Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 15 - Al-Hijr
Translation by Abul A Ala Maududi — Permalink
Verse 1 — Surah Al-Hijr 15:1
ا ل ر یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی
Verse 2 — Surah Al-Hijr 15:2
بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کر دیا ہے پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا
Verse 3 — Surah Al-Hijr 15:3
چھوڑو اِنہیں کھائیں، پییں، مزے کریں، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی امید عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
Verