر یہ یاداشت کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری انکے واسطے [۶۶] تاکہ وہ غور (دھیان) کریں [۶۷] ﴿44﴾

    سو کیا نڈر ہو گئے وہ لوگ جو برے فریب (داؤ) کرتے ہیں اس سے کہ دھنسا دیوے اللہ ان کو زمین میں یا آ پہنچے ان پر عذاب جہاں سے خبر نہ رکھتے ہوں [۶۸] ﴿45﴾

    یا پکڑ لے ان کو چلتے پھرتے سو وہ نہیں ہیں عاجز کرنے والے [۶۹] ﴿46﴾

    یا پکڑ لے ان کو ڈرانے کے بعد (ڈرا کر) [۷۰] سو تمہارا رب بڑا نرم ہے مہربان [۷۱] ﴿47﴾

    کیا نہیں دیکھتے وہ جو کہ اللہ نے پیدا کی ہے کوئی چیز کہ ڈھلتے ہیں سایے ان کے داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے سجدہ کرتے ہوئے اللہ کو اور وہ عاجزی میں ہیں [۷۲] ﴿48﴾

    اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں سے اور فرشتے اور وہ تکبر نہیں کرتے [۷۳] ﴿49﴾

    ڈر رکھتے ہیں اپنے رب کا اپنے اوپر سے اور کرتے ہیں جو حکم پاتے ہیں [۷۴] ﴿50﴾

    اور کہا ہے اللہ نے مت پکڑو معبود دو وہ معبود ایک ہی ہے سو مجھ سے ڈرو [۷۵] ﴿51﴾

    اور اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اسی کی عبادت ہے (اسی کا انصاف) ہمیشہ [۷۶] سو کیا سوائے اللہ کے کسی سے ڈرتے ہو (خطرہ رکھتے ہو) ﴿52﴾

    اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمت سو اللہ کی طرف سے پھر جب پہنچتی ہے تم کو سختی تو اسی کی طرف چلاتے ہو (اسی سے فریاد کرتے ہو) [۷۷] ﴿53﴾

    پھر جب کھول دیتا ہے سختی تم سے اسی وقت ایک فرقہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ لگتا ہے شریک بتانے ﴿54﴾

    تاکہ منکر ہو جائیں اس چیز سے جو کہ ہم نے انکو دی ہے سو مزے اڑا لو آخر معلوم کر لو گے [۷۸] ﴿55﴾

    اور ٹھہراتے ہیں ان کے لئے جن کی خبر نہیں رکھتے (جن کو خبر نہیں) ایک حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے [۷۹] قسم اللہ کی تم سے پوچھنا ہے جو تم بہتان باندھتے ہو [۸۰] ﴿56﴾

    اور ٹھہراتے ہیں اللہ کے لئے بیٹیاں وہ اس سے پاک ہے (لائق نہیں) [۸۱] اور اپنے لئے جو دل چاہتا ہے [۸۲] ﴿57﴾

    اور جب خوشخبری ملے ان میں کسی کو بیٹی کی سارے دن رہے منہ اس کا سیاہ اور جی میں گھٹتا رہے [۸۳] ﴿58﴾

    چھپتا پھرے لوگوں سے مارےبرائی اس خوشخبری کے جو سنی [۸۴] اس کو رہنے دے ذلت قبول کر کے یا اس کو داب دے مٹی میں [۸۵] سنتا ہے برا فیصلہ کرتے ہیں [۸۶] ﴿59﴾

    جو نہیں مانتے آخرت کو ان کی بری مثال ہے اور اللہ کی مثال (شان) سب سے اوپر [۸۷] اور وہی ہے زبردست حکمت والا [۸۸] ﴿60﴾

    اور اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی بے انصافی پر نہ چھوڑے زمین پر ایک چلنے والا لیکن ڈھیل دیتا ہے ان کو ایک وقت موعود تک پھر جب آ پہنچے گا ان کا وعدہ نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے [۸۹] ﴿61﴾

    اور کرتے ہیں (ٹھہراتے ہیں) اللہ کے واسطے جس کو اپنا جی نہ چاہے [۹۰] اور بیان کرتی ہیں زبانیں انکی جھوٹ کہ انکے واسطے خوبی ہے [۹۱] آپ ثابت ہے (محقق ہو گیا)کہ انکے واسطے آگ ہے اور وہ بڑھائے جارہے ہیں [۹۲] ﴿62﴾

    قسم اللہ کی ہم نے رسول بھیجے مختلف فرقوں میں تجھ سے پہلے پھر اچھے کر کے دکھلائے انکو شیطان نے ان کے کام سو وہی رفیق ان کا ہے آج اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے [۹۳] ﴿63﴾

    اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں [۹۴] اور سیدھی راہ سجھانے کو اور واسطے بخشش ایمان لانے والوں کے (رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے) [۹۵] ﴿64﴾

    اور اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر اس سے زندہ کیا زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے [۹۶]اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سنتے ہیں [۹۷] ﴿65﴾

    اور تمہارے واسطے چوپاؤں میں سوچنے کی جگہ ہے پلاتے ہیں تم کو اس کے پیٹ کی چیزوں میں سےگوبر اور لہو کے بیچ میں سے (درمیان سے) دودھ ستھرا [۹۸] خوشگوار پینے والوں کے لئے [۹۹] ﴿66﴾

    اور میووں سے کھجور کے اور انگور کے بناتے ہو اس سے نشہ اور روزی خاصی [۱۰۰] اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے واسطے جو سمجھتے ہیں (سوچتے ہیں) [۱۰۱] ﴿67﴾

    اور حکم دیا تیرے رب نے شہد کی مکھی کو کہ بنا لے پہاڑوں میں گھر اور درختوں میں اور جہاں ٹٹیاں باندھتے ہیں [۱۰۲] ﴿68﴾

    پھر کھا ہر طرح کے میووں سے [۱۰۳] پھر چل راہوں میں (راستوں میں) اپنے رب کی صاف پڑے ہیں [۱۰۴] نکلتی ہے ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جسکے مختلف رنگ ہیں [۱۰۵] اس میں مرض اچھے ہوتے ہیں لوگوں کے [۱۰۶] اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو دھیان کرتے ہیں [۱۰۷] ﴿69﴾

    اور اللہ نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو موت دیتا ہے اور کوئی تم میں سے پہنچ جاتا ہے نکمی عمر کو کہ سمجھنے کے پیچھے اب کچھ نہ سمجھے اللہ خبردار ہے قدرت والا [۱۰۸] ﴿70﴾

    اور اللہ نے بڑائی دی تم میں ایک کو ایک پر روزی میں سو جن کو بڑائی دی وہ نہیں پہنچا دیتے اپنی روزی ان کو جن کے مالک ان کے ہاتھ ہیں کہ وہ سب اس میں برابر ہو جائیں کیا اللہ کی نعمت کے منکر ہیں [۱۰۹] ﴿71﴾

    اور اللہ نے پیدا کیں تمہارے واسطے تمہای ہی قسم سے عورتیں [۱۱۰] اور دیے تم کو تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے [۱۱۱] اور کھانے کو دیں تمکو ستھری چیزیں [۱۱۲] سو کیا جھوٹی باتیں مانتے ہیں اور اللہ کے فضل کو نہیں مانتے [۱۱۳] ﴿72﴾

    اور پوجتے ہیں اللہ کے سوائے ایسوں کو جو مختار نہیں انکی روزی کے آسمان اور زمین میں سے کچھ بھی [۱۱۴] اور نہ قدرت رکھتے ہیں [۱۱۵] ﴿73﴾

    سو مت چسپاں کرو (بٹھلاؤ) اللہ پر مثالیں [۱۱۶] بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے [۱۱۷] ﴿74﴾

    اللہ نے بتلائی ایک مثال ایک بندہ (غلام) پرایا مال نہیں قدرت رکھتا کسی چیز پر اور ایک جسکو ہم نے روزی دی اپنی طرف سے خاصی روزی سو وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے چھپا کر اور سب کے روبرو کہیں برابر ہوتے ہیں سب تعریف اللہ کو ہے پر بہت لوگ نہیں جانتے [۱۱۸] ﴿75﴾

    اور بتائی اللہ نے ایک دوسری مثال دو مرد ہیں ایک گونگا [۱۱۹] کچھ کام نہیں کر سکتا [۱۲۰] اور وہ بھاری ہے اپنے صاحب (مالک) پر جس طرف اسکو بھیجے نہ کر کے لائے کچھ بھلائی [۱۲۱] کہیں برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو حکم کرتا ہے انصاف سے اور ہے سیدھی راہ پر [۱۲۲] ﴿76﴾

    اور اللہ ہے کہ پاس ہیں بھید آسمانوں اور زمین کے [۱۲۳] اور قیامت کا کام تو ایسا ہے جسیے لپک نگاہ کی یا اس سے بھی قریب [۱۲۴] اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے [۱۲۵] ﴿77﴾

    اور اللہ نے تم کو نکالا تمہاری ماں کے پیٹ سے نہ جانتے تھے تم کسی چیز کو اور دیئے تم کو کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم احسان مانو [۱۲۶] ﴿78﴾

    کیا نہیں دیکھے اڑتے جانور حکم کے باندھے ہوئے آسمان کی ہوا میں کوئی نہیں تھام رہا ان کو سوائے اللہ کے [۱۲۷] اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں [۱۲۸] ﴿79﴾

    اور اللہ نے بنا دیئے تم کو تمہارے گھر بسنے کی جگہ [۱۲۹] اور بنا دیئے تم کو چوپاؤں کی کھال سے ڈیرے جو ہلکے رہتے ہیں تم پر جس دن سفر میں ہو اور جس دن گھر میں [۱۳۰] اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی ببریوں سے [۱۳۱] اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب اور استعمال کی چیزیں وقت مقرر تک [۱۳۲] ﴿80﴾

    اور اللہ نے بنا دیئے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے [۱۳۳] اور بنا دیں تمہارےواسطے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں [۱۳۴] اور بنا دیے تم کو کرتے جو بچاؤ ہیں گرمی میں [۱۳۵] اور کرتے جو بچاؤ ہیں لڑائی میں [۱۳۶] اسی طرح پورا کرتا ہے اپنا احسان تم پر تاکہ تم حکم مانو [۱۳۷] ﴿81﴾

    پھر اگر پھر جائیں تو تیرا کام تو یہی ہے کھول کر سنا دینا [۱۳۸] ﴿82﴾

    پہچانتے ہیں اللہ کا احسان پھر منکر ہو جاتے ہیں اور بہت ان میں ناشکر ہیں [۱۳۹] ﴿83﴾

    اور جس دن کھڑا کریں ہم ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا پھر حکم (اجازت) نہ ملے منکروں کو اور نہ ان سے توبہ لی جائے [۱۴۰] ﴿84﴾

    اور جب دیکھیں گے ظالم عذاب کو پھر ہلکا نہ ہو گا ان سے اور نہ ان کو ڈھیل ملے [۱۴۱] ﴿85﴾

    اور جب دیکھیں مشرک اپنے شریکوں کو بولیں اے رب یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم پکارتے تھے تیرے سوائے [۱۴۲] تب وہ ان پر ڈالیں گے بات کہ تم جھوٹے ہو [۱۴۳] ﴿86﴾

    اور آ پڑیں اللہ کے آگے اس دن عاجز ہو کر اور بھول جائیں (جائے گی ان سے) جو جھوٹ باندھتے تھے [۱۴۴] ﴿87﴾

    جو لوگ منکر ہوئے ہیں اور روکتے رہے ہیں اللہ کی راہ سے انکو ہم بڑھا دیں گے عذاب پر عذاب بدلہ اس کا جو شرارت کرتے تھے [۱۴۵] ﴿88﴾

    اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا ان پر انہی میں کا اور تجھ کو لائیں بتلانے کو ان لوگوں پر [۱۴۶] اور اتاری ہم نے تجھ پر کتاب کھلا بیان ہر چیز کا [۱۴۷] اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری حکم ماننے والوں کے لئے [۱۴۸] ﴿89﴾

    اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے (کو) دینے کا [۱۴۹] اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے [۱۵۰] تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو [۱۵۱] ﴿90﴾

    اور پورا کرو عہد اللہ کا جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکا کرنے کے بعد اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن اللہ جانتا ہے جو تم کرتےہو [۱۵۲] ﴿91﴾

    اور مت رہو جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کاتا ہوا محنت (مضبوط کرنے ) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے [۱۵۳] کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ ایک دوسرے میں (آپس میں) اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے [۱۵۴] یہ تو اللہ پر کھتا ہے تمکو اس سے [۱۵۵] اور آئندہ کھول دے گا اللہ تم کو قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑ رہے تھے [۱۵۶] ﴿92﴾

    اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی فرقہ کر دیتا ہے لیکن راہ بھلاتا ہے جس کو چاہے اور سمجھاتا ہے جس کو چاہے [۱۵۷] اور تم سے پوچھ ہو گی جو کام تم کرتے تھے [۱۵۸] ﴿93﴾

    اور نہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دھوکا [فریب] آپس میں کہ ڈگ نہ جائے کسی کا پاؤں جمنے کے پیچھے اور تم چکھو سزا اس بات پر کہ تم نے روکا اللہ کی راہ سے اور تم کو بڑا عذاب ہو [۱۵۹] ﴿94﴾

    اور نہ لو اللہ کے عہد پر مول (مال) تھوڑا سا بیشک جو اللہ کے یہاں ہے وہی بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم جانتے ہو [۱۶۰] ﴿95﴾

    جو تمہارے پاس ہے ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہو گا (سو رہنے والا ہے) [۱۶۱] اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو ان کا حق اچھے کاموں پر جو کرتے تھے [۱۶۲] ﴿96﴾

    جس نے کیا نیک کام مرد ہو یا عورت ہو اور وہ ایمان پر ہے تو اس کو ہم زندگی دیں گے ایک اچھی زندگی [۱۶۳] اور بدلے میں دیں گے ان کو حق ان کا بہتر کاموں پر جو کرتے تھے ﴿97﴾

    سو جب تو پڑھنے لگے قرآن تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے [۱۶۴] ﴿98﴾

    اس کا زور نہیں چلتا ان پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں [۱۶۵] ﴿99﴾

    اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اسکو شریک مانتے ہیں [۱۶۶] ﴿100﴾

    اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے تو کہتے ہیں تو تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں پر اکثروں کو ان میں خبر نہیں [۱۶۷] ﴿101﴾

    تو کہہ اس کو اتارا ہے پاک فرشتے نے تیرے رب کی طرف سے بلاشبہ [۱۶۸] تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو اور ہدایت اور خوشخبری مسلمانوں کے واسطے [۱۶۹] ﴿102﴾

    اور ہم کو خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اس کو تو سکھلاتا ہے ایک آدمی [۱۷۰] جس کی طرف تعریض کرتے ہیں اس کی زبان ہے عجمی اور یہ قرآن زبان عربی ہے صاف [۱۷۱] ﴿103﴾

    وہ لوگ جن کو اللہ کی باتوں پر یقین نہیں ان کو اللہ راہ نہیں دیتا اور ان کےلئے عذاب دردناک ہے [۱۷۲] ﴿104﴾

    جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو یقین نہیں اللہ کی باتوں پر اور وہی لوگ جھوٹے ہیں [۱۷۳] ﴿105﴾

    جو کوئی منکر ہوا اللہ سے یقین لانے کے پیچھے مگر وہ نہیں جس پر زبردستی کی گئ اور اس کا دل برقرار ہے ایمان پر [۱۷۴] و لیکن جو کوئی دل کھول کر منکر ہوا سو ان پر غضب ہے اللہ کا اور ان کو بڑا عذاب ہے ﴿106﴾

    یہ اس واسطے کہ انہوں نے عزیز رکھا دنیا کی زندگی کو آخرت سے اور اللہ راستہ نہیں دیتا منکر لوگوں کو [۱۷۵] ﴿107﴾

    یہ وہی ہیں کہ مہر کر دی اللہ نے ان کے دل پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اور یہی ہیں بے ہوش [۱۷۶] ﴿108﴾

    خود ظاہر ہے کہ آخرت میں یہی لوگ خراب ہیں [۱۷۷] ﴿109﴾

    پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب ان لوگوں پر کہ انہوں نے وطن چھوڑا ہے بعد اس کے مصیبت (بچلائے گئے) اٹھائی پھر جہاد کرتے رہے اور قائم رہے بیشک تیرا رب ان باتوں کے بعد بخشنے والا مہربان ہے [۱۷۸] ﴿110﴾

    جس دن آئے گا ہر جی جواب سوال کرتا اپنی طرف سے [۱۷۹] اور پورا ملے گا ہر کسی کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۱۸۰] ﴿111﴾

    اور بتلائی اللہ نے ایک مثال (مثل) ایک بستی تھی چین امن سے [۱۸۱] چلی آتی تھی اسکو روزی فراغت کی ہر جگہ سے [۱۸۲] پھر ناشکری کی اللہ کے احسانوں کی پھر چکھایا اس کو اللہ نے مزہ کہ ان کے تن کے کپڑے ہو گئے بھوک اور ڈر بدلہ اس کا جو وہ کرتے تھے [۱۸۳] ﴿112﴾

    اور ان کے پاس پہنچ چکا رسول انہی میں کا پھر اس کو جھٹلایا پھر آ پکڑا انکو عذاب نے اور وہ گنہگار تھے [۱۸۴] ﴿113﴾

    سو کھاؤ جو روزی دی تم کو اللہ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللہ کے احسان کا اگر تم اسی کو پوجتے ہو [۱۸۵] ﴿114﴾

    اللہ نے تو یہی حرام کیا ہےتم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی ناچار ہو جائے نہ زور کرتا ہو نہ زیادتی تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۸۶] ﴿115﴾

    اور مت کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر بہتان باندھو [۱۸۷] بیشک جو بہتان باندھتے ہیں اللہ پر ان کا بھلا نہ ہو گا ﴿116﴾

    تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں اور ان کےواسطے عذاب دردناک ہے [۱۸۸] ﴿117﴾

    اور جو لوگ یہودی ہیں ان پر ہم نے حرام کیا تھا جو تجھ کو پہلے سنا چکے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا پر وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے [۱۸۹] ﴿118﴾

    پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب ان لوگوں پر جنہوں نے برائی کی نادانی سے [۱۹۰] پھر توبہ کی اس کے پیچھے اور سنوارا اپنے کام کو سو تیرا رب ان باتوں کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے [۱۹۱] ﴿119﴾

    اصل میں تو ابراہیم تھا راہ ڈالنے والا فرمانبردار اللہ کا سب سے ایک طرف ہو کر اور نہ تھا شرک والوں میں [۱۹۲] ﴿120﴾

    حق ماننے والا اس کے احسانوں کا [۱۹۳] اس کو اللہ نے چن لیا اور چلایا سیدھی راہ پر [۱۹۴] ﴿121﴾

    اور دی ہم نے دنیا میں اس کو خوبی [۱۹۵] اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں ہے [۱۹۶] ﴿122﴾

    پھر حکم بھیجا ہم نے تجھ کو کہ چل دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا اور نہ تھا وہ شرک والوں میں [۱۹۷] ﴿123﴾

    ہفتہ کا دن جو مقرر کیا سو انہی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے اور تیرا رب حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے [۱۹۸] ﴿124﴾

    بلا اپنے رب کی راہ پر پکی باتیں سمجھا کر اور نصیحت سنا کر بھلی طرح اور الزام دے انکو جس طرح بہتر ہو [۱۹۹] تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے ان کو جو بھول گیا اس کی راہ اور وہی بہتر جانتا ہے انکو جو راہ پر ہیں [۲۰۰] ﴿125﴾

    اور اگر بدلہ لو تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کو تم کو تکلیف پہنچائی جائے (پہنچے) اور اگر صبر کرو تو یہ بہتر ہے صبر کرنے والوں کو [۲۰۱] ﴿126﴾

    اور تو صبر کر اور تجھ سے صبر ہو سکے اللہ ہی کی مدد سے اور ان پر غم نہ کھا اور تنگ مت ہو ان کے فریب سے [۲۰۲] ﴿127﴾

    اللہ ساتھ ہے ان کے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں [۲۰۳] ﴿128﴾

    Surah 17
    بنی اسرائیل

    پاک ذات ہے [۱] جو لے گیا اپنے بندہ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک [۲] جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے تاکہ دکھلائیں اُسکو کچھ اپنی قدرت کے نمونے [۳] وہی ہے سننے والا دیکھنے والا [۴] ﴿1﴾

    اور دی ہم نے موسٰی کو کتاب اور کیا اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے [۵] کہ نہ ٹھہراؤ میرےسوا کسی کو کارساز [۶] ﴿2﴾

    تم جو اولاد ہو ان لوگوں کی جن کو چڑھایا ہم نے نوح کےساتھ بیشک وہ تھا بندہ حق ماننے والا [۷] ﴿3﴾

    اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی [۸] ﴿4﴾

    پھر جب آیا پہلا وعدہ بھیجے ہم نے تم پر اپنے بندے [۹] سخت لڑائی والے پھر پھیل پڑے شہروں کے بیچ اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا [۱۰] ﴿5﴾

    پھر ہم نے پھیر دی تمہاری باری [۱۱] ان پر اور قوت دی تم کو مال سے اور بیٹوں سے اور اس سے زیادہ کر دیا تمہارا لشکر ﴿6﴾

    اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا اور اگر برائی کی تو اپنے لئے [۱۲] پھر جب پہنچا وعدہ دوسرا بھیجے اور بندے کہ اداس کر دیں تمہارے منہ اور گھس جائیں مسجد میں جیسےگھس گئے تھے پہلی بار اور خراب کر دیں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی [۱۳] ﴿7﴾

    بعید نہیں تمہارے رب سے کہ رحم کرے تم پر اور اگر پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے اور کیا ہے ہم نے دوزخ کو کافروں کا قید خانہ [۱۴] ﴿8﴾

    یہ قرآن بتلاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے کہ ان کے لئے ہے ثواب بڑا [۱۵] ﴿9﴾

    اور یہ کہ جو نہیں مانتے آخرت کو ان کے لئے تیار کیا ہے ہم نے عذاب دردناک ﴿10﴾

    اور مانگتا ہے آدمی برائی جیسے مانگتا ہے بھلائی اور ہے انسان جلد باز [۱۶] ﴿11﴾

    اور ہم نے بنائے رات اور دن دو نمونے [۱۷] پھر مٹا دیا رات کا نمونہ [۱۸] اور بنا دیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا [۱۹] اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب [۲۰] اور سب چیز سنائی ہم نے کھول کر [۲۱] ﴿12﴾

    اور جو آدمی ہے لگا دی ہے ہم نے اس کی بری قسمت اس کی گردن سے اور نکال دکھائیں گے اس کو قیامت کے دن ایک کتاب کہ دیکھے گا اسکو کھلی ہوئی [۲۲] ﴿13﴾

    پڑھ لے کتاب اپنی (لکھا اپنا) تو ہی بس (کافی) ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا [۲۳] ﴿14﴾

    جو کوئی راہ پر آیا تو آیا اپنے ہی بھلے کو اور جو کوئی بہکا رہا تو بہکا رہا اپنے ہی برے کو اور کسی پر نہیں پڑتا بوجھ دوسرے کا [۲۴] اور ہم نہیں ڈالتے بلا جب تک نہ بھیجیں کوئی رسول [۲۵] ﴿15﴾

    اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو حکم بھیج دیا اس کےعیش کرنے والوں کو پھر انہوں نے نافرمانی کی اس میں تب ثابت ہو گئ ان پر بات پھر اکھاڑ مارا ہم نے انکو اٹھا کر [۲۶] ﴿16﴾

    اور بہت غارت کر دیئے ہم نے قرن نوح کے پیچھے [۲۷] اور کافی ہےتیرا رب اپنے بندوں کے گناہ جاننے والا دیکھنے والا [۲۸] ﴿17﴾

    جو کوئی چاہتا ہو پہلا گھر جلد دے دیں ہم اس کو اسی میں جتنا چاہیں جس کو چاہیں پھر ٹھہرایا ہم نے اس کے واسطے دوزخ داخل ہو گا ا سمیں اپنی برائی سنکر دھکیلا جا کر [۱۹] ﴿18﴾

    اور جس نے چاہا پچھلا گھر اور دوڑ کی اس کے واسطے جو اس کی دوڑ ہے اور وہ یقین پر ہے سو ایسوں کی دوڑ ٹھکانے لگی ہے [۳۰] ﴿19﴾

    ہر ایک کو ہم پہنچائے جاتے ہیں۔ اِنکو اور اُن کو تیرے رب کی بخشش میں سے اور تیرے رب کی بخشش کسی نے نہیں روک لی [۳۱] ﴿20﴾

    دیکھ کیا بڑھا دیا ہم نے ایک کو ایک سے اور پچھلے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت [۳۲] ﴿21﴾

    مت ٹھہرا للہ کے ساتھ دوسرا حاکم پھر بیٹھ رہے گا تو الزام کھا کر بےکس ہو کر [۳۳] ﴿22﴾

    اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو [۳۴] اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں سے یا دونوں تو نہ کہہ ان کو ہوں اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی [۳۵] ﴿23﴾

    اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کر کر نیازمندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم کر جیسا پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا [۳۶] ﴿24﴾

    تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے جی میں ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشتا ہے [۳۷] ﴿25﴾

    اور دے قرابت والے کو اس کا حق اور محتاج کو اور مسافر کو اور مت اڑا بیجا (فضول) [۳۸] ﴿26﴾

    بےشک اڑانے والے بھائی ہیں شیطانوں کے اور شیطان ہے اپنے رب کا ناشکر [۳۹] ﴿27﴾

    اور اگر کبھی تغافل کرے تو ان کی طرف سے انتظار میں اپنے رب کی مہربانی کے جسکی تجھ کو توقع ہے تو کہہ دے انکو بات نرمی کی [۴۰] ﴿28﴾

    اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اس کو بالکل کھول دینا پھر تو بیٹھ رہے الزام کھایا ہارا ہوا [۴۱] ﴿29﴾

    تیرا رب کھول دیتا ہے روزی جسکے واسطے چاہے اور تنگ بھی وہی کرتا ہے [۴۲] وہی ہے اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا [۴۳] ﴿30﴾

    اور نہ مار ڈالو اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے ہم روزی دیتےہیں انکو اور تم کو [۴۴] بیشک اُن کا مارنا بڑی خطاء ہے [۴۵] ﴿31﴾

    اور پاس نہ جاؤ زنا کے [۴۶] وہ ہے بے حیائی اور بری راہ ہے [۴۷] ﴿32﴾

    اور نہ مارو اس جان کو جس کو منع کر دیا اللہ نے مگر حق پر [۴۸] اور جو مارا گیا ظلم سے تو دیا ہم نے اسکے وارث کو زور سو حد سے نہ نکل جائے قتل کرنے میں [۴۹] اسکو مدد ملتی ہے [۵۰] ﴿33﴾

    اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر جس طرح کہ بہتر ہو جب تک کہ وہ پہنچے اپنی جوانی کو [۵۱] اور پورا کرو عہد کو بیشک عہد کی پوچھ ہو گی [۵۲] ﴿34﴾

    اور پورا بھر دو ماپ جب ماپ کر دینے لگو اور تولو سیدھی ترازو سے [۵۳] یہ بہتر ہے اور اچھا ہے اس کا انجام [۵۴] ﴿35﴾

    اور نہ پیچھے پڑ جس بات کی خبر نہیں تجھ کو بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہو گی [۵۵] ﴿36﴾

    اور مت چل زمین پر اتراتا ہوا تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ ہنچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کر [۵۶] ﴿37﴾

    یہ جتنی باتیں ہیں ان سب میں بری چیز ہے تیرے رب کی بیزاری [۵۷] ﴿38﴾

    یہ ہے ان باتوں میں سے جو وحی بھیجی تیرے رب نے تیری طرف عقل کے کاموں سے [۵۸] اور نہ ٹھہرہا اللہ کے سوائے کسی اور کی بندگی پھر پڑے تو دوزخ میں الزام کھا کر دھکیلا جا کر [۵۹] ﴿39﴾

    کیا تم کو چن کر دیدئے تمہارے رب نے بیٹے اور اپنے لئے کر لیا فرشتوں کو بیٹیاں تم کہتے ہو بھاری بات [۶۰] ﴿40﴾

    اور پھیر پھیر کر سمجھایا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ سوچیں اور ان کو زیاد ہوتا ہے وہی بدکنا [۶۱] ﴿41﴾

    کہہ اگر ہوتے اس کے ساتھ اور حاکم جیسا یہ بتلاتے ہیں [۶۲] تو نکالتے صاحب عرش کی طرف راہ [۶۳] ﴿42﴾

    وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کی باتوں سے بے نہایت ﴿43﴾

    اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور کوئی چیز نہیں جو نہیں پڑھتی خوبیاں اس کی لیکن تم نہیں سمجھتے ان کا پڑھنا [۶۴] بیشک وہ ہے تحمل والا بخشنے والا [۶۵] ﴿44﴾

    اور جب تو پڑھتا ہے قرآن کر دیتے ہیں ہم بیچ میں تیرے اور ان لوگوں کے جو نہیں مانتے آخرت کو ایک پردہ چھپا ہوا [۶۶] ﴿45﴾

    اور ہم رکھتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ کہ اس کو نہ سمجھیں [۶۷] اور ان کے کانوں میں بوجھ [۶۸] اور جب ذکر کرتا ہے تو قرآن میں اپنے رب کا اکیلا کر کر بھاگتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر [۶۹] ﴿46﴾

    ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے وہ سنتے ہیں [۷۰] جس وقت کان رکھتے ہیں تیری طرف اور جب وہ مشورت کرتے ہیں جب کہ کہتے ہیں یہ بے انصاف جس کے کہنے پر تم چلتے ہو وہ نہیں ہے مگر ایک مرد جادو کا مارا [۷۱] ﴿47﴾

    دیکھ لے کیسے جماتے ہیں تجھ پر مثلیں اور بہکتے پھرتے ہیں سو راہ نہیں پا سکتے [۷۲] ﴿48﴾

    اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہو جائیں ہڈیاں اور چورا چورا پھر اٹھیں گے نئے بن کر [۷۳] ﴿49﴾

    تو کہہ تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا ﴿50﴾

    یا کوئی خلقت جس کو مشکل سمجھو اپنے جی میں [۷۴] پھر اب کہیں گے کون لوٹا کر لائے گا ہم کو کہہ جس نے پیدا کیا تم کو پہلی بار [۷۵] پھر اب مٹکائیں گے تیری طرف اپنے سر اور کہیں گے کب ہو گا یہ [۷۶] تو کہہ شاید نزدیک ہی ہو گا [۷۷] ﴿51﴾

    جس دن تم کو پکارے گا پھر چلے آؤ گے اسکی تعریف کرتے ہوئے [۷۸] اور اٹکل کرو گے کہ دیر نہیں لگی تم کو مگر تھوڑی [۷۹] ﴿52﴾

    اور کہہ دے میرے بندوں کہ بات وہی کہیں جو بہتر ہو شیطان جھڑپ کرواتا ہے ان میں شیطان ہے انسان کا دشمن صریح [۸۰] ﴿53﴾

    تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کو اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تم کو عذاب دے [۸۱] اور تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر ذمہ لینے والا [۸۲] ﴿54﴾

    اور تیرا رب خوب جانتا ہے انکو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں اور ہم نے افضل کیا ہے بعض پیغمبروں کو بعضوں سے اور دی ہم نے داؤد کو زبور [۸۳] ﴿55﴾

    کہہ پکارو جن کو تم سمجھتے ہو سوائے اس کے سو وہ اختیار نہیں رکھتے کہ کھول دیں تکلیف کو تم سے اور نہ بدل دیں [۸۴] ﴿56﴾

    وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ خود ڈھونڈتے ہیں اپنے رب تک وسیلہ کہ کونسا بندہ بہت نزدیک ہے [۸۵] اور امید رکھتے ہیں اس کی مہربانی کی اور ڈرتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے [۸۶] ﴿57﴾

    اور کوئی بستی نہیں جس کو ہم خراب نہ کر دیں گے قیامت سے پہلے یا آفت ڈالیں گے اس پر سخت آفت [۸۷] یہ ہے کتاب میں لکھا گیا [۸۸] ﴿58﴾

    اور ہم نے اس لئے موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا [۸۹] اور ہم نے دی ثمود کو اونٹنی ان کے سجھانے کو پھر ظلم کیا اس پر [۹۰] اور نشانیاں جو ہم بھیجتے ہیں سو ڈرانے کو [۹۱] ﴿59﴾

    اور جب کہہ دیا ہم نے تجھ سے کہ تیرے رب نے گھیر لیا ہے لوگوں کو [۹۲] اور وہ دکھلاوا جو تجھ کو دکھلایا ہم نے سو جانچنے کو لوگوں کے [۹۳] اور ایسے ہی وہ درخت جس پر پھٹکار ہے قرآن میں [۹۴] اور ہم انکو ڈراتے ہیں تو انکو زیادہ ہوتی ہے بری شرارت [۹۵] ﴿60﴾

    اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر ابلیس بولا کیا میں سجدہ کروں ایک شخص کو جس کو تو نے بنایا مٹی کا [۹۶] ﴿61﴾

    کہنے لگا بھلا دیکھ تو یہ شخص جس کو تو نے مجھ سے بڑھا دیا اگر تو مجھ کو ڈھیل دیوے قیامت کے دن تک تو میں اس کی اولاد کو ڈانٹی دے لوں گا مگر تھوڑے سے [۹۷] ﴿62﴾

    فرمایا جا پھر جو کوئی تیرے ساتھ ہوا ان میں سے سو دوزخ ہے تم سب کی سزا بدلہ پورا [۹۸] ﴿63﴾

    اور گھبرا لے ان میں جس کو تو گھبرا سکے اپنی آواز سے [۹۹] اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے [۱۰۰] اور ساجھا کر ان سے مال اور اولاد میں [۱۰۱] اور وعدے دے انکو اور کچھ نہیں وعدہ دیتا انکو شیطان مگر دغابازی [۱۰۲] ﴿64﴾

    وہ جو میرے بندے ہیں ان پر نہیں تیری حکومت اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے والا [۱۰۳] ﴿65﴾

    تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے واسطے کشتی دریا میں [۱۰۴] تاکہ تلاش کرو اس کا فضل [۱۰۵] وہی ہے تم پر مہربان ﴿66﴾

    اور جب آتی ہے تم پر آفت دریا میں بھول جاتے ہو جن کو پکارا کرتے تھے اللہ کے سوائے پھر جب بچا لایا تم کو خشکی میں پھر جاتے ہو اور ہے انسان بڑا نا شکر [۱۰۶] ﴿67﴾

    سو کیا تم بے ڈر ہو گئے اس سے کہ دھنسا دے تم کو جنگل کے کنارے [۱۰۷] یا بھیج دے تم پر آندھی پتھر برسانے والی پھر نہ پاؤ اپنا کوئی نگہبان ﴿68﴾

    یا بے ڈر ہو گئے ہو اس سے کہ پھر لیجائے تمکو دریا میں [۱۰۸] دوسری بار پھر بھیجے تم پر ایک سخت جھوکا ہوا کا پھر ڈبا دے تم کو بدلے میں اس ناشکری کے پھر نہ پاؤ اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا [۱۰۹] ﴿69﴾

    اور ہم نےعزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھا دیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر [۱۱۰] ﴿70﴾

    جس دن ہم بلائیں گے ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ سو جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے داہنی ہاتھ میں سو وہ لوگ پڑھیں گے اپنا لکھا [۱۱۱] اور ظلم نہ ہو گا ان پر ایک تاگے کا [۱۱۲] ﴿71﴾

    اور جو کوئی رہا اس جہان میں اندھا سو وہ پچھلے جہان میں بھی اندھا ہے اور بہت دور پڑا ہوا راہ سے [۱۱۳] ﴿72﴾

    اور وہ لوگ تو چاہتے تھے کہ تجھ کو بچلا دیں اس چیز سے کہ جو وحی بھیجی ہم نے تیری طرف تاکہ جھوٹ بنا لائے تو ہم پر وحی کے سوا اور تب تو بنا لیتے تجھ کو دوست [۱۱۴] ﴿73﴾

    اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھ کو سنبھالے رکھا تو لگ جاتا جھکنے ان کی طرف تھوڑا سا [۱۱۵] ﴿74﴾

    تب تو ضرور چکھاتے ہم تجھ کو دونا مزہ زندگی میں اور دونا مرنے میں پھر نہ پاتا تو اپنے واسطے ہم پر مدد کرنے والا [۱۱۶] ﴿75﴾

    اور وہ تو چاہتے تھے کہ گھبرا دیں تجھ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں تجھ کو یہاں سے اور اس وقت نہ ٹھہریں گے وہ بھی تیرے پیچھے مگر تھوڑا [۱۱۷] ﴿76﴾

    دستور چلا آتا ہے ان رسولوں کا جو تجھ سے پہلے بھیجے ہم نے اپنے پیغمبر اور نہ پائے گا تو ہمارے دستور میں تفاوت [۱۱۸] ﴿77﴾

    قائم رکھ نماز کو [۱۱۹] سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک [۱۲۰] اورقرآن پڑھنا فجر کا [۱۲۱] بیشک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے روبرو [۱۲۲] ﴿78﴾

    اور کچھ رات جاگتا رہ قرآن کے ساتھ یہ زیادتی ہے تیرے لئے [۱۲۳] قریب ہے کہ کھڑا کر دے تجھ کو تیرا رب مقام محمود میں [۱۲۴] ﴿79﴾

    اور کہہ اے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا [۱۲۵] اور عطا کر دے مجھ کو اپنے پاس سے حکومت کی مدد [۱۲۶] ﴿80﴾

    اور کہہ آیا سچ اور نکل بھاگا جھوٹ بیشک جھوٹ ہے نکل بھاگنے والا [۱۲۷] ﴿81﴾

    اور ہم اتارتے ہیں قرآن میں سے جس سے روگ دفع ہوں اور رحمت ایمان والوں کے واسطے اور گنہگاروں کو تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے [۱۲۸] ﴿82﴾

    اور جب ہم آرام بھیجیں انسان پر تو ٹال جائے اور بچائے اپنا پہلو اور جب پہنچے اس کو برائی تو رہ جائے مایوس ہو کر [۱۲۹] ﴿83﴾

    تو کہہ ہر ایک کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر سو تیرا رب خوب جانتا ہے کس نے خوب پالیا راستہ [۱۳۰] ﴿84﴾

    اور تجھ سے پوچھتے ہیں روح کو [۱۳۱] کہدے روح ہے میرے رب کے حکم سے اور تم کو علم دیا ہے تھوڑا سا [۱۳۲] ﴿85﴾

    اور اگر ہم چاہیں تو لیجائیں اس چیز کو جو ہم نے تجھ کو وحی بھیجی پھر تو نہ پائے اپنے واسطے اس کے لاد ینے کو ہم پر کوئی ذمہ دار ﴿86﴾

    مگر مہربانی سے تیرے رب کی اس کی بخشش تجھ پر بڑی ہے [۱۳۳] ﴿87﴾

    کہہ اگر جمع ہوں آدمی اور جن اس پر کہ لائیں ایسا قرآن ہر گز نہ لائیں گے ایسا قرآن اور پڑے مدد کیا کریں ایک دوسرے کی [۱۳۴] ﴿88﴾

    اور ہم نے پھیر پھیر کو سمجھائی لوگوں کو اس قرآن میں ہر مثل سو نہیں رہتے بہت لوگ بن ناشکری کئے [۱۳۵] ﴿89﴾

    اور بولے ہم نہ مانیں گے تیرا کہا جب تک تو نہ جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ [۱۳۶] ﴿90﴾

    یا ہو جائے تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا پھر بہائے تو اس کے بیچ نہریں چلا کر ﴿91﴾

    یا گرا دے آسمان ہم پر جیسا کہ تو کہا کرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے [۱۳۷] یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے [۱۳۸] ﴿92﴾

    یا ہو جائے تیرے لئے ایک گھر سنہرا [۱۳۹] یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم نہ مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک کتاب جس کو ہم پڑھیں [۱۴۰] تو کہہ سبحان اللہ میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا [۱۴۱] ﴿93﴾

    اور لوگوں کو روکا نہیں ایمان لانے سے جب پہنچی ان کو ہدایت مگر اسی بات نے کہ کہنے لگے کیا اللہ نے بھیجا آدمی کو پیغام دے کر [۱۴۲] ﴿94﴾

    کہہ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے بستے تو ہم اتارتے ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر [۱۴۳] ﴿95﴾

    کہہ اللہ کافی ہے حق ثابت کرنے والا میرے اور تمہارے بیچ میں وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا [۱۴۴] ﴿96﴾

    اور جس کو راہ دکھلائے اللہ وہی ہے راہ پانے والا اور جس کو بھٹکائے پھر تو نہ پائے انکے واسطے کوئی رفیق اللہ کے سوائے [۱۴۵] اور اٹھائیں گے ہم انکو دن قیامت کے چلیں گے منہ کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے [۱۴۶] ٹھکانا ان کو دوزخ ہے جب لگے گی بجھنے اور بھڑکا دیں گے ان پر [۱۴۷] ﴿97﴾

    یہ ان کی سزا ہے اس واسطے کہ منکر ہوئے ہماری آیتوں سے اور بولے کیا جب ہم ہو گئے ہڈیاں چورا چورا کیا ہم کو اٹھائیں گے نئے بنا کر [۱۴۸] ﴿98﴾

    کیا نہیں دیکھ چکےکہ جس اللہ نے بنائے آسمان اور زمین وہ بنا سکتا ہے ایسوں کو [۱۴۹] اور مقرر کیا ہے انکے واسطے ایک وقت بے شبہ [۱۵۰] سو نہیں رہا جاتا بے انصافوں کو بن ناشکری کیے [۱۵۱] ﴿99﴾

    کہہ اگر تمہارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے تو ضرور بند کر رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں اور ہے انسان دل کا تنگ [۱۵۲] ﴿100﴾

    اور ہم نے دیں موسٰی کو نو نشانیاں صاف پھر پوچھ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ انکے پاس [۱۵۳] تو کہا اس کو فرعون نے میری اٹکل میں تو موسٰی تجھ پر جادو ہوا [۱۵۴] ﴿101﴾

    بولا تو جان چکا ہے کہ یہ چیزیں کسی نے نہیں اتاریں مگر آسمان اور زمین کے مالک نے سجھانے کو اور میری اٹکل میں فرعون تو غارت ہوا چاہتا ہے [۱۵۵] ﴿102﴾

    پھر چاہا کہ بنی اسرائیل کو چین نہ دے اس زمین میں پھر ڈبا دیا ہم نے اسکو اور اس کے ساتھ والوں کو سب کو [۱۵۶] ﴿103﴾

    اور کہا ہم نے اس کے پیچھے بنی اسرائیل کو آباد رہو تم زمین میں پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کالے آئیں گے ہم تم کو سمیٹ کر [۱۵۷] ﴿104﴾

    اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے یہ قرآن اور سچ کے ساتھ اترا [۱۵۸] اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو [۱۵۹] ﴿105﴾

    اور پڑھنے کا وظیفہ کیا ہم نےقرآن کو جدا جدا کر کے کہ پڑھے تو اسکو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر اور اس کو ہم نے اتارتے اتارتے اتارا [۱۶۰] ﴿106﴾

    کہہ کہ تم اس کو مانو یا نہ مانو جن کو علم ملا ہے اس کے پہلے سے جب ان کے پاس اس کو پڑھیں گرتے ہیں تھوڑیوں پر سجدہ میں ﴿107﴾

    اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب بیشک ہمارے رب کا وعدہ ہو کر رہے گا [۱۶۱] ﴿108﴾

    اور گرتے ہیں تھوڑیوں پر روتے ہوئے اور زیادہ ہوتی ہے ان کو عاجزی [۱۶۲] ﴿109﴾

    کہہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر جو کر پکارو گے سو اسی کے ہیں سب نام خاصے [۱۶۳] اور پکار کر مت پڑھ اپنی نماز اور نہ چپکے پڑھ اور ڈھونڈ لے اس کے بیچ میں راہ [۱۶۴] ﴿110﴾

    اور کہہ سب تعریفیں اللہ کو جونہیں رکھتا اولاد اور نہ کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور نہ کوئی اس کا مددگار ذلت کے وقت پر اور اس کی برائی کر بڑا جان کر [۱۶۵] ﴿111﴾

    Surah 18
    الکھف

    سب تعریف اللہ کو جس نے اتاری اپنے بندہ پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کچھ کجی [۱] ﴿1﴾

    ٹھیک اتاری تاکہ ڈر سنا دےایک سخت آفت کا اللہ کی طرف سے [۲] اور خوشخبری دے ایمان لانے والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں کہ ان کے لئے اچھا بدلہ ہے ﴿2﴾

    جس میں رہا کریں ہمیشہ [۳] ﴿3﴾

    اور ڈر سنا دے انکو جو کہتے ہیں اللہ رکھتا ہے اولاد [۴] ﴿4﴾

    کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی اور نہ ان کے باپ دادوں کو کیا بڑی بات نکلتی ہے ان کے منہ سے سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں [۵] ﴿5﴾

    سو کہیں تو گھونٹ ڈالے گا اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ نہ مانیں گے اس بات کو پچتا پچتا کر [۶] ﴿6﴾

    ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کی رونق تاکہ جانچیں لوگوں کو کون ان میں اچھا کرتا ہے کام [۷] ﴿7﴾

    اور ہم کو کرنا ہے جو کچھ اس پر ہے میدان چھانٹ کر [۸] ﴿8﴾

    کیا تو خیال کرتا ہے کہ غار اور کھوہ کے رہنے والے ہماری قدرتوں میں عجب اچنبھا تھے [۹] ﴿9﴾

    جب جا بیٹھے وہ جوان پہاڑ کی کھو میں پھر بولے اے رب دے ہم کو اپنے پاس سے بخشش اور پوری کر دے ہمارے کام کی درستی ﴿10﴾

    پھر تھپک دئے ہم نے ان کے کان اس کھوہ میں چند برس گنتی کے [۱۰] ﴿11﴾

    پھر ہم نے ان کو اٹھایا کہ معلوم کریں دو فرقوں میں کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے [۱۱] ﴿12﴾

    ہم سنا دیں تجھ کو ان کا حال تحقیقی وہ کئ جوان ہیں کہ یقین لائے اپنے رب پر اور زیادہ دی ہم نے انکو سوجھ [۱۲] ﴿13﴾

    اور گرہ دی ان کے دل پر [۱۳] جب کھڑے ہوئے پھر بولے ہمارا رب ہے رب آسمان اور زمین کا نہ پکاریں گے ہم اس کے سوائے کسی کو معبود نہیں تو کہی ہم نے بات عقل سے دور [۱۴] ﴿14﴾

    یہ ہماری قوم ہے ٹھہرا لئے انہوں نے اللہ کے سوائے اور معبود کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی سند کھلی پھر اس سے بڑا گنہگار کون جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ [۱۵] ﴿15﴾

    اور جب تم نے کنارہ کر لیا ان سے اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کےسوائے تو اب جا بیٹھو اس کھوہ میں پھیلا دے تم پر رب تمہار ا کچھ اپنی رحمت سے اور بنا دیوے تمہارے واسطے تمہارے کام میں آرام [۱۶] ﴿16﴾

    اور تو دیکھے دھوپ جب نکلتی ہے بچ کر جاتی ہے ان کی کھوہ سےداہنے کو اور جب ڈوبتی ہے کترا جاتی ہے ان سے بائیں کو اور وہ میدان میں ہیں اس کے یہ ہے اللہ کی قدرتوں سے [۱۷] جسکو راہ دیوے اللہ وہی آئے راہ پر اور جس کو وہ بچلائے پھر تو نہ پائے اس کا کوئی رفیق راہ پر لانے والا [۱۸] ﴿17﴾

    اور تو سمجھے وہ جاگتے ہیں اور وہ سو رہے ہیں اور کروٹیں دلاتے ہیں ہم انکو داہنے اور بائیں اور کتا ان کا پسار رہا ہے اپنی باہیں چوکھٹ پر اگر تو جھانک کر دیکھے ان کو تو پیٹھ دے کر بھاگے ان سے اور بھر جائے تجھ میں انکی دہشت [۱۹] ﴿18﴾

    اور اسی طرح ان کو جگا دیا ہم نے کہ آپس میں پوچھنے لگے ایک بولا ان میں کتنی دیر ٹھہرےتم بولے ہم ٹھہرے ایک دن یا دن سے کم بولے تمہارا رب ہی خوب جانے جتنی دیر تم رہے ہو اب بھیجو اپنے میں سے ایک کو یہ روپیہ دے کر اپنا اس شہر میں پھر دیکھے کونسا کھانا ستھرا ہے سو لائے تمہارے پاس اس میں سے کھانا اور نرمی سے جائے اور جتا نہ دے تمہاری خبر کسی کو ﴿19﴾

    وہ لوگ اگر خبر پالیں تمہاری پتھروں سے مار ڈالیں تم کو یا لوٹا لیں تم کو اپنے دین میں اور تب تو بھلا نہ ہو گا تمہارا کبھی [۲۰] ﴿20﴾

    اور اسی طرح خبر ظاہر کر دی ہم نے انکی تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور قیامت کے آنے میں دھوکہ نہیں جب جھگڑ رہے تھے آپس میں اپنی بات پر [۲۱] پھر کہنے لگے بناؤ ان پر ایک عمارت انکا رب خوب جانتا ہے ان کا حال بولے وہ لوگ جن کا کام غالب تھا ہم بنائیں گے ان کی جگہ پر عبادت خانہ [۲۲] ﴿21﴾

    اب یہی کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور یہ بھی کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا بدون نشانی دیکھے پتھر چلانا [۲۳] اور یہ بھی کہیں گے وہ سات ہیں اور آٹھوں انکا کتا تو کہہ میرا رب خوب جانتا ہے ان کی گنتی ان کی خبر نہیں رکھتے مگر تھوڑے لوگ سو مت جھگڑ ان کی بات میں مگر سر سری جھگڑا اور مت تحقیق کر ان کا حال ان میں کسی سے [۲۴] ﴿22﴾

    اور نہ کہنا کسی کام کو کہ میں یہ کروں گا کل کو ﴿23﴾

    مگر یہ کہ اللہ چاہے اور یاد کر لے اپنے رب کو جب بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھ کو دکھلائے اس سے زیادہ نزدیک راہ نیکی کی [۲۵] ﴿24﴾

    اور مدت گذری ان پر اپنی کھوہ میں تین سو برس اور ان کے اوپر نو [۲۶] ﴿25﴾

    تو کہہ اللہ خوب جانتا ہے جتنی مدت ان پر گذری اسی کی پاس ہیں چھپے بھید آسمان اور زمین کے کیا عجیب دیکھتا اور سنتا ہے [۲۷] کوئی نہیں بندوں پر اس کے سوائے مختار اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو [۲۸] ﴿26﴾

    اور پڑھ جو وحی ہوئی تجھ کو تیرے رب کی کتاب سے کوئی بدلنے والا نہیں اسکی باتیں اور کہیں نہ پائے گا تو اس کے سوائے چھپنے کو جگہ [۲۹] ﴿27﴾

    اور روکے رکھ اپنے آپ کو ان کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام طالب ہیں اسکے منہ کے [۳۰] اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں انکو چھوڑ کر تلاش میں رونق زندگانی دنیا کی [۳۱] اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے اور پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا [۳۲] ﴿28﴾

    اور کہہ سچی بات ہے تمہارے رب کی طرف سے پھر جو کوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے نہ مانے [۳۳] ہم نے تیار کر رکھی ہے گنہگاروں کے واسطے آگ کہ گھیر رہی ہیں انکو اسکی قناتیں [۳۴] اور اگر فریاد کریں گے تو ملے گا پانی جیسے پیپ بھون ڈالے منہ کو کیا برا پینا ہے اور کیا برا آرام [۳۵] ﴿29﴾

    بیشک جو لوگ یقین لائے اور کیں نیکیاں ہم نہیں کھوتے بدلہ اس کا جس نے بھلا کیا کام [۳۶] ﴿30﴾

    ایسوں کے واسطے باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں پہنائے جائیں گے ان کو وہاں کنگن سونے کے [۳۷] اور پہنیں گے کپڑے سبز باریک اور گاڑھے ریشم کے [۳۸] تکیہ لگائے ہوئے ان میں تختوں پر کیا خوب بدلہ ہے اور کیا خوب آرام [۳۹] ﴿31﴾

    اور بتلا انکو مثل دو مردوں کی [۴۰] کر دیے ہم نے ان میں سے ایک کے لئے دو باغ انگور کے اور گرد ان کے کھجویرں اور رکھی دونوں کے بیچ میں کھیتی [۴۱] ﴿32﴾

    دونوں باغ لاتے ہیں اپنا میوہ اور نہیں گھٹاتے اس میں سے کچھ [۴۲] اور بہا دی ہم نے ان دنوں کے بیچ نہر [۴۳] ﴿33﴾

    اور ملا اسکو پھل [۴۴] پھر بولا اپنے ساتھی سے جب باتیں کرنے لگا اس سے میرے پاس زیادہ ہے تجھ سے مال اور آبرو کے لوگ [۴۵] ﴿34﴾

    اور گیا اپنے باغ میں اور وہ برا کر رہا تھا اپنی جان پر [۴۶] بولا نہیں آتا مجھ کو خیال کہ خراب ہووے یہ باغ کبھی ﴿35﴾

    اور نہیں خیال کرتا ہوں کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر کبھی پہنا دیا گیا میں اپنے رب کے پاس پاؤں گا بہتر اس سے وہاں پہنچ کر [۴۷] ﴿36﴾

    کہا اس کو دوسرے نے جب بات کرنے لگا کیا تو منکر ہو گیا اس سے جس نے پیدا کیا تجھ کو مٹی سے پھر قطرہ سے پھر پورا کر دیا تجھ کو مرد ﴿37﴾

    پھر میں تو یہی کہتا ہوں وہی اللہ ہے میرا رب اور نہیں مانتا شریک اپنے رب کا کسی کو [۴۸] ﴿38﴾

    اور جب تو آتا تھا اپنے باغ میں کیوں نہ کہا تو نے جو چاہے اللہ سو ہو طاقت نہیں مگر جو دے اللہ [۴۹] اگر تو دیکھتا ہے مجھ کو کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں ﴿39﴾

    تو امید ہے کہ میرا رب دیوے مجھ کو تیرے باغ سے بہتر [۵۰] اور بھیج دے اس پر لو کا ایک جھونکا آسمان سے پھر صبح کو رہ جاٹے میدان صاف ﴿40﴾

    یا صبح کو ہو رہے اس کا پانی خشک پھر نہ لا سکے تو اس کو ڈھونڈھ کر [۵۱] ﴿41﴾

    اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل پھر صبح کو رہ گیا ہاتھ نچاتا [۵۲] اس مال پر جو اس میں لگایا تھا اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر [۵۳] اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا اگر میں شریک نہ بناتا اپنے رب کا کسی کو [۵۴] ﴿42﴾

    اور نہ ہوئی اس کی جماعت کہ مدد کریں اس کی اللہ کے سوائے اور نہ ہوا وہ کہ خود بدلہ لے سکے [۵۵] ﴿43﴾

    یہاں سب اختیار ہے اللہ سچے کا اسی کا انعام بہتر ہے اور اچھا ہے اسی کا دیا ہوا بدلہ [۵۶] ﴿44﴾

    اور بتلا دے ان کو مثل دنیا کی زندگی کی جیسے پانی اتارا ہم نے آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس کی وجہ سے زمین کا سبزہ پھر کل کو ہو گیا چورا چورا ہوا میں اڑتا ہوا [۵۷] اور اللہ کو ہے ہر چیز پر قدرت [۵۸] ﴿45﴾

    مال اور بیٹے رونق ہیں دنیا کی زندگی میں اور باقی رہنے والی نیکیوں کا بہتر ہے تیرے رب کے یہاں بدلا اور بہتر ہے توقع [۵۹] ﴿46﴾

    اور جس دن ہم چلائیں پہاڑ اور تو دیکھے زمین کو کھلی ہوئی [۶۰] اور گھیر ملائیں ہم انکو پھر نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو [۶۱] ﴿47﴾

    اور سامنے آئیں تیرے رب کے صف باندھ کر آ پہنچے تم ہمارے پاس جیسے ہم نے بنایا تھا تم کو پہلی بار نہیں تم تو کہتے تھے کہ نہ مقرر کریں گے ہم تمہارے لئے کوئی وعدہ [۶۲] ﴿48﴾

    اور رکھا جائے گا حساب کا کاغذ پھر تو دیکھے گنہگاروں کو ڈرتے ہیں اس سے جو اس میں لکھا ہے [۶۳] اور کہتے ہیں ہائے خرابی کیا ہے یہ کاغذ نہیں چھوٹی اس سے چھوٹی بات اور نہ بڑی بات جو اس میں نہیں آ گئ اور پائیں گے جو کچھ کیا ہے سامنے [۶۴] اور تیرا رب ظلم نہ کرے گا کسی پر [۶۵] ﴿49﴾

    اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر ابلیس تھا جن کی قسم سے سو نکل بھاگا اپنے رب کے حکم سے سو کیا اب تم ٹھہراتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو رفیق میرے سوائے اور وہ تمہارے دشمن ہیں برا ہاتھ لگا بے انصافوں کے بدلہ [۶۶] ﴿50﴾

    دکھلا نہیں لیا تھا میں نے انکو بنانا آسمان اور زمین کا اور نہ بنانا خود ان کا اور میں وہ نہیں کہ بناؤں بہکانے والوں کو اپنا مددگار [۶۷] ﴿51﴾

    اور جس دن فرمائے گا پکارو میرے شریکوں کو [۶۸] جن کو تم مانتے تھے پھر پکاریں گے سو وہ جواب نہ دیں گے ان کو اور کر دیں گے ہم انکے بیچ مرنے کی جگہ [۶۹] ﴿52﴾

    اور دیکھیں گےگنہگار آگ کو پھر سمجھ لیں گےکہ ان کو پڑنا ہے اس میں اور نہ بدل سکیں گے اس سے رستہ [۷۰] ﴿53﴾

    اور بیشک پھیر پھیر کو سمجھائی ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو ہر ایک مثل اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑالو [۷۱] ﴿54﴾

    اور لوگوں کو جو روکا اس بات سے کہ یقین لے آئیں جب پہنچی انکو ہدایت اور گناہ بخشوائیں اپنے رب سے سو اسی انتظار نے کہ پہنچے ان پر رسم پہلوں کی یا آ کھڑا ہو ان پر عذاب سامنے کا [۷۲] ﴿55﴾

    اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں سو خوشخبری اور ڈر سنانے کو [۷۳] اور جھگڑا کرتے ہیں کافر جھوٹا جھگڑا کہ ٹلا دیں اس سے سچی بات کو [۷۴] اور ٹھہرا لیا انہوں نے میرے کلام کو اور جو ڈر سنائے گئے ٹھٹھا [۷۵] ﴿56﴾

    اور اس سے زیادہ ظالم کون جس کو سمجھایا اسکے رب کے کلام سے پھر منہ پھیر لیا اسکی طرف سے اور بھول گیا جو کچھ آگے بھیج چکے ہیں اس کے ہاتھ [۷۶] ہم نے ڈال دیے ہیں انکے دلوں پر پردے کہ اس کو نہ سمجھیں اور انکے کانوں میں ہے بوجھ اور اگر تو ان کو بلائے راہ پر تو ہر گز نہ آئیں راہ پر اس وقت کبھی [۷۷] ﴿57﴾

    اور تیرا رب بڑا بخشنے والا ہے رحمت والا اگر ان کو پکڑے انکے کئے پر تو جلد ڈالے ان پر عذاب [۷۸] پر ان کے لئے ایک وعدہ ہے کہیں نہ پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ [۷۹] ﴿58﴾

    اور یہ سب بستیاں ہیں جن کو ہم نے غارت کیا جب وہ ظالم ہو گئے اور مقرر کیا تھا ہم نے انکی ہلاکت کا ایک وعدہ [۸۰] ﴿59﴾

    اور جب کہا موسٰی نے اپنے جوان کو میں نہ ہٹوں گا جب تک نہ پہنچ جاؤں جہاں ملتے ہیں دو دریا یا چلا جاؤں قرنوں میں [۸۱] ﴿60﴾

    پھر جب پہنچے دونوں دریا کے ملاپ تک بھول گئے اپنی مچھلی پھر اس نے اپنی راہ کر لی دریا میں سرنگ بنا کر [۸۲] ﴿61﴾

    پھر جب آگے چلے کہا موسٰی نے اپنے جوان کو لا ہمارے پاس ہمارا کھانا ہم نے پائی اپنے اس سفر میں تکلیف [۸۳] ﴿62﴾

    بولا وہ دیکھا تو نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ مجھ کو بھلا دیا شیطان ہی نے کہ اس کا ذکر کروں [۸۴] اور اس نے کر لیا اپنا رستہ دریا میں عجیب طرح ﴿63﴾

    کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے پھر الٹے پھرے اپنے پیر پہچانتے [۸۵] ﴿64﴾

    پھر پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں کا جس کو دی تھی ہم نے رحمت اپنے پاس سے اور سکھلایا تھا اپنے پاس سے ایک علم [۸۶] ﴿65﴾

    کہا اس کو موسٰی نے کہے تو تیرے ساتھ رہوں اس بات پر کہ مجھ کو سکھلا دے کچھ جو تجھ کو سکھلائی ہے بھلی راہ [۸۷] ﴿66﴾

    بولا تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ ﴿67﴾

    اور کیونکر ٹھہرے گا دیکھ کر ایسی چیز کو کہ تیرے قابو میں نہیں اس کا سمجھنا [۸۸] ﴿68﴾

    کہا تو پائے گا اگر اللہ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے والا اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم [۸۹] ﴿69﴾

    بولا پھر اگر میرے ساتھ رہنا ہےتو مت پوچھیو مجھ سے کوئی چیز جب تک میں شروع نہ کروں تیرے آگے اس کا ذکر [۹۰] ﴿70﴾

    پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب چڑھے کشتی میں اس کو پھاڑ ڈالا موسٰی بولا کیا تو نے اس کو پھاڑ ڈالا کہ ڈبا دے اسکے لوگوں کو البتہ تو نے کی ایک چیز بھاری [۹۱] ﴿71﴾

    بولا میں نے نہ کہا تھا تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ ﴿72﴾

    کہا مجھ کو نہ پکڑ میری بھول پر اور مت ڈال مجھ پر میرا کام مشکل [۹۲] ﴿73﴾

    پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ملے ایک لڑکے سے تو اسکو مار ڈالا [۹۳] موسٰی بولا کیا تو نے مار ڈالی ایک جان ستھری [۹۴] بغیر عوض کسی جان کے بیشک تو نے کی ایک چیز نا معقول [۹۵] ﴿74﴾

    بولا میں نے تجھ کو نہ کہا تھا کہ تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ [۹۶] ﴿75﴾

    کہا اگر تجھ سے پوچھوں کوئی چیز اس کے بعد تو مجھ کو ساتھ نہ رکھیو تو اتار چکا میری طرف سے الزام [۹۷] ﴿76﴾

    پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک گاؤں کے لوگوں تک کھانا چاہا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے نہ مانا انکو مہمان رکھیں پھر پائی وہاں ایک دیوار جو گرا چاہتی تھی اسکو سیدھا کر دیا [۹۸] بولا موسٰی اگر تو چاہتا تو لے لیتا اس پر مزدوری [۹۹] ﴿77﴾

    کہا اب جدائی ہے میرے اور تیرے بیچ اب جتلائے دیتا ہوں تجھ کو پھیر ان باتوں کا جس پر تو صبر نہ کر سکا [۱۰۰] ﴿78﴾

    وہ جو کشتی تھی سو چند محتاجوں کی جو محنت کرتے تھے دریا میں [۱۰۱] سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور ان کے پرے تھا ایک بادشاہ جو لے لیتا تھا ہر کشتی کو چھین کر [۱۰۲] ﴿79﴾

    اور وہ جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ تھے ایمان والے پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ ان کو عاجز کر دے زبردستی اور کفر کر کر [۱۰۳] ﴿80﴾

    پھر ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں [۱۰۴] ﴿81﴾

    اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اور اسکے نیچے مال گڑا تھا ان کا اور ان کا باپ تھا نیک پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچ جائیں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنامال گڑا ہوا [۱۰۵] مہربانی سے تیرے رب کی اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے [۱۰۶] یہ ہے پھیر ان چیزوں کا جن پر تو صبر نہ کر سکا ﴿82﴾

    اور تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کو کہہ اب پڑھتا ہوں تمہارے آگے اس کا کچھ احوال ﴿83﴾

    ہم نے اس کو جمایا تھا ملک میں اور دیا تھا ہم نے اسکو ہر چیز کا سامان [۱۰۷] ﴿84﴾

    پھر پیچھے پڑا ایک سامان کے [۱۰۸] ﴿85﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچا سورج ڈونبے کی جگہ پایا کہ وہ ڈوبتا ہے ایک دلدل کی ندی میں [۱۰۹] اور پایا اس کے پاس لوگوں کو ہم نے کہا اے ذوالقرنین یا تو تو لوگوں کو تکلیف دے اور یا رکھ ان میں خوبی [۱۱۰] ﴿86﴾

    بولا جو کوئی ہو گا بے انصاف سو ہم اسکو سزا دیں گے پھرلوٹ جائے گا اپنے رب کے پاس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب ﴿87﴾

    اور جو کوئی یقین لایا اور کیا اس نے بھلا کام سو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی [۱۱۱] ﴿88﴾

    پھر لگا ایک سامان کے پیچھے [۱۱۲] ﴿89﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچا سورج نکلنے کی جگہ پایا اس کو کہ نکلتا ہے ایک قوم پر کہ نہیں بنا دیا ہم نے انکے لئے آفتاب سے ورے کوئی حجاب [۱۱۳] ﴿90﴾

    یونہی ہے اور ہمارے قابو میں آ چکی ہے اس کے پاس کی خبر [۱۱۴] ﴿91﴾

    پھر لگا ایک سامان کے پیچھے [۱۱۵] ﴿92﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچا دو پہاڑوں کے بیچ پائے ان سے ورے ایسے لوگ جو لگتے نہیں کہ سمجھیں ایک بات [۱۱۶] ﴿93﴾

    بولے اے ذوالقرنین یہ یاجوج و ماجوج دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں سو تو کہے تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول اس شرط پر کہ بنا دےتو ہم میں ان میں ایک آڑ [۱۱۷] ﴿94﴾

    بولا جو مقدور دیا مجھ کو میرے رب نے وہ بہتر ہے سو مدد کرو میری محنت میں بنا دوں تمہارے انکے بیچ ایک دیوار موٹی [۱۱۸] ﴿95﴾

    لا دو مجھ کو تختے لوہے کے یہاں تک کہ جب برابر کر دیا دونوں پھانکوں تک پہاڑ کی کہا دھونکو یہاں تک کہ جب کر دیا اس کو آگ کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا [۱۱۹] ﴿96﴾

    پھر نہ چڑھ سکیں اس پر اور نہ کر سکیں اس میں سوراخ [۱۲۰] ﴿97﴾

    بولا یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی پھر جب آئے وعدہ میرے رب کا گرا دے اس کو ڈھا کر اور ہے وعدہ میرے رب کا سچا [۱۲۱] ﴿98﴾

    اور چھوڑ دیں گے ہم خلق کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے اور پھونک ماریں گے صور میں پھر جمع کر لائیں گے ہم ان سب کو ﴿99﴾

    اور دکھلا دیں ہم دوزخ اس دن کافروں کو سامنے [۱۲۲] ﴿100﴾

    جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے اور نہ سن سکتے تھے [۱۲۳] ﴿101﴾

    اب کیا سمجھتے ہیں منکر کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی [۱۲۴] ہم نے تیار کیا ہے دوزخ کو کافروں کی مہمانی [۱۲۵] ﴿102﴾

    تو کہہ ہم بتائیں تم کو کن کا کیا ہوا گیا بہت اکارت ﴿103﴾

    وہ لوگ جن کی کوشش بھٹکتی رہی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھتے رہے کہ خوب بناتے ہیں کام [۱۲۶] ﴿104﴾

    وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی نشانیوں سے اور اسکے ملنے سے [۱۲۷] سو برباد گیا ان کا کیا ہوا پھر نہ کھڑی کریں گے ہم انکے واسطے قیامت کے دن تول [۱۲۸] ﴿105﴾

    یہ بدلہ ان کا ہے دوزخ اس پر کہ منکر ہوئے اور ٹھہرایا میری باتوں اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا [۱۲۹] ﴿106﴾

    جو لوگ ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام انکے واسطے ہے ٹھنڈی چھاؤں کے باغ مہمانی ﴿107﴾

    رہا کریں ان میں نہ چاہیں وہاں سے جگہ بدلنی [۱۳۰] ﴿108﴾

    تو کہہ اگر دریا سیاہی ہو کہ لکھے میرے رب کی باتیں بیشک دریا خرچ ہو چکے ابھی نہ پوری ہوں میرے رب کی باتیں اور اگرچہ دوسرا بھی لائیں ہم ویسا ہی اسکی مدد کو [۱۳۱] ﴿109﴾

    تو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سوہ وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو [۱۳۲] ﴿110﴾

    Surah 19
    مریم

    کہٰیٰعص ﴿1﴾

    یہ مذکور ہے تیرے رب کی رحمت کا اپنے بندہ زکریا پر [۱] ﴿2﴾

    جب پکارا اُس نے اپنے رب کو چھپی آواز سے [۲] ﴿3﴾

    بولا اے میرے رب بوڑھی ہو گئیں میری ہڈیاں اور شعلہ نکلا سر سے بڑھاپے کا [۳] اور تجھ سے مانگ کر اے رب میں کبھی محروم نہیں رہا [۴] ﴿4﴾

    اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے [۵] اور عورت میری بانجھ ہے سو بخش تو مجھ کو اپنے پاس سے ایک کام اٹھانے والا ﴿5﴾

    جو میری جگہ بیٹھے اور یعقوب کی اولاد کی [۶] اور کر اُسکو اے رب من مانتا [۷] ﴿6﴾

    اے زکریا ہم تجھ کو خوشخبری سناتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام ہے یحیٰی نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی [۸] ﴿7﴾

    بولا اے رب کہاں سے ہو گا مجھ کو لڑکا اور میری عورت بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو گیا یہاں تک کہ اکڑ گیا [۹] ﴿8﴾

    کہا یونہی ہو گا [۱۰] فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے اور تجھ کو پیدا کیا میں نے پہلے سے اور نہ تھا تو کوئی چیز [۱۱] ﴿9﴾

    بولا اے رب ٹھہرا دے میرے لئے کوئی نشانی فرمایا تیری نشانی یہ کہ بات نہ کرے تو لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست [۱۲] ﴿10﴾

    پھر نکلا اپنے لوگوں کے پاس حجرہ سے تو اشارہ سے کہا اُنکو کہ یاد کرو صبح اور شام [۱۳] ﴿11﴾

    اے یحیٰی اٹھا لے کتاب زور سے [۱۴] اور دیا ہم نے اُسکو حکم کرنا لڑکا پن میں [۱۵] ﴿12﴾

    اور شوق دیا اپنی طرف سے اورستھرائی اور تھا پرہیز گار [۱۶] ﴿13﴾

    اور نیکی کرنے والا اپنے ماں باپ سے اور نہ تھا زبردست خود سر [۱۷] ﴿14﴾

    اور سلام ہے اُس پر جس دن پیدا ہو ا اور جس دن مرے اورجس دن اٹھ کھڑا ہو زندہ ہو کر [۱۸] ﴿15﴾

    اور مذکور کر کتاب میں مریم کا جب جدا ہوئی اپنے لوگوں سے ایک شرقی مکان میں [۱۹] ﴿16﴾

    پھر پکڑ لیا اُن سے ورے ایک پردہ پھر بھیجا ہم نے اُسکے پاس اپنا فرشتہ پھر بن کر آیا اُسکے آگے آدمی پورا [۲۰] ﴿17﴾

    بولی مجھ کو رحمٰن کی پناہ تجھ سے اگر ہے تو ڈر رکھنے والا [۲۱] ﴿18﴾

    بولا میں تو بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کا کہ دے جاؤں تجھ کو ایک لڑکا ستھرا [۲۲] ﴿19﴾

    بولی کہاں سے ہو گا میرے لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار کبھی نہیں تھی [۲۳] ﴿20﴾

    بولا یونہی فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے [۲۴] اور اُسکو ہم کیا چاہتے ہیں لوگوں کیلئے نشانی اور مہربانی اپنی طرف سے اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا [۲۵] ﴿21﴾

    پھر پیٹ میں لیا اُسکو [۲۶] پھر یکسو ہوئی اُسکو لیکر ایک بعید مکان میں [۲۷] ﴿22﴾

    پھر لے آیا اُسکو دردزہ ایک کھجور کی جڑ میں بولی کسی طرح میں مر چکتی اس سے پہلے اور ہو جاتی بھولی بسری [۲۸] ﴿23﴾

    پس آواز دی اسکو اُسکے نیچے سے کہ غمگین مت ہو کر دیا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ ﴿24﴾

    اور ہلا اپنی طرف کھجور کی جڑ اُس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں [۲۹] ﴿25﴾

    اب کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ [۳۰] پھر اگر تو دیکھے کوئی آدمی تو کہیو میں نے مانا ہے رحمٰن کا روزہ سو بات نہ کروں گی آج کسی آدمی سے [۳۱] ﴿26﴾

    پھر لائی اسکو اپنے لوگوں کے پاس گود میں وہ اُسکو کہنے لگے اے مریم تو نے کی یہ چیز طوفان کی [۳۲] ﴿27﴾

    اے بہن ہارون کی نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار [۳۳] ﴿28﴾

    پھر ہاتھ سے بتلایا اُس لڑکے کو [۳۴] بولے ہم کیونکر بات کریں اُس شخص سے کہ وہ ہے گود میں لڑکا [۳۵] ﴿29﴾

    وہ بولا میں بندہ ہوں اللہ کا مجھ کو اُس نے کتاب دی ہے اور مجھ کو اُس نے نبی کیا [۳۶] ﴿30﴾

    اور بنایا مجھ کو برکت والا جس جگہ میں ہوں اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ [۳۷] ﴿31﴾

    اورسلوک کرنے والا اپنی ماں سے [۳۸] اور نہیں بنایا مجھ کو زبردست بدبخت [۳۹] ﴿32﴾

    اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر [۴۰] ﴿33﴾

    یہ ہے عیسٰی مریم کا بیٹا سچی بات جس میں لوگ جھگڑتے ہیں [۴۱] ﴿34﴾

    اللہ ایسا نہیں کہ رکھے اولاد وہ پاک ذات ہے جب ٹھہرا لیتا ہے کسی کام کا کرنا سو یہی کہتا ہے اسکو کہ ہو وہ ہو جاتا ہے [۴۲] ﴿35﴾

    اور کہا بیشک اللہ ہے رب میرا اور رب تمہارا سو اُسکی بندگی کرو یہ ہے راہ سیدھی ﴿36﴾

    پھر جُدی جُدی راہ اختیار کی فرقوں نے اُن میں سے سو خرابی ہے منکروں کو جس وقت دیکھیں گے ایک دن بڑا [۴۳] ﴿37﴾

    کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہونگے جس دن آئیں گے ہمارے پاس پر بے انصاف آج کے دن صریح بہک رہے ہیں [۴۴] ﴿38﴾

    اور ڈر سنا دے اُنکو اُس پچتاوے کے دن کا جب فیصل ہو چکے گا کام [۴۵] اور وہ بھول رہے ہیں اور وہ یقین نہیں لاتے [۴۶] ﴿39﴾

    ہم وارث ہوں گے زمین کے اور جو کوئی ہے زمین پر اور وہ ہماری طرف پھر آئیں گے [۴۷] ﴿40﴾

    اور مذکور کر کتاب میں ابراہیم کا [۴۸] بیشک تھا وہ سچا نبی [۴۹] ﴿41﴾

    جب کہا اپنے باپ کو اے باپ میرے کیوں پوجتا ہے اسکو جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ کام آئے تیرے کچھ [۵۰] ﴿42﴾

    اے باپ میرے مجھ کو آئی ہے خبر ایک چیز کی جو تجھ کو نہیں آئی سو میری راہ چل دکھلا دوں تجھ کو راہ سیدھی [۵۱] ﴿43﴾

    اے باپ میرے مت پوج شیطان کو بیشک شیطان ہے رحمٰن کا نافرمان [۵۲] ﴿44﴾

    اے باپ میرے میں ڈرتا ہوں کہیں آ لگے تجھ کو ایک آفت رحمٰن سے پھر تو ہو جائے شیطان کا ساتھی [۵۳] ﴿45﴾

    وہ بولا کیا تو پھرا ہوا ہے میرے ٹھاکروں سے اے ابراہیم اگر تو باز نہ آئے گا تو تجھ کو سنگسار کروں گا اور دور ہو جا میرے پاس سے ایک مدت [۵۴] ﴿46﴾

    کہا تیری سلامتی رہے [۵۵] میں گناہ بخشواؤں گا تیرا اپنے رب سے بیشک وہ ہے مجھ پر مہربان [۵۶] ﴿47﴾

    اور چھوڑتا ہوں تم کو اور جنکو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا اور میں بندگی کروں گا اپنے ر ب کی امید ہے کہ نہ رہوں گا اپنے رب کی بندگی کر کر محروم [۵۷] ﴿48﴾

    پھر جب جُدا ہوا اُن سے اور جنکو وہ پوجتے تھے اللہ کے سوا بخشا ہم نے اُسکو اسحٰق او ریعقوب اور دونوں کو نبی کیا [۵۸] ﴿49﴾

    اور دیا ہم نے انکو اپنی رحمت سے اور کہا اُنکے واسطے سچا بول اونچا [۵۹] ﴿50﴾

    اور مذکور کر کتاب میں موسٰی کا [۶۰] بیشک وہ تھا چنا ہوا اور تھا رسول نبی [۶۱] ﴿51﴾

    اور پکارا ہم نے اُسکو داہنی طرف سے طور پہاڑ کی اور نزدیک بلایا اُسکو بھید کہنے کو [۶۲] ﴿52﴾

    اور بخشا ہم نے اُسکو اپنی مہربانی سے بھائی اُس کا ہارون نبی [۶۳] ﴿53﴾

    اور مذکور کر کتاب میں اسمٰعیل کا وہ تھا وعدہ کا سچا اور تھا رسول نبی [۶۴] ﴿54﴾

    اور حکم کرتا تھا اپنے گھر والوں کو نماز کا اور زکوٰۃ کا [۶۵] اور تھا اپنے رب کے یہاں پسندیدہ [۶۶] ﴿55﴾

    اور مذکور کر کتاب میں ادریس کا وہ تھا سچا نبی [۶۷] ﴿56﴾

    اور اٹھا لیا ہم نے اسکو ایک اونچے مکان پر [۶۸] ﴿57﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جن پر انعام کیااللہ نے پیغمبروں میں آدم کی اولاد میں اور اُن میں جنکو سوار کر لیا ہم نے نوح کے ساتھ اور ابراہیم کی اولاد میں اور اسرائیل کی [۶۹] اور اُن میں جنکو ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا [۷۰] جب اُنکو سنائے آیتیں رحمٰن کی گرتے ہیں سجدہ میں اور روتے ہوئے [۷۱] ﴿58﴾

    پھر اُنکی جلگہ آئے ناخلف کھو بیٹھے نماز اور پیچھے پڑ گئے مزوں کے سو آگے دیکھ لیں گے گمراہی کو [۷۲] ﴿59﴾

    مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کی نیکی سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں اور اُن کا حق ضائع نہ ہو گا کچھ [۷۳] ﴿60﴾

    باغوں میں بسنے کے جن کا وعدہ کیا ہے رحمٰن نے اپنے بندوں سے اُنکے بن دیکھے بیشک ہے اُس کے وعدہ پر پہنچنا [۷۴] ﴿61﴾

    نہ سنیں گے وہاں بک بک سوائے سلام [۷۵] اور اُنکے لئے ہے اُنکی روزی وہاں صبح اور شام [۷۶] ﴿62﴾

    یہ وہ بہشت ہے جو میراث دینگے ہم اپنے بندوں میں جو کوئی ہو گا پرہیزگار [۷۷] ﴿63﴾

    اور ہم نہیں اترتے مگر حکم سے تیرے رب کے اُسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اسکے بیچ میں ہے اور تیرا رب نہیں ہے بھولنے والا [۷۸] ﴿64﴾

    رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو اُنکے بیچ میں ہے سو اُسی کی بندگی کر اور قائم رہ اسکی بندگی پر [۷۹] کسی کو پہچانتا ہے تو اسکے نام کا [۸۰] ﴿65﴾

    اور کہتا ہے آدمی کیا جب میں مر جاؤں تو پھر نکلوں گا زندہ ہو کر [۸۱] ﴿66﴾

    کیا یاد نہیں رکھتا آدمی کہ ہم نے اسکو بنایا پہلے سے اور وہ کچھ چیز نہ تھا [۸۲] ﴿67﴾

    سو قسم ہے تیرے رب کی ہم گھیر بلائیں گے انکو اور شیطانوں کو [۸۳] پھر سامنے لائیں گے گرد دوزخ کے گھٹنوں پر گرے ہوئے [۸۴] ﴿68﴾

    پھر جدا کر لیں گے ہم ہر ایک فرقہ میں سے جو نسا اُن میں سے سخت رکھتا تھا رحمٰن سے اکڑ ﴿69﴾

    پھر ہم کو خوب معلوم ہیں جو بہت قابل ہیں اُس میں داخل ہونے کے [۸۵] ﴿70﴾

    اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا اس پر ہو چکا یہ وعدہ تیرے رب پر لازم مقرر ﴿71﴾

    پھر بچائیں گے ہم انکو جو ڈرتے رہے اور چھوڑ دیں گے گنہگاروں کو اس میں اوندھے گرے ہوئے [۸۶] ﴿72﴾

    اور جب سنائے انکو ہماری آیتیں کھلی ہوئی کہتے ہیں جو لوگ کہ منکر ہیں ایمان والوں کو دونوں فرقوں میں کس کا مکان بہتر ہے اور کس کی اچھی لگی ہے مجلس [۸۷] ﴿73﴾

    اورکتنی ہلاک کر چکے ہیں ہم پہلے اُن سے جماعتیں وہ اُن سے بہتر تھے سامان میں اور نمود میں [۸۸] ﴿74﴾

    تو کہہ جو رہا بھٹکتا سو چاہئے اُسکو کھینچ لیجائے رحمٰن لنبا [۸۹] یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ ہوا تھا اُن سے یا آفت اور یا قیامت سو تب معلوم کر لیں گے کس کا برا ہے مکان اور کس کی فوج کمزور ہے [۹۰] ﴿75﴾

    اور بڑھاتا جاتا ہے اللہ سوجھنے والوں کو سوجھ [۹۱] اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر رکھتی ہیں تیرے رب کے یہاں بدلہ اور بہتر پھر جانے کو جگہ [۹۲] ﴿76﴾

    بھلا تو نے دیکھا اُسکو جو منکر ہوا ہماری آیتوں سے اور کہا مجھ کو مل کر رہے گا مال اور اولاد [۹۳] ﴿77﴾

    کیا جھانک آیا ہے غیب کو یا لے رکھا ہے رحمٰن سے عہد [۹۴] ﴿78﴾

    یہ نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور بڑھاتے جائیں گے اسکو عذاب میں لنبا [۹۵] ﴿79﴾

    اور ہم لے لیں گے اُسکے مرنے پر جو کچھ وہ بتلا رہا ہے اور آئے گا ہمارے پاس اکیلا [۹۶] ﴿80﴾

    اور پکڑ رکھا ہے لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود تاکہ وہ ہوں اُنکے لئے مدد ہرگز نہیں [۹۷] ﴿81﴾

    وہ منکر ہونگے اُنکی بندگی سے اورہو جائیں گے اُنکے مخالف [۹۸] ﴿82﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے چھوڑ رکھے ہیں شیطان منکروں پر اچھالتے ہیں انکو ابھار کر ﴿83﴾

    سو تو جلدی نہ کر ان پرہم تو پوری کرتے ہیں انکی گنتی [۹۹] ﴿84﴾

    جس دن ہم اکٹھا کرلائیں گے پرہیزگاروں کو رحمٰن کے پاس مہمان بلائے ہوئے ﴿85﴾

    اور ہانک لیجائیں گے گنہگاروں کو دوزذخ کی طرف پیاس سے [۱۰۰] ﴿86﴾

    نہیں اختیار رکھتے لوگ سفارش کا مگر جس نے لے لیا ہے رحمٰن سے وعدہ [۱۰۱] ﴿87﴾

    اور لوگ کہتے ہیں رحمٰن رکھتا ہے اولاد [۱۰۲] ﴿88﴾

    بیشک تم آ پھنسے ہو بھاری چیز میں ﴿89﴾

    ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے اور ٹکڑے ہو زمیں اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کر ﴿90﴾

    اس پر کہ پکارتے ہیں رحمٰن کے نام پر اولاد [۱۰۳] ﴿91﴾

    اور نہیں پھبتا رحمٰن کو کہ رکھے اولاد [۱۰۴] ﴿92﴾

    کوئی نہیں آسمان اور زمین میں جو نہ آئے رحمٰن کا بندہ ہو کر [۱۰۵] ﴿93﴾

    اُسکے پاس اُنکی شمار ہے اور گن رکھی ہے انکی گنتی ﴿94﴾

    اور ہر ایک اُن میں آئے گا اُسکے سامنے قیامت کے دن اکیلا [۱۰۶] ﴿95﴾

    البتہ جو یقین لائے ہیں اور کی ہیں اُنہوں نے نیکیاں اُنکو دے گا رحمٰن محبت [۱۰۷] ﴿96﴾

    سو ہم نے آسان کر دیا یہ قرآن تیری زبان میں اسی واسطے کہ خوشخبری سنا دے تو ڈرنے والوں کو اور ڈرا دے جھگڑالو لوگوں کو [۱۰۸] ﴿97﴾

    اور بہت ہلاک کر چکے ہم اُن سے پہلے جماعتیں آہٹ پاتا ہے تو اُن میں کسی کی یا سنتا ہے اُنکی بھنک [۱۰۹] ﴿98﴾

    Surah 20
    طٰہٰ

    طٰہٰ۔ ﴿1﴾

    اس واسطے نہیں اتارا ہم نے تجھ پر قرآن کہ تو محنت میں پڑے ﴿2﴾

    مگر نصیحت کے واسطے اُسکی جو ڈرتا ہے [۱] ﴿3﴾

    اتارا ہوا ہے اُس کا جس نے بنائی زمین اور آسمان اونچے [۲] ﴿4﴾

    وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا [۳] ﴿5﴾

    اُسی کاہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں اور اُن دونوں کے درمیان اور نیچے گیلی زمین کے [۴] ﴿6﴾

    اور اگر تو بات کہے پکار کر تو اُسکو تو خبر ہے چھپی ہوئی بات کی اور اُس سے بھی چھپی ہوئی کی [۵] ﴿7﴾

    اللہ ہے جسکے سوا بندگی نہیں کسی کی اُسی کے ہیں سب نام خاصے [۶] ﴿8﴾

    اور پہنچی ہے تجھ کو بات موسٰی کی [۷] ﴿9﴾

    جب اُس نے دیکھی ایک آگ تو کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس اُس میں سے سلگا کر یا پاؤں آگ پر پہنچ کر رستہ کا پتہ ﴿10﴾

    پھر جب پہنچا آگ کے پاس آواز آئی اے موسٰی [۸] ﴿11﴾

    میں ہوں تیرا رب سو اتار ڈال اپنی جوتیاں تو ہے پاک میدان طویٰ میں [۹] ﴿12﴾

    اور میں نے تجھ کو پسند کیا ہے سو تو سنتا رہ جو حکم ہو [۱۰] ﴿13﴾

    میں جو ہوں اللہ ہوں کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو میری بندگی کر اور نماز قائم رکھ میری یادگاری کو [۱۱] ﴿14﴾

    قیامت بیشک آنے والی ہے میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں اُسکو [۱۲] تاکہ بدلہ ملے ہر شخص کو جو اُس نے کمایا ہے [۱۳] ﴿15﴾

    سو کہیں تجھ کو نہ روک دے اُس سے وہ شخص جو یقین نہیں رکھتا اُس کا اور پیچھے پڑ رہا ہے اپنے مزوں کے پھر تو بھی پٹکا جائے [۱۴] ﴿16﴾

    اور یہ کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسٰی [۱۵] ﴿17﴾

    بولا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں پر اور میرے اس میں چند کام ہیں اور بھی [۱۶] ﴿18﴾

    فرمایا ڈالدے اُسکو اے موسٰی ﴿19﴾

    تو اُسکو ڈال دیا پھر اسی وقت وہ تو سانپ ہو گیا دوڑتا ہوا [۱۷] ﴿20﴾

    فرمایا پکڑ لے اُسکو اور مت ڈر ہم ابھی پھیر دیں گے اُسکو پہلی حالت پر [۱۸] ﴿21﴾

    اور ملا لے اپنا ہاتھ اپنی بغل سےکہ نکلے سفید ہو کر بلا عیب [۱۹] یہ نشانی دوسری ﴿22﴾

    تاکہ دکھاتےجائیں ہم تجھ کو اپنی نشانیاں بڑی[۲۰] ﴿23﴾

    جا طرف فرعون کے کہ اُس نے بہت سر اٹھایا ﴿24﴾

    بولا اے رب کشادہ کر میرا سینہ [۲۱] ﴿25﴾

    اور آسان کر میرا کام [۲۲] ﴿26﴾

    اور کھول دے گرہ میری زبان سے ﴿27﴾

    کہ سمجھیں میری بات [۲۳] ﴿28﴾

    اور دےمجھ کو ایک کام بٹانے والا میرے گھر کا ﴿29﴾

    ہارون میرا بھائی [۲۴] ﴿30﴾

    اُس سے مضبوط کر میری کمر ﴿31﴾

    اور شریک کر اُسکو میرے کام میں [۲۵] ﴿32﴾

    کہ تیری پاک ذات کا بیان کریں ہم بہت سا ﴿33﴾

    اور یاد کریں ہم تجھ کو بہت سا [۲۶] ﴿34﴾

    تو تو ہے ہم کو خوب دیکھتا [۲۷] ﴿35﴾

    فرمایا ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسٰی [۲۸] ﴿36﴾

    اور احسان کیا تھا ہم نے تجھ پر ایک بار اور بھی [۲۹] ﴿37﴾

    جب حکم بھیجا ہم نے تیری ماں کو جو آگے سناتے ہیں [۳۰] ﴿38﴾

    کہ ڈال اُسکو صندوق میں پھر اُسکو ڈال دے دریا میں پھر دریا اُسکو لے ڈالے کنارے پر اٹھا لے اُسکو ایک دشمن میرا اور اُس کا [۳۱] اور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے [۳۲] اور تاکہ پرورش پائے تو میری آنکھ کے سامنے [۳۳] ﴿39﴾

    جب چلنے لگی تیری بہن اور کہنے لگی میں بتاؤں تمکو ایسا شخص جو اُسکو پالے پھر پہنچا دیا ہم نے تجھ کو تیری ماں کے پاس کہ ٹھنڈی رہے اُسکی آنکھ اور غم نہ کھائے [۳۴] اور تو نے مار ڈالا ایک شخص کو پھر بچا دیا ہم نے تجھ کو اُس غم سے [۳۵] اور جانچا ہم نے تجھ کو ایک ذرا جانچنا [۳۶] پھر ٹھہرا رہا تو کئ برس مدین والوں میں پھر آیا تو تقدیر سے اے موسٰی ﴿40﴾

    اور بنایا میں نے تجھ کو خاص اپنے واسطے [۳۸] ﴿41﴾

    جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لیکر اور سستی نہ کریو میری یاد میں [۳۹] ﴿42﴾

    جاؤ طرف فرعون کی اُس نے بہت سر اٹھایا [۴۰] ﴿43﴾

    سو کہو اُس سے بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے [۴۱] ﴿44﴾

    بولے اے رب ہمارے ہم ڈرتے ہیں کہ بھبک پڑے ہم پر یا جوش میں آ جائے [۴۲] ﴿45﴾

    فرمایا نہ ڈرو میں ساتھ ہوں تمہارے سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں [۴۳] ﴿46﴾

    سو جاؤ اُسکے پاس اور کہو ہم دونوں بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے سو بھیجدے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور مت ستا اُنکو [۴۴] ہم آئے ہیں تیرے پاس نشانی لیکر تیرے رب کی [۴۵] اور سلامتی ہو اُسکی جو مان لے راہ کی بات ﴿47﴾

    ہم کو حکم ملا ہے کہ عذاب اُس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے [۴۶] ﴿48﴾

    بولا پھر کون ہے رب تم دونوں کا اے موسٰی [۴۷] ﴿49﴾

    کہا رب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اُسکی صورت پھر راہ سجھائی [۴۸] ﴿50﴾

    بولا پھر کیا حقیقت ہے اُن پہلی جماعتوں کی ﴿51﴾

    کہا اُنکی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہوئی ہے نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے [۴۹] ﴿52﴾

    وہ ہے جس نے بنا دیا تمہارے واسطے زمین کو بچھونا اور چلائیں تمہارے لئے اُس میں راہیں [۵۰] اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اُس سے طرح طرح کی سبزی [۵۱] ﴿53﴾

    کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو [۵۲] البتہ اُس میں نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو [۵۳] ﴿54﴾

    اسی زمین میں ہم نے تمکو بنایا اور اسی میں تمکو پھر پہنچا دیتے ہیں اور اسی سے نکالیں گے تمکو دوسری بار [۵۴] ﴿55﴾

    اور ہم نے فرعون کو دکھلا دیں اپنی سب نشانیاں پھر اُس نے جھٹلایا اور نہ مانا [۵۵] ﴿56﴾

    بولا کیا تو آیا ہے ہم کو نکالنے ہمارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اے موسٰی [۵۶] ﴿57﴾

    سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلہ میں ایک ایسا ہی جادو سو ٹھہرا لے ہمارے اور اپنے بیچ میں ایک وعدہ نہ ہم خلاف کریں اُس کا اور نہ تو ایک میدان صاف میں [۵۷] ﴿58﴾

    کہا وعدہ تمہارا ہے جشن کا دن اور یہ کہ جمع ہوں لوگ دن چڑھے [۵۸] ﴿59﴾

    پھر اُلٹا پھرا فرعون پھر جمع کئے اپنے سارے داؤ پھر آیا [۵۹] ﴿60﴾

    کہا اُنکو موسٰی نے کم بختی تمہاری جھوٹ نہ بولو اللہ پر پھر غارت کر دے تمکو کسی سخت آفت سے اور مراد کو نہیں پہنچا جس نے جھوٹ باندھا [۶۰] ﴿61﴾

    پھر جھگڑے اپنے کا م پر آپس میں اور چھپ کر کیا مشورہ [۶۱] ﴿62﴾

    بولے مقرر یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ نکال دیں تمکو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور موقوف کرا دیں تمہارے اچھے خاصے چلن کو [۶۲] ﴿63﴾

    سو مقرر کر لو اپنی تدبیر پھر آؤ قطار باندھ کر اور جیت گیا آج جو غالب رہا [۶۳] ﴿64﴾

    بولے اے موسٰی یا تو تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے ﴿65﴾

    کہا نہیں تم ڈالو [۶۴] پھر تبھی اُنکی رسیاں اور لاٹھیاں اُسکے خیال میں آئیں اُنکے جادو سے کہ دوڑ رہی ہیں [۶۵] ﴿66﴾

    پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر موسٰی [۶۶] ﴿67﴾

    ہم نے کہا تو مت ڈر مقرر تو ہی رہے گا غالب [۶۷] ﴿68﴾

    اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جائے جو کچھ اُنہوں نے بنایا [۶۸] اُن کا بنایا ہوا فریب ہے جادوگر کا اور بھلا نہیں ہوتا جادوگر کا جہاں ہو [۶۹] ﴿69﴾

    پھر گر پڑے جادوگر سجدہ میں بولے ہم یقین لائے رب پر ہارون اور موسٰی کے [۷۰] ﴿70﴾

    بولا فرعون تم نے اُسکو مان لیا میں نے ابھی حکم نہ دیا تھا وہی تمہارا بڑا ہے جس نے سکھلایا تمکو جادو [۷۱] سو اب میں کٹواؤں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں [۷۲] اور سولی دوں گا تمکو کھجور کے تنا پر [۷۳] اور جان لو گے ہم میں کس کا عذاب سخت ہے اور دیر تک رہنے والا [۷۴] ﴿71﴾

    وہ بولے ہم تجھ کو زیادہ نہ سمجھیں گے اُس چیز سے جو پہنچی ہم کو صاف دلیل اور اُس سے جس نے ہم کو پیدا کیا سو تو کر گذر جو تجھ کو کرنا ہے تو یہی کرے گا اس دنیا کی زندگی میں ﴿72﴾

    ہم یقین لائے ہیں اپنے رب پر تاکہ بخشے ہم کو ہمارے گناہ اور جو تو نے زبردستی کروایا ہم سے یہ جادو [۷۵] اور اللہ بہتر ہے اور سدا باقی رہنے والا [۷۶] ﴿73﴾

    بات یہی ہے کہ جو کوئی آیا رب کے پاس گناہ لیکر سو اُس کے واسطے دوزخ ہے نہ مرے اُس میں نہ جئے [۷۷] ﴿74﴾

    اور جو آیا اُسکے پاس ایمان لیکر نیکیاں کر کر سو اُن لوگوں کیلئے ہیں درجے بلند ﴿75﴾

    باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں اُنکے نیچے سے نہریں ہمیشہ رہا کریں گے اُن میں [۷۸] اور یہ بدلہ ہے اُس کا جو پاک ہوا [۷۹] ﴿76﴾

    اور ہم نے حکم بھیجا موسٰی کو کہ لے نکل میرےبندوں کو رات سے پھر ڈال دے اُنکے لئے سمندر میں رستہ سوکھا نہ خطرہ کر آ پکڑنے کا اور نہ ڈر ڈوبنے سے ﴿77﴾

    پھر پیھچا کیا اُن کا فرعون نے اپنے لشکروں کو لیکر پھر ڈھانپ لیا اُنکو پانی نے جیسا کہ ڈھانپ لیا [۸۰] ﴿78﴾

    اور بہکایا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا [۸۱] ﴿79﴾

    اے اولاد اسرائیل چھڑا لیا ہم نے تمکو تمہارے دشمن سے اور وعدہ ٹھہرا یا تم سے داہنی طرف پہاڑ کی اور اتارا تم پر من اور سلویٰ ﴿80﴾

    کھاؤ ستھری چیزیں جو روزی دی ہم نے تمکو اور نہ کرو اُس میں زیادتی [۸۲] پھر تو اترے گا تم پر میرا غصہ اور جس پر اترا میرا غصہ سو وہ پٹکا گیا [۸۳] ﴿81﴾

    اور میری بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلا کام پھر راہ پر رہے [۸۴] ﴿82﴾

    اور کیوں جلدی کی تونے اپنی قوم سے اے موسٰی ﴿83﴾

    بولا وہ یہ آ رہے ہیں میرے پیچھے اور میں جلدی آیا تیری طرف اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو [۸۵] ﴿84﴾

    فرمایا ہم نے بچلا دیا تیری قوم کو تیرے پیچھے اور بہکایا اُنکو سامری نے [۸۶] ﴿85﴾

    پھر الٹا پھرا موسٰی اپنی قوم کے پاس غصہ میں بھرا پچتاتا ہوا کہا اے قوم کیا تم سے وعدہ نہ کیا تھا تمہارے رب نے اچھا وعدہ کیا طویل ہو گئ تم پر مدت یا چاہا تم نے کہ اترے تم پر غضب تمہارے رب کا اس لئے خلاف کیا تم نے میرا وعدہ [۸۷] ﴿86﴾

    بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے و لیکن اٹھوایا ہم سے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اُسکو پھینک دیا پھر اس طرح ڈھالا سامری نے [۸۸] ﴿87﴾

    پھر بنا نکالا اُنکے واسطے ایک بچھڑا ایک دھڑ جسمیں آواز گائے کی پھر کہنے لگے یہ معبود ہے تمہارا اور معبود ہے موسٰی کا سو وہ بھول گیا [۸۹] ﴿88﴾

    بھلا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ جواب تک نہیں دیتا اُنکو کسی بات کا اور اختیار نہیں رکھتا اُنکے برے کا اور نہ بھلے کا [۹۰] ﴿89﴾

    اور کہا تھا اُنکو ہارون نے پہلے سے اے قوم بات یہی ہے کہ تم بہک گئے اس بچھڑے سے اور تمہارا رب تو رحمٰن ہے سو میری راہ چلو اور مانو بات میری [۹۱] ﴿90﴾

    بولے ہم برابر اسی پر لگے بیٹھے رہیں گے جب تک لوٹ کر نہ آئے ہمارے پاس موسٰی [۹۲] ﴿91﴾

    کہا موسٰی نے اے ہارون کس چیز نے روکا تجھ کو جب دیکھا تھا تو نے کہ وہ بہک گئے ﴿92﴾

    کہ تو میرےپیچھے نہ آیا کیا تو نے رد کیا میرا حکم [۹۳] ﴿93﴾

    وہ بولا اے میری ماں کے جنے نہ پکڑ میری داڑھی اور نہ سر [۹۴] میں ڈرا کہ تو کہے گا پھوٹ ڈالدی تو نے بنی اسرائیل میں اور یاد نہ رکھی میری بات [۹۵] ﴿94﴾

    کہا موسٰی نے اب تیری کیا حقیقت ہے اے سامری [۹۶] ﴿95﴾

    بولا میں نے دیکھ لیا جو اوروں نے نہ دیکھا پھر بھر لی میں نے ایک مٹھی پاؤں کے نیچے سے اُس بھیجے ہوئے کے پھر میں نے وہی ڈالدی اور یہی صلاح دی مجھ کو میرے جی نے [۹۷] ﴿96﴾

    کہا موسٰی نے دور ہو تیرے لئے زندگی بھر تو اتنی سزا ہے کہ کہا کرے مت چھیڑو [۹۸] اور تیرے واسطے ایک وعدہ ہے وہ ہرگز تجھ سے خلاف نہ ہو گا [۹۹] اور دیکھ اپنے معبود کو جس پر تمام دن تو معتکف رہتا تھا ہم اسکو جلا دیں گے پھر بکھیر دیں گے دریا میں اڑا کر [۱۰۰] ﴿97﴾

    تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں سب چیز سما گئ ہے اُسکے علم میں [۱۰۱] ﴿98﴾

    یوں سناتےہیں ہم تجھ کو اُنکے احوال جو پہلے گذر چکے [۱۰۲] اور ہم نے دی تجھ کو اپنے پاس سے پڑھنے کی کتاب [۱۰۳] ﴿99﴾

    جو کوئی منہ پھیر لے اُس سے وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ ﴿100﴾

    سدا رہیں گے اس میں اور برا ہے اُن پر قیامت میں وہ بوجھ اٹھانے کا [۱۰۴] ﴿101﴾

    جس دن پھونکیں گے صور میں اور گھیر لائیں گے ہم گناہگاروں کو اُس دن نیلی آنکھیں [۱۰۵] ﴿102﴾

    چپکے چپکے کہتے ہونگے آپس میں تم نہیں رہے مگر دس دن [۱۰۶] ﴿103﴾

    ہم کو خوب معلوم ہے جو کچھ کہتے ہیں [۱۰۷] جب بولے گا اُن میں اچھی راہ روشن والا تم نہیں رہے مگر ایک دن [۱۰۸] ﴿104﴾

    اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کا حال سو تو کہہ اُنکو بکھیر دے گا میرا رب اڑا کر ﴿105﴾

    پھر کر چھوڑے گا زمین کو صاف میدان ﴿106﴾

    نہ دیکھے تو اُس میں موڑ اور نہ ٹیلا [۱۰۹] ﴿107﴾

    اُس دن پیچھے دوڑیں گے پکارنے والے کے ٹیڑھی نہیں جسکی بات [۱۱۰] اور دب جائیں گی آوازیں رحمٰن کے ڈر سے پھر تو نہ سنے گا مگر گھس گھسی آواز [۱۱۱] ﴿108﴾

    اُس دن کام نہ آئے گی سفارش مگر جسکو اجازت رحمٰن نے دی اور پسند کی اسکی بات [۱۱۲] ﴿109﴾

    وہ جانتا ہے جو کچھ ہے اُنکے آگے اور پیچھے اور یہ قابو میں نہیں لا سکتے اُسکو دریافت کر کر [۱۱۳] ﴿110﴾

    اور رگڑتے ہیں منہ آگے اس جیتے ہمیشہ رہنے والے کے [۱۱۴] اور خراب ہوا جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا [۱۱۵] ﴿111﴾

    اور جو کوئی کرے کچھ بھلائیاں اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو سو اُسکو ڈر نہیں بے انصافی کا اور نہ نقصان پہنچنے کا [۱۱۶] ﴿112﴾

    اور اسی طرح اتارا ہم نے قرآن عربی زبان کا اور پھیر پھیر کر سنائی ہم نے اُس میں ڈرانے کی باتیں تاکہ وہ پرہیز کریں یا ڈالے اُنکے دل میں سوچ [۱۱۷] ﴿113﴾

    سو بلند درجہ اللہ کا اُس سچے بادشاہ کا [۱۱۸] اور تو جلدی نہ کر قرآن کے لینے میں جب تک کہ پورا نہ ہو چکے اُس کا اترنا اور کہہ اے رب زیادہ کر میری سمجھ [۱۱۹] ﴿114﴾

    اور ہم نے تاکید کر دی تھی آدم کو اُس سے پہلے پھر بھول گیا اور نہ پائی ہم نے اسمیں کچھ ہمت [۱۲۰] ﴿115﴾

    اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر نہ مانا ابلیس نے ﴿116﴾

    پھر کہہ دیا ہم نے اے آدم یہ دشمن تیرا ہے اور تیرے جوڑے کا سو نکلوا نہ دے تمکو بہشت سے پھر تو پڑ جائے تکلیف میں [۱۲۱] ﴿117﴾

    تجھ کو یہ ملا ہے کہ نہ بھوکا ہو تو اُس میں اور نہ ننگا ﴿118﴾

    اور یہ کہ نہ پیاس کھینچے تو اس میں اور نہ دھوپ [۱۲۲] ﴿119﴾

    پھر جی میں ڈالا اُسکے شیطان نے کہا اے آدم میں بتاؤں تجھ کو درخت سدا زندہ رہنے کا اور بادشاہی جو پرانی نہ ہو [۱۲۳] ﴿120﴾

    پھر دونوں نے کھا لیا اُسمیں سے پھر کھل گئیں اُن پر اُنکی بری چیزیں اور لگے گانٹھنے اپنے اوپر پتے بہشت کے [۱۲۴] اور حکم ٹالا آدم نے اپنے رب کا پھر راہ سے بہکا ﴿121﴾

    پھر نواز دیا اُسکو اُسکے رب نے پھر متوجہ ہوا اُس پر اور راہ پر لایا [۱۲۵] ﴿122﴾

    فرمایا اترو یہاں سے دونوں اکٹھے رہو ایک دوسرے کے دشمن [۱۲۶] پھر اگر پہنچے تمکو میری طرف سے ہدایت [۱۲۷] پھر جو چلا میری بتلائی راہ پر سو نہ وہ بہکے گا اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا [۱۲۸] ﴿123﴾

    اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے تو اُسکو ملنی ہے گذران تنگی کی [۱۲۹] اور لائیں گے ہم اُسکو دن قیامت کے اندھا [۱۳۰] ﴿124﴾

    وہ کہے گا اے رب کیوں اٹھا لایا تو مجھ کو اندھا اور میں تو تھا دیکھنے والا [۱۳۱] ﴿125﴾

    فرمایا یونہی پہنچی تھیں تجھ کو میری آیتیں پھر تو نے انکو بھلا دیا اور اسی طرح آج تجھ کو بھلا دیں گے [۱۳۲] ﴿126﴾

    اور اسی طرح بدلہ دیں گے ہم اُسکو جو حد سے نکلا اور یقین نہ لایا اپنے رب کی باتوں پر [۱۳۳] اور آخرت کا عذاب سخت ہے اور بہت باقی رہنے والا [۱۳۴] ﴿127﴾

    سو کیا اُنکو سمجھ نہ آئی اس بات سے کہ کتنی غارت کر دیں ہم نے اُن سے پہلے جماعتیں یہ لوگ پھرتے ہیں اُنکی جگہوں میں [۱۳۵] اس میں خوب نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو ﴿128﴾

    اور اگر نہ ہوتی ایک بات کہ نکل چکی تیرے ب کی طرف سے تو ضرور ہو جاتی مٹھ بھیڑ اور اگر نہ ہوتا وعدہ مقرر کیا گیا [۱۳۶] ﴿129﴾

    سو تو سہتا رہ جو وہ کہیں [۱۳۷] اور پڑھتا رہ خوبیاں اپنے رب کی سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے [۱۳۸] اور کچھ گھڑیوں میں رات کی پڑھا کر [۱۳۹] اور دن کی حدوں پر [۱۴۰] شاید تو راضی ہو [۱۴۱] ﴿130﴾

    اور مت پسار اپنی آنکھیں اُس چیز پر جو فائدہ اٹھانے کو دی ہم نے ان طرح طرح کے لوگوں کو رونق دنیا کی زندگی کی اُنکے جانچے کو اور تیرے رب کی دی ہوئی روزی بہتر ہے اور بہت باقی رہنے والی [۱۴۲] ﴿131﴾

    اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی قائم رہ اُس پر [۱۴۳] ہم نہیں مانگتے تجھ سے روزی ہم روزی دیتے ہیں تجھ کو اور انجام بھلا ہے پرہیزگاری کا [۱۴۴] ﴿132﴾

    اور لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب سے [۱۴۵] کیا پہنچ نہیں چکی اُنکو نشانی اگلی کتابوں میں کی [۱۴۶] ﴿133﴾

    اور اگر ہم ہلاک کر دیتے اُنکو کسی آفت میں اس سے پہلے تو کہتے اے رب کیوں نہ بھیجا ہم تک کسی کو پیغام دیکر کہ ہم چلتے تیری کتاب پر ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ﴿134﴾

    تو کہہ ہر کوئی راہ دیکھتا ہے سو تم بھی راہ دیکھو اور آئندہ جان لو گے کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے راہ پائی [۱۴۷] ﴿135﴾

    Surah 21
    الانبیاء

    نزدیک آ گیا لوگوں کے اُنکے حساب کا وقت اور وہ بیخبر ٹلا رہے ہیں [۱] ﴿1﴾

    کوئی نصیحت نہیں پہنچتی اُنکو اُنکے رب سے نئی مگر اُسکو سنتے ہیں کھیل میں لگےہوئے ﴿2﴾

    کھیل میں پڑے ہیں دل اُنکے [۲] اور چھپا کر مصلحت کی بے انصافوں نے یہ شخص کون ہے ایک آدمی ہےتم ہی جیسا پھر کیوں پھنستے ہو اُسکے جاد ومیں آنکھوں دیکھتے [۳] ﴿3﴾

    اُس نے کہا میرے رب کو خبر ہے بات کی آسمان میں ہو یا زمین میں اور وہ ہے سننے والا جاننے والا [۴] ﴿4﴾

    اُسکو چھوڑ کر کہتے ہیں بیہودہ خواب ہیں نہیں جھوٹ باندھ لیا ہے نہیں شعر کہتا ہے پھر چاہیئے لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جیسے پیغام لیکر آئے ہیں پہلے [۵] ﴿5﴾

    نہیں مانا اُن سے پہلے کسی بستی نے جنکو غارت کر دیا ہم نے کیا اب یہ مان لیں گے [۶] ﴿6﴾

    اور پیغام نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے مگر یہی مردوں کے ہاتھ وحی بھیجتے تھے ہم اُنکو سو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے [۷] ﴿7﴾

    اور نہیں بنائے تھے ہم نے اُنکے ایسے بدن کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہ جانے والے [۸] ﴿8﴾

    پھر سچا کر دیا ہم نے اُن سے وعدہ سو بچا دیا اُنکو اور جسکو ہم نے چاہا اور غارت کر دیا حد سے نکلے والوں کو [۹] ﴿9﴾

    ہم نے اتاری ہے تمہاری طرف کتاب کہ اُس میں تمہارا ذکر ہے کیا تم سمجھتے نہیں [۱۰] ﴿10﴾

    اور کتنی پیس ڈالیں ہم نے بسیتاں جو تھیں گنہگار اور اٹھا کھڑے کئے اُنکے پیچھے اور لوگ [۱۱] ﴿11﴾

    پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی تب لگے وہاں سے ایڑ کرنے ﴿12﴾

    ایڑ مت کرو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید کوئی تمکو پوچھے [۱۲] ﴿13﴾

    کہنے لگے ہائے خرابی ہم تھے بیشک گنہگار ﴿14﴾

    پھر برابر یہی رہی اُنکی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کر دیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے [۱۳] ﴿15﴾

    اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو کچھ انکے بیچ میں ہےکھیلتے ہوئے [۱۴] ﴿16﴾

    اگر ہم چاہتے کہ بنا لیں کچھ کھلونا تو بنا لیتے ہم اپنے پاس سے اگر ہم کو کرنا ہوتا ﴿17﴾

    یوں نہیں پر ہم پھینک مارتے ہیں سچ کو جھوٹ پر پھر وہ اُس کا سر پھوڑ ڈالتا ہے پھر وہ جاتا رہتا ہے اور تمہارے لئے خرابی ہے اُن باتوں سے جو تم بتلاتے ہو [۱۵] ﴿18﴾

    اور اُسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں [۱۶] اور جو اُسکے نزدیک رہتے ہیں سرکشی نہیں کرتے اُسکی عبادت سے اور نہیں کرتے کاہلی ﴿19﴾

    یاد کرتےہیں رات اور دن نہیں تھکتے [۱۷] ﴿20﴾

    کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اور معبود زمین میں کہ وہ جلا اٹھائیں گے اُنکو [۱۸] ﴿21﴾

    اگر ہوتے ان دونوں میں اور معبود سوائے اللہ کے تو دونوں خراب ہو جاتے [۱۹] سو پاک ہے اللہ عرش کا مالک اُن باتوں سے جو یہ بتلاتے ہیں [۲۰] ﴿22﴾

    اُس سے پوچھا نہ جائے جو وہ کرے اور اِن سے پوچھا جائے [۲۱] ﴿23﴾

    کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اُس سے ورے اور معبود تو کہہ لاؤ اپنی سند [۲۲] یہی بات ہے میرے ساتھ والوں کی اور یہی بات ہے مجھ سے پہلوں کی کوئی نہیں پر وہ بہت لوگ نہیں سمجھتے سچی بات سو ٹلا رہے ہیں [۲۳] ﴿24﴾

    اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر اُسکو یہی حکم بھیجا کہ بات یوں ہے کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے میرے سو میری بندگی کرو [۲۴] ﴿25﴾

    اور کہتے ہں رحمٰن نے کر لیا کسی کو بیٹا وہ ہر گز اس لائق نہیں [۲۵] لیکن وہ بندے ہیں جنکو عزت دی ہے ﴿26﴾

    اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں [۲۶] ﴿27﴾

    اُسکو معلوم ہے جو اُنکے آگے ہیں اور پیچھے [۲۷] اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اُسکی جس سے اللہ راضی ہو [۲۸] اور وہ اُسکی ہیبت سے ڈرتے ہیں [۲۹] ﴿28﴾

    اور جو کوئی اُن میں کہے کہ میری بندگی ہے اس سے ورے سو اسکو ہم بدلہ دیں گے دوزخ یونہی ہم بدلہ دیتے ہیں بے انصافوں کو [۳۰] ﴿29﴾

    اور کیا نہیں دیکھا ان منکروں نے کہ آسمان اور زمین منہ بند تھے پھر ہم نے انکو کھول دیا [۳۱] اور بنائی ہم نے پانی سے ہر ایک چیز جس میں جان ہے [۳۲] پھر کیا یقین نہیں کرتے [۳۳] ﴿30﴾

    اور رکھ دیے ہم نے زمین میں بھاری بوجھ کبھی اُنکو لے کر جھک پڑے [۳۴] اور رکھیں اُس میں کشادہ راہیں تاکہ وہ راہ پائیں [۳۵] ﴿31﴾

    اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ [۳۶] اور وہ آسمان کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے [۳۷] ﴿32﴾

    اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند [۳۸] سب اپنے اپنے گھر میں پھرتے ہیں [۳۹] ﴿33﴾

    اور نہیں دیا ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کیلئے زندہ رہنا پھر کیا اگر تو مر گیا تو وہ رہ جائیں گے ﴿34﴾

    ہر جی کو چکھنی ہے موت [۴۰] اور ہم تمکو جانچتے ہیں برائی سے اور بھلائی سے آزمانے کو [۴۱] اور ہماری طرف پھر کر آ جاؤ گے [۴۲] ﴿35﴾

    اور جہاں تجھ کو دیکھا منکروں نے تو کوئی کام نہیں اُنکو تجھ سے مگر ٹھٹھا کرنا کیا یہی شخص ہے جو نام لیتا ہے تمہارے معبودوں کا اور وہ رحمٰن کے نام سے منکر ہیں [۴۳] ﴿36﴾

    بنا ہے آدمی جلدی کا اب دکھلاتا ہوں تمکو اپنی نشانیاں سو مجھ سے جلدی مت کرو [۴۴] ﴿37﴾

    اور کہتے ہیں کب ہو گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو [۴۵] ﴿38﴾

    اگر جان لیں یہ منکر اُس وقت کو کہ نہ روک سکیں گے اپنے منہ سے آگ اور نہ اپنی پیٹھ سے اور نہ اُنکو مدد پہنچے گی ﴿39﴾

    کچھ نہیں وہ آئے گی اُن پر ناگہاں پھر انکے ہوش کھو دیگی پھر نہ پھیر سکیں گے اُسکو اور نہ اُنکو فرصت ملے گی [۴۶] ﴿40﴾

    اور ٹھٹھے ہو چکے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر الٹ پڑی ٹھٹھا کرنے والوں پر اُن میں سے وہ چیز جس کا ٹھٹھا کرتے تھے [۴۷] ﴿41﴾

    تو کہہ کون نگہبانی کرتا ہے تمہاری رات میں اور دن میں رحمٰن سے [۴۸] کوئی نہیں وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں [۴۹] ﴿42﴾

    یا اُنکے واسطے کوئی معبود ہیں کہ اُنکو بچاتے ہیں ہمارے سوا وہ اپنی بھی مدد نہیں کر سکتے اور نہ اُنکی ہماری طرف سے رفاقت ہو [۵۰] ﴿43﴾

    کوئی نہیں پر ہم نے عیش دیا اُنکو اور اُنکے باپ دادوں کو یہاں تک کہ بڑھ گئ اُن پر زندگی [۵۱] پھر کیا نہیں دیکھتے کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اُسکے کناروں سے اب کیا وہ جیتنے والےہیں [۵۲] ﴿44﴾

    تو کہہ میں جو تمکو ڈراتا ہوں سو حکم کے موافق اور سنتے نہیں بہرے پکارنے کو جب کوئی اُنکو ڈر کی بات سنائے [۵۳] ﴿45﴾

    اور کہیں پہنچ جائے اُن تک ایک بھاپ تیرے رب کے عذاب کی تو ضرور کہنے لگیں ہائے کم بختی ہماری بیشک ہم تھے گنہگار [۵۴] ﴿46﴾

    اور رکھیں گے ہم ترازوئیں انصاف کی قیامت کے دن پھر ظلم نہ ہو گا کسی جی پر ایک ذرہ اور اگر ہو گا برابر رائی کے دانہ کی تو ہم لے آئیں گے اُسکو [۵۵] اور ہم کافی ہیں حساب کرنے کو [۵۶] ﴿47﴾

    اور ہم نے دی تھی موسٰی اور ہارون کو قضیے چکانے والی کتاب اور روشنی اور نصیحت ڈرنے والوں کو [۵۷] ﴿48﴾

    جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور وہ قیامت کا خطرہ رکھتے ہیں [۵۸] ﴿49﴾

    اور یہ ایک نصیحت ہے برکت کی جو ہم نے اتاری سو کیا تم اُسکو نہیں مانتے [۵۹] ﴿50﴾

    اور آگے دی تھی ہم نے ابراہیم کو اُسکی نیک راہ [۶۰] اور ہم رکھتے ہیں اُسکی خبر [۶۱] ﴿51﴾

    جب کہا اُس نے اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو [۶۲] ﴿52﴾

    بولے ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو انہی کی پوجا کرتے [۶۳] ﴿53﴾

    بولا مقرر ہے تم اور تمہارے باپ دادے صریح گمراہی میں [۶۴] ﴿54﴾

    بولے تو ہمارے پاس لایا ہے سچی بات یا تو کھلاڑیاں کرتا ہے [۶۵] ﴿55﴾

    بولا نہیں رب تمہارا وہی ہے رب آسمان اور زمین کا جس نے اُنکو بنایا اور میں اسی بات کا قائل ہوں [۶۶] ﴿56﴾

    اور قسم اللہ کی میں علاج کروں گا تمہارے بتوں کا جب تم جا چکو گے پیٹھ پھیر کر [۶۷] ﴿57﴾

    پھر کر ڈلا اُنکو ٹکڑے ٹکڑے مگر ایک بڑا اُن کا کہ شاید اُسکی طرف رجوع کریں [۶۸] ﴿58﴾

    کہنے لگے کس نے کیا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ وہ تو کوئی بے انصاف ہے [۶۹] ﴿59﴾

    وہ بولے ہم نے سنا ہے ایک جوان جو بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے اُسکو کہتے ہیں ابراہیم [۷۰] ﴿60﴾

    وہ بولے اُسکو لے آؤ لوگوں کے سامنے شاید وہ دیکھیں [۷۱] ﴿61﴾

    بولے کیا تو نےکیا ہے یہ ہمارے معبودوں کیساتھ اے ابراہیم ﴿62﴾

    بولا نہیں پر یہ کیا ہے اُنکے اس بڑے نے سو اُن سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں [۷۲] ﴿63﴾

    پھر سوچے اپنے جی میں پھر بولے لوگو تم ہی بے انصاف ہو [۷۳] ﴿64﴾

    پھر اوندھے ہو گئے سر جھکا کر [۷۴] تو تو جانتا ہے جیسا یہ بولتے ہیں [۷۵] ﴿65﴾

    بولا کیا پھر تم پوجتے ہو اللہ سے ورے ایسے کو جو تمہارا کچھ بھلا کرنے نہ برا ﴿66﴾

    بیزار ہوں میں تم سے اور جنکو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے کیا تم کو سمجھ نہیں [۷۶] ﴿67﴾

    بولے اسکو جلاؤ اور مدد کرو اپنے معبودوں کی اگر کچھ کرتے ہو [۷۷] ﴿68﴾

    ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور آرام کر ابراہیم پر [۷۸] ﴿69﴾

    اور چاہنے لگے اُس کا برا پھر اُنہی کو ہم نے ڈالا نقصان میں [۷۹] ﴿70﴾

    اور بچا نکالا ہم نے اُسکو اور لوط کو اُس زمین کی طرف جس میں برکت رکھی ہم نے جہان کے واسطے [۸۰] ﴿71﴾

    اور بخشا ہم نے اُسکو اسحٰق اور یعقوب دیا انعام میں [۸۱] اور سب کو نیک بخت کیا [۸۲] ﴿72﴾

    اور اُنکو کیا ہم نے پیشوا راہ بتلاتے تھے ہمارے حکم سے [۸۳] اور کہلا بھیجا ہم نے اُنکو کرنا نیکیوں کا اور قائم رکھنی نماز اور دینی زکوٰۃ [۸۴] اور وہ تھے ہماری بندگی میں لگے ہوئے [۸۵] ﴿73﴾

    اور لوط کو دیا ہم نے حکم اور سمجھ [۸۶] اور بچا نکالا اُسکو اس بستی سے جو کرتے تھے گندے کام وہ تھے لوگ بڑے نافرمان [۸۷] ﴿74﴾

    اور اُسکو لے لیا ہم نے اپنی رحمت میں وہ ہے نیک بختوں میں [۸۸] ﴿75﴾

    اور نوح کو جب اُس نے پکارا اُس سے پہلے [۸۹] پھر قبول کر لی ہم نے اُس کی دعا سو بچا دیا اُسکو اور اسکے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ سے ﴿76﴾

    اور مدد کی اُسکی اُن لوگوں پر جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں وہ تھے برے لوگ پھر ڈبا دیا ہم نے اُن سب کو [۹۰] ﴿77﴾

    اور داؤد اور سلیمان کو جب لگے فیصل کرنے کھیتی کا جھگڑا جب روند گئیں اُسکو رات میں ایک قوم کی بکریاں اور سامنے تھا ہمارے اُن کا فیصلہ ﴿78﴾

    پھر سمجھا دیا ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو اور دونوں کو دیا تھا ہم نے حکم اور سمجھ [۹۱] اور تابع کیے ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑ تسبیح پڑھا کرتے اور اڑتے جانور [۹۲] اور یہ سب کچھ ہم نے کیا [۹۳] ﴿79﴾

    اور اُسکو سکھلایا ہم نے بنانا ایک تمہارا لباس کہ بچاؤ ہو تمکو لڑائی میں [۹۴] سو کچھ تم شکر کرتے ہو [۹۵] ﴿80﴾

    اور سلیمان کے تابع کی ہوا زور سے چلنے والی کہ چلتی اسکے حکم اسے اُس زمین کی طرف جہاں برکت دی ہے ہم نے [۹۶] اور ہم کو سب چیز کی خبر ہے [۹۷] ﴿81﴾

    اور تابع کئے کتنے شیطان جو غوطہ لگاتے اُسکے واسطے اور بہت سے کام بناتے اسکے سوائے [۹۸] اور ہم نے اُنکو تھام رکھا تھا [۹۹] ﴿82﴾

    اور ایوب کو جس وقت پکارا اُس نے اپنے رب کو کہ مجھ پر پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم کرنے والا ﴿83﴾

    پھر ہم نے سن لی اُسکی فریاد سو دور کر دی جو اُس پر تھی تکلیف اور عطا کئے اُسکو اسکے گھر والے اور اتنے ہی اور اُنکے ساتھ [۱۰۰] رحمت اپنی طرف سے اور نصیحت بندگی کرنے والوں کو [۱۰۱] ﴿84﴾

    اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یہ سب ہیں صبر والے [۱۰۲] ﴿85﴾

    اور لے لیا ہم نے اُنکو اپنی رحمت میں وہ ہیں نیک بختوں میں ﴿86﴾

    اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصہ ہو کر [۱۰۳] پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے اُسکو [۱۰۴] پھر پکارا اُن اندھیروں میں [۱۰۵] کہ کوئی حاکم نہیں سوائے تیرے تو بے عیب ہے میں تھا گنہگاروں سے [۱۰۶] ﴿87﴾

    پھر سن لی ہم نے اُسکی فریاد اور بچا دیا اُسکو اُس گھٹنے سے اور یوں ہم بچا دیتےہیں ایمان والوں کو [۱۰۷] ﴿88﴾

    اور زکریا کو جب پکارا اُس نے اپنے رب کو اے رب نہ چھوڑ مجھ کو اکیلا [۱۰۸] اور تو ہے سب سے بہتر وارث [۱۰۹] ﴿89﴾

    پھر ہم نے سن لی اُسکی دعا اور بخشا اُسکو یحیٰی اور اچھا کر دیا اُسکی عورت کو [۱۱۰] وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز [۱۱۱] ﴿90﴾

    اور وہ عورت جس نے قابو میں رکھی اپنی شہوت [۱۱۲] پھر پھونک دی ہم نے اُس عورت میں اپنی روح [۱۱۳] اور کیا اُسکو اور اُسکے بیٹے کو نشانی جہان والوں کے واسطے [۱۱۴] ﴿91﴾

    یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں رب تمہارا سو میری بندگی کرو [۱۱۵] ﴿92﴾

    اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں اپنا کام [۱۱۶] سب ہمارےپاس پھر آئیں گے [۱۱۷] ﴿93﴾

    سو جو کوئی کرےکچھ نیک کام اور وہ رکھتا ہو ایمان سو اکارت نہ کریں گے اُسکی سعی کو اور ہم اُسکو لکھ لیتے ہیں [۱۱۸] ﴿94﴾

    اور مقرر ہو چکا ہر بستی پر جس کو غارت کر دیا ہم نے کہ وہ پھر کر نہیں آئیں گے [۱۱۹] ﴿95﴾

    یہاں تک کہ جب کھول دئے جائیں یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اوچان سے پھسلتے چلے آئیں [۱۲۰] ﴿96﴾

    اور نزدیک آ لگے سچا وعدہ پھر اس دم اوپر لگی رہ جائیں منکروں کی آنکھیں ہائے کمبختی ہماری ہم بے خبر رہے اس سے [۱۲۱] نہیں پر ہم تھے گنہگار [۱۲۲] ﴿97﴾

    تم اور جو کچھ تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے ایندھن ہے دوزخ کا تمکو اُس پر پہنچنا ہے [۱۲۳] ﴿98﴾

    اگر ہوتے یہ بت معبود تو نہ پہنچتے اُس پر اور سارے اُس میں سدا پڑے رہیں گے [۱۲۴] ﴿99﴾

    اُنکو وہاں چلانا ہے اور اُس میں کچھ نہ سنیں گے [۱۲۵] ﴿100﴾

    جنکے لئے پہلے سے ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی وہ اُس سے دور رہیں گے [۱۲۶] ﴿101﴾

    نہیں سنیں گے اُسکی آہٹ اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے [۱۲۷] ﴿102﴾

    نہ غم ہو گا اُنکو اس بڑی گھبراہٹ میں [۱۲۸] اور لینے آئیں گے اُنکو فرشتے آج دن تمہارا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا [۱۲۹] ﴿103﴾

    جس دن ہم لپیٹ دیں گے آسمان کو جیسے لپیٹتے ہیں طومار میں کاغذ [۱۳۰] جیسا سرے سے بنایا تھا ہم نے پہلی بار پھر اُسکو دہرائیں گے وعدہ ضرور ہو چکا ہے ہم پر ہم کو پورا کرنا ہے [۱۳۱] ﴿104﴾

    اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے [۱۳۲] ﴿105﴾

    اس میں مطلب کو پہنچتے ہیں لوگ بندگی والے [۱۳۳] ﴿106﴾

    اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر کر جہاں کے لوگوں پر [۱۳۴] ﴿107﴾

    تو کہہ مجھ کو تو حکم یہی آیا ہے کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے پھر کیا ہو تم حکمبرداری کرنے والے [۱۳۵] ﴿108﴾

    پھر اگر وہ منہ موڑیں تو تو کہدے میں نے خبر کر دی تمکو دونوں طرف باربار [۱۳۶] اور میں نہیں جانتا نزدیک ہے یا دور ہے جو تم سے وعدہ ہوا [۱۳۷] ﴿109﴾

    وہ رب جانتا ہے جو بات پکار کر کرو اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو [۱۳۸] ﴿110﴾

    اور میں نہیں جانتا شاید تاخیر میں تمکو جانچنا ہے اور فائدہ دینا ہے ایک وقت تک [۱۳۹] ﴿111﴾

    رسول نے کہا اے رب فیصلہ کر انصاف کا [۴۰] اور رب ہمارا رحمٰن ہے اُسی سے مدد مانگتے ہیں اُن باتوں پر جو تم بتلاتے ہو [۱۴۱] ﴿112﴾

    Surah 22
    الحج

    لوگو ڈرو اپنے رب سے بیشک بھونچال قیامت کا ایک بڑی چیز ہے ﴿1﴾

    جس دن اُسکو دیکھو گے بھول جائیگی ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلائے کو اور ڈال دیگی ہر پیٹ والی اپنا پیٹ اور تو دیکھے لوگوں پر نشہ اور اُن پر نشہ نہیں پر آفت اللہ کی سخت ہے [۱] ﴿2﴾

    اور بعضے لوگ وہ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں بیخبری سے [۲] اور پیروی کرتا ہے ہر شیطان سرکش کی [۳] ﴿3﴾

    جس کے حق میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اُسکا رفیق ہو سو وہ اُسکو بہکائے اور لیجائے عذاب میں دوزخ کے [۴] ﴿4﴾

    اے لوگو اگر تمکو دھوکا ہے جی اٹھنے میں تو ہم نے تمکو بنایا [۵] مٹی سے پھر قطرہ سے [۶] پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی نقشہ بنی ہوئی سے اور بدون نقشہ بنی ہوئی سے [۷] اس واسطے کہ تم کو کھول کر سنا دیں [۸] اور ٹھہرا رکھتے ہیں ہم پیٹ میں جو کچھ چاہیں ایک وقت معین تک [۹] پھر تم کو نکالتے ہیں لڑکا پھر جب تک کہ پہنچو اپنی جوانی کے زور کو اورکوئی تم میں سے قبضہ کر لیا جاتا ہے اور کوئی تم میں سے پھر چلایا جاتا ہے نکمی عمر تک تاکہ سمجھنے کے پیچھے کچھ نہ سمجھنے لگے [۱۰] اور تو دیکھتا ہے زمین خراب پڑی ہوئی پھر جہاں ہم نے اتارا اُس پر پانی تازی ہو گئ اور ابھری اور اگائیں ہر قسم قسم رونق کی چیزیں [۱۱] ﴿5﴾

    یہ سب کچھ اس واسطے کہ اللہ وہی ہے محقق اور وہ جِلاتا ہے مُردوں کو اور وہ ہر چیز کر سکتا ہے ﴿6﴾

    اور یہ کہ قیامت آنی ہے اُس میں دھوکا نہیں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا قبروں میں پڑے ہوؤں کو [۱۲] ﴿7﴾

    اور بعضا شخص وہ ہے جو جھگڑتا ہے اللہ کی بات میں بغیر جانے اور بغیر دلیل اور بدون روشن کتاب کے [۱۳] ﴿8﴾

    اپنی کروٹ موڑ کر [۱۴] تاکہ بہکائے اللہ کی راہ سے اُسکے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور چکھائیں گے ہم اُسکو قیامت کے دن جلن کی مار [۱۵] ﴿9﴾

    یہ اُسکی وجہ سے جو آگے بھیج چکے تیرے دو ہاتھ اور اُس وجہ سےکہ اللہ نہیں ظلم کرتا بندوں پر [۱۶] ﴿10﴾

    اور بعضا شخص وہ ہے کہ بندگی کرتا ہے اللہ کی کنارے پر پھر اگر پہنچی اُسکو بھلائی تو قائم ہو گیا اُس عبادت پر اور اگر پہنچ گئ اُسکو جانچ پھر گیا الٹا اپنے منہ پر گنوائی دنیا اور آخرت یہی ہے ٹوٹا صریح [۱۷] ﴿11﴾

    پکارتا ہے اللہ کے سوائے ایسی چیز کو کہ نہ اُسکا نقصان کرے اور نہ اُسکا فائدہ کرے یہی ہے دور جا پڑنا گمراہ ہو کر [۱۸] ﴿12﴾

    پکارے جاتا ہے اُسکو جس کا ضرر پہلے پہنچے نفع سے [۱۹] بیشک برا دوست ہے اور برا رفیق [۲۰] ﴿13﴾

    اللہ داخل کرے گا اُنکو جو ایمان لائے اور کیں بھلائیاں باغوں میں بہتی ہیں نیچے اُنکے نہریں [۲۱] اللہ کرتا ہے جو چاہے [۲۲] ﴿14﴾

    جسکو یہ خیال ہو کہ ہرگز نہ مدد کرے گا اُسکی اللہ دنیا میں اور آخرت میں تو تان لے ایک رسی آسمان کو پھر کاٹ ڈالے اب دیکھے کچھ جاتا رہا اُسکی اس تدبیر سے اُس کا غصہ [۲۳] ﴿15﴾

    اور یوں اتارا ہم نے یہ قرآن کھلی باتیں اور یہ ہے کہ اللہ سمجھا دیتا ہے جسکو چاہے [۲۴] ﴿16﴾

    جو لوگ مسلمان ہیں اور جو یہود ہیں اور صابئیں اور نصاریٰ اور مجوس [۲۵] اور جو شرک کرتے ہیں مقرر اللہ فیصلہ کرے گا اُن میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہے ہر چیز [۲۶] ﴿17﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اورتارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت آدمی [۲۷] اور بہت ہیں کہ اُن پر ٹھہر چکا عذاب [۲۸] اور جسکو اللہ ذلیل کرے اُسے کوئی نہیں عزت دینے والا اللہ کرتا ہے جو چاہے [۲۹] ﴿18﴾

    یہ دو مدعی ہیں جھگڑے ہیں اپنے رب پر [۳۰] سو جو منکر ہوئے اُنکے واسطے بیونتے ہیں کپڑے آگ کے [۳۱] ڈالتےہیں اُنکے سر پر جلتا پانی ﴿19﴾

    گل کر نکل جاتا ہے اُس سے جو کچھ اُنکے پیٹ میں ہے اور کھال بھی ﴿20﴾

    اور اُنکے واسطے ہتوڑے ہیں لوہے کے [۳۲] ﴿21﴾

    جب چاہیں کہ نکل پڑیں دوزخ سے گھٹنے کے مارے پھر ڈال دیے جائیں اُسکے اندر اور چکھتے رہو جلنے کا عذاب [۳۳] ﴿22﴾

    بیشک اللہ داخل کرے گا اُنکو جو یقین لائے اور کیں بھلائیاں باغوں میں بہتی ہیں انکے نیچےنہریں گہنا پہنائیں گے اُنکو وہاں کنگن سونے کے اور موتی [۳۴] اور اُنکی پوشاک ہے وہاں ریشم کی [۳۵] ﴿23﴾

    اور راہ پائی انہوں نے ستھری بات کی [۳۶] اور پائی اُس تعریفوں والے کی راہ [۳۷] ﴿24﴾

    جو لوگ منکر ہوئے اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے جو ہم نے بنائی سب لوگوں کے واسطے برابر ہے اس میں رہنے والا اور باہر سے آنے والا [۳۸] اور جو اُس میں چاہے ٹیڑھی راہ شرارت سے اسے ہم چکھائیں گے ایک عذاب دردناک [۳۹] ﴿25﴾

    اور جب ٹھیک کر دی ہم نے ابراہیم کو جگہ اُس گھر کی [۴۰] کہ شریک نہ کرنا میرے ساتھ کسی کو [۴۱] اور پاک رکھ میرا گھر طواف کرنے والوں کے واسطے اور کھڑے رہنے والوں کے اور رکوع و سجود والوں کے [۴۲] ﴿26﴾

    اور پکار دے لوگوں میں حج کے واسطے کہ آئیں تیری طرف پیروں چل کر اور سوار ہو کر دبلے دبلے اونٹوں پر چلے آئیں راہوں دور سے [۴۳] ﴿27﴾

    تاکہ پہنچیں اپنے فائدہ کی جگہوں پر [۴۴] اور پڑھیں اللہ کا نام کئ دن جو معلوم ہیں ذبح پر چوپایوں مواشی کے جو اللہ نے دیے ہیں اُنکو [۴۵] سو کھاؤ اُس میں سے اور کِھلاؤ برے حال کے محتاج کو [۴۶] ﴿28﴾

    پھر چاہیئے کہ ختم کر دیں اپنا میل کچیل اور پوری کریں اپنی منتیں اور طواف کریں اس قدیم گھر کا [۴۷] ﴿29﴾

    یہ سن چکے اور جو کوئی بڑائی رکھے اللہ کی حرمتوں کی سو وہ بہتر ہے آُسکے لئے اپنے رب کے پاس [۴۸] اور حلال ہیں تمکو چوپائے [۴۹] مگر جو تمکو سناتےہیں [۵۰] سو بچتے رہو بتوں کی گندگی سے [۵۱] اور بچتے رہو جھوٹی بات سے [۵۲] ﴿30﴾

    ایک اللہ کی طرف ہو کر نہ کہ اُسکے ساتھ شریک بنا کر [۵۳] اور جس نے شریک بنایا اللہ کا سو جیسے گر پڑا آسمان سے پھر اُچکتے ہیں اُسکو اڑنے والے مردار خوار یا جا ڈالا اُسکو ہوا نے نے کسی دور مکان میں [۵۴] ﴿31﴾

    یہ سن چکے اور جو کوئی ادب رکھے اللہ کے نام لگی چیزوں کا سو وہ دل کی پرہیزگاری کی بات ہے [۵۵] ﴿32﴾

    تمہارے واسطے چوپایوں میں فائدے ہیں ایک مقرر وعدہ تک پھر اُنکو پہنچنا اُس قدیم گھر تک [۵۶] ﴿33﴾

    اور ہر امت کے واسطے ہم نے مقرر کر دی ہے قربانی کہ یاد کریں اللہ کے نام ذبح پر چوپایوں کے جو اُنکو (اللہ نے دیے) سو اللہ تمہارا ایک اللہ ہے سو اسی کے حکم میں رہو [۵۷] اور بشارت سنا دے عاجزی کرنے والوں کو [۵۸] ﴿34﴾

    وہ کہ جب نام لیجئے اللہ کا ڈر جائیں انکے دل اور سہنے والے اُسکو جو اُن پر پڑے [۵۹] اور قائم رکھنے والے نماز کے اورہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں [۶۰] ﴿35﴾

    اور کعبہ کے چڑھانے کے اونٹ ٹھہرائے ہیں ہم نے تمہارے واسطے نشانی اللہ کے نام کی تمہارے واسطے اس میں بھلائی ہے سو پڑھو اُن پر نام اللہ کا قطار باندھ کر پھر جب گر پڑے اُنکی کروٹ تو کھاؤ اُس میں سے[۶۱] اور کھلاؤ صبر سے بیٹھے کو اوربیقراری کرتے کو [۶۲] اسی طرح تمہارے بس میں کر دیا ہم نے اُن جانوروں کو تاکہ تم احسان مانو [۶۳] ﴿36﴾

    اللہ کو نہیں پہنچتا اُن کا گوشت اور نہ اُن کا لہو لیکن اُسکو پہنچتا ہے تمہارے دل کا ادب [۶۴] اسی طرح اُنکو بس میں کر دیا تمہارے کہ اللہ کی بڑائی پڑھو اس بات پر کہ تم کو راہ سجھائی اور بشارت سنا دے نیکی والوں کو [۶۵] ﴿37﴾

    اللہ دشمنوں کو ہٹا دے گا ایمان والوں سے [۶۶] اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی دغاباز نا شکر [۶۷] ﴿38﴾

    حکم ہوا اُن لوگوں کو جن سے کافر لڑتے ہیں اس واسطے کہ اُن پر ظلم ہوا [۶۸] اور اللہ اُنکی مدد کرنے پر قادر ہے [۶۹] ﴿39﴾

    وہ لوگ جنکو نکالا اُنکے گھروں سے اور دعویٰ کچھ نہیں سوائے اسکے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے [۷۰] اور اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک کو دوسرے سے تو ڈھائے جاتے تکئے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت اور اللہ مقرر مدد کرے گا اُسکی جو مدد کرے گا اُسکی بیشک اللہ زبردست ہے زور والا [۷۱] ﴿40﴾

    وہ لوگ کہ اگر ہم اُنکو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کر دیں بھلے کام کا اور منع کریں برائی سے [۷۲] اور اللہ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام کا [۷۳] ﴿41﴾

    اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو اُن سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود ﴿42﴾

    اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم ﴿43﴾

    اور مدین کے لوگ [۷۴] اور موسٰی کو جھٹلایا [۷۵] پھر میں نے ڈھیل دی منکروں کر پھر پکڑ لیا اُنکو تو کیسا ہوا میرا انکار [۷۶] ﴿44﴾

    سو کتنی بستیاں ہم نے غارت کر ڈالیں اور وہ گنہگار تھیں اب وہ گری پڑی ہیں اپنی چھتوں پر [۷۷] اور کتنے کونئیں نکمے پڑے اور کتنے محل گچ کاری کے [۷۸] ﴿45﴾

    کیا سیر نہیں کی ملک کی جو اُنکے دل ہوتے جن سے سمجھتے یا کان ہوتے جن سے سنتے [۷۹] سو کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں پر اندھے ہو جاتے ہیں دل جو سینوں میں ہیں [۸۰] ﴿46﴾

    اور تجھ سے جلدی مانگتے ہیں عذاب اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ [۸۱] اور ایک دن تیرے رب کے یہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو [۸۲] ﴿47﴾

    اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے اُنکو ڈھیل دی اور وہ گنہگار تھیں پھر میں نے اُنکو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے [۸۳] ﴿48﴾

    تو کہہ اے لوگو میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تمکو کھول کر [۸۴] ﴿49﴾

    سو جو لوگ یقین لائے اور کیں بھلائیاں اُنکے گناہ بخش دیتے ہیں اور اُنکو روزی ہے عزت کی [۸۵] ﴿50﴾

    اور جو دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے ﴿51﴾

    اور جو رسول بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے یا نبی سو جب لگا خیال باندھنے شیطان نے ملا دیا اُسکے خیال میں پھر اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کا ملایا ہوا پھر پکی کر دیتا ہے اپنی باتیں اور اللہ سب خبر رکھتا ہے حکمتوں والا [۸۶] ﴿52﴾

    اس واسطے کہ جو کچھ شیطان نے ملایا اس سے جانچے اُنکو کہ جنکے دل میں روگ ہیں اور جنکے دل سخت ہیں اور گنہگار تو ہیں مخالفت میں دور جا پڑے ﴿53﴾

    اور اس واسطے کہ معلوم کر لیں وہ لوگ جنکو سمجھ ملی ہے کہ یہ تحقیق ہے تیرے رب کی طرف سے پھر اس پر یقین لائیں اور نرم ہو جائیں اُسکے آگے اُنکے دل اور اللہ سمجھانے والا ہے یقین لانے والوں کو راہ سیدھی [۸۷] ﴿54﴾

    اور منکروں کوہمیشہ رہے گا اُس میں دھوکا جب تک کہ آ پہنچے اُن پر قیامت بیخبری میں یا آ پہنچے اُن پر آفت ایسے دن کی جس میں راہ نہیں خلاصی کی [۸۸] ﴿55﴾

    راج اُس دن اللہ کا ہے اُن میں فیصلہ کرے گا [۸۹] سو جو یقین لائے اور کیں بھلائیاں نعمت کے باغوں میں میں ہیں ﴿56﴾

    اور جو منکر ہوئے اور جھٹلائیں ہماری باتیں سو انکے لئے ہے ذلت کا عذاب ﴿57﴾

    اور جو لوگ گھر چھوڑ آئے اللہ کی راہ میں پھر مارے گئے یا مر گئے البتہ اُنکو دے گا اللہ روزی خاصی اور االلہ ہے سب سے بہتر روزی دینے والا ﴿58﴾

    البتہ پہنچائے گا اُنکو ایک جگہ جسکو پسند کریں گے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے تحمل والا [۹۰] ﴿59﴾

    یہ سن چکے اور جس نے بدلہ لیا جیسا کہ اُسکو دکھ دیا تھا پھر اُس پر کوئی زیادتی کرے تو البتہ اُسکی مدد کرے گا اللہ [۹۱] بیشک اللہ درگذر کرنے والا بخشنے والا ہے [۹۲] ﴿60﴾

    یہ اس واسطے کہ اللہ لے لیتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات میں [۹۳] اور اللہ سنتا دیکھتا ہے [۹۴] ﴿61﴾

    یہ اس واسطے کہ اللہ وہی ہے صحیح اور جسکو پکارتے ہیں اُسکے سوائے وہی ہے غلط اور اللہ وہی ہے سب سے اوپر بڑا [۹۵] ﴿62﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر زمین ہو جاتی ہے سر سبز [۹۶] بیشک اللہ جانتا ہے چھپی تدبیریں خبردار ہے [۹۷] ﴿63﴾

    اُسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ وہی ہے بے پروا تعریفوں والا [۹۸] ﴿64﴾

    تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے بس میں کردیا تمہارے جو کچھ ہے زمین میں اور کشتی کو جو چلتی ہے دریا میں اُسکے حکم سے اور تھام رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے زمین پر مگر اُسکے حکم سے بیشک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا مہربان ہے [۹۹] ﴿65﴾

    اور اُسی نے تمکو جلایا پھر مارتا ہے پھر زندہ کرے گا [۱۰۰] بیشک انسان ناشکر ہے [۱۰۱] ﴿66﴾

    ہر امت کے لئے ہم نے مقرر کر دی ایک راہ بندگی کی کہ وہ اُسی طرح کرتے ہیں بندگی سو چاہئے تجھ سے جھگڑا نہ کریں اس کام میں اور تو بلائے جا اپنے رب کی طرف بیشک تو ہے سیدھی راہ پر سوجھ والا ﴿67﴾

    اور اگر تجھ سے جھگڑنے لگیں تو تو کہہ اللہ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو ﴿68﴾

    اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کے دن جس چیز میں تمہاری راہ جدا جدا تھی [۱۰۲] ﴿69﴾

    کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمیں میں یہ سب لکھا ہوا ہے کتاب میں یہ اللہ پر آسان ہے [۱۰۳] ﴿70﴾

    اور پوجتے ہیں اللہ کے سوائے اس چیز کو جسکی سند نہیں اتاری اُس نے اور جسکی خبر نہیں اُنکو [۱۰۴] اور بے انصافوں کا کوئی نہیں مددگار [۱۰۵] ﴿71﴾

    اور جب سنائے اُنکو ہماری آیتیں صاف تو پہچانے تو منکروں کے منہ کی بری شکل نزدیک ہوتے ہیں کہ حملہ کر پڑیں اُن پر جو پڑھتے ہیں اُنکے پاس ہماری آیتیں [۱۰۶] تو کہہ میں تمکو بتلاؤں ایک چیز اس سے بدتر وہ آگ ہے اس کا وعدہ کر دیا ہے اللہ نے منکروں کو اور وہ بہت بری ہے پھر جانے کی جگہ [۱۰۷] ﴿72﴾

    اے لوگو ایک مثل کہی ہے سو اس پر کان رکھو [۱۰۸] جنکو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے ہرگز نہ بنا سکیں گے ایک مکھی اگرچہ سارے جمع ہو جائیں اور اگر کچھ چھین لے اُن سے مکھی چھڑا نہ سکیں وہ اس سے بودا ہے چاہنے والا اور جنکو چاہتا ہے [۱۰۹] ﴿73﴾

    اللہ کی قدر نہیں سمجھے جیسی اُسکی قدر ہے بیشک اللہ زور آور ہے زبردست [۱۱۰] ﴿74﴾

    اللہ چھانٹ لیتا ہے فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے اور آدمیوں میں [۱۱۱] اللہ سنتا دیکھتا ہے [۱۱۲] ﴿75﴾

    جانتا ہے جو کچھ اُنکے آگے ہے اور جو کچھ اُنکے پیچھے اور اللہ تک پہنچ ہے ہر کام کی [۱۱۳] ﴿76﴾

    اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور بندگی کرو اپنے رب کی اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو [۱۱۴] ﴿77﴾

    اور محنت کرو اللہ کے واسطے جیسی کہ چاہئے اُسکے واسطے محنت [۱۱۵] اس نے تم کو پسند کیا [۱۱۶] اور نہیں رکھی تم پر دین میں کچھ مشکل [۱۱۷] دین تمہارے باپ ابراہیم کا [۱۱۸] اُسی نے نام رکھا تمہارا مسلمان پہلے سے اور اس قرآن میں [۱۱۹] تاکہ رسول ہو بتانے والا تم پر اور تم ہو بتانے والے لوگوں پر [۱۲۰] سو قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور مضبوط پکڑو اللہ کو وہ تمہارا مالک ہے سو خوب مالک ہے اور خوب مددگار [۱۲۱] ﴿78﴾

    Surah 23
    المومنون

    کام نکال لے گئے ایمان والے ﴿1﴾

    جو اپنی نماز میں جھکنے والے ہیں [۱] ﴿2﴾

    اور جو نکمی بات پر دھیان نہیں کرتے [۲] ﴿3﴾

    اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں [۳] ﴿4﴾

    اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں ﴿5﴾

    مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر سو اُن پر نہیں کچھ الزام ﴿6﴾

    پھر جو کوئی ڈھونڈے اسکےسوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے [۴] ﴿7﴾

    اور جو اپنی امانتوں سے اور اپنے قرار سے خبردار ہیں [۵] ﴿8﴾

    اور جو اپنی نمازوں کی خبر رکھتے ہیں [۶] ﴿9﴾

    وہی ہیں میراث لینے والے ﴿10﴾

    جو میراث پائیں گے باغ ٹھنڈی چھاؤں کے [۷] وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ﴿11﴾

    اور ہم نے بنایا آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے [۸] ﴿12﴾

    پھر ہم نے رکھا اُسکو پانی کی بوند کر کے ایک جمے ہوئے ٹھکانہ میں [۹] ﴿13﴾

    پھر بنایا اس بوند سے لہو جما ہوا پھر بنائی اس لہو جمے ہوئے سے گوشت کی بوٹی پھر بنائیں اُس بوٹی سےہڈیاں پھر پہنایا ہڈیوں پر گوشت [۱۰] پھر اٹھا کھڑا کیا اسکو ایک نئی صورت میں [۱۱] سو بڑی برکت اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے [۱۲] ﴿14﴾

    پھر تم اسکے بعد مرو گے [۱۳] ﴿15﴾

    پھر تم قیامت کے دن کھڑے کئےجاؤ گے [۱۴] ﴿16﴾

    اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے اوپر سات رستے [۱۵] اور ہم نہیں ہیں خلق سے بے خبر [۱۶] ﴿17﴾

    اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی ماپ کر [۱۷] پھر اُسکو ٹھہرا دیا زمین میں [۱۸] اور ہم اُسکو لیجائیں تو لیجا سکتے ہیں [۱۹] ﴿18﴾

    پھر اگا دیے تمہارے واسطے اُس سے باغ کھجور اور انگور کے تمہارے واسطے ان میں میوے ہیں بہت اور اُنہی میں سے کھاتے ہو [۲۰] ﴿19﴾

    اور وہ درخت جو نکلتا ہے سینا پہاڑ سے لے اگتا ہے تیل اور روٹی ڈبونا کھانے والوں کے واسطے [۲۱] ﴿20﴾

    اور تمہارے چوپایوں میں دھیان کرنے کی بات ہے پلاتے ہیں ہم تمکو اُنکے پیٹ کی چیز سے اور تمہارے لئے اُن میں بہت فائدے ہیں اور بعضوں کو کھاتے ہو [۲۲] ﴿21﴾

    اور اُن پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو [۲۳] ﴿22﴾

    اور ہم نے بھیجا نوح کو اُسکی قوم کے پاس تو اُس نے کہا اے قوم بندگی کرو اللہ کی تمہارا کوئی حاکم نہیں اُسکے سوائے کیا تم ڈرتے نہیں ﴿23﴾

    تب بولے سردار جو کافر تھے اُسکی قوم میں یہ کیا ہے آدمی ہے جیسے تم [۲۴] چاہتا ہے کہ بڑائی کرے تم پر اور اگر اللہ چاہتا تو اتارتا فرشتے [۲۵] ہم نے یہ نہیں سنا اپنے اگلے باپ دادوں میں [۲۶] ﴿24﴾

    اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے کہ اسکو سودا ہے سو راہ دیکھو اسکی ایک وقت تک [۲۷] ﴿25﴾

    بولا اے رب تو مدد کر میری کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا [۲۸] ﴿26﴾

    پھر ہم نے حکم بھیجا اُسکو کہ بنا کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے پھر جب پہنچے ہمارا حکم اور ابلے تنور تو تو ڈال لے کشتی میں ہر چیز کا جوڑا دو دو اور اپنے گھر کے لوگ [۲۹] مگر جسکی قسمت میں پہلے سے ٹھہر چکی ہے بات [۳۰] اور مجھ سے بات نہ کر ان ظالموں کے واسطے بیشک اُنکو ڈوبنا ہے [۳۱] ﴿27﴾

    پھر جب چڑھ چکے تو اور جو تیرے ساتھ ہے کشی پر تو کہہ شکر اللہ کا جس نے چھڑایا ہمکو گنہگار لوگوں سے [۳۲] ﴿28﴾

    اور کہہ اے رب اتار مجھ کو برکت کا اتارنا اور تو ہے بہتر اتارنے والا [۳۳] ﴿29﴾

    اس میں نشانیاں ہیں اور ہم ہیں جانچنے والے [۳۴] ﴿30﴾

    پھر پیدا کی ہم نے اُن سے پیچھے ایک جماعت اور [۳۵] ﴿31﴾

    پھر بھیجا ہم نے اُن میں ایک رسول اُن میں کا [۳۶] کہ بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا حاکم اُسکے سوائے پھر کیا تم ڈرتے نہیں ﴿32﴾

    اور بولے سردار اُسکی قوم کے جو کافر تھے اور جھٹلاتے تھے آخرت کی ملاقات کو اور آرام دیا تھا اُنکو ہم نے دنیا کی زندگی میں [۳۷] اور کچھ نہیں یہ ایک آدمی ہے جیسے تم، کھاتا ہے جس قسم سے تم کھاتے ہو اور پیتا ہے جس قسم سے تم پیتے ہو [۳۸] ﴿33﴾

    اور کہیں تم چلنے لگے کہنے پر ایک آدمی کے اپنے برابر کے تو تم بیشک خراب ہوئے [۳۹] ﴿34﴾

    کیا تم کو وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جاؤ اور ہو جاؤ مٹی اور ہڈیاں تو تمکو نکلنا ہے ﴿35﴾

    کہاں ہو سکتا ہے کہاں ہوسکتا ہے جو تم سے وعدہ ہوتا ہے [۴۰] ﴿36﴾

    اور کچھ نہیں یہی جینا ہے ہمارا دنیا کا مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمکو پھر اٹھنا نہیں [۴۱] ﴿37﴾

    اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے باندھ لایا ہے اللہ پر جھوٹ [۴۲] اور اُسکو ہم نہیں ماننے والے ﴿38﴾

    بولا اے رب میری مدد کر کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا [۴۳] ﴿39﴾

    فرمایا اب تھوڑے دنوں میں صبح کو رہ جائیں گے پچتاتے [۴۴] ﴿40﴾

    پھر پکڑا اُنکو چنگھاڑ نے تحقیق [۴۵] پھر کر دیا ہم نے اُنکو کوڑا [۴۶] سو دور ہو جائیں گنہگار لوگ [۴۷] ﴿41﴾

    پھر پیدا کیں ہم نے اُن سے پیچھے جماعتیں اور ﴿42﴾

    نہ آگے جائے کوئی قوم اپنے وعدہ سے اور نہ پیچھے رہے [۴۸] ﴿43﴾

    پھر بھیجتے رہے ہم اپنے رسول لگاتار جہاں پہنچا کسی امت کے پاس اُن کا رسول اُسکو جھٹلا دیا پھر چلاتے گئے ہیں ہم ایک کے پیچھے دوسرے اور کر ڈالا اُنکو کہانیاں [۴۹] سو دو ہو جائیں جو لوگ نہیں مانتے [۵۰] ﴿44﴾

    پھر بھیجا ہم نے موسٰی اور اُسکے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں دیکر اور کھلی سند ﴿45﴾

    فرعون اور اُسکے سرداروں کے پاس پھر لگے بڑائی کرنے اور وہ لوگ زور پر چڑھ رہے تھے [۵۱] ﴿46﴾

    سو بولے کیا ہم مانیں گے اپنی برابر کے دو آدمیوں کو اور اُنکی قوم ہمارے تابعدار ہیں [۵۲] ﴿47﴾

    پھر جھٹلایا اُن دونوں کو پھر ہو گئے غارت ہونے والوں میں ﴿48﴾

    اور ہم نے دی موسٰی کو کتاب تاکہ وہ راہ پائیں [۵۳] ﴿49﴾

    اور بنایا ہم نے مریم کے بیٹے اور اُسکی ماں کو ایک نشانی [۵۴] اور اُنکو ٹھکانا دیا ایک ٹیلہ پر جہاں ٹھہرنے کا موقع تھا اور پانی نتھرا [۵۵] ﴿50﴾

    اے رسولو کھاؤ ستھری چیزیں اور کام کرو بھلا [۵۶] جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں [۵۷] ﴿51﴾

    اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو ﴿52﴾

    پھر پھوٹ ڈال کر کر لیا اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے [۵۸] ہرفرقہ جو اُنکے پاس ہے اُس پر ریجھ رہے ہیں [۵۹] ﴿53﴾

    سو چھوڑ دے تو اُنکو اُنکی بیہوشی میں ڈوبے ایک وقت تک [۶۰] ﴿54﴾

    کیا وہ خیال کرتےہیں کہ یہ جو ہم اُنکو دیے جاتے ہیں مال اور اولاد ﴿55﴾

    سو دوڑ دوڑ کر پہنچا رہے ہیں ہم اُنکو بھلائیاں [۶۱] یہ بات نہیں وہ سمجھتے نہیں [۶۲] ﴿56﴾

    البتہ جو لوگ اپنے رب کے خوف سے اندیشہ رکھتے ہیں [۶۳] ﴿57﴾

    اور جو لوگ اپنے رب کی باتوں پر یقین کرتے ہیں [۶۴] ﴿58﴾

    اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے [۶۵] ﴿59﴾

    اور جو لوگ کہ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں وہ اور اُنکے دل ڈر رہے ہیں اس لئے کہ انکو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے [۶۶] ﴿60﴾

    وہ لوگ دوڑ دوڑ کر لیتے ہیں بھلائیاں اور وہ ان پر پہنچے سب سے آگے [۶۷] ﴿61﴾

    اور ہم کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اسکی گنجائش کے موافق اور ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بولتا ہے سچ اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۶۸] ﴿62﴾

    کوئی نہیں انکے دل بیہوش ہیں اس طرف اور انکو اور کام لگ رہے ہیں اسکے سوائے کہ وہ انکو کر رہے ہیں [۶۹] ﴿63﴾

    یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم اُنکے آسودہ لوگوں کو آفت میں تبھی وہ لگیں گے چلانے ﴿64﴾

    مت چلاؤ آج کے دن تم ہم سے چھوٹ نہ سکو گے [۷۰] ﴿65﴾

    تم کو سنائی جاتی تھیں میری آیتیں تو تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے۔ ﴿66﴾

    اس سے تکبر کر کے [۷۱] ایک قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے [۷۲] ﴿67﴾

    سو کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا اس کلام میں [۷۳] یا آئی ہے ان کے پاس ایسی چیز جو نہ تھی ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس [۷۴] ﴿68﴾

    یا پہچانا نہیں انہوں نے اپنے پیغام لانے والوں کو سو وہ اس کو اوپرا سمجھتے ہیں [۷۵] ﴿69﴾

    یا کہتے ہیں ان کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی باتے اور ان بہتوں کو سچی بات بری لگتی ہے [۷۶] ﴿70﴾

    اور اگر سچا رب چلے ان کی خوشی پر تو خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے [۷۷] کوئی نہیں ہم ﴿71﴾

    یا تو ان سے مانگتا ہے کچھ محصول سو محصول تیرے رب کا بہتر ہے اور وہ ہے بہتر روزی دینے والا [۸۰] ﴿72﴾

    اور تو تو بلاتا ہے ان کو سیدھی راہ پر ﴿73﴾

    اور جو لوگ نہیں مانتے آخرت کو راہ سے ٹیڑھے ہو گئے ہیں [۸۱] ﴿74﴾

    اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور کھول دیں جو تکلیف پہنچی ان کو تو بھی برابر لگے رہیں گے اپنی شرارت میں بہکےہوئے [۸۲] ﴿75﴾

    اور ہم نے پکڑا تھا ان کو آفت میں پھر نہ عاجزی کی اپنے رب کے آگے اور نہ گڑگڑائے [۸۳] ﴿76﴾

    یہاں تک کہ جب کھول دیں ہم ان پر دروازہ ایک سخت آفت کا تب اس میں ان کی آس ٹوٹے گی [۸۴] ﴿77﴾

    اور اسی نے بنا دئے تمہارےکان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو [۸۵] ﴿78﴾

    اور اسی نے تم کو پھیلا رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہو کر جاؤ گے [۸۶] ﴿79﴾

    اور وہی ہے جلاتا اور مارتا اور اسی کا کام ہے بدلنا رات اور دن کا سو کیا تم کو سمجھ نہیں [۸۷] ﴿80﴾

    کوئی بات نہیں یہ تو وہی کہہ رہے ہیں جیسا کہا کرتے تھے پہلے لوگ ﴿81﴾

    کہتے ہیں کیا جب ہم مر گئے اور ہو گئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو زندہ ہو کر اٹھنا ہے ﴿82﴾

    وعدہ دیا جاتا ہے ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو یہی پہلے سے اور کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں پہلوں کی [۸۸] ﴿83﴾

    تو کہہ کس کی ہے زمین اور جو کوئی اس میں ہے بتاؤ اگر تم جانتے ہو ﴿84﴾

    اب کہیں گے سب کچھ اللہ کا ہے تو کہہ پھر تم سوچتے نہیں [۸۹] ﴿85﴾

    تو کہہ کون ہے مالک ساتوں آسمان کا اور مالک اس بڑے تخت کا ﴿86﴾

    اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر تم ڈرتے نہیں [۹۰] ﴿87﴾

    تو کہہ کس کے ہاتھ میں ہے حکومت ہر چیز کی اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا بتاؤ اگر تم جانتے ہو ﴿88﴾

    اب بتائیں گے اللہ کو [۹۱] تو کہہ پھر کہاں سے تم پر جادو آ پڑتا ہے [۹۲] ﴿89﴾

    کوئی نہیں ہم نے ان کو پہنچایا سچ اور وہ البتہ جھوٹے ہیں [۹۳] ﴿90﴾

    اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے یوں ہوتا تو لیجاتا ہر حکم والا اپنی بنائی چیز کو اور چڑھائی کرتا ایک پر ایک [۹۴] اللہ نرالا (پاک) ہے ان کی بتلائی باتوں سے [۹۵] ﴿91﴾

    جاننے والا چھپے اور کھلے کا وہ بہت اوپر ہے اس سے جسکو یہ شریک بتلاتے ہیں [۹۶] ﴿92﴾

    تو کہہ اے رب اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے ﴿93﴾

    تو اے رب مجھ کو نہ کریو ان گنہگار لوگوں میں [۹۷] ﴿94﴾

    اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھلا دیں جو ان سےوعدہ کر دیا ہے ﴿95﴾

    بری بات کے جواب میں وہ کہہ جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں [۹۸] ﴿96﴾

    اور کہہ اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے [۹۹] ﴿97﴾

    اور پناہ تیری چاہتا ہوں اے رب اس سے کہ میرے پاس آئیں [۱۰۰] ﴿98﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچے ان میں کسی کو موت کہے گا اے رب مجھ کو پھر بھیجدو ﴿99﴾

    شاید کچھ میں بھلا کام کر لوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا [۱۰۱] ہر گز نہیں یہ ایک بات ہے کہ وہی کہتا ہے [۱۰۲] اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں [۱۰۳] ﴿100﴾

    پھر جب پھونک ماریں صور میں تو نہ قرابتیں ہیں ان میں اس دن اور نہ ایک دوسرے کو پوچھے [۱۰۴] ﴿101﴾

    سو جسکی بھاری ہوئی تول تو وہی لوگ کام لے نکلے ﴿102﴾

    اور جس کی ہلکی نکلی تول سو وہی لوگ ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان دوزخ ہی میں رہا کریں گے ﴿103﴾

    جھلس دے گی انکے منہ کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہو رہے ہوں گے [۱۰۵] ﴿104﴾

    کیا تم کو سنائی نہ تھیں ہماری آیتیں پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے [۱۰۶] ﴿105﴾

    بولے اے رب زور کیا ہم پر ہماری کم بختی نے اور رہے ہم لوگ بہکے ہوئے ﴿106﴾

    اے ہمارے رب نکال لے ہم کو اس میں سے اگر ہم پھر کریں تو ہم گنہگار [۱۰۷] ﴿107﴾

    فرمایا پڑے رہو پھٹکار ے ہوئے اس میں اور مجھ سے نہ بولو ﴿108﴾

    ایک فرقہ تھا میرے بندوں میں جو کہتے تھے اے رب ہمارے ہم یقین لائے سو معاف کر ہم کو اور رحم کر ہم پر اور تو سب رحم والوں سے بہتر ہے [۱۰۸] ﴿109﴾

    پھر تم نے ان کو ٹھٹھوں میں پکڑا یہاں تک کہ بھول گئے انکے پیچھے میری یاد اور تم ان سے ہنستے رہے [۱۰۹] ﴿110﴾

    میں نے آج دیا ان کو بدلہ انکے صبر کرنے کا کہ وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے [۱۱۰] ﴿111﴾

    فرمایا تم کتنی دیر رہے زمین میں برسوں کی گنتی سے ﴿112﴾

    بولے ہم رہے ایک یا کچھ دن سے کم تو پوچھ لے گنتی والوں سے [۱۱۱] ﴿113﴾

    فرمایا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو اگر تم جانتے ہوتے [۱۱۲] ﴿114﴾

    سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے [۱۱۳] ﴿115﴾

    سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا [۱۱۴] ﴿116﴾

    اور جو کوئی پکارے اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم جس کی سند نہیں اس کے پاس سو اس کا حساب ہے اس کے رب کے نزدیک [۱۱۵] بیشک بھلا نہ ہو گا منکروں کا ﴿117﴾

    اور تو کہہ اے رب معاف کر اور رحم کر اور تو ہے بہتر سب رحم والوں سے [۱۱۶] ﴿118﴾

    Surah 24
    النور

    یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اتاری اور ذمہ پر لازم کی اور اتاریں اس میں باتیں صاف تاکہ تم یاد رکھو [۱] ﴿1﴾

    بدکاری کرنے والی عورت اور مرد سو مارو ہر ایک کو دونوں میں سے سوسو درّے [۲] اور نہ آوے تم کو ان پر ترس اللہ کے حکم چلانے میں اگر تم یقین رکھتے ہو اللہ پر اور پچھلے دن پر [۳] اور دیکھیں ان کا مارنا کچھ لوگ مسلمان [۴] ﴿2﴾

    بدکارمرد نہیں نکاح کرتا مگر عورت بدکار سے یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہیں کرتا مگر بدکار مرد یا مشرک [۵] اور یہ حرام ہوا ہے ایمان والوں پر [۶] ﴿3﴾

    اور جو لوگ عیب لگاتے ہیں حفاظت والیوں کو (پاکدامنوں کو) پھر نہ لائے چار مرد شاہد [۷] تو مارو ان کو اسی درّے اور نہ مانو ان کی گواہی کبھی [۸] اور وہی لوگ ہیں نافرمان [۹] ﴿4﴾

    مگر جنہوں نے توبہ کر لی اس کے پیچھے اور سنور گئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۰] ﴿5﴾

    اور جو عیب لگائیں اپنی جوروؤں کو [۱۱] اور شاہد نہ ہوں انکے پاس سوائے انکی جان کے تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کی قسم کھا کر مقرر وہ شخص سچا ہے ﴿6﴾

    اور پانچویں بار یہ کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر ہو وہ جھوٹا ﴿7﴾

    اور عورت سے ٹل جائے مار یوں کہ وہ گواہی دے چار گواہی اللہ کی قسم کھا کر مقرر وہ شخص جھوٹا ہے ﴿8﴾

    اور پانچویں یہ کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہے [۱۲] ﴿9﴾

    اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تمہارے اوپر اور اسکی رحمت اور یہ کہ اللہ معاف کرنے والا ہے حکمتیں جاننے والا تو کیا کچھ نہ ہوتا [۱۳] ﴿10﴾

    جو لوگ لائے ہیں یہ طوفان [۱۴] تمہیں میں ایک جماعت ہیں [۱۵] تم اس کو نہ سمجھو برا اپنے حق میں بلکہ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں [۱۶] ہر آدمی کے لئے ان میں سے وہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا اور جس نے اٹھایا ہے اس کا بڑا بوجھ اس کے واسطے بڑا عذاب ہے [۱۷] ﴿11﴾

    کیوں نہ جب تم نے اس کو سنا تھا خیال کیا ہوتا ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں نے اپنے لوگوں پر بھلا خیال اور کہا ہوتا یہ صریح طوفان ہے [۱۸] ﴿12﴾

    کیوں نہ لائے وہ اس بات پر چار شاہد پھر جب نہ لائے شاہد تو وہ لوگ اللہ کے یہاں وہی ہیں جھوٹے [۱۹] ﴿13﴾

    اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اسکی رحمت دنیا اور آخرت میں تو تم پر پڑ جاتی اس چرچا کرنے میں کوئی آفت بڑی [۲۰] ﴿14﴾

    جب لینے لگے تم اس کو اپنی زبانوں پر اور بولنے لگے اپنے منہ سے جس چیز کی تم کو خبر نہیں اور تم سمجھتے ہو اسکو ہلکی بات اور یہ اللہ کے یہاں بہت بڑی بات ہے [۲۱] ﴿15﴾

    اور کیوں نہ جب تم نے اس کو سنا تھا کہا ہوتا ہم کو نہیں لائق کہ منہ پر لائیں یہ بات اللہ تو پاک ہے یہ تو بڑا بہتان ہے [۲۲] ﴿16﴾

    اللہ تم کو سمجھاتا ہے کہ پھر نہ کرو ایسا کام کبھی اگر تم ایمان رکھتے ہو [۲۳] ﴿17﴾

    اور کھولتا ہے اللہ تمہارے واسطے پتے کی باتیں اور اللہ سب جانتا ہے حکمت والا ہے [۲۴] ﴿18﴾

    جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں [۲۵] انکے لئے عذاب ہے دردناک دنیا اور آخرت میں [۲۶] اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے [۲۷] ﴿19﴾

    اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اسکی رحمت اور یہ کہ اللہ نرمی کرنے والا ہے مہربان تو کیا کچھ نہ ہوتا [۲۸] ﴿20﴾

    اے ایمان والو نہ چلو قدموں پر شیطان کے اور جو کوئی چلے گا قدموں پر شیطان کےسو وہ تو یہی بتلائے گا بیحائی اور بری بات [۲۹] اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت تو نہ سنورتا تم میں ایک شخص بھی کبھی و لیکن اللہ سنوارتا ہے جس کو چاہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے [۳۰] ﴿21﴾

    اور قسم نہ کھائیں بڑے درجہ والے تم میں سے اور کشائش والے اس پر کہ دیں قرابتیوں کو اور محتاجوں کو اور وطن چھوڑنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۳۱] ﴿22﴾

    جو لوگ عیب لگاتے ہیں حفاظت والیوں بیخبر ایمان والیوں کو ان کو پھٹکار ہے دنیا میں اور آخرت میں اور انکے لئے ہے بڑا عذاب [۳۲] ﴿23﴾

    جس دن کہ ظاہر کر دیں گی ان کی زبانیں اور ہاتھ اور پاؤں جو کچھ وہ کرتے تھے [۳۳] ﴿24﴾

    اس دن پوری دے گا انکو اللہ ان کی سزا جو چاہئے اور جان لیں گے کہ اللہ وہی ہے سچا کھولنے والا [۳۴] ﴿25﴾

    گندیاں ہیں گندوں کے واسطے اور گندے واسطے گندیوں کے اور ستھریاں ہیں ستھروں کے واسطے اور ستھرے واسطے ستھریوں کے [۳۵] وہ لوگ بے تعلق ہیں ان باتوں سے جو یہ کہتے ہیں [۳۶] انکے واسطے بخشش ہے اور روزی ہے عزت کی [۳۷] ﴿26﴾

    اے ایمان والو مت جایا کرو کسی گھر میں اپنے گھروں کے سوائے جب تک بول چال نہ کر لو اور سلام کر لو ان گھر والوں پر یہ بہتر ہے تمہارے حق میں تاکہ تم یاد رکھو [۳۸] ﴿27﴾

    پھر اگر نہ پاؤ اس میں کسی کو تو اس میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ ملے تم کو [۳۹] اور اگر تم کو جواب ملے کہ پھر جاؤ تو پھر جاؤ اس میں خوب ستھرائی ہے تمہارے لئے [۴۰] اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے [۴۱] ﴿28﴾

    نہیں گناہ تم پر اس میں کہ جاؤ ان گھروں میں جہاں کوئی نہیں بستا اس میں کچھ چیز ہو تمہاری [۴۲] اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو [۴۳] ﴿29﴾

    کہہ دے ایمان والوں کو نیچی رکھیں ذری اپنی آنکھیں [۴۴] اور تھامتے رہیں اپنے ستر کو [۴۵] اس میں خوب ستھرائی ہے انکے لئے بیشک اللہ کو خبر ہے جو کچھ کرتےہیں [۴۶] ﴿30﴾

    اور کہہ دے ایمان والیوں کو نیچی رکھیں ذرا اپنی آنکھیں اور تھامتی رہیں اپنے ستر کو اور نہ دکھائیں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے [۴۷] اور ڈال لیں اپنی اوڑھنی اپنے گریبان پر [۴۸] اور نہ کھولیں اپنا سنگار مگر اپنے خاوند کے آگے یا اپنے باپ کے [۴۹] یا پنے خاوند کے باپ کے یا اپنے بیٹے کے یا اپنے خاوند کے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے [۵۰] یا اپنے ہاتھ کے مال کے [۵۱] یا کاربار کرنے والوں کے (خدمت میں مشغول رہنے والوں کے) جو مرد کہ کچھ غرض نہیں رکھتے [۵۲] یا لڑکوں کے جنہوں نے ابھی نہیں پہچانا عورتوں کے بھید کو [۵۳] اور نہ ماریں زمین پر اپنے پاؤں کو کہ جانا جائے جو چھپاتی ہیں اپنا سنگار [۵۴] اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو تاکہ تم بھلائی پاؤ [۵۵] ﴿31﴾

    اور نکاح کر دو رانڈوں کا اپنے اندر [۵۶] اور جو نیک ہوں تمہارے غلام اور لونڈیاں [۵۷] اگر وہ ہوں گے مفلس اللہ ان کو غنی کر دے گا اپنے فضل سے [۵۸] اور اللہ کشائش والا ہے سب کچھ جانتا ہے [۵۹] ﴿32﴾

    اور اپنے آپ کو تھامتے رہیں جن کو نہیں ملتا سامان نکاح کا جب تک کہ مقدور دے ان کو اللہ اپنے فضل سے [۶۰] اور جو لوگ چاہیں لکھت آزادی کی مال دے کر ان میں سے کہ جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں (جن کے مالک ہیں تمہارےہاتھ) تو انکو لکھ کر دیدو اگر سمجھو ان میں کچھ نیکی [۶۱] اور دو ان کو اللہ کے مال سے جو اس نے تم کو دیا ہے [۶۲] اور نہ زبردستی کرو اپنی چھوکریوں پر بدکاری کے واسطے اگر وہ چاہیں قید سے رہنا کہ تم کمانا چاہو اسباب دنیا کی زندگانی کا [۶۳] اور جو کوئی ان پر زبردستی کرے گا تو اللہ ان کی بے بسی کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے [۶۴] ﴿33﴾

    اور ہم نے اتاریں تمہاری طرف آیتیں کھلی ہوئی اور کچھ حال انکا جو ہو چکے تم سے پہلے اور نصیحت ڈرنے والوں کو [۶۵] ﴿34﴾

    اللہ روشنی ہے آسمانوں اور زمین کی [۶۶] مثال اس کی روشنی کی جیسے ایک طاق اس میں ہو ایک چراغ وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشہ میں وہ شیشہ ہے جیسے ایک تارہ چمکتا ہوا تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت کے درخت کا وہ زیتون ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف قریب ہے اس کا تیل کہ روشن ہو جائے اگرچہ نہ لگی ہو اس میں آگ روشنی پر روشنی اللہ راہ دکھلا دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے اور اللہ سب چیز کو جانتا ہے [۶۷] ﴿35﴾

    ان گھروں میں کہ اللہ نے حکم دیا انکو بلند کرنے کا [۶۸] اور و ہاں اس کا نام پڑھنے کا [۶۹] یاد کرتے ہیں اسکی وہاں صبح و شام [۷۰] ﴿36﴾

    وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے [۷۱] ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں [۷۲] ﴿37﴾

    تاکہ بدلہ دے انکو اللہ انکے بہتر سے بہتر کاموں کا اور زیادتی دے انکو اپنے فضل سے [۷۳] اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بے شمار [۷۴] ﴿38﴾

    اور جو لوگ منکر ہیں ان کے کام جیسے ریت جنگل میں پیاسا جانے اس کو پانی یہاں تک کہ جب پہنچا اس پر اس کو کچھ نہ پایا اور اللہ کو پایا اپنے پاس پھر اسکو پورا پہنچا دیا اس کا لکھا اور اللہ جلد لینے والا ہے حساب [۷۵] ﴿39﴾

    یا جیسے اندھیرے گہرے دریا میں چڑھی آتی ہے اس پر ایک لہر اس پر ایک اور لہر اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک [۷۶] جب نکالے اپنا ہاتھ لگتا نہیں کہ اس کو وہ سوجھے [۷۷] اور جسکو اللہ نے نہ دی روشنی اسکے واسطے کہیں نہیں روشنی [۷۸] ﴿40﴾

    کیا تو نہ نے دیکھا کہ اللہ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں آسمان و زمین میں اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے [۷۹] ہر ایک نے جان رکھی ہے اپنی طرح کی بندگی اور یاد [۸۰] اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں [۸۱] ﴿41﴾

    اور اللہ کی حکومت ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہی تک پھر جانا ہے [۸۲] ﴿42﴾

    تو نے نہ دیکھا اللہ ہانک لاتا ہے بادل کو پھر انکو ملا دیتا ہے پھر انکو رکھتا ہے تہ بر تہ پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے [۸۳] اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے [۸۴] ابھی اس کی بجلی کی کوند لیجائے آنکھوں کو [۸۵] ﴿43﴾

    اللہ بدلتا ہے رات اور دن کو [۸۶] اس میں دھیان کرنے کی جگہ ہے آنکھ والوں کو [۸۷] ﴿44﴾

    اور اللہ نے بنایا ہر پھرنے والے کو ایک پانی سے [۸۸] پھر کوئی ہے کہ چلتا ہے اپنے پیٹ پر [۸۹] اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر [۹۰] اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر [۹۱] بناتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کر سکتا ہے [۹۲] ﴿45﴾

    ہم نے اتاریں آیتیں کھول کھول کر بتلانے والی اور اللہ چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر [۹۳] ﴿46﴾

    اور لوگ کہتے ہیں ہم نے مانا اللہ کو اور رسول کو اور حکم میں آ گئے پھر پھر جاتا ہے ایک فرقہ ان میں سے اس کے پیچھے اور وہ لوگ نہیں ماننے والے [۹۴] ﴿47﴾

    اور جب ان کو بلائیے اللہ اور رسول کی طرف کہ ان میں قضیہ چکائے تبھی ایک فرقہ کے لوگ ان میں منہ موڑتے ہیں ﴿48﴾

    اور اگر ان کو کچھ پہنچتا ہو تو چلے آئیں اس کی طرف قبول کر کر [۹۵] ﴿49﴾

    کیا انکے دلوں میں روگ ہے [۹۶] یا دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں یا ڈرتے ہیں کہ بے انصافی کرے گا ان پر اللہ اور اس کا رسول کچھ نہیں وہی لوگ بے انصاف ہیں [۹۷] ﴿50﴾

    ایمان والوں کی بات یہی تھی کہ جب بلائیے انکو اللہ اور رسول کی طرف فیصلہ کرنے کو ان میں تو کہیں ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور وہ لوگ کہ انہی کا بھلا ہے [۹۸] ﴿51﴾

    اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور اسکے رسول کے اور ڈرتا رہے اللہ سے اور بچکر چلے اس سے سو وہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے [۹۹] ﴿52﴾

    اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی تاکید کی قسمیں کہ اگر تو حکم کرےتو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ حکمبرداری چاہئے جو دستور ہے البتہ اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو [۱۰۰] ﴿53﴾

    تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو اس کا ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا اور تمہارا ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا اور اگر اس کا کہا مانو تو راہ پاؤ اور پیغام لانے والے کا ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر [۱۰۱] ﴿54﴾

    وعدہ کر لیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں انہوں نے نیک کام البتہ پیچھے حاکم کر دے گا انکو ملک میں جیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو اور جما دے گا ان کے لئے دین ان کا جو پسند کر دیا انکے واسطے اور دے گا ان کو ان کے ڈر کے بدلے میں امن میری بندگی کریں گے شریک نہ کریں گے میرا کسی کو [۱۰۲] اور جو کوئی ناشکری کرے گا اسکے پیچھے سو وہی لوگ ہیں نافرمان [۱۰۳] ﴿55﴾

    اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو رسول کے تاکہ تم پر رحم ہو [۱۰۴] ﴿56﴾

    نہ خیال کر کہ یہ جو کافر ہیں تھکا دیں گے بھاگ کر ملک میں اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے اور وہ بری جگہ ہے پھر جانے کی [۱۰۵] ﴿57﴾

    اے ایمان والو اجازت لیکر آئیں تم سے جو تمہارےہاتھ کے مال ہیں [۱۰۶] اور جو کہ نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار فجر کی نماز سے پہلے اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے یہ تین وقت بدن کھلنے کے ہیں تمہارے [۱۰۷] کچھ تنگی نہیں تم پر اور ان پر ان وقتوں کے پیچھے پھرا ہی کرتے ہو ایک دوسرے کے پاس [۱۰۸] یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے ﴿58﴾

    اور جب پہنچیں لڑکے تم میں کے عقل کی حد کو تو انکو ویسی ہی اجازت لینی چاہئے جیسے لیتے رہے ہیں ان سے اگلے [۱۰۹] یوں کھول کر سناتا ہے اللہ تم کو اپنی باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے ﴿59﴾

    اور جو بیٹھ رہی ہیں گھروں میں تمہاری عورتوں میں سے جنکو توقع نہیں رہی نکاح کی ان پرگناہ نہیں کہ اتار رکھیں اپنے کپڑے یہ نہیں کہ دکھاتی پھریں اپنا سنگار اور اس سے بھی بچیں تو بہتر ہے انکے لئے [۱۱۰] اور اللہ سب باتیں سنتا جانتا ہے [۱۱۱] ﴿60﴾

    نہیں ہے اندھے پر کچھ تکلیف اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف [۱۱۲] اور نہیں تکلیف تم لوگوں پر کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر سے یا اپنی ماں کے گھر سے یا اپنے بھائی کے گھر سے یا اپنی بہن کے گھر سے یا اپنے چچا کے گھر سے یا اپنی پھوپھی کے گھر سے یا اپنے ماموں کے گھر سے یا اپنی خالہ کے گھر سے یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے [۱۱۳] نہیں گناہ تم پر کہ کھاؤ آپس میں مل کر یا جدا ہو کر پھر جب کبھی جانے لگو گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر نیک دعا ہے اللہ کے یہاں سے برکت والی ستھری یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے اپنی باتیں تاکہ تم سمجھ لو [۱۱۴] ﴿61﴾

    ایمان والے وہ ہیں جو یقین لائے اللہ پر اور اسکے رسول پر اور جب ہوتے ہیں اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لے لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہی ہیں جو مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو [۱۱۵] پھر جب اجازت مانگیں تجھ سے اپنے کسی کام کے لئے تو اجازت دے جس کو ان میں سے تو چاہے اور معافی مانگ انکے واسطے اللہ سے اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۱۶] ﴿62﴾

    مت کو لو بلانا رسول کا اپنے اندر برابر اسکے جو بلاتا ہے تم میں ایک دوسرے کو [۱۱۷] اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو تم میں سے جو سٹک جاتے ہیں آنکھ بچا کر [۱۱۸] سو ڈرتے رہیں وہ لوگ جو خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا اس سے کہ آپڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو عذاب دردناک [۱۱۱۹] ﴿63﴾

    سنتے ہو اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اس کو معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن پھیرےجائیں گے اس کی طرف تو بتائے گا ان کو جو کچھ انہوں نے کیا اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے [۱۲۰] ﴿64﴾

    Surah 25
    الفرقان

    بڑی برکت ہے اسکی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب [۱] اپنے بندہ پر [۲] تاکہ رہے جہان والوں کے لئے ڈرانے والا [۳] ﴿1﴾

    وہ کہ جس کی ہے سلطنت آسمان اور زمین میں اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور بنائی ہر چیز پھر ٹھیک کیا اسکو ماپ کر [۴] ﴿2﴾

    اور لوگوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے کتنے حاکم جو نہیں بناتے کچھ چیز اور وہ خود بنائے گئے ہیں اور نہیں مالک اپنے حق میں برے کے اور نہ بھلے کے اور نہیں مالک مرنے کے اور نہ جینے کے اور نہ جی اٹھنے کے [۵] ﴿3﴾

    اور کہنے لگے جو منکر ہیں اور کچھ نہیں ہے یہ مگر طوفان باندھ لایا ہے اور ساتھ دیا ہے اس کا اس میں اور لوگوں نے [۶] سو آگئے بے انصافی اور جھوٹ پر [۷] ﴿4﴾

    اور کہنے لگے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی جنکو اس نے لکھ رکھا ہے سو وہی لکھوائی جاتی ہیں اس کے پاس صبح اور شام [۸] ﴿5﴾

    تو کہہ اسکو اتارا ہے اس نے جو جانتا ہے چھپے ہوئے بھید آسمانوں اور زمین میں [۹] بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۰] ﴿6﴾

    اور کہنے لگے یہ کیسا رسول ہے کھاتا ہے کھانا اور پھرتا ہے بازاروں میں [۱۱] کیوں نہ اترا اسکی طرف کوئی فرشتہ کہ رہتا اس کے ساتھ ڈرانے کو ﴿7﴾

    یا آ پڑتا اسکے پاس خزانہ یا ہو جاتا اس کے لئے ایک باغ کہ کھایا کرتا اس میں سے [۱۲] اور کہنے لگے بے انصاف تم پیروی کرتے ہو اس ایک مرد جادو مارے کی [۱۳] ﴿8﴾

    دیکھ کیسی بٹھلاتےہیں تجھ پر مثلیں سو بہک گئے اب پا نہیں سکتے راستہ [۱۴] ﴿9﴾

    بڑی برکت ہے اسکی جو چاہے تو کر دے تیرے واسطے اس سے بہتر باغ کہ نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں اور کر دے تیرے واسطے محل [۱۵] ﴿10﴾

    کچھ نہیں وہ جھٹلاتے ہیں قیامت کو اور ہم نے تیار کی ہے اسکے واسطے کہ جھٹلاتا ہے قیامت کو آگ [۱۶] ﴿11﴾

    جب وہ دیکھے گی ان کو دور کی جگہ سے سنیں گے اس کا جھنجلانا اور چلانا [۱۷] ﴿12﴾

    اور جب ڈالے جائیں گے اس کے اندر ایک جگہ تنگ میں ایک زنجیر میں کئ کئی بندھے ہوئے پکاریں گے اس جگہ موت کو [۱۸] ﴿13﴾

    مت پکارو آج ایک مرنے کو اور پکارو بہت سے مرنے کو [۱۹] ﴿14﴾

    تو کہہ بھلا یہ چیز بہتر ہے یا باغ ہمیشہ رہنے کا جس کا وعدہ ہو چکا پرہیزگاروں سے [۲۰] وہ ہو گا ان کا بدلہ اور پھر جانے کی جگہ ﴿15﴾

    انکے واسطے وہاں ہے جو وہ چاہیں [۲۱] رہا کریں ہمیشہ ہو چکا تیرے رب کے ذمہ وعدہ مانگا ملتا [۲۲] ﴿16﴾

    اور جس دن جمع کر بلائے گا انکو اور جنکو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے پھر ان سے کہے گا کیا تم نے بہکایا میرے ان بندوں کو یا وہ آپ بہکے راہ سے [۲۳] ﴿17﴾

    بولیں گے تو پاک ہے ہم سے بن نہ آتا تھا کہ پکڑ لیں کسی کو تیرے بغیر رفیق [۲۴] لیکن تو ان کو فائدہ پہنچاتا رہا اور انکے باپ دادوں کو یہاں تک کہ بھلا بیٹھے تیری یاد اور یہ تھے لوگ تباہ ہونے والے [۲۵] ﴿18﴾

    سو وہ تو جھٹلا چکے تم کو تمہاری بات میں [۲۶] اب نہ تم لوٹا سکتے ہو اور نہ مدد کر سکتے ہو [۲۷] اور جو کوئی تم میں گنہگار ہے اس کو ہم چکھائیں گے بڑ اعذاب [۲۸] ﴿19﴾

    اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں [۲۹] اور ہم نے رکھا ہے تم میں ایک دوسرے کے جانچنے کو دیکھیں ثابت بھی رہتے ہو [۳۰] اور تیرا رب سب کچھ دیکھتا ہے [۳۱] ﴿20﴾

    اور بولے وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے کہ ہم سے ملیں گے کیوں نہ اترے ہم پر فرشتے یا ہم دیکھ لیتے اپنے رب کو [۳۲] بہت بڑائی رکھتے ہیں اپنے جی میں اور سر چڑھ رہے ہیں بڑی شرارت میں [۳۳] ﴿21﴾

    جس دن دیکھیں گے فرشتوں کو کچھ خوشخبری نہیں اس دن گنہگاروں کو اور کہیں گے کہیں روک دی جائے کوئی آڑ [۳۴] ﴿22﴾

    اور ہم پہنچے انکے کاموں پر جو انہوں نے کئے تھے پھر ہم نے کر ڈالا اسکو خاک اڑتی ہوئی [۳۵] ﴿23﴾

    بہشت کے لوگوں کا اس دن خوب ہے ٹھکانا اور خوب ہے جگہ دوپہر کے آرام کی [۳۶] ﴿24﴾

    اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادل سے اور اتارے جائیں فرشتے تار لگا کر [۳۷] ﴿25﴾

    بادشاہی اس دن سچی ہے رحمٰن کی اور ہے وہ دن منکروں پر مشکل [۳۸] ﴿26﴾

    اور جس دن کاٹ کاٹ کھائے گا اپنے ہاتھوں کو کہے گا اے کاش کے میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ رستہ [۳۹] ﴿27﴾

    اے خرابی میری کاش کے نہ پکڑا ہوتا میں نے فلانے کو دوست [۴۰] ﴿28﴾

    اس نے تو بہکا دیا مجھ کو نصیحت سے مجھ تک پہنچ چکنے کے پیچھے (بعد) اور ہے شیطان آدمی کو وقت پر دغا دینے والا [۴۱] ﴿29﴾

    اور کہا رسول نے اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرایا ہے اس قرآن کو جھک جھک [۴۲] ﴿30﴾

    اور اسی طرح رکھے ہیں ہم نے ہر نبی کے لئے دشمن گنہگاروں میں سے [۴۳] اور کافی ہے تیرا رب راہ دکھانے اور مدد کرنے کو [۴۴] ﴿31﴾

    اور کہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا ایک جگہ ہو کر [۴۵] اسی طرح اتارا تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سےتیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اسکو ٹھہر ٹھہر کر [۴۶] ﴿32﴾

    اور نہیں لاتے تیرے پاس کوئی مثل کہ ہم نہیں پہنچا دیتے تجھ کو ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر [۴۷] ﴿33﴾

    جو لوگ کہ گھیر کر لائے جائیں گے اوندھے پڑے ہوئے اپنے منہ پر دوزخ کی طرف انہی کا برا درجہ ہے اور بہت بہکے ہوئے ہیں راہ سے [۴۸] ﴿34﴾

    اور ہم نے دی موسٰی کو کتاب اورکر دیا ہم نے اس کے ساتھ اس کا بھائی ہارون کام بٹانے والا ﴿35﴾

    پھر کہا ہم نے دونوں جاؤ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے جھٹلایا ہماری باتوں کو [۴۹] پھر دے مارا ہم نے ان کو اکھاڑ کر ﴿36﴾

    اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے جھٹلایا پیغام لانے والوں کو [۵۰] ہم نے انکو ڈبا دیا اور کیا ان کو لوگوں کے حق میں نشانی اور تیار کر رکھا ہے ہم نے گنہگاروں کے واسطے عذاب دردناک ﴿37﴾

    اور عاد کو اور ثمود کو اور کنوئیں والوں کو [۵۱] اور اس کے بیچ میں بہت سی جماعتوں کو ﴿38﴾

    اور سب کو کہہ سنائیں ہم نے مثالیں اور سب کو کھو دیا ہم نے غارت کر کر [۵۲] ﴿39﴾

    اور یہ لوگ ہو آئے ہیں اس بستی کے پاس جن پر برسا برُا برساؤ [۵۳] کیا دیکھتے نہ تھے اس کو [۵۴] نہیں پر امید نہیں رکھتے جی اٹھنے کی [۵۵] ﴿40﴾

    اور جہاں تجھ کو دیکھیں کچھ کام نہیں انکو تجھ سے مگر ٹھٹھے کرنے کیا یہ ہے جس کو بھیجا اللہ نے پیغام دے کر ﴿41﴾

    یہ تو ہم کو بچلا ہی دیتا ہمارے معبودوں سے اگر ہم نہ جمے رہتے ان پر [۵۶] اور آگے جان لیں گے جس وقت دیکھیں گے عذاب کہ کون بہت بچلا ہوا ہے راہ سے [۵۷] ﴿42﴾

    بھلا دیکھ تو اس شخص کو جس نے پوجنا اختیار کیا اپنی خواہش کا کہیں تو لے سکتا ہے اس کا ذمہ [۵۸] ﴿43﴾

    یا تو خیال رکھتا ہے کہ بہت سے ان میں سنتے یا سمجھتے ہیں اور کچھ نہیں وہ برابر ہیں چوپایوں کے بلکہ وہ زیادہ بہکے ہوئے ہیں راہ سے [۵۹] ﴿44﴾

    تو نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف کیسے دراز کیا سایہ کو اگر چاہتا تو اس کو ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے مقرر کیا سورج کو اس کا راہ بتانے والا ﴿45﴾

    پھر کھینچ لیا ہم نے اسکو اپنی طرف سہج سہج سمیٹ کر [۶۰] ﴿46﴾

    اور وہی ہے جس نے بنا دیا تمہارے واسطے رات کو اوڑھنا اور نیند کو آرام اور دن کو بنا دیا اٹھ نکلنے کے لئے [۶۱] ﴿47﴾

    اور وہی ہے جس نے چلائیں ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے آگے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاکی حاصل کرنے کا ﴿48﴾

    کہ زندہ کر دیں اس سے مرے ہوئے دیس کو اور پلائیں اس کو اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو [۶۲] ﴿49﴾

    اور طرح طرح سے تقسیم کیا ہم نے اس کو انکے بیچ میں تا دھیان رکھیں پھر بھی نہیں رہتے بہت لوگ بدون ناشکری کیے [۶۳] ﴿50﴾

    اور اگر ہم چاہتے تو اٹھاتے ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا ﴿51﴾

    سو تو کہنا مت مان منکروں کا اور مقابلہ کر ان کا اسکے ساتھ بڑے زور سے [۶۴] ﴿52﴾

    اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے چلائے دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور یہ کھاری ہے کڑوا اور رکھا ان دونوں کے بیچ پردا اور آڑ روکی ہوئی [۶۵] ﴿53﴾

    اور ہی ہے جس نے بنایا پانی سے آدمی پھر ٹھہرایا اس کے لئے جد اور سسرال اور تیرا رب سب کچھ کر سکتا ہے ﴿54﴾

    اور پوجتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر وہ چیز جو نہ بھلا کرے ان کا نہ برا اور ہے کافر اپنے رب کی طرف سے پیٹھ پھیر رہا [۶۶] ﴿55﴾

    اور تجھ کو ہم نے بھیجا یہی خوشی اور ڈر سنانے کے لئے ﴿56﴾

    تو کہہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری مگر جو کوئی چاہے کہ پکڑ لے اپنے رب کی طرف راہ [۶۷] ﴿57﴾

    اور بھروسہ کر اوپر اس زندہ کے جو نہیں مرتا [۶۸] اور یاد کر اسکی خوبیاں اور وہ کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار [۶۹] ﴿58﴾

    جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر [۷۰] وہ بڑی رحمت والا سو پوچھ اس سے جو اسکی خبر رکھتا ہو [۷۱] ﴿59﴾

    اور جب کہیے ان سے سجدہ کرو رحمٰن کو کہیں رحمٰن کیا ہے کیا سجدہ کرنے لگیں ہم جسکو تو فرمائے اور بڑھ جاتا ہے ان کا بدکنا [۷۲] ﴿60﴾

    بڑی برکت ہے اسکی جس نے بنائے آسمان میں برج [۷۳] اور رکھا اس میں چراغ [۷۴] اور چاند اجالا کرنے والا ﴿61﴾

    اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن بدلتے سدلتے [۷۵] اس شخص کے واسطے کہ چاہو دھیان رکھنا یا چاہے شکر کرنا [۷۶] ﴿62﴾

    اور بندے رحمٰن کے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر دبے پاؤں [۷۷] اور جب بات کرنے لگیں ان سے بے سمجھ لوگ تو کہیں صاحب سلامت [۷۸] ﴿63﴾

    اور وہ لوگ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجدہ میں اور کھڑے [۷۹] ﴿64﴾

    اور وہ لوگ کہ کہتے ہیں اے رب ہٹا ہم سے دوزخ کا عذاب بیشک اس کا عذاب چمٹنے والا ہے ﴿65﴾

    وہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور بری جگہ رہنے کی [۸۰] ﴿66﴾

    اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرنے لگیں نہ بیجا اڑائیں اور نہ تنگی کریں اور ہے اس کے بیچ ایک سیدھی گذران [۸۱] ﴿67﴾

    اور وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا جو منع کر دی اللہ نے مگر جہاں چاہئے [۸۲] اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑ اگناہ میں [۸۳] ﴿68﴾

    دونا ہو گا اس کو عذب قیامت کےدن اور پڑا رہے گا اس میں خوار ہو کر [۸۴] ﴿69﴾

    مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا، اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان [۸۵] ﴿70﴾

    اور جو کوئی توبہ کرے اور کرے کام نیک سو وہ پھر آتا ہے اللہ کی طرف پھر آنے کی جگہ [۸۶] ﴿71﴾

    اور جو لوگ شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں [۸۷] اور جب گزرتے ہیں کھیل کی باتوں پر نکل جائیں بزرگانہ [۸۸] ﴿72﴾

    اور وہ لوگ کہ جب انکو سمجھائیں انکے رب کی باتیں نہ پڑیں ان پر بہرے اندھے ہو کر [۸۹] ﴿73﴾

    اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے رب دے ہم کو ہماری عورتوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک [۹۰] اور کر ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا [۹۱] ﴿74﴾

    ان کو بدلہ ملے گا کوٹھوں کی جھروکے اس لئے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لینے آئیں گے ان کو وہاں دعا و سلام کہتے ہوئے [۹۲] ﴿75﴾

    سدا رہا کریں ان میں خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور خوب جگہ رہنے کی [۹۳] ﴿76﴾

    تو کہہ پروا نہیں رکھتا میرا رب تمہاری اگر تم اس کو نہ پکارا کرو [۹۴] سو تم تو جھٹلا چکے اب آگے کو ہونی ہے مٹھ بھیڑ [۹۵] ﴿77﴾

    Surah 26
    الشعراء

    طٰسم۔ ﴿1﴾

    یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی [۱] ﴿2﴾

    شاید تو گھونٹ مارے اپنی جان اس بات پر کہ وہ یقین نہیں کرتے [۲] ﴿3﴾

    اگر ہم چاہیں اتاریں ان پر آسمان سے ایک نشانی پھر رہ جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے نیچی [۳] ﴿4﴾

    اور نہیں پہنچتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمٰن سے نئی جس سے منہ نہیں موڑتے [۴] ﴿5﴾

    سو یہ تو جھٹلا چکے اب پہنچے گی ان پر حقیقت اس بات کی جس پر ٹھٹھے کرتے تھے [۵] ﴿6﴾

    کیا نہیں دیکھتے وہ زمین کو کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی خاصی چیزیں ﴿7﴾

    اس میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے [۶] ﴿8﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا [۷] ﴿9﴾

    اور جب پکارا تیرے رب نے موسٰی کو کہ جا اس قوم گنہگار کے پاس ﴿10﴾

    قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں [۸] ﴿11﴾

    بولا اے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھٹلائیں ﴿12﴾

    اور رک جاتا ہے میرا جی اور نہیں چلتی میری زبان سو پیغام دے ہارون کو [۹] ﴿13﴾

    اور انکو مجھ پر ہے ایک گناہ کا دعویٰ [۱۰] سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں [۱۱] ﴿14﴾

    فرمایا کبھی نہیں تم دونوں جاؤ لیکر ہماری نشانیاں ہم ساتھ تمہارے سنتے ہیں [۱۲] ﴿15﴾

    سو جاؤ فرعون کے پاس اور کہو ہم پیغام لے کر آئے ہیں پروردگار عالم کا ﴿16﴾

    یہ کہ بھیجدے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو [۱۳] ﴿17﴾

    بولا کیا نہیں پالا ہم نے تجھ کو اپنے اندر لڑکا سا [۱۴] اور رہا تو ہم میں اپنی عمر میں سے کئ برس [۱۵] ﴿18﴾

    اور کر گیا تو اپنی وہ کرتوت جو کر گیا [۱۶] اور تو ہے ناشکر [۱۷] ﴿19﴾

    کہا کیا تو تھا میں نے وہ کام اور میں تھا چوکنے والا [۱۸] ﴿20﴾

    پھر بھاگا میں تم سے جب تمہارا ڈر دیکھا پھر بخشا مجھ کو میرے رب نے حکم اور ٹھہرایا مجھ کو پیغام پہنچانے والا [۱۹] ﴿21﴾

    اور کیا وہ احسان ہے جو تو مجھ پر رکھتا ہے کہ غلام بنایا تو نے بنی اسرائیل کو [۲۰] ﴿22﴾

    بولا فرعون کیا معنی پروردگار عالم کا [۲۱] ﴿23﴾

    کہا پروردگار آسمان اور زمین کا اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے اگر تم یقین کرو [۲۲] ﴿24﴾

    بولا اپنے گرد والوں سے کیا تم نہیں سنتے ہو [۲۳] ﴿25﴾

    کہا پروردگار تمہارا اور پروردگار تمہارے اگلے باپ دادوں کا [۲۴] ﴿26﴾

    بولا تمہارا پیغام لانے والا جو تمہاری طرف بھیجا گیا ضرور باؤلا ہے [۲۵] ﴿27﴾

    کہا پروردگار مشرق کا اور مغرب کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو [۲۶] ﴿28﴾

    بولا اگر تو نے ٹھہرایا کوئی اور حاکم میرے سوائے تو مقرر (ضرور) ڈالوں گا تجھ کو قید میں [۲۷] ﴿29﴾

    کہا اور اگر لیکر آیا ہوں تیرے پاس ایک چیز کھول دینے والی [۲۸] ﴿30﴾

    بولا تو وہ چیز لا اگر تو سچ کہتا ہے ﴿31﴾

    پھر ڈال دیا اپنا عصا سو اسی وقت وہ اژدھا ہو گیا صریح ﴿32﴾

    اور اندر (بغل) سے نکالا اپنا ہاتھ سو اسی وقت وہ سفید تھا دیکھنے والوں کے سامنے ﴿33﴾

    بولا اپنے گرد کے سرداروں سے یہ تو کوئی جادوگر ہے پڑھا ہوا ﴿34﴾

    چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو تمہارے دیس سے اپنے جادو کے زور سے سو اب کیا حکم دیتے ہو [۲۹] ﴿35﴾

    بولے ڈھیل دے اسکو اور اسکے بھائی کو اور بھیجدے شہروں میں نقیب ﴿36﴾

    لے آئیں تیرے پاس جو بڑا جادوگر ہو پڑھا ہوا ﴿37﴾

    پھر اکٹھے کئے جادوگر وعدہ پر ایک مقرر دن کے [۳۰] ﴿38﴾

    اور کہہ دیا لوگوں کو کیا تم بھی اکٹھے ہو گئے ﴿39﴾

    شاید ہم راہ قبول کر لیں جادوگروں کی اگر ہو ان کو غلبہ [۳۱] ﴿40﴾

    پھر جب آئے جادوگر کہنے لگےفرعون سے بھلا کچھ ہمارا حق بھی ہے اگر ہو ہم کو غلبہ ﴿41﴾

    بولا البتہ (ہاں) اور تم اس وقت مقربوں (مصاحبوں) میں ہو گے [۳۲] ﴿42﴾

    کہا ان کو موسٰی نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو [۳۳] ﴿43﴾

    پھر ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہماری ہی فتح ہے [۳۴] ﴿44﴾

    پھر ڈالا موسٰی نے اپنا عصا پھر تبھی وہ نگلنے لگا جو سانگ انہوں نے بنایا تھا [۳۵] ﴿45﴾

    پھر اوندھے گرے جادوگر سجدہ میں ﴿46﴾

    بولے ہم نے مان لیا جہان کے رب کو ﴿47﴾

    جو رب ہے موسٰی اور ہارون کا ﴿48﴾

    بولا تم نے اسکو مان لیا ابھی میں نے حکم نہیں دیا تم کو مقرر (بیشک) وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھلایا جادو [۳۶] سو اب معلوم کر لو گے البتہ کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی چڑھاؤں گا تم سب کو ﴿49﴾

    بولے کچھ ڈر نہیں ہم کو اپنے رب کی طرف پھر جانا ہے [۳۷] ﴿50﴾

    ہم غرض رکھتے ہیں کہ بخش دے ہم کو رب ہمارا تقصیریں ہماری اس واسطے کہ ہم ہوئے پہلے قبول کرنے والے [۳۸] ﴿51﴾

    اور حکم بھیجا ہم نے موسٰی کو کہ رات کو لے نکل میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے [۳۹] ﴿52﴾

    پھر بھیجے فرعون نے شہروں میں نقیب [۴۰] ﴿53﴾

    یہ لوگ جو ہیں سو ایک جماعت ہے تھوڑی سی [۴۱] ﴿54﴾

    اور وہ مقرر ہم سے دل جلے ہوئے ہیں [۴۲] ﴿55﴾

    اور ہم سارے ان سے خطرہ رکھتے ہیں [۴۳] ﴿56﴾

    پھر نکال باہر کیا ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے ﴿57﴾

    اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے اسی طرح [۴۴] ﴿58﴾

    اور ہاتھ لگا دیں ہم نے یہ چیزیں بنی اسرائیل کے [۴۵] ﴿59﴾

    پھر پیچھے پڑے ان کے سورج کے نکلنے کے وقت ﴿60﴾

    پھر جب مقابل ہوئیں دونوں فوجیں کہنے لگے موسٰی کے لوگ ہم تو پکڑے گئے [۴۶] ﴿61﴾

    کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ہے میرا رب وہ مجھ کو راہ بتلائے گا [۴۷] ﴿62﴾

    پھر حکم بھیجا ہم نے موسٰی کو کہ مار اپنے عصا سے دریا کو پھر دریا پھٹ گیا تو ہو گئ ہر پھانگ جیسے بڑا پہاڑ [۴۸] ﴿63﴾

    اور پاس پہنچا دیا ہم نے اسی جگہ دوسروں کو ﴿64﴾

    اور بچا دیا ہم نے موسٰی کو اور جو لوگ تھے اس کے ساتھ سب کو ﴿65﴾

    پھر ڈبا دیا ہم نے ان دوسروں کو [۴۹] ﴿66﴾

    اس چیز میں ایک نشانی ہے اور نہیں تھے بہت لوگ ان میں ماننے والے [۵۰] ﴿67﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا [۵۱] ﴿68﴾

    اور سنا دے ان کو خبر ابراہیم کی ﴿69﴾

    جب کہا اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو تم کس کو پوجتے ہو [۵۲] ﴿70﴾

    وہ بولے ہم پوجتے ہیں مورتوں کو پھر سارے دن انہی کے پاس لگے بیٹھے رہتے ہیں [۵۳] ﴿71﴾

    کہا کچھ سنتے ہیں تمہارا کہا جب تم پکارتے ہو [۵۴] ﴿72﴾

    یا کچھ بھلا کرتے ہیں تمہارا یا برا [۵۵] ﴿73﴾

    بولے نہیں پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو یہی کام کرتے [۵۶] ﴿74﴾

    کہا بھلا دیکھتے ہو جن کو پوجتے رہے ہو ﴿75﴾

    تم اور تمہارے باپ دادے اگلے [۵۷] ﴿76﴾

    سو وہ میرے غنیم ہیں [۵۸] مگر جہان کا رب [۵۹] ﴿77﴾

    جس نے مجھ کو بنایا سو وہی مجھ کو راہ دکھلاتا ہے [۶۰] ﴿78﴾

    اور وہ جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے ﴿79﴾

    اور جب میں بیمار ہوں تو وہی شفا دیتا ہے ﴿80﴾

    اور ہ جو مجھ کو مارے گا پھر جلائے گا [۶۱] ﴿81﴾

    اور وہ جو مجھ کو توقع ہے کہ بخشے میری تقصیر انصاف کے دن [۶۲] ﴿82﴾

    اے میرے رب دے مجھ کو حکم اور ملا مجھ کو نیکوں میں [۶۳] ﴿83﴾

    اور رکھ میرا بول سچا پچھلوں میں [۶۴] ﴿84﴾

    اور کر مجھ کو وارثوں میں نعمت کے باغ کے [۶۵] ﴿85﴾

    اور معاف کر میرے باپ کو وہ تھا راہ بھولے ہوؤں میں [۶۶] ﴿86﴾

    اور رسوا نہ کر مجھ کو کہ جس دن سب جی کر اٹھیں گے ﴿87﴾

    جس دن نہ کام آئے کوئی مال اور نہ بیٹے ﴿88﴾

    مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لیکر دل چنگا [۶۷] ﴿89﴾

    اور پاس لائیں بہشت کو واسطے ڈر والوں کے ﴿90﴾

    اور نکالیں دوزخ کو سامنے بے را ہوں کے [۶۸] ﴿91﴾

    اور کہیں ان کو کہاں ہیں جن کو تم پوجتے تھے ﴿92﴾

    اللہ کے سوائے کیا کچھ مدد کرتے ہیں تمہاری یا بدلہ لے سکتے ہیں [۶۹] ﴿93﴾

    پھر اوندھے ڈالیں اس میں انکو اور سب بے راہوں کو ﴿94﴾

    اور ابلیس کے لشکر کو سبہوں کو ﴿95﴾

    کہیں گے جب وہ وہاں باہم جھگڑنے لگیں ﴿96﴾

    قسم اللہ کی ہم تھے صریح غلطی میں ﴿97﴾

    جب ہم تم کو برابر کرتے تھے پروردگار عالم کے ﴿98﴾

    اور ہم کو راہ سے بہکایا سو ان گنہگاروں نے ﴿99﴾

    پھر کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والے ﴿100﴾

    اور نہ کوئی دوست محبت کرنے والا [۷۰] ﴿101﴾

    سو کسی طرح ہم کو پھر جانا ملے تو ہم ہوں ایمان والوں میں [۷۱] ﴿102﴾

    اس بات میں نشانی ہے اور بہت لوگ ان میں نہیں ماننے والے [۷۲] ﴿103﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا ﴿104﴾

    جھٹلایا نوح کی قوم نے پیغام لانے والوں کو ﴿105﴾

    جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا تم کو ڈر نہیں ﴿106﴾

    میں تمہارے واسطے پیغام لانے والا ہوں ﴿107﴾

    معتبر سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو [۷۳] ﴿108﴾

    اور مانگتا نہیں میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر ﴿109﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو [۷۴] ﴿110﴾

    بولے کیا ہم تجھ کو مان لیں اور تیرے ساتھ ہو رہے ہیں کمینے [۷۵] ﴿111﴾

    کہا مجھ کو کیا جاننا ہے اس کو جو کام وہ کر رہے ہیں ﴿112﴾

    ان کا حساب پوچھنا میرے رب کا ہی کام ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو ﴿113﴾

    اور میں ہانکنے والا نہیں ایمان لانے والوں کو [۷۶] ﴿114﴾

    میں تو بس یہی ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر [۷۷] ﴿115﴾

    بولے اگر تو نہ چھوڑے گا اے نوح تو ضرور سنگسار کر دیا جائے گا [۷۸] ﴿116﴾

    کہا اے رب میری قوم نے تو مجھکو جھٹلا دیا ﴿117﴾

    سو فیصلہ کر دے میرے انکے بیچ میں کسی طرح کا فیصلہ [۷۹] اور بچا لے میرے ساتھ ہیں ایمان والے [۸۰] ﴿118﴾

    پھر بچا دیا ہم نے اسکو اور جو اس کےساتھ تھے اس لدی ہوئی کشتی میں ﴿119﴾

    پھر ڈبا دیا ہم نے اس کے پیچھے ان باقی رہے ہوؤں کو [۸۱] ﴿120﴾

    البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ہیں ماننے والے ﴿121﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا ﴿122﴾

    جھٹلایا عاد نے پیغام لانے والوں کو ﴿123﴾

    جب کہا ان کو ان کےبھائی ہود نے کیا تم کو ڈر نہیں ﴿124﴾

    میں تمہارے پاس پیغام لانے والا معتبر ہوں ﴿125﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو ﴿126﴾

    اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کےمالک پر ﴿127﴾

    کیا بناتے ہو ہر اونچی زمین پر ایک نشان کھیلنے کو ﴿128﴾

    اور بناتے ہو کاریگریاں شاید تم ہمیشہ رہو گے [۸۲] ﴿129﴾

    اور جب ہاتھ ڈالتے ہو تو پنجہ مارتے ہو ظلم سے ﴿130﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو [۸۳] ﴿131﴾

    اور ڈرو اس سے جس نے تم کو پہنچائیں وہ چیزیں جو تم جانتے ہو ﴿132﴾

    پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے ﴿133﴾

    اور باغ اور چشمے ﴿134﴾

    میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کی آفت سے [۸۴] ﴿135﴾

    بولے ہم کو برابر ہے تو نصیحت کرے یا نہ بنے تو نصیحت کرنے والا ﴿136﴾

    اور کچھ نہیں یہ باتیں عادت ہے اگلے لوگوں کی ﴿137﴾

    اور ہم پر آفت نہیں آنے والی [۸۵] ﴿138﴾

    پھر اسکو جھٹلانے لگے تو ہم نے انکو غارت کر دیا [۸۶] اس بات میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے ﴿139﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا ﴿140﴾

    جھٹلایا ثمود نے پیغام لانے والوں کو ﴿141﴾

    جب کہا ان کو انکے بھائی صالح نے کیا تم ڈرتے نہیں ﴿142﴾

    میں تمہارے پاس پیغام لانے والا ہوں معتبر ﴿143﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو ﴿144﴾

    اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے پالنے والے پر ﴿145﴾

    کیا چھوڑے رکھیں گے تم کو یہاں کی چیزوں میں بے کھٹکے ﴿146﴾

    باغوں میں اور چشموں میں ﴿147﴾

    اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کا گابھا ملائم ہے ﴿148﴾

    اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر تکلف کے ﴿149﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو [۸۷] ﴿150﴾

    اورنہ مانو حکم بیباک لوگوں کا ﴿151﴾

    جو خرابی کرتے ہیں ملک میں اور اصلاح نہیں کرتے [۸۸] ﴿152﴾

    بولے تجھ پر تو کسی نے جادو کیا ہے ﴿153﴾

    توبھی ایک آدمی ہے جیسے ہم [۸۹] سو لے آ کچھ نشانی اگر تو سچا ہے [۹۰] ﴿154﴾

    کہا یہ اونٹنی ہے اسکے لئے پانی پینے کی ایک باری اور تمہارے لئے باری ایک دن کی مقرر [۹۱] ﴿155﴾

    اور مت چھیڑیو اس کو بری طرح سے پھر پکڑ لے تم کو آفت ایک بڑے دن کی [۹۲] ﴿156﴾

    پھر کاٹ ڈالا اس اونٹنی کو پھر کل کو رہ گئے پچتاتے [۹۳] ﴿157﴾

    پھر آ پکڑا ان کو عذاب نے البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے ﴿158﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم کرنے والا ﴿159﴾

    جھٹلایا لوط کی قوم نے پیغام لانے والوں کو ﴿160﴾

    جب کہا ان کو انکے بھائی لوط نے کیا تم ڈرتے نہیں ﴿161﴾

    میں تمہارے لئے پیغام لانے والا ہوں معتبر ﴿162﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو ﴿163﴾

    اور مانگتا نہیں میں تم سے اس کا کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر ﴿164﴾

    کیا تم دوڑتے ہو جہان کے مردوں پر [۹۴] ﴿165﴾

    اور چھوڑتے ہو جو تمہارے واسطے بنا دی ہیں تمہارے رب نے تمہاری جوروئیں بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھنے والے [۹۵] ﴿166﴾

    بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اے لوط تو تُو نکال دیا جائے گا [۹۶] ﴿167﴾

    کہا میں تمہارے کام سے البتہ بیزار ہوں [۹۷] ﴿168﴾

    اے رب خلاص کر مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کاموں سے جو یہ کرتے ہیں [۹۸] ﴿169﴾

    پھر بچا دیا ہم نے اسکو اور اس کے گھر والوں کو سب کو ﴿170﴾

    مگر ایک بڑھیا رہ گئ رہنے والوں میں [۹۹] ﴿171﴾

    پھر اٹھا مارا ہم نے ان دوسروں کو ﴿172﴾

    اور برسایا ان پرایک برساؤ سو کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا [۱۰۰] ﴿173﴾

    البتہ اس میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں تھے ماننے والے ﴿174﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا ﴿175﴾

    جھٹلایا بن کے رہنے والوں نے پیغام لانے والوں کو [۱۰۱] ﴿176﴾

    جب کہا ان کو شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں ﴿177﴾

    میں تم کو پیغام پہنچانے والا ہوں معتبر ﴿178﴾

    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو ﴿179﴾

    اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر ﴿180﴾

    پورا بھر کر دو ماپ اور مت ہو نقصان دینے والے ﴿181﴾

    اور تولو سیدھی ترازو سے [۱۰۲] ﴿182﴾

    اور مت گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت دوڑو ملک میں خرابی ڈالتے ہوئے [۱۰۳] ﴿183﴾

    اور ڈرو اس سے جس نے بنایا تم کو اور اگلی خلقت کو ﴿184﴾

    بولے تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے ﴿185﴾

    اور تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم اور ہمارے خیال میں تو تُو جھوٹا ہے [۱۰۴] ﴿186﴾

    سو گرا دے ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان کا اگر تو سچا ہے [۱۰۵] ﴿187﴾

    کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۱۰۶] ﴿188﴾

    پھر اس کو جھٹلایا پھر پکڑ لیا ان کو آفت نے سائبان والے دن کی بیشک وہ تھا عذاب بڑے دن کا [۱۰۷] ﴿189﴾

    البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے ﴿190﴾

    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا ﴿191﴾

    اور یہ قرآن ہے اتارا ہوا پروردگار عالم کا ﴿192﴾

    لیکر اترا ہے اسکو فرشتہ معتبر ﴿193﴾

    ترے دل پر کہ تو ہو ڈر سنادینے والا [۱۰۸] ﴿194﴾

    کھلی عربی زبان میں [۱۰۹] ﴿195﴾

    اور یہ لکھا ہے پہلوں کی کتابوں میں [۱۱۰] ﴿196﴾

    کیا انکے واسطے نشانی نہیں یہ بات کہ اسکی خبر رکھتے ہیں پڑھے لوگ بنی اسرائیل کے [۱۱۱] ﴿197﴾

    اور اگر اتارتے ہم یہ کتاب کسی اوپری (دوسری) زبان والے پر ﴿198﴾

    اور وہ اسکو پڑھ کر سناتا تو بھی اس پر یقین نہ لاتے [۱۱۲] ﴿199﴾

    اسی طرح گھسا دیا ہم نے اس انکار کو گنہگاروں کے دل میں ﴿200﴾

    وہ نہ مانیں گے اس کو جب تک نہ دیکھ لیں گےعذاب دردناک [۱۱۳] ﴿201﴾

    پھر آئے ان پر اچانک اور انکو خبر بھی نہ ہو ﴿202﴾

    پھر کہنے لگیں کچھ بھی ہم کو فرصت ملے گی [۱۱۴] ﴿203﴾

    کیا ہمارے عذاب کو جلد مانگتے ہیں ﴿204﴾

    بھلا دیکھ تو اگر فائدہ پہنچاتے رہیں ہم انکو برسوں ﴿205﴾

    پھر پہنچے ان پر جس چیز کا ان سے وعدہ تھا ﴿206﴾

    تو کیا کام آئے گا ان کے جو کچھ فائدے اٹھاتے رہے [۱۱۵] ﴿207﴾

    اور کوئی بستی نہیں غارت کی ہم نے جس کے لئے نہیں تھے ڈر سنادینے والے ﴿208﴾

    یاد دلانے کو اور ہمارا کام نہیں ہے ظلم کرنا [۱۱۶] ﴿209﴾

    اور اس قرآن کو نہیں لیکر اترے شیطان ﴿210﴾

    اور نہ ان سے بن آئے اور نہ وہ کر سکیں [۱۱۷] ﴿211﴾

    ان کو تو سننے کی جگہ سے دور کر دیا ہے [۱۱۸] ﴿212﴾

    سو تو مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود پھر تو پڑے عذاب میں [۱۱۹] ﴿213﴾

    اور ڈر سنا دے اپنے قریب کے رشتہ داروں کو [۱۲۰] ﴿214﴾

    اور اپنے بازو نیچے رکھ انکے واسطے جو تیرے ساتھ ہیں ایمان والے [۱۲۱] ﴿215﴾

    پھر اگر تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے میں بیزار ہوں تمہارے کام سے [۱۲۲] ﴿216﴾

    اور بھروسہ کر اس زبردست رحم والے پر [۱۲۳] ﴿217﴾

    جو دیکھتا ہے تجھ کو جب تو اٹھتا ہے ﴿218﴾

    اور تیرا پھرنا نمازیوں میں [۱۲۴] ﴿219﴾

    بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا ﴿220﴾

    میں بتلاؤں تم کو کس پر اترتے ہیں شیطان ﴿221﴾

    اترتے ہیں ہر جھوٹے گنہگار پر [۱۲۵] ﴿222﴾

    لا ڈالتے ہیں سنی ہوئی بات اور بہت ان میں جھوٹے ہیں [۱۲۶] ﴿223﴾

    اور شاعروں کی بات پر چلیں وہی جو بے راہ ہیں [۱۲۷] ﴿224﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارے پھرتے ہیں [۱۲۸] ﴿225﴾

    اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے [۱۲۹] ﴿226﴾

    مگر وہ لوگ جو یقین لائے اور کام کئے اچھے اور یاد کی اللہ کی بہت اور بدلہ لیا اس کے پیچھے کہ ان پر ظلم ہوا [۱۳۰] اور اب معلوم کر لیں گے ظلم کرنے والے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں [۱۳۱] ﴿227﴾

    Surah 27
    النمل

    طٰس۔ یہ آیتیں ہیں قرآن اور کھلی کتاب کی ﴿1﴾

    ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے واسطے ﴿2﴾

    جو قائم رکھتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور ان کو آخرت پر یقین ہے ﴿3﴾

    جو لوگ نہیں مانتے آخرت کو اچھے دکھلائے ہم نے ان کی نظروں میں انکے کام سو وہ بہکے پھرتے ہیں [۱] ﴿4﴾

    وہی ہیں جن کے واسطے بری طرح کا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں خراب [۲] ﴿5﴾

    اور تجھ کو قرآن پہنچتا ہے ایک حکمت والے خبردار کے پاس سے [۳] ﴿6﴾

    جب کہا موسٰی نے اپنے گھر والوں کو میں نے دیکھی ہے آگ [۴] اب لاتا ہوں تمہارے پاس وہاں سے کچھ خبر یا لاتا ہوں انگارا سلگا کر شاید تم سینکو [۵] ﴿7﴾

    پھر جب پہنچا اسکے پاس آواز ہوئی کہ برکت ہے اس پر جو کوئی کہ آگ میں ہے اور جو اسکے آس پاس ہے [۶] اور پاک ہے وہ ذات اللہ کی جو رب سارے جہان کا [۷] ﴿8﴾

    اے موسٰی وہ میں اللہ ہوں زبردست حکمتوں والا [۸] ﴿9﴾

    اور ڈال دے لاٹھی اپنی پھر جب دیکھا اسکو پھنپھناتے جیسے سانپ کی سٹک [۹] لوٹا پیٹھ پھیر کر او رمڑ کر نہ دیکھا [۱۰] اے موسٰی مت ڈر میں جو ہوں میرےپاس نہیں ڈرتے رسول [۱۱] ﴿10﴾

    مگر جس نے زیادتی کی پھر بدلے میں نیکی کی برائی کے پیچھے تو میں بخشنے والا مہربان ہوں [۱۲] ﴿11﴾

    اور ڈال دے ہاتھ اپنا اپنے گریبان میں کہ نکلے سفید ہو کر نہ کسی برائی سے یہ دونوں ملکر نو نشانیاں لیکر جا فرعون اور اس کی قوم کی طرف بیشک وہ تھے لوگ نافرمان [۱۳] ﴿12﴾

    پھر جب پہنچیں انکے پاس ہماری نشانیاں سمجھانے کو بولے یہ جادو ہے صریح ﴿13﴾

    اور ان کا انکار کیا اور ان کا یقین کر چکے تھے اپنے جی میں بے انصافی اور غرور سے سو دیکھ لے کیا ہوا انجام خرابی کرنے والوں کا [۱۴] ﴿14﴾

    اور ہم نے دیا داؤد اور سلیمان کو ایک علم [۱۵] اور بولے شکر اللہ کا جس نے ہم کو بزرگی دی [۱۶] اپنے بہت سے بندوں ایمان والوں پر [۱۷] ﴿15﴾

    اور قائم مقام ہوا سلیمان داؤد کا [۱۸] اور بولے اے لوگو ہم کو سکھائی ہے بولی اڑتے جانوروں کی [۱۹] اور دیا ہم کو ہر چیز میں سے [۲۰] بیشک یہی ہے فضیلت صریح ﴿16﴾

    اور جمع کئے گئے سلیمان کے پاس اسکے لشکر جن اور انسان اور اڑتے جانور پھر انکی جماعتیں بنائی [۲۱] ﴿17﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچے چیونٹیوں کے میدان پر [۲۲] کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو گھس جاؤ اپنے گھروں میں نہ پیس ڈالے تم کو سلیمان اور اسکی فوجیں اور انکو خبر بھی نہ ہو [۲۳] ﴿18﴾

    پھر مسکرا کر ہنس پڑا اسکی بات سے [۲۴] اور بولا اے میرے رب میری قسمت میں دےکہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے کیا مجھ پر اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں کام نیک جو تو پسند کرے اور ملا لے مجھ کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں [۲۵] ﴿19﴾

    اور خبر لی اڑتے جانوروں کی تو کہا کیا ہے جو میں نہیں دیکھتا ہد ہد کو یا ہے وہ غائب [۲۶] ﴿20﴾

    اس کو سزا دوں گا سخت سزا [۲۷] یا ذبح کر ڈالوں گا یا لائے میرے پاس کوئی سند صریح [۲۸] ﴿21﴾

    پھر بہت دیر نہ کی کہ آ کر کہا میں لے آیا خبر ایک چیز کی کہ تجھ کو اس کی خبر نہ تھی اور آیا ہوں تیرے پاس سبا سے ایک خبر لیکر تحقیقی [۲۹] ﴿22﴾

    میں نے پایا ایک عورت کو جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اسکو ہر ایک چیز ملی ہے [۳۰] اور اس کا ایک تخت ہے بڑا [۳۱] ﴿23﴾

    میں نے پایا کہ وہ اور اسکی قوم سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کے سوائے اور بھلے دکھلا رکھے ہیں ان کو شیطان نے انکے کام پھر روک دیا ہے انکو رستہ سے سو وہ راہ نہیں پاتے [۳۲] ﴿24﴾

    کیوں نہ سجدہ کریں اللہ کو جو نکالتا ہے چھپی ہوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو [۳۳] ﴿25﴾

    اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوائے پروردگار تخت بڑے کا [۳۴] ﴿26﴾

    سلیمان نے کہا ہم اب دیکھتے ہیں تو نے سچ کہا یا تو جھوٹا ہے [۳۵] ﴿27﴾

    لیجا میرا یہ خط اور ڈال دے ان کی طرف پھر ان کے پاس سے ہٹ آ پھر دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں [۳۶] ﴿28﴾

    کہنے لگی اے دربار والو میرے پاس ڈالا گیا ایک خط عزت کا ﴿29﴾

    وہ خط ہے سلیمان کی طرف سے [۳۷] اور وہ یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے ﴿30﴾

    کہ زور نہ کرو میرے مقابلہ میں اور چلے آؤ میرے سامنے حکمبردار ہو کر [۳۸] ﴿31﴾

    کہنے لگی اے دربار والو مشورہ دو مجھ کو میرے کام میں میں طے نہیں کرتی کوئی کام تمہارے حاضر ہونے تک [۳۹] ﴿32﴾

    وہ بولے ہم لوگ زور آور ہیں اور سخت لڑائی والے اور کام تیرے اختیار میں ہے سو تو دیکھ لے جو حکم کرے [۴۰] ﴿33﴾

    کہنے لگی بادشاہ جب گھستے ہیں کسی بستی میں اسکو خراب کر دیتے ہیں اور کر ڈالتے ہیں وہاں کے سرداروں کو بے عزت اور ایسا ہی کچھ کریں گے ﴿34﴾

    اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ تحفہ پھر دیکھتی ہوں کیا جواب لیکر پھرتے ہیں بھیجے ہوئے [۴۱] ﴿35﴾

    پھر جب پہنچا سلیمان کے پاس بولا کیا تم میری اعانت کرتے ہو مال سے جو اللہ نے مجھ کو دیا ہے بہتر ہے اس سے جو تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفہ سے خوش رہو [۴۲] ﴿36﴾

    پھر جا ان کے پاس اب ہم پہنچتے ہیں ان پر ساتھ لشکروں کے جنکا مقابلہ نہ ہو سکے ان سے اور نکال دیں گے ان کو وہاں سے بےعزت کر کر اور وہ خوار ہوں گے [۴۳] ﴿37﴾

    بولا اے دربار والو تم میں کوئی ہے کہ لے آوے میرے پاس اس کا تخت پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس حکم بردار ہو کر [۴۴] ﴿38﴾

    بولا ایک دیو جنوں میں سے میں لائے دیتا ہوں وہ تجھکو پہلے اس سے کہ تو اٹھے اپنی جگہ سے [۴۵] اور میں اس پر زورآور ہوں معتبر [۴۶] ﴿39﴾

    بولا وہ شخص جس کے پاس تھا ایک علم کتاب کا میں لائے دیتا ہوں تیرے پاس اسکو پہلے اس سے کہ پھر آئے تیری طرف تیری آنکھ [۴۷] پھر جب دیکھا اسکو دھرا ہوا اپنے پاس کہا یہ میرے رب کا فضل ہے [۴۸] میرے جانچنے کو کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری [۴۹] اور جو کوئی شکر کرے سو شکر کرے اپنے واسطے اور جو کوئی ناشکری کرے سو میرا رب بے پروا ہے کرم والا [۵۰] ﴿40﴾

    کہا روپ بدل دکھلاؤ اس عورت کے آگے اسکے تخت کا سمجھ پاتی ہے یا ان لوگوں میں ہوتی ہے جن کو سمجھ نہیں [۵۱] ﴿41﴾

    پھر جب وہ آ پہنچی کسی نے کہا کیا ایسا ہے تیرا تخت بولی گویا یہ وہی ہے [۵۲] اور ہم کو معلوم ہو چکا پہلے سے اور ہم ہو چکے حکم بردار [۵۳] ﴿42﴾

    اور روک دیا اس کو ان چیزوں سے جو پوجتی تھی اللہ کے سوائے البتہ وہ تھی منکر لوگوں میں [۵۴] ﴿43﴾

    کسی نے کہا اس عورت کو اندر چل محل میں پھر جب دیکھا اسکو خیال کیا کہ وہ پانی ہے گہرا اور کھولیں اپنی پنڈلیاں [۵۵] کہا یہ تو ایک محل ہے جڑے ہوئے ہیں اس میں شیشے [۵۶] بولی اے رب میں نے برا کیا ہے اپنی جان کا اور میں حکم بردار ہوئی ساتھ سلیمان کے اللہ کے آگے جو رب ہے سارے جہان کا [۵۷] ﴿44﴾

    اور ہم نے بھیجا تھا ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو کہ بندگی کرو اللہ کی پھر وہ تو دو فرقے ہو کر لگے جھگڑنے [۵۸] ﴿45﴾

    کہا اے میری قوم کیوں جلدی مانگتے ہو برائی کو پہلے بھلائی سے کیوں نہیں گناہ بخشواتے اللہ سے شاید تم پر رحم ہو جائے [۵۹] ﴿46﴾

    بولے ہم نے منحوس قدم دیکھا تجھ کو اور تیرے ساتھ والوں کو [۶۰] کہا تمہاری بری قسمت اللہ کے پاس ہے [۶۱] کچھ نہیں تم لوگ جانچے جاتے ہو [۶۲] ﴿47﴾

    اور تھے اس شہر میں نو شخص کہ خرابی کرتے ملک میں اور اصلاح نہ کرتے [۶۳] ﴿48﴾

    بولے کہ آپس میں قسم کھاؤ اللہ کی کہ البتہ رات کو جا پڑیں ہم اس پر اسکے گھر پر پھر کہدیں گے اسکے دعویٰ کرنے والے کو ہم نے نہیں دیکھا جب تباہ ہوا اس کا گھر اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں [۶۴] ﴿49﴾

    اور انہوں نے بنایا ایک فریب اور ہم نے بنایا ایک فریب اور انکو خبر نہ ہوئی [۶۵] ﴿50﴾

    پھر دیکھ لے کیسا ہوا انجام انکے فریب کا کہ ہلاک کر ڈالا ہم نے انکو اور انکی قوم کو سب کو [۶۶] ﴿51﴾

    سو یہ پڑے ہیں ان کے گھر ڈھیر ہوئے بسبب انکے انکار کے [۶۷] البتہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں [۶۸] ﴿52﴾

    اور بچا دیا ہم نے ان کو جو یقین لائے تھے اور بچتے رہے تھے [۶۹] ﴿53﴾

    اور لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو بے حیائی اور تم دیکھتے ہو [۷۰] ﴿54﴾

    کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر للچا کر عورتوں کو چھوڑ کر کوئی نہیں تم لوگ بے سمجھ ہو [۷۱] ﴿55﴾

    پھر اور کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ کہتے تھے نکال دو لوط کے گھر کو اپنے شہر سے یہ لوگ ہیں ستھرے رہا چاہتے [۷۲] ﴿56﴾

    پھر بچا دیا ہم نے اسکو اور اسکے گھر والوں کو [۷۳] مگر اسکی عورت مقرر کر دیا تھا ہم نے اسکو رہ جانے والوں میں [۷۴] ﴿57﴾

    اور برسا دیا ہم نے ان پر برساؤ پھر کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا [۷۵] ﴿58﴾

    تو کہہ تعریف ہے اللہ کو اور سلام ہے اس کے بندوں پر جن کو اس نے پسند کیا [۷۶] بھلا اللہ بہتر ہے یا جنکو وہ شریک کرتے ہیں [۷۷] ﴿59﴾

    بھلا کس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتار دیا تمہارے لئے آسمان سے پانی پھر اگائے ہم نے اس سے باغ رونق والے تمہارا کام نہ تھا کہ اگاتے ان کے درخت [۷۸] اب کوئی اور حاکم ہے اللہ کے ساتھ کوئی نہیں وہ لوگ راہ سے مڑتے ہیں [۷۹] ﴿60﴾

    بھلا کس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ [۸۰] اور بنائیں اس کے بیچ میں ندیاں اور رکھے اسکے ٹھہرانے کو بوجھ [۸۱] اور رکھا دو دریا میں پردہ [۸۲] اب کوئی اور حاکم ہے اللہ کے ساتھ کوئی نہیں بہتوں کو ان میں سمجھ نہیں [۸۳] ﴿61﴾

    بھلا کون پہنچتا ہے بےکس کی پکار کو جب اسکو پکارتا ہے اور دور کر دیتا ہے سختی [۸۴] اور کرتا ہے تم کو نائب اگلوں کا زمین پر [۸۵] اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تم بہت کم دھیان کرتے ہو [۸۶] ﴿62﴾

    بھلا کون راہ بتاتا ہے تم کو اندھیروں میں جنگل کے اور دریا کے [۸۷] اور کون چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے پہلے [۸۸] اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ اللہ بہت اوپر ہے اس سے جسکو شریک بتلاتے ہیں [۸۹] ﴿63﴾

    بھلا کون سرے سے بناتا ہے پھر اسکو دہرائے گا [۹۰] اور کون روزی دیتا ہے تمکو آسمان سے اور زمین سے [۹۱] اب کوئی حاکم ہے اللہ کے ساتھ تو کہہ لاؤ اپنی سند اگر تم سچے ہو [۹۲] ﴿64﴾

    تو کہہ خبر نہیں رکھتا جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں چھپی ہوئی چیز کی مگر اللہ [۹۳] اور ان کو خبر نہیں کب جی اٹھیں گے [۹۴] ﴿65﴾

    بلکہ تھک کر گر گیا ان کا فکر آخرت کے بارہ میں بلکہ ان کو شبہ ہے اس میں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں [۹۵] ﴿66﴾

    اور بولے وہ لوگ جو منکر ہیں کیا جب ہم ہو جائیں مٹی اور ہمارے باپ دادے کیا ہم کو زمین سے نکال لیں گے ﴿67﴾

    وعدہ پہنچ چکا ہے اس کا ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو پہلے سے کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں اگلوں کی [۹۶] ﴿68﴾

    تو کہہ دے پھر و ملک میں تو دیکھو کیسا ہوا انجام کار گنہاگاروں کا [۹۷] ﴿69﴾

    اور غم نہ کر ان پر اور نہ خفا ہو ان کے فریب بنانے سے [۹۸] ﴿70﴾

    اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو [۹۹] ﴿71﴾

    تو کہہ کیا بعید ہے جو تمہاری پیٹھ پر پہنچ چکی ہو بعضی وہ چیز جس کی جلدی کر رہے ہو [۱۰۰] ﴿72﴾

    اور تیرا رب تو فضل رکھتا ہے لوگوں پر پر ان میں بہت لوگ شکر نہیں کرتے [۱۰۱] ﴿73﴾

    اور تیرا رب جانتا ہے جو چھپ رہا ہے انکے سینوں میں اور جو کچھ کہ ظاہر کرتے ہیں ﴿74﴾

    اور کوئی چیز نہیں جو غائب ہو آسمان اور زمین میں مگر موجود ہے کھلی کتاب میں [۱۰۲] ﴿75﴾

    یہ قرآن سناتا ہے بنی اسرائیل کو بہت چیزیں جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں ﴿76﴾

    اور بیشک وہ ہدایت ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے واسطے [۱۰۳] ﴿77﴾

    تیرا رب ان میں فیصلہ کرے گا اپنی حکومت سے اور وہی ہے زبردست سب کچھ جاننے والا [۱۰۴] ﴿78﴾

    سو تو بھروسہ کر اللہ پر بیشک تو ہے صحیح کھلے رستہ پر [۱۰۵] ﴿79﴾

    البتہ تو نہیں سنا سکتا مردوں کو اور نہیں سنا سکتا بہروں کو اپنی پکار جب لوٹیں وہ پیٹھ پھیر کر ﴿80﴾

    اور نہ تو دکھلا سکے اندھوں کو جب وہ راہ سے بچلیں [۱۰۶] تو تو سناتا ہے اسکو جو یقین رکھتا ہو ہماری باتوں پر سو وہ حکمبردار ہیں [۱۰۷] ﴿81﴾

    اور جب پڑ چکے گی ان پر بات نکالیں گے ہم ان کے آگے ایک جانور زمین سے ان سے باتیں کرے گا اس واسطے کہ لوگ ہماری نشانیوں کا یقین نہیں کرتے تھے [۱۰۸] ﴿82﴾

    اور جس دن گھیر بلائیں گے ہم اہر ایک فرقہ میں سے ایک جماعت جو جھٹلاتے تھے ہماری باتوں کو پھر انکی جماعت بندی ہو گی [۱۰۹] ﴿83﴾

    یہاں تک کہ جب حاضر ہو جائیں فرمائے گا کیوں جھٹلایا تم نے میری باتوں کو اور نہ آ چکی تھیں تمہاری سمجھ میں یا بولو کہ کیا کرتے تھے [۱۱۰] ﴿84﴾

    اور پڑ چکی ان پر بات اس واسطے کہ انہوں نے شرارت کی تھی اب وہ کچھ نہیں بول سکتے [۱۱۱] ﴿85﴾

    کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے بنائی رات کہ اس میں چین حاصل کریں اور دن بنایا دیکھنے کا البتہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین کرتے ہیں [۱۱۲] ﴿86﴾

    اور جس دن پھونکی جائیگی صور [۱۱۳] تو گھبرا جائے جو کوئی ہے آسمان میں اور جو کوئی ہے زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے [۱۱۴] اور سب چلے آئیں اسکے آگے عاجزی سے [۱۱۵] ﴿87﴾

    اور تو دیکھے پہاڑوں کو سمجھے کہ وہ جم رہے ہیں اور وہ چلیں گے جیسے چلے بادل [۱۱۶] کاریگری اللہ کی جس نے سادھا ہے ہر چیز کو [۱۱۷] اس کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۱۱۸] ﴿88﴾

    جو کوئی لیکر آیا بھلائی تو اس کو ملے اس سے بہتر [۱۱۹] اور ان کو گھبراہٹ سے اس دن امن ہے [۱۲۰] ﴿89﴾

    اور جو کوئی لیکر آیا برائی سو اوندھے ڈالیں ان کے منہ آگ میں وہی بدلہ پاؤ گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے [۱۲۱] ﴿90﴾

    مجھ کو یہی حکم ہے کہ بندگی کروں اس شہر کے مالک کی جس نے اس کو حرمت دی اور اسی کی ہے ہر ایک چیز [۱۲۲] اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں حکم برداروں میں [۱۲۳] ﴿91﴾

    اور یہ کہ سنا دون قرآن [۱۲۴] پھر جو کوئی راہ پر آیا سو راہ پر آئے گا اپنے ہی بھلے کو اور جو کوئی بہکا رہا تو کہدے میں تو یہی ہوں ڈر سنا دینے والا [۱۲۵] ﴿92﴾

    اور کہہ تعریف ہے سب اللہ کو [۱۲۶] آگے دکھائے گا تم کو اپنے نمونے تو انکو پہچان لو گے [۱۲۷] اور تیرا رب بے خبر نہیں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو [۱۲۸] ﴿93﴾

    Surah 28
    القصص

    طٰسم۔ ﴿1﴾

    یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی ﴿2﴾

    ہم سناتے ہیں تجھ کو کچھ احوال موسٰی اور فرعون کا تحقیقی ان لوگوں کے واسطے جو یقین کرتے ہیں [۱] ﴿3﴾

    فرعون چڑھ رہا تھا ملک میں اور کر رکھا تھا وہاں کے لوگوں کو کئ فرقے کمزور کر رکھا تھا ایک فرقہ کو ان میں [۲] ذبح کرتا تھا انکے بیٹوں کو اور زندہ رکھتا تھا انکی عورتوں کو [۳] بیشک وہ تھا خرابی ڈالنے والا [۴] ﴿4﴾

    اور ہم چاہتے ہیں کو احسان کریں ان لوگوں پر جو کمزور ہوئے پڑے تھے ملک میں اور کر دیں ان کو سردار اور کر دیں ان کو قائم مقام ﴿5﴾

    اور جما دیں ان کو ملک میں [۵] اور دکھا دیں فرعون اور ہامان کو [۶] اور انکے لشکروں کو انکے ہاتھ سے جس چیز کا ان کو خطرہ تھا [۷] ﴿6﴾

    اور ہم نے حکم بھیجا موسٰی کی ماں کو کہ اس کو دودھ پلاتی رہ پھر جب تجھ کو ڈر ہو اس کا تو ڈال دے اسکو دریا میں [۸] اور نہ خطرہ کر اور نہ غمگین ہو ہم پھر پہنچا دیں گے اسکو تیری طرف اور کریں گے اس کو رسولوں سے [۹] ﴿7﴾

    پھر اٹھا لیا اس کو فرعون کے گھر والوں نے کہ ہو ان کا دشمن اور غم میں ڈالنے والا بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے چوکنے والے [۱۰] ﴿8﴾

    اور بولی فرعون کی عورت یہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لئے اور تیرے لئے [۱۱] اسکو مت مارو کچھ بعید نہیں جو ہمارے کام آئے یا ہم اسکو کر لیں بیٹا [۱۲] اور ان کو کچھ خبر نہ تھی [۱۳] ﴿9﴾

    اور صبح کو موسٰی کی ماں کے دل میں قرار نہ رہا قریب تھی کہ ظاہر کر دے بیقراری کو اگر نہ ہم نے گرہ دی ہوتی اس کے دل پر اس واسطے کہ رہے یقین کرنے والوں میں [۱۴] ﴿10﴾

    اور کہہ دیا اس کی بہن کو پیچھے چلی جا پھر دیکھتی رہی اس کو اجنبی ہو کر اور ان کو خبر نہ ہوئی [۱۵] ﴿11﴾

    اور روک رکھا تھا ہم نے موسٰی سے دائیوں کو پہلے سے پھر بولی میں بتلاؤں تم کو ایک گھر والے کہ اس کو پال دیں تمہارے لئے اور وہ اس کا بھلا چاہنے والے ہیں [۱۶] ﴿12﴾

    پھر ہم نے پہنچا دیا اس کو اسکی ماں کی طرف کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غمگین نہ ہو اور جانے کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے [۱۷] پر بہت لوگ نہیں جانتے [۱۸] ﴿13﴾

    اور جب پہنچ گیا اپنے زور پر اور سنھبل گیا دی ہم نے اس کو حکمت اور سمجھ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو [۱۹] ﴿14﴾

    اور آیا شہر کے اندر جس وقت بیخبر ہوئے تھے وہاں کے لوگ [۲۰] پھر پائے اس نے دو مرد لڑتے ہوئے یہ ایک اسکے رفیقوں میں اور یہ دوسرا اسکے دشمنوں میں پھر فریاد کی اس سے اس نے جو تھا اس کے رفیقوں میں اس کی جو تھا اس کے دشمنوں میں پھر مکا مارا اسکو موسٰی نے پھر اسکو تمام کر دیا بولا یہ ہوا شیطان کے کام سے بیشک وہ دشمن ہے بہکانے والا صریح ﴿15﴾

    بولا اے میرے رب میں نے برا کیا اپنی جان کا سو بخش مجھ کو پھر اس کو بخش دیا بیشک وہی ہے بخشنے والا مہربان [۲۱] ﴿16﴾

    بولا اے رب جیسا تو نے فضل کر دیا مجھ پر پھر میں کبھی نہ ہوں گا مددگار گنہگاروں کا [۲۲] ﴿17﴾

    پھر صبح کو اٹھا اس شہر میں ڈرتا ہوا انتظار کرتا ہوا [۲۳] پھر ناگہاں جس نے کل مدد مانگی تھی اس سے آج پھر فریاد کرتا ہے اس سے [۲۴] کہا موسٰی نے بیشک تو بے راہ ہے صریح [۲۵] ﴿18﴾

    پھر جب چاہا کہ ہاتھ ڈالے اس پر جو دشمن تھا ان دونوں کا بول اٹھا اے موسٰی کیا تو چاہتا ہے کہ خون کرے میرا جیسے خون کر چکا ہے کل ایک جان کا [۲۶] تیرا یہی جی چاہتا ہے کہ زبردستی کرتا پھرے ملک میں اور نہیں چاہتا کہ ہو صلح کرا دینے والا [۲۷] ﴿19﴾

    اور آیا شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا کہا اے موسٰی دربار والے مشورہ کرتے ہیں تجھ پر کہ تجھ کو مار ڈالیں سو نکل جا میں تیرا بھلا چاہنے والا ہوں [۲۸] ﴿20﴾

    پھر نکلا وہاں سے ڈرتا ہوا راہ دیکھتا بولا اے رب بچا لے مجھ کو اس قوم بے انصاف سے ﴿21﴾

    اور جب منہ کیا مدین کی سیدھ پر بولا امید ہے کہ میرا رب لے جائے مجھ کو سیدھی راہ پر [۲۹] ﴿22﴾

    اور جب پہنچا مدین کے پانی پر پایا وہاں ایک جماعت کو لوگوں کی پانی پلاتے ہوئے [۳۰] اور پایا ان سے ورے دو عورتوں کو کہ روکے ہوئے کھڑی تھیں اپنی بکریاں بولا تمہارا کیا حال ہے وہ بولیں ہم نہیں پلاتیں پانی چرواہوں کے پھیر لیجانے تک [۳۱] اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا [۳۲] ﴿23﴾

    پھر اس نے پانی پلا دیا انکے جانوروں کو [۳۳] پھر ہٹ کر آیا چھاؤں کی طرف بولا اے رب تو جو چیز اتارے میری طرف اچھی میں اس کا محتاج ہوں [۳۴] ﴿24﴾

    پھر آئی اسکے پاس ان دونوں میں سے ایک چلتی تھی شرم سے [۳۵] بولی میرا باپ تجھ کو بلاتا ہے کہ بدلے میں دے حق اس کا کہ تو نے پانی پلا دیا ہمارے جانوروں کو [۳۶] پھر جب پہنچا اسکے پاس اور بیان کیا اس سے احوال کہا مت ڈر بچ آیا تو اس قوم بے انصاف سے [۳۷] ﴿25﴾

    بولی ان دونوں میں سے ایک اے باپ اس کو نوکر رکھ لے البتہ بہتر نوکر جو کہ تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور ہو امانت دار [۳۸] ﴿26﴾

    کہا میں چاہتا ہوں کہ بیاہ دوں تجھ کو ایک بیٹی اپنی ان دونوں میں سے اس شرط پر کہ تو میری نوکری کرے آٹھ برس [۳۹] پھر اگر تو پورے کر دے دس برس تو وہ تیری طرف سے ہے [۴۰] اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر تکلیف ڈالوں تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے [۴۱] ﴿27﴾

    بولا یہ وعدہ ہو چکا میرے اور تیرے بیچ جونسی مدت ان دنوں میں پوری کر دوں سو زیادتی نہ ہو مجھ پر اور اللہ پر بھروسہ اس چیز کا جو ہم کہتے ہیں [۴۲] ﴿28﴾

    پھر جب پوری کر چکا موسٰیؑ وہ مدت اور لیکر چلا اپنے گھر والوں کو دیکھی کوہ طور کی طرف سے ایک آگ کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا انگارا آگ کا تاکہ تم تاپو ﴿29﴾

    پھر جب پہنچا اسکے پاس آواز ہوئی میدان کے داہنے کنارے سے برکت والے تختہ میں ایک درخت سے [۴۳] کہ اے موسٰی میں ہوں میں اللہ جہان کا رب ﴿30﴾

    اور یہ کہ ڈالدے اپنی لاٹھی پھر جب دیکھا اسکو پھنپناتے جیسے سانپ کی سٹک الٹا پھرا منہ موڑ کر اور نہ دیکھا پیچھے پھر کر اے موسٰی آگے آ اور مت ڈر تجھ کو کچھ خطرہ نہیں ﴿31﴾

    ڈال اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں نکل آئے سفید ہو کر نہ کہ کسی برائی سے [۴۴] اور ملا لے اپنی طرف اپنا بازو ڈر سے [۴۵] سو یہ دو سندیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اسکے سرداروں پر [۴۶] بیشک وہ تھے لوگ نافرمان ﴿32﴾

    بولا اے رب میں نے خون کیا ہے ان میں ایک جان کا سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں گے [۴۷] ﴿33﴾

    اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان چلتی ہے مجھ سے زیادہ سو اس کو بھیج میرے ساتھ مدد کو کہ میری تصدیق کرے میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھوٹا کریں [۴۸] ﴿34﴾

    فرمایا ہم مضبوط کر دیں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے اور دیں گے تم کو غلبہ پھر وہ نہ پہنچ سکیں گے تم تک ہماری نشانیوں سے تم اور جو تمہارے ساتھ ہو غالب رہو گے [۴۹] ﴿35﴾

    پھر جب پہنچا انکے پاس موسٰی لیکر ہماری نشانیاں کھلی ہوئی بولے اور کچھ نہیں یہ جادو ہے باندھا ہوا [۵۰] اور ہم نے سنا نہیں یہ اپنے اگلے باپ دادوں میں [۵۱] ﴿36﴾

    اور کہا موسٰی نے میرا رب تو خوب جانتا ہے جو کوئی لایا ہے ہدایت کی بات اس کے پاس سے اور جس کو ملے گا آخرت کا گھر بیشک بھلا نہ ہوگا بے انصافوں کا [۵۲] ﴿37﴾

    اور بولا فرعون اے دربار والو مجھ کو تو معلوم نہیں تمہارا کوئی حاکم ہو میرے سوا سو آگ دے اے ہامان میرے واسطے گارے کو پھر بنا میرے واسطے ایک محل تا کہ میں جھانک کر دیکھ لوں موسٰی کے رب کو اور میری اٹکل میں تو وہ جھوٹا ہے [۵۳] ﴿38﴾

    اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے ﴿39﴾

    پھر پکڑ اہم نے اسکو اور اسکے لشکروں کو پھر پھینک دیا ہم نے انکو دریا میں سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گنہگاروں کا [۵۴] ﴿40﴾

    اور کیا ہم نے ان کو پیشوا کہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف [۵۵] اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی [۵۶] ﴿41﴾

    اور پیچھے رکھ دی ہم نے ان پر اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن ان پر برائی ہے [۵۷] ﴿42﴾

    اور دی ہم نے موسٰیؑ کو کتاب بعد ا سکے کہ ہم غارت کر چکے پہلی جماعتوں کو [۵۸] سمجھانے والی لوگوں کو اور راہ بتانے والی اور رحمت تاکہ وہ یاد رکھیں [۵۹] ﴿43﴾

    اور تو نہ تھا غرب کی طرف جب ہم نے بھیجا موسٰیؑ کو حکم [۶۰] اور نہ تھا تو دیکھنے والا ﴿44﴾

    لیکن ہم نے پیدا کیں کئ جماعتیں پھر دراز ہوئی ان پر مدت [۶۱] اور تو نہ رہتا تھا مدین والوں میں کہ ان کو سناتا ہماری آیتیں پر ہم رہے ہیں رسول بھیجتے [۶۲] ﴿45﴾

    اور تو نہ تھاطور کے کنارے جب ہم نے آواز دی لیکن یہ انعام ہے تیرے رب کا [۶۳] تاکہ تو ڈر سنا دے ان لوگوں کو جنکے پاس نہیں آیا کوئی ڈر سنانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ یاد رکھیں [۶۴] ﴿46﴾

    اور اتنی بات کےلئے کہ کبھی آن پڑے ان پر آفت ان کاموں کی وجہ سے جنکو بھیج چکے ہیں انکے ہاتھ تو کہنے لگیں اے رب ہمارے کیوں نہ بھیج دیا ہمارے پاس کسی کو پیغام دے کر تو ہم چلتے تیری باتوں پر اور ہوتے ایمان والوں میں [۶۵] ﴿47﴾

    پھر جب پہنچی ان کو ٹھیک بات ہمارے پاس سے کہنے لگے کیوں نہ ملا اس رسول کو جیسا ملا تھا موسٰی کو [۶۶] کیا ابھی منکر نہیں ہو چکے اس سے جو موسیٰ کو ملا تھا اس سے پہلے [۶۷] کہنے لگے دونوں جادو ہیں آپس میں موافق اور کہنے لگے ہم دونوں کو نہیں مانتے [۶۸] ﴿48﴾

    تو کہہ اب تم لاؤ کوئی کتاب اللہ کے پاس کی جو ان دونوں سے بہتر ہو کہ میں اس پر چلوں اگر تم سچے ہو [۶۹] ﴿49﴾

    پھر اگر نہ کر لائیں تیرا کہا تو جان لے کہ وہ چلتے ہیں نری اپنی خواہشوں پر اور اس سے گمراہ زیادہ کون جو چلے اپنی خواہش پر بدون راہ بتلائے اللہ کے بیشک اللہ راہ نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو [۷۰] ﴿50﴾

    اور ہم پے درپے بھیجتے رہے ہیں انکو اپنے کلام تاکہ وہ دھیان میں لائیں [۷۱] ﴿51﴾

    جن کو ہم نے دی ہے کتاب اس سے پہلے وہ اس پر یقین کرتے ہیں ﴿52﴾

    اور جب ان کو سنائے تو کہیں ہم یقین لائے اس پر یہی ہے ٹھیک ہمارے رب کا بھیجا ہوا ہم ہیں اس سے پہلے کے حکم بردار [۷۲] ﴿53﴾

    وہ لوگ پائیں گے اپنا ثواب دوہرا اس بات پر کہ قائم رہے [۷۳] اور بھلائی کرتے ہیں برائی کے جواب میں [۷۴] اور ہمارا دیا ہو کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں [۷۵] ﴿54﴾

    اور جب سنیں نکمی باتیں اس سے کنارہ کریں اورکہیں ہم کو ہمارے کام اور تم کو تمہارے کام سلامت رہو ہم کو نہیں چاہئیں بے سمجھ لوگ [۷۶] ﴿55﴾

    تو راہ پر نہیں لاتا جس کو چاہے پر اللہ راہ پر لائے جس کو چاہے [۷۷] اور وہی خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے [۷۸] ﴿56﴾

    اور کہنے لگے اگر ہم راہ پر آئیں تیرے ساتھ اچک لئے جائیں اپنے ملک سے [۷۹] کیا ہم نے جگہ نہیں دی ان کو حرمت والے پناہ کے مکان میں کھینچے چلے آتے ہیں اسکی طرف میوے ہر چیز کے روزی ہماری طرف سے پر بہت ان میں سمجھ نہیں رکھتے [۸۰] ﴿57﴾

    اور کتنی غارت کر دیں ہم نے بستیاں جو اترا چلی تھیں اپنی گذران میں اب یہ ہیں ان کے گھر آباد نہیں ہوئے ان کے پیچھے مگر تھوڑے [۸۱] اور ہم ہیں آخر کو سب کچھ لینے والے [۸۲] ﴿58﴾

    اور تیرا رب نہیں غارت کرنے والا بستیوں کو جب تک نہ بھیج لے ان کی بڑی بستی میں کسی کو پیغام دے کر جو سنائے انکو ہماری باتیں [۸۳] اور ہم ہر گز نہیں غارت کرنے والے بستیوں کو مگر جب کہ وہاں کے لوگ گنہگار ہوں [۸۴] ﴿59﴾

    اور جو تم کو ملی ہے کوئی چیز سو فائدہ اٹھا لینا ہے دنیا کی زندگی میں اور یہاں کی رونق ہے اور جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ے اور باقی رہنے والا کیا تم کو سمجھ نہیں [۸۵] ﴿60﴾

    بھلاا یک شخص جس سے ہم نے وعدہ کیا ہے اچھا وعدہ سو ہ اس کو پانے والا ہے برابر ہے، اسکے جسکو ہم نے فائدہ دیا دنیا کی زندگانی کا پھر وہ قیامت کے دن پکڑ ا ہوا آیا [۸۶] ﴿61﴾

    اور جس دن انکو پکارے گا تو کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے [۸۷] ﴿62﴾

    بولے جن پر ثابت ہو چکی بات اے رب یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ان کو بہکایا جیسے ہم آپ بہکے ہم منکر ہوئے تیرے آگے وہ ہم کو نہ پوجتے تھے [۸۸] ﴿63﴾

    اور کہیں گے پکارو اپنے شریکوں کو پھر پکاریں گے انکو تو وہ جواب نہ دیں گے ان کو [۸۹] اور دیکھیں گے عذاب کاش کہ کسی طرح وہ راہ پائے ہوئے ہوتے [۹۰] ﴿64﴾

    اور جس دن ان کو پکارے گا تو فرمائے گا کیا جواب دیا تھا تم نے پیغام پہنچانے والوں کو ﴿65﴾

    پھر بند ہو جائیں گی ان پر باتیں اس دن سو وہ آپس میں بھی نہ پوچھیں گے [۹۱] ﴿66﴾

    سو جس نے کہ توبہ کی اور یقین لایا اعمال کئے اچھے سو امید ہے کہ ہو چھوٹنے والوں میں [۹۲] ﴿67﴾

    اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند کرے جس کو چاہے انکے ہاتھ میں نہیں پسند کرنا [۹۳] اللہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس چیز سے کہ شریک بتلاتے ہیں [۹۴] ﴿68﴾

    اور تیرا رب جانتا ہے جو چھپ رہا ہے انکے سینوں میں اور جو کچھ کہ ظاہر میں کرتے ہیں [۹۵] ﴿69﴾

    اور وہی اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کے ہاتھ حکم ہے اور اسی کے پاس پھیرے جاؤ گے [۹۶] ﴿70﴾

    تو کہہ دیکھو تو اگر اللہ رکھ دے تم پر رات ہمیشہ کو قیامت کے دن تک [۹۷] کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو کہیں سے روشنی پھر کیا تم سنتے نہیں [۹۸] ﴿71﴾

    تو کہہ دیکھو تو اگر رکھ دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کو قیامت کے دن تک کون حاکم ہے اللہ کے سوائے کہ لائے تم کو رات جس میں آرام کرو پھر کیا تم نہیں دیکھتے [۹۹] ﴿72﴾

    اور اپنی مہربانی سے بنا دئے تمہارے واسطے رات اور دن کہ اس میں چین بھی کرو اور تلاش بھی کرو کچھ اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو [۱۰۰] ﴿73﴾

    اور جس دن ان کو پکارے گا تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے ﴿74﴾

    اور جدا کریں گے ہم ہر فرقہ میں سے ایک احوال بتلانے والا [۱۰۱] پھر کہیں گے لاؤ اپنی سند [۱۰۲] تب جان لیں گے کہ سچ بات ہے اللہ کی اور کھوئی جائیں گی ان سے جو باتیں وہ جوڑتے تھے [۱۰۳] ﴿75﴾

    قارون جو تھا سو موسٰی کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر [۱۰۴] اور ہم نے دیے تھے اسکو خزانے اتنے کہ اسکی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتے کئ مرد زور آور [۱۰۵] جب کہا اس کو اسکی قوم نے اترا مت اللہ کو نہیں بھاتے اترانے والے [۱۰۶] ﴿76﴾

    اور جو تجھ کو اللہ نے دیا ہے اس سے کما لے پچھلا گھر [۱۰۷] اور نہ بھول اپنا حصہ دنیا سے اور بھلائی کر جیسے اللہ نے بھلائی کی تجھ سے [۱۰۸] اور مت چاہ خرابی ڈالنی ملک میں اللہ کو بھاتے نہیں خرابی ڈالنے والے [۱۰۹] ﴿77﴾

    بولا یہ مال تو مجھ کو ملا ہے ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے [۱۱۰] کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ غارت کر چکا ہے اس سے پہلے کتنی جماعتیں جو اس سے زیادہ رکھتی تھیں زور اور زیادہ رکھتی تھیں مال کی جمع [۱۱۱] اور پوچھی نہ جائیں گنہگاروں سے ان کے گناہ [۱۱۲] ﴿78﴾

    پھر نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سےکہنے لگے جو لوگ طالب تھے دنیا کی زندگانی کے اے کاش ہم کو ملے جیسا کچھ ملا ہے قارون کو بیشک اسکی بڑی قسمت ہے [۱۱۳] ﴿79﴾

    اور بولے جن کو ملی تھی سمجھ اے خرابی تمہاری اللہ کا دیا ثواب بہتر ہے انکے واسطے جو یقین لائے اور کام کیا بھلا [۱۱۴] اور یہ بات انہی کے دل میں پڑتی ہے جو سہنے والے ہیں [۱۱۵] ﴿80﴾

    پھر دھنسا دیا ہم نے اس کو اور اسکے گھر کو زمین میں پھر نہ ہوئی س کی کوئی جماعت جو مدد کرتی اسکی اللہ کے سوائے اور نہ وہ خود مدد لا سکا [۱۱۶] ﴿81﴾

    اور فجر کو لگے کہنے جو کل شام آرزو کرتے تھے اس کا سا درجہ ارے خرابی یہ تو اللہ کھول دیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور تنگ کر دیتا ہے [۱۱۷] اگر نہ احسان کرتا ہم پر اللہ تو ہم کو بھی دھنسا دیتا اے خرابی یہ تو چھٹکارا نہیں پاتے منکر [۱۱۸] ﴿82﴾

    وہ گھر پچھلا ہے ہم دیں گے وہ ان لوگوں کو جو نہیں چاہتے اپنی بڑائی ملک میں اور نہ بگاڑ ڈالنا اور عاقبت بھلی ہے ڈرنے والوں کی [۱۱۹] ﴿83﴾

    جو لیکر آیا بھلائی اس کو ملنا ہے اس سے بہتر [۱۲۰] اور جو کوئی لے کر آیا برائی سو برائیاں کرنے والے ان کو وہی سزا ملے گی جو کچھ کرتے تھے [۱۲۱] ﴿84﴾

    جس نے حکم بھیجا تجھ پر قرآن کا وہ پھر لانے والا ہے تجھ کو پہلی جگہ [۱۲۲] تو کہہ میرا رب خوب جانتا ہے کون لایا ہے راہ کی سوجھ اور کون پڑا ہے صریح گمراہی میں [۱۲۳] ﴿85﴾

    اور تو توقع نہ رکھتا تھا کہ اتاری جائے تجھ پر کتاب مگر مہربانی سے تیرے رب کی [۱۲۴] سو تو مت ہو مددگار کافروں کا [۱۲۵] ﴿86﴾

    اور نہ ہو کہ وہ تجھ کو روک دیں اللہ کے حکموں سے بعد اس کے کہ اتر چکے تیری طرف اور بلا اپنے رب کی طرف اور مت ہو شریک والوں میں [۱۲۶] ﴿87﴾

    اور مت پکار اللہ کے سوائے دوسرا حاکم [۱۲۷] کسی کی بندگی نہیں اسکے سوائے ہر چیز فنا ہے مگر اس کا منہ [۱۲۸] اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے [۱۲۹] ﴿88﴾

    Surah 29
    العنکبوت

    الٓم۔ ﴿1﴾

    کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے [۱] ﴿2﴾

    اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے [۲] سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو [۳] ﴿3﴾

    کیا یہ سمجھتے ہیں جو لوگ کہ کرتے ہیں برائیاں کہ ہم سے بچ جائیں بری بات طے کرتے ہیں [۴] ﴿4﴾

    جو کوئی توقع رکھتا ہے اللہ کی ملاقات کی سو اللہ کا وعدہ آ رہا ہے اور وہ ہے سننے والا جاننے والا [۵] ﴿5﴾

    اور جو کوئی محنت اٹھائے سو اٹھاتا ہے اپنے ہی واسطے اللہ کو پروا نہیں جہان والوں کی [۶] ﴿6﴾

    اور جو لوگ یقین لائے اور کیے بھلے کام ہم اتار دیں گے ان پر سے برائیاں ان کی اور بدلا دیں گے ان کو بہتر سے بہتر کاموں کا [۷] ﴿7﴾

    اور ہم نے تاکید کر دی انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی سے رہنے کی اور اگر وہ تجھ سے زور کریں کہ تو شریک کرے میرا جس کی تجھ کو خبر نہیں [۸] تو انکا کہنا مت مان [۹] مجھی تک پھر آنا ہے تم کو سو میں بتلا دوں گا تمکو جو کچھ تم کرتے تھے [۱۰] ﴿8﴾

    اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کیے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں [۱۱] ﴿9﴾

    اور ایک وہ لوگ ہیں کہ کہتے ہیں یقین لائے ہم اللہ پر پھر جب اس کو ایذا پہنچے اللہ کی راہ میں کرنے لگے لوگوں کے ستانے کو برابر اللہ کے عذاب کے [۱۲] اور اگر آ پہنچے مدد تیرے رب کی طرف سے تو کہنے لگیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں [۱۳] کیا یہ نہیں کہ اللہ خوب خبردار ہے جو کچھ سینوں میں ہے جہان والوں کے [۱۴] ﴿10﴾

    اور البتہ معلوم کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جو لوگ دغاباز ہیں [۱۵] ﴿11﴾

    اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو تم چلو ہماری راہ اور ہم اٹھا لیں تمہارے گناہ [۱۶] اور وہ کچھ نہ اٹھائیں گے ان کے گناہ بیشک وہ جھوٹے ہیں ﴿12﴾

    اور البتہ اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کتنے بوجھ ساتھ اپنے بوجھ کے [۱۷] اور البتہ ان سے پوچھ ہو گی قیامت کے دن جو باتیں کہ جھوٹ بناتے تھے [۱۸] ﴿13﴾

    اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کے پاس پھر رہا ان میں ہزار برس پچاس برس کم [۱۹] پھر پکڑا ان کو طوفان نے اور وہ گنہگار تھے [۲۰] ﴿14﴾

    پھر بچا دیا ہم نے اسکو اور جہاز والوں کو [۲۱] اور رکھا ہم نے جہاز کو نشانی جہاں والوں کے واسطے [۲۲] ﴿15﴾

    اور ابراہیم کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو بندگی کرو اللہ کی اور ڈرتے رہو اس سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو ﴿16﴾

    تم تو پوجتے ہو اللہ کے سوائے یہ بتوں کے تھان اور بناتے ہو جھوٹی باتیں [۲۳] بیشک جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے وہ مالک نہیں تمہاری روزی کے سو تم ڈھونڈو اللہ کے یہاں روزی اور اس کی بندگی کرو اور اس کا حق مانو اسی کی طرف پھر جاؤ گے [۲۴] ﴿17﴾

    اور اگر تم جھٹلاؤ گے تو جھٹلا چکے ہیں بہت فرقے تم سے پہلے اور رسول کا ذمہ تو بس یہی ہے پیغام پہنچا دینا کھول کر [۲۵] ﴿18﴾

    کیا دیکھتے نہیں کیونکر شروع کرتا ہے اللہ پیدائش کو پھر اس کو دہرائے گا [۲۶] یہ اللہ پر آسان ہے [۲۷] ﴿19﴾

    تو کہہ ملک میں پھرو پھر دیکھو کیونکر شروع کیا ہے پیدائش کو پھر اللہ اٹھائے گا پچھلا اٹھان [۲۸] بیشک اللہ ہر چیز کر سکتا ہے ﴿20﴾

    دکھ دے گا جس کو چاہے اور رحم کرے گا جس پر چاہے [۲۹] اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے ﴿21﴾

    اور تم عاجز کرنے والے نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں اور کوئی نہیں تمہارا اللہ سے ورے حمایتی اور نہ مددگار [۳۰] ﴿22﴾

    اور جو لوگ منکر ہوئے اللہ کی باتوں سے اور اس کے ملنے سے وہ ناامید ہوئے میری رحمت سے [۳۱] اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ﴿23﴾

    پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے اس کو مار ڈالو یا جلا دو [۳۲] پھر اس کو بچا دیا اللہ نے آگ سے [۳۳] اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین لاتے ہیں [۳۴] ﴿24﴾

    اور ابراہیم بولا [۳۵] جو ٹھہرائے ہیں تم نے اللہ کے سوائے بتوں کے تھان سو دوستی کر کر آپس میں دنیا کی زندگانی میں [۳۶] پھر دن قیامت کے منکر ہو جاؤ گے ایک سے ایک اور لعنت کرو گے ایک کو ایک [۳۷] اور ٹھکانا تمہارا آگ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار [۳۸] ﴿25﴾

    پھر مان لیا اس کو لوط نے اور وہ بولا میں تو وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہی ہے زبردست حکمت والا [۳۹] ﴿26﴾

    اور دیا ہم نے اس کو اسحٰق اور یعقوب [۴۰] اور رکھ دی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب [۴۱] اور دیا ہم نے اس کو اس کا ثواب دنیا میں اور وہ آخرت میں البتہ نیکوں سے ہے [۴۲] ﴿27﴾

    اور بھیجا لوط کو جب کہا اپنی قوم کو تم آتے ہو بیحیائی کے کام پر تم سے پہلے نہیں کیا وہ کسی نے جہان میں [۴۳] ﴿28﴾

    کیا تم دوڑتے ہو مردوں پر اور راہ مارتے ہو [۴۴] اور کرتے ہو اپنی مجلس میں برا کام [۴۵] پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے لے آ ہم پر عذاب ا للہ کا اگر تو ہے سچا [۴۶] ﴿29﴾

    بولا اے رب میری مدد کر ان شریر لوگوں پر [۴۷] ﴿30﴾

    اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کےپاس خوشخبری لے کر بولے ہم کو غارت کرنا ہے اس بستی والوں کو بیشک اس کے لوگ ہور رہے ہیں گنہگار [۴۸] ﴿31﴾

    بولا اس میں تو لوط بھی ہے [۴۹] وہ بولے ہم کو خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے ہم بچا لیں گے اسکو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہے گی رہ جانے والوں میں [۵۰] ﴿32﴾

    اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس ناخوش ہوا ان کو دیکھ کر اور تنگ ہوا دل میں [۵۱] اور وہ بولے مت ڈر اور غم نہ کھا ہم بچائیں گے تجھ کو اور تیرے گھر کو مگر عورت تیری رہ گئ رہ جانے والوں میں ﴿33﴾

    ہم کو اتارنی ہے اس بستی والوں پر ایک آفت آسمان سے اس بات پر کہ وہ نافرمان ہو رہے تھے [۵۲] ﴿34﴾

    اور چھوڑ رکھا ہم نے اس کا نشان نظر آتا ہوا سمجھ دار لوگوں کے واسطے [۵۳] ﴿35﴾

    اور بھیجا مدین کے پاس ان کے بھائی شعیب کو پھر بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی اور توقع رکھو پچھلے دن کی [۵۴] اور مت پھرو زمین میں خرابی مچاتے [۵۵] ﴿36﴾

    پھر اس کو جھٹلایا تو پکڑ لیا انکو زلزلے نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ﴿37﴾

    اور ہلاک کیا عاد کو اور ثمود کو اور تم پر حال کھل چکا ہے ان کے گھروں سے [۵۶] اور فریفتہ کیا انکو شیطان نے ان کے کاموں پر پھر روک دیا ان کو راہ سے اور تھے ہوشیار [۵۷] ﴿38﴾

    اور ہلاک کیا قارون اور فرعون اور ہامان کو اور ان کے پاس پہنچا موسٰی کھلی نشانیاں لے کر پھر بڑائی کرنے لگے ملک میں اور نہیں تھے ہم سے جیت جانے والے [۵۸] ﴿39﴾

    پھر سب کو پکڑ ا ہم نے اپنے اپنے گناہ پر [۵۹] پھر کوئی تھا کہ اس پر ہم نے بھیجا پتھراؤ ہوا سے [۶۰] اور کوئی تھا کہ اس کو پکڑا چنگھاڑ نے [۶۱] اور کوئی تھا کہ اس کو دھنسا دیا ہم نے زمین میں [۶۲] اور کوئی تھا کہ اس کو ڈبا دیا ہم نے [۶۳] اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے پر تھے وہ اپنا آپ ہی برا کرتے [۶۴] ﴿40﴾

    مثال ان لوگوں کی جنہوں نے پکڑے اللہ کو چھوڑ کر اور حمایتی جیسے مکڑی کی مثال بنا لیا اس نے ایک گھر اور سب گھروں میں بودا سو مکڑی کا گھر اگر ان کو سمجھ ہوتی [۶۵] ﴿41﴾

    اللہ جانتا ہے جس جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوائے کوئی چیز ہو [۶۶] اور وہ زبردست ہے حکمتوں والا [۶۷] ﴿42﴾

    اور یہ مثالیں بٹھلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو سمجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ ہے [۶۸] ﴿43﴾

    اللہ نے بنائے آسمان اور زمین جیسے چاہئیں [۶۹] اس میں نشانی ہے یقین لانے والوں کے لئے [۷۰] ﴿44﴾

    تو پڑھ جو اتری تیری طرف کتاب [۷۱] اور قائم رکھ نماز بیشک نماز روکتی ہے بیحیائی اور بری بات سے [۷۲] اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی [۷۳] اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو [۷۴] ﴿45﴾

    اور جھگڑا نہ کرو اہل کتاب سے مگر اس طرح پر جو بہتر ہو مگر جو ان میں بے انصاف ہیں [۷۵] اور یوں کہو کہ ہم مانتے ہیں جو اترا ہم کو اور اترا تم کو [۷۶] اور بندگی ہماری اور تمہاری ایک ہی کو ہے اور ہم اسی کے حکم پر چلتے ہیں [۷۷] ﴿46﴾

    اور ویسی ہی ہم نے اتاری تجھ پر کتاب [۷۸] سو جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو مانتے ہیں اور ان مکہ والوں میں بھی بعضے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں اور منکر وہی ہیں ہماری باتوں سے جو نافرمان ہیں [۷۹] ﴿47﴾

    اور تو پڑھتا نہ تھا اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ لکھتا تھا اپنے داہنے ہاتھ سے تب تو البتہ شبہ میں پڑتے یہ جھوٹے [۸۰] ﴿48﴾

    بلکہ یہ قرآن تو آیتیں ہیں صاف ان لوگوں کے سینوں میں جن کو ملی ہے سمجھ [۸۱] اور منکر نہیں ہماری باتوں سے مگر وہی جو بے انصاف ہیں [۸۲] ﴿49﴾

    اور کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب سے تو کہہ نشانیاں تو ہیں اختیار میں اللہ کے اور میں تو بس سنا دینے والا ہوں کھول کر [۸۳] ﴿50﴾

    کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر اتاری کتاب کہ ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت ہے اور سمجھانا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں [۸۴] ﴿51﴾

    تو کہہ کافی ہے اللہ میرے اور تمہارے بیچ گواہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں [۸۵] اور جو لوگ یقین لاتے ہیں جھوٹ پر اور منکر ہوئے ہیں اللہ سے وہی ہیں نقصان پانے والے [۸۶] ﴿52﴾

    اور جلد مانگتے ہیں تجھ سے آفت [۸۷] اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ مقررہ تو آ پہنچتی ان پر آفت اور البتہ آئے گی ان پر اچانک اور ان کو خبر نہ ہو گی [۸۸] ﴿53﴾

    جلدی مانگتے ہیں تجھ سے عذاب [۸۹] اور دوزخ گھیر رہی ہے مجرموں کو [۹۰] ﴿54﴾

    جس دن گھیر لے گا ان کو عذاب ان کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے اور کہے گا چکھو جیسا کچھ تم کرتے تھے [۹۱] ﴿55﴾

    اے بندو میرے جو یقین لائے ہو میری زمین کشادہ ہے سو مجھی کو بندگی کر و [۹۲] ﴿56﴾

    جو جی ہے سو چکھے گا موت پھر ہماری طرف پھر آؤ گے [۹۳] ﴿57﴾

    اور جو لوگ یقین لائے اور کیے بھلے کام ان کو ہم جگہ دیں گے بہشت میں جھروکے نیچے بہتی ہیں ان کےنہریں سدا رہیں ان میں خوب ثواب ملا کام والوں کو ﴿58﴾

    جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا [۹۴] ﴿59﴾

    اور کتنے جانور ہیں جو اٹھا نہیں رکھتے اپنی روزی اللہ روزی دیتا ہے انکو اور تم کو بھی اور وہی ہے سننے والا جاننے والا [۹۵] ﴿60﴾

    اور اگر تو لوگوں سے پوچھے کہ کس نے بنایا ہے آسمان اور زمین کو اور کام میں لگایا سورج اور چاند کو تو کہیں اللہ نے پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں [۹۶] ﴿61﴾

    اللہ پھیلاتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اپنے بندوں میں اور ماپ کر دیتا ہے جسکو چاہے [۹۷] بیشک اللہ ہر چیز سے خبردار ہے [۹۸] ﴿62﴾

    اور جو تو پوچھے ان سے کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر زندہ کر دیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد تو کہیں اللہ نے تو کہہ سب خوبی اللہ کو ہے پر بہت لوگ نہیں سمجھتے [۹۹] ﴿63﴾

    اور یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے اور پچھلا گھر جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا اگر ان کو سمجھ ہوتی [۱۰۰] ﴿64﴾

    پھر جب سوار ہوئے کشتی میں پکارنے لگے اللہ کو خالص اسی پر رکھ کر اعتقاد پھر جب بچا لایا انکو زمین کی طرف اسی وقت لگے شریک بنانے ﴿65﴾

    تاکہ مکرتے رہیں ہمارے دیے ہوئے سے اور مزے اڑاتے رہیں سو عنقریب جان لیں گے [۱۰۱] ﴿66﴾

    کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رکھ دی ہے پناہ کی جگہ امن کی اور لوگ اچکے جاتے ہیں ان کے آس پاس سے کیاجھوٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا احسان نہیں مانتے [۱۰۲] ﴿67﴾

    اور اس سے زیادہ بے انصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلائے سچی بات کو جب اس تک پہنچے کیا دوزخ میں بسنے کی جگہ نہیں منکروں کے لئے [۱۰۳] ﴿68﴾

    اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سجھا دیں گے ان کو اپنی راہیں [۱۰۴] اور بیشک اللہ ساتھ ہے نیکی والوں کے [۱۰۵] ﴿69﴾

    Surah 30
    الروم

    الٓم۔ ﴿1﴾

    مغلوب ہو گئے ہیں رومی ﴿2﴾

    ملتے ہوئے ملک میں [۱] اور وہ اس مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوں گے ﴿3﴾

    چند برسوں میں [۲] اللہ کے ہاتھ ہیں سب کام پہلے اور پچھلے [۳] اور اس دن خوش ہوں گے مسلمان ﴿4﴾

    اللہ کی مدد سے [۴] مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی ہے زبردست رحم والا [۵] ﴿5﴾

    اللہ کا وعدہ ہو چکا خلاف نہ کرے گا اللہ اپنا وعدہ لیکن بہت لوگ نہیں جانتے [۶] ﴿6﴾

    جانتے ہیں اوپر اوپر دنیا کے جینے کو اور وہ لوگ آخرت کی خبر نہیں رکھتے [۷] ﴿7﴾

    کیا دھیان نہیں کرتے اپنے جی میں کہ اللہ نے جو بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سو ٹھیک سادہ کر اور وعدہ مقرر پر [۸] اور بہت لوگ اپنے رب کا ملنا نہیں مانتے [۹] ﴿8﴾

    کیا انہوں نے سیر نہیں کی ملک کی جو دیکھیں انجام کیسا ہوا ان سے پہلوں کا ان سے زیادہ تھے زور میں اور جوتا انہوں نے زمین کو اور بسایا اس کو ان کے بسانے سے زیادہ اور پہنچے ان کے پاس رسول انکے لے کر کھلے حکم [۱۰] سو اللہ نہ تھا ان پر ظلم کرنے والا لیکن وہ اپنا آپ برا کرتے تھے [۱۱] ﴿9﴾

    پھر ہوا انجام برا کرنے والوں کا برا اس واسطے کہ جھٹلاتے تھے اللہ کی باتیں اور ان پر ٹھٹھے کرتے تھے [۱۲] ﴿10﴾

    اللہ بناتا ہے پہلی بار پھر اس کو دہرائے گا پھر اسی کی طرف جاؤ گے ﴿11﴾

    اور جس دن برپا ہو گی قیامت آس توڑ کر رہ جائیں گے گنہگار ﴿12﴾

    اور نہ ہوں گے ان کے شریکوں میں کوئی انکے سفارش کرنے والے اور وہ ہو جائیں گے اپنے شریکوں سے منکر [۱۳] ﴿13﴾

    اور جس دن قائم ہو گی قیامت اس دن لوگ ہوں گے قسم قسم [۱۴] ﴿14﴾

    سو جو لوگ یقین لائے اور کیے بھلے کام سو باغ میں ہوں گے انکی آؤ بھگت ہو گی [۱۵] ﴿15﴾

    اور جو منکر ہوئے اور جھٹلائیں ہماری باتیں اور ملنا پچھلے گھر کا سو وہ عذاب میں پکڑے آئیں گے ﴿16﴾

    سو پاک اللہ کی یاد کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو ﴿17﴾

    اور اسی کی خوبی ہے آسمان میں اور زمین میں اور پچھلے وقت اور جب دوپہر ہو [۱۶] ﴿18﴾

    نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے [۱۷] ﴿19﴾

    اور اسکی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ تم کو بنایا پھر اب تم انسان ہو زمین میں پھیلے پڑے [۱۸] ﴿20﴾

    اور اسکی نشانیوں سے ہے یہ کہ بنا دیے تمہارے واسطے تمہاری قسم سے جوڑے کہ چین سے رہو انکے پاس اور رکھا تمہارے بیچ میں پیار اور مہربانی البتہ اس میں بہت پتے کی باتیں ہیں انکے لئے جو دھیان کرتے ہیں [۱۹] ﴿21﴾

    اور اسکی نشانیوں سے ہے آسمان اور زمین کا بنانا اور طرح طرح کی بولیاں تمہاری اور رنگ اس میں بہت نشانیاں ہیں سمجھنے والوں کو [۲۰] ﴿22﴾

    اور اسکی نشانیوں سے ہے تمہارا سونا رات اور دن میں اور تلاش کرنا اس کے فضل سے [۲۱] اس میں بہت پتے ہیں ان کو جو سنتے ہیں [۲۲] ﴿23﴾

    اور اسکی نشانیوں سے ہے یہ کہ دکھلاتا ہے تمکو بجلی ڈر اور امید کے لئے [۲۳] اور اتارتا ہے آسمان سے پانی پھر زندہ کرتا ہے اس سے زمین کر مر گئے پیچھے اس میں بہت پتے ہیں ان کے لئے جو سوچتے ہیں [۲۴] ﴿24﴾

    اور اس کی نشانیوں سے یہ ہے کہ کھڑ ا ہے آسمان اور زمین اس کے حکم سے [۲۵] پھر جب پکارے گا تم کو ایک بار زمین سے اسی وقت تم نکل پڑو گے [۲۶] ﴿25﴾

    اور اسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں سب اس کے حکم کے تابع ہیں [۲۷] ﴿26﴾

    اور وہی ہے جو پہلی بار بناتا ہے پھر اس کو دھرائے گا اور وہ آسان ہے اس پر [۲۸] اور اسکی شان سب سے اوپر ہے آسمان اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا [۲۹] ﴿27﴾

    بتلائی تم کو ایک مثل تمہارے اندر سے دیکھو جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں ان میں ہیں کوئی ساجھی تمہارے ہماری دی ہوئی روزی میں کہ تم سب اس میں برابر رہو خطر رکھو ان کا جیسے خطرہ رکھو اپنوں کا یوں کھول کر بیان کرتے ہیں ہم نشانیاں ان لوگوں کے لئے جو سمجھتے ہیں [۳۰] ﴿28﴾

    بلکہ چلتے ہیں یہ بے انصاف اپنی خواہشوں پر بن سمجھے [۳۱] سو کون سمجھائے جس کو اللہ نے بھٹکایا اور کوئی نہیں ان کا مددگار [۳۲] ﴿29﴾

    سو تو سیدھا رکھ اپنا منہ دین پر ایک طرف کا ہو کر [۳۳] وہی تراش اللہ کی جس پر تراشا لوگوں کو [۳۴] بدلنا نہیں اللہ کے بنائے کو [۳۵] یہی ہے دین سیدھا و لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے [۳۶] ﴿30﴾

    سب رجوع ہو کر اسکی طرف [۳۷] اور اس سے ڈرتے رہو اور قائم رکھو نماز اور مت ہو شرک کرنے والوں میں ﴿31﴾

    جنہوں نے کہ پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہو گئے ان میں بہت فرقے ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر فریفتہ ہے [۳۸] ﴿32﴾

    اور جب پہنچے لوگوں کو کچھ سختی تو پکاریں اپنے رب کو اس کی طرف رجوع ہو کر پھر جہاں چکھائی ان کو اپنی طرف سے کچھ مہربانی اسی وقت ایک جماعت ان میں اپنے رب کا شریک لگی بتانے ﴿33﴾

    کہ منکر ہوجائیں ہمارے دیے ہوئے سے سو مزے اڑا لو اب آگے جان لو گے [۳۹] ﴿34﴾

    کیا ہم نے ان پر اتاری ہے کوئی سند سو وہ بول رہی ہے جو یہ شریک بتاتے ہیں [۴۰] ﴿35﴾

    اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو کچھ مہربانی اس پر پھولے نہیں سماتے اور اگر آ پڑے ان پر کچھ برائی اپنے ہاتھوں کے بھیجے ہوئے پر تو آس توڑ بیٹھیں [۴۱] ﴿36﴾

    کیا نہیں دیکھ چکے کہ اللہ پھیلا دیتا ہے روزی کو جس پر چاہے اور ماپ کر دیتا ہے جسکو چاہے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں [۴۲] ﴿37﴾

    سو تو دے قرابت والے کو اس کا حق اور محتاج کو اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان کے لئے جو چاہتے ہیں اللہ کا منہ اور وہی ہیں جن کا بھلا ہے [۴۳] ﴿38﴾

    اور جو دیتے ہو بیاج پر کہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں سو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے یہاں اور جو دیتے ہو پاک دل سے چاہ کر رضامندی اللہ کی سو یہ وہی ہیں جن کے دونے ہوئے [۴۴] ﴿39﴾

    اللہ وہ ہی ہے جس نے تم کو بنایا پھر تم کو روزی دی پھر تم کو مارتا ہے پھر تم کو جلائے گا کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو کر سکے ان کاموں میں سے ایک کام وہ نرالا ہے اور بہت اوپر ہے اس سے کہ شریک بتلاتے ہیں [۴۵] ﴿40﴾

    پھیل پڑی ہے خرابی جنگل میں اور دریا میں لوگوں کے ہاتھ کی کمائی سے چکھانا چاہیے ان کو کچھ مزہ ان کے کام کا تاکہ وہ پھر آئیں [۴۶] ﴿41﴾

    تو کہہ پھرو ملک میں تو دیکھو کیسا ہوا انجام پہلوں کا بہت ان میں تھے شرک کرنے والے [۴۷] ﴿42﴾

    سو تو سیدھا رکھ اپنا منہ سیدھی ر اہ پر [۴۸] اس سے پہلے کہ آ پہنچے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کی طرف سے [۴۹] اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے [۵۰] ﴿43﴾

    جو منکر ہوا سو اس پر پڑے اسکا منکر ہونا [۵۱] او رجو کوئی کرے بھلے کام سو وہ اپنی راہ سنوارتے ہیں [۵۲] ﴿44﴾

    تاکہ وہ بدلہ دے ان کو جو یقین لائے اور کام کئے بھلے اپنے فضل سے [۵۳] بیشک اس کو نہیں بھاتے انکار والے [۵۴] ﴿45﴾

    اور اس کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اور تاکہ چکھائے تمکو کچھ مزہ اپنی مہربانی کا [۵۵] اور تاکہ چلیں جہاز اسکے حکم سے [۵۶] اور تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو [۵۷] ﴿46﴾

    اور ہم بھیج چکے ہیں تجھ سے پہلے کتنے رسول اپنی اپنی قوم کے پاس سو پہنچے انکے پاس نشانیاں لے کر پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے جو گنہگار تھے اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی [۵۸] ﴿47﴾

    اللہ ہے جو چلاتا ہے ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر پھیلا دیتا ہے اس کو آسمان میں جس طرح چاہے [۵۹] اور رکھتا ہے اس کو تہہ بہ تہہ پھر تو دیکھے مینہ کو کہ نکلتا ہے اس کے بیچ میں سے پھر جب اس کو پہنچاتا ہے جس کو کہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں تبھی وہ لگتے ہیں خوشیاں کرنے [۶۰] ﴿48﴾

    اور پہلے سے ہو رہے تھے اس کے اترنے سے پہلے ہی نا امید [۶۱] ﴿49﴾

    سو دیکھ لے اللہ کی مہربانی کی نشانیاں کیونکر زندہ کرتا ہے زمین کو ا سکے مرگئے پیچھے [۶۲] بیشک وہی ہے مردوں کو زندہ کرنے والا اور وہ ہرچیز کر سکتا ہے [۶۳] ﴿50﴾

    اور اگر ہم بھیجیں ایک ہوا پھر دیکھیں وہ کھیتی کو کہ زرد پڑ گئ تو لگیں اس کے پیچھے ناشکری کرنے [۶۴] ﴿51﴾

    سو تو سنا نہیں سکتا مردوں کو اور نہیں سنا سکتا بہروں کو پکارنا جب کہ پھریں پیٹھ دے کر ﴿52﴾

    اور نہ تو راہ سمجھائے ا ندھوں کو انکے بھٹکنے سے تو تو سنائے اسی کو جو یقین لائے ہماری باتوں پر سو وہ مسلمان ہوتے ہیں [۶۵] ﴿53﴾

    اللہ ہے جس نے بنایا تم کمزوری سے پھر دیا کمزوری کے پیچھے زور پھر دے گا زور کے پیچھے کمزوری اور سفید بال بناتا ہے جو کچھ چاہے اور وہ ہے سب کچھ جانتا کر سکتا [۶۶] ﴿54﴾

    اور جس دن قائم ہو گی قیامت قسمیں کھائیں گے گنہگار کہ ہم نہیں رہے تھے ایک گھڑی سے زیادہ [۶۷] اسی طرح تھے الٹے جاتے [۶۸] ﴿55﴾

    اور کہیں گے جنکو ملی ہے سمجھ اور یقین تمہارا ٹھہرنا تھا اللہ کی کتاب میں جی اٹھنے کے دن تک سو یہ ہے جی اُٹھنے کا دن پر تم نہیں تھے جانتے [۶۹] ﴿56﴾

    سو اُس دن کام نہ آئے گا ان گنہگاروں کو قصور بخشوانا اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے [۷۰] ﴿57﴾

    اور ہم نے بٹھلائی ہے آدمیوں کے واسطے اس قرآن میں ہر ایک طرح کی مثل اور جو تو لائے اُنکے پاس کوئی آیت تو ضرور کہیں وہ منکر تم سب جھوٹ بناتے ہو [۷۱] ﴿58﴾

    یوں مہر لگا دیتا ہے اللہ اُن کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے [۷۲] ﴿59﴾

    سو تو قائم رہ بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور اکھاڑ نہ دیں تجھ کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے [۷۳] ﴿60﴾

    Surah 31
    لقمان

    الٓم۔ ﴿1﴾

    یہ آیتیں ہیں پکی کتاب کی ﴿2﴾

    ہدایت ہے اور مہربانی نیکی کرنے والوں کے لئے [۱] ﴿3﴾

    جو کہ قائم رکھتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ ہیں جو آخرت پر ان کو یقین ہے ﴿4﴾

    انہوں نے پائی ہے راہ اپنے رب کی طرف سےاور وہی مردا کو پہنچے [۲] ﴿5﴾

    اور ایک وہ لوگ ہیں کہ خریدارا ہیں کھیل کی باتوں کے تاکہ بچلائیں اللہ کی راہ سے بن سمجھے اور ٹھہرائیں اسی کو ہنسی وہ جو ہیں ان کو ذلت کا عذاب ہے [۳] ﴿6﴾

    اور جب سنائے اس کو ہمای آیتیں پیٹھ دیجائے غرور سے گویا ان کو سنا ہی نہیں گویا اس کےدونوں کان بہرے ہیں سو خوشخبری دے اس کو دردناک عذاب کی [۴] ﴿7﴾

    جو لوگ یقین لائے اور کیے بھلے کام ان کے واسطے ہیں نعمت کے باغ ﴿8﴾

    ہمیشہ رہا کریں ان میں وعدہ ہو چکا اللہ کا سچا اور وہ زبردست ہے حکمتوں والا [۵] ﴿9﴾

    بنائے آسمان بغیر ستونوں کے تم اس کو دیکھتے ہو [۶] اور رکھ دیے زمین پر پہاڑ کہ تم کو لیکر جھک نہ پڑے [۷] اور بکھیر دیے اس میں سب طرح کے جانور اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پھر اگائے زمین میں ہر قسم کے جوڑے خاصے [۸] ﴿10﴾

    یہ سب کچھ بنایا ہوا ہے اللہ کا اب دکھلاؤ مجھ کو کیا بنایا ہے اوروں نے جو اس کے سوا ہیں [۹] کچھ نہیں پر بے انصاف صریح بھٹک رہے ہیں [۱۰] ﴿11﴾

    اور ہم نے دی لقمان کو عقل مندی [۱۱] کہ حق مان اللہ کا اور جو کوئی حق مانے اللہ کا تو مانے گا اپنے بھلے کو اور جو کوئی منکر ہو گا تو اللہ بے پروا ہے سب تعریفوں والا [۱۲] ﴿12﴾

    اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو جب اس کو سمجھانے لگا اے بیٹے شریک نہ ٹھہرائیو اللہ کا [۱۳] بیشک شریک بنانا بھاری بے انصافی ہے [۱۴] ﴿13﴾

    اور ہم نے تاکید کر دی انسان کو اسکے ماں باپ کے واسطے پیٹ میں رکھا اس کو اسکی ماں نے تھک تھک کر اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو برس میں کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے [۱۵] ﴿14﴾

    اور اگر وہ دونوں تجھ سے اڑیں اس بات پر کہ شریک مان میرا اس چیز کو جو تجھ کو معلوم نہیں تو انکا کہنا مت مان [۱۶] اور ساتھ دے ان کا دنیا میں دستور کے موافق [۱۷] اور راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف [۱۸] پھر میری طرف ہے تم کو پھر آنا پھر میں جتلا دوں گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے [۱۹] ﴿15﴾

    اے بیٹے اگر کوئی چیز ہو برابر رائی کے دانہ کی پھر وہ ہو کسی پتھر میں یا آسمانوں میں یا زمین میں لا حاضر کرے اس کو اللہ بیشک اللہ جانتا ہے چھپی ہوئی چیزوں کو خبردار ہے [۲۰] ﴿16﴾

    اے بیٹے قائم رکھ نماز اور سکھلا بھلی بات اور منع کر برائی سے [۲۱] اور تحمل کر جو تجھ پر پڑے بیشک یہ ہیں ہمت کے کام [۲۲] ﴿17﴾

    اور اپنے گال مت پھلا لوگوں کی طرف [۲۳] اور مت چل زمین پر اتراتا بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اتراتا بڑائیاں کرنے والا [۲۴] ﴿18﴾

    اور چل بیچ کی چال اور نیچی کر آواز اپنی بیشک بری سے بری آواز گدھے کی آواز ہے [۲۵] ﴿19﴾

    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کام میں لگائے تمہارے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں [۲۶] اور پوری کر دیں تم پر اپنی نعمتیں کھلی اور چھپی [۲۷] اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں نہ سمجھ رکھیں نہ سوجھ اور نہ روشن کتاب [۲۸] ﴿20﴾

    اور جب ان کو کہیے چلو اس حکم پر جو اتارا اللہ نے کہیں نہیں ہم تو چلیں گے اس پر جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اور جو شیطان بلاتا ہو ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف تو بھی [۲۹] ﴿21﴾

    اور جو کوئی تابع کرے اپنا منہ اللہ کی طرف اور وہ ہو نیکی پر سو اس نے پکڑ لیا مضبوط کڑا [۳۰] اور اللہ کی طرف ہے آخر ہر کام کا [۳۱] ﴿22﴾

    اور جو کوئی منکر ہوا تو تو غم نہ کھا اسکے انکار سے ہماری طرف پھر آنا ہے انکو پھر ہم جتلا دیں گے ان کو جو انہوں نے کیا ہے البتہ اللہ جانتا ہے جو بات ہے دلوں میں [۳۲] ﴿23﴾

    کام چلا دیں گے ہم انکا تھوڑے دنوں میں پھر پکڑ بلائیں گے ان کو گاڑھے عذاب میں [۳۳] ﴿24﴾

    اور اگر تو پوچھے ان سے کس نے بنائے آسمان اور زمین تو کہیں اللہ نے تو کہہ سب خوبی اللہ کو ہے پر وہ بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے [۳۴] ﴿25﴾

    اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں بیشک اللہ وہی ہے بے پروا سب خوبیوں والا [۳۵] ﴿26﴾

    اور اگر جتنے درخت ہیں زمین میں قلم ہوں اور سمندر ہو اس کی سیاہی اسکے پیچھے ہوں سات سمندر نہ تمام ہوں باتیں اللہ کی بیشک اللہ زبردست ہے حکمتوں والا [۳۶] ﴿27﴾

    تم سب کا بنانا اور مرے پیچھے جلانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جی کا [۳۷] بیشک اللہ سب کچھ سنتا دیکھتا ہے [۳۸] ﴿28﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور کام میں لگا دیا ہے سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک مقرر وقت تک [۳۹] اور یہ کہ اللہ خبر رکھتا ہے اسکی جو تم کرتے ہو [۴۰] ﴿29﴾

    یہ اس لیے کہا کہ اللہ وہی ہے ٹھیک اور جس کسی کو پکارتے ہیں اس کے سوائے سو وہی جھوٹ ہے [۴۱] اور اللہ وہی ہے سب سے اوپر بڑا [۴۲] ﴿30﴾

    تو نے نہ دیکھا کہ جہاز چلتے ہیں سمندر میں اللہ کی نعمت لے کر تاکہ دکھلائے تمکو کچھ اپنی قدرتیں [۴۳] البتہ اس میں نشانیاں ہیں ہر ایک تحمل کرنے والے احسان ماننے والے کے واسطے [۴۴] ﴿31﴾

    اور جب سر پر آئے انکے موج جیسے بادل پکارنے لگیں اللہ کو خالص کر کر اسی کے لیے بندگی [۴۵] پھر جب بچا دیا انکو جنگل کی طرف تو کوئی ہوتا ہے ان میں بیچ کی چال پر [۴۶] اور منکر وہی ہوتے ہیں ہماری قدرتوں سے جو قول کے جھوٹے ہیں حق نہ ماننے والے [۴۷] ﴿32﴾

    اے لوگوں بچتے ہو اپنے رب سے اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی باپ اپن بیٹے کے بدلے اور نہ کوئی بیٹا ہو جو کام آئے اپنے باپ کی جگہ کچھ بھی [۴۸] بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے سو تم کو نہ بہکائے دنیا کی زندگانی اور نہ دھوکا دے تم کو اللہ کے نام سے وہ دغاباز [۴۹] ﴿33﴾

    بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کی خبر اور اتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ہے ماں کے پیٹ میں اور کسی جی کو معلوم نہیں کہ کل کو کیا کرے گا اور کسی جی کو خبر نہیں کہ کس زمین میں مرے گا تحقیق اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے [۵۰] ﴿34﴾

    Surah 32
    السجدہ

    الٓم۔ ﴿1﴾

    اتارنا کتاب کا اس میں کچھ دھوکا نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے [۱] ﴿2﴾

    کیا کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ باندھ لایا ہے کوئی نہیں وہ ٹھیک ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو ڈر سنا دے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈرانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ راہ پر آئیں [۲] ﴿3﴾

    اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر [۳] کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر تم کیا دھیان نہیں کرتے [۴] ﴿4﴾

    تدبیر سے اتارتا ہے ہر کام آسمان سے زمین تک پھر چڑھتا ہے وہ کام اس کی طرف ایک دن میں جس کا پیمانہ ہزار برس کا ہے تمہاری گنتی میں [۵] ﴿5﴾

    یہ ہی جاننے والا چھپے اور کھلے کا زبردست رحم والا [۶] ﴿6﴾

    جس نے خوب بنائی جو چیز بنائی اور شروع کی انسان کی پیدائش ایک گارے سے ﴿7﴾

    پھر بنائی اسکی اولاد نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے [۷] ﴿8﴾

    پھر اس کو برابر کیا [۸] اور پھونکی اس میں اپنی ایک جان [۹] اور بنا دیے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو [۱۰] ﴿9﴾

    اور کہتے ہیں کیا جب ہم رل گئے زمین میں کیا ہم کو نیا بننا ہے کچھ نہیں وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں [۱۱] ﴿10﴾

    تو کہہ قبض کر لیتا ہے تم کو فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف پھر جاؤ گے [۱۲] ﴿11﴾

    اور کبھی تو دیکھے جس وقت کہ منکر سر ڈالے ہوئے ہوں گے اپنے رب کے سامنے [۱۳] اے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو بھیج دے کہ ہم کریں بھلے کام ہم کو یقین آ گیا [۱۴] ﴿12﴾

    اور اگر ہم چاہتے تو سجھا دیتے ہر جی کو اس کی راہ لیکن ٹھیک پڑ چکی میری کہی بات کہ مجھ کو بھرنی ہے دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکھٹے [۱۵] ﴿13﴾

    سو اب چکھو مزہ جیسے تم نے بھلا دیا تھا اس اپنے دن کے ملنے کو ہم نے بھی بھلا دیا تم کو [۱۶] اور چکھو عذاب سدا کا عوض اپنے کیے کا ﴿14﴾

    ہماری باتوں کو وہی مانتے ہیں کہ جب ان کو سمجھائے ان سے گر پڑیں سجدہ کر کر اور پاک ذات کو یاد کریں اپنے رب کی خوبیوں کے ساتھ اور وہ بڑائی نہیں کرتے [۱۷] ﴿15﴾

    جدا رہتی ہیں ان کی کروٹیں اپنے سونے کی جگہ سے [۱۸] پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈر سے اور لالچ سے [۱۹] اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے ہیں ﴿16﴾

    سو کسی جی کو معلوم نہیں جو چھپا دھری ہے انکے واسطے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلا اس کو جو کرتے تھے [۲۰] ﴿17﴾

    بھلا ایک جو ہے ایمان پر برابر ہے اسکے جو نافرمان ہے نہیں برابر ہوتے [۲۱] ﴿18﴾

    سو وہ لوگ جو یقین لائے اور کیے کام بھلے تو ان کے لیے باغ ہیں رہنے کے مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو کرتے تھے [۲۲] ﴿19﴾

    اور وہ لوگ جو نافرمان ہوئے سو انکا گھر ہے آگ جب چاہیں کہ نکل پڑیں اس میں سے الٹا دیے جائیں پھر اسی میں اور کہیں ان کو چکھو آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے [۲۳] ﴿20﴾

    اور البتہ چکھائیں گے ہم ان کو تھوڑا عذاب ورے اس بڑے عذاب سے تاکہ وہ پھر آئیں [۲۴] ﴿21﴾

    اور کون بے انصاف زیادہ اس سے جس کو سمجھایا گیا اسکے رب کی باتوں سے پھر ان سے منہ موڑ گیا [۲۵] مقرر ہم کو ان گنہگاروں سے بدلا لینا ہے [۲۶] ﴿22﴾

    اور ہم نے دی ہے موسٰی کو کتاب سو تو مت رہ دھوکے میں اس کے ملنے سے [۲۷] اور کیا ہم نے اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے ﴿23﴾

    اور کیے ہم نے ان میں پیشوا جو راہ چلاتے تھے ہمارے حکم سے جب وہ صبر کرتے رہے [۲۸] اور رہے ہماری باتوں پر یقین کرتے [۲۹] ﴿24﴾

    تیرا رب جو ہے وہی فیصلہ کرے گا ان میں دن قیامت کے جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے ہیں [۳۰] ﴿25﴾

    کیا ان کو راہ نہ سوجھی اس بات سے کہ کتنی غارت کر ڈالیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں کہ پھرتے ہیں یہ ان کے گھروں میں اس میں بہت نشانیاں ہیں کیا وہ سنتے نہیں [۳۱] ﴿26﴾

    یا دیکھا نہیں انہوں نے کہ ہم ہانک دیتے ہیں پانی کو ایک زمین چٹیل کی طرف [۳۲] پھر ہم نکالتے ہیں اس سے کھیتی کہ کھاتے ہیں اس میں انکے چوپائے اور خود وہ بھی پھر کیا دیکھتے نہیں [۳۳] ﴿27﴾

    اور کہتے ہیں کب ہو گا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو [۳۴] ﴿28﴾

    تو کہہ کہ فیصلہ کے دن کام نہ آئے گا منکروں کو انکا ایمان لانا اور نہ ان کو ڈھیل ملے گی [۳۵] ﴿29﴾

    سو تو خیال چھوڑ ان کا اور منتظر رہ وہ بھی منتظر ہیں [۳۶] ﴿30﴾

    Surah 33
    الاحزاب

    اے نبی ڈر اللہ سے اور کہا نہ مان منکروں کا اور دغا بازوں کا مقرر اللہ ہے سب کچھ جاننے والا حکمتوں والا ﴿1﴾

    اور چل اسی پر جو حکم آئے تجھ کو تیرے رب کی طرف سے بیشک اللہ تمہارے کام کی خبر رکھتا ہے ﴿2﴾

    اور بھروسہ رکھ اللہ پر اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا [۱] ﴿3﴾

    اللہ نے رکھے نہیں کسی مرد کے دو دل اس کے اندر اور نہیں کیا تمہاری جوروؤں کو جن کو ماں کہہ بیٹھے ہو سچی مائیں تمہاری اور نہیں کیا تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سجھاتا ہے راہ [۲] ﴿4﴾

    پکارو لے پالکوں کو انکے باپ کی طرف نسبت کر کے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں [۳] پھر اگر نہ جانتے ہو ان کے باپ کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں [۴] اور گناہ نہیں تم پر جس چیز میں چوک جاؤ پر وہ جو دل سے ارادہ کرو اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۵] ﴿5﴾

    نبی سے لگاؤ ہے ایمان والوں کو زیادہ اپنی جان سے [۶] اور اسکی عورتیں انکی مائیں ہیں [۷] اور قرابت والے ایک دوسرے سے لگاؤ رکھتے ہیں اللہ کے حکم میں زیادہ سب ایمان والوں اور ہجرت کرنے والوں سے مگر یہ کہ کرنا چاہو اپنے رفیقوں سے احسان [۸] یہ ہے کتاب میں لکھا ہوا [۹] ﴿6﴾

    اور جب لیا ہم نے نبیوں سے ان کا قرار اور تجھ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسٰی سے اور عیسٰی سے جو بیٹا مریم کا اور لیا ہم نے ان سے گاڑھا قرار [۱۰] ﴿7﴾

    تاکہ پوچھے اللہ سچوں سے ان کا سچ اور تیار رکھا ہے منکروں کے لیے دردناک عذاب [۱۱] ﴿8﴾

    اے ایمان والو یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر جب چڑھ آئیں تم پر فوجیں پھر ہم نے بھیجدی ان پر ہوا اور وہ فوجیں جو تم نے نہیں دیکھیں [۱۲] اور ہے اللہ جو کچھ کرتے ہو دیکھنے والا [۱۳] ﴿9﴾

    جب چڑھ آئے تم پر اوپر کی طرف سے اور نیچے سے [۱۴] اور جب بدلنے لگیں آنکھیں [۱۵] اور پہنچے دل گلوں تک [۱۶] اور اٹکلنے لگے تم اللہ پر طرح طرح کی اٹکلیں [۱۷] ﴿10﴾

    وہاں جانچے گئے ایمان والے اور جھڑ جھڑائے گئے زور کا جھڑ جھڑانا [۱۸] ﴿11﴾

    اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے جو وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے سب فریب تھا [۱۹] ﴿12﴾

    اور جب کہنے لگی ایک جماعت ان میں اے یثرب والو [۲۰] تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں سو پھر چلو اور رخصت مانگنے لگا ایک فرقہ ان میں نبی سے کہنے لگے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں اور وہ کھلے نہیں پڑے ان کی کوئی غرض نہیں مگر بھاگ جانا [۲۱] ﴿13﴾

    اور اگر شہر میں کوئی گھس آئے ان پر اس کے کناروں سے پھر ان سے چاہے دین سے بچلنا تو مان لیں اور دیر نہ کریں اس میں مگر تھوڑی [۲۲] ﴿14﴾

    اور اقرار کر چکے تھے اللہ سے پہلے کہ نہ پھیریں گے پیٹھ اور اللہ کے قرار کی پوچھ ہوتی ہے [۲۳] ﴿15﴾

    تو کہہ کچھ کام نہ آئے گا تمہارے یہ بھاگنا اگر بھاگو گے مرنے سے یا مارے جانے سے اور پھر بھی پھیل نہ پاؤ گے مگر تھوڑے دنوں [۲۴] ﴿16﴾

    تو کہہ کون ہے کہ تم کو بچائے اللہ سے اگر چاہے تم پر برائی یا چاہے تم پر مہربانی [۲۵] اور نہ پائیں گے اپنے واسطے اللہ کے سوائے کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۲۶] ﴿17﴾

    اللہ کو خوب معلوم ہیں جو اٹکانے والے ہیں تم میں اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو چلے آؤ ہمارے پاس اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کبھی [۲۷] ﴿18﴾

    دریغ (بخل کرتے) رکھتے ہیں تم سے [۲۸] پھر جب آئے ڈر کا وقت تو تو دیکھے ان کو کہ تکتے ہیں تیری طرف پھرتی ہیں آنکھیں ان کی جیسے کسی پر آئے بے ہوشی موت کی پھر جب جاتا رہے ڈر کا وقت چڑھ چڑھ کر بولیں تم پر تیز تیز زبانوں سے ڈھکے (ٹوٹے) پڑتے ہیں مال پر [۲۹] وہ لوگ یقین نہیں لائے پھر اکارت کر ڈالے اللہ نے انکے کئے کام اور یہ ہے اللہ پر آسان [۳۰] ﴿19﴾

    سمجھتے ہیں کہ فوجیں کفار کی نہیں پھر گئیں اور اگر آجائیں وہ فوجیں تو آرزو کریں کسی طرح ہم باہر نکلے ہوئے ہوں گاؤں میں پوچھ لیا کریں تمہاری خبریں [۳۱] اور اگر ہوں تم میں لڑائی نہ کریں مگر بہت تھوڑی [۳۲] ﴿20﴾

    تمہارے لئے بھلی تھی سیکھنی رسول اللہ کی چال اسکے لئے جو کوئی امید رکھتا ہے اللہ کی اور پچھلے دن کی اور یاد کرتا ہے اللہ کو بہت سا [۳۳] ﴿21﴾

    اور جب دیکھی مسلمانوں نے فوجیں بولے یہ وہی ہے جو وعدہ دیا تھا ہم کو اللہ نے اور اسکے رسول نے اور سچ کہا اللہ نے اور اسکے رسول نے اور ان کو اور بڑھ گیا یقین اور اطاعت کرنا [۳۴] ﴿22﴾

    ایمان والوں میں کتنے مرد ہیں کہ سچ کر دکھلایا جس بات کا عہد کیا تھا اللہ سے پھر کوئی تو ان میں پورا کر چکا اپنا ذمہ اور کوئی ہے ان میں راہ دیکھ رہا اور بدلا نہیں ایک ذرہ [۳۵] ﴿23﴾

    تاکہ بدلا دے اللہ سچوں کو انکے سچ کا اور عذاب کرے منافقوں پر اگر چاہے یا تو بہ ڈالے انکے دل پر بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۳۶] ﴿24﴾

    اور پھیر دیا اللہ نے منکروں کو اپنے غصہ میں بھرے ہوئے ہاتھ نہ لگی کچھ بھلائی [۳۷] اور اپنے اوپر لے لی اللہ نے مسلمانوں کی لڑائی اور ہے اللہ زور آور زبردست [۳۸] ﴿25﴾

    اور اتار دیا ان کو جو ان کے پشت پناہ ہوئے تھے اہل کتاب سے ان کے قلعوں سے اور ڈال دی ان کے دلوں میں دھاک کتنوں کو تم جان سے مارنے لگے اور کتنوں کو قید کر لیا [۳۹] ﴿26﴾

    اور تم کو دلائی ان کی زمین اور انکے گھر اور ان کے مال اور ایک زمین کہ جس پر نہیں پھیرے تم نے اپنے قدم اور ہے اللہ سب کچھ کر سکتا [۴۰] ﴿27﴾

    اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اگر تم چاہتی ہو دنیا کی زندگانی اور یہاں کی رونق تو آؤ کچھ فائدہ پہنچا دوں تم کو اور رخصت کر دوں بھلی طرح سے رخصت کرنا ﴿28﴾

    اور اگر تم چاہتی ہو اللہ کو اور اسکے رسول کو اور پچھلے گھر کو تو اللہ نے رکھ چھوڑا ہے انکے لئے جو تم میں نیکی پر ہیں بڑا ثواب [۴۱] ﴿29﴾

    اے نبی کی عورتو جو کوئی کر لائے تم میں کام بیحیائی کا صریح دونا ہو اس کو عذاب دہرا اور ہے یہ اللہ پر آسان [۴۲] ﴿30﴾

    اور جو کوئی تم میں اطاعت کرے اللہ کی اور اسکے رسول کی اور عمل کرے اچھے دیویں ہم اسکو اس کا ثواب دو بار اور رکھی ہے ہم نے اس کے واسطے روزی عزت کی [۴۳] ﴿31﴾

    اے نبی کی عورتو تم نہیں ہو جیسے ہر کوئی عورتیں [۴۴] اگر تم ڈر رکھو سو تم دب کر بات نہ کرو پھر لالچ کرے کوئی جس کے دل میں روگ ہے اور کہو بات معقول [۴۵] ﴿32﴾

    اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں اور دکھلاتی نہ پھرو جیسا کہ دکھانا دستور تھا پہلے جہالت کے وقت میں [۴۶] اور قائم رکھو نماز اور دیتی رہو زکوٰۃ اور اطاعت میں رہو اللہ کی اور اس کے رسول کی [۴۷] اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کرے تم سے گندی باتیں اے نبی کے گھر والو اور ستھرا کر دے تم کو ایک ستھرائی سے [۴۸] ﴿33﴾

    اور یاد کرو جو پڑھی جاتی ہیں تمہارے گھروں میں اللہ کی باتیں اور عقلمندی کی [۴۹] مقرر اللہ ہے بھید جاننے والا خبردار [۵۰] ﴿34﴾

    تحقیق مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان دار مرد اور ایمان دار عورتیں اور بندگی کرنے والے مرد اور بندگی کرنے والی عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور محنت جھیلنے والے مرد اور محنت جھیلنے والی عورتیں [۵۱] اور دبے رہنے والے مرد اور دبی رہنے والی عورتیں [۵۲] اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں اور حفاظت کرنے والے مرد اپنی شہوت کی جگہ کو اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور یاد کرنے والے مرد اللہ کو بہت سا اور یاد کرنے والی عورتیں رکھی ہے اللہ نے ان کے واسطے معافی اور ثواب بڑا [۵۳] ﴿35﴾

    اور کام نہیں کسی ایماندار مرد کا اور نہ ایماندار عورت کا جب کہ مقرر کر دے اللہ اور اس کا رسول کوئی کام ان کو رہے اختیار اپنے کام کا اور جس نے نافرمانی کی اللہ کی اور اس کے رسول کی سو وہ راہ بھولا صریح چوک کر [۵۴] ﴿36﴾

    اور جب تو کہنے لگا اس شخص کو جس پر اللہ نے احسان کیا اور تو نے احسان کیا رہنے دے اپنے پاس اپنی جورو کو اور ڈر اللہ سے اور تو چھپاتا تھا اپنے دل میں ایک چیز جس کو اللہ کھولنا چاہتا ہے اور ڈرتا تھا لوگوں سے اور اللہ سے زیادہ چاہئیے ڈرنا تجھ کو پھر جب زید تمام کر چکا اس عورت سے اپنی غرض [۵۵] ہم نے ا سکو تیرے نکاح میں دیدیا تا نہ رہے مسلمانوں پر گناہ نکاح کر لینا جوروئیں اپنے لے پالکوں کی جب وہ تمام کر لیں ان سے اپنی غرض اور ہے اللہ کا حکم بجا لانا [۵۶] ﴿37﴾

    نبی پر کچھ مضائقہ نہیں ا س بات میں جو مقرر کر دی اللہ نے اسکے واسطے جیسے دستور رہا ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو گذرے پہلے اور ہے حکم اللہ کا مقرر ٹھہر چکا ﴿38﴾

    وہ لوگ جو پہنچاتے ہیں پیغام اللہ کے اور ڈرتے ہیں اس سے اور نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے اور بس ہے اللہ کفایت کرنے والا [۵۷] ﴿39﴾

    محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا [۵۸] اور مہر سب نبیوں پر [۵۹] اور ہے اللہ سب چیزوں کو جاننے والا [۶۰] ﴿40﴾

    اے ایمان والو یاد کرو اللہ کی بہت سی یاد ﴿41﴾

    اور پاکی بولتے رہو اسکی صبح اور شام [۶۱] ﴿42﴾

    وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے تاکہ نکالے تم کو اندھیروں سے اجالے میں اور ہے ایمان والوں پر مہربان [۶۲] ﴿43﴾

    دعا ان کی جس دن اس سے ملیں گے سلام ہے اور تیار رکھا ہے انکے واسطے ثواب عزت کا [۶۳] ﴿44﴾

    اے نبی ہم نے تجھ کو بھیجا بتانے والا [۶۴] اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا [۶۵] ﴿45﴾

    اور بلانے والا للہ کی طرف اسکے حکم سے اور چمکتا ہوا چراغ [۶۶] ﴿46﴾

    اور خوشخبری سنا دے ایمان والوں کو کہ ان کے لیے ہے خدا کی طرف سے بڑی بزرگی [۶۷] ﴿47﴾

    اور کہا مت مان منکروں کا اور دغابازوں کا [۶۸] اور چھوڑ دے انکا ستانا اور بھروسہ کر اللہ پر اور اللہ بس ہے کام بنانے والا [۶۹] ﴿48﴾

    اے ایمان والوں جب تم نکاح میں لاؤ مسلمان عورتوں کو پھر ان کو چھوڑ دو پہلے اس سے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ سو ان پر تم کو حق نہیں عدت میں بٹھلانا کہ گنتی پوری کراؤ سو ان کو دو کچھ فائدہ اور رخصت کرو بھلی طرح سے [۷۰] ﴿49﴾

    اے نبی ہم نے حلال رکھیں تجھ کو تیری عورتیں جن کے مہر تو دے چکا ہے اور جو مال ہو تیرے ہاتھ کا جو ہاتھ لگا دے تیرے اللہ [۷۱] اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے وطن چھوڑا تیرے ساتھ اور جو عورت ہو مسلمان اگر بخشدے اپنی جان نبی کو اگر نبی چاہے کہ اس کو نکاح میں لائے یہ خاص ہے تیرے لیے سوائے سب مسلمانوں کے ہم کو معلوم ہے جو مقرر کر دیا ہے ہم نے ان پر انکی عوتوں کے حق میں اور انکے ہاتھ کے مال میں تا نہ رہے تجھ پر تنگی اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان [۷۲] ﴿50﴾

    پیچھے رکھ دے تو جس کو چاہو ان میں اور جگہ دے اپنے پاس جس کو چاہے اور جس کو جی چاہے تیرا ان میں سے جن کو کنارے کر دیا تھا تو کچھ گناہ نہیں تجھ پر [۷۳] اس میں قریب ہے کہ ٹھنڈی رہیں آنکھیں انکی اور غم نہ کھائیں اور راضی رہیں اس پر جو تو نے دیا ان سب کی سب کو اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا تحمل والا [۷۴] ﴿51﴾

    حلال نہیں تجھ کو عورتیں اسکے بعد اور نہ یہ کہ اُنکے بدلے کر لے اور عورتیں اگرچہ خوش لگے تجھ کو اُنکی صورت [۷۵] مگر جو مال ہو تیرے ہاتھ کا [۷۶] اور ہے اللہ ہر چیز پر نگہبان [۷۷] ﴿52﴾

    اے ایمان والو مت جاؤ نبی کے گھروں میں مگر جو تم کو حکم ہو کھانے کے واسطے نہ راہ دیکھنے والے اس کے پکنے کی لیکن جب تم کو بلائے تب جا ؤ [۷۸] پھر جب کھا چکو تو آپ آپ کو چلے جاؤ اور نہ آپس میں جی لگا کر بیٹھو باتوں میں [۷۹] اس بات سے تمہاری تکلیف تھی نبی کو پھر تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ شرم نہیں کرتا ٹھیک بات بتلانے میں [۸۰] اور جب مانگنے جاؤ بیبیوں سے کچھ چیز کام کی تو مانگ لو پردہ کے باہر سے اس میں خوب ستھرائی ہے تمہارے دل کو اور ان کے دل کو [۸۱] اور تم کو نہیں پہنچتا کہ تکلیف دو اللہ کے رسول کو اور نہ یہ کہ نکاح کرو اسکی عورتوں سے اس کے پیچھے کبھی البتہ یہ تمہاری بات اللہ کے یہاں بڑا گناہ ہے [۸۲] ﴿53﴾

    اگر کھول کر کہو تم کسی چیز کو یا اسکو چھپاؤ سو اللہ ہے ہر چیز کو جاننے والا [۸۳] ﴿54﴾

    گناہ نہیں ان عورتوں کو سامنے ہونے کا اپنے باپوں سے اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھائی کے بیٹوں سے اور نہ اپنی بہن کے بیٹوں سے اور نہ اپنی عورتوں سے اور نہ اپنے ہاتھ کے مال سے [۸۴] اور ڈرتی رہو اے عورتو اللہ سے بیشک اللہ کے سامنے ہے ہر چیز [۸۵] ﴿55﴾

    اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بیجھتے ہیں رسول پر اے ایمان والو رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر [۸۶] ﴿56﴾

    جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کو پھٹکارا اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب [۸۷] ﴿57﴾

    اور جو لوگ تمہت لگاتے ہیں مسلمان مردوں کو اور مسلمان عورتوں کو بدون گناہ کیے تو اٹھایا انہوں نے بوجھ جھوٹ کا اور صریح گناہ کا [۸۸] ﴿58﴾

    اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو نیچے لٹکا لیں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں [۸۹] اس میں بہت قریب ہے کہ پہچانی پڑیں تو کوئی انکو نہ ستائے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان [۹۰] ﴿59﴾

    البتہ اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دل میں روگ ہے [۹۱] اور جھوٹی خبریں اڑانے والے مدینہ میں [۹۲] تو ہم لگا دیں گے تجھ کو ان کے پیچھے پھر نہ رہنے پائیں گے تیرے ساتھ اس شہر میں مگر تھوڑے دنوں ﴿60﴾

    پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور مارے گئے جان سے [۹۳] ﴿61﴾

    دستور پڑا ہوا ہے اللہ کا ان لوگوں میں جو پہلے ہو چکے ہیں اور تو نہ دیکھے گا اللہ کی چال بدلتی [۹۴] ﴿62﴾

    لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں قیامت کو تو کہہ اس کی خبر ہے اللہ ہی کے پاس اور تو کیا جانے شاید وہ گھڑی پاس ہی ہو [۹۵] ﴿63﴾

    بیشک اللہ نے پھٹکار دیا ہے منکروں کو اور رکھی ہے انکے واسطے دہکتی ہوئی آگ [۹۶] ﴿64﴾

    رہا کریں اسی میں ہمیشہ نہ پائیں کوئی حمایتی اور نہ مددگار ﴿65﴾

    جس دن اوندھے ڈالے جائیں گے ان کے منہ آگ میں [۹۷] کہیں گے کیا اچھا ہوتا جو ہم نے کہا مانا ہوتا اللہ کا اور کہا مانا ہوتا رسول کا [۹۸] ﴿66﴾

    اور کہیں گے اے رب ہم نے کہا مانا اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑوں کا پھر انہوں نے چکا دیا ہم کو راہ سے ﴿67﴾

    اے رب ان کو دے دونا عذاب اور پھٹکار انکو بڑی پھٹکار [۹۹] ﴿68﴾

    اے ایمان والو تم مت ہو ان جیسے جنہوں نے ستایا موسٰی کو پھر بے عیب دکھلا دیا اسکو اللہ نے انکے کہنے سے اور تھا اللہ کے یہاں آبرو والا [۱۰۰] ﴿69﴾

    اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور کہو بات سیدھی ﴿70﴾

    کہ سنوار دے تمہارے واسطے تمہارے کام اور بخشدے تم کو تمہارے گناہ اور جو کوئی کہنے پر چلا اللہ کے اور اس کے رسول کے اس نے پائی بڑی مراد [۱۰۱] ﴿71﴾

    ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا کہ اس کو اٹھائیں اورا س سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے یہ ہے بڑا بے ترس نادان [۱۰۲] ﴿72﴾

    تاکہ عذاب کرے اللہ منافق مردوں کو اور عورتوں کو اور شرک والے مردوں کو اور عورتوں کو اور معاف کرے اللہ ایمان دار مردوں کو اور عورتوں کو اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان [۱۰۳] ﴿73﴾

    Surah 34
    سبا

    سب خوبی اللہ کی ہے جس کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمان اور زمین میں اور اسی کی تعریف ہے آخرت میں اور وہی ہے حکمتوں والا سب کچھ جاننے والا [۱] ﴿1﴾

    جانتا ہے جو کچھ کہ اندر گھستا ہے زمین کے اور جو کچھ کہ نکتا ہے اس سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں [۲] اور وہی ہے رحم والا بخشنے والا [۳] ﴿2﴾

    اور کہنے لگے منکر نہ آئے گی ہم پر قیامت [۴] تو کہہ کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی البتہ آئے گی تم پر [۵] اس عالم الغیب کی غائب نہیں ہو سکتا اس سے کچھ ذرہ بھر آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز نہیں اس سےچھوٹی اور نہ اس سے بڑی جو نہیں ہے کھلی کتاب میں [۶] ﴿3﴾

    تاکہ بدلا دے انکو جو یقین لائے اور کئے بھلے کام وہ لوگ جو ہیں ان کے لئے ہے معافی اور عزت کی روزی ﴿4﴾

    اور جو لوگ دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو ان کو بلا کا عذاب ہے دردناک [۷] ﴿5﴾

    اور دیکھ لیں جن کو ملی ہے سمجھ کہ جو تجھ پر اترا تیرے رب سے وہی ٹھیک ہے اور سجھاتا ہے راہ اس زبردست خوبیوں والے کی [۸] ﴿6﴾

    اور کہنے لگے منکر ہم بتلائیں تمکو ایک مرد کہ تم کو خبر دیتا ہے جب تم پھٹ کر ہو جاؤ ٹکڑے ٹکڑے تم کو پھر نئے سرے سے بننا ہے ﴿7﴾

    کیا بنا لایا ہے اللہ پر جھوٹ یا ا سکو سودا ہے [۹] کچھ بھی نہیں پر جو یقین نہیں رکھتے آخرت کا آفت میں ہیں اور دور جا پڑے غلطی میں [۱۰] ﴿8﴾

    کیا دیکھتے نہیں جو کچھ ان کے آگے ہے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین سے اگر ہم چاہیں دھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ان پر ٹکڑا آسمان سے [۱۱] تحقیق اس میں نشانی ہے ہر بندے رجوع کرنے والے کے واسطے [۱۲] ﴿9﴾

    اور ہم نے دی ہے داؤد کو اپنی طرف سے بڑائی [۱۳] اے پہاڑو خوش آوازی سے پڑھو اسکے ساتھ اور اڑتے جانوروں کو [۱۴] اور نرم کر دیا ہم نے اس کے آگے لوہا ﴿10﴾

    کہ بنا زرہیں کشادہ اور اندازے سے جوڑ کڑیاں [۱۵] اور کرو تم سب کام بھلا میں جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا ہوں [۱۶] ﴿11﴾

    اور مسخر کردیا سلیمان کے آگے ہوا کو صبح کی منزل اسکی ایک مہینہ اور شام کی منزل ایک مہینہ کی اور بہا د یا ہم نے اسکے واسطے چشمہ پگھلے ہوئے تانبے کا [۱۷] اور جنوں میں کتنے لوگ تھے جو محنت کرتے اس کے سامنے اسکے رب کے حکم سے اور جوکوئی پھرے ان میں سے ہمارے حکم سے چکھائیں ہم اسکو آگ کا عذاب [۱۸] ﴿12﴾

    بناتے اس کے واسطے جو کچھ چاہتا قلعے اور تصویریں اور لگن جیسے تالاب اور دیگیں چولہوں پر جمی ہوئی [۱۹] کام کرو ا ے داؤد کے گھر والو احسان مان کر اور تھوڑے ہیں میرے بندوں میں احسان ماننے والے [۲۰] ﴿13﴾

    پھر جب مقرر کیا ہم نےاس پر موت کو نہ جتلایا ان کو اس کا مرنا مگر کیڑے نے گھن کے کھاتا رہا اس کا عصا پھر جب وہ گر پڑا معلوم کیا جنوں نے کہ اگر خبر رکھتے ہوتے غیب کی نہ رہتے ذلت کی تکلیف میں [۲۱] ﴿14﴾

    تحقیق قوم سبا کو تھی ان کی بستی میں نشانی دو باغ داہنے اور بائیں [۲۲] کھاؤ روزی اپنے رب کی اور اس کا شکر کرو [۲۳] شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے گناہ بخشنے والا [۲۴] ﴿15﴾

    سو دھیان میں نہ لائے پھر چھوڑ دیا ہم نے ان پر ایک نالا زور کا اور دیے ہم نے انکو بدلے میں ان دو باغوں کے دو اور باغ جن میں کچھ میوہ کسیلا تھا اور جھاؤ اور کچھ بیر تھوڑے سے [۲۵] ﴿16﴾

    یہ بدلا دیا ہم نے ان کو اس پر کہ ناشکری کی اور ہم یہ بدلا اسی کو دیتے ہیں جو ناشکر ہو [۲۶] ﴿17﴾

    اور رکھی تھیں ہم نے ان میں اور ان بستیوں میں جہاں ہم نے برکت رکھی ہے ایسی بستیاں جو راہ پر نظر آتی تھیں اور منزلیں مقرر کر دیں ہم نے ان میں آنے جانے کی پھرو ان میں راتوں کو اور دنوں کو امن سے [۲۷] ﴿18﴾

    پھر کہنے لگے اے رب دراز کر دے ہمارے سفروں کو [۲۸] اور آپ اپنا برا کیا پھر کر ڈالا ہم نے انکو کہانیاں اور کر ڈالا چیر کر ٹکڑے ٹکڑے [۲۹] اس میں پتے کی باتیں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر گذار کو [۳۰] ﴿19﴾

    اور سچ کر دکھلائی ان پر ابلیس نے اپنی اٹکل پھر اسی کی راہ چلے مگر تھوڑے سے ایمان دار [۳۱] ﴿20﴾

    اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر اتنے واسطے کہ معلوم کر لیں ہم اسکو جو یقین لاتا ہے آخرت پر جدا کر کے اس سے جو رہتا ہے آخرت کی طرف سے دھوکہ میں اور تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے [۳۲] ﴿21﴾

    تو کہہ پکارو ان کو جن کو گمان کرتے ہو سوائے اللہ کے [۳۳] وہ مالک نہیں ایک ذرہ بھر کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ ساجھا اور نہ ان میں کوئی اس کا مددگار ﴿22﴾

    اور کام نہیں آتی سفارش اس کے پاس مگر اس کو کہ جس کے واسطے حکم کر دے [۳۴] یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہو جائے ان کے دل سےکہیں کیا فرمایا تمہارے رب نے وہ کہیں فرمایا جو واجبی ہے اور وہی ہے سب سے اوپر بڑا [۳۵] ﴿23﴾

    تو کہہ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمیں سے بتلا دے کہ اللہ [۳۶] اور یا ہم یا تم بیشک ہدایت پر ہیں یا پڑے ہیں گمراہی میں صریح [۳۷] ﴿24﴾

    تو کہ تم سے پوچھ نہ ہوگی اسکی جو ہم نے گناہ کیا اور ہم سے پوچھ نہ ہوگی اسکی جو تم کرتے ہو ﴿25﴾

    تو کہہ جمع کرے گا ہم سب کو رب ہمارا پھر فیصلہ کرے گا ہم میں انصاف کا اور وہی ہے قصہ چکانے والا سب کچھ جاننے والا [۳۸] ﴿26﴾

    تو کہہ مجھ کو دکھلاؤ تو سہی جن کو اس سے ملاتے ہو ساجھی قرار دے کر [۳۹] کوئی نہیں وہی اللہ ہے زبردست حکمتوں والا [۴۰] ﴿27﴾

    اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے [۴۱] ﴿28﴾

    اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو [۴۲] ﴿29﴾

    تو کہہ تمہارے لیے وعدہ ہے ایک دن کا نہ دیر کرو گے اس سے ایک گھڑی نہ جلدی [۴۳] ﴿30﴾

    اور کہنے لگے منکر ہم ہر گز نہ مانیں گے اس قرآن کو اور نہ اس سے اگلے کو [۴۴] اور کبھی تو دیکھے جبکہ گنہگار کھڑے کئے جائیں اپنے رب کے پاس ایک دوسرے پر ڈالتا ہے بات کو [۴۵] کہتے ہیں وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے بڑائی کرنے والوں کو اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان دار ہوتے [۴۶] ﴿31﴾

    کہنے لگے بڑائی کرنے والے ان سے جو کہ کمزر گنے گئے تھے کیا ہم نے روکا تم کو حق بات سے تمہار ے پاس پہنچ چکنے کے بعد کوئی نہیں تم ہی تھے گنہگار [۴۷] ﴿32﴾

    اور کہنے لگے وہ لوگ جو کمزور گنے گئے تھے بڑائی کرنے والوں کو کوئی نہیں پر فریب سے رات دن کے جب تم ہم کو حکم کیا کرتے کہ ہم نہ مانیں اللہ کو اور ٹھہرائیں اسکے ساتھ برابر کے ساجھی [۴۸] اور چھپے چھپے پچتانے لگے جب دیکھ لیا عذاب [۴۹] اور ہم نے ڈالے ہیں طوق گردنوں میں منکروں کے [۵۰] وہی بدلہ پاتے ہیں جو عمل کرتے تھے [۵۱] ﴿33﴾

    اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر کہنے لگے ہیں وہاں کے آسودہ لوگ جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا ہم اس کو نہیں مانتے [۵۲] ﴿34﴾

    اور کہنے لگے ہم زیادہ ہیں مال اور اولاد میں اور ہم پر آفت نہیں آنے والی [۵۳] ﴿35﴾

    تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کر دیتا ہے روزی جس کو چاہے اور ماپ کر دیتا ہے لیکن بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے [۵۴] ﴿36﴾

    اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ نہیں کہ نزدیک کر دیں ہمارے پاس تمہارا درجہ پر جو کوئی یقین لایا اور بھلا کام کیا [۵۵] سو ان کے لیے ہے بدلا دونا انکے کیے کام کا [۵۶] اور وہ جھروکوں میں بیٹھے ہیں دلجمعی سے ﴿37﴾

    اور جو لوگ دوڑتے ہیں ہماری آیتوں کے ہرانے کو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے آتے ہیں [۵۷] ﴿38﴾

    تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کر دیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور ماپ کر دیتا ہے اور جو خرچ کرتے ہو کچھ چیز وہ اس کا عوض دیتا ہے اور وہ بہتر ہے روزی دینے والا [۵۸] ﴿39﴾

    اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو پھر کہے گا فرشتوں کو کیا یہ لوگ تم کوپوجا کرتے تھے [۵۹] ﴿40﴾

    وہ کہیں گے پاک ذات ہے تیری ہم تیری طرف میں ہیں نہ انکی طرف میں نہیں پر پوجتے تھے جنوں کو یہ اکثر انہی پر اعتقاد رکھتے تھے [۶۰] ﴿41﴾

    سو آج تم مالک نہیں ایک دوسرے کے بھلے کے نہ برے کے [۶۱] اور کہیں گے ہم ان گنہگاروں کو چکھو تکلیف اس آگ کی جس کو تم جھوٹ بتلاتے تھے ﴿42﴾

    اور جب پڑھی جائیں انکے پاس ہماری آیتیں کھلی کھلی کہیں اور کچھ نہیں مگر یہ ایک مرد ہے چاہتا ہے کہ روک دے تم کو ان سے جن کو پوجتے رہے تمہارے باپ دادے [۶۲] اور کہیں اور کچھ نہیں یہ جھوٹ ہے باندھا ہوا [۶۳] اور کہتے ہیں منکر حق بات کو جب پہنچے ان تک اور کچھ نہیں یہ ایک جادو ہے صریح [۶۴] ﴿43﴾

    اور ہم نے دی نہیں انکو کچھ کتابیں کہ جن کو وہ پڑھتے ہوں اور بھیجا نہیں انکے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا [۶۵] ﴿44﴾

    اور جھٹلایا ہے ان سے اگلوں نے اور یہ نہیں پہنچے دسویں حصہ کو اس کے جو ہم نے انکو دیا تھا پھر جھٹلایا انہوں نے میرے بھیجے ہوؤں کو تو کیسا ہوا انکار میرا [۶۶] ﴿45﴾

    تو کہ میں تو ایک ہی نصیحت کرتا ہوں تم کو کہ اٹھ کھڑے ہو اللہ کے نام پر دو دو اور ایک ایک پھر دھیان کرو کہ اس تمہارے رفیق کو کچھ سودا نہیں یہ تو ایک ڈرانے والا ہے تم کو ایک بڑی آفت کے آنے سے [۶۷] ﴿46﴾

    تو کہہ جو میں نے تم سے مانگا ہوکچھ بدلا سو وہ تمہی رکھو میرا بدلہ ہے اسی اللہ پر [۶۸] اور اس کے سامنے ہے ہر چیز [۶۹] ﴿47﴾

    تو کہہ میرا رب پھینک رہا ہے سچا دین اور وہ جانتا ہے چھپی چیزیں [۷۰] ﴿48﴾

    تو کہہ آیا دین سچا اور جھوٹ تو کسی چیز کو نہ پیدا کرے اور نہ پھیر کر لائے [۷۱] ﴿49﴾

    تو کہہ اگر میں بہکا ہوا ہوں تو بہکوں گا اپنے ہی نقصان کو اور اگر ہوں سیدھے راستہ پر تو اس سبب سے کہ وحی بھیجتا ہے مجھ کو میر ارب بیشک وہ سب کچھ سنتا ہے نزدیک [۷۲] ﴿50﴾

    اور کبھی تو دیکھے جب یہ گھبرائیں پھر نہ بچیں بھاگ کر اور پکڑے ہوئے آئیں نزدیک جگہ سے [۷۳] ﴿51﴾

    اور کہنے لگیں ہم نے اسکو یقین مان لیا اور اب کہاں انکا ہاتھ پہنچ سکتا ہے بعید جگہ سے [۷۴] ﴿52﴾

    اور اس سے منکر رہے پہلے سے اور پھینکتے رہے بن دیکھے نشانہ پر دور کی جگہ سے [۷۵] ﴿53﴾

    اور رکاوٹ پڑ گئ ان میں اور ان کی آرزو میں [۷۶] جیسا کہ کیا گیا ہے انکے طریقہ والوں کے ساتھ اس سے پہلے وہ لوگ تھے ایسے تردد میں جو چین نہ لینے دے [۷۷] ﴿54﴾

    Surah 35
    فاطر

    سب خوبی اللہ کو ہے جس نے بنا نکالے آسمان اور زمین [۱] جس نے ٹھہرایا فرشتوں کو پیغام لانے والے [۲] جن کے پر ہیں دو دو اور تین تین اور چار چار [۳] بڑھا دیتا ہے پیدائش میں جو چاہے بیشک اللہ ہر چیز کر سکتا ہے [۴] ﴿1﴾

    جو کچھ کہ کھول دے اللہ لوگوں پر رحمت میں سے تو کوئی نہیں اس کو روکنے والا [۵] اور جو کچھ روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اسکے سوائے اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا [۶] ﴿2﴾

    اے لوگو یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر کیا کوئی ہے بنانے والا اللہ کے سوائے روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے کوئی حاکم نہیں مگر وہ پھر کہاں الٹے جاتے ہو [۷] ﴿3﴾

    اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو جھٹلائے گئے کتنے رسول تجھ سے پہلے اور اللہ تک پہنچتے ہیں سب کام [۸] ﴿4﴾

    اے لوگو بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے سو نہ بہکائے تم کو دنیا کی زندگانی اور نہ دغا دے تم کو اللہ کے نام سے وہ دغا باز ﴿5﴾

    تحقیق شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی سمجھ رکھو اس کو دشمن وہ تو بلاتا ہے اپنے گروہ کو اسی واسطے کے ہوں دوزخ والوں میں [۹] ﴿6﴾

    جو منکر ہوئے ان کو سخت عذاب ہے اور جو یقین لائے اور کئے بھلے کام انکے لئے ہے معافی اور بڑا ثواب ﴿7﴾

    بھلا ایک شخص کو کہ بھلی سمجھائی گئ اسکو اسکے کام کی برائی پھر دیکھا اس نے اسکو بھلا کیونکہ اللہ بھٹکاتا ہے جس کو چاہے اور سمجھاتا ہے جس کو چاہے سو تیرا جی نہ جاتا رہے ان پر پچتا پچتا کر اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں [۱۰] ﴿8﴾

    اور اللہ ہے جس نے چلائی ہیں ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر ہانک لے گئے ہم اسکو ایک مردہ دیس کی طرف پھر زندہ کر دیا ہم نے اس سے زمین کو اسکے مرجانے کے بعد اسی طرح ہو گا جی اٹھنا [۱۱] ﴿9﴾

    جس کو چاہئے عزت تو اللہ کے لیے ہے ساری عزت [۱۲] اس کی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا [۱۳] اور کام نیک اس کو اٹھا لیتا ہے [۱۴] اور جو لوگ داؤ میں ہیں برائیوں کے انکے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا داؤ ہے ٹوٹے کا [۱۵] ﴿10﴾

    اور اللہ نے تم کو بنایا مٹی سے پھر بوند پانی سے پھر بنایا تم کو جوڑے جوڑے اور نہ پیٹ رہتا ہے کسی مادہ کو اور نہ وہ جنتی ہے بن خبر اس کے [۱۶] اور نہ عمر پاتا ہے کوئی بڑی عمر والا اور نہ گھٹتی ہے کسی کی عمر مگر لکھا ہے کتاب میں بیشک یہ اللہ پر آسان ہے [۱۷] ﴿11﴾

    اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے خوشگوار ہے پینا اس کا اور یہ کھارا کڑوا اور دونوں میں سے کھاتے ہو گوشت تازہ اور نکالتے ہو گہنا جسکو پہنتے ہو [۱۸] اور تو دیکھے جہازوں کو اس میں کہ چلتے ہیں پانی کو پھاڑتے تاکہ تلاش کرو اسکے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو [۱۹] ﴿12﴾

    رات گھساتا ہے دن میں اور دن گھساتا ہے رات میں اور کام میں لگا دیا سورج اورچاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک مقرر وعدہ تک [۲۰] یہ اللہ ہے تمہارا رب اسی کے لئے بادشاہی ہے اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوائے وہ مالک نہیں کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے [۲۱] ﴿13﴾

    اگر تم ان کو پکارو سنیں نہیں تمہاری پکار اور اگر سنیں پہنچیں نہیں تمہارے کام پر اور قیامت کے دن منکر ہوں گے تمہارے شریک ٹھہرانے سے [۲۲] اور کوئی نہ بتلائے گا تجھ کو جیسا بتلائے خبر رکھنے والا [۲۳] ﴿14﴾

    اے لوگو تم ہو محتاج اللہ کی طرف اور اللہ وہی ہے بے پروا سب تعریفوں والا [۲۴] ﴿15﴾

    اگر چاہے تم کو لیجائے اور لے آئے ایک نئی خلقت ﴿16﴾

    اور یہ بات اللہ پر مشکل نہیں [۲۵] ﴿17﴾

    اور نہ اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا اور اگر پکارے کوئی بوجھل اپنا بوجھ بٹانے کو کوئی نہ اٹھائے اس میں سے ذرا بھی اگر چہ ہو قرابتی [۲۶] تو تو ڈر سنا دیتا ہے انکو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم رکھتے ہیں نماز [۲۷] او جو کوئی سنورے گا تو یہی ہے کہ سنورے گا اپنے فائدہ کو اور اللہ کی طرف ہے سب کو پھر جانا [۲۸] ﴿18﴾

    اور برابر نہیں اندھا اور دیکھتا ﴿19﴾

    اور نہ اندھیرا اور نہ اجالا ﴿20﴾

    اور نہ سایہ اور نہ لُو ﴿21﴾

    اور برابر نہیں جیتے اور نہ مردے [۲۹] اللہ سناتا ہے جس کو چاہے اور تو نہیں سنانے والا قبر میں پڑے ہوؤں کو ﴿22﴾

    تو تو بس ڈر کی خبر پہنچانے والا ہے [۳۰] ﴿23﴾

    ہم نے بھیجا ہے تجھ کو سچا دین دیکر خوشی اور ڈر سنانے والا اور کوئی فرقہ نہیں جس میں نہیں ہو چکا کوئی ڈر سنانے والا [۳۱] ﴿24﴾

    اور اگر وہ تجھ کو جھٹلائیں تو آگے جھٹلا چکے ہیں جو لوگ کہ ان سے پہلے تھے پہنچے ان کے پاس رسول انکے لیکر کھلی باتیں اور صحیفے اور روشن کتاب [۳۲] ﴿25﴾

    پھر پکڑا میں نے منکروں کو سو کیسا ہوا انکار میرا [۳۳] ﴿26﴾

    کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح کے انکے رنگ [۳۴] اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ طرح طرح کے انکے رنگ اور بھجنگے کالے [۳۵] ﴿27﴾

    اور آدمیوں میں اور کیڑوں میں اور چوپاؤں میں کتنے رنگ ہیں اسی طرح [۳۶] اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بدنوں میں جن کو سمجھ ہے تحقیق اللہ زبردست ہے بخشنے والا [۳۷] ﴿28﴾

    جو لوگ پڑھتے ہیں کتاب اللہ کی اور سیدھی کرتے ہیں نماز اور خرچ کرتے ہیں کچھ ہمارا دیا ہوا چھپے اور کھلے امیدوار ہیں ایک بیوپار کے جس میں ٹوٹا نہ ہو [۳۸] ﴿29﴾

    تاکہ پورا دے انکو ثواب ان کا اور زیادہ دے اپنے فضل سے تحقیق وہ ہے بخشنے والا قدر دان [۳۹] ﴿30﴾

    اور جو ہم نے تجھ پر اتاری کتاب وہی ٹھیک ہے تصدیق کرنے والی اپنے سےاگلی کتابوں کی بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار ہے دیکھنے والا [۴۰] ﴿31﴾

    پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر اور کوئی ان میں آگے بڑھ گیا ہے لیکر خوبیاں اللہ کے حکم سے یہی ہے بڑی بزرگی [۴۱] ﴿32﴾

    باغ ہیں بسنے کے جن میں وہ جائیں گے وہاں انکو پہنایا جائے گا کنگن سونے کے او رموتی کے اور انکی پوشاک وہاں ریشمی ہے [۴۲] ﴿33﴾

    اور کہیں گے شکر اللہ کا جس نے دور کیا ہم سےغم بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے [۴۳] ﴿34﴾

    جس نے اتارا ہم کو آباد رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے نہ پہنچے ہم کو اس میں مشقت اور نہ پہنچے ہمکو اس میں تھکنا [۴۴] ﴿35﴾

    اور جو لوگ منکر ہیں انکے لئے ہے آگ دوزخ کی نہ ان پر حکم پہنچے کہ مر جائیں اور نہ ان پر ہلکی ہو وہاں کی کچھ کلفت یہ سزا دیتےہیں ہم ہر ناشکر کو [۴۵] ﴿36﴾

    اور وہ چلائیں اس میں اے رب ہم کو نکال کہ ہم کچھ بھلا کر لیں وہ نہیں جو کرتے رہے [۴۶] کیا ہم نے عمر نہ دی تھی تمکو اتنی کہ جس میں سوچ لے جس کو سوچنا ہو او رپہنچا تمہارے پاس ڈرانے والا اب چکھو کہ کوئی نہیں گنہگاروں کا مددگار [۴۷] ﴿37﴾

    اللہ بھید جاننے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اس کو خوب معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں [۴۸] ﴿38﴾

    وہی ہے جس نے کیا تمکو قائم مقام زمین میں [۴۹] پھر جو کوئی ناشکری کرے تو اس پر پڑے اسکی ناشکری اور منکروں کو نہ بڑھے گی انکے انکار سے ان کے رب کے سامنے مگر بیزاری اور منکروں کو نہ بڑھے گا انکے انکار سے مگر نقصان [۵۰] ﴿39﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اپنے شریکوں کو جن کو پکارتے ہو اللہ کے سوائے دکھلاؤ تو مجھ کو کیا بنایا انہوں نے زمین میں یا کچھ ان کا ساجھا ہے آسمانوں میں [۵۱] یا ہم نے دی ہے انکو کوئی کتاب سو یہ سند رکھتے ہیں اس کی [۵۲] کوئی نہیں پر جو وعدہ بتلاتے ہیں گنہگار ایک دوسرے کو سب فریب ہے [۵۳] ﴿40﴾

    تحقیق اللہ تھام رہا ہے آسمانوں کو اور زمین کو کہ ٹل نہ جائیں اور اگر ٹل جائیں تو کوئی نہ تھام سکے انکو اس کے سوائے [۵۴] وہ ہے تحمل والا بخشنے والا [۵۵] ﴿41﴾

    اور قسمیں کھاتے تھے اللہ کی تاکید کی قسمیں اپنی کہ اگر آئے گا انکے پاس کوئی ڈر سنانے والا البتہ بہتر راہ چلیں گے ہر ایک امت سے پھر جب آیا ان کے پاس ڈر سنانے والا اور زیادہ ہو گیا ان کا بدکنا ﴿42﴾

    غرور کرنا ملک میں اور داؤ کرنا برے کام کا اور برائی کا داؤ الٹے گا انہی داؤں والوں پر [۵۶] پھر اب وہی راہ دیکھتے ہیں پہلوں کے دستور کی سو تو نہ پائے گا اللہ کا دستور بدلتا اور نہ پائے گا اللہ کا دستور ٹلتا [۵۷] ﴿43﴾

    کیا پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھ لیں کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور تھے ان سے بہت سخت زور میں اور اللہ وہ نہیں جس کو تھکائے کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہی ہے سب کچھ جانتا کر سکتا [۵۸] ﴿44﴾

    اور اگر پکڑ کرے اللہ لوگوں کی ان کی کمائی پرنہ چھوڑے زمین کی پیٹھ پر ایک بھی ہلنے چلنے والا [۵۹] پر ان کو ڈھیل دیتا ہے ایک مقرر وعدہ تک پھر جب آئے ان کا وعدہ تو اللہ کی نگاہ میں ہیں اس کے سب بندے [۶۰] ﴿45﴾

    Surah 36
    یٰس

    یٰس ۔ ﴿1﴾

    قسم ہے اس پکے قرآن کی ﴿2﴾

    تو تحقیق ہے بھیجے ہوؤں میں سے ﴿3﴾

    اوپر سیدھی راہ کے [۱] ﴿4﴾

    اتارا زبردست رحم والے نے [۲] ﴿5﴾

    تاکہ تو ڈرائے ایک قوم کو کہ ڈر نہیں سنا انکے باپ دادوں نے سو ان کو خبر نہیں ﴿6﴾

    ثابت ہو چکی ہے بات ان میں بہتوں پر سو وہ نہ مانیں گے [۳] ﴿7﴾

    ہم نے ڈالے ہیں انکی گردنوں میں طوق سو وہ ہیں ٹھوڑیوں تک پھر انکے سر اُلل (ابھر) رہے ہیں [۴] ﴿8﴾

    اور بنائی ہم نے ان کے آگے دیوار اور پیچھے دیوار پھر اوپر سے ڈھانک دیا سو ان کو کچھ نہیں سوجھتا [۵] ﴿9﴾

    اور برابر ہے ان کو تو ڈرائے یا نہ ڈرائے یقین نہیں کریں گے [۶] ﴿10﴾

    تو ڈر سناتے اسکو جو چلے سمجھائے پر اور ڈرے رحمٰن سے بن دیکھے سو اسکو خوشخبری دے معافی کی اور عزت کے ثواب کی [۷] ﴿11﴾

    ہم تو ہیں جو زندہ کرتے ہیں مردوں کو [۸] اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان انکے پیچھے رہے [۹] اور ہر چیز گن لی ہے ہم نے ایک کھلی اصل میں [۱۰] ﴿12﴾

    اور بیان کر انکے واسطے ایک مثل اس گاؤں کے لوگوں کی [۱۱] جبکہ آئے اس میں بھیجے ہوئے [۱۲] ﴿13﴾

    جب بھیجے ہم نے انکی طرف دو تو ان کو کو جھٹلایا پھر ہم نے قوت دی تیسرے سے تب کہا انہوں نے ہم تمہاری طرف آئے ہیں بھیجے ہوئے [۱۳] ﴿14﴾

    وہ بولے تم تو یہی انسان ہو جیسے ہم اور رحمٰن نے کچھ نہیں اتارا تم سارے جھوٹ کہتے ہو [۱۴] ﴿15﴾

    کہا ہمارا رب جانتا ہے ہم بیشک تمہاری طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں [۱۵] ﴿16﴾

    اور ہمارا ذمہ یہی ہے پیغام پہنچا دینا کھول کر [۱۶] ﴿17﴾

    بولے ہم نے نامبارک دیکھا تم کو اگر تم باز نہ رہو گے تو ہم تم کو سنگسار کریں گے اور تم کو پہچے گا ہمارے ہاتھ سے عذاب دردناک [۱۷] ﴿18﴾

    کہنے لگے تمہاری نا مبارکی تمہارے ساتھ ہے کیا اتنی بات پر کہ تم کو سمجھایا کوئی نہیں پرتم لوگ کہ حد پر نہیں رہتے [۱۸] ﴿19﴾

    اور آیا شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا [۱۹] بولا اے قوم چلو راہ پر بھیجے ہوؤں کی ﴿20﴾

    چلو راہ پر ایسے شخص کی جو تم سے بدلا نہیں چاہتے اور وہ ٹھیک رستہ پر ہیں [۲۰] ﴿21﴾

    اور مجھ کو کیا ہوا کہ میں بندگی نہ کروں اسکی جس نے مجھ کو بنایا [۲۱] اور اسی کی طرف سب پھر جاؤ گے [۲۲] ﴿22﴾

    بھلا میں پکڑوں اس کے سوائے اوروں کو پوجنا کہ اگر مجھ پر چاہے رحمٰن تکلیف تو کچھ کام نہ آئے مجھ کو ان کی سفارش اور نہ وہ مجھ کو چھڑائیں ﴿23﴾

    تو تو میں بھٹکتا رہوں صریح [۲۳] ﴿24﴾

    میں یقین لایا تمہارے رب پر مجھ سے سن لو [۲۴] ﴿25﴾

    حکم ہوا چلا جا بہشت میں [۲۵] بولا کسی طرح میری قوم معلوم کر لیں ﴿26﴾

    کہ کس بنا پر بخشا مجھ کو میرے رب نے اور کیا مجھ کو عزت والوں میں [۲۶] ﴿27﴾

    اور اتاری نہیں ہم نے اس کی قوم پر اس کے پیچھے کوئ فوج آسمان سے اور ہم فوج نہیں اتارا کرتے ﴿28﴾

    بس یہی تھی ایک چنگھاڑ پھر اسی دم سب بجھ گئے [۲۷] ﴿29﴾

    کیا افسوس ہے بندوں پر کوئی رسول نہیں آیا ان کے پاس جس سے ٹھٹھا نہیں کرتے ﴿30﴾

    کیا نہیں دیکھتے کتنی غارت کر چکے ہم ان سے پہلے جماعتیں کہ وہ انکے پاس پھر کر نہیں آئیں گی [۲۸] ﴿31﴾

    اور ان سب میں کوئی نہیں جو اکھٹے ہو کر نہ آئیں ہمارے پس پکڑے ہوئے [۲۹] ﴿32﴾

    اور ایک نشانی ہے انکے واسطے زمین مردہ اسکو ہم نے زندہ کر دیا اور نکالا اس میں سے اناج سو اسی میں سے کھاتے ہیں ﴿33﴾

    اور بنائے ہم نے اس میں باغ کھجور کے اور انگور کے اور بہا دیے اس میں بعضے چشمے ﴿34﴾

    کہ کھائیں اسکے میووں سے [۳۰] اور اس کو بنایا نہیں انکے ہاتھوں نے پھر کیوں شکر نہیں کرتے [۳۱] ﴿35﴾

    پاک ذات ہے جس نے بنائے جوڑے سب چیز کے اس قسم سے جو اگتا ہے زمین میں اور خود ان میں سے اور ان چیزوں میں کہ جن کی انکو خبر نہیں [۳۲] ﴿36﴾

    اور ایک نشانی ہے انکے واسطے رات کھینچ لیتے ہیں ہم اس پر سے دن کو پھر تبہی یہ رہ جاتے ہیں اندھیرے میں ﴿37﴾

    اور سورج چلا جاتا ہے اپنے ٹھہرے ہوئے رستہ پر [۳۳] یہ سادھا ہے اس زبردست باخبر نے [۳۴] ﴿38﴾

    اور چاند کو ہم نے بانٹ دی ہیں منزلیں یہاں تک کہ پھر آ رہا ہے جیسے ٹہنی پرانی [۳۵] ﴿39﴾

    نہ سورج سے ہو کہ پکڑ لے چاند کو اور نہ رات آگے بڑھے دن سے اور ہر کوئی ایک چکر میں پیرتے ہیں [۳۶] ﴿40﴾

    اور ایک نشانی ہے انکے واسطے کہ ہم نے اٹھا لیا ان کی نسل کو اس بھری ہوئی کشتی میں ﴿41﴾

    اور بنا دیا ہم نے انکے واسطے کشتی جیسی چیزوں کو جس پر سوار ہوتے ہیں [۳۷] ﴿42﴾

    اور اگر ہم چاہیں تو انکو ڈبا دیں پھر کوئی نہ پہنچےانکی فریاد کو اور نہ وہ چھڑائے جائیں ﴿43﴾

    مگر ہم اپنی مہربانی سے اور انکا کام چلانے کو ایک وقت تک [۳۸] ﴿44﴾

    اور جب کہیے ان کو بچو اس سے جو تمہارے سامنے آتا ہے اور جو پیچھے چھوڑتے ہو شاید تم پر رحم ہو ﴿45﴾

    اور کوئی حکم نہیں پہنچتا انکو اپنے رب کے حکموں سے جس کو وہ ٹلاتے نہ ہوں [۳۹] ﴿46﴾

    اور جب کہیے ان کو خرچ کرو کچھ اللہ کا دیا کہتے ہیں منکر ایمان والوں کو ہم کیوں کھلائیں ایسے کو کہ اللہ چاہتا تو اس کو کھلا دیتا [۴۰] تم لوگ تو بالکل بہک رہے ہو صریح [۴۱] ﴿47﴾

    اور کہتے ہیں کب ہو گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو [۴۲] ﴿48﴾

    یہ تو راہ دیکھتے ہیں ایک چنگھاڑ کی جو ان کو آ پکڑے گی جب آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے ﴿49﴾

    پھر نہ کر سکیں گے کہ کچھ کہہ ہی مریں اور نہ اپنے گھر کو پھر کر جا سکیں گے [۴۳] ﴿50﴾

    اور پھونکی جائے صور پھر تبہی وہ قبروں سے اپنے رب کی پھیل پڑیں گے [۴۴] ﴿51﴾

    کہیں گے اے خرابی ہماری کس نے اٹھا دیا ہم کو ہماری نیند کی جگہ سے [۴۵] یہ وہ ہے جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا پیغمبروں نے [۴۶] ﴿52﴾

    بس ایک چنگھاڑ ہو گی پھر اسی دم وہ سارے ہمارے پاس پکڑے چلے آئیں گے [۴۷] ﴿53﴾

    پھر آج کے دن ظلم نہ ہوگا کسی جی پر ذرا اور وہی بدلہ پاؤ گے جو کرتے تھے [۴۸] ﴿54﴾

    تحقیق بہشت کے لوگ آج ایک مشغلہ میں ہیں باتیں کرتے ﴿55﴾

    وہ اور ان کی عورتیں سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہیں تکیہ لگائے ﴿56﴾

    انکے لئے وہاں ہے میوہ اور انکے لئے ہے جو کچھ مانگیں [۴۹] ﴿57﴾

    سلام بولنا ہے رب مہربان سے [۵۰] ﴿58﴾

    اور تم الگ ہو جاؤ آج اے گناہگارو [۵۱] ﴿59﴾

    میں نے نہ کہہ رکھا تھا تم کو اے آدم کی اولاد کہ نہ پوجیو شیطان کو وہ کھلا دشمن ہے تمہارا ﴿60﴾

    اور یہ کہ پوجو مجھ کو یہ راہ ہے سیدھی [۵۲] ﴿61﴾

    اور وہ بہکا لے گیا تم میں سے بہت خلقت کو پھر کیا تم کو سمجھ نہ تھی ﴿62﴾

    یہ دوزخ ہے جس کا تم کو وعدہ تھا ﴿63﴾

    جا پڑو اس میں آج کے دن بدلا اپنے کفر کا [۵۳] ﴿64﴾

    آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر اور بولیں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور بتلائیں گے ان کے پاؤں جو کچھ وہ کماتے تھے [۵۴] ﴿65﴾

    اور اگر ہم چاہیں مٹا دیں ان کی آنکھیں پھر دوڑیں رستہ پانے کو پھر کہاں سے سوجھے ﴿66﴾

    اور اگر ہم چاہیں صورت مسخ کر دیں انکی جہاں کی تہاں پھر نہ آگے چل سکیں اور نہ وہ الٹے پھر سکیں [۵۵] ﴿67﴾

    اور جس کو ہم بوڑھا کریں اوندھا کریں اس کی پیدائش میں پھر کیا ان کو سمجھ نہیں [۵۶] ﴿68﴾

    اور ہم نے نہیں سکھایا اسکو شعر کہنا اور یہ اس کے لائق نہیں یہ تو خالص نصیحت ہے اورقرآن ہے صاف [۵۷] ﴿69﴾

    تاکہ ڈر سنائے اس کو جس میں جان ہو اور ثابت ہو الزام منکروں پر [۵۸] ﴿70﴾

    کیا اور نہیں دیکھتے وہ کہ ہم نے بنا دیے انکے واسطے اپنے ہاتھوں کی بنائی چیزوں سے چوپائے پھر وہ انکے مالک ہیں [۵۹] ﴿71﴾

    اور عاجز کر دیا انکو انکے آگے پھر ان میں کوئی ہے انکی سواری اور کسی کو کھاتے ہیں ﴿72﴾

    اور انکے واسطے چارپایوں میں فائدے ہیں اور پینے کے گھاٹ پھر کیوں شکر نہیں کرتے [۶۰] ﴿73﴾

    اور پکڑتے ہیں اللہ کے سوائے اور حاکم کہ شاید ان کی مدد کریں ﴿74﴾

    نہ کر سکیں گے ان کی مدد اور یہ انکی فوج ہو کر پکڑ آئیں گے [۶۱] ﴿75﴾

    اب تو غمگین مت ہو انکی بات سے ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں [۶۲] ﴿76﴾

    کیا دیکھتا نہیں انسان کہ ہم نے اس کو بنایا ایک قطرہ سے پھر تبہی وہ ہو گیا جھگڑنے بولنے والا [۶۳] ﴿77﴾

    اور بٹھلاتا ہے ہم پر ایک مثل اور بھول گیا اپنی پیدائش کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کھوکھری ہو گئیں [۶۴] ﴿78﴾

    تو کہہ ان کو زندہ کرے گا جس نے بنایا انکو پہلی بار اور وہ سب بنانا جانتا ہے [۶۵] ﴿79﴾

    جس نے بنا دی تم کو سبز درخت سے آگ پھر اب تم اس سے سلگاتے ہو [۶۶] ﴿80﴾

    کیا جس نے بنائے آسمان اور زمین نہیں بنا سکتا ان جیسے کیوں نہیں اور وہی ہے اصل بنانے والا سب کچھ جاننے والا [۶۷] ﴿81﴾

    اسکا حکم یہی ہے کہ جب کرنا چاہے کسی چیز کو تو کہے اس کو ہو وہ اسی وقت ہو جائے [۶۸] ﴿82﴾

    سو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ ہے حکومت ہر چیز کی اور اسی کی طرف پھر کر چلے جاؤ گے [۶۹] ﴿83﴾

    Surah 37
    الصّٰفّٰت

    قسم ہے صف باندھنے والوں کی قطار ہو کر [۱] ﴿1﴾

    پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر [۲] ﴿2﴾

    پھر پڑھنے والوں کی یاد کر کر [۳] ﴿3﴾

    بیشک حاکم تم سب کا ایک ہے [۴] ﴿4﴾

    رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے اور رب مشرقوں کا [۵] ﴿5﴾

    ہم نے رونق دی ورلے آسمان کو ایک رونق جو تارے ہیں [۶] ﴿6﴾

    اور بچاؤ بنایا ہر شیطان سر کش سے [۷] ﴿7﴾

    سن نہیں سکتے اوپرکی مجلس تک اور پھینکے جاتےہیں ان پر ہر طرف سے ﴿8﴾

    بھگانے کو [۸] اور ان پر مار ہے ہمیشہ کو [۹] ﴿9﴾

    مگر جو کوئی اچک لایا جھپ سے پھر پیچھے لگا اس کے انگارا چمکتا [۱۰] ﴿10﴾

    اب پوچھ ان سے کیا یہ بنانے مشکل ہیں یا جتنی خلقت کہ ہم نے بنائی [۱۱] ہم نے ہی انکو بنایا ہے ایک چپکتے گارے سے [۱۲] ﴿11﴾

    بلکہ تو کرتا ہے تعجب اور وہ کرتے ہیں ٹھٹھے [۱۳] ﴿12﴾

    اور جب انکو سمجھائیے نہیں سوچتے ﴿13﴾

    اور جب دیکھیں کچھ نشانی ہنسی میں ڈال دیتے ہیں ﴿14﴾

    اور کہتے ہیں اور کچھ نہیں یہ تو کھلا جادو ہے [۱۴] ﴿15﴾

    کیا جب ہم مر گئے اور ہو گئے مٹی اور ہڈیاں تو کیا ہم کو پھر اٹھائیں گے ﴿16﴾

    کیا اور ہمارے اگلے باپ دادوں کو بھی [۱۵] ﴿17﴾

    تو کہہ کہ ہاں اور تم ذلیل ہو گے ﴿18﴾

    سو وہ اٹھانا تو یہی ہے ایک جھڑکی پھر اسی وقت یہ لگیں گے دیکھنے [۱۶] ﴿19﴾

    اور کہیں گے اے خرابی ہماری یہ آگیا دن جزا کا [۱۷] ﴿20﴾

    یہ ہے دن فیصلہ کا جس کو تم جھٹلاتے تھے [۱۸] ﴿21﴾

    جمع کرو گنہگاروں کو اور انکے جوڑوں کو اور جو کچھ پوجتے تھے [۱۹] ﴿22﴾

    اللہ کے سوائے پھر چلاؤ ان کو دوزخ کی راہ پر [۲۰] ﴿23﴾

    اور کھڑا رکھو انکو ان سے پوچھنا ہے [۲۱] ﴿24﴾

    کیا ہوا تم کو ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ﴿25﴾

    کوئی نہیں وہ آج اپنے آپ کو پکڑواتے ہیں [۲۲] ﴿26﴾

    اور منہ کیا بعضوں نے بعضوں کی طرف لگے پوچھنے ﴿27﴾

    بولے تم ہی تھے کہ آتے تھے ہم پر داہنی طرف سے [۲۳] ﴿28﴾

    وہ بولے کوئی نہیں پر تم ہی نہ تھے یقین لانے والے ﴿29﴾

    اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا پر تم ہی تھے لوگ حد سے نکل چلنے والے ﴿30﴾

    سو ثابت ہو گئ ہم پر بات ہمارے رب کی بیشک ہم کو مزہ چکھنا ہے ﴿31﴾

    ہم نے تم کو گمراہ کیا جیسے ہم خود تھے گمراہ [۲۴] ﴿32﴾

    سو وہ سب اس دن تکلیف میں شریک ہیں [۲۵] ﴿33﴾

    ہم ایسا ہی کرتے ہیں گنہگاروں کے حق میں ﴿34﴾

    وہ تھے کہ ان سے جب کوئی کہتا کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے تو غرور کرتے [۲۶] ﴿35﴾

    اور کہتے کیا ہم چھوڑ دیں گے اپنے معبودوں کو کہنے سے ایک شاعر دیوانہ کے ﴿36﴾

    کوئی نہیں وہ لیکر آیا ہے سچا دین اور سچا مانتا ہے سب رسولوں کو [۲۷] ﴿37﴾

    بیشک تم کو تو چکھنا ہے عذاب دردناک ﴿38﴾

    اور وہ ہی بدلا پاؤ گے جو کچھ تم کرتے تھے [۲۸] ﴿39﴾

    مگر جو بندے اللہ کے ہیں چنے ہوئے [۲۹] ﴿40﴾

    وہ لوگ جو ہیں انکے واسطے روزی ہے مقرر ﴿41﴾

    میوے [۳۰] اور انکی عزت ہے [۳۱] ﴿42﴾

    نعمت کے باغوں میں ﴿43﴾

    تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے ﴿44﴾

    لوگ لئے پھرتے ہیں ان کے پاس پیالہ شراب صاف کا ﴿45﴾

    سفید رنگ مزہ دینے والی پینے والوں کو ﴿46﴾

    نہ اس میں سر پھرتا ہے اور نہ وہ اس کو پی کر بہکیں [۳۲] ﴿47﴾

    اور ان کے پاس ہیں عورتیں نیچی گناہ رکھنے والیاں بڑی بڑی آنکھوں والیاں [۳۳] ﴿48﴾

    گویا وہ انڈے ہیں چھپے دھرے [۳۴] ﴿49﴾

    پھر منہ کیا ایک نے دوسرے کی طرف لگے پوچھنے ﴿50﴾

    بولا ایک بولنے والا ان میں میرا تھا ایک ساتھی ﴿51﴾

    کہا کرتا کیا تو یقین کرتا ہے ﴿52﴾

    کیا جب ہم مر گئے اور ہو گئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو جزا ملے گی [۳۵] ﴿53﴾

    کہنے لگا بھلا تم جھانک کر دیکھو گے [۳۶] ﴿54﴾

    پھر جھانکا تو اس کو دیکھا بیچوں بیچ دوزخ کے ﴿55﴾

    بولا قسم اللہ کی تو تو مجھ کو ڈالنے لگا تھا گڑھے میں ﴿56﴾

    اور اگر نہ ہوتا میرے رب کا فضل تو میں بھی ہوتا انہیں میں جو پکڑے ہوئے آئے [۳۷] ﴿57﴾

    کیا اب ہم کو مرنا نہیں ﴿58﴾

    مگر جو پہلی بار مر چکے اور ہم کو تکلیف نہیں پہنچنے کی ﴿59﴾

    بیشک یہی ہے بڑی مراد ملنی ﴿60﴾

    ایسی چیزوں کے واسطے چاہئے محنت کریں محنت کرنے والے [۳۸] ﴿61﴾

    بھلا یہ بہتر ہے مہمانی یا درخت سیہنڈ کا ﴿62﴾

    ہم نے اس کو رکھا ہے ایک بلا ظالموں کے واسطے ﴿63﴾

    وہ ایک درخت ہے کہ نکلتا ہے دوزخ کی جڑ میں [۳۹] ﴿64﴾

    اس کا خوشہ جیسے سر شیطان کے [۴۰] ﴿65﴾

    سو وہ کھائیں گے اس میں سے پھر بھریں گے اس سے پیٹ ﴿66﴾

    پھر ان کے واسطے اس کے اوپر ملونی ہے جلتے پانی کی [۴۱] ﴿67﴾

    پھر ان کو لیجانا آگ کے ڈھیر میں [۴۲] ﴿68﴾

    انہوں نے پایا اپنے باپ دادوں کو بہکے ہوئے ﴿69﴾

    سو وہ انہی کے قدموں پر دوڑتے ہیں [۴۳] ﴿70﴾

    اور بہک چکے ہیں ان سے پہلے بہت لوگ اگلے ﴿71﴾

    اور ہم نے بھیجے ہیں ان میں ڈر سنانے والے ﴿72﴾

    اب دیکھ کیسا ہوا انجام ڈرائے ہوؤں کا ﴿73﴾

    مگر جو بندے اللہ کے ہیں چنے ہوئے [۴۴] ﴿74﴾

    اور ہم کو پکارا تھا نوح نے سو کیا خوب پہنچنے والے ہیں ہم پکار پر ﴿75﴾

    اور بچا دیا اسکو اور اسکے گھر کو اس بڑی گھبراہٹ سے ﴿76﴾

    اور رکھا اس کی اولاد کو وہی باقی رہنے والے ﴿77﴾

    اور باقی رکھا اس پر پچھلے لوگوں میں ﴿78﴾

    کہ سلام ہے نوح پر سارے جہان والوں میں ﴿79﴾

    ہم یوں بدلا دیتے ہیں نیکی والوں کو ﴿80﴾

    وہ ہے ہمارے ایماندار بندوں میں ﴿81﴾

    پھر ڈوبا دیا ہم نے دوسروں کو [۴۵] ﴿82﴾

    اور اسی کی راہ والوں میں ہے ابراہیم [۴۶] ﴿83﴾

    جب آیا اپنے رب کے پاس لیکر دل نروگا [۴۷] ﴿84﴾

    جب کہا اپنے باپ کو اور اسکی قوم کو تم کیا پوجتے ہو ﴿85﴾

    کیا جھوٹ بنائے ہوئے حاکموں کو اللہ کے سوائے چاہتے ہو [۴۸] ﴿86﴾

    پھر کیا خیال کیا ہے تم نے پروردگار عالم کو [۴۹] ﴿87﴾

    پھر نگاہ کی ایک بار تاروں میں ﴿88﴾

    پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں ﴿89﴾

    پھر پھر گئے وہ اس سے پیٹھ دے کر ﴿90﴾

    پھر جا گھسا ان کے بتوں میں پھر بولا تم کیوں نہیں کھاتے [۵۰] ﴿91﴾

    تم کو کیا ہے کہ نہیں بولتے [۵۱] ﴿92﴾

    پھر گھسا ان پر مارتا ہوا داہنے ہاتھ سے [۵۲] ﴿93﴾

    پھر لوگ آئے اس پر دوڑ کر گھبراتے ہوئے [۵۳] ﴿94﴾

    بولا کیوں پوجتے ہو جو آپ تراشتے ہو ﴿95﴾

    اور اللہ نے بنایا تم کو اور جو تم بناتے ہو [۵۴] ﴿96﴾

    بولے بناؤ اس کے واسطے ایک عمارت پھر ڈالو اس کو آگ کے ڈھیر میں ﴿97﴾

    پھر چاہنے لگے اس پر برا داؤ کرنا پھر ہم نے ڈالا انہی کو نیچے [۵۵] ﴿98﴾

    اور بولا میں جاتا ہوں اپنے رب کی طرف وہ مجھ کو راہ دے گا [۵۶] ﴿99﴾

    اے رب بخش مجھ کو کوئی نیک بیٹا [۵۷] ﴿100﴾

    پھر خوشخبری دی ہم نے اسکو ایک لڑکے کی جو ہو گا تحمل والا [۵۸] ﴿101﴾

    پھر جب پہنچا اس کے ساتھ دوڑنے کو کہا اے بیٹے میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ تجھ کو ذبح کرتا ہوں پھر دیکھ تو تو کیا دیکھتا ہے بولا اے باپ کر ڈال جو تجھ کو حکم ہوتا ہے تو مجھکو کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والا [۵۹] ﴿102﴾

    پھر جب دونوں نے حکم مانا اور پچھایا اسکو ماتھے کے بل [۶۰] ﴿103﴾

    اور ہم نے اس کو پکارا یوں کہ اے ابراہیم ﴿104﴾

    تو نے سچ کر دکھایا خواب [۶۱] ہم یوں دیتے ہیں بدلا نیکی کرنے والوں کو ﴿105﴾

    بیشک یہی ہے صریح جانچنا [۶۲] ﴿106﴾

    اور اس کا بدلہ دیا ہم نے ایک جانور ذبح کرنے کے واسطے بڑا [۶۳] ﴿107﴾

    اور باقی رکھا ہم نے اس پر پچھلے لوگوں میں ﴿108﴾

    کہ سلام ہو ابراہیم پر [۶۴] ﴿109﴾

    ہم یوں دیتے ہیں بدلا نیکی کرنے والوں کو ﴿110﴾

    وہ ہے ہمارے ایماندار بندوں میں [۶۵] ﴿111﴾

    اور خوشخبری دی ہم نے اسکو اسحٰق کی جو نبی ہو گا نیک بختوں میں [۶۶] ﴿112﴾

    اور برکت دی ہم نے اس پر اسحٰق پر اور دونوں کی اولاد میں نیکی والے ہیں اور بدکار بھی ہیں اپنے حق میں صریح [۶۷] ﴿113﴾

    اور ہم نے احسان کیا موسٰی اور ہارون پر ﴿114﴾

    اور بچا دیا ہم نے انکو اور ان کی قوم کو اس بڑی گھبراہٹ سے [۶۸] ﴿115﴾

    اور انکی ہم نے مدد کی تو رہے وہی غالب [۶۹] ﴿116﴾

    اور ہم نے دی انکو کتاب واضح [۷۰] ﴿117﴾

    اور سجھائی انکو سیدھی راہ [۷۱] ﴿118﴾

    اور باقی رکھا ان پر پچھلے لوگوں میں کہ ﴿119﴾

    سلام ہے موسٰی اور ہارون پر ﴿120﴾

    ہم یوں دیتے ہیں بدلا نیکی کرنے والوں کو ﴿121﴾

    تحقیق وہ دونوں ہیں ہمارے ایماندار بندوں میں [۷۲] ﴿122﴾

    اور تحقیق الیاس ہے رسولوں میں ﴿123﴾

    جب اس نے کہا اپنی قوم کو کیا تم کو ڈر نہیں ﴿124﴾

    کیا تم پکارتے ہو بعل کو اور چھوڑتے ہو بہتر بنانے والے کو [۷۳] ﴿125﴾

    جو اللہ ہے رب تمہارا اور رب تمہارے اگلے باپ دادوں کا [۷۴] ﴿126﴾

    پھر اس کو جھٹلایا سو وہ آنے والے ہیں پکڑے ہوئے [۷۵] ﴿127﴾

    مگر جو بندے ہیں اللہ کے چنے ہوئے [۷۶] ﴿128﴾

    اور باقی رکھا ہم نے اس پر پچھلے لوگوں میں ﴿129﴾

    کہ سلام ہے الیاس پر [۷۷] ﴿130﴾

    ہم یوں دیتے ہیں بدلا نیکی کرنے والوں کو ﴿131﴾

    وہ ہے ہمارے ایماندار بندوں میں ﴿132﴾

    اور تحقیق لوط ہے رسولوں میں سے ﴿133﴾

    جب بچا دیا ہم نے اسکو اور اسکے سارے گھر والوں کو ﴿134﴾

    مگر ایک بڑھیا کہ رہ گئ رہ جانے والوں میں [۷۸] ﴿135﴾

    پھر جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہم نے دوسروں کو [۷۹] ﴿136﴾

    اور تم گذرتے ہو ان پر صبح کے وقت ﴿137﴾

    اور رات بھی پھر کیا نہیں سمجھتے [۸۰] ﴿138﴾

    اور تحقیق یونس ہے رسولوں میں سے ﴿139﴾

    جب بھاگ کر پہنچا اس بھری کشتی پر ﴿140﴾

    قرعہ ڈلوایا تو نکلا خطاوار [۸۱] ﴿141﴾

    پھر لقمہ کیا اس کو مچھلی نے اور وہ الزام کھایا ہوا تھا [۸۲] ﴿142﴾

    پھر اگر نہ ہوتی یہ بات کہ وہ یاد کرتا تھا پاک ذات کو ﴿143﴾

    تو رہتا اسی کے پیٹ میں جس دن تک مردے زندہ ہوں [۸۳] ﴿144﴾

    پھر ڈال دیا ہم نے اس کو چٹیل میدان میں اور وہ بیمار تھا ﴿145﴾

    اور اگایا ہم نے اس پر ایک درخت بیل والا [۸۴] ﴿146﴾

    اور بھیجا اس کو لاکھ آدمیوں پر یا اس سے زیادہ [۸۵] ﴿147﴾

    پھر وہ یقین لائے پھر ہم نے فائدہ اٹھانے دیا انکو ایک وقت تک [۸۶] ﴿148﴾

    اب ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے یہاں بیٹیاں ہیں اور انکے یہاں بیٹے ﴿149﴾

    یا ہم نے بنایا فرشتوں کو عورت اور وہ دیکھتے تھے ﴿150﴾

    سنتا ہے وہ اپنا جھوٹ بنایا کہتے ہیں کہ ﴿151﴾

    اللہ کے اولاد ہوئی اور وہ بیشک جھوٹے ہیں [۸۷] ﴿152﴾

    کیا اس نے پسند کیں بیٹیاں بیٹوں سے ﴿153﴾

    کیا ہو گیا ہے تم کو کیسا انصاف کرتے ہو ﴿154﴾

    کیا تم دھیان نہیں کرتے ہو [۸۸] ﴿155﴾

    یا تمہارے پاس کوئی سند ہے کھلی ﴿156﴾

    تو لاؤ اپنی کتاب اگر ہو تم سچے [۸۹] ﴿157﴾

    اور ٹھہرایا انہوں نے خدا میں اور جنوں میں ناتاا ور جنوں کو تو معلوم ہے کہ تحقیق و پکڑے ہوئے آئیں گے ﴿158﴾

    اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بتاتے ہیں [۹۰] ﴿159﴾

    مگر جو بندے ہیں اللہ کے چنے ہوئے [۹۱] ﴿160﴾

    سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو ﴿161﴾

    کسی کو اس کے ہاتھ سے بہکا کر نہیں لے سکتے ﴿162﴾

    مگر اسی کو جو پہنچے والا ہے دوزخ میں [۹۲] ﴿163﴾

    اور ہم میں جو ہے اس کا یک ٹھکانا ہے مقرر [۹۳] ﴿164﴾

    اور ہم ہی ہیں صف باندھنے والے [۹۴] ﴿165﴾

    اور ہم ہی ہیں پاکی بیان کرنے والے [۹۵] ﴿166﴾

    اور یہ تو کہا کرتے تھے ﴿167﴾

    اگر ہمارے پاس کچھ احوال ہوتا پہلے لوگوں کا ﴿168﴾

    تو ہم ہوتے بندے اللہ کے چنے ہوئے ﴿169﴾

    سو اس سے منکر ہو گئے اب آگے جان لیں گے [۹۶] ﴿170﴾

    اور پہلے ہو چکا ہمارا حکم اپنے بندوں کے حق میں جو کہ رسول ہیں ﴿171﴾

    بیشک انہی کو مدد دیجاتی ہے ﴿172﴾

    اور ہمارا لشکر جو ہے بیشک وہی کے غالب ہے[۹۷] ﴿173﴾

    سو تو ان سے پھر آ ایک وقت تک ﴿174﴾

    اور انکو دیکھتا رہ کہ وہ آگے دیکھ لیں گے [۹۸] ﴿175﴾

    کیا ہماری آفت کو جلد مانگتے ہیں ﴿176﴾

    پھر جب اترے گی ان کے میدان میں تو بری صبح ہو گی ڈرائے ہوؤں کی [۹۹] ﴿177﴾

    اور پھر آ ان سے ایک وقت تک ﴿178﴾

    اور دیکھتا رہ اب آگے دیکھ لیں گے [۱۰۰] ﴿179﴾

    پاک ذات ہے تیرے رب کی وہ پروردگار عزت والا پاک ہے ان باتوں سے جو بیان کرتےہیں ﴿180﴾

    اور سلام ہے رسولوں پر ﴿181﴾

    اور سب خوبی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا [۱۰۱] ﴿182﴾

    Surah 38
    ص

    ص۔قسم ہے اُس قرآن سمجھانے والے کی ﴿1﴾

    بلکہ جو لوگ منکر ہیں غرور میں ہیں اور مقابلہ میں [۱] ﴿2﴾

    بہت غارت کر دیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں پھر لگے پکارنے اور وقت نہ رہا تھا خلاصی کا [۲] ﴿3﴾

    اور تعجب کرنے لگے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے اور کہنے لگے منکر یہ جادوگر ہے جھوٹا [۳] ﴿4﴾

    کیا اس نے کر دی اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی کی بندگی یہ بھی ہے بڑے تعجب کی بات ﴿5﴾

    اور چل کھڑےہوئے کئ پنچ ان میں سے کہ چلو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر [۴] بیشک اس بات میں کوئی غرض ہے [۵] ﴿6﴾

    یہ نہیں سنا ہم نے اس پچھلے دین میں اور کچھ نہیں یہ بنائی ہوئی بات ہے [۶] ﴿7﴾

    کیا اسی پر اتری نصیحت ہم سب میں سے [۷] کوئی نہیں ان کو دھوکا ہے میری نصیحت میں کوئی نہیں ابھی انہوں نے چکھی نہیں میری مار [۸] ﴿8﴾

    کیا ان کے پا س ہیں خزانے تیرے رب کی مہربانی کے جو کہ زبردست ہے بخشنے والا ﴿9﴾

    یا ان کی حکومت ہے آسمانوں میں اور زمین میں اورجو کچھ ان کے بیچ میں ہے تو انکو چاہئے کہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر [۹] ﴿10﴾

    ایک لشکر یہ بھی وہاں تباہ ہوا ان سب لشکروں میں [۱۰] ﴿11﴾

    جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور فرعون میخوں والا [۱۱] ﴿12﴾

    اور ثمود اور لوط کی قوم اور ایکہ کے لوگ [۱۲] وہ بڑی بڑی فوجیں ﴿13﴾

    یہ جتنے تھے سب نے یہی کیاکہ جھٹلایا رسولوں کو پھر ثابت ہوئی میرے طرف سے سزا [۱۳] ﴿14﴾

    اور راہ نہیں دیکھتے یہ لوگ مگر ایک چنگھاڑ کی جو بیچ میں دم نہ لے گی [۱۴] ﴿15﴾

    اور کہتے ہیں اے رب جلد دے ہم کو چھٹی ہماری پہلے حساب کے دن سے [۱۵] ﴿16﴾

    تو تحمل کرتا رہ اس پر جو وہ کہتے ہیں اور یاد کر ہمارے بندے داؤد قوت والے کو وہ تھا رجوع رہنے والا [۱۶] ﴿17﴾

    ہم نے تابع کیے پہاڑ اس کےساتھ پاکی بولتے تھے شام کو اور صبح کو [۱۷] ﴿18﴾

    اور اڑتے جانور جمع ہو کر سب تھے اس کے آگے رجوع رہتے [۱۸] ﴿19﴾

    اور قوت دی ہم نے اسکی سلطنت کو [۱۹] اور دی اس کو تدبیر اور فیصلہ کرنا بات کا [۲۰] ﴿20﴾

    اور پہنچی ہے تجھ کو خبر دعوے والوں کی جب دیوار کود کر آئے عبادت خانہ میں ﴿21﴾

    جب گھس آئے داؤد کے پاس تو ان سے گھبرایا [۲۱] وہ بولے مت گھبرا ہم دو جھگڑتے ہیں زیادتی کی ہے ایک نے دوسرے پر سو فیصلہ کر دے ہم میں انصاف کا اور دور نہ ڈال بات کو اور بتلا دے ہم کو سیدھی راہ [۲۲] ﴿22﴾

    یہ جو ہے بھائی ہے میرا اس کے یہاں ہیں نِنّانوے دنبیاں اور میرے یہاں ہیں ایک دنبی پھر کہتا ہے حوالہ کر دے میرے وہ بھی اور زبردستی کرتا ہے مجھ سے بات میں [۲۳] ﴿23﴾

    بولا وہ بے انصافی کرتا ہے تجھ پر کہ مانگتا ہے تیری دنبی ملانے کو اپنی دنبیوں میں [۲۴] اور اکثر شریک زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر مگر جو یقین لائے ہیں اور کام کئے نیک اور تھوڑے لوگ ہیں ایسے [۲۵] اور خیال میں آیا داؤد کے کہ ہم نے اس کو جانچا پھر گناہ بخشوانے لگا اپنے رب سے اور گر پڑا جھک کر اور رجوع ہوا ﴿24﴾

    پھر ہم نے معاف کر دیا اسکو وہ کام [۲۶] اور اس کے لیے ہمارے پاس مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانہ [۲۷] ﴿25﴾

    اے داؤد ہم نے کیا تجھ کو نائب ملک میں سو تو حکومت کر لوگوں میں انصاف سے اور نہ چل جی کی خواہش پر پھر وہ تجھ کو بچلا دے اللہ کی راہ سے مقرر جو لوگ بچلتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کے لئے سخت عذاب ہے [۲۸] اسی بات پر کہ بھلایا انہوں نے دن حساب کا [۲۹] ﴿26﴾

    اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو ان کے بیچ میں ہے نکما یہ خیال ہے ان کا جو منکر ہیں سو خرابی ہے منکروں کے لیے آگ سے [۳۰] ﴿27﴾

    کیا ہم کر دیں گے ایمان والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں برابر ان کے جو خرابی ڈالیں ملک میں کیا ہم کر دیں گے ڈرنے والوں کو برابر ڈھیٹھ لوگوں کے [۳۱] ﴿28﴾

    ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تا دھیان کریں لوگ اسکی باتیں اور تا سمجھیں عقل والے [۳۲] ﴿29﴾

    اور دیا ہم نے داؤد وکو سلیمان [۳۳] بہت خوب بندہ وہ ہے از رجوع رہنے والا ﴿30﴾

    جب دکھانے کو لائے اسکے سامنے شام کو گھوڑے بہت خاصے ﴿31﴾

    تو بولا میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ سورج چھپ گیا اوٹ میں ﴿32﴾

    پھیر لاؤ ان کو میرے پاس پھر لگا جھاڑنے انکی پنڈلیاں اور گردنیں [۳۴] ﴿33﴾

    اور ہم نے جانچا سلیمان کو اور ڈال دیا اس کے تخت پر ایک دھڑ پھر وہ رجوع ہوا [۳۵] ﴿34﴾

    بولا اے رب میرے معاف کر مجھ کو اور بخش مجھ کو وہ بادشاہی کہ مناسب نہ ہو کسی کو میرے پیچھے بیشک تو ہے سب کچھ بخشنے والا [۳۶] ﴿35﴾

    پھر ہم نے تابع کر دیا اسکے ہوا کو چلتی تھی اس کے حکم سے نرم نرم جہاں پہنچنا چاہتا ﴿36﴾

    اور تابع کر دیے شیطان سارے عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے [۳۷] ﴿37﴾

    بہت سے اور جو باہم جکڑے ہوئے ہیں بیڑیوں میں [۳۸] ﴿38﴾

    یہ ہے بخشش ہماری اب تو احسان کریا رکھ چھوڑ کچھ حساب نہ ہوگا [۳۹] ﴿39﴾

    اور س کا ہمارے یہاں مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانہ [۴۰] ﴿40﴾

    اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو جب اس نے پکارا اپنے رب کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذ اور تکلیف [۴۱] ﴿41﴾

    لات مار اپنے پاؤں سے یہ چشمہ نکلا نہانے کو اور ٹھنڈا اور پینے کو ﴿42﴾

    اور بخشے ہم نے اسکو اسکے گھر والے اور ان کے برابر ان کے ساتھ اپنی طرف کی مہربانی سے اور یاد رکھنے کو عقل والوں کے [۴۲] ﴿43﴾

    اور پکڑ اپنے ہاتھ میں سیلنکوں کا مٹھا پھر اس سے مار لے اور قسم میں جھوٹا نہ ہو [۴۳] ہم نے اس کو پایا جھیلنے والا بہت خوب بندہ تحقیق وہ ہے رجوع رہنے والا ﴿44﴾

    اور یاد کر ہمارے بندوں کو ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب ہاتھوں والے اور آنکھوں والے [۴۴] ﴿45﴾

    ہم نے امتیاز دیا انکو ایک چنی ہوئی بات کا وہ یاد اس گھر کی [۴۵] ﴿46﴾

    اور وہ سب ہمارے نزدیک ہیں چنے ہوئے نیک لوگوں میں ﴿47﴾

    اور یاد کر اسمٰعیل کو اور الیسع کو اور ذوالکفل کو اور ہر ایک تھا خوبی والا [۴۶] ﴿48﴾

    یہ ایک مذکور ہو چکا [۴۷] اور تحقیق ڈر والوں کے لیے ہے اچھا ٹھکانا ﴿49﴾

    باغ ہیں سدا بسنے کے کھول رکھے ہیں انکے واسطے دروازے [۴۸] ﴿50﴾

    تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہیں ان میں میوے بہت اور شراب [۴۹] ﴿51﴾

    اور ان کے پاس عورتیں ہیں نیچی نگاہ والیاں ایک عمر کی [۵۰] ﴿52﴾

    یہ وہ ہے جو تم سے وعدہ کیا گیا حساب کے دن پر ﴿53﴾

    یہ ہی روزی ہماری دی ہوئی اسکو نہیں نبڑنا [۵۱] ﴿54﴾

    یہ سن چکے [۵۲] اور تحقیق شریروں کے واسطے ہے برا ٹھکانہ ﴿55﴾

    دوزخ ہے جس میں انکو ڈالیں گے سو کیا بری آرام کرنے کی جگہ ہے ﴿56﴾

    یہ ہے اب اسکو چکھیں [۵۳] گرم پانی اور پیپ [۵۴] ﴿57﴾

    اور کچھ اور اسی شکل کی طرح طرح کی چیزیں ﴿58﴾

    یہ ایک فوج ہے دھستی آ رہی ہے تمہارے ساتھ جگہ نہ ملیو ان کو یہ ہیں گھسنے والے آگ میں ﴿59﴾

    وہ بولے بلکہ تم ہی ہو کہ جگہ نہ ملیو تم کو تم ہی پیش لائے ہمارے یہ بلا سو کیا بری ٹھہرنے کی جگہ ہے [۵۵] ﴿60﴾

    وہ بولے اے رب ہمارے جو کوئی لایا ہمارے پیش یہ سو بڑھا دے اسکو دونا عذاب آگ میں [۵۶] ﴿61﴾

    اور کہیں گے کیا ہوا کہ ہم نہیں دیکھتے ان مردوں کو کہ ہم ان کو شمار کرتے تھے برے لوگوں میں ﴿62﴾

    کیا ہم نے انکو ٹھٹھے میں پکڑا تھا یا چوک گئیں ان سے ہماری آنکھیں [۵۷] ﴿63﴾

    یہ بات ٹھیک ہونی ہے جھگڑا کرنا آپس میں دوزخیوں کا [۵۸] ﴿64﴾

    تو کہہ میں تو یہی ہوں ڈر سنا دینے والا حاکم کوئی نہیں مگر اللہ اکیلا دباؤ والا ﴿65﴾

    رب آسمانون کا اور زمین کا اور جو انکے بیچ میں زبردست بخشنے والا [۵۹] ﴿66﴾

    تو کہہ یہ ایک بڑی خبر ہے ﴿67﴾

    کہ تم اس کو دھیان میں نہیں لاتے [۶۰] ﴿68﴾

    مجھ کو کچھ خبر نہ تھی او پر کی مجلس کی جب وہ آپس میں تکرار کرتے ہیں ﴿69﴾

    مجھ کو تو یہی حکم آتا ہے کہ اور کچھ نہیں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر [۶۱] ﴿70﴾

    جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا [۶۲] ﴿71﴾

    پھر جب ٹھیک بنا چکوں اور پھونکوں اس میں ایک اپنی جان [۶۳] تو تم گرِ پڑو اسکے آگے سجدہ میں ﴿72﴾

    پھر سجدہ کیا فرشتوں نے سب نے اکھٹے ہو کر ﴿73﴾

    مگر ابلیس نے [۶۴] غرور کیا اور تھا وہ منکروں میں [۶۵] ﴿74﴾

    فرمایا اے ابلیس کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے [۶۶] یہ تو نے غرور کیا یا تو بڑا تھا درجہ میں [۶۷] ﴿75﴾

    بولا میں بہتر ہوں اس سے مجھ کو بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے [۶۸] ﴿76﴾

    فرمایا تو تو نکل یہاں سے کہ تو مردود ہوا [۶۹] ﴿77﴾

    اور تجھ پر میری پھٹکار ہے اس جزا کے دن تک [۷۰] ﴿78﴾

    بولا اے رب مجھ کو ڈھیل دے جس دن تک کہ مردے جی اٹھیں [۷۱] ﴿79﴾

    فرمایا تو تجھ کو ڈھیل ہے ﴿80﴾

    اسی وقت کے دن تک جو معلوم ہے [۷۲] ﴿81﴾

    بولا تو قسم ہے تیری عزت کی میں گمراہ کروں گا ان سب کو ﴿82﴾

    مگر جو بندے ہیں تیرے ان میں چنے ہوئے ﴿83﴾

    فرمایا تو ٹھیک بات یہ ہے اور میں ٹھیک ہی کہتا ہوں [۷۳] ﴿84﴾

    مجھ کو بھرنا ہے دوزخ تجھ سے اور جو ان میں تیری راہ چلے ان سب سے ﴿85﴾

    تو کہہ میں مانگتا نہیں تم سے اس پر کچھ بدلا اور میں نہیں اپنے آپ کو بنانے والا ﴿86﴾

    یہ تو ایک فہمائش ہے سارے جہان والوں کو ﴿87﴾

    اور معلوم کر لو گے اس کا احوال تھوڑی دیر کے پیچھے [۷۴] ﴿88﴾

    Surah 39
    الزمر

    اتارنا ہے کتاب کا اللہ سے جو زبردست ہے حکمتوں والا [۱] ﴿1﴾

    میں نے اتاری ہے تیری طرف کتاب ٹھیک ٹھیک سو بندگی کر اللہ کی خالص کر کر اس کے واسطے بندگی ﴿2﴾

    سنتا ہے اللہ ہی کیلئے ہے بندگی خالص [۲] اور جنہوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے حمایتی کہ ہم تو ان کو پوجتے ہیں اس واسطے کہ ہم کو پہنچا دیں اللہ کی طرف قریب کے درجہ میں بیشک اللہ فیصلہ کر دے گا ان میں جس چیز میں وہ جھگڑ رہے ہیں [۳] البتہ اللہ راہ نہیں دیتا اسکو جو ہو جھوٹا حق نہ ماننے والا [۴] ﴿3﴾

    اگر اللہ چاہتا کہ اولاد کر لے تو چن لیتا اپنی خلق میں جو کچھ چاہتا وہ پاک ہے [۵] وہی ہے اللہ اکیلا دباؤ والا [۶] ﴿4﴾

    بنائے آسمان اور زمین ٹھیک لپیٹتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹتا ہے دن کو رات پر [۷] اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے ایک ٹھہری ہوئی مدت پر سنتا ہے وہی ہے زبردست گناہ بخشنے والا[۸] ﴿5﴾

    بنایا تم کو ایک جی سے پھر بنایا اس سے اس کا جوڑ ا [۹] اور اتارے تمہارے واسطے چوپاؤں سے آٹھ نر مادہ [۱۰] بناتا ہے تم کو ماں کے پیٹ میں ایک طرح پر دوسری طرح کے پیچھے [۱۱] تین اندھیروں کے بیچ [۱۲] وہ اللہ ہے رب تمہارا اسی کا راج ہے کسی کی بندگی نہیں اسکےسوائے پھر کہاں سے پھرے جاتے ہو [۱۳] ﴿6﴾

    اگر تم منکر ہو گے تو اللہ پروا نہیں رکھتا تمہاری اور پسند نہیں کرتا اپنے بندوں کا منکر ہونا [۱۴] اور اگر اس کا حق مانو گے تو اسکو تمہارے لئے پسند کرے گا [۱۵] اور نہ اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا [۱۶] پھر اپنے رب کی طرف تم کو جانا ہے تو وہ جتلائے گا تم کو جو تم کرتے تھے مقرر اسکو خبر ہے دلوں کی بات کی [۱۷] ﴿7﴾

    اور جب آ لگے انسان کو سختی پکارے اپنے رب کو رجوع ہو کر اسکی طرف پھر جب بخشے اسکو نعمت اپنی طرف سے بھول جائے اس کو کہ جس کے لئے پکار رہا تھا پہلے سے اور ٹھہرائے اللہ کی برابر اوروں کو تاکہ بہکائے اسکی راہ سے [۱۸] تو کہہ برت لے ساتھ اپنے کفر کے تھوڑے دنوں تو ہے دوزخ والوں میں [۱۹] ﴿8﴾

    بھلا ایک جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہو اخطرہ رکھتا ہے آخرت کا اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی تو کہہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ والے اور بے سمجھ سوچتے وہی ہیں جن کو عقل ہے [۲۰] ﴿9﴾

    تو کہہ اے بندو میرے [۲۱] جو یقین لائے ہو ڈرو اپنے رب سے جنہوں نے نیکی کی اس دنیا میں انکے لئے ہی ہے بھلائی [۲۲] اور زمین اللہ کی کشادہ ہے صبر کرنے والوں ہی کو ملتا ہے ان کا ثواب بے شمار [۲۳] ﴿10﴾

    تو کہہ مجھ کو حکم ہے کہ بندگی کروں اللہ کی خالص کر کر اسکے لئے بندگی ﴿11﴾

    اور حکم ہے کہ میں ہوں سب سے پہلے حکم بردار [۲۴] ﴿12﴾

    تو کہہ میں ڈرتا ہوں اگر حکم نہ مانوں اپنے رب کا ایک بڑے دن کے عذاب سے [۲۵] ﴿13﴾

    تو کہہ میں تو اللہ کو پوجتا ہوں خالص کر کر اپنی بندگی اس کے واسطے ﴿14﴾

    اب تم پوجو جس کو چاہو اسکے سوائے [۲۶] تو کہہ بڑے ہارنے والے وہ جو ہار بیٹھے اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن سنتا ہے یہی ہے صریح ٹوٹا [۲۷] ﴿15﴾

    ان کے واسطے اوپر سے بادل ہیں آگ کے اور نیچے سے بادل [۲۸] اس چیز سے ڈراتا ہے اللہ اپنے بندوں کو اے بندو میرے تو مجھ سے ڈرو [۲۹] ﴿16﴾

    اور جو لوگ بچے شیطانوں سے کہ انکو پوجیں اور رجوع ہوئے اللہ کی طرف انکے لئے ہے خوشخبری [۳۰] سو تو خوشی سنا دے میرے بندوں کو ﴿17﴾

    جو سنتے ہیں بات پھر چلتے ہیں اس پر جو اس میں نیک ہے [۳۱] وہی ہیں جن کو رستہ دیا اللہ نے اور وہی ہیں عقل والے [۳۲] ﴿18﴾

    بھلا جس پر ٹھیک ہو چکا عذاب کا حکم بھلا تو خلاص کر سکے گا اسکو جو آگ میں پڑ چکا [۳۳] ﴿19﴾

    لیکن جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے ان کے واسطے ہیں جھروکے ان کے اوپر اور جھروکے چنے ہوئے [۳۴] اور انکے نیچے بہتی ہیں ندیاں وعدہ ہو چکا اللہ کا اللہ نہیں خلاف کرتا اپنا وعدہ ﴿20﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلا دیا وہ پانی چشموں میں زمین کے [۳۵] پھر نکالتا ہے اس سے کھیتی کئ کئ رنگ بدلتی اس پر [۳۶] پھر آئے تیاری پر تو تو دیکھے اس کا رنگ زرد پھر کر ڈالتا ہے اسکو چورا چورا بیشک اس میں نصیحت ہے عقلمندوں کے واسطے [۳۷] ﴿21﴾

    بھلا جس کا سینہ کھول دیا اللہ نے دین اسلام کے واسطے سو وہ روشنی میں ہے اپنے رب کی طرف سے سو خرابی ہے انکو جن کے دل سخت ہیں اللہ کی یاد سے وہ پڑے پھرتے ہیں بھٹکتے صریح [۳۸] ﴿22﴾

    اللہ نے اتاری بہتر بات کتاب کی [۳۹] آپس میں ملتی دہرائی ہوئی [۴۰] بال کھڑے ہوئے ہیں اس سے کھال پر ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے پھر نرم ہوتی ہیں ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد پر [۴۱] یہ ہے راہ دینا اللہ کا اس طرح راہ دیتا ہے جس کو چاہے اور جس کو راہ بھلائے اللہ اسکو کوئی نہیں سجھانے والا [۴۲] ﴿23﴾

    بھلا ایک وہ جو روکتا ہے اپنے منہ پر عذاب دن قیامت کے اور کہے گا بے انصافوں کو چکھو جو تم کماتے تھے [۴۳] ﴿24﴾

    جھٹلا چکے ہیں ان سے اگلے پھر پہنچا ان پر عذاب ایسی جگہ سے کہ انکو خیال بھی نہ تھا۔ ﴿25﴾

    پھر چکھائی انکو اللہ نے رسوائی دنیا کی زندگی میں اور عذاب آخرت کا تو بہت ہی بڑا ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی [۴۴] ﴿26﴾

    اور ہم نے بیان کی لوگوں کے واسطے اس قرآن میں سب چیز کی مثل تاکہ وہ دھیان کریں ﴿27﴾

    قرآن ہے عربی زبان کا جس میں کجی نہیں تاکہ وہ بچ کر چلیں [۴۵] ﴿28﴾

    اللہ نے بتلائی ایک مثل ایک مرد ہے کہ اس میں شریک ہیں کئ ضدی اور ایک مرد ہے پورا ایک شخص کا کیا برابر ہوتی ہیں دونوں مثل [۴۶] سب خوبی اللہ کے لئے ہے پر وہ بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے [۴۷] ﴿29﴾

    بیشک تو بھی مرتا ہے اور وہ بھی مرتے ہیں ﴿30﴾

    پھر مقرر تم قیامت کے دن اپنے رب کے آگے جھگڑو گے [۴۸] ﴿31﴾

    پھر اس سے زیادہ ظالم کون جس نے جھوٹ بولا اللہ پر اور جھٹلایا سچی بات کو جب پہنچی اس کے پاس کیا نہیں دوزخ میں ٹھکانہ منکروں کا [۴۹] ﴿32﴾

    اور جو لے کر آیا سچی بات اور سچ مانا جس نے اسکو وہی لوگ ہیں ڈر والے [۵۰] ﴿33﴾

    ان کے لئے ہے جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس یہ ہے بدلا نیکی والوں کا ﴿34﴾

    تاکہ اتار دے اللہ ان پر سے برے کام جو انہوں نے کئے تھے اور بدلہ میں دے ان کو ثواب بہتر کاموں کا جو وہ کرتے تھے [۵۱] ﴿35﴾

    کیا اللہ بس نہں اپنے بندہ کو اور تجھ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے سوائے ہیں اور جسکو راہ بھلائے اللہ تو کوئی نہیں اسکو راہ دینے والا ﴿36﴾

    اور جسکو راہ سجھائے اللہ تو کوئی نہیں اسکو بھلانے والا کیا نہیں ہے اللہ زبردست بدلہ لینے والا [۵۲] ﴿37﴾

    اور جو تو ان سے پوچھے کس نے بنائے آسمان اور زمین تو کہیں اللہ نے تو کہہ بھلا دیکھو تو جن کو پوجتے ہو اللہ کے سوائے اگر چاہے اللہ مجھ پر کچھ تکلیف تو وہ ایسے ہیں کہ کھول دیں تکلیف اسکی ڈالی ہوئی یا وہ چاہے مجھ پر مہربانی تو وہ ایسے ہیں کہ روک دیں اسکی مہربانی کو تو کہہ مجھ کو بس ہے اللہ اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں بھروسہ رکھنے والے [۵۳] ﴿38﴾

    تو کہہ اے قوم کام کئے جاؤ اپنی جگہ پر میں بھی کام کرتا ہوں اب آگے جان لو گے ﴿39﴾

    کس پر آتی ہے آفت کہ اس کو رسوا کرے اور اترتا ہے اس پر عذاب سدا رہنے والا [۵۴] ﴿40﴾

    ہم نے اتاری ہے تجھ پر کتاب لوگوں کے واسطے سچے دین کے ساتھ پھر جو کوئی راہ پر آیا سو اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا سو یہی بات ہے کہ بہکا اپنے برے کو اور تو ان کا ذمہ دار نہیں [۵۵] ﴿41﴾

    اللہ کھینچ لیتا ہے جانیں جب وقت ہو انکے مرنے کا اور جو نہیں مریں انکو کھینچ لیتا ہے انکی نیند میں پھر رکھ چھوڑتا ہے جن پر مرنا ٹھہرا دیا ہے بھیج دیتا ہے اوروں کو ایک وعدہ مقرر تک اس بات میں پتے ہیں ان لوگوں کو جو دھیان کریں [۵۶] ﴿42﴾

    کیا انہوں نے پکڑے ہیں اللہ کے سوائے کوئی سفارش والے [۵۷] تو کہہ اگرچہ ان کو اختیار نہ ہو کسی چیز کا اور نہ سمجھ [۵۸] ﴿43﴾

    تو کہہ اللہ کے اختیار میں ہے ساری سفارش اسی کا راج ہے آسمان اور زمین میں پھر اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے [۵۹] ﴿44﴾

    اور جب نام لیجئے خالص اللہ کا رک جاتے ہیں دل انکے جو یقین نہیں رکھتے پچھلے گھر کا اور جب نام لیجئے اس کے سوا اوروں کا تب وہ لگیں خوشیاں کرنے [۶۰] ﴿45﴾

    تو کہہ اے اللہ پیدا کرنے والے آسمانوں کے اور زمین کے جاننے والے چھپے اور کھلے کے تو ہی فیصلہ کرے اپنے بندوں میں جس چیز میں وہ جھگڑ رہے تھے [۶۱] ﴿46﴾

    اور اگر گنہگاروں کے پاس ہو جتنا کچھ کہ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اور اسکے ساتھ تو سب دے ڈالیں اپنے چھڑوانے میں بری طرح کے عذاب سے دن قیامت کے اور نظر آئے انکو اللہ کی طرف سے جو خیال بھی نہ رکھتے تھے ﴿47﴾

    اور نظر آئیں ان کو برے کام اپنے جو کماتے تھے اور الٹ پڑے ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے [۶۲] ﴿48﴾

    سو جب آ لگتی ہے آدمی کو کچھ تکلیف ہم کو پکارنے لگتا ہے [۶۳] پھر جب ہم بخشیں اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت کہتا ہے یہ تو مجھ کو ملی کہ پہلے سے معلوم تھی [۶۴] کوئی نہیں یہ جانچ ہے پر وہ بہت سے لوگ نہیں سمجھتے [۶۵] ﴿49﴾

    کہہ چکے ہیں یہ بات ان سے اگلے پھر کچھ کام نہ آیا انکو جو کماتے تھے ﴿50﴾

    پھر پڑ گئیں ان پربرائیاں جو کمائی تھیں [۶۶] اور جو گنہگار ہیں ان میں سے ان پر بھی اب پڑتی ہیں برائیاں جو کمائی ہیں اور وہ نہیں تھکانے والے [۶۷] ﴿51﴾

    اور کیا نہیں جان چکے کہ اللہ پھیلاتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اور ماپ کر دیتا ہے البتہ اس میں پتے ہیں ان لوگوں کے واسطے جو مانتے ہیں [۶۸] ﴿52﴾

    کہہ دے اے بندو میرے جنہوں نے کہ زیادتی کہ ہے اپنی جان پر آس مت توڑو اللہ کی مہربانی سے بیشک اللہ بخشتا ہے سب گناہ وہ جو ہے وہی ہے گناہ معاف کرنے والا مہربان [۶۹] ﴿53﴾

    اور رجوع ہو جاؤ اپنے رب کی طرف اور اسکی حکمبرداری کرو پہلے اس سے کہ آئے تم پر عذاب پھر کوئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا [۷۰] ﴿54﴾

    اور چلو بہتر بات پر جو اتری تمہاری طرف تمہارے رب سے پہلے اس سے کہ پہنچے تم پر عذاب اچانک اور تمکو خبر نہ ہو [۷۱] ﴿55﴾

    کہیں کہنے لگے کوئی جی اے افسوس اس بات پر کہ میں کوتاہی کرتا رہا اللہ کی طرف سے اور میں تو ہنستا ہی رہا [۷۲] ﴿56﴾

    یا کہنے لگے اگر اللہ مجھ کو راہ دکھاتا تو میں ہوتا ڈرنے والوں میں [۷۳] ﴿57﴾

    یا کہنے لگے جب دیکھے عذاب کو کسی طرح مجھ کو پھر جانا ملے تو میں ہو جاؤں نیکی والوں میں [۷۴] ﴿58﴾

    کیوں نہیں پہنچ چکے تھے تیرے پاس میرے حکم پھر تو نے انکو جھٹلایا اور غرور کیا اور تو تھا منکروں میں [۷۵] ﴿59﴾

    اور قیامت کے دن تو دیکھے انکو جو جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر کہ ان کے منہ ہوں سیاہ [۷۶] کیا نہیں دوزخ میں ٹھکانہ غرور والوں کا [۷۷] ﴿60﴾

    اور بچائے گا اللہ انکو جو ڈرتے رہے انکے بچاؤ کی جگہ نہ لگے انکو برائی اور نہ وہ غمگین ہوں [۷۸] ﴿61﴾

    اللہ بنانے والا ہے ہر چیز کا اور وہ ہرچیز کا ذمہ لیتا ہے ﴿62﴾

    اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی اور جو منکر ہوئے ہیں اللہ کی باتوں سے وہ لوگ جو ہیں وہی ہیں ٹوٹے میں پڑے [۷۹] ﴿63﴾

    تو کہہ اب اللہ کے سوائے کسی کو بتلاتے ہو کہ پوجوں اے نادانو [۸۰] ﴿64﴾

    اور حکم ہو چکا ہے تجھ کو اور تجھ سے اگلوں کو کہ اگر تو نے شریک مان لیا تو اکارت جائیں گے تیرے عمل اور تو ہو گا ٹوٹے میں پڑا ﴿65﴾

    نہیں بلکہ اللہ ہی کو پوج اور رہ حق ماننے والوں میں [۸۱] ﴿66﴾

    اور نہیں سمجھے اللہ کو جتنا کچھ وہ ہے [۸۲] اور زمین ساری ایک مٹھی ہے اسکی دن قیامت کے اور آسمان لپٹے ہوئے ہوں اسکے داہنے ہاتھ میں وہ پاک ہے اور بہت اوپر ہے اس سے کہ شریک بتلاتے ہیں [۸۳] ﴿67﴾

    اور پھونکا جائے صور میں پھر بیہوش ہو جائے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں مگر جس کو اللہ چاہے پھر پھونکی جائے دوسری بار تو فورًا وہ کھڑے ہو جائیں ہر طرف دیکھتے [۸۴] ﴿68﴾

    اور چمکے زمین اپنے رب کے نور سے اور لا دھریں دفتر اور حاضر آئیں پیغمبر اور گواہ اور فیصلہ ہو ان میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۸۵] ﴿69﴾

    اور پورا ملے ہر جی کو جو اس نے کیا [۸۶] اور اسکو خوب خبر ہے جو کچھ کرتے ہیں [۸۷] ﴿70﴾

    اور ہانکے جائیں جو منکر تھے دوزخ کی طرف گروہ گروہ [۸۸] یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں اس پر کھولے جائیں اسکے دروازے [۸۹] اور کہنے لگیں انکو اسکے داروغہ [۹۰] کیا نہ پہنچے تھے تمہارے پاس رسول تم میں کے [۹۱] پڑھتے تھے تم پرباتیں تمہارے رب کی اور ڈراتے تھے تم کو اس تمہارے دن کی ملاقات سے بولیں کیوں نہیں پر ثابت ہوا حکم عذاب کا منکروں پر [۹۲] ﴿71﴾

    حکم ہووے گا کہ داخل ہو جاؤ دروازوں میں دوزخ کے سدا رہنے کو اس میں سو کیا بری جگہ ہے رہنے کی غرور والوں کو [۹۳] ﴿72﴾

    اور ہانکے جائیں وہ لوگ جو ڈرتے رہے تھے اپنے رب سے جنت کو گروہ گروہ [۹۴] یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں اس پر اور کھولے جائیں اس کے دروازے اور کہنے لگیں ان کو داروغہ اس کے سلام پہنچے تم پر تم لوگ پاکیزہ ہو سو داخل ہو جاؤ اس میں سدا رہنے کو [۹۵] ﴿73﴾

    اور وہ بولیں شکر اللہ کا جس نے سچ کیا ہم سے اپنا وعدہ [۹۶] اور وارث کیا ہمکو اس زمین کا [۹۷] گھر لے لیویں بہشت میں سے جہاں چاہیں [۹۸] سو کیا خوب بدلا ہے محنت کرنے والوں کا ﴿74﴾

    اور تو دیکھے فرشتوں کو گھر رہے ہیں عرش کے گرد پاکی بولتے ہیں اپنے رب کی خوبیاں اور فیصلہ ہوتا ہے ان میں انصاف کا اور یہی بات کہتے ہیں کہ سب خوبی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا [۹۹] ﴿75﴾

    Surah 40
    المومن

    حٰم۔ ﴿1﴾

    اتارنا کتاب کا اللہ سے ہے جو زبردست ہے خبردار ﴿2﴾

    گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا [۱] سخت عذاب دینے والا مقدور والا [۲] کسی کی بندگی نہیں سوائے اسکے اسی کی طرف پھر جانا ہے [۳] ﴿3﴾

    وہی جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں جو منکر ہیں [۴] سو تجھ کو دھوکا نہ دے یہ بات کہ وہ چلتے پھرتے ہیں شہروں میں [۵] ﴿4﴾

    جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح کی اور کتنے فرقے ان سے پیچھے اور ارادہ کیا ہر امت نے اپنے رسول پر کہ اس کو پکڑ لیں اور لانے لگے جھوٹے جھگڑے کہ اس سے ڈگا دیں سچے دین کو پھر میں نے انکو پکڑ لیا کہو پھر کیسا ہوا میرا سزا دینا [۶] ﴿5﴾

    اور اسی طرح ٹھیک ہو چکی بات تیرے رب کی منکروں پر کہ یہ ہیں دوزخ والے [۷] ﴿6﴾

    جو لوگ اٹھا رہے ہیں عرش کو اور جو اس کے گرد ہیں پاکی بولتے ہیں اپنے رب کی خوبیاں اور اس پر یقین رکھتے ہیں اور گناہ بخشواتے ہیں ایمان والوں کے [۸] اے پروردگار ہمارے ہر چیز سمائی ہوئی ہے تیری بخشش اور خبر میں سو معاف کر انکو جو توبہ کریں اور چلیں تیری راہ پر اور بچا اُنکو آگ کے عذاب سے [۹] ﴿7﴾

    اے رب ہمارے اور داخل کر انکو سدا بسنے کے باغوں میں جنکا وعدہ کیا تو نے ان سے اور جو کوئی نیک ہو انکے باپوں میں اور عورتوں میں اور اولاد میں بیشک تو ہی ہے زبردست حکمت والا [۱۰] ﴿8﴾

    اور بچا انکو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے برائیوں سے اس دن اس پر مہربانی کی تو نے اور یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد پانی [۱۱] ﴿9﴾

    جو لوگ منکر ہیں انکو پکار کر کہیں گے اللہ بیزار ہوتا تھا زیادہ اس سے جو تم بیزار ہوئے ہو اپنے جی سے جس وقت تمکو بلاتے تھے یقین لانے کو پھر تم منکر ہوتے تھے [۱۲] ﴿10﴾

    بولیں گے اے رب ہمارے تو موت دے چکا ہم کو دوبار اور زندگی دے چکا دو بار [۱۳] اب ہم قائل ہوئے اپنے گناہوں کے [۱۴] پھر اب بھی ہے نکلنے کی کوئی راہ [۱۵] ﴿11﴾

    یہ تم پر اس واسطے ہے کہ جب کسی نے پکارا اللہ کو اکیلا تو تم منکر ہوتے اور جب اسکے ساتھ پکارتے شریک کو تو تم یقین لانے لگتے اب حکم وہی ہے جو کرے اللہ سب سے اوپر بڑا [۱۶] ﴿12﴾

    وہی ہے تم کو دکھلاتا اپنی نشانیاں اور اتارتا ہے تمہارے واسطے آسمان سے روزی اور سوچ وہی کرے جو رجوع رہتا ہو [۱۷] ﴿13﴾

    سو پکارو اللہ کو خالص کر کر اسکے واسطے بندگی اور پڑے برا مانیں منکر [۱۸] ﴿14﴾

    وہی ہے اونچے درجوں والا مالک عرش کا اتارتا ہے بھید کی بات اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں [۱۹] تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے [۲۰] ﴿15﴾

    جس دن وہ لوگ نکل کھڑے ہوں گے [۲۱] چھپی نہ رہے گی اللہ پر اُنکی کوئی چیز [۲۲] کس کا راج ہے اُس دن اللہ کا ہے جو اکیلا ہے دباؤ والا [۲۳] ﴿16﴾

    آج بدلا ملے گا ہر جی کو جیسا اس نے کمایا بالکل ظلم نہیں آج بیشک اللہ جلد لینے والا ہے حساب ﴿17﴾

    اور خبر سنا دے اُنکو اس نزدیک آنے والے دِن کی جس وقت دل پہنچیں گے گلوں کو تو وہ دبا رہے ہوں گے [۲۴] کوئی نہیں گنہگاروں کا دوست اور نہ سفارشی کہ جسکی بات مانی جائے [۲۵] ﴿18﴾

    وہ جانتا ہے چوری کی نگاہ اور جو کچھ چھپا ہوا ہے سینوں میں ﴿19﴾

    اور اللہ فیصلہ کرتا ہے انصاف سے [۲۶] اور جنکو پکارتے ہیں اُس کے سوائے نہیں فیصلہ کرتے کچھ بھی بیشک اللہ ہی وہی ہے سننے والا دیکھنے والا [۲۷] ﴿20﴾

    کیا وہ پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھتے انجام کیسا ہوا اُنکا جو تھے اُن سے پہلے وہ تھے اُن سے سخت زور میں اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے زمین میں [۲۸] پھر اُنکو پکڑا اللہ نے اُنکے گناہوں پر اور نہ ہوا اُنکو اللہ سے کوئی بچانے والا [۲۹] ﴿21﴾

    یہ اس لئے کہ اُن کے پاس آتے تھے اُن کے رسول کھلی نشانیاں لیکر پھر منکر ہو گئے تو اُن کو پکڑا اللہ نے بیشک وہ زورآور ہے سخت عذاب دینے والا [۳۰] ﴿22﴾

    اور ہم نے بھیجا موسٰی کو اپنی نشانیاں دیکر اور کھلی سند [۳۱] ﴿23﴾

    فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس [۳۲] پھر کہنے لگے یہ جادوگر ہے جھوٹا [۳۳] ﴿24﴾

    پھر جب پہنچا انکے پاس لیکر سچی بات ہمارے پاس سے بولے مار ڈالو بیٹے انکے جو یقین لائے ہیں اسکے ساتھ اور جیتی رکھو انکی عورتیں [۳۴] اور جو داؤ ہے منکروں کا سو غلطی میں [۳۵] ﴿25﴾

    اور بولا فرعون مجھکو چھوڑو کہ مار ڈالوں موسٰی کو اور پڑا پکارے اپنے رب کو [۳۶] میں ڈرتا ہوں کہ بگاڑ دے تمہارا دین یا پھیلائے ملک میں خرابی [۳۷] ﴿26﴾

    اور کہا موسٰی نے میں پناہ لے چکا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر غرور والے سے [۳۸] جو یقین نہ کرے حساب کے دن کا [۳۹] ﴿27﴾

    اور بولا ایک مرد ایماندار فرعون کے لوگوں میں جو چھپاتا تھا اپنا ایمان کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور لایا تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی اور اگر وہ جھوٹا ہو گا تو اس پر پڑے گا اس کا جھوٹ اور اگر وہ سچا ہو گا تو تم پر پڑے گا کوئی نہ کوئی وعدہ جو تم سے کرتا ہے [۴۰] بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسکو جو ہے بے لحاظ جھوٹا [۴۱] ﴿28﴾

    اے میری قوم تمہارا راج ہے چڑھ رہے ہو ملک میں پھرکون مدد کرے گا ہماری اللہ کی آفت سے اگر آ گئ ہم پر [۴۲] بولا فرعون میں تو وہی بات سمجھاتا ہوں تمکو جو سوجھی مجھکو اور وہی راہ بتلاتا ہوں جس میں بھلائی ہے [۴۳] ﴿29﴾

    اور کہا اُسی ایمان دار نے اے قوم میری میں ڈرتا ہوں کہ آئے تم پر دن اگلے فرقوں کا سا ﴿30﴾

    جیسے حال ہوا قوم نوح کا اور عاد اور ثمود کا اور جو لوگ انکے پیچھے ہوئے اور اللہ بے انصافی نہیں چاہتا بندوں پر [۴۴] ﴿31﴾

    اور اے قوم میری میں ڈرتا ہوں کہ تم پر آئے دن ہانک پکار کا [۴۵] ﴿32﴾

    جس دن بھاگو گے پیٹھ پھیر کر [۴۶] کوئی نہیں تم کو اللہ سے بچانے والا اور جس کو غلطی میں ڈالے اللہ تو کوئی نہیں اسکو سجانے والا [۴۷] ﴿33﴾

    اور تمہارے پاس آ چکا ہے یوسف اس سے پہلے کھلی باتیں لے کر پھر تم رہے دھوکے ہی میں ان چیزوں سے جو وہ تمہارے پاس لے کر آیا یہاں تک کہ جب مر گیا لگے کہنے ہرگز نہ بھیجے گا اللہ اسکے بعد کوئی رسول [۴۸] اِسی طرح بھٹکاتا ہے اللہ اُس کو جو ہو بیباک شک کرنے والا ﴿34﴾

    وہ جو کہ جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر کسی سند کے جو پہنچی ہو اُنکو بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں اور ایمانداروں کے یہاں [۴۹] اِسی طرح مہر کر دیتا ہے اللہ ہر دل پر غرور کرنے والے سرکش کے [۵۰] ﴿35﴾

    اور بولا فرعون کے اے ہامان بنا میرے واسطے ایک اونچا محل شاید میں جا پہنچوں رستوں میں ﴿36﴾

    رستوں میں آسمانوں کے پھر جھانک کر دیکھوں موسٰی کے معبود کو [۵۱] اور میری اٹکل میں تو وہ جھوٹا ہے [۵۲] اور اسی طرح بھلے دکھلا دیے فرعون کو اسکے برے کام اور روک دیا گیا سیدھی راہ سے [۵۳] اور جو داؤ تھا فرعون کا سو تباہ ہونے کے واسطے [۵۴] ﴿37﴾

    اور کہا اسی ایماندار نے اے قوم راہ چلو میری پہنچا دوں تمکو نیکی کی راہ پر [۵۵] ﴿38﴾

    اے میری قوم یہ جو زندگی ہے دنیا کی سو کچھ برت لینا ہے اور وہ گھر جو پچھلا ہے وہی ہے جم کر رہنے کا گھر [۵۶] ﴿39﴾

    جس نے کی ہے برائی تو وہی بدلا پائے گا اسکی برابر اور جس نے کی ہے بھلائی مرد ہو یا عورت اور وہ یقین رکھتا ہو سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں روزی پائیں گے وہاں بے شمار [۵۷] ﴿40﴾

    اور اے قوم مجھکو کیا ہوا ہے بلاتا ہوں تمکو نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھکو آگ کی طرف [۵۸] ﴿41﴾

    تم بلاتے ہو مجھکو کہ منکر ہو جاؤں اللہ سے اور شریک ٹھہراؤں اُسکا اُسکو جسکی مجھکو خبر نہیں [۵۹] اور میں بلاتا ہوں تمکو اس زبردست گناہ بخشنے والے کی طرف [۶۰] ﴿42﴾

    آپ ہی ظاہر ہے کہ جس کی طرف تم مجھکو بلاتے ہو اس کا بلاوا کہیں نہیں دنیا میں اور نہ آخرت میں [۶۱] اور یہ کہ ہم کو پھر جانا ہے اللہ کے پاس اور یہ کہ زیادتی والے وہی ہیں دوزخ کے لوگ [۶۲] ﴿43﴾

    سو آگے یاد کرو گے جو میں کہتا ہوں تمکو [۶۳] اور میں سونپتا ہوں اپنا کام اللہ کو بیشک اللہ کی نگاہ میں ہیں سب بندے [۶۴] ﴿44﴾

    پھر بچا لیا موسٰی کوا للہ نے برے داؤں سے جو وہ کرتے تھے اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب [۶۵] ﴿45﴾

    وہ آگ ہے کہ دکھلا دیتے ہیں اُنکو صبح و شام [۶۶] اور جس دن قائم ہو گی قیامت حکم ہو گا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں ﴿46﴾

    اور جب آپس میں جھگڑیں گے آگ کے اندر پھر کہیں گے کمزور غرور کرنے والوں کو ہم تھے تمہارے تابع پھر کچھ تم ہم پر سے اٹھا لو گے حصہ آگ کا [۶۷] ﴿47﴾

    کہیں گے جو غرور کرتے تھے ہم سبھی پڑے ہوئے ہیں اسمیں بیشک اللہ فیصلہ کر چکا بندوں میں [۶۸] ﴿48﴾

    اور کہیں گے جو لوگ پڑے ہیں آگ میں دوزخ کے داروغوں کو مانگو اپنے رب سے کہ ہم پر ہلکا کر دے ایک دن تھوڑا عذاب [۶۹] ﴿49﴾

    وہ بولے کیا نہ آتے تھے تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی نشانیاں لے کر کہیں گے کیوں نہیں بولے پھر پکارو اور کچھ نہیں کافروں کا پکارنا مگر بھٹکنا [۷۰] ﴿50﴾

    ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگانی میں [۷۱] اور جب کھڑے ہوں گے گواہ [۷۲] ﴿51﴾

    جس دن کام نہ آئیں گے منکروں کو انکے بہانے اور انکو پھٹکار ہے اور ان کے واسطے برا گھر [۷۳] ﴿52﴾

    اور ہم نے دی موسٰی کو راہ کی سوجھ اور وارث کیا بنی اسرائیل کو کتاب کا ﴿53﴾

    سجھانے اور سمجھانے والے عقل مندوں کو [۷۴] ﴿54﴾

    سو تو ٹھہرا رہ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور بخشوا اپنا گناہ اور پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں شام کو اور صبح کو [۷۵] ﴿55﴾

    جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر کسی سند کے جو پہنچی ہو انکو اور کوئی بات نہیں انکے دلوں میں غرور ہے کہ کبھی نہ پہنچیں گے اُس تک [۷۶] سو تو پناہ مانگ اللہ کی بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے [۷۷] ﴿56﴾

    البتہ پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا بڑا ہے لوگوں کے بنانے سے لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے [۷۸] ﴿57﴾

    اور برابر نہیں اندھا اور آنکھوں والا اور نہ ایماندار جو بھلے کام کرتے ہیں اور نہ بدکار تم بہت کم سوچ کرتے ہو [۷۹] ﴿58﴾

    تحقیق قیامت آنی ہے اس میں دھوکا نہیں ولیکن بہت لوگ نہیں مانتے ﴿59﴾

    اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو [۸۰] بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری بندگی سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر [۸۱] ﴿60﴾

    اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ اس میں چین پکڑو اور دن بنایا دیکھنے کا [۸۲] اللہ تو فضل والا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے [۸۳] ﴿61﴾

    اور اللہ ہے تمہارا رب ہر چیز بنانے والا کسی کی بندگی نہیں اسکے سوائے پھر کہاں سے پھرے جاتے ہو [۸۴] ﴿62﴾

    اسی طرح پھرے جاتے ہیں جو لوگ کہ اللہ کی باتوں سے منکر ہوتے رہتے ہیں ﴿63﴾

    اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو عمارت [۸۵] اور صورت بنائی تمہاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمہاری اور روزی دی تمکو ستھری چیزوں سے وہ اللہ ہے رب تمہارا سو بڑی برکت ہے اللہ کی جو رب ہے سارے جہان کا [۸۶] ﴿64﴾

    وہ ہے زندہ رہنے والا [۸۷] کسی کی بندگی نہیں اسکے سوائے سو اس کو پکارو خالص کر کر اس کی بندگی سب خوبی اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا [۸۸] ﴿65﴾

    تو کہ مجھکو منع کر دیا کہ پوجوں انکو جنکو تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے جب پہنچ چکیں میرے پاس کھلی نشانیاں میرے رب سے اور مجھکو حکم ہوا کہ تابع رہوں جہان کے پروردگار کا [۸۹] ﴿66﴾

    وہی ہے جس نے بنایا تم کو خاک سے [۹۰] پھر پانی کی بوند سے پھر خون جمے ہوئے سے [۹۱] پھر تم کو نکالتا ہے بچہ پھر جب تک کہ پہنچو اپنے پورے زور کو پھر جب تک کہ ہو جاؤ بوڑھے اور کوئی تم میں ایسا ہے کہ مر جاتا ہے پہلے اس سے اور جب تک کہ پہنچو لکھے وعدے کو [۹۲] اور تاکہ تم سوچو [۹۳] ﴿67﴾

    وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب حکم کرے کسی کام کو تو یہ کہے اسکو کہ ہو جا وہ ہو جاتا ہے [۹۴] ﴿68﴾

    تو نے نہ دیکھا ان کو جو جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں کہاں سے پھیر جاتے ہیں ﴿69﴾

    وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا اس کتاب کو اور اس کو کہ بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ سو آخر جان لیں گے [۹۵] ﴿70﴾

    جب طوق پڑیں انکی گردنوں میں اور زنجیریں بھی [۹۶] گھسیٹے جائیں ﴿71﴾

    جلتے پانی میں پھر آگ میں انکو جھونک دیں [۹۷] ﴿72﴾

    پھر انکو کہیں کہاں گئے جنکو تم شریک بتلایا کرتے تھے ﴿73﴾

    اللہ کے سوائے [۹۸] بولیں وہ ہم سےچوک گئے [۹۹] کوئی نہیں ہم تو پکارتے نہ تھے پہلے کسی چیز کو [۱۰۰] اسی طرح بچلاتا ہے اللہ منکروں کو [۱۰۱] ﴿74﴾

    یہ بدلا اس کا جو تم اتراتے پھرتے تھے زمین میں ناحق اور اس کا جو تم اکڑتے تھے [۱۰۲] ﴿75﴾

    داخل ہو جاؤ دروازوں میں دوزخ کے [۱۰۳] سدا رہنے کو اس میں سو کیا برا ٹھکانہ ہے غرور والوں کا ﴿76﴾

    سو تو ٹھہرا رہ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے پھر اگر ہم دکھلا دیں تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم ان سے کرتے ہیں یا قبض کر لیں تجھ کو ہر حالت میں ہماری ہی طرف پھر آئیں گے [۱۰۴] ﴿77﴾

    اور ہم نے بھیجے ہیں رسول تجھ سے پہلے بعضے ان میں وہ ہیں کہ سنایا ہم نے تجھکو ان کا احوال اور بعضے ہیں کہ نہیں سنایا [۱۰۵] اور کسی رسول کو مقدور نہ تھا کہ لے آتا کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے [۱۰۶] پھر جب آیا حکم اللہ کا فیصلہ ہو گیا انصاف سے اور ٹوٹے میں پڑے اس جگہ جھوٹے [۱۰۷] ﴿78﴾

    اللہ ہے جس نے بنا دیے تمہارے واسطے چوپائے تاکہ سواری کرو بعضوں پر اور بعضوں کو کھاتے ہو ﴿79﴾

    اور ان میں تمکو بہت فائدے ہیں [۱۰۸] اور تاکہ پہنچو ان پر چڑھ کر کسی کام تک جو تمہارے جی میں ہو [۱۰۹] اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو [۱۱۰] ﴿80﴾

    اور دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں پھر کون کون سی نشانیوں کو اپنے رب کی نہ مانو گے [۱۱۱] ﴿81﴾

    کیا پھرے نہیں وہ ملک میں کہ دیکھ لیتے کیسا انجام ہوا ان سے پہلوں کا وہ تھے ان سے زیادہ اور زور میں سخت اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے ہیں زمین پر پھر کام نہ آیا اُن کے جو وہ کماتے تھے [۱۱۲] ﴿82﴾

    پھر جب پہنچے انکے پاس رسول انکے کھلی نشانیاں لے کر اترانے لگے اس پر جو انکے پاس تھی خبر اور الٹ پڑی ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے [۱۱۳] ﴿83﴾

    پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جنکو شریک بتلاتے تھے [۱۱۴] ﴿84﴾

    پھر نہ ہوا کہ کام آئے انکو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب [۱۱۵] رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آئی اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ منکر [۱۱۶] ﴿85﴾

    Surah 41
    حم السجدہ

    حٰم۔ ﴿1﴾

    اتارا ہوا ہے بڑے مہربان رحم والے کی طرف سے [۱] ﴿2﴾

    ایک کتاب ہے جدی جدی کی ہیں اس کی آیتیں [۲] قرآن عربی زبان کا ایک سمجھ والے لوگوں کو [۳] ﴿3﴾

    سنانے والا خوشخبری اور ڈر [۴] پر دھیان میں نہ لائے وہ بہت لوگ سو وہ نہیں سنتے [۵] ﴿4﴾

    اور کہتے ہیں ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جسکی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور تیرے بیچ میں پردہ ہے سو تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کرتے ہیں [۶] ﴿5﴾

    تو کہہ میں بھی آدمی ہوں جیسے تم حکم آتا ہے مجھکو کہ تم پر بندگی ایک حاکم کی ہے سو سیدھے رہو اسکی طرف اور اس سے گناہ بخشواؤ [۷] اور خرابی ہے شریک کرنے والوں کو ﴿6﴾

    جو نہیں دیتے زکوٰۃ اور وہ آخرت سے منکر ہیں [۸] ﴿7﴾

    البتہ جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کو ثواب ملنا ہے جو موقوف نہ ہو [۹] ﴿8﴾

    تو کہہ کیا تم منکر ہو اس سے جس نے بنائی زمین دو دن میں اور برابر کرتے ہو اسکے ساتھ اوروں کو وہ ہے رب جہان کا [۱۰] ﴿9﴾

    اور رکھے اس میں بھاری پہاڑ اوپر سے اور برکت رکھی اسکے اندر اور ٹھہرائیں اُسمیں خوراکیں اُسکی [۱۱] چار دن میں پورا ہوا پوچھنے والوں کو [۱۲] ﴿10﴾

    پھر چڑھا آسمان کو اور وہ دھواں ہو رہا تھا [۱۳] پھر کہا اسکو اور زمین کو آؤ تم دونوں خوشی سے یا زور سے وہ بولے ہم آئے خوشی سے [۱۴] ﴿11﴾

    پھر کر دیے وہ سات آسمان دو دن میں [۱۵] اور اتارا ہر آسمان میں حکم اُس کا [۱۶] اور رونق دی ہم نے سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے اور محفوظ کر دیا یہ سادھا ہوا ہے زبردست خبردار کا [۱۷] ﴿12﴾

    پھر اگر وہ ٹلائیں تو تو کہہ میں نے خبر سنادی تمکو ایک سخت عذاب کی جیسے عذاب آیا عاد اور ثمود پر [۱۸] ﴿13﴾

    جب آئے انکے پاس رسول آگے سے اور پیچھے سے [۱۹] کہ نہ پوجو کسی کو سوائے اللہ کے کہنے لگے اگر ہمارا رب چاہتا تو بھیجتا فرشتے سو ہم تمہارا لایا ہوا نہیں مانتے [۲۰] ﴿14﴾

    سو وہ جو عاد تھے وہ تو غرور کرنے لگے ملک میں ناحق اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زور میں [۲۱] کیا دیکھتے نہیں کہ اللہ جس نے انکو بنایا وہ زیادہ ہے ان سے زور میں اور تھے ہماری نشانیوں سے منکر [۲۲] ﴿15﴾

    پھر بھیجی ہم نے ان پر ہوا بڑے زور کی کئ دن جو مصیبت کے تھے تاکہ چکھائیں انکو رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگانی میں [۲۳] اور آخرت کے عذاب میں تو پوری رسوائی ہے اور انکو کہیں مدد نہیں [۲۴] ﴿16﴾

    اور وہ جو ثمود تھے سو ہم نے انکو راہ بتلائی پھر انکو خوش لگا اندھا رہنا راہ سوجھنے سے [۲۵] پھر پکڑ انکو کڑک نے ذلت کے عذاب کی بدلا اس کا جو کماتے تھے [۲۶] ﴿17﴾

    اور بچا دیا ہم نے ان لوگوں کو جو یقین لائے تھے اور بچ کر چلتے تھے [۲۷] ﴿18﴾

    اور جس دن جمع ہوں گے دشمن اللہ کے دوزخ پر تو انکی جماعتیں بنائی جائیں گی [۲۸] ﴿19﴾

    یہاں تک کہ جب پہنچیں اس پر بتائیں گے انکو انکے کان اور انکی آنکھیں اور انکے چمڑے جو کچھ وہ کرتے تھے [۲۹] ﴿20﴾

    اور وہ کہیں گے اپنے چمڑوں کو تم نے کیوں بتلایا ہمکو [۳۰] وہ بولیں گے ہمکو بلوایا اللہ نے جس نے بلوایا ہے ہر چیز کو [۳۱] اور اسی نے بنایا تمکو پہلی بار اور اسی کی طرف پھیرے جاتے ہو [۳۲] ﴿21﴾

    اور تم پردہ نہ کرتے تھے اس بات سے کہ تم کو بتلائیں گے تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے [۳۳] پر تم کو یہ خیال تھا کہ اللہ نہیں جانتا بہت چیزیں جو تم کرتے ہو [۳۴] ﴿22﴾

    اور یہ وہی تمہارا خیال ہے جو تم رکھتے تھے اپنے رب کے حق میں اسی نے تمکو غارت کیا پھر آج رہ گئے ٹوٹے میں ﴿23﴾

    پھر اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کا گھر ہے اور اگر وہ منایا چاہیں تو انکو کوئی نہیں مانتا [۳۵] ﴿24﴾

    اور لگا دیے ہم نے انکے پیچھے ساتھ رہنے والے پھر انہوں نے خوبصورت بنادیا انکی آنکھوں میں اسکو جو انکے آگے ہو اور جو انکے پیچھے ہو [۳۶] اور ٹھیک پڑ چکی ان پر عذاب کی بات ان فرقوں کے ساتھ جو گذر چکے ان سے پہلے جنوں کے اور آدمیوں کے [۳۷] بیشک وہ تھے ٹوٹے والے [۳۸] ﴿25﴾

    اور کہنے لگے منکر مت کان دھرو اس قرآن کے سننے کو اور بک بک کرو اسکے پڑھنے میں شاید تم غالب ہو [۳۹] ﴿26﴾

    سو ہم کو ضرور چکھانا ہے منکروں کو سخت عذاب اور ان کو بدلا دینا ہے برے سے کاموں کا جو وہ کرتے تھے [۴۰] ﴿27﴾

    یہ سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی آگ اُن کا اسی میں گھر ہے سدا کو بدلا اس کا جو ہماری باتوں سے انکار کرتے تھے [۴۱] ﴿28﴾

    اور کہیں گے وہ لوگ جو منکر ہیں اے ہمارے رب ہمکو دکھلا دے وہ دونوں جنہوں نے ہم کو بہکایا جو جن ہے اور جو آدمی کہ ہم ڈالیں انکو اپنے پاؤں کے نیچے کہ وہ رہیں سب سے نیچے [۴۲] ﴿29﴾

    تحقیق جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر اترتے ہیں فرشتے کہ تم مت ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور خوشخبری سنو اس بہشت کی جس کا تم سے وعدہ تھا [۴۳] ﴿30﴾

    ہم ہیں تمہارے رفیق دنیا میں اور آخرت میں [۴۴] اور تمہارے لئے وہاں ہے جو چاہے جی تمہارا اور تمہارے لئے وہاں ہے جو کچھ مانگو [۴۵] ﴿31﴾

    مہمانی ہے اس بخشنے والے مہربان کی طرف سے [۴۶] ﴿32﴾

    اور اس سے بہتر کس کی بات جس نے بلایا اللہ کی طرف اور کیا نیک کام اور کہا میں حکمبردار ہوں [۴۷] ﴿33﴾

    اور برابر نہیں نیکی اور نہ بدی جواب میں وہ کہہ جو اس سے بہتر ہو پھر تو دیکھ لے کہ تجھ میں اور جس میں دشمنی تھی گویا دوستدار ہے قرابت والا [۴۸] ﴿34﴾

    اور یہ بات ملتی ہے انہی کو جو سہارے رکھتے ہیں اور یہ بات ملتی ہے اسی کو جس کی بڑی قسمت ہے [۴۹] ﴿35﴾

    اور جو کبھی چوک لگے تجھ کو شیطان کے چوک لگانے سے تو پناہ پکڑ اللہ کی بیشک وہی ہے سننے والا جاننے والا [۵۰] ﴿36﴾

    اور اسکی قدرت کے نمونے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند [۵۱] سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے ان کو بنایا اگر تم اسی کو پوجتے ہو [۵۲] ﴿37﴾

    پھر اگر غرور کریں تو جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں پاکی بولتے رہتے ہیں اسکی رات اور دن اور وہ نہیں تھکتے [۵۳] ﴿38﴾

    اور ایک اس کی نشانی یہ کہ تو دیکھتا ہے زمین کو دبی پڑی پھر جب اتارا ہم نے اس پر پانی تازی ہوئی اور ابھری بیشک جس نے اس کو زندہ کیا وہ زندہ کرے گا مردوں کو وہ سب کچھ کر سکتا ہے [۵۴] ﴿39﴾

    جو لوگ ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری باتوں میں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں بھلا ایک جو پڑتا ہے آگ میں وہ بہتر یا ایک جو آئے گا امن سے دن قیامت کے کئے جاؤ جو چاہو بیشک جو تم کرتے ہو وہ دیکھتا ہے [۵۵] ﴿40﴾

    جو لوگ منکر ہوئے نصیحت سے جب آئی ان کے پاس [۵۶] اور وہ کتاب ہے نادر ﴿41﴾

    اُس پر جھوٹ کا دخل نہیں آگے سے اور نہ پیچھے سے اتاری ہوئی ہے حکمتوں والے سب تعریفوں والے کی [۵۷] ﴿42﴾

    تجھے وہی کہتے ہیں جو کہہ چکےہیں سب رسولوں سے تجھ سے پہلے تیرے رب کے یہاں معافی بھی ہے اور سزا بھی ہے دردناک [۵۸] ﴿43﴾

    اور اگر ہم اُسکو کرتے قرآن اوپری زبان کا تو کہتے اس کی باتیں کیوں نہ کھولی گئیں کیا اوپری زبان کی کتاب اور عربی لوگ [۵۹] تو کہہ یہ ایمان والوں کے لئے سوجھ ہے اور روگ کا دور کرنے والا [۶۰] اور جو یقین نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ قرآن انکے حق میں اندھاپا ہے [۶۱] انکو پکارتے ہیں دور کی جگہ سے [۶۲] ﴿44﴾

    اور ہم نے دی تھی موسٰی کو کتاب پھر اس میں اختلاف پڑا [۶۳] اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے نکل چکی تیرے رب کی طرف سے تو ان میں فیصلہ ہو جاتا [۶۴] اور وہ ایسے دھوکے میں ہیں اس قرآن سے جو چین نہیں لینے دیتا [۶۵] ﴿45﴾

    جس نے کی بھلائی سو اپنے واسطے اور جس نے کی برائی سو وہ بھی اسی پر اور تیرا رب ایسا نہیں کہ ظلم کرے بندوں پر [۶۶] ﴿46﴾

    اُسی کی طرف حوالہ ہے قیامت کی خبر کا [۶۷] اور نہیں نکلتے کوئی میوے اپنے غلاف سے اور نہیں رہتا حمل کسی مادہ کو اور نہ وہ جنے کہ جسکی اسکو خبر نہیں [۶۸] اور جس دن انکو پکارے گا کہاں ہیں میرےشریک [۶۹] بولیں گے ہم نے تجھ کو کہہ سنایا ہم میں کوئی اس کا اقرار نہیں کرتا [۷۰] ﴿47﴾

    اور چوک گیا ان سے جو پکارتے تھے پہلے اور سمجھ گئے کہ انکو کہیں نہیں خلاصی [۷۱] ﴿48﴾

    نہیں تھکتا آدمی مانگنے سے بھلائی اور اگر لگ جائے اس کو برائی تو آس توڑ بیٹھے ناامید ہو کر ﴿49﴾

    اور اگر ہم چکھائیں اسکو کچھ اپنی مہربانی پیچھے ایک تکلیف کے جو اسکو پہنچی تھی تو کہنے لگے یہ ہے میرے لائق اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے اور اگر میں پھر بھی گیا اپنے رب کی طرف بیشک میرے لئے ہے اسکے پاس خوبی [۷۲] سو ہم جتلا دیں گے منکروں کو جو انہوں نے کیا ہے اور چکھائیں گے انکو ایک گاڑھا عذاب [۷۳] ﴿50﴾

    اور جب ہم نعمتیں بھیجیں انسان پر تو ٹلا جائے اور موڑ لے اپنی کروٹ اور جب لگے اسکو برائی تو دعائیں کرے چوڑی [۷۴] ﴿51﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ ہو اللہ کے پاس سے پھر تم نے اس کو نہ مانا پھر اس سے گمراہ زیادہ کون جو دور چلا جائے مخالف ہو کر [۷۵] ﴿52﴾

    اب ہم دکھلائیں گے انکو اپنے نمونے دنیا میں اور خود انکی جانوں میں یہاں تک کہ کھل جائے ان پر کہ یہ ٹھیک ہے [۷۶] کیا تیرا رب تھوڑا ہے ہر چیز پر گواہ ہونے کے لئے [۷۷] ﴿53﴾

    سنتا ہے وہ دھوکے میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے سنتا ہے وہ گھیر رہا ہے ہر چیز کو [۷۸] ﴿54﴾

    Surah 42
    الشوریٰ

    حٰم۔ ﴿1﴾

    عٓسٓقٓ۔ ﴿2﴾

    اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف اللہ زبردست حکمتوں والا ﴿3﴾

    اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے سب سے اوپر بڑا [۱] ﴿4﴾

    قریب ہے کہ پھٹ پڑیں آسمان اوپر سے [۲] اور فرشتے پاکی بولتے ہیں خوبیاں اپنے رب کی اور گناہ بخشواتے ہیں زمین والوں کے [۳] سنتا ہے وہی ہے معاف کرنے والا مہربان [۴] ﴿5﴾

    اور جنہوں نے پکڑے ہیں اس کے سوائے رفیق اللہ کو وہ سب یاد ہیں اور تجھ پر نہیں ان کا ذمہ [۵] ﴿6﴾

    اور اسی طرح اتارا ہم نے تجھ پر قرآن عربی زبان کا کہ تو ڈر سنا دے بڑے گاؤں کو اور آس پاس والوں کو [۶] اور خبر سنا دے جمع ہونے کے دن کی اس میں دھوکا نہیں ایک فرقہ بہشت میں اور ایک فرقہ آگ میں [۷] ﴿7﴾

    اور اگر چاہتا اللہ تو سب لوگوں کو کرتا ایک ہی فرقہ و لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور گنہگار جو ہیں ان کا کوئی نہیں رفیق اور نہ مددگار [۸] ﴿8﴾

    کیا انہوں نے پکڑے ہیں اُس سے ورے کام بنانے والے سو اللہ جو ہے وہ ہی ہے کام بنانے والا اور وہی جِلاتا ہے مُردوں کو اور وہ ہر چیز کر سکتا ہے [۹] ﴿9﴾

    اور جس بات میں جھگڑا کرتے ہو تم لوگ کوئی چیز ہو اس کا فیصلہ ہے اللہ کے حوالے [۱۰] وہ اللہ ہے رب میرا اسی پر ہے مجھکو بھروسہ اور اسی کی طرف میری رجوع ہے [۱۱] ﴿10﴾

    بنا نکالنے والا آسمانوں کا اور زمین کا بنا دیے تمہارے واسطے تمہی میں سے جوڑے اور چوپایوں میں سے جوڑے [۱۲] بکھیرتا ہے تمکو اسی طرح [۱۳] نہیں ہے اس کی طرح کا سا کوئی [۱۴] اور وہی ہے سننے والا دیکھنے والا [۱۵] ﴿11﴾

    اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی پھیلا دیتا ہے روزی جسکے واسطے چاہے اور ماپ کر دیتا ہے وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے [۱۶] ﴿12﴾

    راہ ڈالدی تمہارے لئے دین میں وہی جس کا حکم کیا تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم کو اورموسٰی کو اور عیسٰی کو [۱۷] یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں [۱۸] بھاری ہے شرک کرنے والوں کو وہ چیز جسکی طرف تو انکو بلاتا ہے اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف سے جسکو چاہے اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع لائے [۱۹] ﴿13﴾

    اور جنہوں نے اختلاف ڈالا سو سمجھ آ چکنے کے بعد آپس کی ضد سے اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو نکلی ہے تیرے رب سے ایک مقررہ وعدہ تک تو فیصلہ ہو جاتا ان میں اور جنکو ملی ہے کتاب ان کے پیچھے وہ البتہ اسکے دھوکے میں ہیں جو چین نہیں آنے دیتا [۲۰] ﴿14﴾

    سو تو اُسی طرف بلا اور قائم رہ جیسا کہ فرما دیا ہے تجھکو اور مت چل انکی خواہشوں پر اور کہہ میں یقین لایا ہر کتاب پر جو اتاری اللہ نے اور مجھ کو حکم ہے کہ انصاف کروں تمہارے بیچ میں اللہ رب ہے ہمارا اور تمہارا ہم کو ملیں گے ہمارے کام اور تمکو تمہارے کام کچھ جھگڑا نہیں ہم میں اور تم میں اللہ اکٹھا کرے گا ہم سب کو اور اسی کی طرف پھر جانا ہے [۲۱] ﴿15﴾

    اور جو لوگ جھگڑا ڈالتے ہیں اللہ کی بات میں جب لوگ اس کو مان چکے ان کا جھگڑا باطل ہے ان کے رب کے یہاں پر اور ان پر غصہ ہے اور انکو سخت عذاب ہے [۲۲] ﴿16﴾

    اللہ وہی ہے جس نے اتاری کتاب سچے دین پر اور ترازو بھی [۲۳] اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید وہ گھڑی پاس ہو [۲۴] ﴿17﴾

    جلدی کرتےہیں اس گھڑی کی وہ لوگ کہ یقین نہیں رکھتے اس پر اور جو یقین رکھتے ہیں انکو اس کا ڈر ہے اور جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہے سنتا ہے جو لوگ جھگڑتے ہیں اس گھڑی کے آنے میں وہ بہک کر دور جا پڑے [۲۵] ﴿18﴾

    اللہ نرمی رکھتا ہے اپنے بندوں پر [۲۶] روزی دیتا ہے جس کو چاہے اور وہی ہے زورآور زبردست [۲۷] ﴿19﴾

    جو کوئی چاہتا ہو آخرت کی کھیتی زیادہ کریں ہم اسکے واسطے اسکی کھیتی [۲۸] اور جو کوئی چاہتا ہو دنیا کی کھیتی اس کو دیویں ہم کچھ اس میں سے اور اسکے لئے نہیں آخرت میں کچھ حصہ [۲۹] ﴿20﴾

    کیا ان کے لئے اور شریک ہیں کہ راہ ڈالی ہے انہوں نے انکے واسطے دین کی کہ جس کا حکم نہیں دیا اللہ نے [۳۰] اور اگر نہ مقرر ہو چکی ہوتی ایک بات فیصلہ کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں اور بیشک جو گنہگار ہیں انکو عذاب ہے دردناک [۳۱] ﴿21﴾

    تو دیکھے گا گنہگاروں کو کہ ڈرتے ہوں گے اپنی کمائی سے اور وہ پڑ کر رہے گا ان پر [۳۲] اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے باغوں میں ہیں جنت کے اور ان کے لئے ہے جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس یہی ہے بڑی بزرگی [۳۳] ﴿22﴾

    یہ ہے جو خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے ایماندار بندوں کو جو کرتے ہیں بھلے کام [۳۴] تو کہہ میں مانگتا نہیں تم سے اس پر کچھ بدلا مگر دوستی چاہئے قرابت میں [۳۵] اور جو کوئی کمائے گا نیکی ہم اسکو بڑھا دیں گے اس کی خوبی بیشک اللہ معاف کرنے والا حق ماننے والا ہے [۳۶] ﴿23﴾

    کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے باندھا اللہ پر جھوٹ سو اگراللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر اور مٹاتا ہے اللہ جھوٹ کو اور ثابت کرتا ہے سچ کو اپنی باتوں سے اُس کو معلوم ہے جو دلوں میں ہے [۳۷] ﴿24﴾

    اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کرتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ﴿25﴾

    اور دعا سنتا ہے ایمان والوں کی جو بھلے کام کرتے ہیں اور زیادہ دیتا ہے اُنکو اپنے فضل سے [۳۸] اور جو منکر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے ﴿26﴾

    اور اگر پھیلا دے اللہ روزی اپنے بندوں کو تو دھوم اٹھا دیں ملک میں ولیکن اتارتا ہے ماپ کر جتنی چاہتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے دیکھتا ہے [۳۹] ﴿27﴾

    اور وہی ہے جو اتارتا ے مینہ بعد اسکے کہ آس توڑ چکے اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت اور وہی ہے کام بنانے والا سب تعریفوں کے لائق [۴۰] ﴿28﴾

    اور ایک اسکی نشانی ہے بنانا آسمانوں کا اور زمین کا [۴۱] اور جس قدر بکھیرے ہیں ان میں جانور [۴۲] اور وہ جب چاہے اُن سب کو اکٹھا کر سکتا ہے [۴۳] ﴿29﴾

    اور جو پڑے تم پر کوئی سختی سو وہ بدلا ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور معاف کرتا ہے بہت سے گناہ [۴۴] ﴿30﴾

    اور تم تھکا دینے والے نہیں بھاگ کر زمین میں اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوائے کام بنانے والا اور نہ مددگار [۴۵] ﴿31﴾

    اور ایک اُسکی نشانی ہے کہ جہاز چلتے ہیں دریا میں جیسے پہاڑ [۴۶] ﴿32﴾

    اگر چاہے تو تھام دے ہوا کو پھر رہیں سارے دن ٹھہرے ہوئے اس کی پیٹھ پر [۴۷] مقرر اس بات میں پتے ہیں ہر قائم رہنے والے کو جو احسان مانے [۴۸] ﴿33﴾

    یا تباہ کر دے انکو بسبب اُنکی کمائی کے اور معاف بھی کرے بہتوں کو [۴۹] ﴿34﴾

    اور تاکہ جان لیں وہ جو جھگڑتے ہیں ہماری قدرتوں میں کہ نہیں اُنکے لئے بھاگنے کی جگہ [۵۰] ﴿35﴾

    سو جو چکھ ملا ہے تمکو کوئی چیز ہو سو وہ برت لینا ہے دنیا کی زندگانی میں اورجو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا واسطے ایمان والوں کے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں [۵۱] ﴿36﴾

    اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بیحیائی سے اور جب غصہ آوے تو وہ معاف کر دیتے ہیں [۵۲] ﴿37﴾

    اور جنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے [۵۳] اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں ﴿38﴾

    اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہووے چڑھائی تو وہ بدلا لیتے ہیں [۵۴] ﴿39﴾

    اور برائی کا بدلا ہے برائی ویسی ہی [۵۵] پھر جو کوئی معاف کرے اور صلح کرے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمہ بیشک اللہ کو پسند نہیں آتے گنہگار [۵۶] ﴿40﴾

    اور جو کوئی بدلہ لے اپنے مظلوم ہونے کے بعد سو ان پر بھی نہیں کچھ الزام [۵۷] ﴿41﴾

    الزام تو ان پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر [۵۸] اور دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں ناحق ان لوگوں کے لئے ہے عذاب دردناک ﴿42﴾

    اور البتہ جس نے سہا اور معاف کیا بیشک یہ کام ہمت کے ہیں [۵۹] ﴿43﴾

    اور جسکو راہ نہ سجھائے اللہ تو کوئی نہیں اسکا کام بنانے والا اسکے سوا [۶۰] اور تو دیکھے گنہگاروں کو جس وقت دیکھیں گے عذاب کہیں گے کسی طرح پھر جانے کی بھی ہو گی کوئی راہ [۶۱] ﴿44﴾

    اور تو دیکھے انکو کہ سامنے لائے جائیں آگ کے آنکھیں جھکائے ہوئے ذلت سے دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے [۶۲] اور کہیں وہ لوگ جو ایماندار تھے مقرر ٹوٹے والے وہی ہیں جنہوں نے گنوایا اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن [۶۳] سنتا ہے گنہگار پڑے ہیں سدا کے عذاب میں ﴿45﴾

    اور کوئی نہ ہوئے انکے حمایتی جو مدد کرتے انکی اللہ کے سوائے اور جسکو بھٹکائے اللہ اسکے لئے کہیں نہیں راہ [۶۴] ﴿46﴾

    مانو اپنے رب کا حکم اُس سے پہلے کہ آئے وہ دن جسکو پھرنا نہیں اللہ کے یہاں سے [۶۵] نہیں ملے گا تمکو بچاؤ اُس دن اور نہیں تمہاری طرف سے کوئی انکار کرنے والا [۶۶] ﴿47﴾

    پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر نگہبان تیرا ذمہ تو بس یہی ہے پہنچا دینا [۶۷] اور ہم جب چکھاتے ہیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت اس پر پھولا نہیں سماتا اور اگر پہنچتی ہے انکو کچھ برائی بدلے میں اپنی کمائی کے تو انسان بڑا ناشکرا ہے [۶۸] ﴿48﴾

    اللہ کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کرتا ہے جو چاہے بخشتا ہے جسکو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جسکو چاہے بیٹے۔ ﴿49﴾

    یا اُنکو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں اور کر دیتا ہے جسکو چاہے بانجھ وہ ہی سب کچھ جانتا کر سکتا [۶۹] ﴿50﴾

    اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغما لانے والا پھر پہنچا دے اسکے حکم سے جو ہو چاہے [۷۰] تحقیقی وہ سب سے اوپر ہے حکمتوں والا [۷۱] ﴿51﴾

    اور اسی طح بھیجا ہم نے تیری طف ایک فرشتہ اپجے حکم سے [۷۲] تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان [۷۳] ولیکن ہم نے رکھی ہے یہ روشنی اس سے راہ سجھا دیتے ہیں جسکو چاہیں اپنے بندوں میں [۷۴] اور بیشک تو سجھاتا ہے سیدھی راہ [۷۵] ﴿52﴾

    راہ اللہ کی اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں [۷۶] سنتا ہے اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام [۷۷] ﴿53﴾

    Surah 43
    الزخرف

    حٰمٓ۔ ﴿1﴾

    قسم ہے اس کتاب واضح کی ﴿2﴾

    ہم نے رکھا اسکو قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھو [۱] ﴿3﴾

    اور تحقیق یہ قرآن لوح محفوظ ہیں ہمارے پاس ہے برتر مستحکم [۲] ﴿4﴾

    کیا پھیر دیں گے ہم تمہاری طرف سے یہ کتاب موڑ کر اس سبب سے کہ تم ہو ایسے لوگ کہ حد پر نہیں رہتے [۳] ﴿5﴾

    اور بہت بھیجے ہیں ہم نے نبی پہلوں میں ﴿6﴾

    اور نہیں آتا لوگوں کے پاس کوئی پیغام لانے والا جس سے ٹھٹھا نہیں کرتے [۴] ﴿7﴾

    پھر برباد کر ڈالے ہم نے اُن سے سخت زور والے اور چلی آئی ہے مثال پہلوں کی [۵] ﴿8﴾

    اور اگر تو ان سے پوچھے کس نے بنائے آسمان اور زمین تو کہیں بنائے اس زبردست خبردار نے ﴿9﴾

    وہی ہے جس نے بنا دیا تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور رکھ دیں تمہارے واسطے اُس میں راہیں تاکہ تم راہ پاؤ [۶] ﴿10﴾

    اور جس نے اتارا آسمان سے پانی ماپ کر [۷] پھر ابھار کھڑا کیا ہم نے اس سے ایک دیس مردہ کو اسی طرح تمکو بھی نکالیں گے [۸] ﴿11﴾

    اور جس نے بنائے سب چیز کے جوڑے [۹] اور بنا دیا تمہارے واسطے کشتیوں اور چوپایوں کو جس پر تم سوار ہوتے ہو ﴿12﴾

    تاکہ چڑھ بیٹھو تم اسکی پیٹھ پر [۱۰] پھر یاد کرو اپنے رب کا احسان جب بیٹھ چکو اُس پر اور کہو پاک ذات ہے وہ جس نے بس میں کر دیا ہمارے اسکو اور ہم نہ تھے اسکو قابو میں لا سکتے [۱۱] ﴿13﴾

    اور ہمکو اپنے رب کی طرف پھر جانا ہے [۱۲] ﴿14﴾

    اور ٹھہرائی ہے اُنہوں نے حق تعالیٰ کے واسطے اولاد اسکے بندوں میں سے تحقیق انسان بڑا ناشکر ہے صریح ﴿15﴾

    کیا اس نے رکھ لیں اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں اور تمکو دیدئے چن کر بیٹے [۱۳] ﴿16﴾

    اور جب اُن میں کسی کو خوشخبری ملے اس چیز کی جس کو رحمٰن کے نام لگایا تو سارے دن رہے منہ اس کا سیاہ اور وہ دل میں گھٹ رہا ہے [۱۴] ﴿17﴾

    کیا ایسا شخص کہ پرورش پاتا ہے زیور میں اور وہ جھگڑے میں بات نہ کہہ سکے [۱۵] ﴿18﴾

    اور ٹھہرایا انہوں نے فرشتوں کو جو بندے ہیں رحمٰن کے عورتیں [۱۶] کیا دیکھتے تھے ان کا بننا اب لکھ رکھیں گے اُنکی گواہی اور اُن سے پوچھ ہو گی [۱۷] ﴿19﴾

    اور کہتے ہیں اگر چاہتا رحمٰن تو ہم نہ پوجتے انکو [۱۸] کچھ خبر نہیں انکو اس کی یہ سب اٹکلیں دوڑاتے ہیں [۱۹] ﴿20﴾

    کیا ہم نے کوئی کتاب دی ہے انکو اس سے پہلے سو انہوں نے اسکو مضبوط پکڑ رکھا ہے ﴿21﴾

    بلکہ کہتے ہیں ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر اور ہم اُنہی کے قدموں پر ہیں راہ پائے ہوئے [۲۰] ﴿22﴾

    اور اسی طرح جس کسی کو بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے ڈر سنانے والا کسی گاؤں میں سو کہنے لگے وہاں کے خوشحال لوگ ہم نے تو پایا اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پراور ہم اُنہی کے قدموں پر چلتے ہیں ﴿23﴾

    وہ بولا اور جو میں لادوں تمکو اس سے زیادہ سوجھ کی راہ جس پر تم نے پایا اپنے باپ دادوں کو [۲۱] تو یہی کہنے گے ہم تمہارا لایا ہوا نہیں مانیں گے [۲۲] ﴿24﴾

    پھر ہم نے اُن سے بدلا لیا سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا ﴿25﴾

    اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ کو اور اُس کی قوم کو میں الگ ہوں اُن چیزوں سے جنکو تم پوجتے ہو ﴿26﴾

    مگر جس نے مجھ کو بنایا سو وہ مجھ کو راہ سجھائے گا [۲۳] ﴿27﴾

    اور یہی بات پیچھے چھوڑ گیا اپنی اولاد میں تاکہ وہ رجوع رہیں [۲۴] ﴿28﴾

    کوئی نہیں پر میں نے برتنے دیا انکو اور اُنکے باپ دادوں کو یہاں تک کہ پہنچا اُنکے پاس دین سچا اور رسول کھول کر سنا دینے والا [۲۵] ﴿29﴾

    اور جب پہنچا اُنکے پاس سچا دین کہنے لگے یہ جادو ہے اور ہم اُسکو نہ مانیں گے [۲۶] ﴿30﴾

    اور کہتے ہیں کیوں نہ اترا یہ قرآن کسی بڑے مرد پر ان دونوں بستیوں میں کے [۲۷] ﴿31﴾

    کیا وہ بانٹتے ہیں تیرے رب کی رحمت کو [۲۸] ہم نے بانٹ دی ہے ان میں روزی اُن کی دنیا کی زندگانی میں اور بلند کر دیے درجے بعض کے بعض پر کہ ٹھہراتا ہے ایک دوسرے کو خدمتگار [۲۹] اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے ان چیزوں سے جو سمیٹتے ہیں [۳۰] ﴿32﴾

    اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ہو جائیں ایک دین پر تو ہم دیتے ان لوگوں کو جو منکر ہیں رحمٰن سے اُنکے گھروں کے واسطے چھت چاندی کی اور سیڑھیاں جن پر چڑھیں ﴿33﴾

    اور اُن کے گھروں کے واسطے دروازے اور تخت جن پر تکیہ لگا کر بیٹھیں ﴿34﴾

    اور سونے کے [۳۱] اور یہ سب کچھ نہیں ہے مگر برتنا دنیا کی زندگانی کا اور آخرت تیرے رب کے یہاں اُنہی کیلئے ہیں جو ڈرتے ہیں [۳۲] ﴿35﴾

    اور جو کوئی آنکھیں چرائے رحمٰن کی یاد سے ہم اُس پر مقرر کر دیں ایک شیطان پھر وہ رہے اسکا ساتھی [۳۳] ﴿36﴾

    اور وہ اُنکو روکتے رہتے ہیں راہ سے اور یہ سمجھتےہیں کہ ہم راہ پر ہیں [۳۴] ﴿37﴾

    یہاں تک کہ جب آئے ہمارے پاس کہے کسی طرح مجھ میں اور تجھ میں فرق ہو مشرق مغرب کا سا کہ کیا برا ساتھی ہے [۳۵] ﴿38﴾

    اور کچھ فائدہ نہیں تمکو آج کے دن جبکہ تم ظالم ٹھہر چکے اس بات سے کہ تم عذاب میں شامل ہو [۳۶] ﴿39﴾

    سو کیا تو سنائے گا بہروں کو یا سمجھائے گا اندھوں کو اور صریح غلطی میں بھٹکتوں کو ﴿40﴾

    پھر اگر کبھی ہم تجھ کو یہاں سے لیجائیں تو ہمکو ان سے بدلا لینا ہے ﴿41﴾

    یا تجھ کو دکھا دیں جو اُن سے وعدہ ٹھہرایا ہے تو یہ ہمارے بس میں ہیں ﴿42﴾

    سو تو مضبوط پکڑ ے رہ اسی کو جو تجھ کو حکم پہنچا تو ہے بیشک سیدھی راہ پر [۳۷] ﴿43﴾

    اور یہ مذکور رہے گا تیرا اور تیری قوم کا [۳۸] اور آگے تم سے پوچھ ہو گی [۳۹] ﴿44﴾

    اور پوچھ دیکھ جو رسول بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے کبھی ہم نے رکھے ہیں رحمٰن کے سوائے اور حاکم کہ پوجے جائیں [۴۰] ﴿45﴾

    اور ہم نے بھیجا موسٰی کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس تو کہا میں بھیجا ہوا ہوں جہان کے رب کا ﴿46﴾

    پھر جب لایا انکے پاس ہماری نشانیاں وہ تو لگے ان پر ہنسنے [۴۱] ﴿47﴾

    اور جو دکھاتے گئے ہم انکو نشانی سو پہلی سے بڑی [۴۲] اور پکڑا ہم نے اُنکو تکلیف میں تاکہ وہ باز آئیں [۴۳] ﴿48﴾

    اور کہنے لگے اے جادوگر [۴۴] پکار ہمارے واسطے اپنے رب کو جیسا سکھلا رکھا ہے تجھ کو ہم ضرور راہ پر آجائیں گے [۴۵] ﴿49﴾

    پھر جب اٹھا لی ہم نے ان پر سے تکلیف تبھی وہ وعدہ توڑ ڈالتے [۴۶] ﴿50﴾

    اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں بولا اے میری قوم بھلا میرے ہاتھ میں نہیں حکومت مصر کی اور یہ نہریں چل رہی ہیں میرے محل کے نیچے کیا تم نہیں دیکھتے [۴۷] ﴿51﴾

    بھلا میں ہوں بھی بہتر اس شخص سے جسکو کچھ عزت نہیں اور صاف نہیں بول سکتا [۴۸] ﴿52﴾

    پھر کیوں نہ آ پڑے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اسکے ساتھ فرشتے پرا باندھ کر [۴۹] ﴿53﴾

    پھر عقل کھو دی اپنی قوم کی پھر اسی کا کہنا مانا مقرر وہ تھے لوگ نافرمان [۵۰] ﴿54﴾

    پھر جب ہم کو غصہ دلایا [۵۱] تو ہم نے اُن سے بدلا لیا پھر ڈبو دیا اُن سب کو ﴿55﴾

    پھر کر ڈالا اُنکو گئے گذرے اور ایک نظیر پچھلوں کے واسطے [۵۲] ﴿56﴾

    اور جب مثال لائے مریم کے بیٹے کی تبھی قوم تیری اس سے چلانے لگتے ہیں ﴿57﴾

    اور کہتے ہیں ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ [۵۳] یہ مثال جو ڈالتے ہیں تجھ پرسو جھگڑنے کو بلکہ یہ لوگ ہیں جھگڑالو ﴿58﴾

    وہ کیا ہے ایک بندہ ہے کہ ہم نے اس پر فضل کیا اور کھڑا کر دیا اسکو بنی اسرائیل کے واسطے [۵۴] ﴿59﴾

    اور اگر ہم چاہیں نکالیں تم میں سے فرشتے رہیں زمین میں تمہاری جگہ [۵۵] ﴿60﴾

    اور وہ نشان ہے قیامت کا [۵۶] سو اس میں شک مت کرو اور میرا کہا مانو یہ ایک سیدھی راہ ہے ﴿61﴾

    اور نہ روک دے تم کو شیطان وہ تو تمہارا دشمن ہے صریح [۵۷] ﴿62﴾

    اور جب آیا عیسٰی نشانیاں لے کر بولا میں لایا ہوں تمہارے پاس پکی باتیں [۵۸] اور بتلانے کو بعضی وہ چیز جس میں تم جھگڑتے تھے [۵۹] سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو ﴿63﴾

    بیشک اللہ جو ہے وہی ہے رب میرا اور رب تمہارا سو اسی کی بندگی کرو یہ ایک سیدھی راہ ہے [۶۰] ﴿64﴾

    پھر پھٹ گئے کتنے فرقے انکے بیچ سے [۶۱] سو خرابی ہے گنہگاروں کو آفت سے دکھ والے دن کی ﴿65﴾

    اب یہی ہے کہ راہ دیکھتے ہیں قیامت کی کہ آ کھڑی ہو ان پر اچانک اور انکو خبر بھی نہ ہو [۶۲] ﴿66﴾

    جتنے دوست ہیں اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر جو لوگ ہیں ڈر والے [۶۳] ﴿67﴾

    اے بندو میرے نہ ڈر ہے تم پر آج کے دن اور نہ تم غمگین ہو گے [۶۴] ﴿68﴾

    جو یقین لائے ہماری باتوں پر اور رہے حکم بردار [۶۵] ﴿69﴾

    چلے جاؤ بہشت میں تم اور تمہاری عورتیں کہ تمہاری عزت کریں ﴿70﴾

    لئے پھریں گے انکے پاس رکابیاں سونے کی اور آبخورے [۶۶] اور وہاں ہے جو دل چاہے اور جس سے آنکھیں آرام پائیں [۶۷] اور تم ان میں ہمیشہ رہو گے ﴿71﴾

    اور وہی بہشت ہے جو میراث پائی تم نے بدلے میں ان کاموں کے جو کرتے تھے [۶۸] ﴿72﴾

    تمہارے واسطے ان میں بہت میوے ہیں ان میں سے کھاتے رہو [۶۹] ﴿73﴾

    البتہ جو لوگ گنہگار ہیں وہ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ﴿74﴾

    نہ ہلکا ہوتا ہے ان پر سے اور وہ اسی میں پڑے ہیں آس ٹوٹے [۷۰] ﴿75﴾

    اور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا لیکن تھے وہی بے انصاف [۷۱] ﴿76﴾

    اور پکاریں گے اے مالک کہیں ہم پر فیصل کر چکے تیرا رب [۷۲] وہ کہے گا تمکو ہمیشہ رہنا ہے [۷۳] ﴿77﴾

    ہم لائے ہیں تمہارے پاس سچا دین پر تم بہت لوگ سچی بات سے برا مانتے ہو [۷۴] ﴿78﴾

    کیا انہوں نے ٹھہرائی ہے ایک بات تو ہم بھی کچھ ٹھہرائیں گے [۷۵] ﴿79﴾

    کیا خیال رکھتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے ان کا بھید اور ان کا مشورہ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے انکے پاس لکھتے رہتے ہیں [۷۶] ﴿80﴾

    تو کہہ اگر ہو رحمٰن کے واسطے اولاد تو میں سب سے پہلے پوجوں [۷۷] ﴿81﴾

    پاک ذات ہے وہ رب آسمانوں کا اور زمین کا صاحب عرش کا ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں [۷۸] ﴿82﴾

    اب چھوڑ دے انکو بک بک کریں اور کھیلیں یہاں تک کہ ملیں اپنے اس دن سے جس کا انکو وعدہ دیا ہے [۷۹] ﴿83﴾

    اور وہی ہے جس کی بندگی ہے آسمان میں اور اسکی بندگی ہے زمین میں اور وہی ہے حکمت والا سب سے خبردار [۸۰] ﴿84﴾

    اور بڑی برکت ہے اسکی جس کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے اور اسی کے پاس ہے خبر قیامت کی [۸۱] اور اسی تک پھر کر پہنچ جاؤ گے [۸۲] ﴿85﴾

    اور اختیار نہیں رکھتے وہ لوگ جنکو یہ پکارتے ہیں سفارش کا مگر جس نے گواہی دی سچی اور انکو خبر تھی [۸۳] ﴿86﴾

    اور اگر تو ان سے پوچھے کہ انکو کس نے بنایا تو کہیں گے اللہ نے پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں [۸۴] ﴿87﴾

    قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے [۸۵] ﴿88﴾

    سو تو منہ پھیر لے انکی طرف سے اور کہہ سلام ہے [۸۶] اب آخر کو معلوم کر لیں گے [۸۷] ﴿89﴾

    Surah 44
    الدخان

    حٰمٓ۔ ﴿1﴾

    قسم ہے اس کتاب واضح کی ﴿2﴾

    ہم نے اسکو اتارا ایک برکت کی رات میں [۱] ہم ہیں کہہ سنانے والے [۲] ﴿3﴾

    اسی میں جدا ہوتا ہے ہر کام جانچا ہوا ﴿4﴾

    حکم ہو کر ہمارے پاس سے [۳] ہم ہیں بھیجنے والے [۴] ﴿5﴾

    رحمت سے تیرے رب کی وہی ہے سننے جاننے والا [۵] ﴿6﴾

    رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے اگر تمکو یقین ہے [۶] ﴿7﴾

    کسی کی بندگی نہیں سوائے اسکے جلاتا ہے اور مارتا ہے رب تمہارا اور رب تمہارے اگلے باپ دادوں کا [۷] ﴿8﴾

    کوئی نہیں وہ دھوکے میں ہیں کھیلتے [۸] ﴿9﴾

    سو تو انتظار کر اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں صریح ﴿10﴾

    جو گھیر لیوے لوگوں کو یہ ہے عذاب دردناک [۹] ﴿11﴾

    اے رب کھولدے ہم پر سے یہ عذاب ہم یقین لاتے ہیں [۱۰] ﴿12﴾

    کہاں ملے اُنکو سمجھنا اور آچکا اُنکے پاس رسول کھول کر سنانے والا ﴿13﴾

    پھر اس سے پیٹھ پھیری اور کہنے لگے سکھایا ہوا ہے باؤلا [۱۱] ﴿14﴾

    ہم کھولے دیتےہیں یہ عذاب تھوڑی مدت تک تم پھر وہی کرو گے [۱۲] ﴿15﴾

    جس دن پکڑیں گے ہم بڑی پکڑ تحقیق ہم بدلا لینے والے ہیں [۱۳] ﴿16﴾

    اور جانچ چکے ہیں ہم ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور آیا ان کے پاس رسول عزت والا [۱۴] ﴿17﴾

    کہ حوالے کرو میرے بندے خدا کے [۱۵] میں تمہارے پاس آیا ہوں بھیجا ہوا معتبر ﴿18﴾

    اور یہ کہ چڑھے نہ جاؤ اللہ کے مقابل میں لاتا ہوں تمہارے پاس سند کھلی ہوئی [۱۶] ﴿19﴾

    اور میں پناہ لے چکا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھ کو سنگسار کرو [۱۷] ﴿20﴾

    اور اگر تم نہیں یقین کرتے مجھ پر تو مجھ سے پرے ہو جاؤ [۱۸] ﴿21﴾

    پھر دعا کی اپنے رب سے کہ یہ لوگ گنہگار ہیں ﴿22﴾

    پھر لے نکل رات سے میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے [۱۹] ﴿23﴾

    اور چھوڑ جا دریا کو تھما ہوا البتہ وہ لشکر ڈوبنے والے ہیں [۲۰] ﴿24﴾

    بہت سے چھوڑ گئے باغ اور چشمے ﴿25﴾

    اور کھیتیں اور گھر خاصے ﴿26﴾

    اور آرام کا سامان جس میں باتیں بنایا کرتے تھے ﴿27﴾

    یونہی ہوا اور وہ سب ہاتھ لگا دیا ہم نے ایک دوسری قوم کے [۲۱] ﴿28﴾

    پھر نہ رویا ان پر آسمان اور زمین [۲۲] اور نہ ملی انکو ڈھیل ﴿29﴾

    اور ہم نے بچا نکالا بنی اسرائیل کو ذلت کی مصیبت سے ﴿30﴾

    جو فرعون کی طرف سے تھی [۲۳] بیشک وہ تھا چڑھ رہا حد سے بڑھ جانے والا [۲۴] ﴿31﴾

    اور اُنکو ہم نے پسند کیا جان بوجھ کر جہان کے لوگوں سے [۲۵] ﴿32﴾

    اور دیں ہم نے انکو نشانیاں جن میں تھی مدد صریح [۲۶] ﴿33﴾

    یہ لوگ کہتے ہیں ﴿34﴾

    اور کچھ نہیں ہمارا یہی مرنا ہے پہلا اور ہمکو پھر اٹھنا نہیں [۲۷] ﴿35﴾

    بھلا لے تو آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو [۲۸] ﴿36﴾

    بھلا یہ بہتر ہیں یا تُبّع کی قوم [۲۹] اور جو اُن سے پہلے تھے ہم نے اُنکو غارت کر دیا بیشک وہ تھے گنہگار [۳۰] ﴿37﴾

    اور ہم نے جو بنایا آسمان اور زمین اور جو اُنکے بیچ ہے کھیل نہیں بنایا ﴿38﴾

    اُنکو تو بنایا ہم نے ٹھیک کام پر بہت لوگ نہیں سمجھتے [۳۱] ﴿39﴾

    تحقیق فیصلہ کا دن وعدہ ہے اُن سب کا [۳۲] ﴿40﴾

    جس دن کام نہ آئے کوئی رفیق کسی رفیق کے کچھ بھی اور نہ اُنکو مدد پہنچے [۳۳] ﴿41﴾

    مگر جس پر رحم کرے اللہ بیشک وہی ہے زبردست رحم والا [۳۴] ﴿42﴾

    مقرر درخت سیہنڈ کا ﴿43﴾

    کھانا ہے گنہگار کا [۳۵] ﴿44﴾

    جیسے پگھلا ہوا تانبا کھولتا ہے پیٹوں میں ﴿45﴾

    جیسے کھولتا ہوا پانی ﴿46﴾

    پکڑو اسکو اور دھکیل کر لیجاؤ بیچوں بیچ دوزخ کے [۳۶] ﴿47﴾

    پھر ڈالو اُسکے سر پر جلتے پانی کا عذاب [۳۷] ﴿48﴾

    یہ چکھ تو ہی ہے بڑا عزت والا سردار [۳۸] ﴿49﴾

    یہ وہی ہے جس میں تم دھوکے میں پڑے تھے [۳۹] ﴿50﴾

    بیشک ڈرنے والے گھر میں ہیں چین کے [۴۰] ﴿51﴾

    باغوں میں اور چشموں میں ﴿52﴾

    پہنتے ہیں پوشاک ریشمی پتلی اور گاڑھی ایک دوسرے کے سامنے [۴۱] ﴿53﴾

    اسی طرح ہو گا اور بیاہ دیں گے ہم اُنکو حوریں بڑی آنکھوں والیاں [۴۲] ﴿54﴾

    منگوائیں گے وہاں ہر میوہ دل جمعی سے [۴۳] ﴿55﴾

    نہ چکھیں گے وہاں موت مگر جو پہلے آچکی [۴۴] اور بچایا انکو دوزخ کے عذاب سے ﴿56﴾

    فضل سے تیرے رب کے یہی ہے بڑی مراد ملنی [۴۵] ﴿57﴾

    سو یہ قرآن آسان کیا ہم نے اسکو تیری بولی میں تاکہ وہ یاد رکھیں [۴۶] ﴿58﴾

    اب تو راہ دیکھ وہ بھی راہ تکتے ہیں [۴۷] ﴿59﴾

    Surah 45
    الجاثیہ

    حٰمٓ۔ ﴿1﴾

    اتارنا کتاب کا ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمتوں والا ﴿2﴾

    بیشک آسمانوں میں اور زمین میں بہت نشانیاں ہیں ماننے والوں کے واسطے [۱] ﴿3﴾

    اور تمہارے بنانے میں اور جس قدر پھیلا رکھے ہیں جانور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو یقین رکھتےہیں [۲] ﴿4﴾

    اور بدلنے میں رات دن کے اور وہ جو اتاری اللہ نے آسمان سے روزی [۳] پھر زندہ کر دیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد اور بدلنے میں ہواؤں کے نشانیان ہیں ان لوگوں کے واسطے جو سمجھ سےکام لیتے ہیں [۴] ﴿5﴾

    یہ باتیں ہیں اللہ کی ہم سناتے ہیں تجھ کو ٹھیک ٹھیک پھر کونسی بات کو اللہ اور اسکی باتوں کو چھوڑ کر مانیں گے [۵] ﴿6﴾

    خرابی ہے ہر جھوٹے گنہگار کے لئے ﴿7﴾

    کہ سنتا ہے باتیں اللہ کی اسکے پاس پڑھی جاتی ہیں پھر ضد کرتا ہے غرور سے گویا سنا ہی نہیں [۶] سو خوشخبری سنا دے اسکو ایک عذاب دردناک کی ﴿8﴾

    اور جب خبر پائے ہماری باتوں میں سے کسی کی اسکو ٹھہرائے ٹھٹھا ایسوں کو ذلت کا عذاب ہے [۷] ﴿9﴾

    پرے انکے دزوخ ہے اور کام نہ آئے گا انکے جو کمایا تھا ذرا بھی اور نہ وہ کہ جنکو پکڑا تھا اللہ کے سوائے رفیق [۸] اور اُنکے واسطے بڑا عذاب ہے ﴿10﴾

    یہ سجھا دیا اور جو منکر ہیں اپنے رب کی باتوں سے انکے لئے عذاب ہے ایک بلا کا دردناک [۹] ﴿11﴾

    اللہ وہ ہے جس نے بس میں کر دیا تمہارے دریا کو کہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے [۱۰] اور تاکہ تلاش کرو اسکے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو [۱۱] ﴿12﴾

    اور کام میں لگا دیا تمہارے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں سب کو اپنی طرف سے [۱۲] اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو دھیان کرتے ہیں [۱۳] ﴿13﴾

    کہہ دے ایمان والوں کو درگذر کریں ان سے جو امید نہیں رکھتے اللہ کے دنوں کی [۱۴] تاکہ وہ سزا دے ایک قوم کو بدلا اس کا جو کماتے تھے [۱۵] ﴿14﴾

    جس نے بھلا کام کیا تو اپنے واسطے اور جس نے برا کیا سو اپنے حق میں [۱۶] پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے [۱۷] ﴿15﴾

    اور ہم نے دی بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور پیغمبری اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں [۱۸] اور بزرگی دی انکو جہان پر [۱۹] ﴿16﴾

    اور دیں اُنکو کھلی باتیں دین کی [۲۰] پھر انہوں نے پھوٹ جو ڈالی تو سمجھ آ چکنے کے بعد آپس کی ضد سے بیشک تیرا رب فیصلہ کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں وہ جھگڑتے تھے [۲۱] ﴿17﴾

    پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک رستہ پر دین کے کام کے سو تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی [۲۲] ﴿18﴾

    وہ ہر گز کام نہ آئیں گے تیرے اللہ کے سامنے ذرا بھی [۲۳] اور بے انصاف ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اللہ رفیق ہے ڈرنے والوں کا [۲۴] ﴿19﴾

    یہ سوجھ کی باتیں ہیں لوگوں کے واسطے اور راہ کی اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو یقین لاتے ہیں [۲۵] ﴿20﴾

    کیا خیال رکھتے ہیں جنہوں نے کمائی ہیں برائیاں کہ ہم کر دیں گے انکو برابر ان لوگوں کی جو کہ یقین لائے اور کیے بھلے کام ایک سا ہے ان کا جینا اور مرنا برے دعوے ہیں جو کرتے ہیں [۲۶] ﴿21﴾

    اور بنائے اللہ نے آسمان اور زمین جیسے چاہئیں اور تاکہ بدلا پائے ہر کوئی اپنی کمائی کا اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔ [۲۷] ﴿22﴾

    بھلا دیکھ تو جس نے ٹھہرا لیا اپنا حاکم اپنی خواہش کو اور راہ سے بچلا دیا اسکو اللہ نے جانتا بوجھتا [۲۸] اور مہر لگا دی اسکے کان پر اوردل پر اور ڈالدی اسکی آنکھ پر اندھیری پھر کون راہ پر لائے اسکو اللہ کے سوائے سو کیا تم غور نہیں کرتے [۲۹] ﴿23﴾

    اور کہتے ہیں اورکچھ نہیں بس یہی ہے ہمارا جینا دنیا کا ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم جو مرتے ہیں سو زمانہ سے [۳۰] اور انکو کچھ خبر نہیں اسکی محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں [۳۱] ﴿24﴾

    اور جب سنائی جاتیں انکو ہماری آیتیں کھلی کھلی اور کچھ دلیل نہیں انکی مگر یہی کہتے ہیں لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو [۳۲] ﴿25﴾

    تو کہہ کہ اللہ ہی جِلاتا ہے تمکو پھر مارے گا تمکو پھر اکھٹا کرے گا تمکو قیامت کے دن تک اس میں کچھ شک نہیں پر بہت لوگ نہیں سمجھتے [۳۳] ﴿26﴾

    اور اللہ ہی کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جس دن قائم ہو گی قیامت اس دن خراب ہوں گے جھوٹے [۳۴] ﴿27﴾

    اور تو دیکھے ہر فرقہ کو کہ بیٹھے ہیں گھٹنوں کے بل [۳۵] ہر فرقہ بلایا جائے اپنے اپنے دفتر کے پاس آج بدلا پاؤ گے جیسا تم کرتے تھے [۳۶] ﴿28﴾

    یہ ہمارا دفتر ہے بولتا ہے تمہارے کام ٹھیک [۳۷] ہم لکھواتے جاتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے [۳۸] ﴿29﴾

    سو جو لوگ یقین لائے ہیں اور بھلے کام کیے سو انکو داخل کرے گا ان کا رب اپنی رحمت میں یہ جو ہے یہی ہے صریح مراد ملنی [۳۹] ﴿30﴾

    اور جو منکر ہوئے کیا تمکو سنائی نہ جاتی تھی باتیں میری پھر تم نے غرور کیا اور ہو گئے تم لوگ گنہگار [۴۰] ﴿31﴾

    اور جب کہیے کہ وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں تم کہتے تھے ہم نہیں سمجھتے کیا ہے قیامت ہم کو آتا تو ہے ایک خیال سا اور ہم کو یقین نہیں ہوتا [۴۱] ﴿32﴾

    اور کھل جائیں ان پر برائیاں ان کاموں کی جو کئے تھے اور الٹ پڑے ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے [۴۲] ﴿33﴾

    اور حکم ہو گا کہ آج ہم تم کو بھلا دیں گے جیسے تم نے بھلا دیا تھا اپنے اس دن کی ملاقات کو [۴۳] اور گھر تمہارا دوزخ ہے اور کوئی نہیں تمہارا مددگار ﴿34﴾

    یہ تم پر اس واسطے کہ تم نے پکڑا اللہ کی باتوں کو ٹھٹھا اور بہکے رہے دنیا کی زندگانی پر [۴۴] سو آج نہ انکو نکالنا منظور ہے وہاں سے اور نہ ان سے مطلوب ہے توبہ [۴۵] ﴿35﴾

    سو اللہ ہی کے واسطے ہے سب خوبی جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا رب سارے جہان کا ﴿36﴾

    اور اُسی کیلئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا [۴۶] ﴿37﴾

    Surah 46
    الاحقاف

    حٰمٓ۔ ﴿1﴾

    اتارنا کتاب کا ہے اللہ زبردست حکمت والے کی طرف سے ﴿2﴾

    ہم نے جو بنائے آسمان اور زمین اور جو انکے بیچ میں ہے سو ٹھیک کام پر اور ایک ٹھہرے وعدہ پر [۱] اور جو لوگ منکر ہیں وہ ڈر کو سن کر منہ پھیر لیتے ہیں [۲] ﴿3﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو جنکو تم پکارتے ہو اللہ کے سوائے دکھلاؤ تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا زمین میں یا ان کا کچھ ساجھا ہے آسمانوں میں [۳] لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی علم جو چلا آتا ہو اگر ہو تم سچے [۴] ﴿4﴾

    اور اس سے زیادہ گمراہ کون جو پکارے اللہ کے سو ائے ایسے کو کہ نہ پہنچے اس کی پکار کو دن قیامت تک اور انکو خبر نہیں انکے پکارنے کی [۵] ﴿5﴾

    اور جب لوگ جمع ہوں گے وہ ہوں گے انکے دشمن اور ہوں گے انکے پوجنے سے منکر [۶] ﴿6﴾

    اور جب سنائی جائیں انکو ہماری باتیں کھلی کھلی کہتے ہیں منکر سچی بات کو جب ان تک پہنچی یہ جادو ہے صریح [۷] ﴿7﴾

    کیا کہتے ہیں یہ بنا لایا ہے [۸] تو کہہ اگر میں یہ بنا لایا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کر سکتے اللہ کے سامنے ذرا بھی [۹] اس کو خوب خبر ہے جن باتوں میں تم لگ رہے ہو وہ کافی ہے حق بتانے والا میرے اور تمہارے بیچ [۱۰] اور وہی ہے بخشنے والا مہربان [۱۱] ﴿8﴾

    تو کہہ میں کچھ نیا رسول نہیں آیا [۱۲] اور مجھ کو معلوم نہیں کیا ہونا ہے مجھ سے اور تم سے میں اسی پر چلتا ہوں جو حکم آتا ہے مجھ کو اور میرا کام تو یہ ہے ڈر سنا دینا کھول کر [۱۳] ﴿9﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ آیا ہو اللہ کے یہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک اسی کتاب کی پھر وہ یقین لایا اور تم نے غرور کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا گنہگاروں کو [۱۴] ﴿10﴾

    اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ نہ دوڑتے اس پر ہم سے پہلے [۱۵] اور جب راہ پر نہیں آئے اسکے بتلانے سے تو یہ اب کہیں گے یہ جھوٹ ہے بہت پرانا [۱۶] ﴿11﴾

    اور اس سے پہلے کتاب موسٰی کی تھی راہ ڈالنے والی اور حمت اور یہ کتاب ہے اسکی تصدیق کرتی [۱۷] عربی زبان میں تاکہ ڈر سنائے گنہگاروں کو اور خوشخبری نیکی والوں کو ﴿12﴾

    مقرر جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے [۱۸] ﴿13﴾

    وہ لوگ ہیں بہشت والے سدا رہیں گے اس میں بدلا ہے ان کاموں کا جو کرتے تھے [۱۹] ﴿14﴾

    اور ہم نے حکم کر دیا انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی کا [۲۰] پیٹ میں رکھا اسکو اسکی ماں نے تکلیف سے اور جنا اسکو تکلیف سے [۲۱] اور حمل میں رہنا اس کا اور دودھ چھوڑنا تیس مہینے میں ہے [۲۲] یہاں تک کہ جب پہنچا اپنی قوت کو اور پہنچ گیا چالیس برس کو [۲۳] کہنے لگا اے رب میرے میری قسمت میں کر کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں نیک کام جس سے تو راضی ہو اور مجھ کو دے نیک اولاد میری میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں ہوں حکم بردار [۲۴] ﴿15﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم قبول کرتے ہیں بہتر سے بہتر کام جو کئے ہیں اور معاف کرتے ہیں ہم برائیاں ان کی رہنے والے جنت کے لوگوں میں سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا تھا [۲۵] ﴿16﴾

    اور جس شخص نے کہا اپنے مان باپ کو میں بیزار ہوں تم سے [۲۶] کیا مجھ کو وعدہ دیتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا قبر سے اور گزر چکی ہیں بہت جماعتیں مجھ سے پہلے [۲۷] اور وہ دونوں فریاد کرتےہیں اللہ سے کہ اے خرابی تیری تو ایمان لے آ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے [۲۸] پھر کہتا ہے یہ سب نقلیں ہیں پہلوں کی [۲۹] ﴿17﴾

    یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ثابت ہوئی بات عذاب کی شامل اور فرقوں میں جو گذر چکے ہیں ان سے پہلے جنوں کے اور آدمیوں کے [۳۰] بیشک وہ تھے ٹوٹے میں پڑے [۳۱] ﴿18﴾

    اور ہر فرقہ کے کئ درجے ہیں اپنے کئے کاموں کے موافق [۳۲] اور تاکہ پورے دے انکو کام انکے اور ان پر ظلم نہ ہو گا [۳۳] ﴿19﴾

    اور جس دن لائے جائیں گے منکر آگ کے کنارہ پر ضائع کئے تم نے اپنے مزے دنیا کی زندگانی میں اور انکو برت چکے [۳۴] اب آج سزا پاؤ گے ذلت کا عذاب بدلا اس کا جو تم غرور کرتے تھے ملک میں ناحق اور اس کا جو تم نافرمانی کرتے تھے [۳۵] ﴿20﴾

    اور یاد کر عاد کے بھائی کو [۳۶] جب ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں [۳۷] اور گذر چکے تھے دڑانے والے اسکے آگے سے اور پیچھے سے کہ بندگی نہ کرو کسی کی اللہ کے سوائے میں ڈرتا ہوں تم پر آفت سے ایک بڑے دن کی [۳۸] ﴿21﴾

    بولے کیا تو آیا ہے ہمارے پاس کہ پھیر دے ہمکو ہمارے معبودوں سے سو لے آ ہم پر جو وعدہ کرتا ہے اگر ہے تو سچا [۳۹] ﴿22﴾

    کہا یہ خبر تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو پہنچا دیتا ہوں جو کچھ بھیجدیا میرے ہاتھ لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ نادانی کرتے ہو [۴۰] ﴿23﴾

    پھر جب دیکھا اس کو ابر سامنے آیا انکے نالوں کے بولے یہ ابر ہے ہم پر برسے گا [۴۱] کوئی نہیں یہ تو وہ چیز ہے جسکی تم جلدی کرتے تھے ہوا ہے جس میں عذاب ہے دردناک [۴۲] ﴿24﴾

    اکھاڑ پھینکے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے پھر کل کو رہ گئ کہ کوئی نظر نہیں آتا تھا سوائے انکے گھروں کے یوں ہم سزا دیتے ہیں گنہگار لوگوں کو [۴۳] ﴿25﴾

    اور ہم نے مقدور دیا تھا انکو ان چیزوں کا جن کا تم کو مقدور نہیں دیا [۴۴] اور ہم نے انکو دیے تھے کان اور آنکھیں اور دل پھر کام نہ آئے انکےکان انکے اور نہ آنکھیں انکی اور نہ دل انکے کسی چیز میں [۴۵] اس لئے کہ منکر ہوتے تھے اللہ کی باتوں سے اور الٹ پڑی ان پر جس بات سے کہ وہ ٹھٹھا کرتے تھے [۴۶] ﴿26﴾

    اور ہم غارت کر چکے ہیں جتنی تمہارے آس پاس ہیں بستیاں [۴۷] اور طرح طرح سے پھیر کر سنائیں انکو باتیں تاکہ وہ لوٹ آئیں [۴۸] ﴿27﴾

    پھر کیوں نہ مدد پہنچی انکو ان لوگوں کی طرف سے جنکو پکڑ ا تھا اللہ سے ورے معبود بڑے درجے پانے کو [۴۹] کوئی نہیں گم ہو گئے ان سے [۵۰] اور یہ جھوٹ تھا ان کا اور جو اپنے جی سے باندھتے تھے [۵۱] ﴿28﴾

    اور جس وقت متوجہ کر دیے ہم نے تیری طرف کتنے اک لوگ جنوں میں سے سننے لگے قرآن پھر جب وہاں پہنچ گئے بولے چپ رہو پھر جب ختم ہوا الٹے پھرے اپنی قوم کو ڈر سناتے ہوئے [۵۲] ﴿29﴾

    بولے اے قوم ہماری ہم نے سنی ایک کتاب جو اتری ہے موسٰی کے بعد [۵۳] سچا کرنے والی سب اگلی کتابوں کو [۵۴] سمجھاتی ہے سچا دین اور ایک راہ سیدھی [۵۵] ﴿30﴾

    اے قوم ہماری مانو اللہ کے بلانے والے کو اور اس پر یقین لاؤ [۵۶] کہ بخشے تمکو کچھ تمہارے گناہ [۵۷] اور بچا دے تمکو ایک عذاب دردناک سے ﴿31﴾

    اور جو کوئی نہ مانے گا اللہ کے بلانے والے کو تو وہ نہ تھکا سکے گا بھاگ کر زمین میں اور کوئی نہیں اس کا اسکے سوائے مددگار [۵۸] وہ لوگ بھٹکتے ہیں صریح ﴿32﴾

    کیا نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے بنائے آسمان اور زمین اور نہ تھکا انکے بنانے میں [۵۹] وہ قدرت رکھتا ہے کہ زندہ کرے مردوں کو کیوں نہیں وہ ہر چیز کر سکتا ہے [۶۰] ﴿33﴾

    اور جس دن سامنے لائیں منکروں کو آگ کے کیا یہ ٹھیک نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے ہمارے رب کی [۶۱] کہا تو چکھو عذاب بدلا اس کا جو تم منکر ہوتے تھے [۶۲] ﴿34﴾

    سو تو ٹھہرا رہ جیسے ٹھہرے رہے ہیں ہمت والے رسول اور جلدی نہ کر انکے معاملہ میں [۶۳] یہ لوگ جس دن دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سےوعدہ ہے جیسے ڈھیل نہ پائی تھی مگر ایک گھڑی دن کی [۶۴] یہ پہنچا دینا ہے اب وہی غارت ہوں گے جو لوگ نافرمان ہیں [۶۵] ﴿35﴾

    Surah 47
    محمد

    جو لوگ کہ منکر ہوئے اور روکا اوروں کو اللہ کی راہ سے [۱] کھو دیے اللہ نے انکے کئے کام [۲] ﴿1﴾

    اور جو یقین لائے اور کئے بھلے کام اور مانا اسکو جو اترا محمد پر اور وہی ہے سچا دین انکے رب کی طرف سے ان پر سے اتاریں انکی برائیاں اور سنورا انکا حال [۳] ﴿2﴾

    یہ اس لئے کہ جو منکر ہیں وہ چلے جھوٹی بات پر اور جو یقین لائے انہوں نے مانی سچی بات اپنے رب کی طرف سے یوں بتلاتا ہے اللہ لوگوں کو انکے احوال [۴] ﴿3﴾

    سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو انکو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو [۵] جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار [۶] یہ سن چکے اور اگر چاہے اللہ تو بدلا لے ان سے پر جانچنا چاہتا ہے تمہارے ایک سے دوسرے کو [۷] اور جو لوگ مارے گئے اللہ کی راہ میں تو نہ ضائع کرے گا وہ انکے کئے کام ﴿4﴾

    انکو راہ دے گا اور سنوارے گا ان کا حال [۸] ﴿5﴾

    اور داخل کرے گا انکو بہشت میں جو معلوم کرا دی ہے انکو [۹] ﴿6﴾

    اے ایمان والو اگر تم مدد کر و گے اللہ کی [۱۰] تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور جما دے گا تمہارے پاؤں [۱۱] ﴿7﴾

    اور جو لوگ کہ منکر ہوئے وہ گرے منہ کے بل اور کھو دیے انکے کئے کام [۱۲] ﴿8﴾

    یہ اس لئے کہ انکو پسند نہ ہوا جو اتار اللہ نے پھر اکارت کر دیے انکے کئے کام [۱۳] ﴿9﴾

    کیا وہ پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھیں کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے ہلاکی ڈالی اللہ نے ان پر اور منکروں کو ملتی رہی ہیں ایسی چیزیں [۱۴] ﴿10﴾

    یہ اس لئے کہ اللہ رفیق ہے ان کا جو یقین لائے اور یہ کہ جو منکر ہیں ان کا رفیق نہیں کوئی [۱۵] ﴿11﴾

    مقرر اللہ داخل کرے گا انکو جو یقین لائے اور کئے بھلے کام باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں اور جو لو گ منکر ہیں برت رہے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے کہ کھائیں چوپائے اور آگ ہے گھر ان کا [۱۶] ﴿12﴾

    اور کتنی تھیں بستیاں جو زیادہ تھیں زور میں اس تیری بستی سے جس نے تجھ کو نکالا ہم نے انکو غارت کر دیا پھر کوئی نہیں ان کا مددگار [۱۷] ﴿13﴾

    بھلا ایک جو چلتا ہے واضح رستہ پر اپنے رب کے برابر ہے اسکے جسکو بھلا دکھلایا اس کا برا کام اور چلتے ہیں اپنی خواہشوں پر [۱۸] ﴿14﴾

    احوال اس بہشت کا جس کا وعدہ ہوا ہے ڈرنے والوں سے اس میں نہریں ہیں پانی کی جو بو نہیں کر گیا [۱۹] اور نہریں ہیں دودھ کی جس کا مزہ نہیں پھرا [۲۰] اور نہریں ہیں شراب کی جس میں مزہ ہے پینے والوں کے واسطے [۲۱] اور نہریں ہیں شہد کی جھاگ اترا ہوا [۲۲] اور انکے لئے وہاں سب طرح کے میوےہیں [۲۳] اور معافی ہے انکے رب سے [۲۴] یہ برابر ہے اسکے جو سدا رہے آگ میں اور پلایا جائے انکو کھولتا پانی تو کاٹ نکالے انکی آنتیں [۲۵] ﴿15﴾

    اور بعضے ان میں ہیں کہ کان رکھتے ہیں تیری طرف یہاں تک کہ جب نکلیں تیرے پاس سے کہتے ہیں انکو جنکو علم ملا ہے کیا کہا تھا اس شخص نے ابھی [۲۶] یہ وہی ہیں جنکے دلوں پر مہر لگا دی ہے اللہ نے اور چلے ہیں اپنی خواہشوں پر [۲۷] ﴿16﴾

    اور جو لوگ راہ پر آئے ہیں انکو اور بڑھ گئ اس سے سوجھ اور انکو اس سے ملا بچ کر چلنا [۲۸] ﴿17﴾

    اب یہی انتظار کرتے ہیں قیامت کا کہ آ کھڑی ہو ان پر اچانک سو آچکی ہیں اسکی نشانیاں پھر کہاں نصیب ہو گا انکو جب وہ آ پہنچے ان پر سمجھ پکڑنا [۲۹] ﴿18﴾

    سو تو جان لے کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے اللہ کے اور معافی مانگ اپنے گناہ کے واسطے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کے لئے [۳۰] اور اللہ کو معلوم ہے بازگشت تمہاری اور گھر تمہارا [۳۱] ﴿19﴾

    اور کہتے ہیں ایمان والے کیوں نہ اتری ایک سورت [۳۲] پھر جب اتری ایک سورت جانچی ہوئی [۳۳] اور ذکر ہوا اس میں لڑائی کا تو تو دیکھتا ہے انکو جنکے دل میں روگ ہے تکتے ہیں تیری طرف جیسے تکتا ہے کوئی بیہوش پڑا ہوا مرنے کے وقت سو خرابی ہے انکی [۳۴] ﴿20﴾

    حکم ماننا ہے اور بھلی بات کہنی پھر جب تاکید ہو کام کی تو اگر سچے رہیں اللہ سے تو ان کا بھلا ہے [۳۵] ﴿21﴾

    پھر تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تمکو حکومت مل جائے تو خرابی ڈالو ملک میں اور قطع کرو اپنی قرابتیں [۳۶] ﴿22﴾

    ایسے لوگ ہیں جن پر لعنت کی اللہ نے پھر کردیا انکو بہرا اور اندھی کردیں اُنکی آنکھیں [۳۷] ﴿23﴾

    کیا دھیان نہیں کرتے قرآن میں یا دلوں پر لگ رہے ہیں انکے قفل [۳۸] ﴿24﴾

    بیشک جو لوگ الٹے پھر گئے اپنی پیٹھ پر بعد اسکے کہ ظاہر ہو چکی ان پر سیدھی راہ شیطان نے بات بنائی انکے دل میں اور دیر کے وعدے کئے [۳۹] ﴿25﴾

    یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں سے جو بیزار ہیں اللہ کی اتاری کتاب سے ہم تمہاری بات بھی مانیں گے بعضے کاموں میں اور اللہ جانتا ہے ان کا مشورہ کرنا [۴۰] ﴿26﴾

    پھر کیسا ہوگا حال جبکہ فرشتے جان نکالیں گے اُنکی مارتے جاتے ہوں انکے منہ پر اور پیٹھ پر [۴۱] ﴿27﴾

    یہ اس لئے کہ وہ چلے اس راہ جس سے اللہ بیزار ہے اور ناپسند کی اسکی خوشی پھر اس نے اکارت کردیے انکے کیے کام [۴۲] ﴿28﴾

    کیا خیال رکھتے ہیں وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ظاہر نہ کر دے گا اُنکے کینے [۴۳] ﴿29﴾

    اگر ہم چاہیں تجھ کو دکھلا دیں وہ لوگ سو تو پہچان تو چکا ہے اُنکو اُنکے چہرہ سے اور آگے پہچان لے گا بات کے ڈھب سے [۴۴] اور اللہ کو معلوم ہیں تمہارے سب کام [۴۵] ﴿30﴾

    اور البتہ ہم تم کو جانچیں گے تا معلوم کر لیں جو تم میں لڑائی کرنے والے ہیں اور قائم رہنے والے [۴۶] اور تحقیق کر لیں تمہاری خبریں [۴۷] ﴿31﴾

    جو لوگ منکر ہوئے اور روکا انہوں نے اللہ کی راہ سے اور مخالف ہوگئے رسول سے بعد اس کے کہ ظاہر ہو چکی ان پر سیدھی راہ نہ بگاڑ سکیں گے اللہ کا کچھ اور وہ اکارت کر دے گا انکے سب کام [۴۸] ﴿32﴾

    اے ایمان والو حکم پر چلو اللہ کے اور حکم پر چلو رسول کے اور ضائع مت کرو اپنے کئے ہوئے کام [۴۹] ﴿33﴾

    جو لوگ منکر ہوئے اور روکا لوگوں کو اللہ کی راہ سے پھر مر گئے اور وہ منکر ہی رہے تو ہر گز نہ بخشے گا انکو اللہ [۵۰] ﴿34﴾

    سو تم بودے نہ ہوئے جاؤ اور (کہ) لگو پکارنے صلح [۵۱] اور تم ہی رہو گے غالب اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور نقصان نہ دے گا تمکو تمہارے کاموں میں [۵۲] ﴿35﴾

    یہ دنیا کا جینا تو کھیل ہے اور تماشا اور اگر تم یقین لاؤ گے اور بچ کر چلو گے دے گا تمکو تمہارا بدلا اور نہ مانگے گا تم سے مال تمہارے [۵۳] ﴿36﴾

    اگر مانگے تم سے وہ مال پھر تم کو تنگ کرے تو بخل کرنے لگو اور ظاہر کر دے تمہارے دل کی خفگیاں [۵۴] ﴿37﴾

    سنتے ہو تم لوگ تمکو بلاتے ہیں کہ خرچ کرو اللہ کی راہ میں [۵۵] پھر تم میں کوئی ایسا ہے کہ نہیں دیتا اور جو کوئی نہ دے گا سو نہ دے گا آپکو [۵۶] اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو [۵۷] اور اگر تم پھر جاؤگے تو بدل لے گا اور لوگ تمہارے سوائے پھر وہ نہ ہوں گے تمہاری طرح کے [۵۸] ﴿38﴾

    Surah 48
    الفتح

    [۱] ہم نے فیصلہ کر دیا تیرے واسطے صریح فیصلہ ﴿1﴾

    تا معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے [۲] اور پورا کر دے تجھ پر اپنا احسان [۳] اور چلائے تجھ کو سیدھی راہ [۴] ﴿2﴾

    اور مدد کرے تیری اللہ زبردست مدد [۵] ﴿3﴾

    وہی ہے جس نے اتارا اطمینان دل میں ایمان والوں کے تاکہ اور بڑھ جائے انکو ایمان اپنے ایمان کے ساتھ [۶] اور اللہ کے ہیں سب لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ ہے خبردار حکمت والا [۷] ﴿4﴾

    تاکہ پہنچا دے ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں نیچے بہتی ہیں انکے نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اور اتار دی اُن پر سے اُنکی برائیاں [۸] اور یہ ہے اللہ کے یہاں بڑی مراد ملتی [۹] ﴿5﴾

    اور تاکہ عذاب کرے دغاباز مردوں کو اور دغاباز عورتوں کو اور شرک والے مردوں کو اور اور شرک والی عورتوں کو [۱۰] جو اٹکلیں کرتے ہیں اللہ پر بری اٹکلیں [۱۱] انہی پر پڑے پھیر مصیبت کا [۱۲] اور غصہ ہوا اللہ اُن پر اور لعنت کی انکو اور تیار کی اُنکے واسطے دوزخ اور بری جگہ پہنچے ﴿6﴾

    اور اللہ کے ہیں سب لشکر آسمانوں کے اور زمین کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا [۱۳] ﴿7﴾

    ہم نے تجھ کو بھیجا احوال بتانے والا اور خوشی اور ڈر سنانے والا [۱۴] ﴿8﴾

    تاکہ تم لوگ یقین لاؤ اللہ پر اور اسکے رسول پر اور اسکی مدد کرو اور اسکی عظمت رکھو [۱۵] اور اُسکی پاکی بولتے رہو صبح اور شام [۱۶] ﴿9﴾

    تحقیق جو لوگ بیعت کرتے ہیں تجھ سے وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے اللہ کا ہاتھ ہے اوپر اُنکے ہاتھ کے [۱۷] پھر جو کوئی قول توڑےسو توڑتا ہے اپنے نقصان کو اور جو کوئی پورا کرے اس چیز کو جس پر اقرار کیا اللہ سے تو وہ اس کو دے گا بدلہ بہت بڑا [۱۸] ﴿10﴾

    اب کہیں گے تجھ سے پیچھے رہ جانے والے گنوار ہم کام میں لگے رہ گئے اپنے مالوں کے اور گھر والوں کے سو ہمارا گناہ بخشوا [۱۹] وہ کہتے ہیں اپنی زبان سے جو انکے دل میں نہیں [۲۰] تو کہہ کس کا کچھ بس چلتا ہے اللہ سے تمہارے واسطے اگر وہ چاہے تمہارا نقصان یا چاہے تمہارافائدہ بلکہ اللہ ہے تمہارے سب کاموں سے خبردار [۲۱] ﴿11﴾

    کوئی نہیں تم نے تو خیال کیا تھا کہ پھر کر نہ آئے گا رسول اور مسلمان اپنے گھر کبھی اور کھب گیا تمہارے دل میں یہ خیال اور اٹکل کی تم نے بری اٹکلیں اور تم لوگ تھے تباہ ہونے والے [۲۲] ﴿12﴾

    اور جو کوئی یقین نہ لائے اللہ پر اور اسکے رسول پر تو ہم نے تیار کر رکھی ہے منکروں کے واسطے دہکتی آگ ﴿13﴾

    اور اللہ کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا بخشے جسکو چاہے اور عذاب میں ڈالے جسکو چاہے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان [۲۳] ﴿14﴾

    اب کہیں گے پیچھے رہ گئے ہوئے جب تم چلو گے غنیمتیں لینے کو چھوڑ و ہم بھی چلیں تمہارے ساتھ چاہتے ہیں کہ بدل دیں اللہ کا کہا تو کہہ دے تم ہمارے ساتھ ہر گز نہ چلو گے یونہی کہہ دیا اللہ نے پہلے سے [۲۴] پھر اب کہیں گے نہیں تم تو جلتے ہو ہمارے فائدہ سے [۲۵] کوئی نہیں پر وہ نہیں سمجھتے ہیں مگر تھوڑا سا [۲۶] ﴿15﴾

    کہہ دے پیچھے رہ جانے والے گنواروں سے آئندہ تم کو بلائیں گے ایک قوم پر بڑے سخت لڑنے والے تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوں گے پھر اگر حکم مانو گے دے گا تم کو اللہ بدلہ اچھا [۲۷] اور اگر پلٹ جاؤ گے جیسے پلٹ گئے تھے پہلی بار دے گا تم کو ایک عذاب دردناک [۲۸] ﴿16﴾

    اندھے پر تکلیف نہیں اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف [۲۹] اور جو کوئی حکم مانے اللہ کا اور اس کے رسول کا اس کو داخل کرے گا باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں اور جو کوئی پلٹ جائے اسکو عذاب دے گا دردناک [۳۰] ﴿17﴾

    تحقیق اللہ خوش ہوا ایمان والوں سے جب بیعت کرنے لگے تجھ سے اس درخت کے نیچے [۳۱] پھر معلوم کیا جو اُنکے جی میں تھا [۳۲] پھر اتارا اُن پر اطمینان اور انعام دیا اُنکو ایک فتح نزدیک ﴿18﴾

    اور بہت غنیمتیں جنکو وہ لیں گے [۳۳] اور ہے اللہ زبردست حکمت والا [۳۴] ﴿19﴾

    وعدہ کیا ہے تم سے اللہ نے بہت غنیمتوں کا کہ تم اُن کو لو گے سو جلدی پہنچا دی تمکو یہ غنیمت [۳۵] اور روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے [۳۶] اور تاکہ ایک نمونہ ہو قدرت کا مسلمانوں کے واسطے [۳۷] اور چلائے تم کو سیدھی راہ [۳۸] ﴿20﴾

    اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہ آئی وہ اللہ کےقابو میں ہے اور اللہ ہرچیز کر سکتاہے [۳۹] ﴿21﴾

    اور اگرلڑتے تم سے کافر تو پھیرتے پیٹھ پھر نہ پاتے کوئی حمایتی اور نہ مددگار [۴۰] ﴿22﴾

    رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آتی ہے پہلے سے اور تو ہر گز نہ دیکھے گا اللہ کی رسم کو بدلتے [۴۱] ﴿23﴾

    اور ہی ہے جس نے روک رکھا اُنکے ہاتھوں کو تم سے اور تمہاے ہاتھوں کو ان سے بیچ شہر مکہ کے بعد اسکے کہ تمہارےہاتھ لگادیا اُنکو [۴۲] اور ہے اللہ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا [۴۳] ﴿24﴾

    یہ وہی لوگ ہیں جو منکر ہوئے اور روکا تم کو مسجد حرام سے اور نیاز کی قربانی کو بھی بند پڑی ہوئی اس بات سے کہ پہنچے اپنی جگہ تک [۴۴] اور اگر نہ ہوتے کتنے ایک مرد ایمان والے اور کتنی عورتیں ایمان والیاں جو تم کو معلوم نہیں یہ خطرہ کہ تم انکو پیس ڈالتے پھر تم پر انکی وجہ سے خرابی پڑ جاتی بیخبری سےکہ اللہ کو داخل کرنا ہے اپنی رحمت میں جسکو چاہے [۴۵] اگر وہ لوگ ایک طرف ہو جاتے تو آفت ڈالتے ہم منکروں پر عذاب دردناک کی [۴۶] ﴿25﴾

    جب رکھی منکروں نے اپنے دلوں میں کد نادانی کی ضد پھر اتارا اللہ نے اپنی طرف کا اطمینان اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر [۴۷] اور قائم رکھا انکو ادب کی بات پر اور وہی تھے اسکے لائق اور اس کام کے اور ہے اللہ ہر چیز سے خبردار [۴۸] ﴿26﴾

    اللہ نے سچ دکھلایا اپنے رسول کو خواب تحقیقی کہ تم داخل ہو رہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا آرام سے بال مونڈتے ہوئے اپنے سروں کے اور کترتے ہوئے بے کھٹکے [۴۹] پھر جانا وہ جو تم نہیں جانتے پھر مقرر کر دی اس سے ورے ایک فتح نزدیک [۵۰] ﴿27﴾

    وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول سیدھی راہ پر اور سچے دین پر [۵۱] تاکہ اوپر رکھے اسکو ہر دین سے [۵۲] اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا [۵۳] ﴿28﴾

    محمد رسول اللہ کا اور جو لوگ اسکے ساتھ ہیں زورآور ہیں کافروں پر [۵۴] نرم دل ہیں آپس میں [۵۵] تو دیکھے ان کو رکوع میں اور سجدہ میں ڈھونڈتے ہیں اللہ کا فضل اور اسکی خوشی [۵۶] نشانی اُنکی اُنکے منہ پر ہے سجدہ کے اثر سے [۵۷] یہ شان ہے انکی تورات میں اور مثال انکی انجیل میں [۵۸] جیسے کھیتی نے نکالا اپنا پٹھا پھر اُسکی کمر مضبوط کی پھر موٹا ہوا پھر کھڑا ہو گیا اپنی نال پر [۵۹] خوش لگتا ہے کھیتی والوں کو [۶۰] تاکہ جلائے ان سے جی کافروں کا [۶۱] وعدہ کیا ہے اللہ نے ان سے جو یقین لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام معافی کا اور بڑے ثواب کا [۶۲] ﴿29﴾

    Surah 49
    الحجرات

    اے ایمان والو آگے نہ بڑھو اللہ سے اور اسکے رسول سے [۱] اور ڈرتے رہو اللہ سے اللہ سنتا ہے جانتا ہے [۲] ﴿1﴾

    اے ایمان والو بلند نہ کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر اور اس سے نہ بولو تڑخ کر جیسے تڑختے ہو ایک دوسرے پر کہیں اکارت نہ ہو جائیں تمہارے کام اور تم کو خبر بھی نہ ہو [۳] ﴿2﴾

    جو لوگ دبی آواز سے بولتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہی ہیں جنکے دلوں کو جانچ لیا ہے اللہ نے ادب کے واسطے [۴] انکے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا [۵] ﴿3﴾

    جو لوگ پکارتے ہیں تجھ کو دیوار کے پیچھے سے وہ اکثر عقل نہیں رکھتے ﴿4﴾

    اور اگر وہ صبر کرتے جب تک تو نکلتا اُنکی طرف تو اُنکے حق میں بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۶] ﴿5﴾

    اے ایمان والو اگر آئے تمہارے پاس کوئی گنہگار خبر لے کر تو تحقیق کر لو کہیں جا نہ پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو اپنے کئے پر لگو پچتانے [۷] ﴿6﴾

    اور جان لو کہ تم میں رسول ہے اللہ کا اگر وہ تمہاری بات مان لیا کرے بہت کاموں میں تو تم پر مشکل پڑے [۸] پر اللہ نے محبت ڈال دی تمہارے دل میں ایمان کی اور کھبا دیا اسکو تمہارے دلوں میں اور نفرت ڈال دی تمہارے دل میں کفر اور گناہ اور نافرمانی کی وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر ﴿7﴾

    اللہ کے فضل سے اور احسان سے [۹] اور اللہ سب کچھ جانتا ہے حکمتوں والا ہے [۱۰] ﴿8﴾

    اور اگر دو فریق مسلمانوں کے آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں ملاپ کرا دو پھر اگر چڑھا چلا جائے ایک ان میں سے دوسرے پر تو تم سب لڑو اس چڑھائی والے سے یہاں تک کہ پھر آئے اللہ کے حکم پر پھر اگر پھر آیا تو ملاپ کرا دو ان میں برابر اور انصاف کرو بیشک اللہ کو خوش آتے ہیں انصاف والے [۱۱] ﴿9﴾

    مسلمان ہو ہیں سو بھائی ہیں سو ملاپ کرا دو اپنے دو بھائیوں میں اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم پر رحم ہو [۱۲] ﴿10﴾

    اے ایمان والون ٹھٹھا نہ کریں ایک لوگ دوسروں سے شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے شیاد وہ بہتر ہوں ان سے اور عیب نہ لگاؤ ایک دوسرےکو اور نام نہ ڈالو چڑانے کو ایک دوسرے کے [۱۳] برا نام ہے گنہگاری پیچھے ایمان کے [۱۴] اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہیں بے انصاف [۱۵] ﴿11﴾

    اے ایمان والو بچتے رہو بہت تہمتیں کرنے سے مقرر بعضی تہمت گناہ ہے اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا اور برا نہ کہیو پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کو [۱۶] بھلا خوش لگتا ہے تم میں کسی کو کہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جو مردہ ہو سو گھن آتا ہے تم کو اس سے [۱۷] اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ معاف کرنے والا ہے مہربان [۱۸] ﴿12﴾

    اے آدمیو ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سےاور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسکی کو بڑی جسکو ادب بڑا [۱۹] اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار [۲۰] ﴿13﴾

    کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے تو کہہ تم ایما ن نہیں لائے پر تم کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی نہیں گھُسا ایمان تمہارے دلوں میں [۲۱] اور اگر ھم پر چلو گے اللہ کے اور اسکے رسول کے کاٹ نہ لے گا تمہارے کاموں میں سے کچھ اللہ بخشتا ہے مہربان ہے۔ [۲۲] ﴿14﴾

    ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اسکے رسول پر پھر شبہ نہ لائے اور لڑے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے وہ لوگ جو ہیں وہی ہیں سچے [۲۳] ﴿15﴾

    تو کہہ کیا تم جتلاے ہو اللہ کو اپنی دینداری اور اللہ کو تو خبر ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے [۲۴] ﴿16﴾

    تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوئے [۲۵] تو کہہ مجھ پر احسان نہ رکھو اپنے اسلام لانے کا بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو راہ دی ایمان کی اگر سچ کہو [۲۶] ﴿17﴾

    اللہ جانتا ہے چھپے بھید آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو [۲۷] ﴿18﴾

    Surah 50
    ق

    ق۔قسم ہے اس قرآن بڑی شان والے کی ﴿1﴾

    بلکہ انکو تعجب ہوا کہ آیا اُنکے پاس ڈر سنانے والا اُنہی میں کا تو کہنے لگے منکر یہ تعجب کی چیز ہے ﴿2﴾

    کیا جب ہم مر چکیں اور ہو جائیں مٹی یہ پھر آنا بہت دور ہے [۱] ﴿3﴾

    ہم کو معلوم ہے جتنا گھٹاتی ہے زمین اُن میں سے [۲] اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے [۳] ﴿4﴾

    کوئی نہیں پر جھٹلاتے ہیں سچے دین کو جب اُن تک پہنچا سو وہ پڑ رہے ہیں الجھی ہوئی بات میں [۴] ﴿5﴾

    کیا نہیں دیکھتے آسمان کو اپنے اوپر کیساہم نے اسکو بنایا اور رونق دی اور اس میں نہیں کوئی سوراخ [۵] ﴿6﴾

    اور زمین کوپھیلایا اور ڈالے اس میں بوجھ اور اگائی اس میں ہر ہر قسم کی رونق کی چیز ﴿7﴾

    سُجھانے کو اور یاد دلانے کو اُس بندہ کے لئے جو رجوع کرے [۶] ﴿8﴾

    اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی برکت کا پھر اگائے ہم نے اُس سے باغ اور اناج جس کا کھیت کاٹا جاتا ہے [۷] ﴿9﴾

    اور کھجوریں لنبی اُن کا خوشہ ہے تہ بہ تہ [۸] ﴿10﴾

    روزی دینے کو بندوں کے اور زندہ کیا ہم نے اُس سے ایک مردہ دیس کو یونہی ہو گا نکل کھڑے ہونا [۹] ﴿11﴾

    جھٹلا چکے ہیں اُن سے پہلے نوح کی قوم اور کنوے والے اور ثمود ﴿12﴾

    اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی ﴿13﴾

    اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم [۱۰] ان سب نے جھٹلایا رسولوں کو پر ٹھیک پڑا میرا ڈرانا [۱۱] ﴿14﴾

    اب کیا ہم تھک گئے پہلی بار بنا کر کوئی نہیں اُنکو دھوکا ہے ایک نئے بنانے میں [۱۲] ﴿15﴾

    اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتےہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اُسکے جی میں [۱۳] اور ہم اُس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ [۱۴] ﴿16﴾

    جب لیتے لجاتے ہیں دو لینے والے داہنے بیٹھا اور بائیں بیٹھا [۱۵] ﴿17﴾

    نہیں بولتا کچھ بات جو نہیں ہوتا اُس کے پاس ایک راہ دیکھنے والا تیار [۱۶] ﴿18﴾

    اور وہ آئی بیہوشی موت کی تحقیق [۱۷] یہ وہ ہے جس سے تو ٹلتا رہتا تھا [۱۸] ﴿19﴾

    اور پھونکا گیا صور یہ ہے دن ڈرانے کا [۱۹] ﴿20﴾

    اور آیا ہر ایک جی اس کے ساتھ ہے ایک ہانکنے والا ایک احوال بتانے والا [۲۰] ﴿21﴾

    تو بیخبر رہا اس دن سے اب کھول دی ہے ہم نے تجھ پر سے تیری اندھیری سو تیری نگاہ آج تیز ہے [۲۱] ﴿22﴾

    اور بولا فرشتہ اسکے ساتھ والا یہ ہے جو میرے پاس تھا حاضر [۲۲] ﴿23﴾

    ڈال دو تم دونوں دوزخ میں ہر ناشکر مخالف کو ﴿24﴾

    نیکی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ ڈالنے والا [۲۳] ﴿25﴾

    جس نے ٹھہرایا اللہ کے ساتھ اور کو پوجنا سو ڈال دو اُسکو سخت عذاب میں [۲۴] ﴿26﴾

    بولا شیطان اُس کا ساتھی اے رب ہمارےمیں نے اُسکو شرارت میں نہیں ڈالا پر یہ تھا راہ کو بھولا دور پڑا ہوا [۲۵] ﴿27﴾

    فرمایا جھگڑا نہ کرو میرے پاس اور میں پہلےہی ڈرا چکا تھا تم کو عذاب سے [۲۶] ﴿28﴾

    بدلتی نہیں بات میرے پاس اور میں ظلم نہیں کرتا بندوں پر [۲۷] ﴿29﴾

    جس دن ہم کہیں دوزخ کو تو بھر بھی چکی اور وہ بولے کچھ اور بھی ہے [۲۸] ﴿30﴾

    اور نزدیک لائی جائے بہشت ڈرنے والوں کے واسطے دور نہیں [۲۹] ﴿31﴾

    یہ ہے جس کا وعدہ ہوا تھا تم سے ہر ایک رجوع رہنے والے یاد رکھنے والے کے واسطے ﴿32﴾

    جو ڈرا رحمٰن سے بن دیکھے اور لایا دل رجوع ہونے والا ﴿33﴾

    چلے جاؤ اس میں سلامت [۳۰] یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا [۳۱] ﴿34﴾

    اُنکے واسطے ہے وہاں جو چاہیں اور ہمارے پاس ہے کچھ دیا وہ بھی [۳۲] ﴿35﴾

    اور کتنی تباہ کر چکے ہم ان سے پہلے جماعتیں کہ انکی قوت زبردست تھی اُن سے پھر لگے کریدنے شہروں میں کہیں ہے بھاگ جانے کو ٹھکانہ [۳۳] ﴿36﴾

    اس میں سوچنے کی جگہ ہے اُسکو جسکے اندر دل ہے یا لگائے کان دل لگا کر [۳۴] ﴿37﴾

    اور ہم نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن کے بیچ میں ہے چھ دن میں [۳۵] اور ہم کو نہ ہوا کچھ تکان [۳۶] ﴿38﴾

    سو تو سہتا رہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اور پاکی بولتا رہ خوبیاں اپنے رب کی [۳۷] پہلے سورج نکلنے سے اور پہلے ڈوبنے سے ﴿39﴾

    اور کچھ رات میں بول اسکی پاکی [۳۸] اور پیچھے سجدہ کے [۳۹] ﴿40﴾

    اور کان رکھ جس دن پکارے پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے [۴۰] ﴿41﴾

    جس دن سُنیں گے چنگھاڑ محقق وہ ہے دن نکل پڑنے کا [۴۱] ﴿42﴾

    ہم ہیں جِلاتے اور مارتے اور ہم تک ہے سب کو پہنچنا [۴۲] ﴿43﴾

    جس دن زمین پھٹ کر نکل پڑیں وہ سب دوڑتے ہوئے یہ اکٹھا کرنا ہم کو آسان ہے [۴۳] ﴿44﴾

    ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں اور تو نہیں ہے اُن پر زور کرنے والا سو توسجھا قرآن سے اُس کو جو ڈرے میرے ڈرانے سے [۴۴] ﴿45﴾

    Surah 51
    الذاریات

    قسم ہے اُن ہواؤں کی جو بکھیرتی ہیں اڑا کر ﴿1﴾

    پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو ﴿2﴾

    پھر چلنے والیاں نرمی سے ﴿3﴾

    پھر بانٹنے والیاں حکم سے [۱] ﴿4﴾

    بیشک جو وعدہ کیا ہے تم سے سچ ہے ﴿5﴾

    اور بیشک انصاف ہونا ضرور ہے [۲] ﴿6﴾

    قسم ہے آسمان جالدار (جالیدار) کی [۳] ﴿7﴾

    تم پڑ رہے ہو ایک جھگڑے کی بات میں ﴿8﴾

    آُس سے باز رہے وہی جو پھیرا گیا [۴] ﴿9﴾

    مارے پڑے اٹکل دوڑانے والے [۵] ﴿10﴾

    وہ جو غفلت میں ہیں بھول رہے [۶] ﴿11﴾

    پوچھتے ہیں کب ہے دن انصاف کا [۷] ﴿12﴾

    جس دن وہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے ﴿13﴾

    چکھو مزا اپنی شرارت کا یہ ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے [۸] ﴿14﴾

    البتہ ڈرنے والے باغوں میں ہیں اور چشموں میں ﴿15﴾

    لیتے ہیں جو دیا اُنکو اُنکے رب نے [۹] وہ تھے اس سے پہلے نیکی والے [۱۰] ﴿16﴾

    وہ تھے رات کو تھوڑا سوتے ﴿17﴾

    اور صبح کے وقتوں میں معافی مانگنے والے [۱۱] ﴿18﴾

    اور اُنکے مال میں حصہ تھا مانگنے والوں کا اور ہارے ہوئے کا [۱۲] ﴿19﴾

    اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے واسطے ﴿20﴾

    اور خود تمہارے اندر سو کیا تم کو سوجھتا نہیں [۱۳] ﴿21﴾

    اور آسمان میں ہے روزی تمہاری اور جو تم سے وعدہ کیا گیا [۱۴] ﴿22﴾

    سو قسم ہے رب آسمان اور زمین کی کہ یہ بات تحقیق ہے جیسے کہ تم بولتے ہو [۱۵] ﴿23﴾

    کیا پہنچی ہے تجھ کو بات ابراہیم کے مہمانوں کی جو عزت والے تھے [۱۶] ﴿24﴾

    جب اندر پہنچے اُسکے پاس تو بولے سلام وہ بولا سلام ہے یہ لوگ ہیں اوپرے [۱۷] ﴿25﴾

    پھر دوڑا اپنے گھر کو تو لے آیا ایک بچھڑا گھی میں تلا ہوا ﴿26﴾

    پھر اُنکے سامنے رکھا کہا کیوں تم کھاتے نہیں [۱۸] ﴿27﴾

    پھر جی میں گھبرایا اُن کے ڈر سے بولے تو مت ڈر اور خوشخبری دی اُسکو ایک لڑکے ہوشیار کی [۱۹] ﴿28﴾

    پھر سامنے سے آئی اسکی عورت بولتی ہوئی پھر پیٹا اپنا ماتھا اور کہنے لگی کہیں بڑھیا بانجھ [۲۰] ﴿29﴾

    وہ بولے یوں ہی کہا تیرے رب نے وہ جو ہے وہی ہے حکمت والا خبردار [۲۱] ﴿30﴾

    بولا پھر کیا مطلب ہے تمہارا اے بھیجے ہوؤ [۲۲] ﴿31﴾

    وہ بولے ہم کو بھیجا ہے ایک گنہگار قوم پر ﴿32﴾

    کہ چھوڑیں ہم اُن پر پتھر مٹی کے [۲۳] ﴿33﴾

    نشان پڑے ہوئے تیرے رب کے یہاں سے حد سے نکل چلنے والوں کے لئے [۲۴] ﴿34﴾

    پھر بچا نکالا ہم نے جو تھا وہاں ایمان والا ﴿35﴾

    پھر نہ پایا ہم نے اس جگہ سوائے ایک گھر کے مسلمانوں سے [۲۵] ﴿36﴾

    اور باقی رکھا ہم نے اُس میں نشان اُن لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں عذاب دردناک سے [۲۶] ﴿37﴾

    اور نشانی ہے موسٰی کے حال میں جب بیجھا ہم نے اُسکو فرعون کے پاس دے کر کھلی سند [۲۷] ﴿38﴾

    پھر اُس نے منہ موڑ لیا اپنے زور پر اور بولا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ [۲۸] ﴿39﴾

    پھر پکڑا ہم نے اُسکو اور اُسکے لشکروں کو پھر پھینک دیا اُنکو دریا میں اور اُس پر لگا الزام [۲۹] ﴿40﴾

    اور نشانی ہے عاد میں جب بھیجی ہم نے اُن پر ہوا خیر سے خالی ﴿41﴾

    نہیں چھوڑتی کسی چیز کو جس پر گذرے کہ نہ کر ڈالے اسکو جیسے چورا [۳۰] ﴿42﴾

    اور نشانی ہے ثمود میں جب کہا اُنکو برت لو ایک وقت تک [۳۱] ﴿43﴾

    پھر شرارت کرنے لگے اپنے رب کے حکم سے پھر پکڑا اُنکو کڑک نے اور وہ دیکھتے تھے ﴿44﴾

    پھر نہ ہو سکا اُن سے کہ اٹھیں اور نہ ہوئے کہ بدلا لیں [۳۲] ﴿45﴾

    اور ہلاک کیا نوح کی قوم کو اس سے پہلے تحقیق وہ تھے لوگ نافرمان [۳۳] ﴿46﴾

    اور بنایا ہم نے آسمان ہاتھ کے بل سے اور ہم کو سب مقدور ہے [۳۴] ﴿47﴾

    اور زمین کو بچھایا ہم نے سو کیا خوب بچھانا جانتے ہیں ہم [۳۵] ﴿48﴾

    اور ہر چیز کے بنائے ہم نے جوڑے تاکہ تم دھیان کرو [۳۶] ﴿49﴾

    سو بھاگو اللہ کی طرف میں تم کو اُسکی طرف سے ڈر سناتا ہوں کھول کر ﴿50﴾

    اور مٹ ٹھہراؤ اللہ کے ساتھ اور کسی کو معبود میں تم کو اُسکی طرف سے ڈر سناتا ہوں کھول کر [۳۷] ﴿51﴾

    اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو رسول آیا اُس کو یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ [۳۸] ﴿52﴾

    کیا یہی وصیت کر مرےہیں ایک دوسرے کو کوئی نہیں پر یہ لوگ شریر ہیں [۳۹] ﴿53﴾

    سو تو لوٹ آنکی طرف سے اب تجھ پر نہیں ہے الزام ﴿54﴾

    اور سمجھاتا رہ کہ سمجھانا کام آتا ہے ایمان والوں کو [۴۰] ﴿55﴾

    اور میں نے جو بنائے جن اور آدمی سو اپنی بندگی کو [۴۱] ﴿56﴾

    میں نہیں چاہتا اُن سے روزینہ اور نہیں چاہتا کہ مجھ کو کھلائیں ﴿57﴾

    اللہ جو ہے وہی ہے روزی دینے والا زور آور مضبوط [۴۲] ﴿58﴾

    سو ان گنہگاروں کا بھی ڈول بھر چکا ہے جیسے ڈول بھرا اُنکے ساتھیوں کا اب مجھ سے جلدی نہ کریں [۴۳] ﴿59﴾

    سو خرابی ہے منکروں کو اُنکے اس دن سے جس کا اُن سے وعدہ ہو چکا ہے [۴۴] ﴿60﴾

    Surah 52
    الطور

    قسم ہے طور کی [۱] ﴿1﴾

    اور لکھی ہوئی کتاب کی ﴿2﴾

    کشادہ ورق میں [۲] ﴿3﴾

    اور آباد گھر کی [۳] ﴿4﴾

    اور اونچی چھت کی [۴] ﴿5﴾

    اور اُبلتے ہوئے دریا کی [۵] ﴿6﴾

    بیشک عذاب تیرے رب کا ہو کر رہے گا ﴿7﴾

    اُسکو کوئی نہیں ہٹانے والا [۶] ﴿8﴾

    جس دن لرزے آسمان کپکپا کر [۷] ﴿9﴾

    اور پھریں پہاڑ چل کر [۸] ﴿10﴾

    سو خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کو ﴿11﴾

    جو باتیں بناتے ہیں کھیلتے ہوئے [۹] ﴿12﴾

    جس دن کہ دھکیلے جائیں دوزخ کی طرف دھکیل کر ﴿13﴾

    یہ ہے وہ آگ جسکو تم جھوت جانتے تھے [۱۰] ﴿14﴾

    اب بھلا یہ جادو ہے یا تم کو نہیں سوجھتا [۱۱] ﴿15﴾

    چلے جاؤ اسکے اندر پھر تم صبر کرو یا نہ صبر کرو تم کو برابر ہے وہی بدلا پاؤ گے جو کچھ تم کرتے تھے [۱۲] ﴿16﴾

    جو ڈرنے والے ہیں وہ باغوں میں ہے اور نعمت میں ﴿17﴾

    میوے کھاتے ہوئے جو اُنکو دیے اُنکے رب نے اور بچایا اُنکے رب نے دوزخ کے عذاب سے [۱۳] ﴿18﴾

    کھاؤ اور پیو رچتا ہوا بدلا اُن کاموں کا جو تم کرتے تھے ﴿19﴾

    تکیہ لگائے بیٹھے تختوں پر برابر بچھے ہوئے قطار باندھ کر [۱۴] اور بیاہ دیں ہم اُنکو حوریں بڑی آنکھوں والیاں ﴿20﴾

    اور جو لوگ یقین لائے اور اُنکی راہ پر چلی اُنکی اولاد ایمان سے پہنچا دیا ہم نے اُن تک اُنکی اولاد کو اور گھٹایا نہیں ہم نے اُن سے ان کا کیا ذرا بھی [۱۵] ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہے [۱۶] ﴿21﴾

    اور تار لگا دیا ہم نے اُن پر میووں کا اور گوشت کا جس چیز کو جی چاہے [۱۷] ﴿22﴾

    جھپٹتے ہیں وہاں پیالا نہ بکنا ہے اُس شراب میں اور نہ گناہ میں ڈالنا [۱۸] ﴿23﴾

    اور پھرتے ہیں اُنکے پاس چھوکرے اُنکے گویا وہ موتی ہیں اپنے غلاف کے اندر [۱۹] ﴿24﴾

    اور منہ کیا بعضوں نے دوسروں کی طرف آپس میں پوچھتے ہوئے ﴿25﴾

    بولے ہم بھی تھے اس سے پہلے اپنے گھروں میں ڈرتے رہتے ﴿26﴾

    پھر احسان کیا اللہ نے ہم پر اور بچا دیا ہم کو لوُ کے عذاب سے ﴿27﴾

    ہم پہلےسے پکارتے تھے اُسکو بیشک وہی ہے نیک سلوک والا مہربان [۲۰] ﴿28﴾

    اب تو سمجھا دے کہ تو اپنے رب کے فضل سےنہ جنوں سےخبر لینے والا ہے اور نہ دیوانہ [۲۱] ﴿29﴾

    کیا کہتےہیں یہ شاعر ہے ہم منتظر ہیں اُس پر گردش زمانہ کے [۲۲] ﴿30﴾

    تو کہہ تم منتظر رہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں [۲۳] ﴿31﴾

    کیا اُنکی عقلیں یہی سکھلاتی ہیں اُنکو یا یہ لوگ شرارت پر ہیں [۲۴] ﴿32﴾

    یا کہتے ہیں یہ قرآن خود بنا لایا ہے کوئی نہیں پر وہ یقین نہیں کرتے ﴿33﴾

    پھر چاہئے کہ لے آئیں کوئی بات اسی طرح کی اگر وہ سچے ہیں [۲۵] ﴿34﴾

    کیا وہ بن گئے ہیں آپ ہی آپ یا وہی ہیں بنانے والے ﴿35﴾

    یا انہوں نے بنایا ہے آسمانوں کو اور زمین کو کوئی نہیں پر وہ یقین نہیں کرتے [۲۶] ﴿36﴾

    کیا اُنکے پاس ہیں خزانے تیرے رب کے یا وہی داروغہ ہیں [۲۷] ﴿37﴾

    کیا اُنکے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر سُن آتے ہیں تو چاہیے کہ لے آئے جو سنتا ہے اُن میں ایک سند کھلی ہوئی [۲۸] ﴿38﴾

    کیا اُسکے یہاں بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے [۲۹] ﴿39﴾

    کیا تو مانگتا ہے اُن سے کچھ بدلا سو ان پر تاوان کا بوجھ ہے [۳۰] ﴿40﴾

    کیا انکو خبر ہے بھید کی سو وہ لکھ رکھتے ہیں [۳۱] ﴿41﴾

    کیا چاہتےہیں کہ کچھ داؤ کرنا سو جو منکر ہیں وہی آتے ہیں داؤ میں [۳۲] ﴿42﴾

    کیا اُن کا کوئی حاکم ہے اللہ کے سوائے وہ اللہ پاک ہے اُنکے شریک بنانے سے [۳۳] ﴿43﴾

    اور اگر دیکھیں ایک تختہ آسمان سے گرتا ہوا کہیں یہ بادل ہے گاڑھا [۳۴] ﴿44﴾

    سو تو چھوڑ دے اُنکو یہاں تک کہ دیکھ لیں اپنے اُس دن کو جس میں اُن پر پڑے گی بجلی کی کڑک ﴿45﴾

    جس دن کام نہ آئے گا اُنکو اُن کا داؤ ذرا بھی اور نہ اُنکو مدد پہنچے گی [۳۵] ﴿46﴾

    اور اِن گنہگاروں کے لئے ایک عذاب ہے اُس سے ورے پر بہت اُن میں کے نہیں جانتے [۳۶] ﴿47﴾

    اور تو ٹھہرا رہ منتظر اپنے رب کے حکم کا تو تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے [۳۷] اور پاکی بیان کر اپنے رب کی خوبیاں جس وقت تو اٹھتا ہے [۳۸] ﴿48﴾

    اور کچھ رات میں بول اُسکی پاکی اور پیٹھ پھیرتے وقت تاروں کے [۳۹] ﴿49﴾

    Surah 53
    النجم

    قسم ہے تارے کی جب گرے [۱] ﴿1﴾

    بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بے راہ چلا [۲] ﴿2﴾

    اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے ﴿3﴾

    یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا [۳] ﴿4﴾

    اُسکو سکھلایا ہے سخت قوتوں والے نے زورآور نے [۴] ﴿5﴾

    پھر سیدھا بیٹھا ﴿6﴾

    اور وہ تھا اُونچے کنارے پر آسمان کے [۵] ﴿7﴾

    پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا ﴿8﴾

    پھر رہ گیا فرق دو کمان کی برابر یا اس سے بھی نزدیک ﴿9﴾

    پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا [۶] ﴿10﴾

    جھوٹ نہیں کہا رسول کے دل نے جو دیکھا [۷] ﴿11﴾

    اب کیا تم اُس سے جھگڑتے ہو اُس پر جو اُس نے دیکھا [۱۸] ﴿12﴾

    اور اُسکو اُس نے دیکھا ہے اترتے ہوئے ایک بار اور بھی ﴿13﴾

    سدرۃ المنتہٰی کے پاس ﴿14﴾

    اُس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی [۹] ﴿15﴾

    جب چھا رہا تھا اُس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا [۱۰] ﴿16﴾

    بہکی نہیں نگاہ اور نہ حد سے بڑھی [۱۱] ﴿17﴾

    بیشک دیکھے اُس نے اپنے رب کے بڑے نمونے [۱۲] ﴿18﴾

    بھلا دیکھو تو لات اور عزّیٰ کو ﴿19﴾

    اور منات تیسرے پچھلے کو [۱۳] ﴿20﴾

    کیا تم کو تو ملے بیٹے اور اُسکو بیٹیاں ﴿21﴾

    یہ بانٹا تو بہت بھونڈا [۱۴] ﴿22﴾

    یہ سب نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے اللہ نے نہیں اتاری اُنکی کوئی سند [۱۵] محض اٹکل پرچلتے ہیں اور جو جیوں کی امنگ ہے اور پہنچی ہے اُنکو اُنکے رب سے راہ کی سوجھ [۱۶] ﴿23﴾

    کہیں آدمی کو ملتا ہے جوکچھ چاہے ﴿24﴾

    سو اللہ کے ہاتھ ہے سب بھلائی پچھلی اور پہلی [۱۷] ﴿25﴾

    اور بہت فرشتے ہیں آسمانوں میں کچھ کام نہیں آتی اُنکی سفارش مگر جب حکم دے اللہ جسکے واسطے چاہے اور پسند کرے [۱۸] ﴿26﴾

    جو لوگ یقین نہیں رکھتے آخرت کا وہ نام رکھتے ہیں فرشتوں کے زنانے نام ﴿27﴾

    اور اُنکو اُس کی کچھ خبر نہیں محض اٹکل پر چلتےہیں اوراٹکل کچھ کام نہ آئے ٹھیک بات میں [۱۹] ﴿28﴾

    سو تو دھیان نہ کر اُس پر جو منہ موڑے ہماری یاد سے اور کچھ نہ چاہے مگر دنیا کا جینا ﴿29﴾

    بس یہیں تک پہنچی اُنکی سمجھ [۲۰] تحقیق تیرا رب ہی خوب جانے اُسکو جو بہکا اُسکی راہ سے اور وہی خوب جانے اُسکو جو راہ پر آیا [۲۱] ﴿30﴾

    اور اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں تاکہ وہ بدلا دے برائی والوں کو اُنکے کئے کا اور بدلا دے بھلائی والوں کو بھلائی سے [۲۲] ﴿31﴾

    جو کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بیحیائی کے کاموں سے مگر کچھ آلودگی [۲۳] بیشک تیرے رب کی بخشش میں بڑی سمائی ہے [۲۴] وہ تم کو خوب جانتا ہے جب بنا نکالا تم کو زمین سے اور جب تم بچے تھے ماں کے پیٹ میں سو مت بیان کر اپنی خوبیاں وہ خوب جانتا ہے اُس کو جو بچ کرچلا [۲۵] ﴿32﴾

    بھلا تو نے دیکھا اُس کو جس نے منہ پھیر لیا [۲۶] ﴿33﴾

    اور لایا تھوڑا سا اور سخت نکلا [۲۷] ﴿34﴾

    کیا اُسکے پاس خبر ہے غیب کی سو وہ دیکھتا ہے [۲۸] ﴿35﴾

    کیا اسکو خبر نہیں پہنچی اُسکی جو ہے ورقوں میں موسٰی کے ﴿36﴾

    اور ابراہیم کے جس نے کہ اپنا قول پورا اتارا [۲۹] ﴿37﴾

    کہ اٹھاتا نہیں کوئی اٹھانے والا بوجھ کسی دوسرے کا [۳۰] ﴿38﴾

    اور یہ کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اُس نے کمایا [۳۱] ﴿39﴾

    اور یہ کہ اُسکی کمائی اُسکو دکھلانی ضرور ہے ﴿40﴾

    پھر اُسکو بدلا ملنا ہے اُس کا پورا بدلا [۳۲] ﴿41﴾

    اور یہ کہ تیرے رب تک سب کو پہنچنا ہے [۳۳] ﴿42﴾

    اور یہ کہ وہی ہے ہنساتا اور رلاتا ﴿43﴾

    اور یہ کہ وہی ہے مارتا اور جِلاتا ﴿44﴾

    اور یہ کہ اُس نے بنایا جوڑا نر اور مادہ [۳۴] ﴿45﴾

    ایک بوند سے جب ٹپکائی جائے ﴿46﴾

    اور یہ کہ اُس کے ذمہ ہے دوسری دفعہ اٹھانا [۳۵] ﴿47﴾

    اور یہ کہ اُس نے دولت دی اور خزانہ [۳۶] ﴿48﴾

    اور یہ کہ وہی ہے رب شعریٰ کا [۳۷] ﴿49﴾

    اور یہ کہ اُس نے غارت کیا عاد پہلے کو [۳۸] ﴿50﴾

    اور ثمود کو پھر کسی کو باقی نہ چھوڑا ﴿51﴾

    اور نوح کی قوم کو پہلے ان سے وہ تو تھے اور بھی ظالم اور شریر [۳۹] ﴿52﴾

    اور اُلٹی بستی کو پٹک دیا ﴿53﴾

    پھر آ پڑا اس پرجو کچھ کہ آ پڑا [۴۰] ﴿54﴾

    اب تو کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلائے گا [۴۱] ﴿55﴾

    یہ ایک ڈر سنانے والا ہے پہلے سنانے والوں میں کا [۴۲] ﴿56﴾

    آ پہنچی آنے والی ﴿57﴾

    کوئی نہیں اُسکو اللہ کے سوائے کھول کر دکھانے والا [۴۳] ﴿58﴾

    کیا تمکو اس بات سےتعجب ہوا ہے ﴿59﴾

    اور ہنستےہو اور روتے نہیں ﴿60﴾

    اور تم کھلاڑیاں کرتے ہو [۴۴] ﴿61﴾

    سو سجدہ کرو اللہ کے آگے اور بندگی [۴۵] ﴿62﴾

    Surah 54
    القمر

    پاس آ لگی قیامت اور پھٹ گیا چاند [۱] ﴿1﴾

    اور اگر وہ دیکھیں کوئی نشانی تو ٹلا جائیں اورکہیں یہ جادو ہے پہلے سے چلا آتا [۲] ﴿2﴾

    اور جھٹلایا اور چلے اپنی خوشی پر اور ہر کام ٹھہرا رکھا ہے وقت پر [۳] ﴿3﴾

    اور پہنچ چکے ہیں اُنکے پاس احوال جن میں ڈانٹ ہو سکتی ہے [۴] ﴿4﴾

    پوری عقل کی بات ہے پھر اُن میں کام نہیں کرتے ڈر سنانے والے ﴿5﴾

    سو تو ہٹ آ اُنکی طرف سے [۵] جس دن پکارے پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف [۶] ﴿6﴾

    آنکھیں جھکائے [۷] نکل پڑیں قبروں سے جیسے ٹڈی پھیلی ہوئی ﴿7﴾

    دوڑتے جائیں اُس پکارنے والے کے پا س [۸] کہتے جائیں مُنکر یہ دن مشکل آیا [۹] ﴿8﴾

    جھٹلا چکی ہے اُن سے پہے نوح کی قوم پھر جھوٹا کہا ہمارے بندے کو اور بولے دیوانہ ہے اور جھڑک لیا اُسکو [۱۰] ﴿9﴾

    پھر پکارا اپنے رب کو کہ میں عاجز ہو گیا ہوں تو بدلا لے [۱۱] ﴿10﴾

    پھر ہم نے کھول دئے دہانے آسمان کے پانی ٹوٹ کر برسنے والے سے ﴿11﴾

    اور بہا دیے زمین پر چشمے پھر مل گیا سب پانی ایک کام پر جو ٹھہر چکا تھا [۱۲] ﴿12﴾

    اور ہم نے اُسکو سوار کر دیا ایک تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر ﴿13﴾

    بہتی تھی ہماری آنکھوں کےسامنے [۱۳] بدلا لینے کو اس کی طرف سے جسکی قدر نہ جانی تھی [۱۴] ﴿14﴾

    اور اُسکو ہم نے رہنے دیا نشانی کے لئے پھر کوئی ہے سوچنے والا [۱۵] ﴿15﴾

    پھر کیسا تھا میرا عذاب اور میرا کھڑکھڑانا [۱۶] ﴿16﴾

    اور ہم نے آسان کر دیا قرآن سمجھنے کو پھر ہےکوئی سوچنے والا [۱۷] ﴿17﴾

    جھٹلایا عاد نے پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا کھڑکھڑانا ﴿18﴾

    ہم نے بھیجی اُن پر ہوا تند ایک نحوست کے دن جو چلے گئ [۱۸] ﴿19﴾

    اکھاڑ مارا لوگوں کو گویا وہ جڑیں ہیں کھجور کی اکھڑی پڑی [۱۹] ﴿20﴾

    پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا کھڑکھڑانا ﴿21﴾

    اور ہم نے آسان کر دیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا ﴿22﴾

    جھٹلایا ثمود نے ڈر سنانے والوں کو [۲۰] ﴿23﴾

    پھر کہنے لگے کیا ایک آدمی ہم میں کا اکیلا ہم اس کے کہے پر چلیں گے تو تو ہم غلطی میں پڑے اور سودا میں [۲۱] ﴿24﴾

    کیا اتری اُسی پر نصیحت ہم سب میں سے کوئی نہیں یہ جھوٹ ہے بڑائی مارتا ہے [۲۲] ﴿25﴾

    اب جان لیں گے کل کو کون ہے جھوٹا بڑائی مارنے والا [۲۳] ﴿26﴾

    ہم بھیجتے ہیں اونٹنی اُنکے جانچنے کے واسطے [۲۴] سو انتطار کر اُن کا اور سہتا رہ [۲۵] ﴿27﴾

    اور سنا دے اُنکو کہ پانی کا بانٹا ہے اُن میں ہر باری پر پہنچنا چاہئے [۲۶] ﴿28﴾

    پھر پکارا انہوں نے اپنے رفیق کو پھر ہاتھ چلایا اور کاٹ ڈالا [۲۷] ﴿29﴾

    پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا کھڑکھڑانا ﴿30﴾

    ہم نے بھیجی اُن پر ایک چنگھاڑ پھر رہ گئے جیسے روندی ہوئی باڑ کانٹوں کی [۲۸] ﴿31﴾

    اور ہم نے آسان کر دیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا ﴿32﴾

    جھٹلایا لوط کی قوم نے ڈر سنانے والے کو [۲۹] ﴿33﴾

    ہم نے بھیجی اُن پر آندھی پتھر برسانے والی سوائے لوط کے گھر کے انکو ہم نے بچا دیا پچھلی رات سے ﴿34﴾

    فضل سے اپنی طرف کے ہم یوں بدلا دیتے ہیں اسکو جو حق مانے [۳۰] ﴿35﴾

    اور وہ ڈرا چکا تھا اُنکو ہماری پکڑ سے پھر لگے مکرانے ڈرانے کو [۳۱] ﴿36﴾

    اور اُس سے لینے لگے اُسکے مہمانوں کو پس ہم نے مٹا دیں اُن کی آنکھیں اب چکھو میرا عذاب اور ڈرانا [۳۲] ﴿37﴾

    اور پڑ ا اُن پر صبح کو سویرے عذاب جو ٹھہر چکا تھا ﴿38﴾

    اب چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا [۳۳] ﴿39﴾

    اور ہم نے آسان کر دیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا ﴿40﴾

    اور پہنچے فرعون والوں کے پاس ڈرانے والے [۳۴] ﴿41﴾

    جھٹلایا انہوں نے ہماری نشانیوں کو سب کو پھر پکڑا ہم نے انکو پکڑنا زبردست کا قابو میں لے کر [۳۵] ﴿42﴾

    اب تم میں جو منکر ہیں کیا یہ بہتر ہیں اُن سب سے یا تمہارے لئے فارغ خطی لکھدی گئ ورقوں میں ﴿43﴾

    کیا کہتے ہیں ہم سب کا مجمع ہے بدلا لینے والا [۳۶] ﴿44﴾

    اب شکست کھائے گا یہ مجمع اور بھاگیں گے پیٹھ پھیر کر [۳۷] ﴿45﴾

    بلکہ قیامت ہے اُنکے وعدہ کا وقت اور وہ گھڑی بڑی آفت ہے اور بہت کڑوی [۳۸] ﴿46﴾

    جو لوگ گنہگار ہیں غلطی میں پڑے ہیں اور سودا میں ﴿47﴾

    جس دن گھسیٹے جائیں گے آگ میں اوندھے منہ چکھو مزا آگ کا [۳۹] ﴿48﴾

    ہم نے ہر چیز بنائی پہلے ٹھہرا کر [۴۰] ﴿49﴾

    اور ہمارا کام تو یہی ایک دم کی بات ہے جیسے لپک نگاہ کی [۴۱] ﴿50﴾

    اور ہم برباد کر چکے ہیں تمہارے ساتھ والوں کو پھر ہے کوئی سوچنے والا [۴۲] ﴿51﴾

    اور جو چیز انہوں نے کی ہے لکھی گئ ورقوں میں [۴۳] ﴿52﴾

    اور ہر چھوٹا اور بڑا لکھا جا چکا [۴۴] ﴿53﴾

    جو لوگ ڈرنے والے ہیں باغوں میں ہیں اور نہروں میں ﴿54﴾

    بیٹھے سچی بیٹھک میں نزدیک بادشاہ کے جس کا سب پر قبضہ ہے [۴۵] ﴿55﴾

    Surah 55
    الرحمٰن

    رحمٰن نے ﴿1﴾

    سکھلایا قرآن [۱] ﴿2﴾

    بنایا آدمی ﴿3﴾

    پھر سکھلایا اُسکو بات کرنا [۲] ﴿4﴾

    سورج اور چاند کیلئے ایک حساب ہے [۳] ﴿5﴾

    اور جھاڑ اور درخت مشغول ہیں سجدہ میں [۴] ﴿6﴾

    اور آسمان کو اونچا کیا اور رکھی ترازو ﴿7﴾

    کہ زیادتی نہ کرو ترازو میں ﴿8﴾

    اور سیدھی ترازو تولو انصاف سے اور مت گھٹاؤ تول کو [۵] ﴿9﴾

    اور زمین کو بچھایا واسطے خلق کے [۶] ﴿10﴾

    اس میں میوہ ہے اور کھجوریں جنکے میوہ پر غلاف ﴿11﴾

    اور اُس میں اناج ہے جسکے ساتھ بھُس ہے اور پھول خوشبودار [۷] ﴿12﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں رب اپنے کی جھٹلاؤ گے تم دونوں [۸] ﴿13﴾

    بنایا آدمی کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا ﴿14﴾

    اور بنایا جن کو آگ کی لپٹ سے [۹] ﴿15﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں رب اپنے کی جھٹلاؤ گے تم دونوں [۱۰] ﴿16﴾

    مالک دو مشرق کا اور مالک دو مغرب کا [۱۱] ﴿17﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿18﴾

    دو دریا مل کر چلنے والے ﴿19﴾

    اُن دونوں میں ہے ایک پر وہ جو ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے [۱۲] ﴿20﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿21﴾

    نکلتا ہے اُن دونوں سے موتی اورمونگا ﴿22﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿23﴾

    اور اُسی کے ہیں جہاز اونچے کھڑے دریا میں جیسے پہاڑ [۱۳] ﴿24﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿25﴾

    جو کوئی ہے زمین پر فنا ہونے والا ہے ﴿26﴾

    اور باقی رہے گا منہ تیرےرب کا بزرگی اور عظمت والا [۱۴] ﴿27﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿28﴾

    اُس سے مانگتے ہیں جو کوئی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ہر روز اُس کو ایک دھندا ہے [۱۵] ﴿29﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿30﴾

    ہم جلد فارغ ہونے والے ہیں تمہارے طرف اے دو بھاری قافلو ﴿31﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿32﴾

    اور گروہ جنوں کے اور انسانوں کے اگر تم سے ہو سکے کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تو نکل بھاگو نہیں نکل سکنے کےبدون سند کے [۱۶] ﴿33﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے [۱۷] ﴿34﴾

    چھوڑے جائیں تم پر شعلے آگ کے صاف اور دھواں ملے ہوئے پھر تم بدلہ نہیں لے سکتے [۱۸] ﴿35﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے [۱۹] ﴿36﴾

    پھر جب پھٹ جائے آسمان تو ہو جائے گلابی جیسے نری (تیل کی تلچھٹ) [۲۰] ﴿37﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿38﴾

    پھر اُس دن پوچھ نہیں اُس کے گناہ کی کسی آدمی سے اور نہ جن سے [۲۱] ﴿39﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿40﴾

    پہنچانے پڑیں گے گنہگار اپنے چہرے سے [۲۲] پھر پکڑ ا جائے گا پیشانی کے بال سے اور پاؤں سے [۲۳] ﴿41﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿42﴾

    یہ دوزخ ہے جسکو جھوٹ بتاتے تھے گنہگار [۲۴] ﴿43﴾

    پھریں گے بیچ اُس کے اور کھولتے پانی کے [۲۵] ﴿44﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿45﴾

    اور جو کوئی ڈرا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے آگے اُسکے لئے ہیں دو باغ [۲۶] ﴿46﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿47﴾

    جن میں بہت سی شاخیں [۲۷] ﴿48﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿49﴾

    اُن دونوں میں دو چشمے بہتے ہیں [۲۸] ﴿50﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿51﴾

    اُن دونوں میں ہر میوہ قسم قسم کا ہو گا ﴿52﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿53﴾

    تکیہ لگائے بیٹھے بچھونوں پر جن کے استر تافتے کے [۲۹] اور میوہ اُن باغوں کا جھک رہا [۳۰] ﴿54﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿55﴾

    اُن میں عورتیں ہیں نیچی نگاہ والیاں نہیں قربت کی اُن سے کسی آدمی نے اُن سے پہلے اور نہ کسی جن نے [۳۱] ﴿56﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿57﴾

    وہ کیسی جیسےکہ لعل اور مُونگا [۳۲] ﴿58﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿59﴾

    اور کیا بدلا ہے نیکی کا مگر نیکی [۳۳] ﴿60﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿61﴾

    اور اُن دو کے سوائے اور دو باغ ہیں [۳۴] ﴿62﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿63﴾

    گہرے سبز جیسے سیاہ [۳۵] ﴿64﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿65﴾

    اُن میں دو چشمے ہیں ابلتے ہوئے ﴿66﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿67﴾

    اُن میں میوے ہیں اور کھجوریں اور انار [۳۶] ﴿68﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿69﴾

    ان سب باغوں میں اچھی عورتیں ہیں خوبصورت [۳۷] ﴿70﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿71﴾

    حوریں ہیں رکی رہنے والی خیموں میں [۳۸] ﴿72﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿73﴾

    نہیں ہاتھ لگایا اُنکو کسی آدمی نے اُن سے پہلے اور نہ کسی جن نے ﴿74﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿75﴾

    تکیہ لگٓئے بیٹھے سبز مسندوں پر اور قیمتی بچھونے نفیس پر ﴿76﴾

    پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے ﴿77﴾

    بڑی برکت ہے نام کو تیرے رب کے جو بڑائی والا اورعظمت والا ہے [۳۹] ﴿78﴾

    Surah 56
    الواقعہ

    جب ہو پڑے ہو پڑنے والی ﴿1﴾

    نہیں ہے اُسکے ہو پڑے میں کچھ جھوٹ [۱] ﴿2﴾

    پست کرنے والی ہے بلند کرنے والی [۲] ﴿3﴾

    جب لرزے زمین کپکپا کر ﴿4﴾

    اور ریزہ ریزہ ہوں پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ﴿5﴾

    پھر ہو جائیں غبار اڑتا ہوا [۳] ﴿6﴾

    اور ہو جاؤ تین قسم پر [۴] ﴿7﴾

    پھر داہنے والے کیا خوب ہیں داہنے والے [۵] ﴿8﴾

    اور بائیں والے کیا برے لوگ ہیں بائیں والے [۶] ﴿9﴾

    اور اگاڑی والے تو اگاڑی والے ﴿10﴾

    وہ لوگ ہیں مقرب ﴿11﴾

    باغوں میں نعمت کے [۷] ﴿12﴾

    انبوہ ہے پہلوں میں سے ﴿13﴾

    اور تھوڑے ہیں پچھلوں میں سے [۸] ﴿14﴾

    بیٹھے ہیں جڑاؤ تختوں پر [۹] ﴿15﴾

    تکیہ لگائےاُن پر ایک دوسرے کے سامنے [۱۰] ﴿16﴾

    لئے پھرتے ہیں اُنکے پاس لڑکے سدا رہنے والے [۱۱] ﴿17﴾

    آبخورے اور کوزے اور پیالہ نتھری شراب کا ﴿18﴾

    جس سے نہ سر دکھے اور نہ بکواس لگے [۱۲] ﴿19﴾

    اور میوہ جونسا پسند کر لیں ﴿20﴾

    اور گوشت اڑتے جانوروں کا جس قسم کو جی چاہے [۱۳] ﴿21﴾

    اور عورتیں گوری بڑی آنکھوں والیاں ﴿22﴾

    جیسے موتی کے دانے اپنے غلاف کے اندر [۱۴] ﴿23﴾

    بدلہ اُن کاموں کا جو کرتے تھے ﴿24﴾

    نہیں سنیں گے وہاں بکواس اور گناہ کی بات ﴿25﴾

    مگر ایک بولنا سلام سلام [۱۵] ﴿26﴾

    اور داہنے والے کیا کہنے داہنے والوں کے ﴿27﴾

    رہتے ہیں بیری کے درختوں میں جن میں کانٹا نہیں [۱۶] ﴿28﴾

    اور کیلے تہہ پر تہہ ﴿29﴾

    اور سایہ لنبا [۱۷] ﴿30﴾

    اور پانی بہتا ہوا ﴿31﴾

    اور میوہ بہت ﴿32﴾

    نہ اُس میں سے ٹوٹا اور نہ روکا ہوا [۱۸] ﴿33﴾

    اور بچھونے اونچے [۱۹] ﴿34﴾

    ہم نے اٹھایا اُن عورتوں کو ایک اچھے اٹھان پر ﴿35﴾

    پھر کیا اُنکو کنواریاں ﴿36﴾

    پیار دلانے والیاں ہم عمر ﴿37﴾

    واسطے داہنے والوں کے [۲۰] ﴿38﴾

    انبوہ ہے پہلوں میں سے ﴿39﴾

    اور انبوہ ہے پچھلوں میں سے [۲۱] ﴿40﴾

    اور بائیں والے کیسے بائیں والے ﴿41﴾

    تیز بھاپ میں اور جلتے پانی میں ﴿42﴾

    اور سایہ میں دھوئیں کے ﴿43﴾

    نہ ٹھنڈا اور نہ عزت کا [۲۲] ﴿44﴾

    وہ لوگ تھے اس سے پہلے خوشحال ﴿45﴾

    اور ضد کرتے تھے اُس بڑے گناہ پر [۲۳] ﴿46﴾

    اور کہا کرتے تھے کیا جب ہم مر گئے اور ہو چکے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ﴿47﴾

    اور کیا ہمارے اگلے باپ دادے بھی [۲۴] ﴿48﴾

    تو کہہ دے کہ اگلے اور پچھلے ﴿49﴾

    سب اکٹھے ہونے والے ہیں ایک دن مقرر کے وقت پر [۲۵] ﴿50﴾

    پھر تو جو ہو اے بہکے ہوؤ جھٹلانے والو ﴿51﴾

    البتہ کھاؤ گے ایک درخت سینڈکے سے ﴿52﴾

    پھر بھرو گے اس سے پیٹ [۲۶] ﴿53﴾

    پھر پیو گے اُس پر ایک جلتا پانی ﴿54﴾

    پھر پیو گے جیسے پئیں اونٹ تونسے ہوئے [۲۷] ﴿55﴾

    یہ مہمانی ہے اُنکی انصاف کے دن [۲۸] ﴿56﴾

    ہم نے تم کو بنایا پھر کیوں نہیں سچ مانتے [۲۹] ﴿57﴾

    بھلا دیکھو تو جو پانی تم ٹپکاتے ہو ﴿58﴾

    اب تم اُسکو بناتے ہو یا ہم ہیں بنانے والے [۳۰] ﴿59﴾

    ہم ٹھہرا چکے تم میں مرنا [۳۱] اور ہم عاجز نہیں ﴿60﴾

    اس بات سے کہ بدلے میں لے آئیں تمہاری طرح کے لوگ اور اٹھا کھڑا کریں تم کو وہاں جہاں تم نہیں جانتے [۳۲] ﴿61﴾

    اور تم جان چکے ہو پہلا اٹھان پھر کیوں نہیں یاد کرتے [۳۳] ﴿62﴾

    بھلا دیکھو تو جو تم بوتے ہو ﴿63﴾

    کیا تم اُسکو کر تے ہو کھیتی یا ہم ہیں کھیتی کر دینے والے [۳۴] ﴿64﴾

    اگر ہم چاہیں تو کر ڈالیں اُسکو روندا ہوا گھانس پھر تم سارے دن رہو باتیں بناتے ﴿65﴾

    ہم تو قرضدار رہ گئے ﴿66﴾

    بلکہ ہم بے نصیب ہو گئے [۳۵] ﴿67﴾

    بھلا دیکھو تو پانی کو جو تم پیتے ہو ﴿68﴾

    کیا تم نے اتارا اُسکو بادل سے ہا ہم ہیں اتارنے والے [۳۶] ﴿69﴾

    اگر ہم چاہیں کر دیں اُسکو کھارا پھر کیوں نہیں احسان مانتے [۳۷] ﴿70﴾

    بھلا دیکھو تو آگ جس کو تم سلگاتے ہو ﴿71﴾

    کیا تم نے پیدا کیا اُس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے [۳۸] ﴿72﴾

    ہم نے ہی تو بنایا وہ درخت یاد دلانے کو [۳۹] اور برتنے کو جنگل والوں کے [۴۰] ﴿73﴾

    سو بول پاکی اپنے رب کے نام کی جو سب سے بڑا [۴۱] ﴿74﴾

    سو میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے ڈوبنے کی [۴۲] ﴿75﴾

    اور یہ قسم ہے اگر سمجھو تو بڑی قسم ﴿76﴾

    بیشک یہ قرآن ہے عزت والا ﴿77﴾

    لکھا ہوا ہے ایک پوشیدہ کتاب میں ﴿78﴾

    اُس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں [۴۳] ﴿79﴾

    اتارا ہوا ہے اپنے پروردگار عالم کی طرف سے [۴۴] ﴿80﴾

    اب کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو ﴿81﴾

    اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اُسکو جھٹلاتے ہو [۴۵] ﴿82﴾

    پھر کیوں نہیں جس وقت جان پہنچے حلق کو ﴿83﴾

    اور تم اُس وقت دیکھ رہے ہو ﴿84﴾

    اور ہم اُسکے پاس ہیں تم سے زیادہ پر تم نہیں دیکھتے ﴿85﴾

    پھر کیوں نہیں اگر تم نہیں ہو کسی کے حکم میں ﴿86﴾

    تو کیوں نہیں پھیر لیتے اُس روح کو اگر ہو تم سچے [۴۶] ﴿87﴾

    سو جو اگر وہ مردہ ہوا مقرب لوگوں میں ﴿88﴾

    تو راحت ہے اور روزی ہے اور باغ نعمت کا ﴿89﴾

    اور جو اگر وہ ہوا داہنے والوں میں ﴿90﴾

    تو سلامتی پہنچے تجھ کو داہنے والوں سے [۴۷] ﴿91﴾

    اور جو اگر وہ ہوا جھٹلانے والوں بہکنے والوں میں سے ﴿92﴾

    تو مہمانی ہے جلتا پانی ﴿93﴾

    اور ڈالنا آگ میں [۴۸] ﴿94﴾

    بیشک یہ بات یہی ہے لائق یقین کے [۴۹] ﴿95﴾

    سو بول پاکی اپنے رب کے نام سے جو سب سے بڑا ہے [۵۰] ﴿96﴾

    Surah 57
    الحدید

    اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں [۱] اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا ﴿1﴾

    اُسی کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے [۲] ﴿2﴾

    وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا [۳] اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے [۴] ﴿3﴾

    وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قائم ہوا تخت پر [۵] جانتا ہے جو اندر جاتا ہے زمین کے اور جو اُس سے نکلتا ہے [۶] اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے [۷] اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اُسکو دیکھتا ہے [۸] ﴿4﴾

    اُسی کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا اور اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام [۹] ﴿5﴾

    داخل کرتا ہے رات کو دن مین اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں [۱۰] اور اُسکو خبر ہے جیوں کی بات کی [۱۱] ﴿6﴾

    یقین لاؤ اللہ پر اور اُسکے رسول پر اور خرچ کرو اُس میں سے جو تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اپنا نائب کر کر [۱۲] سو جو لوگ تم میں یقین لائے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اُنکو بڑا ثواب ہے [۱۳] ﴿7﴾

    اور تم کو کیا ہوا کہ یقین نہیں لاتے اللہ پر اور رسول بلاتا ہے تم کو کہ یقین لاؤ اپنے رب پر اور لے چکا ہے تم سے عہد پکا اگر ہو تم ماننے والے [۱۴] ﴿8﴾

    وہی ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر آیتیں صاف کہ نکال لائے تم کو اندھیروں سے اجالے میں اور اللہ تم پر نرمی کرنے والا ہے مہربان [۱۵] ﴿9﴾

    اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور اللہ ہی کو بچ رہتی ہر شے آسمانوں میں اور زمین میں [۱۶] برابر نہیں تم میں جس نے کہ خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے [۱۷] اور لڑائی کی اُن لوگوں کا درجہ بڑا ہے اُن سے جو کہ خرچ کریں اُسکے بعد اور لڑائی کریں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے خوبی کا [۱۸] اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۱۹] ﴿10﴾

    کون ہے ایسا کہ قرض دے اللہ کو اچھی طرح پھر وہ اُسکو دونا کر دے اُسکے واسطے اور اُسکو ملے ثواب عزت کا [۲۰] ﴿11﴾

    جس دن تو دیکھے ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو دوڑتی ہوئی چلتی ہے اُنکی روشنی اُنکے آگے اور ان کے داہنے [۲۱] خوشخبری ہے تم کو آج کے دن باغ ہیں کہ نیچے بہتی ہیں جنکے نہریں سدا رہو اُن میں یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد ملنی [۲۲] ﴿12﴾

    جس دن کہیں گے دغاباز مرد اور عورتیں ایمان والوں کو راہ دیکھو ہماری ہم بھی روشنی لے لیں تمہارے نور سے کہ کوئی کہے گا لوٹ جاؤ پیچھے پھر ڈھونڈ لو روشنی پھر کھڑی کر دی جائے اُنکے بیچ میں ایک دیوار جس میں ہوگا دروازہ اُس کے اندر رحمت ہو گی اور باہر کی طرف عذاب [۲۳] ﴿13﴾

    یہ اُن کو پکاریں گے کیا ہم نہ تھے تمہارے ساتھ [۲۴] کہیں گے کیوں نہیں لیکن تم نے بچلا دیا اپنے آپ کو اور راہ دیکھتے رہے اور دھوکے میں پڑے اور بہک گئے اپنے خیالوں پر یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور تم کو بہکا دیا اللہ کے نام سے اُس دغاباز نے [۲۵] ﴿14﴾

    سو آج تم سے قبول نہ ہو گا فدیہ دینا اور نہ منکروں سے تم سب کا گھر دوزخ ہے وہی ہے رفیق تمہاری اور بری جگہ جا پہنچے [۲۶] ﴿15﴾

    کیا وقت نہیں آیا ایمان والوں کو کہ گڑگڑائیں اُنکے دل اللہ کی یاد سے اور جو اترا ہے سچا دین [۲۷] اور نہ ہوں اُن جیسے جنکو کتاب ملی تھی اس سے پہلے پھر دراز گذری ان پر مدت پھر سخت ہو گئے اُنکے دل اور بہت اُن میں نافرمان ہیں [۲۸] ﴿16﴾

    جان رکھو کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اُسکے مرجانے کے بعد ہم نے کھول کر سنا دیے تم کو پتے اگر تم کو سمجھ ہے [۲۹] ﴿17﴾

    تحقیق جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد اور عورتیں اور قرض دیتے ہیں اللہ کو اچھی طرح اُنکو ملتا ہے دونا اور اُنکو ثواب ہے عزت کا [۳۰] ﴿18﴾

    اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور اُسکے سب رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور لوگوں کا احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس اُنکے واسطے ہے اُں کا ثواب اور اُنکی روشنی [۳۱] اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری باتوں کو وہ ہیں دوزخ کے لوگ [۳۲] ﴿19﴾

    جان رکھو کہ دنیا کی زندگانی یہی ہے کھیل اور تماشا اور بناؤ اور بڑائیاں کرنی آپس میں اور بہتایت ڈھونڈنی مال کی اور اولاد کی جیسے حالت ایک مینہ کی جو خوش لگا کسانوں کو اُس کا سبزہ پھر زور پر آتا ہے پھر تو دیکھے زرد ہو گیا پھر ہو جاتا ہے روندا ہوا گھاس اور آخرت میں سخب عذاب ہے اور معافی بھی ہے اللہ سے اور رضامندی اور دنیا کی زندگانی تو یہی ہے مال دغا کا [۳۳] ﴿20﴾

    دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف کو اور بہشت کو [۳۴] جس کا پھیلاؤ ہے جیسے پھیلاؤ آسمان اور زمین کا [۳۵] تیار رکھی ہے واسطے اُنکے جو یقین لائے اللہ پر اور اسکے رسولوں پر یہ فضل اللہ کا ہے دے اُسکو جسکو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے [۳۶] ﴿21﴾

    کوئی آفت نہیں پڑتی ملک میں اور نہ تمہاری جانوں میں جو لکھی نہ ہو ایک کتاب میں پہلے اس سےکہ پیدا کریں ہم اُسکو دنیا میں [۳۷] بیشک یہ اللہ پر آسان ہے [۳۸] ﴿22﴾

    تاکہ تم غم نہ کھایا کرو اُس پر جو ہاتھ نہ آیا اور نہ شیخی کیا کرو اُس پر جو تم کو اُس نے دیا [۳۹] اور اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا ﴿23﴾

    وہ جو کہ آپ نہ دیں اور سکھلائیں لوگوں کو بھی نہ دینا [۴۰] اور جو کوئی منہ موڑے تو اللہ آپ ہے بے پروا سب خوبیوں کے ساتھ موصوف [۴۱] ﴿24﴾

    ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دیکر اور اتاری اُنکے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر [۴۲] اور ہم نے اتارا لو ہا [۴۳] اُس میں سخت لڑائی ہے اور لوگوں کے کام چلتے ہیں [۴۴] اور تاکہ معلوم کرے اللہ کون مدد کرتا ہے اُسکے رسولوں کی بن دیکھے [۴۵] بیشک اللہ زوآور ہے زبردست [۴۶] ﴿25﴾

    اور ہم نے بھیجا نوح کو اور ابراہیم کو اور ٹھہرا دی دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب [۴۷] پھر کوئی اُن میں راہ پر ہے اور بہت اُن میں نافرمان ہیں [۴۸] ﴿26﴾

    پھر پیچھے بھیجے اُنکے قدموں پر اپنے رسول [۴۹] اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی مریم کے بیٹے کو اور اُسکو ہم نے دی انجیل [۵۰] اور رکھ دی اُس کے ساتھ چلنے والوں کے دل میں نرمی اور مہربانی [۵۱] اور ایک ترک کرنا دنیا کا جو انہوں نے نئی بات نکالی تھی ہم نے نہیں لکھا تھا یہ اُن پر مگر کیاچاہنے کو اللہ کی رضامندی پھر نہ نباہا اُسکو جیسا چاہئے تھا نباہنا [۵۲] پھر دیا ہم نے اُن لوگوں کو جو اُن میں ایماندار تھے اُنکا بدلا اور بہت اُن میں نافرمان ہں [۵۳] ﴿27﴾

    اے یمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور یقین لاؤ اُسکے رسول پر دے گا تم کو دو حصے اپنی رحمت سے اور رکھ دے گا تم میں روشنی جس کو لئے پھرو اور تم کو معاف کرے گا اور اللہ معاف کرنے والا ہے مہربان [۵۴] ﴿28﴾

    تا کہ نہ جانیں کتاب والے کہ پا نہیں سکتے کوئی چیز اللہ کے فضل میں سے اور یہ کہ بزرگی اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسکو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے [۵۵] ﴿29﴾

    Surah 58
    المجادلہ

    سن لی اللہ نے بات اُس عورت کی جو جھگڑتی تھی تجھ سے اپنے خاوند کے حق میں اور جھینکتی تھی اللہ کے آگے [۱] اور اللہ سنتا تھا سوال و جواب تم دونوں کا بیشک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے [۲] ﴿1﴾

    جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں تم میں سے اپنی عورتوں کو وہ نہیں ہو جاتیں اُنکی مائیں اُنکی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے اُنکو جنا اور وہ بولتے ہیں ایک ناپسند بات اور جھوٹی [۳] اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے [۴] ﴿2﴾

    اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں اپنی عورتوں کو پھر کرنا چاہیں وہی کام جسکو کہا ہے تو آزاد کرنا چاہئے ایک بردہ پہلے اس سے کہ آپس میں ہاتھ لگائیں [۵] اس سے تم کو نصیحت ہو گی [۶] اور اللہ خبر رکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۷] ﴿3﴾

    پھو جو کوئی نہ پائے تو روزے ہیں دو مہینے کے لگاتار [۸] پہلے اس سے کہ آپس میں چھوئیں پھر جو کوئی یہ نہ کر سکے تو کھانا دینا ہے ساٹھ محتاجوں کا [۹] یہ حکم اس واسطے کہ تابعدار ہو جاؤ اللہ کے اور اُسکے رسول کے [۱۰] اور یہ حدیں باندھی ہیں اللہ کی اور منکروں کے واسطے عذاب ہے دردناک ﴿4﴾

    جو لوگ کہ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اُسکے رسول کی وہ خوار ہوئے جیسے کہ خوار ہوئے ہیں وہ لوگ جو اُن سے پہلے تھے اور ہم نے اتاری ہیں آیتیں بہت صاف اور منکروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا [۱۱] ﴿5﴾

    جس دن کہ اٹھائے گا اللہ ان سب کو پھر جتلائے گا اُنکو اُنکے کئے کام [۱۲] اللہ نے وہ سب گن رکھی ہیں اور وہ بھول گئے اور اللہ کے سامنے ہے ہر چیز [۱۳] ﴿6﴾

    تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں کہیں نہیں ہوتا مشورہ تین کا جہاں وہ نہیں ہوتا ان میں چوتھا اور نہ پانچ کا جہاں وہ نہیں ہوتا اُن میں چھٹا اور نہ اُس سے کم اور نہ زیادہ جہاں وہ نہیں ہوتا اُنکے ساتھ جہاں کہیں ہوں [۱۴] پھرجتلا دے گا اُنکو جو کچھ انہوں نے کیا قیامت کے دن بیشک اللہ کو معلوم ہے ہر چیز ﴿7﴾

    تو نے نہ دیکھا اُن لوگوں کو جنکو منع ہوئی کانا پھوسی پھر بھی وہی کرتے ہیں جو منع ہو چکا ہے اور کان میں باتیں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی [۱۵] اور جب آئیں تیرے پاس تجھ کو وہ دعا دیں جو دعا نہیں دی تجھ کو اللہ نے اور کہتے ہیں اپنے دل میں کیوں نہیں عذاب کرتا ہم کو اللہ اُس پر جو ہم کہتے ہیں کافی ہے اُنکو دوزخ داخل ہوں گے اس میں سو بری جگہ پہنچے [۱۶] ﴿8﴾

    اے ایمان والو جب تم کان میں بات کرو تو مت کرو بات گناہ کی اور زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی اور بات کرو احسان کی اور پرہیزگاری کی [۱۷] اور ڈرتے رہو اللہ سے جسکے پاس تم کو جمع ہو نا ہے [۱۸] ﴿9﴾

    یہ جو ہے کانا پھوسی سو شیطان کا کام ہے تاکہ دلگیر کرے ایمان والوں کو اور وہ اُن کا کچھ نہ بگاڑے گا بدون اللہ کے حکم کے اور اللہ پر چاہئے کہ بھروسہ کریں ایمان والے [۱۹] ﴿10﴾

    اے ایمان والو جب کوئی تم کو کہے کہ کھل کر بیٹھو [۲۰] مجلسوں میں تو کھل جاؤ اللہ کشادگی دے تم کو [۲۱] اور جب کوئی کہے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو [۲۲] اللہ بلند کرے گا اُنکے لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں تم میں سے اور علم انکے درجے [۲۳] اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۲۴] ﴿11﴾

    اے ایمان والو جب تم کان میں بات کہنا چاہو رسول سے تو آگے بھیجو اپنی بات کہنے سے پہلے خیرات یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور بہت ستھرا پھر اگر نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۵] ﴿12﴾

    کیا تم ڈر گئے کہ آگے بھیجا کرو کان کی بات سے پہلے خیراتیں سو جب تم نے نہ کیا اور اللہ نے معاف کردیا تم کو تو اب قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو اللہ کے اور اُسکے رسول کے اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو [۲۶] ﴿13﴾

    کیا تو نے دیکھا اُن لوگوں کو جو دوست ہوئے ہیں اُس قوم کے جن پر غصہ ہوا ہے اللہ کا [۲۷] نہ وہ تم میں ہیں اور نہ اُن میں ہیں [۲۸] اور قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ بات پر اور اُنکو خبر ہے [۲۹] ﴿14﴾

    تیار رکھا ہے اللہ نے اُنکے لئے سخت عذاب [۳۰] بیشک وہ برے کام ہیں جو وہ کرتے ہیں [۳۱] ﴿15﴾

    بنا رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال پھر روکتےہیں اللہ کی راہ سے تو اُنکو ذلت کا عذاب ہے ﴿16﴾

    کام نہ آئیں گے اُنکو اُنکے مال اور نہ اُنکی اولاد اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی وہ لوگ ہیں دوزخ کے وہ اُسی میں پڑے رہیں گے [۳۲] ﴿17﴾

    جس دن جمع کرے گا اللہ اُن سب کو پھر قسمیں کھائیں گے اُسکے آگے جیسے کھاتے ہیں تمہارے آگے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ کچھ بھلی راہ پر ہیں [۳۳] سنتا ہے وہی ہیں اصل جھوٹے [۳۴] ﴿18﴾

    قابو کر لیا ہے اُن پر شیطان نے پھر بھلا دی اُنکو اللہ کی یاد [۳۵] وہ لوگ ہیں گروہ شیطان کا سنتا ہے جو گروہ ہے شیطان کا وہی خراب ہوتے ہیں [۳۶] ﴿19﴾

    جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا اور اُسکے رسول کا وہ لوگ ہیں سب سے بےقدر لوگوں میں ﴿20﴾

    اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول بیشک اللہ زورآور ہے زبردست [۳۷] ﴿21﴾

    تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اُسکے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے اُنکے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے ایمان [۳۸] اور اُنکی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے [۳۹] اور داخل کرے گا اُنکو باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے اُن میں اللہ اُن سے راضی اور وہ اُس سے راضی [۴۰] وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا سنتا ہے جو گروہ ہے اللہ کا وہی مراد کو پہنچے [۴۱] ﴿22﴾

    Surah 59
    الحشر

    اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا [۱] ﴿1﴾

    وہی ہے جس نے نکال دیا اُنکو جو منکر ہیں کتاب والوں میں اُنکے گھروں سے [۲] پہلے ہی اجتماع پر لشکر کے [۳] تم نہ اٹکل کرتے تھے کہ نکلیں گے اور وہ خیال کرتے تھے کہ اُنکو بچا لیں گے اُنکے قلعے اللہ کے ہاتھ سے پھر پہنچا اُن پر اللہ جہاں سے اُنکو خیال نہ تھا اور ڈال دی اُنکے دلوں میں دھاک [۴] اجاڑنے لگے اپنے گھر اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں [۵] سو عبرت پکڑو اے آنکھ والو [۶] ﴿2﴾

    اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے اُن پر جلاوطن ہونا تو اُنکو عذاب دیتا دنیا میں اور آخرت میں ہے اُنکے لئے آگ کا عذاب [۷] ﴿3﴾

    یہ اس لئے کہ وہ مخالف ہوئے اللہ سے اور اُسکے رسول سے اور جو کوئی مخالف ہو اللہ سے تو اللہ کا عذاب سخت ہے [۸] ﴿4﴾

    جو کاٹ ڈالا تم نے کھجور کا درخت یا رہنے دیا کھڑا اپنی جڑ پر سو اللہ کے حکم سے [۹] اور تاکہ رسوا کرے نافرمانوں کو [۱۰] ﴿5﴾

    اور جو مال کہ لوٹا دیا اللہ نے اپنے رسول پر اُن سے سو تم نے نہیں دوڑائے اُس پر گھوڑے اور نہ اونٹ ولیکن اللہ غلبہ دیتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہے اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے [۱۱] ﴿6﴾

    جو مال لوٹایا اللہ نے اپنے رسول پر بستیوں والوں سے سو اللہ کے واسطے اور رسول کے [۱۲] اور قرابت والے کے [۱۳] اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافر کے تاکہ نہ آئے لینے دینے میں دولتمندوں کے تم میں سے [۱۴] اور جو دے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو [۱۵] اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے [۱۶] ﴿7﴾

    واسطے ان مفلسوں وطن چھوڑنے والوں کے جو نکالے ہوئے آتے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے ڈھونڈتے آئے ہیں اللہ کا فضل اور اُسکی رضامندی اور مدد کرنے کو اللہ کی اور اسکے رسول کی وہ لوگ وہی ہیں سچے [۱۷] ﴿8﴾

    اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے سے [۱۸] وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو وطن چھوڑ کر آئے انکے پاس [۱۹] اور نہیں پاتے اپنے دل میں تنگی اس چیز سے جو مہاجرین کو دی جائے اور مقدم رکھتے ہیں اُنکو اپنی جان سے اور اگر چہ ہو اپنے اوپر فاقہ [۲۰] اور جو بچایا گیا اپنے جی کے لالچ سے تو وہ لوگ ہیں مراد پانے والے [۲۱] ﴿9﴾

    اور واسطے ان لوگوں کے جو آئے اُنکے بعد [۲۲] کہتے ہوئے اے رب بخش ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے داخل ہوئے ایمان میں اور نہ رکھ ہمارے دلوں میں بیر ایمان والوں کا اے رب تو ہی ہے نرمی والا مہربان [۲۳] ﴿10﴾

    کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دغاباز ہیں کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو کافر ہیں اہل کتاب میں سے اگر تم کو کوئی نکال دے گا تو ہم بھی نکلیں گے تمہارےساتھ اور کہا نہ مانیں گے کسی کا تمہارے معاملہ میں کبھی اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے [۲۴] اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں [۲۵] ﴿11﴾

    اگر وہ نکالے جائیں یہ نہ نکلیں گے اُنکے ساتھ اور اگر اُن سےلڑائی ہوئی یہ نہ مدد کریں گے اُنکی [۲۶] اور اگر مدد کریں گے تو بھاگیں گے پیٹھ پھیر کر پھر کہیں نہ مدد پائیں گے [۲۷] ﴿12﴾

    البتہ تمہارا ڈر زیادہ ہے اُنکے دلوں میں اللہ کے ڈر سے یہ ا سلئے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے [۲۸] ﴿13﴾

    لڑ نہ سکیں گے تم سے سب مل کر مگر بستیوں کےکوٹ میں یا دیواروں کی اوٹ میں [۲۹] اُنکی لڑائی آپس میں سخت ہے [۳۰] تو سمجھے وہ اکھٹے ہیں اور اُنکے دل جدا جدا ہو رہے ہیں یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے [۳۱] ﴿14﴾

    جیسے قصہ اُن لوگوں کا جو ہو چکے ہیں اُن سے پہلے قریب ہی چکھی اُنہوں نے سزا اپنے کام کی اور اُنکے لئے عذاب دردناک ہے [۳۲] ﴿15﴾

    جیسے قصہ شیطان کا جب کہے انسان کو تو منکر ہو پھر جب وہ منکر ہو گیا کہے میں الگ ہوں تجھ سے میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو رب ہے سارے جہان کا ﴿16﴾

    پھر انجام دونوں کا یہی کہ وہ دونوں ہیں آگ میں ہمیشہ رہیں اُسی میں اور یہی ہے سزا گنہگاروں کی [۳۳] ﴿17﴾

    اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور چاہیے کہ دیکھ لے ہر ایک جی کیا بھیجتا ہے کل کے واسطے [۳۴] اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو [۳۵] ﴿18﴾

    اور مت ہو اُن جیسے جنہوں نے بھلا دیا اللہ کو پر اللہ نے بھلا دیے اُنکو اُن کے جی وہ لوگ وہی ہیں نافرمان [۳۶] ﴿19﴾

    برابر نہیں دوزخ والے اور بہشت والے بہشت والے جو ہیں وہی ہیں مراد پانے والے [۳۷] ﴿20﴾

    اگر ہم اتارتے یہ قرآن ایک پہاڑ پر تو تُو دیکھ لیتا کہ وہ دب جاتا پھٹ جاتا اللہ کے ڈر سے [۳۸] اور یہ مثالیں ہم سناتے ہیں لوگوں کو تاکہ وہ غور کریں [۳۹] ﴿21﴾

    وہ اللہ ہے جس کے سوائے بندگی نہیں کسی کی جانتا ہے جو پوشیدہ ہے اور جو ظاہر ہے وہ ہے بڑا مہربان رحم والا ﴿22﴾

    وہ اللہ ہے جس کے سوائے بندگی نہیں کسی کی وہ بادشاہ ہے پاک ذات سب عیبوں سے سالم [۴۰] امان دینے والا [۴۱] پناہ میں لینے والا زبردست دباؤ والا صاحب عظمت پاک ہے اللہ اُنکے شریک بتلانے سے [۴۲] ﴿23﴾

    وہ اللہ ہے بنانے والا نکال کھڑا کرنے والا [۴۳] صورت کھینچنے والا [۴۴] اُسی کے ہیں سب نام خاصے (عمدہ) [۴۵] پاکی بول رہا ہے اُسکی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں [۴۶] اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا [۴۷] ﴿24﴾

    Surah 60
    الممتحنہ

    [ا] اے ایمان والو نہ پکڑو میرےاور اپنے دشمنوں کو دوست تم اُنکو پیغام بھیجتےہو دوستی سے [۲] اور وہ منکر ہوئے ہیں اُس سے جو تمہارے پاس آیا سچا دین [۳] نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو اس بات پر کہ تم مانتے ہو اللہ کو جو رب ہے تمہارا [۴] اگر تم نکلے ہو لڑنے کو میری راہ میں اور طلب کرنے کو میری رضامندی [۵] تم اُنکو چھپا کر بھیجتے ہو دوستی کے پیغام اور مجھ کو خوب معلوم ہے جو چھپایا تم نے اور جو ظاہر کیا تم نے [۶] اور جو کوئی تم میں یہ کام کرے تو وہ بھول گیا سیدھی راہ [۷] ﴿1﴾

    اگر تم اُنکے ہاتھ آ جاؤ ہو جائیں تمہارے دشمن اور چلائیں تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ اور چاہیں کہ کسی طرح تم بھی منکر ہو جاؤ [۸] ﴿2﴾

    ہرگز کام نہ آئیں گے تمہارے کنبے والے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن وہ فیصلہ کرے گا تم میں اور اللہ جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے [۹] ﴿3﴾

    تم کو چال چلنی چاہئیے اچھی ابراہیم کی اور جو اُسکے ساتھ تھے جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو ہم الگ ہیں تم سے اور اُن سے کہ جنکو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے [۱۰] ہم منکر ہوئے تم سے [۱۱] اور کھل پڑی ہم میں اور تم میں دشمنی اور بیر ہمیشہ کو یہاں تک کہ تم یقین لاؤ اللہ اکیلے پر [۱۲] مگر ایک کہنا ابراہیم کا اپنے باپ کو کہ میں مانگوں گا معافی تیرے لئے اور مالک نہیں میں تیرے نفع کا اللہ کے ہاتھ سے کسی چیز کا [۱۳] اے رب ہمارے ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری طرف ہے سب کو پھر آنا [۱۴] ﴿4﴾

    اے رب ہمارے مت جانچ ہم پر کافروں کو [۱۵] اور ہم کو معاف کر اے رب ہمارے [۱۶] تو ہی ہے زبردست حکمت والا [۱۷] ﴿5﴾

    البتہ تم کو بھلی چال چلنی چاہئے اُنکی جو کوئی امید رکھتا ہو اللہ کی اور پچھلے دن کی اور جو کوئی منہ پھیرے تو اللہ وہی ہے بے پروا سب تعریفوں والا [۱۸] ﴿6﴾

    امید ہے کہ کر دے اللہ تم میں اور جو دشمن ہیں تمہارے اُن میں دوستی اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۱۹] ﴿7﴾

    اللہ تم کو منع نہیں کرتا اُن لوگوں سے جو لڑے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارےگھروں سے کہ اُن سے کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک بیشک اللہ چاہتا ہے انصاف والوں کو [۲۰] ﴿8﴾

    اللہ تو منع کرتا ہے تم کو اُن سے جو لڑے تم سے دین پر اور نکالا تم کو تمہارے گھروں سے اور شریک ہوئے تمہارے نکالنے میں کہ اُن سے کرو دوستی اور جو کوئی ان سے دوستی کرے سو وہ لوگ وہی ہیں گنہگار [۲۱] ﴿9﴾

    اے ایمان والو جب آئیں تمہارے پاس ایمان والی عورتیں وطن چھوڑ کر تو ان کو جانچ لو اللہ خوب جانتا ہے انکے ایمان کو [۲۲] پھر اگر جانو کہ وہ ایمان پر ہیں تو مت پھیرو اُنکو کافروں کی طرف نہ یہ عورتیں حلال ہیں اُن کافروں کو اور نہ وہ کافر حلال ہیں ان عورتوں کو اور دیدو اُن کافروں کو جو ان کا خرچ ہوا ہو اور گناہ نہیں تم کو کہ نکاح کر لو اُن عورتوں سے جب اُنکو دو انُکے مہر [۲۳] اور نہ رکھو اپنے قبضہ میں ناموس کافر عورتوں کے اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا اور وہ کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا فیصلہ ہے تم میں فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۲۴] ﴿10﴾

    اور اگر جاتی رہیں تمہارے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کی طرف پھر تم ہاتھ مارو تو دیدو اُنکو جن کی عورتیں جاتی رہی ہیں جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم کو یقین ہے [۲۵] ﴿11﴾

    اے نبی جب آئیں تیرے پاس مسلمان عورتیں بیعت کرنے کو اس بات پر کہ شریک نہ ٹھہرائیں اللہ کا کسی کو اور چوری نہ کریں اور بدکاری نہ کریں اور اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں [۲۶] اور طوفان نہ لائیں باندھ کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں [۲۷] اور تیری نافرمانی نہ کریں کسی بھلے کام میں تو اُنکو بیعت کر لے [۲۸] اور معافی مانگ اُنکے واسطے اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۹] ﴿12﴾

    اے ایمان والو مت دوستی کرو اُن لوگوں سے کہ غصہ ہوا ہے اللہ اُن پر [۳۰] وہ آس توڑ چکے ہیں پچھلے گھر سے جیسے آس توڑی منکروں نے قبر والوں سے [۳۱] ﴿13﴾

    Surah 61
    الصّف

    اللہ کی پاکی بولتا ہے جوکچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا ﴿1﴾

    اے ایمان والو کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے ﴿2﴾

    بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو ﴿3﴾

    اللہ چاہتا ہے اُن لوگوں کو جو لڑتے ہیں اُسکی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی [۱] ﴿4﴾

    اور جب کہا موسٰی نے اپنی قوم کو اے قوم میری کیوں ستاتے ہو مجھ کو اور تم کو معلوم ہے کہ میں اللہ کا بھیجا آیا ہوں تمہارے پاس [۲] پھر جب وہ پھر گئے تو پھیر دیے اللہ نے انکے دل اور اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو [۳] ﴿5﴾

    اور جب کہا عیسٰی مریم کے بیٹے نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں اللہ کا تمہارے پاس یقین کرنے والا اُس پر جو مجھ سے آگے ہے توریت [۴] اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اُس کا نام ہے احمد [۵] پھر جب آیا انکے پاس کھلی نشانیاں لیکر کہنے لگے یہ جادو ہے صریح [۶] ﴿6﴾

    اور اس سے زیادہ بے انصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ اور اُسکو بلاتے ہیں مسلمان ہونے کو [۷] اور اللہ راہ نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو [۸] ﴿7﴾

    چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کی روشنی اپنے منہ سے اور اللہ کو پوری کرنی ہے اپنی روشنی اور پڑے برا مانیں منکر [۹] ﴿8﴾

    وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے [۱۰] ﴿9﴾

    اے ایمان والو میں بتلاؤں تم کو ایسی سوداگری جو بچائے تم کو ایک عذاب دردناک سے ﴿10﴾

    ایمان لاؤ اللہ پر اور اُسکے رسول پر اور لڑو اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنی جان سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو ﴿11﴾

    بخشے گاہ وہ تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں [۱۱] اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر [۱۲] یہ ہے بڑی مراد ملنی ﴿12﴾

    اور ایک اور چیز دے جس کو تم چاہتے ہو مدد اللہ کی طرف سے اور فتح جلدی [۱۳] اور خوشی سنا دے ایمان والوں کو [۱۴] ﴿13﴾

    اے ایمان والو تم ہو جاؤ مددگار اللہ کے [۱۵] جیسے کہا عیسٰی مریم کے بیٹے نے اپنے یاروں کو کون ہے کہ مدد کرے میری اللہ کی راہ میں بولے یار ہم ہیں مددگار اللہ کے [۱۶] پھر ایمان لایا ایک فرقہ بنی اسرائیل سے اور منکر ہوا ایک فرقہ پھر قوت دی ہم نے اُنکو جو ایمان لائے تھے اُنکے دشمنوں پر پھر ہو رہے غالب [۱۷] ﴿14﴾

    Surah 62
    الجمعہ

    اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اورجو کچھ کہ ہے زمین میں بادشاہ پاک ذات زبردست حکمتوں والا ﴿1﴾

    وہی ہے جس نے اٹھایا ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں کا پڑھ کر سناتا ہے اُنکو اُسکی آیتیں اور انکو سنوارتا ہے اور سکھلاتا ہے اُنکو کتاب اور عقلمندی اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے صریح بھول میں [۱] ﴿2﴾

    اور اٹھایا اس رسول کو ایک دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہی میں سےجو ابھی نہیں ملے ان میں [۲] اور وہی ہے زبردست حکمت والا [۳] ﴿3﴾

    یہ بڑائی اللہ کی ہے دیتا ہے جسکو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے [۴] ﴿4﴾

    مثال ان لوگوں کی جن پر لادی توریت پھر نہ اٹھائی انہوں نے جیسے مثال گدھے کی کہ پیٹھ پر لے چلتا ہے کتابیں [۵] بری مثال ہے اُن لوگوں کی [۶] جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو [۷] اور اللہ راہ نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو [۸] ﴿5﴾

    تو کہہ اے یہودی ہونے والو اگر تم کو دعوٰی ہے کہ تم دوست ہو اللہ کے سب لوگوں کے سوائے تو مناؤ اپنے مرنے کو اگر تم سچے ہو ﴿6﴾

    اور وہ کبھی نہ منائیں گے اپنا مرنا اُن کاموں کی وجہ سے جنکو آگے بھیج چکے ہیں اُنکے ہاتھ اور اللہ کو خوب معلوم ہیں سب گنہگار [۹] ﴿7﴾

    تو کہہ موت وہ جس سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے ضرور ملنے والی ہے پھر تم پھیرے جاؤ گے اس سے چھپے اور کھلے جاننے والے کے پاس پھر جتلا دے گا تم کو جو تم کرتے تھے [۱۰] ﴿8﴾

    اے ایمان والو جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کی یاد کو اور چھوڑ دو خرید و فروخت [۱۱] یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے [۱۲] ﴿9﴾

    پھر جب تمام ہو چکے نماز تو پھیل پڑو زمین میں اور ڈھونڈو فضل اللہ کا اور یاد کرو اللہ کو بہت سا تاکہ تمہارا بھلا ہو [۱۳] ﴿10﴾

    اور جب دیکھیں سودا بکتا یا کچھ تماشا متفرق ہو جائیں اُسکی طرف اور تجھ کو چھوڑ جائیں کھڑا تو کہہ جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے تماشے سے اور سوداگری سے اور اللہ بہتر ہے روزی دینے والا [۱۴] ﴿11﴾

    Surah 63
    المنافقون

    جب آئیں تیرے پاس منافق کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا [۱] اور اللہ جانتا ہے کہ تو اُس کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں [۲] ﴿1﴾

    انہوں نے رکھا ہے اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر [۳] پھر روکتے ہیں اللہ کی راہ سے یہ لوگ برے کام ہیں جو کر رہے ہیں [۴] ﴿2﴾

    یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے پھر منکر ہو گئے پھر مہر لگ گئ اُنکے دل پر سو وہ اب کچھ نہیں سمجھتے [۵] ﴿3﴾

    اور جب تو دیکھے اُنکو تو اچھے لگیں تجھ کو انکے ڈیل اور اگر بات کہیں سنے تو اُنکی بات [۶] کیسے ہیں جیسے کہ لکڑی لگا دی دیوار سے [۷] جو کوئی چیخے جانیں ہم ہی پر بلا آئی [۸] وہی ہیں دشمن اُن سے بچتا رہ [۹] گردن مارے انکی اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں [۱۰] ﴿4﴾

    اور جب کہیے اُنکو آؤ معاف کرا دے تم کو رسول اللہ کا مٹکاتے ہیں اپنے سر اور تو دیکھےکہ وہ رکتے ہیں اور وہ غرور کرتے ہیں [۱۱] ﴿5﴾

    برابر ہے اُن پر تو معافی چاہے اُنکی یا نہ معافی چاہے ہرگز نہ معاف کرے گا اُنکو اللہ بیشک اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو [۱۲] ﴿6﴾

    وہی ہیں جو کہتے ہیں مت خرچ کرو ان پر جو پاس رہتے ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ متفرق ہو جائیں [۱۳] اور اللہ کے ہیں خزانے آسمانوں کے اور زمین کے ولیکن منافق نہیں سمجھتے [۱۴] ﴿7﴾

    کہتے ہیں البتہ اگر ہم پھر گئے مدینہ کو تو نکال دے گا جس کا زور ہے وہاں سے کمزور لوگوں کو اور زور تو اللہ کا ہے اور اُسکے رسول کا اور ایمان والوں کا لیکن منافق نہیں جانتے [۱۵] ﴿8﴾

    اے ایمان والو غافل نہ کردیں تم کو تمہاے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے اور جو کوئی یہ کام کرے تو وہی لوگ ہیں ٹوٹے میں [۱۶] ﴿9﴾

    اور خرچ کرو کچھ ہمارا دیا ہوا اُس سے پہلے کہ آ پہنچے تم میں کسی کو موت تب کہے اے رب کیوں نہ ڈھیل دی تو نے مجھ کو ایک تھوڑی سے مدت کہ میں خیرات کرتا اور ہو جاتا نیک لوگوں میں ﴿10﴾

    اور ہرگز نہ ڈھیل دے گا اللہ کسی جی کو جب آ پہنچا اُس کا وعدہ [۱۷] اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو [۱۸] ﴿11﴾

    Surah 64
    التغابن

    پاکی بول رہا ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اُسی کا راج ہے اور اُسی کی تعریف ہے [۱] اور وہی ہر چیز کر سکتا ہے ﴿1﴾

    وہی ہے جس نے تم کو بنایا پھر کوئی تم میں منکر ہے اورکوئی تم میں ایماندار [۲] اور اللہ جو تم کرتے ہو دیکھتا ہے ﴿2﴾

    بنایا آسمانوں کو اور زمین کو تدبیر سے اور صورت کھینچی تمہاری پھر اچھی بنائی تمہاری صورت [۳] اور اُسکی طرف سب کو پھر جانا ہے ﴿3﴾

    جانتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو کھول کر کرتے ہو اور اللہ کو معلوم ہے جیوں کی بات ﴿4﴾

    کیا پہنچی نہیں تم کو خبر اُن لوگوں کی جو منکر ہو چکے ہیں پہلے پھر اُنہوں نے چکھی سزا اپنے کام کی اور اُن کو عذاب دردناک ہے [۴] ﴿5﴾

    یہ اس لئےکہ لاتےتھے اُنکے پاس اُن کے سول نسانیاں پھر کتے کیا آدمی ہم کر راہ سمجھائیں گے پھر منکر ہوئے اور منہ موڑ لیا [۵] اور اللہ نے بے پروائی کی اور اللہ بے پروا ہے سب تعریفوں والا [۶] ﴿6﴾

    دعوٰی کرتے ہیں منکر کہ ہر گز اُنکو کوئی نہ اٹھائے گا [۷] تو کہہ کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تم کو بیشک اٹھانا ہے پھر تم کو جتلانا ہے جو کچھ تم نے کیا اور یہ اللہ پر آسان ہے [۸] ﴿7﴾

    سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اسکے رسول پر اور اُس نور پر جو ہم نے اتارا [۹] اور اللہ کو تمہاے سب کام کی خبر ہے [۱۰] ﴿8﴾

    جس دن تم کو اکٹھا کرے گا جمع ہونے کے دن وہ دن ہے ہار جیت کا [۱۱] اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر اور کرے کام بھلا اتار دے گا اس پر سے اُسکی برائیاں [۱۲] اور داخل کرے گا اُسکو باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں ندیاں رہا کریں اُن میں ہمیشہ یہی ہے بڑی مراد ملنی [۱۳] ﴿9﴾

    اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلائیں انہوں نے ہماری آیتیں وہ لوگ ہیں دوزخ والے رہا کریں اُسی میں اور بری جگہ جا پہنچے ﴿10﴾

    نہیں پہنچتی کوئی تکلیف بدون حکم اللہ کے اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر وہ راہ بتلائے اسکے دل کو [۱۴] اور اللہ کو ہر چیز معلوم ہے [۱۵] ﴿11﴾

    اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ موڑو تو ہمارے رسول کا تو یہی کام ہے پہنچا دینا کھول کر [۱۶] ﴿12﴾

    اللہ اُسکے سوائے کسی کی بندگی نہیں اور اللہ پر چاہئے بھروسہ کریں ایمان والے [۱۷] ﴿13﴾

    اے ایمان والو تمہاری بعض جوروئیں اور اولاد دشمن ہیں تمہارے [۱۸] سو اُن سے بچتے رہو اور اگر معاف کرو اور درگزرو اور بخشو تو اللہ ہے بخشنے والا مہربان [۱۹] ﴿14﴾

    تمہارے مال اور تمہاری اولاد یہی ہیں جانچنے کو اور اللہ جو ہے اُسکے پاس ہے ثواب بڑا [۲۰] ﴿15﴾

    سو ڈرو اللہ سے جہاں تک ہو سکے اور سنو اور مانو [۲۱] اور خرچ کرو اپنے بھلے کو [۲۲] اور جسکو بچا دیا اپنے جی کے لالچ سے سو وہ لوگ وہی مراد کو پہنچے [۲۳] ﴿16﴾

    اگر قرض دو اللہ کو اچھی طرح پر قرض دینا وہ دونا کر دے تم کو اور تم کو بخشے [۲۴] اور اللہ قدردان ہے تحمل والا [۲۵] ﴿17﴾

    جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کا زبردست حکمت والا [۲۶] ﴿18﴾

    Surah 65
    الطلاق

    اے نبی جب تم طلاق دو عورتوں کو تو انکو طلاق دو اُنکی عدت پر [۱] اور گنتے رہو عدت کو [۲] اور ڈرو اللہ سے جو رب ہے تمہارا مت نکالو اُنکو اُنکے گھروں سے [۳] اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بے حیائی [۴] اور یہ حدیں ہیں باندھی ہوئی اللہ کی اور جو کوئی بڑھے اللہ کی حدوں سے تو اُس نے برا کیا اپنا [۵] اُسکو خبر نہیں [۶] شاید اللہ پیدا کر دے اُس طلاق کے بعد نئی صورت [۷] ﴿1﴾

    پھر جب پہنچیں اپنے وعدہ کو تو رکھ لو اُنکو دستور کے موافق یا چھوڑ دو اُنکو دستور کے موافق [۸] اور گواہ کر لو دو معتبر اپنے میں کے [۹] اور سیدھی ادا کرو گواہی اللہ کے واسطے [۱۰] یہ بات جو ہے اس سے سمجھ جائے گا جو کوئی یقین رکھتا ہو گا اللہ پر اور پچھلے دن پر [۱۱] اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے وہ کر دے اُس کا گذارہ [۱۲] ﴿2﴾

    اور روزی دے اُسکو جہاں سے اُسکو خیال بھی نہ ہو [۱۳] اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پر تو وہ اُسکو کافی ہے تحقیق اللہ پورا کر لیتا ہے اپنا کام اللہ نےرکھا ہے ہر چیز کا اندازہ [۱۴] ﴿3﴾

    اور جو عورتیں ناامید ہو گئیں حیض سے تمہاری عورتوں میں اگر تم کو شبہ رہ گیا تو اُنکی عدت ہے تین مہینے اور ایسے ہی جن کو حیض نہیں آیا [۱۵] اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے اُنکی عدت یہ کہ جن لیں پیٹ کا بچہ [۱۶] اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے کر دے وہ اُس کے کام میں آسانی ﴿4﴾

    یہ حکم ہے اللہ کا جو اتارا تمہاری طرف اور جو کوئی ڈرتا رہے اللہ سے اتار دے اس پر سے اسکی برائیاں اور بڑا دے اُسکو ثواب [۱۷] ﴿5﴾

    اُنکو گھر دو رہنے کے واسطے جہاں تم آپ رہو اپنے مقدور کے موافق [۱۸] اور ایذا دینا نہ چاہو اُنکو تاکہ تنگ پکڑو اُنکو [۱۹] اور اگر رکھتی ہوں پیٹ میں بچہ تو اُن پر خرچ کرو جب تک جنیں پیٹ کا بچہ [۲۰] پھر اگر وہ دودھ پلائیں تمہاری خاطر تو دو اُنکو اُن کا بدلا اور سکھاؤ آپس میں نیکی [۲۱] اور اگر ضد کرو آپس میں تو دودھ پلائے گی اُسکی خاطر اور کوئی عورت [۲۲] ﴿6﴾

    چاہیے خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے موافق اور جسکو نپی تلی ملتی ہے اُسکی روزی تو خرچ کرے جیسا کہ دیا ہے اُسکو اللہ نے اللہ کسی پر تکلیف نہیں رکھتا مگر اُسی قدر جو اُسکو دیا اب کر دے گا اللہ سختی کے پیچھے کچھ آسانی [۲۳] ﴿7﴾

    اور کتنی بستیاں کہ نکل چلیں حکم سے اپنے رب کے اور اُسکے رسولوں کے پھر ہم نے حساب میں پکڑا اُنکو سخت حساب میں اور آفت ڈالی اُن پر بن دیکھی آفت [۲۴] ﴿8﴾

    پھر چکھی انہوں نے سزا اپنے کام کی اور آخر کو اُنکے کام میں ٹوٹا آ گیا [۲۵] ﴿9﴾

    تیار رکھا ہے اللہ نے واسطے اُنکے سخت عذاب [۲۶] سو ڈرتے رہو اللہ سے اے عقل والو جنکو یقین ہے [۲۷] بیشک اللہ نے اتاری ہے تم پر نصیحت [۲۸] ﴿10﴾

    رسول ہے جو پڑھ کر سناتا ہے تم کو اللہ کی آیتیں کھول کر سنانے والی [۲۹] تاکہ نکالے اُن لوگوں کو جو کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اندھیروں سے اجالے میں [۳۰] اور جو کوئی یقین لائے اللہ پر اورکرے کچھ بھلائی اُسکو داخل کرے باغوں میں نیچے بہتی ہیں جنکے نہریں سدا رہیں اُن میں ہمیشہ البتہ خوب دی اللہ نے اُسکو روزی [۳۱] ﴿11﴾

    اللہ وہی ہے جس نے بنائے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی [۳۲] اترتا ہے اُس کا کا حکم اُنکے اندر [۳۳] تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز کر سکتا ہے اور اللہ کے علم میں سمائی ہے ہر چیز کی [۳۴] ﴿12﴾

    Surah 66
    التحریم

    [۱] اے نبی تو کیوں حرام کرتا ہے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر چاہتا ہے تو رضامندی اپنی عورتوں کی [۲] اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان [۳] ﴿1﴾

    مقرر کر دیا ہے اللہ نے تمہارے لئے کھول ڈالنا تمہاری قسموں کا اور اللہ مالک ہے تمہارا اور وہی ہے سب کچھ جانتا حکمت والا [۴] ﴿2﴾

    اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی کسی عورت سے ایک بات پھر جب اُس نے خبر کر دی اُسکی اور اللہ نے جتلا دی نبی کو وہ بات تو جتلائی نبی نے اُس میں سےکچھ اور ٹلا دی کچھ پھر جب وہ جتلائی عورت کو بولی تجھ کو کس نے بتلا دی یہ کہا مجھ کو بتایا اُس خبر والے واقف نے [۵] ﴿3﴾

    اگر تم دونوں توبہ کرتی ہو تو جھک پڑے ہیں دل تمہارے [۶] اور اگر تم دونوں چڑھائی کرو گی اُس پر تو اللہ ہے اُس کا رفیق اور جبرئیل اور نیک بخت ایمان والے اور فرشتے اسکے پیچھے مددگار ہیں [۷] ﴿4﴾

    اگر نبی چھوڑ دے تم سب کو ابھی اُس کا رب بدلے میں دیدے اُسکو عورتیں تم سے بہتر حکم بردار یقین رکھنے والیاں نماز میں کھڑی ہونے والیاں توبہ کرنے والیاں بندگی بجا لانے والیاں روزہ رکھنے والیاں بیاہیاں اور کنواریاں [۸] ﴿5﴾

    اے ایمان والو بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے جسکی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر [۹] اُس پر مقرر ہیں فرشتے تندخو زبردست [۱۰] نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے اُنکو اور وہی کام کرتے ہیں جو اُنکو حکم ہو [۱۱] ﴿6﴾

    اے منکر ہونے والو مت بہانے بتلاؤ آج کے دن وہی بدلا پاؤ گے جو تم کرتے تھے [۱۲] ﴿7﴾

    اے ایمان والو توبہ کرو اللہ کی طرف صاف دل کی توبہ [۱۳] امید ہے تمہارا رب اتار دے تم پر سے تمہاری برائیاں اور داخل کرے تم کو باغوں میں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں جس دن کہ اللہ ذلیل نہ کرے گا نبی کو اور اُن لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں اُسکے ساتھ [۱۴] اُنکی روشنی دوڑتی ہے اُنکے آگے اور اُنکے داہنے [۱۵] کہتے ہیں اے رب ہمارے پوری کر دے ہماری روشنی اور معاف کر ہم کو بیشک تو سب کچھ کر سکتا ہے [۱۶] ﴿8﴾

    اے نبی لڑائی کر منکروں سے اور دغابازوں سے اور سختی کر اُن پر [۱۷] اور اُن کا گھر دوزخ ہے اور بری جگہ جا پہنچے [۱۸] ﴿9﴾

    اللہ نے بتلائی ایک مثل منکروں کے واسطے عورت نوح کی اور عورت لوط کی گھر میں تھیں دونوں دو نیک بندوں کے ہمارے نیک بندوں میں سے پھر اُنہوں نے اُن سے چوری کی پھر وہ کام نہ آئے اُنکے اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی اور حکم ہوا کہ چلی جاؤ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ ﴿10﴾

    اور اللہ نے بتلائی ایک مثل ایمان والوں کے لئے عورت فرعون کی [۱۹] جب بولی اے رب بنا میرے واسطے اپنے پاس ایک گھر بہشت میں [۲۰] اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اُسکے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے [۲۱] ﴿11﴾

    اور مریم بیٹی عمران کی جس نے روکے رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو [۲۲] پھر ہم نے پھونک دی اُس میں ایک اپنی طرف سے جان [۲۳] اور سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو اور اُسکی کتابوں کو [۲۴] اور وہ تھی بندگی کرنے والوں میں [۲۵] ﴿12﴾

    Surah 67
    الملک

    بڑی برکت ہے اُسکی جسکے ہاتھ میں ہے راج اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے [۱] ﴿1﴾

    جس نے بنایا مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام [۲] اور وہ زبردست ہے بخشنے والا [۳] ﴿2﴾

    جس نے بنائے سات آسمان تہہ پر تہہ [۴] کیا دیکھتا ہے تو رحمٰن کے بنانے میں کچھ فرق [۵] پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دڑاڑ [۶] ﴿3﴾

    پھر لوٹا کر نگاہ کر دو دو بار لوٹ آئے گی تیرے پاس تیری نگاہ رد ہو کر تھک کر [۷] ﴿4﴾

    اور ہم نے رونق دی سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے [۸] اور اُن سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے [۹] اور رکھا ہے اُنکے واسطے عذاب دہکتی آگ کا [۱۰] ﴿5﴾

    اور جو لوگ منکر ہوئے اپنے رب سے اُنکے واسطے ہے عذاب دردناک اور بری جگہ جا پہنچے [۱۱] ﴿6﴾

    جب اُس میں ڈالے جائیں گے سنیں گے اُس کا دہاڑنا اور وہ اچھل رہی ہو گی ﴿7﴾

    ایسا لگتا ہے کہ پھٹ پڑے گی جوش سے [۱۲] جس وقت پڑے اُس میں ایک گروہ پوچھیں اُن سے دوزخ کے داروغہ کیا نہ پہنچا تھا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا [۱۳] ﴿8﴾

    وہ بولیں کیوں نہیں ہمارے پاس پہنچا تھا ڈر سنانے والا پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا نہیں اتاری اللہ نے کوئی چیز تم تو پڑے ہوئے ہو بڑے بہکاوے میں [۱۴] ﴿9﴾

    اور کہیں گے اگر ہم ہوتے سنتے یا سمجھتے تو نہ ہوتے دوزخ والوں میں [۱۵] ﴿10﴾

    سو قائل ہو گئے اپنے گناہ کے اب دفع ہو جائیں دوزخ والے [۱۶] ﴿11﴾

    جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے [۱۷] اُنکے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا ﴿12﴾

    اور تم چھپا کر کہو اپنی بات یا کھول کر وہ خوب جانتا ہے جیوں کے بھید [۱۸] ﴿13﴾

    بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار [۱۹] ﴿14﴾

    وہی ہے جس نے کیا تمہارے آگے زمین کو پست اب چلو پھرو اُسکے کندھوں پر اور کھاؤ کچھ اُسکی دی ہوئی روزی اور اُسی کی طرف جی اٹھنا ہے [۲۰] ﴿15﴾

    کیا تم نڈر ہو گئے اُس سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں پھر تبھی وہ لرزنے لگے [۲۱] ﴿16﴾

    یا نڈر ہو گئے ہو اُس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم پر مینہ پتھروں کا [۲۲] سو جان لو گے کیسا ہے میرا ڈرانا [۲۳] ﴿17﴾

    اور جھٹلا چکے ہیں جو اُن سے پہلے تھے پھر کیسا ہوا میرا انکار [۲۴] ﴿18﴾

    اور کیا نہیں دیکھتے ہو اڑتے جانوروں کو اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور پر جھپکتے ہوئے اُن کو کوئی نہیں تھام رہا رحمان کے سوائے اُسکی نگاہ میں ہے ہر چیز [۲۵] ﴿19﴾

    بھلا وہ کون ہے جو فوج ہے تمہاری مدد کرے تمہاری رحمٰن کے سوائے منکر پڑے ہیں برے بہکائے میں [۲۶] ﴿20﴾

    بھلا وہ کون ہے جو روزی دے تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے اپنی روزی [۲۷] کوئی نہیں پر اڑ رہے ہیں شرارت اور بدکنے پر [۲۸] ﴿21﴾

    بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ کے بل وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر [۲۹] ﴿22﴾

    تو کہہ وہی ہے جس نے تم کو بنا کھڑا کیا اور بنا دیے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو [۳۰] ﴿23﴾

    تو کہہ وہی ہے جس نے کھنڈا دیا تم کو زمین میں اور اُسی کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے [۳۱] ﴿24﴾

    اور کہتے ہیں کب ہو گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو [۳۲] ﴿25﴾

    تو کہہ خبر تو ہے اللہ ہی کے پاس اور میرا کام تو یہی ڈر سنا دینا ہے کھول کر [۳۳] ﴿26﴾

    پھر جب دیکھیں گے کہ وہ پاس آ لگا تو بگڑ جائیں گے منہ منکروں کے اور کہے گا یہی ہے جس کو تم مانگتے تھے [۳۴] ﴿27﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ اور میرے ساتھ والو کو یا ہم پر رحم کرے پھر وہ کون ہے جو بچائے منکروں کو عذاب دردناک سے [۳۵] ﴿28﴾

    تو کہہ وہی رحمٰن ہے ہم نے اُسکو مانا اور اُسی پر بھروسہ کیا [۳۶] سو اب تم جان لو گے کون پڑ اہے صریح بہکائے میں [۳۷] ﴿29﴾

    تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہو جائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا [۳۸] ﴿30﴾

    Surah 68
    القلم

    نٓ۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ لکھتے ہیں ﴿1﴾

    تو نہیں اپنے رب کے فضل سے دیوانہ [۱] ﴿2﴾

    اور تیرے واسطے بدلا ہے بے انتہا [۲] ﴿3﴾

    اور تو پیدا ہوا ہے بڑے خلق پر [۳] ﴿4﴾

    سو اب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے ﴿5﴾

    کہ کون ہے تم میں جو بچل رہا ہے [۴] ﴿6﴾

    بیشک تیرا رب وہی خوب جانے اُسکو جو بہکا اُسکی راہ سے اور وہی جانتا ہے راہ پانے والوں کو [۵] ﴿7﴾

    سو تو کہنا مت مان جھٹلانے والوں کا ﴿8﴾

    وہ چاہتے ہیں کسی طرح تو ڈھیلا ہو تو وہ بھی ڈھیلے ہوں [۶] ہوں ﴿9﴾

    اور تو کہا مت مان کسی قسمیں کھانے والے بے قدر کا [۷] ﴿10﴾

    طعنے دے چغلی کھاتا پھرے ﴿11﴾

    بھلے کام سے روکے حد سے بڑھے بڑا گنہگار ﴿12﴾

    اُجڈ ان سب کے پیچھے بدنام [۸] ﴿13﴾

    اس واسطے کہ رکھتا ہے مال اور بیٹے [۹] ﴿14﴾

    جب سنائے اُس کو ہماری باتیں کہے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی [۱۰] ﴿15﴾

    اب داغ دیں گے ہم اُسکو سونڈ پر [۱۱] ﴿16﴾

    ہم نے اُن کو جانچا ہے جیسے جانچا تھا باغ والوں کو [۱۲] جب اُن سب نے قسم کھائی کہ اُس کا میوہ توڑیں گے صبح ہوتے ﴿17﴾

    اور ان شاء اللہ نہ کہا [۱۳] ﴿18﴾

    پھر پھیرا کر گیا اُس پر کوئی پھیرے والا تیرے رب کی طرف سے اور وہ سوتے ہی رہے ﴿19﴾

    پھر صبح تک ہو رہاجیسے ٹوٹ چکا [۱۴] ﴿20﴾

    پھر آپس میں بولے صبح ہوتے ﴿21﴾

    کہ سویرے چلو اپنے کھیت پر اگر تمکو توڑنا ہے ﴿22﴾

    پھر چلے اور آپس میں کہتے تھے چپکے چپکے ﴿23﴾

    کہ اندر نہ آنے پائے اُس میں آج تمہارے پاس کوئی محتاج ﴿24﴾

    اور سویرے چلے لپکتے ہوئے زور کے ساتھ [۱۵] ﴿25﴾

    پھر جب اُسکو دیکھا بولے ہم تو راہ بھول آئے ﴿26﴾

    نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئ [۱۶] ﴿27﴾

    بولا بچلا اُن کا میں نے تم کو نہ کہا تھا کہ کیوں نہیں پاکی بولتے اللہ کی [۱۷] ﴿28﴾

    بولے پاک ذات ہے ہمارے رب کی ہم ہی تقصیر وار تھے ﴿29﴾

    پھر منہ کر کر ایک دوسرے کی طرف لگے اُلاہنا دینے [۱۸] ﴿30﴾

    یبولے ہائے خرابی ہماری ہم ہی تھے حد سے بڑھنے والے ﴿31﴾

    شاید ہمارا رب بدل دے ہمکو اس سے بہتر ہم اپنے رب سے آرزو رکھتے ہیں [۱۹] ﴿32﴾

    یوں آتی ہے آفت اور آخرت کی آفت تو سب سے بڑی ہے اگر اُنکو سمجھ ہوتی [۲۰] ﴿33﴾

    البتہ ڈرنے والوں کو اُنکے رب کے پاس باغ ہیں نعمت کے [۲۱] ﴿34﴾

    کیا ہم کر دیں گے حکم برداروں کو برابر گنہگاروں کے ﴿35﴾

    کیا ہو گیا تمکو کیسے ٹھہرا رہے ہو بات [۲۲] ﴿36﴾

    کیا تمہارے پا س کوئی کتاب ہے جس میں پڑھ لیتے ہو ﴿37﴾

    اُس میں ملتا ہے تمکو جو تم پسند کر لو ﴿38﴾

    کیا تم نے ہم سے قسمیں لے لی ہیں ٹھیک پہنچنے والی قیامت کے دن تک کہ تم کو ملے گاجو کچھ تم ٹھہراؤ گے ﴿39﴾

    پوچھ اُن سے کونسا اُن میں اس کا ذمہ لیتا ہے [۲۳] ﴿40﴾

    کیا انکے واسطے کوئی شریک ہیں پھر توچاہئے لے آئیں اپنے اپنے شریکوں کو اگر وہ سچے ہیں [۲۴] ﴿41﴾

    جس دن کہ کھولی جائے پنڈلی اور وہ بلائے جائیں سجدہ کرنےکو پھر نہ کر سکیں [۲۵] ﴿42﴾

    جھکی پڑتی ہوں گی اُنکی آنکھیں [۲۶] چڑھی آتی ہو گی اُن پر ذلت اور پہلے اُنکو بلاتے رہے سجدہ کرنے کو اور وہ تھے اچھے خاصے [۲۷] ﴿43﴾

    اب چھوڑ دے مجھ کو اور اُنکو جو کہ جھٹلائیں اس بات کو اب ہم سیڑھی سیڑھی اتاریں گے اُنکو جہاں سے اُنکو پتہ بھی نہیں [۲۸] ﴿44﴾

    اور انکو ڈھیل دیے جاتا ہوں بیشک میرا داؤ پکا ہے [۲۹] ﴿45﴾

    کیا تو مانگتا ہے اُن سے کچھ حق سو اُن پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ﴿46﴾

    کیا اُنکے پاس خبر ہے غیب کی سو وہ لکھ لاتے ہیں [۳۰] ﴿47﴾

    اب تو استقلال سے راہ دیکھتا رہ اپنے رب کے حکم کی اور مت ہو جیسا وہ مچھلی والا [۳۱] جب پکارا اُس نے اور وہ غصہ میں بھرا تھا [۳۲] ﴿48﴾

    اگر نہ سنبھالتا اُسکو احسان تیرے رب کا تو پھینکا گیا ہی تھا چٹیل میدان میں الزام کھا کر [۳۳] ﴿49﴾

    پھر نوازا اُسکو اسکے رب نے پھر کر دیا اُسکو نیکوں میں [۳۴] ﴿50﴾

    اور منکر تو لگ ہی رہے ہیں کہ پھسلا دیں تجھ کو اپنی نگاہوں سے جب سنتے ہیں قرآن اور کہتے ہیں وہ تو باؤلا ہے [۳۵] ﴿51﴾

    اور یہ قرآن تو یہی نصیحت ہے سارے جہان والوں کو [۳۶] ﴿52﴾

    Surah 69
    الحاقہ

    وہ ثابت ہو چکنے والی ﴿1﴾

    کیا ہے وہ ثابت ہو چکنے والی [۱] ﴿2﴾

    اور تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ ثابت ہو چکنے والی [۲] ﴿3﴾

    جھٹلایا ثمود اور عاد نے اُس کوٹ ڈالنے والی کو [۳] ﴿4﴾

    سو وہ جو ثمود تھے سو غارت کر دیے گئے اچھال کر [۴] ﴿5﴾

    اور وہ جو عاد تھے سو برباد ہوئے ٹھنڈی سناٹے کی ہوا سے نکلی جائے ہاتھوں سے [۵] ﴿6﴾

    مقرر کر دیا اُسکو اُن پر سات رات اور آٹھ دن تک لگاتار پھر تو دیکھے کہ وہ لوگ اُس میں بچھڑ گئے گویا وہ ڈھنڈ ہیں کھجور کے کھوکھلے [۶] ﴿7﴾

    پھر تو دیکھتا ہے کوئی اُن میں کا بچا [۷] ﴿8﴾

    اور آیا فرعون اور جو اُس سے پہلے تھے اور اُلٹ جانے والی بستیاں خطائیں کرتے ہوئے ﴿9﴾

    پھر حکم نہ مانا اپنے رب کے رسول کا پھر پکڑا اُنکو پکڑنا سخت [۸] ﴿10﴾

    ہم نے جس وقت پانی اُبلا لاد لیا تم کو چلتی کشتی میں ﴿11﴾

    تاکہ رکھیں اُسکو تمہاری یادگاری کے واسطے اور سینت کر رکھے اُسکو کان سینت کر رکھنے والا [۹] ﴿12﴾

    پھر جب پھونکا جائے صور میں ایک بار پھونکنا ﴿13﴾

    اور اٹھائی جائے زمین اورپہاڑ پھر کوٹ دیے جائیں ایک بار ﴿14﴾

    پھر اُس دن ہو پڑے وہ ہو پڑنے والی [۱۰] ﴿15﴾

    اور پھٹ جائے آسمان پھر وہ اُس دن بکھر رہا ہے ﴿16﴾

    اور فرشتے ہوں گے اُسکے کناروں پر [۱۱] اور اٹھائیں گے تخت تیرے رب کا اپنے اوپر اُس دن آٹھ شخص [۱۲] ﴿17﴾

    اُس دن سامنے کئے جاؤ گے چھپی نہ رہے گی تمہاری کوئی چھپی بات [۱۳] ﴿18﴾

    سو جس کو ملا اُس کا لکھا داہنے ہاتھ میں وہ کہتا ہے لیجیو پڑھیو میرا لکھا [۱۴] ﴿19﴾

    میں نے خیال رکھا اس بات کا کہ مجھ کو ملے گا میرا حساب [۱۵] ﴿20﴾

    سو وہ ہیں من مانتے گزران میں ﴿21﴾

    اونچے باغ میں ﴿22﴾

    جسکے میوےجھکے پڑے ہیں [۱۶] ﴿23﴾

    کھاؤ اور پیو رچ کر بدلا اُس کا جو آگے بھیج چکے ہو تم پہلے دنوں میں [۱۷] ﴿24﴾

    اور جس کو ملا اُس کا لکھا بائیں ہاتھ میں وہ کہتا ہے کیا اچھا ہوتا جو مجھ کو نہ ملتا میرا لکھا ﴿25﴾

    اور مجھ کو خبر نہ ہوتی کہ کیا ہے حساب میرا ﴿26﴾

    کسی طرح وہی موت ختم کر جاتی ﴿27﴾

    کچھ کام نہ آیا مجھ کو میرا مال ﴿28﴾

    برباد ہوئی مجھ سے حکومت میری [۱۸] ﴿29﴾

    اُسکو پکڑو پھر طوق ڈالو ﴿30﴾

    پھر آگ کے ڈھیر میں اسکو ڈالو ﴿31﴾

    پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر گز ہے اُسکو جکڑ دو [۱۹] ﴿32﴾

    وہ تھا کہ یقین نہ لاتا تھا اللہ پر جو سب سے بڑا ﴿33﴾

    اور تاکید نہ کرتا تھا فقیر کے کھانے پر [۲۰] ﴿34﴾

    سو کوئی نہیں آج اُس کا یہاں دوستدار [۲۱] ﴿35﴾

    اور نہ کچھ ملے کھانا مگر زخموں کا دھوون ﴿36﴾

    کوئی نہ کھائے اُسکو مگر وہی گنہگار [۲۲] ﴿37﴾

    سو قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی جو دیکھتے ہو ﴿38﴾

    اور جو چیزیں کہ تم نہیں دیکھتے ﴿39﴾

    کہ کہا ہے ایک پیغام لانے والے سردار کا [۲۳] ﴿40﴾

    اور نہیں ہے یہ کہا کسی شاعر کا تم تھوڑا یقین کرتے ہو [۲۴] ﴿41﴾

    اور نہیں ہے کہا پریوں والے کا تم بہت کم دھیان کرتے ہو [۲۵] ﴿42﴾

    یہ اتارا ہوا ہے جہان کے رب کا [۲۶] ﴿43﴾

    اور اگر یہ بنا لاتا ہم پر کوئی بات ﴿44﴾

    تو ہم پکڑ لیتے اس کا داہنا ہاتھ ﴿45﴾

    پھر کاٹ ڈالتے اُسکی گردن ﴿46﴾

    پھر تم میں کوئی ایسا نہیں جو اُس سے بچا لے [۲۷] ﴿47﴾

    اور یہ نصیحت ہے ڈرنے والوں کو ﴿48﴾

    اور ہمکو معلوم ہے کہ تم میں بعضے جھٹلاتے ہیں ﴿49﴾

    اور وہ جو ہے پچتاوا ہے منکروں پر [۲۸] ﴿50﴾

    اور وہ جو ہے یقین کرنے کے قابل ہے ﴿51﴾

    اب بول پاکی اپنے رب کے نام کی جو ہے سب سے بڑا [۲۹] ﴿52﴾

    Surah 70
    المعارج

    مانگا ایک مانگنے والے نے عذاب پڑنے والا ﴿1﴾

    منکروں کے واسطے کوئی نہیں اُسکو ہٹانے والا [۱] ﴿2﴾

    آئے اللہ کی طرف سے جو چڑھتے درجوں والا ہے [۲] ﴿3﴾

    چڑھیں گے اُسکی طرف فرشتے اور روح [۳] اُس دن میں جس کا لنباؤ پچاس ہزار برس ہے [۴] ﴿4﴾

    سو تو صبر کر بھلی طرح کا صبر کرنا [۵] ﴿5﴾

    وہ دیکھتے ہیں اُسکو دور ﴿6﴾

    اور ہم دیکھتے ہیں اُسکو نزدیک [۶] ﴿7﴾

    جس دن ہو گا آسمان جیسے تانبا پگھلا ہوا [۷] ﴿8﴾

    اور ہوں گے پہاڑ جیسے اون رنگی ہوئی [۸] ﴿9﴾

    اور نہ پوچھے گا دوستدار دوستدار کو ﴿10﴾

    سب نظر آ جائیں گے اُنکو [۹] چاہے گا گنہگار کسی طرح چھڑوائی میں دے کر اُس دن کے عذاب سے اپنے بیٹے کو ﴿11﴾

    اور اپنی ساتھ والی کو اور اپنے بھائی کو ﴿12﴾

    اور اپنے گھرانے کو جس میں رہتا تھا ﴿13﴾

    اور جتنے زمین پر ہیں سب کو پھر اپنے آپ کو بچا لے ﴿14﴾

    ہر گز نہیں [۱۰] وہ تپتی ہوئی آگ ہے ﴿15﴾

    کھینچ لینے والی کلیجہ [۱۱] ﴿16﴾

    پکارتی ہے اُسکو جس نے پیٹھ پھیر لی ﴿17﴾

    اور پھر کر چلا گیا اور جوڑا اور سینت کر رکھا [۱۲] ﴿18﴾

    بیشک آدمی بنا ہے جی کا کچا ﴿19﴾

    جب پہنچے اُسکو برائی تو بے صبرا ﴿20﴾

    اور جب پہنچے اُسکو بھلائی تو بے توفیقا [۱۳] ﴿21﴾

    مگر وہ نمازی ﴿22﴾

    جو اپنی نماز پر قائم ہیں [۱۴] ﴿23﴾

    اور جنکے مال میں حصہ مقرر ہے ﴿24﴾

    مانگنے والے اور ہارے ہوئے کا [۱۵] ﴿25﴾

    اور جو یقین کرتے ہیں انصاف کے دن پر [۱۶] ﴿26﴾

    اور جو لوگ کہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں [۱۷] ﴿27﴾

    بیشک اُنکے رب کے عذاب سے کسی کو نڈر نہ ہونا چاہئے [۱۸] ﴿28﴾

    اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں ﴿29﴾

    مگر اپنی جورؤں سے یا اپنے ہاتھ کے مال سےسو ان پر نہیں کچھ اُلاہنا ﴿30﴾

    پھر جو کوئی ڈھونڈے اسکے سوائے سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے [۱۹] ﴿31﴾

    اور جو لوگ کہ اپنی امانتوں اور اپنے قول کو نباہتے ہیں [۲۰] ﴿32﴾

    اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے ہیں [۲۱] ﴿33﴾

    اور جو اپنی نماز سے خبردار ہیں [۲۲] ﴿34﴾

    وہی لوگ ہیں باغوں میں عزت سے [۲۳] ﴿35﴾

    پھر کیا ہوا ہے منکروں کو تیری طرف دوڑتے ہوئے آتے ہیں ﴿36﴾

    داہنے سے اور بائیں سے غول کے غول ﴿37﴾

    کیا طمع رکھتا ہے ہر ایک شخص اُن میں کہ داخل ہو جائے نعمت کے باغ میں ﴿38﴾

    ہرگز نہیں [۲۴] ہم نے اُنکو بنایا ہے جس سے وہ بھی جانتے ہیں [۲۵] ﴿39﴾

    سو میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی [۲۶] تحقیق ہم کر سکتے ہیں ﴿40﴾

    کہ بدل کر لے آئیں اُن سے بہتر اور ہمارے قابو سے نکل نہ جائیں گے [۲۷] ﴿41﴾

    سو چھوڑ دے اُنکو کہ باتیں بنائیں اور کھیلا کریں یہاں تک کہ مل جائیں اپنے اُس دن سے جس کا اُن سے وعدہ ہے [۲۸] ﴿42﴾

    جس دن نکل پڑیں گے قبروں سے دوڑتے ہوئے جیسے کسی نشانی پر دوڑتے جاتے ہیں [۲۹] ﴿43﴾

    جھکی ہوں گی اُنکی آنکھیں چڑھی آتی ہوگی اُن پر ذلت یہ ہے وہ دن جس کا اُن سے وعدہ تھا [۳۰] ﴿44﴾

    Surah 71
    نوح

    ہم نے بھیجا نوح کو اُسکی قوم کی طرف کہ ڈرا اپنی قوم کو اس سے پہلے کہ پہنچے اُن پر عذاب دردناک [۱] ﴿1﴾

    بولا اے قوم میری میں تم کو ڈر سناتا ہوں کھول کر ﴿2﴾

    کہ بندگی کرو اللہ کی اور اُس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو [۲] ﴿3﴾

    تاکہ بخشے وہ تم کو کچھ گناہ تمہارے اور ڈھیل دے تم کو ایک مقرر وعدہ تک [۳] وہ وعدہ جو کیا ہے اللہ نے جب آ پہنچے گا اُسکو ڈھیل نہ ہو گی [۴] اگر تمکو سمجھ ہے [۵] ﴿4﴾

    بولا اے رب میں بلاتا رہا اپنی قوم کو رات اور دن ﴿5﴾

    پھرمیرے بلانے سے اور زیادہ بھاگنے لگے [۶] ﴿6﴾

    اور میں نے جب کبھی اُنکو بلایا تاکہ تو اُنکو بخشے ڈالنے لگے انگلیاں اپنے کانوں میں [۷] اور لپیٹنے لگے اپنے اوپر کپڑے [۸] اور ضد کی اور غرور کیا بڑا غرور [۹] ﴿7﴾

    پھر میں نے اُنکو بلایا بر ملا [۱۰] ﴿8﴾

    پھر میں نے اُنکو کھول کر کہا اور چھپ کر کہا چپکے سے [۱۱] ﴿9﴾

    تو میں نے کہا گناہ بخشواؤ اپنے رب سے بیشک وہ ہے بخشنے والا [۱۲] ﴿10﴾

    چھوڑ دے گا آسمان کی تم پر دھاریں ﴿11﴾

    اور بڑھا دے گا تم کومال اور بیٹوں سے اور بنا دے گا تمہارے واسطے باغ اور بنا دے گا تمہارے لئے نہریں [۱۳] ﴿12﴾

    کیا ہوا ہے تم کو کیوں نہیں امید رکھتے اللہ سے بڑائی کی [۱۴] ﴿13﴾

    اور اُسی نے بنایا تمکو طرح طرح سے [۱۵] ﴿14﴾

    کیا تم نے نہیں دیکھا کیسے بنائے اللہ نے سات آسمان تہہ پر تہہ [۱۶] ﴿15﴾

    اور رکھا چاند کو اُن میں اجالا اور رکھا سورج کو چراغ جلتا ہوا [۱۷] ﴿16﴾

    اور اللہ نے اگایا تمکو زمین سے جما کر [۱۸] ﴿17﴾

    پھر مکرر ڈالے گا تم کو اس میں اور نکالے گا تم کو باہر [۱۹] ﴿18﴾

    اور اللہ نے بنا دیا تمہارے لئے زمین کو بچھونا ﴿19﴾

    تاکہ چلو اُس میں کشادہ رستے [۲۰] ﴿20﴾

    کہا نوح نے اے رب میرے انہوں نے میرا کہا نہ مانا اور مانا ایسے کا جسکو اُسکے مال اور اولاد سے اور زیادہ ہو ٹوٹا [۲۱] ﴿21﴾

    اور داؤ کیا ہے بڑ اداؤ [۲۲] ﴿22﴾

    اور بولے ہرگز نہ چھوڑیو اپنے معبودوں کو [۲۳] اور نہ چھوڑیو ودّ کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق اور نسر کو [۲۴] ﴿23﴾

    اور بہکا دیا بہتوں کو اور تو نہ زیادہ کرنا (کریو) بے انصافوں کو مگر بھٹکنا [۲۵] ﴿24﴾

    کچھ وہ اپنے گناہوں سے دبائے گئے پھر ڈالے گئے آگ میں [۲۶] پھر نہ پائے اپنے واسطے انہوں نے اللہ کے سوائے کوئی مددگار [۲۷] ﴿25﴾

    اور کہا نوح نے اے رب نہ چھوڑیو زمین پر منکروں کا ایک گھر بسنے والا ﴿26﴾

    مقرر اگر تو چھوڑ دے گا اُنکو بہکائیں گے تیرے بندوں کو اور جو جنیں گے سو ڈھیٹھ حق کا منکر [۲۸] ﴿27﴾

    اے رب معاف کر مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو آئے میرے گھر میں ایماندار اور سب ایمان والے مردوں کو اور عورتوں کو [۲۹] اور گنہگاروں پر بڑھتا رکھ یہی برباد ہونا ﴿28﴾

    Surah 72
    الجن

    تو کہہ مجھ کو حکم آیا کہ سن گئے کتنے لوگ جنوں کے [۱] پھر کہنے لگےہم نے سنا ہے ایک قرآن عجیب ﴿1﴾

    کہ سمجھاتا ہے نیک راہ سو ہم بھی اُس پر یقین لا۴ئے اور ہر گز نہ شریک بتلائیں گے ہم اپنے رب کا کسی کو [۲] ﴿2﴾

    اور یہ کو اونچی ہے شان ہمارے رب کی نہیں رکھی اُس نے جورو نہ بیٹا [۳] ﴿3﴾

    اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ پر بڑھا کر باتیں کہا کرتا تھا [۴] ﴿4﴾

    اور یہ کہ ہم کو خیال تھا کہ ہرگز نہ بولیں گے آدمی اور جن اللہ پر جھوٹ [۵] ﴿5﴾

    اور یہ کہ تھے کتنے مرد آدمیوں میں کے پناہ پکڑتے تھے کتنے مردوں کی جنوں میں کے پھر تو وہ اور زیادہ سر چڑھنے لگے [۶] ﴿6﴾

    اور یہ کہ اُنکو بھی خیال تھا جیسا تم کو خیال تھا کہ ہرگز نہ اٹھائے گا اللہ کسی کو [۷] ﴿7﴾

    اور یہ کہ ہم نے ٹٹول کر دیکھا آسمان کو پھر پایا اُسکو بھر رہے ہیں اُس میں چوکیدار سخت اور انگارے ﴿8﴾

    اور یہ کہ ہم بیٹھا کرتے تھے ٹھکانوں میں سننے کے واسطے پھر جو کوئی اب سننا چاہے وہ پائےاپنے واسطے ایک انگارا گھات میں [۸] ﴿9﴾

    اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ برا اراداہ ٹھہرا ہے زمین کے رہنے والوں پر یا چاہا ہے اُنکے حق میں اُنکے رب نے راہ پر لانا [۹] ﴿10﴾

    اور یہ کہ کوئی ہم میں نیک ہیں اور کوئی اسکےسوائے ہم تھے کئ راہ پر پھٹے ہوئے [۱۰] ﴿11﴾

    اور یہ کہ ہمارے خیال میں آ گیا کہ ہم چھپ نہ جائیں گے اللہ سے زمین میں اور نہ تھکا دیں گے اُسکو بھاگ کر [۱۱] ﴿12﴾

    اور یہ کہ جب ہم نے سن لی راہ کی بات تو ہم نے اُسکو مان لیا [۱۲] پھر جو کوئی یقین لائے گا اپنے رب پر سو وہ نہ ڈرے گا نقصان سے اور نہ زبردستی سے [۱۳] ﴿13﴾

    اور یہ کہ کچھ ہم میں حکم بردار ہیں اور کچھ ہیں بے انصاف سو جو لوگ حکم میں آ گئے سو انہوں نے اٹکل کر لیا نیک راہ کو ﴿14﴾

    اور جو بے انصاف ہیں وہ ہوئے دوزخ کے ایندھن [۱۴] ﴿15﴾

    اور یہ حکم آیا کہ اگر لوگ سیدھے رہتے راہ پر تو ہم پلاتے اُنکو پانی بھر کر ﴿16﴾

    تاکہ اُنکو جانچیں اس میں [۱۵] اور جو کوئی منہ موڑے اپنے رب کی یاد سے وہ ڈال دے گا اُسکو چڑھتے عذاب میں [۱۶] ﴿17﴾

    اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو [۱۷] ﴿18﴾

    اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ [۱۸] کہ اُسکو پکارے لوگوں کا بندھنے لگتا ہے اُس پر ٹھٹھ [۱۹] ﴿19﴾

    تو کہہ میں تو پکارتا ہوں بس اپنے رب کو اور شریک نہیں کرتا اُس کا کسی کو [۲۰] ﴿20﴾

    تو کہہ میرے اختیار میں نہیں تمہارا برا اور نہ راہ پر لانا [۲۱] ﴿21﴾

    تو کہہ مجھ کو نہ بچائے گا اللہ کے ہاتھ سے کوئی اور نہ پاؤں گا اُسکے سوائے کہیں سرک رہنے کو جگہ [۲۲] ﴿22﴾

    مگر پہنچانا ہے اللہ کی طرف سے اور اُسکے پیغام لانے [۲۳] اور جو کوئی حکم نہ مانے اللہ کا اور اُسکے رسول کا سو اُسکے لئے آگ ہے دوزخ کی رہا کریں اُس میں ہمیشہ [۲۴] ﴿23﴾

    یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو کچھ اُن سے وعدہ ہوا تب جان لیں گے کس کے مددگار کمزور ہیں اور گنتی میں تھوڑے [۲۵] ﴿24﴾

    تو کہہ میں نہیں جانتا کہ نزدیک ہے جس چیز کا تم سے وعدہ ہوا ہے یا کر دے اسکو میرا رب ایک مدت کے بعد [۲۶] ﴿25﴾

    جاننے والا بھید کا سو نہیں خبر دیتا اپنے بھید کی کسی کو ﴿26﴾

    مگر جو پسند کر لیا کسی رسول کو تو وہ چلاتا ہے اُسکے آگے اور پیچھے چوکیدار [۲۷] ﴿27﴾

    تاکہ جانے کہ انہوں نے پہنچائے پیغام اپنے رب کے [۲۸] اور قابو میں رکھا ہے جو اُنکے پاس ہے اور گن لی ہے ہر چیز کی گنتی [۲۹] ﴿28﴾

    Surah 73
    المزمل

    اے کپڑے میں لپٹنے والے [۱] ﴿1﴾

    کھڑا رہ رات کو مگر کسی رات [۲] ﴿2﴾

    آدھی رات یا اُس میں سے کم کر دے تھوڑا سا ﴿3﴾

    یا زیادہ کر اُس پر [۳] اور کھول کھول کر پڑھ قرآن کو صاف [۴] ﴿4﴾

    ہم ڈالنے والے ہیں تجھ پر ایک بات وزن دار [۵] ﴿5﴾

    البتہ اٹھنا رات کو سخت روندتا ہے اور سیدھی نکلتی ہے بات [۶] ﴿6﴾

    البتہ تجھ کو دن میں شغل رہتا ہے لمبا [۷] ﴿7﴾

    اور پڑھے جا نام اپنے رب کا اور چھوٹ کر آ اسکی طرف سب سے الگ ہو کر [۸] ﴿8﴾

    مالک مشرق اور مغرب کا [۹] اُسکے سوا کسی کی بندگی نہیں سو پکڑ لے اُسکو کام بنانے والا [۱۰] ﴿9﴾

    اور سہتا رہ جو کچھ کہتے رہیں [۱۱] اور چھوڑ دے اُنکو بھلی طرح کا چھوڑنا [۱۲] ﴿10﴾

    اور چھوڑ دے مجھ کو اور جھٹلانے والوں کو جو آرام میں رہے ہیں اور ڈھیل دےاُنکو تھوڑی سے [۱۳] ﴿11﴾

    البتہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور آگ کا ڈھیر ﴿12﴾

    اور کھانا گلے میں اٹکنے والا اور عذاب دردناک [۱۴] ﴿13﴾

    جس دن کہ کانپے گی زمین اور پہاڑ اور ہو جائیں گے پہاڑ ریت کے تودے پھسلتے [۱۵] ﴿14﴾

    ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول بتلانے والا تمہاری باتوں کا [۱۶] جیسے بھیجا فرعون کے پاس رسول [۱۷] ﴿15﴾

    پھر کہا نہ مانا فرعون نے رسول کا پھر پکڑی ہم نے اُسکو وبال کی پکڑ [۱۸] ﴿16﴾

    پھر کیونکر بچو گے اگر منکر ہو گئے اُس دن سے جو کر ڈالے لڑکوں کو بوڑھا [۱۹] ﴿17﴾

    آسمان پھٹ جائے گا اُس دن میں اُس کا وعدہ ہونے والا ہے [۲۰] ﴿18﴾

    یہ تو نصیحت ہے پھر جو کوئی چاہے بنالے اپنے رب کی طرف راہ [۲۱] ﴿19﴾

    بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ تو اٹھتا ہے نزدیک دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور تہائی رات کے اور کتنے لوگ تیرے ساتھ کے [۲۲] اور اللہ ماپتا ہے رات کو اور دن کو اُس نے جانا کہ تم اُس کو پورا نہ کر سکو گے سو تم پرمعافی بھیجدی اب پڑھو جتنا تم کو آسان ہو قرآن سے [۲۳] جانا کہ کتنے ہوں گے تم میں بیمار اور کتنے اور لوگ پھریں گے ملک میں ڈھونڈھتے اللہ کے فضل کو اور کتنے لوگ لڑتے ہوں گے اللہ کی راہ میں سو پڑھ لیا کرو جتنا آسان ہو اُس میں سے اورقائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ [۲۴] اور قرض دو اللہ کو اچھی طرح پر قرض دینا [۲۵] اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے واسطے کوئی نیکی اُسکو پاؤ گے اللہ کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ [۲۶] اور معافی مانگو اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے [۲۷] ﴿20﴾

    Surah 74
    المدثر

    اے لحاف میں لپٹنے والے [۱] ﴿1﴾

    کھڑا ہو پھر ڈر سنا دے [۲] ﴿2﴾

    اور اپنے رب کی بڑائی بول [۳] ﴿3﴾

    اور اپنے کپڑے پاک رکھ ﴿4﴾

    اور گندگی سے دور رہ [۴] ﴿5﴾

    اور ایسا نہ کر کہ احسان کرے اور بدلا بہت چاہے ﴿6﴾

    اور اپنے رب سے امید رکھ [۵] ﴿7﴾

    پھر جب بجنے لگے وہ کھوکھری چیز [۶] ﴿8﴾

    پھر وہ اس دن مشکل دن ہے [۷] ﴿9﴾

    منکروں پر نہیں آسان [۸] ﴿10﴾

    چھوڑ دے مجھ کو اور اُس کو جسکو میں نے بنایا انکا [۹] ﴿11﴾

    اور دیا میں نے اُسکو مال پھیلا کر ﴿12﴾

    اور بیٹے مجلس میں بیٹھنے والے [۱۰] ﴿13﴾

    اور تیاری کر دی اُسکے لئے خوب تیاری [۱۱] ﴿14﴾

    پھر لالچ رکھتا ہے کہ اور بھی دوں [۱۲] ﴿15﴾

    ہرگز نہیں وہ ہے ہماری آیتوں کا مخالف [۱۳] ﴿16﴾

    اب اُسی سے چڑھواؤں گا بڑی چڑھائی [۱۴] ﴿17﴾

    اُس نے فکر کیا اور دل میں ٹھہرا لیا ﴿18﴾

    سو مارا جائیو کیسا ٹھہرایا ﴿19﴾

    پھر مارا جائیو کیسا ٹھہرایا [۱۵] ﴿20﴾

    پھر نگاہ کی ﴿21﴾

    پھر تیوری چڑھائی اور منہ تھتھایا ﴿22﴾

    پھر پیٹھ پھیری اور غرور کیا ﴿23﴾

    پھر بولا اور کچھ نہیں یہ جادو ہے چلا آتا ﴿24﴾

    اور کچھ نہیں یہ کہا ہوا ہے آدمی کا [۱۶] ﴿25﴾

    اب اُسکو ڈالوں گا آگ میں [۱۷] ﴿26﴾

    اور تو کیا سمجھا کیسی ہے وہ آگ ﴿27﴾

    نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے [۱۸] ﴿28﴾

    جلا دینے والی ہے آدمیوں کو [۱۹] ﴿29﴾

    اُس پر مقرر ہیں انیس فرشتے [۲۰] ﴿30﴾

    اور ہم نے جو رکھے ہیں دوزخ پر داروغہ وہ فرشتے ہی ہیں [۲۱] اور اُنکی جو گنتی رکھی ہے سو جانچنے کو منکروں کے [۲۲] تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ جنکو ملی ہے کتاب اور بڑھے ایمانداروں کا ایمان اور دھوکا نہ کھائیں جنکو ملی ہے کتاب اور مسلمان [۲۳] اور تاکہ کہیں وہ لوگ کہ جنکے دل میں روگ ہے اور منکر [۲۴] کیا غرض تھی اللہ کو اس مثل سے [۲۵] یوں بچلاتا ہے اللہ جسکو چاہے اور راہ دیتا ہے جسکو چاہے [۲۶] اور کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکر مگر خود ہی [۲۷] اور وہ تو سمجھانا ہے لوگوں کے واسطے [۲۸] ﴿31﴾

    سچ کہتا ہوں اور قسم ہے چاند کی ﴿32﴾

    اور رات کی جب پیٹھ پھیرے ﴿33﴾

    اور صبح کی جب روشن ہووے ﴿34﴾

    وہ ایک ہے بڑی چیزوں میں کی [۲۹] ﴿35﴾

    ڈرانے والی ہے لوگوں کو ﴿36﴾

    جو کوئی چاہے تم میں سے کہ آگے بڑھے یا پیچھے رہے [۳۰] ﴿37﴾

    ہر ایک جی اپنے کئے کاموں میں پھنسا ہوا ہے ﴿38﴾

    مگر داہنی طرف والے ﴿39﴾

    باغوں میں ہیں مل کر پوچھتے ہیں ﴿40﴾

    گنہگاروں کا حال [۳۱] ﴿41﴾

    تم کاہے سے جا پڑے دوزخ میں [۳۲] ﴿42﴾

    وہ بولے ہم نہ تھے نماز پڑھتے ﴿43﴾

    اور نہ تھے کھانا کھلاتے محتاج کو ﴿44﴾

    اور ہم تھے باتوں میں دھنستے دھنسنے والوں کے ساتھ ﴿45﴾

    اور ہم تھے جھٹلاتے انصاف کے دن کو ﴿46﴾

    یہاں تک یہ آ پہنچی ہم پر وہ یقینی بات [۳۳] ﴿47﴾

    پھر کام نہ آئے گی اُنکے سفارش سفارش کرنے والوں کی [۳۴] ﴿48﴾

    پھر کیا ہوا ہے انکو کہ نصیحت سے منہ موڑتے ہیں [۳۵] ﴿49﴾

    گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے ﴿50﴾

    بھاگے ہیں غل مچانے سے [۳۶] ﴿51﴾

    بلکہ چاہتا ہے ہر ایک مرد اُن میں کا کہ ملیں اُسکو ورق کھلے ہوئے [۳۷] ﴿52﴾

    ہرگز نہیں [۳۸] پر وہ ڈرتے نہیں آخرت سے [۳۹] ﴿53﴾

    کوئی نہیں یہ تو نصیحت ہے [۴۰] ﴿54﴾

    پھر جو کوئی چاہے اُسکو یاد کرے [۴۱] ﴿55﴾

    اور وہ یاد جبھی کریں کہ چاہے اللہ [۴۲] وہی ہے جس سے ڈرناچاہیے اور وہی ہے بخشنے کے لائق [۴۳] ﴿56﴾

    Surah 75
    القیامہ

    قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی [۱] ﴿1﴾

    اور قسم کھاتا ہوں جی کی کہ جو ملامت کرے برائی پر [۲] ﴿2﴾

    کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ جمع نہ کریں گے ہم اُسکی ہڈیاں [۳] ﴿3﴾

    کیوں نہیں ہم ٹھیک کر سکتے ہیں اُسکی پوریاں [۴] ﴿4﴾

    بلکہ چاہتا ہے آدمی کہ ڈھٹائی کرے اُسکے سامنے ﴿5﴾

    پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا [۵] ﴿6﴾

    پھر جب چندھیانے لگے آنکھ [۶] ﴿7﴾

    اور گہہ جائے چاند [۷] ﴿8﴾

    اور اکٹھے ہوں سورج اور چاند [۸] ﴿9﴾

    کہے گا آدمی اُس دن کہاں چلا جاؤں بھاگ کر ﴿10﴾

    کوئی نہیں کہیں نہیں ہے بچاؤ ﴿11﴾

    تیرے رب تک ہے اُس دن جا ٹھہرنا [۹] ﴿12﴾

    جتلا دیں گے انسان کو اُس دن جو اُس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا [۱۰] ﴿13﴾

    بلکہ آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے ﴿14﴾

    اور پڑالا ڈالے اپنے بہانے [۱۱] ﴿15﴾

    نہ چلا تو اُسکے پڑھنے پر اپنی زبان تاکہ جلدی اُسکو سیکھ لے ﴿16﴾

    وہ تو ہمارا ذمہ ہے اُسکو جمع رکھنا تیرے سینہ میں اور پڑھنا تیری زبان سے ﴿17﴾

    پھر جب ہم پڑھنے لگیں فرشتہ کی زبانی تو ساتھ رہ اُسکے پڑھنے کے ﴿18﴾

    پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اُسکو کھول کر بتلانا [۱۲] ﴿19﴾

    کوئی نہیں پر تم چاہتے ہو جو جلد آئے ﴿20﴾

    اور چھوڑتے ہو جو دیر میں آئے [۱۳] ﴿21﴾

    کتنے منہ اس دن تازہ ہیں ﴿22﴾

    اپنے رب کی طرف دیکھنے والے [۱۴] ﴿23﴾

    اور کتنے منہ اُس دن اداس ہیں [۱۵] ﴿24﴾

    خیال کرتے ہیں کہ اُن پر وہ آئے جس سے ٹوٹے کمر [۱۶] ﴿25﴾

    ہرگز نہیں جس وقت جان پہنچے ہانس تک [۱۷] ﴿26﴾

    اور لوگ کہیں کون ہے جھاڑنے والا [۱۸] ﴿27﴾

    اور وہ سمجھا کہ اب آیا وقت جدائی کا [۱۹] ﴿28﴾

    اور لپٹ گئ پنڈلی پر پنڈلی [۲۰] ﴿29﴾

    تیرے رب کی طرف ہے اُس دن کھنچ کر چلا جانا [۲۱] ﴿30﴾

    پھر نہ یقین لایا اور نہ نماز پڑھی ﴿31﴾

    پھر جھٹلایا اور منہ موڑا ﴿32﴾

    پھر گیا اپنے گھر کو اکڑتا ہوا [۲۲] ﴿33﴾

    خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری ﴿34﴾

    پھر خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری [۲۳] ﴿35﴾

    کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ چھوٹا رہے گا بے قید [۲۴] ﴿36﴾

    بھلا نہ تھا وہ ایک بوند منی کی جو ٹپکی [۲۵] ﴿37﴾

    پھر تھا لہو جما ہوا پھر اُس نے بنایا اور ٹھیک کر اٹھایا ﴿38﴾

    پھر کیا اُس میں جوڑا نر اور مادہ ﴿39﴾

    کیا یہ خدا زندہ نہیں کر سکتا مردوں کو [۲۶] ﴿40﴾

    Surah 76
    الدھر

    کبھی گذرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی [۱] ﴿1﴾

    ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے [۲] ہم پلٹتے رہے اُسکو پھر کر دیا اُسکو ہم نے سننے والا دیکھنے والا [۳] ﴿2﴾

    ہم نے اُسکو سجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے [۴] ﴿3﴾

    ہم نے تیار کر رکھی ہیں منکروں کے واسطے زنجیریں اور طوق اور آگ دہکتی [۵] ﴿4﴾

    البتہ نیک لوگ پیتے ہیں پیالہ جس کی ملونی ہے کافور ﴿5﴾

    ایک چشمہ ہے جس سے پیتے ہیں بندے اللہ کے [۶] چلاتے ہیں وہ اُسکی نالیاں [۷] ﴿6﴾

    پورا کرتے ہیں منت کو [۸] اور ڈرتے ہیں اس دن سے کہ اُسکی برائی پھیل پڑے گی [۹] ﴿7﴾

    اور کھلاتے ہیں کھانا اُسکی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو [۱۰] ﴿8﴾

    ہم جو تم کو کھلاتے ہیں سو خالص اللہ کی خوشی چاہنے کو نہ تم سے ہم چاہیں گے بدلا اور نہ چاہیں گے شکرگذاری [۱۱] ﴿9﴾

    ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ایک دن اداسی والے کی سختی سے [۱۲] ﴿10﴾

    پھر بچا لیا اُنکو اللہ نے برائی سے اس دن کی اور ملا دی اُنکو تازگی اور خوشی وقتی [۱۳] ﴿11﴾

    اور بدلا دیا اُنکو اُنکے صبر پرباغ اور پوشاک ریشمی [۱۴] ﴿12﴾

    تکیہ لگائے بیٹھیں اُس میں تختوں کے اوپر [۱۵] نہیں دیکھتے وہاں دھوپ اور نہ ٹھِر [۱۶] ﴿13﴾

    اور جھک رہیں اُن پر اسکی چھائیں اور پست کر رکھے ہیں اُسکے گچھے لٹکا کر [۱۷] ﴿14﴾

    اور لوگ لئے پھرتے ہیں اُنکے پاس برتن چاندی کے اور آبخورے جو ہو رہے ہیں شیشے کے ﴿15﴾

    شیشے ہیں چاندی کے [۱۸] ماپ رکھا ہے اُن کاماپ [۱۹] ﴿16﴾

    اور اُنکو وہاں پلاتے ہیں پیالے جس کی مِلونی ہے سونٹھ [۲۰] ﴿17﴾

    ایک چشمہ ہے اُس میں اُس کا نام کہتے ہیں سلسبیل [۲۱] ﴿18﴾

    اور پھرتے ہیں اُنکے پاس لڑکے سدا رہنے والے [۲۲] جب تو اُنکو دیکھے خیال کرے کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے [۲۳] ﴿19﴾

    اور جب تو دیکھے وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی [۲۴] ﴿20﴾

    اوپر کی پوشاک انکی کپڑے ہیں باریک ریشم کے سبز اور گاڑھے [۲۵] اور انکو پہنائے جائیں گے کنگن چاندی کے [۲۶] اور پلائے اُنکو اُنکا رب شراب جو پاک کرے دل کو [۲۷] ﴿21﴾

    یہ ہے تمہارا بدلا اور کمائی تمہاری ٹھکانے لگی [۲۸] ﴿22﴾

    ہم نے اتارا تجھ پر قرآن سہج سہج اتارنا ﴿23﴾

    سو تو انتظار کر اپنے رب کے حکم کا [۲۹] اور کہنامت مان اُن میں سے کسی گنہگار یا ناشکر کا [۳۰] ﴿24﴾

    اور لیتا رہ نام اپنے رب کا صبح اور شام [۳۱] ﴿25﴾

    اور کسی وقت رات کو سجدہ کر اُسکو [۳۲] اور پاکی بول اُسکی بڑی رات تک [۳۳] ﴿26﴾

    یہ لوگ چاہتے ہیں جلدی ملنے والے کو اور چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو [۳۴] ﴿27﴾

    ہم نے اُنکو بنایا اور مضبوط کیا اُنکی جوڑ بندی کو اور جب ہم چاہیں بدل لائیں اُن جیسے لوگ بدل کر [۳۵] ﴿28﴾

    یہ تو نصیحت ہے پھر جو کوئی چاہے کر رکھے اپنے رب تک راہ [۳۶] ﴿29﴾

    اور تم نہیں چاہو گے مگر جو چاہے اللہ بیشک اللہ ہے سب کچھ جاننے والا حکمتوں والا [۳۷] ﴿30﴾

    داخل کر لے جسکو چاہے اپنی رحمت میں [۳۸] اور جو گنہگار ہیں تیار ہے اُنکے واسطے عذاب دردناک ﴿31﴾

    Surah 77
    المرسلات

    قسم ہے چلتی ہواؤں کی دل کو خوش آتی ﴿1﴾

    پھر جھونکا دینے والیوں کی زور سے [۱] ﴿2﴾

    پھر ابھارنے والیوں کی اٹھا کر ﴿3﴾

    پھر پھاڑنے والیوں کی بانٹ کر [۲] ﴿4﴾

    پھر فرشتوں کی جو اتار کر لائیں وحی [۳] ﴿5﴾

    الزام اتارنے کو یا ڈر سنانے کو [۴] ﴿6﴾

    مقرر جو تم سے وعدہ ہوا وہ ضرور ہونا ہے [۵] ﴿7﴾

    پھر جب تارے مٹائے جائیں ﴿8﴾

    اور جب آسمان میں جھروکے پڑ جائیں [۶] ﴿9﴾

    اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں [۷] ﴿10﴾

    اور جب رسولوں کا وقت مقرر ہو جائے [۸] ﴿11﴾

    کس دن کے واسطے ان چیزوں میں دیر ہے ﴿12﴾

    اس فیصلے کے دن کے واسطے [۹] ﴿13﴾

    اور تو نے کیا بوجھا کیا ہے فیصلے کا دن ﴿14﴾

    خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی [۱۰] ﴿15﴾

    کیا ہم نے نہیں مار کھپایا پہلوں کو ﴿16﴾

    پھر اُنکے پیچھے بھیجتے ہیں پچھلوں کو ﴿17﴾

    ہم ایسا ہی کیا کرتے ہیں گنہگاروں کے ساتھ [۱۱] ﴿18﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی [۱۲] ﴿19﴾

    کیا ہم نے نہیں بنایا تمکو ایک بے قدر پانی سے ﴿20﴾

    پھر رکھا اُسکو ایک جمے ہوئے ٹھکانے میں [۱۳] ﴿21﴾

    ایک وعدہ مقرر تک [۱۴] ﴿22﴾

    پھر ہم اُسکو پورا کر سکے سو ہم کیا خوب سکت والے ہیں [۱۵] ﴿23﴾

    خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی [۱۶] ﴿24﴾

    کیا ہم نے نہیں بنائی زمین سمیٹنے والی ﴿25﴾

    زندوں کو اور مردوں کو [۱۷] ﴿26﴾

    اور رکھے ہم نے زمین میں بوجھ کے لئے پہاڑ اونچے اور پلایا ہم نے تمکو پانی میٹھا پیاس بھجانے والا [۱۸] ﴿27﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی [۱۹] ﴿28﴾

    چل کر دیکھو جس چیز کو تم جھٹلاتے تھے [۲۰] ﴿29﴾

    چلو ایک چھاؤں میں جسکی تین پھانکیں ہیں [۲۱] ﴿30﴾

    نہ گہری چھاؤں اور نہ کچھ کام آئے تپش میں [۲۲] ﴿31﴾

    وہ آگ پھینکتی ہے چنگاریاں جیسے محل [۲۳] ﴿32﴾

    گویا وہ اونٹ ہیں زرد [۲۴] ﴿33﴾

    خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی [۲۵] ﴿34﴾

    یہ وہ دن ہے کہ نہ بولیں گے [۲۶] ﴿35﴾

    اور نہ اُنکو حکم ہو کہ توبہ کریں [۲۷] ﴿36﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی [۲۸] ﴿37﴾

    یہ ہے دن فیصلے کا جمع کیا ہم نے تمکو اور اگلوں کو [۲۹] ﴿38﴾

    پھر اگر کچھ داؤ ہے تمہارا تو چلا لو مجھ پر [۳۰] ﴿39﴾

    خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی [۳۱] ﴿40﴾

    البتہ جو ڈرنے والے ہیں وہ سایہ میں ہیں [۳۲] اور نہروں میں ﴿41﴾

    اور میوے جس قسم کے وہ چاہیں ﴿42﴾

    کھاؤ اور پیو مزے سے بدلا اُن کاموں کا جو تم نے کئے تھے [۳۳] ﴿43﴾

    ہم یونہی دیتے ہیں بدلا نیکی والوں کو ﴿44﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی [۳۴] ﴿45﴾

    کھا لو اور برت لو تھوڑے دنوں بیشک تم گنہگار ہو [۳۵] ﴿46﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی [۳۶] ﴿47﴾

    اور جب کہیے اُن کو کہ جھک جاؤ نہیں جھکتے [۳۷] ﴿48﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی [۳۸] ﴿49﴾

    اب کس بات پر اُسکے بعد یقین لائیں گے [۳۹] ﴿50﴾

    Surah 78
    النبا

    کیا بات پوچھتے ہیں لوگ آپس میں [۱] ﴿1﴾

    پوچھتے ہیں اُس بڑی خبر سے ﴿2﴾

    جس میں وہ مختلف ہیں [۲] ﴿3﴾

    ہرگز نہیں اب جان لیں گے ﴿4﴾

    پھر بھی ہر گز نہیں اب جان لیں گے [۳] ﴿5﴾

    کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو بچھونا [۴] ﴿6﴾

    اور پہاڑوں کو میخیں [۵] ﴿7﴾

    اور تم کو بنایا ہم نے جوڑے جوڑے [۶] ﴿8﴾

    اور بنایا نیند کو تمہاری تکان دفع کرنیکے لئے [۷] ﴿9﴾

    اور بنایا رات کو اوڑھنا [۸] ﴿10﴾

    اور بنایا دن کمائی کرنے کو [۹] ﴿11﴾

    اور چنی ہم نے تم سےاوپر سات چنائی مضبوط [۱۰] ﴿12﴾

    اور بنایا ایک چراغ چمکتا ہوا [۱۱] ﴿13﴾

    اور اتارا نچڑنے والی بدلیوں سے پانی کا ریلا [۱۲] ﴿14﴾

    تاکہ ہم نکالیں اس سے اناج اور سبزہ ﴿15﴾

    اور باغ پتوں میں لپٹے ہوئے [۱۳] ﴿16﴾

    بیشک دن فیصلے کا ہے ایک وقت ٹھہرا ہوا [۱۴] ﴿17﴾

    جس دن پھونکی جائے صور پھر تم چلے آؤ جٹ کے جٹ [۱۵] ﴿18﴾

    اور کھولا جائے آسمان تو ہو جائیں اس میں دروازے [۱۶] ﴿19﴾

    اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے چمکتا ریتا [۱۷] ﴿20﴾

    بیشک دوزخ ہے تاک میں ﴿21﴾

    شریروں کا ٹھکانا [۱۸] ﴿22﴾

    رہا کریں اُس میں قرنوں [۱۹] ﴿23﴾

    نہ چکھیں وہاں کچھ مزا ٹھنڈک کا اور نہ پینا ملے کچھ ﴿24﴾

    مگر گرم پانی اور بہتی پیپ [۲۰] ﴿25﴾

    بدلا ہے پورا ﴿26﴾

    اُنکو توقع نہ تھی حساب کی ﴿27﴾

    اور جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو مکرا کر [۲۱] ﴿28﴾

    اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے لکھ کر [۲۲] ﴿29﴾

    اب چکھو کہ ہم نہ بڑھاتے جائیں گے تم پر مگر عذاب [۲۳] ﴿30﴾

    بیشک ڈر والوں کو اُنکی مراد ملنی ہے ﴿31﴾

    باغ ہیں اور انگور ﴿32﴾

    اور نوجوان عورتیں ایک عمر کی سب [۲۴] ﴿33﴾

    اور پیالے چھلکتے ہوئے [۲۵] ﴿34﴾

    نہ سنیں گے وہاں بک بک اور نہ مکرانا [۲۶] ﴿35﴾

    بدلا ہے تیرے رب کا دیا ہوا حساب سے [۲۷] ﴿36﴾

    جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ اُنکے بیچ میں ہے بڑی رحمت والا [۲۸] قدرت نہیں کہ کوئی اُس سے بات کرے [۲۹] ﴿37﴾

    جس دن کھڑی ہو روح اور فرشتے قطار باندھ کر [۳۰] کوئی نہیں بولتا مگر جس کو حکم دیا رحمٰن نے اور بولا بات ٹھیک [۳۱] ﴿38﴾

    وہ دن ہے برحق پھر جو کوئی چاہے بنا رکھے اپنے رب کے پاس ٹھکانا [۳۲] ﴿39﴾

    ہم نے خبر سنا دی تم کو ایک آفت نزدیک آنے والی کی جس دن دیکھ لے گا آدمی جو آگے بھیجا اُسکے ہاتھوں نے [۳۳] اور کہے گا کافر کسی طرح میں مٹی ہوتا [۳۴] ﴿40﴾

    Surah 79
    النازعات

    قسم ہے گھسیٹ لانے والوں کی غوطہ لگا کر [۱] ﴿1﴾

    اور بند چھڑا دینے والوں کی کھول کر [۲] ﴿2﴾

    اور پیرنے والوں کی تیزی سے ﴿3﴾

    پھر آگے بڑھنے والوں کی دوڑ کر [۳] ﴿4﴾

    پھر کام بنانے والوں کی حکم سے [۴] ﴿5﴾

    جس دن کانپے کانپنے والی [۵] ﴿6﴾

    اُسکے پیچھے آئے دوسری [۶] ﴿7﴾

    کتنے دل اُس دن دھڑکتے ہیں ﴿8﴾

    اُنکی آنکھیں جھک رہی ہیں [۷] ﴿9﴾

    لوگ کہتے ہیں کیا ہم پھر آئیں گے الٹے پاؤں ﴿10﴾

    کیا جب ہم ہو چکیں ہڈیاں کھوکھری ﴿11﴾

    بولے تو تو یہ پھر آنا ہے ٹوٹے کا [۸] ﴿12﴾

    سو وہ تو صرف ایک جھڑکی ہے ﴿13﴾

    پھر تبھی وہ آ رہیں میدان میں [۹] ﴿14﴾

    کیا پہنچی ہے تجھ کو بات موسٰی کی [۱۰] ﴿15﴾

    جب پکارا اُس کو اُسکے رب نے پاک میدان میں جس کا نام طویٰ ہے [۱۱] ﴿16﴾

    جا فرعون کے پاس اُس نے سر اٹھایا ﴿17﴾

    پھر کہہ تیرا جی چاہتا ہے کہ تو سنور جائے ﴿18﴾

    اور راہ بتلاؤں تجھ کو تیرے رب کی طرف پھر تجھ کو ڈر ہو [۱۲] ﴿19﴾

    پھر دکھلائی اسکو وہ بڑی نشانی [۱۳] ﴿20﴾

    پھر جھٹلایا اُس نے اور نہ مانا ﴿21﴾

    پھر چلا پیٹھ پھیر کر تلاش کرتا ہوا [۱۴] ﴿22﴾

    پھر سبکو جمع کیا پھر پکارا ﴿23﴾

    تو کہا میں ہوں رب تمہارا سب سے اوپر [۱۵] ﴿24﴾

    پھر پکڑا اسکو اللہ نے سزا میں آخرت کی اور دنیا کی [۱۶] ﴿25﴾

    بیشک اس میں سوچنے کی جگہ ہے جس کے دل میں ڈر ہے [۱۷] ﴿26﴾

    کیا تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا [۱۸] اُس نے اُسکو بنا لیا ﴿27﴾

    اونچا کیا اس کا ابھار پھر اُسکو برابر کیا ﴿28﴾

    اور اندھیری کی رات اُسکی اور کھول نکالی اُسکی دھوپ [۱۹] ﴿29﴾

    اور زمین کو اُسکے پیچھے صاف بچھا دیا [۲۰] ﴿30﴾

    باہر نکالا زمین سے اُس کا پانی اور چارا [۲۱] ﴿31﴾

    اور پہاڑوں کو قائم کر دیا [۲۲] ﴿32﴾

    کام چلانے کو تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے [۲۳] ﴿33﴾

    پھر جب آئے وہ بڑا ہنگامہ ﴿34﴾

    جس دن کہ یاد کرے گا آدمی جو اُس نے کمایا ﴿35﴾

    اور نکال ظاہر کر دیں دوزخ کو جو چاہے دیکھے [۲۴] ﴿36﴾

    سو جس نے کی ہو شرارت ﴿37﴾

    اور بہتر سمجھا ہو دنیا کا جینا [۲۵] ﴿38﴾

    سو دوزخ ہی ہے اُس کا ٹھکانہ ﴿39﴾

    اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اُس نے جی کو خواہش سے ﴿40﴾

    سو بہشت ہے اُس کا ٹھکانہ [۲۶] ﴿41﴾

    تجھ سے پوچھتے ہیں وہ گھڑی کب ہو گا قیام اُس کا [۲۷] ﴿42﴾

    تجھ کو کیا کام اُسکے ذکر سے ﴿43﴾

    تیرے رب کی طرف ہے پہنچ اُسکی [۲۸] ﴿44﴾

    تو تو ڈر سنانے کے واسطے ہے اس کو جو اُس سے ڈرتا ہے [۲۹] ﴿45﴾

    ایسا لگے گا جس دن دیکھیں گے اُسکو کہ نہیں ٹھہرے تھے دنیا میں مگر ایک شام یا صبح اُسکی [۳۰] ﴿46﴾

    Surah 80
    عبس

    [۱] تیوری چڑھائی اور منہ موڑھا ﴿1﴾

    اس بات سے کہ آیا اُسکے پاس اندھا [۲] ﴿2﴾

    اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید کہ وہ سنورتا ﴿3﴾

    یا سوچتا تو کام آتا اُسکے سمجھانا [۳] ﴿4﴾

    وہ جو پروا نہں کرتا ﴿5﴾

    سو تو اُسکی فکر میں ہے ﴿6﴾

    تور تجھ پر کچھ الزام نہیں کہ وہ نہیں درست ہوتا [۴] ﴿7﴾

    اور وہ جو آیا تیرے پاس دوڑتا ﴿8﴾

    اور ہو ڈرتا ہے [۵] ﴿9﴾

    سو تو اُس سے تغافل کرتا ہے [۶] ﴿10﴾

    یوں نہیں یہ تو نصیحت ہے ﴿11﴾

    پھر جو کوئی چاہے اسکو پڑھے [۷] ﴿12﴾

    لکھا ہے عزت کے ورقوں میں ﴿13﴾

    اونچے رکھے ہوئے نہایت ستھرے [۸] ﴿14﴾

    ہاتھوں میں لکھنے والوں کے ﴿15﴾

    جو بڑے درجہ والے نیک کار ہیں [۹] ﴿16﴾

    مارا جائیو آدمی کیسا نا شکرا ہے [۱۰] ﴿17﴾

    کس چیز سے بنایا اُسکو ﴿18﴾

    ایک بوند سے [۱۱] بنایا اسکو پھر اندازہ پر رکھا اُسکو [۱۲] ﴿19﴾

    پھر راہ آسان کر دی اُسکو [۱۳] ﴿20﴾

    پھر اُسکو مردہ کیا پھر قبر میں رکھوا دیا اُسکو [۱۴] ﴿21﴾

    پھر جب چاہا اٹھا نکالا اُسکو [۱۵] ﴿22﴾

    ہرگز نہیں پورا نہ کیا جو اُسکو فرمایا [۱۶] ﴿23﴾

    اب دیکھ لے آدمی اپنے کھانے کو [۱۷] ﴿24﴾

    کہ ہم نے ڈالا پانی اوپر سے گرتا ہوا ﴿25﴾

    پھر چیرا زمین کو پھاڑ کر [۱۸] ﴿26﴾

    پھر اگایا اُس میں اناج ﴿27﴾

    اور انگور اور ترکاری ﴿28﴾

    اور زیتون اور کھجوریں ﴿29﴾

    اور گھن کے باغ ﴿30﴾

    اور میوہ اورگھاس ﴿31﴾

    کام چلانے کو تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے [۱۹] ﴿32﴾

    پھر جب آئے وہ کان پھوڑنے والی [۲۰] ﴿33﴾

    جس دن کے بھاگے مرد اپنے بھائی سے ﴿34﴾

    اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے ﴿35﴾

    اور اپنی ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے ﴿36﴾

    ہر مرد کو اُن میں سے اُس دن ایک فکر لگا ہوا ہے جو اُسکے لئے کافی ہے [۲۱] ﴿37﴾

    کتنے منہ اُس دن روشن ہیں ﴿38﴾

    ہنستے خوشیاں کرتے [۲۲] ﴿39﴾

    اور کتنے منہ اُس دن اُن پر گرد پڑی ہے ﴿40﴾

    چڑھی آتی ہے اُن پر سیاہی [۲۳] ﴿41﴾

    یہ لوگ وہی ہیں جو منکر ہیں ڈھیٹھ [۲۴] ﴿42﴾

    Surah 81
    التکویر

    جب سورج کی دھوپ تہہ ہو جائے [۱] ﴿1﴾

    اور جب تارے میلے ہو جائیں [۲] ﴿2﴾

    اور جب پہاڑ چلائے جائیں [۳] ﴿3﴾

    اور جب بیاتی اونٹنیاں چھٹی پھریں [۴] ﴿4﴾

    اور جب جنگل کے جانوروں میں رول پڑ جائے [۵] ﴿5﴾

    اور جب دریا جھونکے جائیں [۶] ﴿6﴾

    اور جب جیوں کے جوڑے باندھے جائیں [۷] ﴿7﴾

    اور جب بیٹی جیتی گاڑ دی گئ کو پوچھیں ﴿8﴾

    کہ کس گناہ پر وہ ماری گئ [۸] ﴿9﴾

    اور جب اعمالنامے کھولے جائیں ﴿10﴾

    اور جب آسمان کا پوست اتار لیں [۹] ﴿11﴾

    اور جب دوزخ دہکائی جائے ﴿12﴾

    اور جب بہشت پاس لائی جائے [۱۰] ﴿13﴾

    جان لے گا ہر ایک جی جو لے کر آیا [۱۱] ﴿14﴾

    سو قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹ جانے والوں ﴿15﴾

    سیدھے چلنے دبک جانے والوں کی [۱۲] ﴿16﴾

    اور رات کی جب پھیل جائے [۱۳] ﴿17﴾

    اور صبح کی جب دم بھرے [۱۴] ﴿18﴾

    مقرر یہ کہا ہے ایک بھیجے ہوئے عزت والے کا ﴿19﴾

    قوت والا عرش کے مالک کے پاس درجہ پانے والا ﴿20﴾

    سب کا مانا ہوا وہاں کا معتبر [۱۵] ﴿21﴾

    اور یہ تمہارا رفیق کچھ دیوانہ نہیں [۱۶] ﴿22﴾

    اور اس نے دیکھا ہے اُس فرشتہ کو آسمان کے کھلے کنارہ کے پاس [۱۷] ﴿23﴾

    اور یہ غیب کی بات بتانے میں بخیل نہیں [۱۸] ﴿24﴾

    اور یہ کہا ہوا نہیں کسی شیطان مردود کا [۱۹] ﴿25﴾

    پھر تم کدھر چلے جا رہے ہو [۲۰] ﴿26﴾

    یہ تو ایک نصیحت ہے جہان بھر کے واسطے [۲۱] ﴿27﴾

    جو کوئی چاہے تم میں سے کہ سیدھا چلے [۲۲] ﴿28﴾

    اور تم جبھی چاہو کہ چاہے اللہ سارے جہان کا مالک [۲۳] ﴿29﴾

    Surah 82
    الانفطار

    جب آسمان چِر جائے ﴿1﴾

    اور جب تارے جھڑ پڑیں ﴿2﴾

    اور جب دریا ابل نکلیں [۱] ﴿3﴾

    اور جب قبریں زیروزبر کر دی جائیں [۲] ﴿4﴾

    جان لے ہر ایک جی جو کچھ کہ آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا [۳] ﴿5﴾

    اے آدمی کس چیز سے بہکا تو اپنے رب کریم پر [۴] ﴿6﴾

    جس نے تجھ کو بنایا پھر تجھ کو ٹھیک کیا پھر تجھ کو برابر کیا [۵] ﴿7﴾

    جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ دیا [۶] ﴿8﴾

    ہرگز نہیں پر تم جھوٹ جانتے ہو انصاف کا ہونا [۷] ﴿9﴾

    اور تم پر نگہبان مقرر ہیں ﴿10﴾

    عزت والے عمل لکھنے والے ﴿11﴾

    جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو [۸] ﴿12﴾

    بیشک نیک لوگ بہشت میں ہیں [۹] ﴿13﴾

    اور بیشک گنہگار دوزخ میں ہیں ﴿14﴾

    ڈالے جائیں گے اُس میں انصاف کے دن ﴿15﴾

    اور نہ ہوں گے اُس سے جدا ہونے والے [۱۰] ﴿16﴾

    اور تجھ کو کیا خبر ہے کیسا ہے دن انصاف کا ﴿17﴾

    پھر بھی تجھ کو کیا خبر ہے کیسا ہے دن انصاف کا ﴿18﴾

    جس دن کہ بھلا نہ کر سکے کوئی جی کسی جی کا کچھ بھی [۱۱] اور حکم اُس دن اللہ ہی کا ہے [۱۲] ﴿19﴾

    Surah 83
    المطففین

    خرابی ہے گھٹانے والوں کی ﴿1﴾

    وہ لوگ کہ جب ماپ کر لیں لوگوں سے تو پورا بھر لیں ﴿2﴾

    اور جب ماپ کر دیں اُنکو یا تول کر تو گھٹا کر دیں [۱] ﴿3﴾

    کیا خیال نہیں رکھتے وہ لوگ کہ اُنکو اٹھنا ہے ﴿4﴾

    اُس بڑے دن کے واسطے [۲] ﴿5﴾

    جس دن کھڑے رہیں لوگ راہ دیکھتے جہان کے مالک کی [۳] ﴿6﴾

    ہر گز نہیں [۴] بیشک اعمالنامہ گنہگاروں کا سجین میں ہے ﴿7﴾

    اور تجھ کو کیا خبر ہے کیا ہے سجین ﴿8﴾

    ایک دفتر ہے لکھا ہوا [۵] ﴿9﴾

    خرابی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کی ﴿10﴾

    جو جھوٹ جانتے ہیں انصاف کے دن کو ﴿11﴾

    اور اسکو جھٹلاتا ہے وہی جو بڑھ نکلنے والا گنہگار ہے [۶] ﴿12﴾

    جب سنائے اسکو ہماری آیتیں کہے نقلیں ہیں پہلوں کی [۷] ﴿13﴾

    کوئی نہیں پر زنگ پکڑ گیا ہے اُنکے دلوں پر جو وہ کماتے تھے [۸] ﴿14﴾

    کوئی نہیں وہ اپنے رب سے اُس دن روک دیے جائیں گے [۹] ﴿15﴾

    پھر مقرر وہ گرنے والے ہیں دوزخ میں ﴿16﴾

    پھر کہا جائے گا یہ وہی ہے جسکو تم جھوٹ جانتے تھے ﴿17﴾

    ہرگز نہیں [۱۰] بیشک اعمالنامہ نیکوں کاعلیین میں ہے ﴿18﴾

    اور تجھ کو کیاخبر ہے کیا ہے علیین ﴿19﴾

    ایک دفتر ہے لکھا ہوا [۱۱] ﴿20﴾

    اُسکو دیکھتے ہیں نزدیک والے یعنی فرشتے [۱۲] ﴿21﴾

    بیشک نیک لوگ ہیں آرام میں ﴿22﴾

    تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہوں گے [۱۳] ﴿23﴾

    پہچان لے تو اُنکے منہ پر تازگی آرام کی [۱۴] ﴿24﴾

    انکو پلائی جاتی ہے شراب خالص مہر لگی ہوئی [۱۵] ﴿25﴾

    جسکی مہر جمتی ہے مشک پر [۱۶] اور اُس پر چاہیے کہ ڈھکیں ڈھکنے والے [۱۷] ﴿26﴾

    اور اُسکی ملونی ہے تسنیم سے ﴿27﴾

    وہ ایک چشمہ ہے جس سے پیتے ہیں نزدیک والے [۱۸] ﴿28﴾

    وہ لوگ جو گنہگار ہیں تھے ایمان والوں سے ہنسا کرتے [۱۹] ﴿29﴾

    اور جب ہو کر نکلتے انکے پاس کو تو آپس میں آنکھ مارتے [۲۰] ﴿30﴾

    اور جب پھر کر جاتے اپنے گھر پھر جاتے باتیں بناتے [۲۱] ﴿31﴾

    اور جب اُنکو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہک رہے ہیں [۲۲] ﴿32﴾

    اور اُنکو بھیجا نہیں اُن پر نگہبان بنا کر [۲۳] ﴿33﴾

    سو آج ایمان والے منکروں سے ہنستے ہیں [۲۴] ﴿34﴾

    تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں [۲۵] ﴿35﴾

    اب بدلا پایا ہے منکروں نے جیسا کہ کچھ کرتے تھے [۲۶] ﴿36﴾

    Surah 84
    الانشقاق

    جب آسمان پھٹ جائے ﴿1﴾

    اور سن لے حکم اپنے رب کا وہ آسمان اسی لائق ہے [۱] ﴿2﴾

    اور جب زمین پھیلا دی جائے [۲] ﴿3﴾

    اور نکال ڈالے جو کچھ اُس میں ہے اور خالی ہو جائے [۳] ﴿4﴾

    اور سن لے حکم اپنے رب کا اور وہ زمین اسی لائق ہے [۴] ﴿5﴾

    اے آدمی تجھ کو تکلیف اٹھانی ہے اپنے رب تک پہنچنے میں سہہ سہہ کر اُس سے ملنا ہے [۵] ﴿6﴾

    سو جس کو ملا اعمالنامہ اس کا داہنے ہاتھ میں ﴿7﴾

    تو اُس سے حساب لیں گے آسان حساب [۶] ﴿8﴾

    اور پھر کر آئے گا اپنے لوگوں کے پاس خوش ہو کر [۷] ﴿9﴾

    اور جس کو ملا اس کا اعمالنامہ پیٹھ کے پیچھے سے [۸] ﴿10﴾

    سو وہ پکارے گا موت موت [۹] ﴿11﴾

    اور پڑے گا آگ میں ﴿12﴾

    وہ رہا تھا اپنے گھر میں بے غم [۱۰] ﴿13﴾

    اُس نے خیال کیا تھا کہ پھر کر نہ جائے گا [۱۱] ﴿14﴾

    کیوں نہیں اُس کا رب اُسکو دیکھتا تھا [۱۲] ﴿15﴾

    سو قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی ﴿16﴾

    اور رات کی اور جو چیزیں اُس میں سمٹ آتی ہیں [۱۳] ﴿17﴾

    اور چاند کی جب پورا بھر جائے [۱۴] ﴿18﴾

    کہ تم کو چڑھنا ہے سیڑھی پر سیڑھی [۱۵] ﴿19﴾

    پھر کیا ہوا ہے اُنکو جو یقین نہیں لاتے [۱۶] ﴿20﴾

    اور جب پڑھیے انکے پا س قرآن مجید وہ سجدہ نہیں کرتے [۱۷] ﴿21﴾

    اوپر سے اور یہ کہ منکر جھٹلاتے ہیں ﴿22﴾

    اور اللہ خوب جانتا ہے جو اندر بھر رکھتے ہیں [۱۸] ﴿23﴾

    سو خوشی سنا دے اُنکو عذاب دردناک کی [۱۹] ﴿24﴾

    مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کام کئے بھلے اُنکے لئے ثواب ہے بے انتہا [۲۰] ﴿25﴾

    Surah 85
    البروج

    قسم ہے آسمان کی جس میں برج ہیں [۱] ﴿1﴾

    اور اُس دن کی جس کا وعدہ ہے [۲] ﴿2﴾

    اور اُس دن کی جو حاضر ہوتا ہے اور اُسکی کہ جسکے پاس حاضر ہوتے ہیں [۳] ﴿3﴾

    مارے گئے کھائیاں کھودنے والے ﴿4﴾

    آگ ہے بہت ایندھن والی [۴] ﴿5﴾

    جب وہ اس پر بیٹھے ﴿6﴾

    اور جو کچھ وہ کرتے مسلمانوں کے ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے [۵] ﴿7﴾

    اور اُن سے بدلا نہ لیتے تھے مگر اسی بات کہ وہ یقین لائے اللہ پر جو زبردست ہے تعریفوں والا ﴿8﴾

    جس کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اللہ کے سامنے ہے ہر چیز [۶] ﴿9﴾

    تحقیق جو دین سے بچلائے ایمان والے مردوں کو اورعورتوں کو پھر توبہ نہ کی تو اُنکے لئے عذاب ہے دوزخ کا اور اُنکے لئے عذاب ہے آگ لگے کا [۷] ﴿10﴾

    بیشک جو لوگ یقین لائے اور کیں انہوں نے بھلائیاں انکے لئے باغ ہیں جنکے نیچے بہتی ہیں نہریں یہ ہے بڑی مراد ملنی [۸] ﴿11﴾

    بیشک تیرے رب کی پکڑ سخت ہے [۹] ﴿12﴾

    بیشک وہی کرتا ہے پہلی مرتبہ اور دوسری [۱۰] ﴿13﴾

    اور وہی ہے بخشنے والا محبت کرنے والا [۱۱] ﴿14﴾

    مالک عرش کا بڑی شان والا ﴿15﴾

    کر ڈالنے والا جو چاہے [۱۲] ﴿16﴾

    کیا پہنچی تجھ کو بات اُن لشکروں کی ﴿17﴾

    فرعون اور ثمود کے [۱۳] ﴿18﴾

    کوئی نہیں بلکہ منکر جھٹلاتےہیں [۱۴] ﴿19﴾

    اور اللہ نے اُنکو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے [۱۵] ﴿20﴾

    کوئی نہیں یہ قرآن ہے بڑی شان کا [۱۶] ﴿21﴾

    لکھا ہو الوح محفوظ میں [۱۷] ﴿22﴾

    Surah 86
    الطارق

    قسم ہے آسمان کی اور اندھیری میں آنے والے کی ﴿1﴾

    اور تو نے کیا سمجھاکیا ہے اندھیرے میں آنے والا ﴿2﴾

    وہ تارا چمکتا ہوا ﴿3﴾

    کوئی جی نہیں جس پر نہیں ایک نگہبان ﴿4﴾

    اب دیکھ لے آدمی کہ کاہے سے بنا ہے [۱] ﴿5﴾

    بنا ہے ایک اچھلتے ہوئے پانی سے [۲] ﴿6﴾

    جو نکلتا ہے پیٹھ کے بیچ سے اور چھاتی کے بیچ سے [۳] ﴿7﴾

    بیشک وہ اُسکو پھیر لا سکتا ہے [۴] ﴿8﴾

    جس دن جانچے جائیں بھید [۵] ﴿9﴾

    تو کچھ نہ ہو گا اُسکو زور اور نہ کوئی مدد کرنے والا [۶] ﴿10﴾

    قسم ہے آسمان چکر مارنے والے کی [۷] ﴿11﴾

    اور زمین پھوٹ نکلنے والی کی [۸] ﴿12﴾

    بیشک یہ بات ہے دوٹوک ﴿13﴾

    اور نہیں یہ بات ہنسی کی [۹] ﴿14﴾

    البتہ وہ لگے ہوئے ہیں ایک داؤ کرنے میں ﴿15﴾

    اور میں لگا ہوا ہوں ایک داؤ کرنے میں ﴿16﴾

    سو ڈھیل دے منکروں کو ڈھیل دے اُنکو تھوڑے دنوں [۱۰] ﴿17﴾

    Surah 87
    الاعلیٰ

    پاکی بیان کر اپنے رب کے نام کی جو سب سے اوپر [۱] ﴿1﴾

    جس نے بنایا پھر ٹھیک کیا [۲] ﴿2﴾

    اور جس نے ٹھہرا دیا پھر راہ بتلائی [۳] ﴿3﴾

    اور جس نے نکالا چارا ﴿4﴾

    پھر کر ڈالا اُسکو کُوڑا سیاہ [۴] ﴿5﴾

    البتہ ہم پڑھائیں گے تجھ کو پھر تو نہ بھولے گا ﴿6﴾

    مگر جو چاہے اللہ [۵] وہ جانتا ہے پکارنے کو اور جو چھپا ہوا ہے [۶] ﴿7﴾

    اور سہج سہج پہنچائیں گے ہم تجھ کو آسانی تک [۷] ﴿8﴾

    سو تو سمجھا دے اگر فائدہ کرے سمجھانا [۸] ﴿9﴾

    سمجھ جائے گا جس کو ڈر ہو گا [۹] ﴿10﴾

    اور یکسو رہے گا اُس سے بڑا بدقسمت ﴿11﴾

    وہ جو داخل ہو گا بڑی آگ میں [۱۰] ﴿12﴾

    پھر نہ مرے گا اُس میں اور نہ جئے گا [۱۱] ﴿13﴾

    بیشک بھلا ہوا اُس کا جو سنورا [۱۲] ﴿14﴾

    اورلیا اُس نے نام اپنے رب کا پھر نماز پڑھی [۱۳] ﴿15﴾

    کوئی نہیں تم بڑھاتے ہو دنیا کے جینے کو ﴿16﴾

    اور پچھلا گھر بہتر ہے اور باقی رہنے والا [۱۴] ﴿17﴾

    یہ لکھا ہوا ہے پہلے ورقوں میں ﴿18﴾

    صحیفوں میں ابراہیم کے اور موسٰی کے [۱۵] ﴿19﴾

    Surah 88
    الغاشیہ

    کچھ پہنچی تجھ کو بات اُس چھپا لینے والی کی [۱] ﴿1﴾

    کتنے منہ اُس دن ذلیل ہونے والے ہیں ﴿2﴾

    محنت کرنے والے تھکے ہوئے [۲] ﴿3﴾

    گریں گے دہکتی ہوئی آگ میں ﴿4﴾

    پانی ملے گا ایک چشمے کھولتے ہوئے کا [۳] ﴿5﴾

    نہیں اُنکے پاس کھانا مگر جھاڑ کانٹوں والا [۴] ﴿6﴾

    نہ موٹا کرے اور نہ کام آئے بھوک میں [۵] ﴿7﴾

    کتنے منہ اُس دن تروتازہ ہیں ﴿8﴾

    اپنی کمائی سے راضی [۶] ﴿9﴾

    اونچے باغ میں ﴿10﴾

    نہیں سنتے اُس میں بکواس [۷] ﴿11﴾

    اُس میں ایک چشمہ ہے بہتا [۸] ﴿12﴾

    اُس میں تخت ہیں اونچے بچھے ہوئے ﴿13﴾

    اور آبخورے سامنے چنے ہوئے [۹] ﴿14﴾

    اور غالیچے برابر بچھے ہوئے [۱۰] ﴿15﴾

    اور مخمل کے نہالچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے [۱۱] ﴿16﴾

    بھلا کیا نظر نہیں کرتے اونٹوں پر کہ کیسے بنائے ہیں [۱۲] ﴿17﴾

    اور آسمان پر کہ کیسا اُس کو بلند کیا ہے [۱۳] ﴿18﴾

    اور پہاڑوں پر کہ کیسے کھڑے کر دیے ہیں [۱۴] ﴿19﴾

    اور زمین پر کہ کیسی صاف بچھائی ہے [۱۵] ﴿20﴾

    سو تو سمجھائے جا تیرا کام تو یہی سمجھانا ہے ﴿21﴾

    تو نہیں اُن پر داروغہ [۱۶] ﴿22﴾

    مگر جس نے منہ موڑا اور منکر ہو گیا ﴿23﴾

    تو عذاب کرے گا اُس پر اللہ وہ بڑا عذاب ﴿24﴾

    بیشک ہمارے پاس ہے اُنکو پھر آنا ﴿25﴾

    پھر بیشک ہمارا ذمہ ہے اُن سے حساب لینا [۱۷] ﴿26﴾

    Surah 89
    الفجر

    قسم ہے فجر کی ﴿1﴾

    اور دس راتوں کی ﴿2﴾

    اور جفت اورطاق کی ﴿3﴾

    اور اس رات کی جب رات کو چلے [۱] ﴿4﴾

    ہے اُن چیزوں کی قسم پوری عقلمندوں کے واسطے [۲] ﴿5﴾

    تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد کے ساتھ ﴿6﴾

    وہ جو ارم میں تھے [۳] بڑے ستونوں والے [۴] ﴿7﴾

    کہ بنی نہیں ویسی سارے شہروں میں [۵] ﴿8﴾

    اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے تراشا پتھروں کو وادی میں [۶] ﴿9﴾

    اور فرعون کے ساتھ و ہ میخوں والا [۷] ﴿10﴾

    یہ سب تھے جنہوں نے سر اٹھایا ملکوں میں ﴿11﴾

    پھر بہت ڈالی اُن میں خرابی ﴿12﴾

    پھر پھینکا اُن پر تیرے رب نے کوڑا عذاب کا [۸] ﴿13﴾

    بیشک تیرا رب لگا ہے گھات میں [۹] ﴿14﴾

    سو آدمی جو ہے جب جانچے اُسکو رب اُس کا پھر اُس کو عزت دے اور اُسکو نعمت دے تو کہے میرے رب نے مجھ کو عزت دی [۱۰] ﴿15﴾

    اور وہ جس وقت اُسکو جانچے پھر کھینچ کرے اُس پر روزی کی تو کہے میرے رب نے مجھے ذلیل کیا [۱۱] ﴿16﴾

    کوئی نہیں پر تم عزت سے نہیں رکھتے یتیم کو [۱۲] ﴿17﴾

    اور تاکید نہیں کرتے آپس میں محتاج کے کھلانے کی [۱۳] ﴿18﴾

    اور کھا جاتے ہو مردے کا مال سمیٹ کر سارا [۱۴] ﴿19﴾

    اور پیار کرتے ہو مال کو جی بھر کر [۱۵] ﴿20﴾

    کوئی نہیں جب پست کر دی جائے زمین کوٹ کوٹ کر [۱۶] ﴿21﴾

    اور آئے تیرا رب [۱۷] اور فرشتے آئیں قطار قطار [۱۸] ﴿22﴾

    اور لائی جائے اُس دن دوزخ [۱۹] اُس دن سوچے گا آدمی اور کہاں ملے اُسکو سوچنا [۲۰] ﴿23﴾

    کہے کیا اچھا ہوتا جو میں کچھ آگے بھیجدیتا اپنی زندگی میں [۲۱] ﴿24﴾

    پھر اُس دن عذاب نہ دے اُس کا سا کوئی ﴿25﴾

    اور نہ باندھ کر رکھے اُس کا سا باندھنا کوئی [۲۲] ﴿26﴾

    اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا ﴿27﴾

    پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ﴿28﴾

    پھر شامل ہو میرے بندوں میں ﴿29﴾

    اور داخل ہو میری بہشت میں [۲۳] ﴿30﴾

    Surah 90
    البلد

    قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی [۱] ﴿1﴾

    اور تجھ پر قید نہیں رہے گی اس شہر میں [۲] ﴿2﴾

    اور قسم ہے جنتے کی اور جو اس نے جنا [۳] ﴿3﴾

    تحقیق ہم نے بنایا آدمی کو محنت میں [۴] ﴿4﴾

    کیا خیال رکھتا ہے وہ کہ اُس پر بس نہ چلے گا کسی کا [۵] ﴿5﴾

    کہتا ہے میں نے خرچ کر ڈالا مال ڈھیروں [۶] ﴿6﴾

    کیا خیال رکھتا ہے کہ دیکھا نہیں اسکو کسی نے [۷] ﴿7﴾

    بھلا ہم نے نہیں دیں اُسکو دو آنکھیں [۸] ﴿8﴾

    اور زبان اور دو ہونٹ [۹] ﴿9﴾

    اور دکھلا دیں اُسکو دو گھاٹیاں [۱۰] ﴿10﴾

    سو نہ دھمک سکا گھاٹی پر [۱۱] ﴿11﴾

    اور توکیا سمجھا کیا ہے وہ گھاٹی ﴿12﴾

    چھڑانا گردن کا [۱۲] ﴿13﴾

    یا کھلانا بھوک کے دن میں [۱۳] ﴿14﴾

    یتیم کو جو قرابت والا ہے [۱۴] ﴿15﴾

    یا محتاج کو جو خاک میں رل رہا ہے [۱۵] ﴿16﴾

    پھر ہووے ایمان والوں میں [۱۶] جو تاکید کرتے ہیں آپس میں تحمل کی اور تاکید کرتے ہیں رحم کھانے کی [۱۷] ﴿17﴾

    وہ لوگ ہیں بڑے نصیب والے [۱۸] ﴿18﴾

    اور جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے وہ ہیں کمبختی والے [۱۹] ﴿19﴾

    اُنہی کو آگ میں موند دیا ہے [۲۰] ﴿20﴾

    Surah 91
    الشمس

    قسم سورج اور اُسکے دھوپ چڑھنے کی ﴿1﴾

    اور چاند کی جب آئے سورج کے پیچھے [۱] ﴿2﴾

    اور دن کی جب اُسکو روشن کر لے [۲] ﴿3﴾

    اور رات کی جب اسکو ڈھانک لیوے [۳] ﴿4﴾

    اور آسمان کی اور جیسا کہ اُسکو بنایا [۴] ﴿5﴾

    اور زمین کی اور جیسا کہ اُسکو پھیلایا [۵] ﴿6﴾

    اور جی کی اور جیسا کہ اُسکو ٹھیک بنایا [۶] ﴿7﴾

    پھر سمجھ دی اُسکو ڈھٹائی کی اور بچ کر چلنے کی [۷] ﴿8﴾

    تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اُسکو سنوار لیا [۸] ﴿9﴾

    اور نامراد ہوا جس نے اُسکو خاک میں ملا چھوڑا [۹] ﴿10﴾

    جھٹلایا ثمود نے اپنی شرارت سے [۰ا] ﴿11﴾

    جب اٹھ کھڑا ہوا اُن میں کا بڑ ابدبخت [۱۱] ﴿12﴾

    پھر کہاں اُنکو اللہ کے رسول نے خبردار ہو اللہ کی اونٹنی سے اور اُسکی پانی پینے کی باری سے [۱۲] ﴿13﴾

    پھر انہوں نے اُسکو جھٹلایا پھر پاؤں کاٹ ڈالے اُسکے پھر الٹ مارا اُن پر اُنکے رب نے بسبب اُنکے گناہوں کے پھر برابر کر دیا سب کو [۱۳] ﴿14﴾

    اور وہ نہیں ڈرتا پیچھا کرنے سے [۱۴] ﴿15﴾

    Surah 92
    اللّیل

    قسم رات کی جب چھا جائے ﴿1﴾

    اور دن کی جب روشن ہو ﴿2﴾

    اور اُسکی جو اُس نے پیدا کئے نر اور مادہ ﴿3﴾

    تمہاری کمائی طرح طرح پر ہے [۱] ﴿4﴾

    سو جس نے دیا اور ڈرتا رہا ﴿5﴾

    اور سچ جانا بھلی بات کو ﴿6﴾

    تو اُسکو ہم سہج سہج پہنچا دیں گے آسانی میں [۲] ﴿7﴾

    اور جس نے نہ دیا اور بے پروا رہا ﴿8﴾

    اور جھوٹ جانا بھلی بات کو ﴿9﴾

    سو اُسکو ہم سہج سہج پہنچا دیں گے سختی میں [۳] ﴿10﴾

    اور کام نہ آئے گا اُسکے مال اُس کا جب گڑھے میں گرے گا [۴] ﴿11﴾

    ہمارا ذمہ ہے راہ سجھا دینا ﴿12﴾

    اور ہمارے ہاتھ میں ہے آخرت اور دنیا [۵] ﴿13﴾

    سو میں نے سنا دی تم کو خبر ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی [۶] ﴿14﴾

    اُس میں وہی گرے گا جو بڑا بدبخت ہے ﴿15﴾

    جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا [۷] ﴿16﴾

    اور بچا دیں گے اُس سے بڑے ڈرنے والے کو [۸] ﴿17﴾

    جو دیتا ہے اپنا مال دل پاک کرنے کو [۹] ﴿18﴾

    اور نہیں کسی کا اُس پر احسان جس کا بدلا دے ﴿19﴾

    مگر واسطے چاہنے مرضی اپنے رب کی جو سب سے برتر ہے ﴿20﴾

    اور آگے وہ راضی ہو گا [۱۰] ﴿21﴾

    Surah 93
    الضحیٰ

    قسم دھوپ چڑھتے وقت کی ﴿1﴾

    اور رات کی جب چھا جائے ﴿2﴾

    نہ رخصت کر دیا تجھ کو تیرے رب نے اور نہ بیزار ہوا [۱] ﴿3﴾

    اور البتہ پچھلی بہتر ہے تجھ کو پہلی سے [۲] ﴿4﴾

    اور آگے دے گا تجھ کو تیرا رب پھر تو راضی ہو گا [۳] ﴿5﴾

    بھلا نہیں پایا تجھ کو یتیم پھر جگہ دی [۴] ﴿6﴾

    اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ سجھائی [۵] ﴿7﴾

    اور پایا تجھ کو مفلس پھر بے پروا کر دیا [۶] ﴿8﴾

    سو جو یتیم ہو اُس کو مت دبا [۷] ﴿9﴾

    اور جو مانگتا ہو اُسکو مت جھڑک [۸] ﴿10﴾

    اور جو احسان ہے تیرے رب کا سو بیان کر [۹] ﴿11﴾

    Surah 94
    الم نشرح

    کیا ہم نے نہیں کھول دیا تیرا سینہ [۱] ﴿1﴾

    اور اتار رکھا ہم نے تجھ پر سے بوجھ تیرا ﴿2﴾

    جس نے جھکا دی تھی پیٹھ تیری [۲] ﴿3﴾

    اور بلند کیا ہم نے مذکور تیرا [۳] ﴿4﴾

    سو البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ﴿5﴾

    البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے [۴] ﴿6﴾

    پھر جب تو فارغ ہو تو محنت کر ﴿7﴾

    اور اپنے رب کی طرف دل لگا [۵] ﴿8﴾

    Surah 95
    التین

    قسم انجیر کی اور زیتون کی [۱] ﴿1﴾

    اور طور سینین کی ﴿2﴾

    اور اُس شہر امن والے کی [۲] ﴿3﴾

    ہم نے بنایا آدمی خوب سے اندازے پر [۳] ﴿4﴾

    پھر پھینک دیا اُسکو نیچوں سے نیچے [۴] ﴿5﴾

    مگر جو یقین لائے اور عمل کئے اچھے سو اُنکے لئے ثواب ہے بے انتہا [۵] ﴿6﴾

    پھر تو اُسکے پیچھے کیوں جھٹلائے بدلا ملنے کو [۶] ﴿7﴾

    کیا نہیں ہے اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم [۷] ﴿8﴾

    Surah 96
    العلق

    پڑھ اپنے رب کے نام سے [۱] جو سب کا بنانے والا ہے [۲] ﴿1﴾

    بنایا آدمی کو جمے ہوئے لہو سے [۳] ﴿2﴾

    پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے [۴] ﴿3﴾

    جس نے علم سکھایا قلم سے [۵] ﴿4﴾

    سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا [۶] ﴿5﴾

    کوئی نہیں آدمی سر چڑھتا ہے اس سے ﴿6﴾

    کہ دیکھے اپنے آپکو بے پروا [۷] ﴿7﴾

    بیشک تیرے رب کی طرف پھر جانا ہے [۸] ﴿8﴾

    تو نے دیکھا اُسکو جو منع کرتا ہے ﴿9﴾

    ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھے [۹] ﴿10﴾

    بھلا دیکھ تو اگر ہوتا نیک راہ پر ﴿11﴾

    یا سکھلاتا ڈر کے کام ﴿12﴾

    بھلا دیکھ تو اگر جھٹلایا اور منہ موڑا [۱۰] ﴿13﴾

    یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھتا ہے [۱۱] ﴿14﴾

    کوئی نہیں اگر باز نہ آئے گا ہم گھسیٹیں گے چوٹی پکڑ کر [۱۲] ﴿15﴾

    کیسی چوٹی جھوٹی گنہگار [۱۳] ﴿16﴾

    اب بلا لیوے اپنے مجلس والوں کو ﴿17﴾

    ہم بھی بلاتے ہیں پیادے سیاست کرنے کو [۱۴] ﴿18﴾

    کوئی نہیں مت مان اُسکا کہا اور سجدہ کر اور نزدیک ہو [۱۵] ﴿19﴾

    Surah 97
    القدر

    ہم نے اُسکو اتارا شب قدر میں [۱] ﴿1﴾

    اور تو نے کیا سمجھا کہ کیا ہے شب قدر ﴿2﴾

    شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے [۲] ﴿3﴾

    اترتے ہیں فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے حکم سے [۳] ہر کام پر [۴] ﴿4﴾

    امان ہے [۵] وہ رات صبح کے نکلنے تک [۶] ﴿5﴾

    Surah 98
    البیّنہ

    نہ تھے وہ لوگ جو منکر ہیں اہل کتاب اور مشرک [۱] باز آنے والے یہاں تک کہ پہنچے اُنکے پاس کھلی بات ﴿1﴾

    ایک رسول اللہ کا پڑھتا ہو ورق پاک [۲] ﴿2﴾

    اس میں لکھی ہیں کتابیں مضبوط [۳] ﴿3﴾

    اور وہ جو پھوٹ پڑی اہل کتاب میں سو جب کہ آ چکی اُنکے پاس کھلی بات [۴] ﴿4﴾

    اور انکو حکم یہی ہوا کہ بندگی کریں اللہ کی خالص کر کے اُسکے واسطے بندگی ابراہیم کی راہ پر [۵] اور قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور یہ ہے راہ مضبوط لوگوں کی [۶] ﴿5﴾

    اور جو منکر ہوئے اہل کتاب اور مشرک ہونگے دوزخ کی آگ میں سدا رہیں اُس میں [۷] وہ لوگ ہیں سب خلق سے بدتر [۸] ﴿6﴾

    وہ لوگ جو یقین لائے اور کئے بھلے کام وہ لوگ ہیں سب خلق سے بہتر [۹] ﴿7﴾

    بدلا اُن کا اُنکے رب کے یہاں باغ ہیں ہمیشہ رہنے کو نیچے بہتی ہں اُنکے نہریں سدا رہیں اُں میں ہمیشہ اللہ اُن سے راضی اور وہ اُس سے راضی [۱۰] یہ ملتا ہے اسکو جو ڈرا اپنے رب سے [۱۱] ﴿8﴾

    Surah 99
    الزلزال

    جب ہلا ڈالے زمین کو اُسکے بھونچال سے [۱] ﴿1﴾

    او ر نکال باہر کرے زمین اپنے اندر سے بوجھ [۲] ﴿2﴾

    اور کہے آدمی اُس کو کیا ہو گیا [۳] ﴿3﴾

    اُس دن کہہ ڈالے گی وہ اپنی باتیں ﴿4﴾

    اس واسطے کہ تیرے رب نے حکم بھیجا اُسکو [۴] ﴿5﴾

    اُس دن ہو پڑیں گے لوگ طرح طرح پر [۵] کہ اُنکو دکھا دیے جائیں اُنکے عمل [۶] ﴿6﴾

    سو جس نے کی ذرہ بھر بھلائی وہ دیکھ لے گا اُسے ﴿7﴾

    اور جس نے کی ذرہ بھر برائی دیکھ لے گا اُسے [۷] ﴿8﴾

    Surah 100
    العادیات

    قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپ کر ﴿1﴾

    پھر آگ سلگانے والے جھاڑ کر [۱] ﴿2﴾

    پھر غارت کر ڈالنے والے صبح کو [۲] ﴿3﴾

    پھر اٹھانے والے اُس میں گرد [۳] ﴿4﴾

    پھر گھس جانے والے اُس وقت فوج میں [۴] ﴿5﴾

    بیشک آدمی اپنے رب کا ناشکر ہے [۵] ﴿6﴾

    اور وہ آدمی اس کام کو سامنے دیکھتا ہے [۶] ﴿7﴾

    اور آدمی محبت پر مال کی بہت پکا ہے [۷] ﴿8﴾

    کیا نہیں جانتا وہ وقت کہ کریدا جائے جو کچھ قبروں میں ہے ﴿9﴾

    اور تحقیق ہووے جو کچھ کہ جیوں میں ہے [۸] ﴿10﴾

    بیشک اُنکے رب کو اُنکی اُس دن سب خبر ہے [۹] ﴿11﴾

    Surah 101
    القارعہ

    وہ کھڑکھڑا ڈالنے والی ﴿1﴾

    کیا ہے وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی ﴿2﴾

    اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی [۱] ﴿3﴾

    جس دن ہوویں لوگ جیسے پتنگے بکھرے ہوئے [۲] ﴿4﴾

    اور ہوویں پہاڑ جیسے رنگی ہوئی اون دُھنی ہوئی [۳] ﴿5﴾

    سو جسکی بھاری ہوئیں تولیں ﴿6﴾

    تو وہ رہے گا من مانتے گذران میں [۴] ﴿7﴾

    اور جسکی ہلکی ہوئیں تولیں ﴿8﴾

    تو اُس کا ٹھکانہ گڑھا ہے ﴿9﴾

    اور تو کیا سمجھا وہ کیا ہے ﴿10﴾

    آگ ہے دہکتی ہوئی [۵] ﴿11﴾

    Surah 102
    التکاثر

    غفلت میں رکھا تم کو بہتایت کی حرص نے ﴿1﴾

    یہاں تک کہ جا دیکھیں قبریں [۱] ﴿2﴾

    کوئی نہیں آگے جان لو گے ﴿3﴾

    پھر بھی کوئی نہیں آگے جان لو گے [۲] ﴿4﴾

    کوئی نہیں اگر جانو تم یقین کر کے [۳] ﴿5﴾

    بیشک تم کو دیکھنا ہے دوزخ ﴿6﴾

    پھر دیکھنا ہے اُسکو یقین کی آنکھ سے [۴] ﴿7﴾

    پھر پوچھیں گے تم سے اُس دن آرام کی حقیقت [۵] ﴿8﴾

    Surah 103
    العصر

    قسم ہے عصر کی [۱] ﴿1﴾

    مقرر انسان ٹوٹے میں ہے [۲] ﴿2﴾

    مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی [۳] ﴿3﴾

    Surah 104
    الھمزہ

    خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی [۱] ﴿1﴾

    جس نے سمیٹا مال اور گن گن کر رکھا [۲] ﴿2﴾

    خیال رکھتا ہے کہ اُس کا مال سدا کو رہے گا اُسکے ساتھ [۳] ﴿3﴾

    کوئی نہیں وہ پھینکا جائے گا اُس روندنے والی میں [۴] ﴿4﴾

    اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی ﴿5﴾

    ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی ﴿6﴾

    وہ جھانک لیتی ہے دل کو [۵] ﴿7﴾

    اُنکو اُس میں موند دیا ہے [۶] ﴿8﴾

    لنبے لنبے ستونوں میں [۷] ﴿9﴾

    Surah 105
    الفیل

    کیا تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ [۱] ﴿1﴾

    کیا نہیں کر دیا اُن کا داؤ غلط [۲] ﴿2﴾

    اور بھیجے اُن پر اڑتے جانور ٹکڑیاں ٹکڑیاں ﴿3﴾

    پھینکتے تھے اُن پر پتھریاں کنکر کی [۳] ﴿4﴾

    پھر کر ڈالا اُنکو جیسے بھس کھایا ہوا[۴] ﴿5﴾

    Surah 106
    قریش

    اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو ﴿1﴾

    مانوس رکھنا اُنکو سفر سے جاڑے کے اور گرمی کے ﴿2﴾

    تو چاہیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی ﴿3﴾

    جس نے اُنکو کھانا دیا بھوک میں اور امن دیا ڈر میں [۱] ﴿4﴾

    Surah 107
    الماعون

    تو نے دیکھا اُسکو جو جھٹلاتا ہے انصاف ہونے کو [۱] ﴿1﴾

    سو یہ وہی ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو [۲] ﴿2﴾

    اور نہیں تاکید کرتا محتاج کے کھانے پر [۳] ﴿3﴾

    پھر خرابی ہے اُن نمازیوں کی ﴿4﴾

    جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں [۴] ﴿5﴾

    وہ جو دکھلاوا کرتے ہیں [۵] ﴿6﴾

    اور مانگے نہ دیویں برتنے کی چیز [۶] ﴿7﴾

    Surah 108
    الکوثر

    بیشک ہم نے دی تجھ کو کوثر [۱] ﴿1﴾

    سو نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر [۲] ﴿2﴾

    بیشک جو دشمن ہے تیرا وہی رہ گیا پیچھا کٹا [۳] ﴿3﴾

    Surah 109
    الکافرون

    تو کہہ اے منکرو [۱] ﴿1﴾

    میں نہیں پوجتا جسکو تم پوجتے ہو ﴿2﴾

    اور نہ تم پوجو جسکو میں پوجوں [۲] ﴿3﴾

    اور نہ مجھ کو پوجنا ہے اُس کا جسکو تم نے پوجا ﴿4﴾

    اور نہ تم کو پوجنا ہے اُس کا جس کو میں پوجوں [۳] ﴿5﴾

    تم کو تمہاری راہ اور مجھ کو میری راہ [۴] ﴿6﴾

    Surah 110
    النصر

    جب پہنچ چکے مدد اللہ کی اور فیصلہ [۱] ﴿1﴾

    اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول ﴿2﴾

    تو پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں [۲] اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے [۳] ﴿3﴾

    Surah 111
    اللهب

    ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ [۱] ﴿1﴾

    کام نہ آیا اُسکو مال اُسکا اور نہ جو اُس نے کمایا [۲] ﴿2﴾

    ڈیگ مارتی آگ میں [۳] ﴿3﴾

    اور اُسکی جورو جو سر پر لئے پھرتی ہے ایندھن [۴] ﴿4﴾

    اُسکی گردن میں رسی ہے مونجھ کی [۵] ﴿5﴾

    Surah 112
    الاخلاص

    تو کہہ وہ اللہ ایک ہے [۱] ﴿1﴾

    اللہ بے نیاز ہے [۲] ﴿2﴾

    نہ کسی کو جنا نہ کسی سے جنا [۳] ﴿3﴾

    اور نہیں اُس کے جوڑ کا کوئی [۴] ﴿4﴾

    Surah 113
    الفلق

    تو کہہ میں پناہ میں آیا صبح کے رب کی [۱] ﴿1﴾

    ہر چیز کی بدی سے جو اُس نے بنائی [۲] ﴿2﴾

    اور بدی سے اندھیرے کی جب سمٹ آئے [۳] ﴿3﴾

    اور بدی سے عورتوں کی جو گرہوں میں پھونک ماریں [۴] ﴿4﴾

    اور بدی سے برا چاہنے والے کی جب لگے ٹوک لگانے [۵] ﴿5﴾

    Surah 114
    الناس

    تو کہہ میں پناہ میں آیا لوگوں کے رب کی ﴿1﴾

    لوگوں کے بادشاہ کی ﴿2﴾

    لوگوں کے معبود کی [۱] ﴿3﴾

    بدی سے اُسکی جو پھسلائے اور چھپ جائے [۲] ﴿4﴾

    وہ جو خیال ڈالتا ہے لوگوں کے دل میں ﴿5﴾

    جنوں میں اور آدمیوں میں [۳] ﴿6﴾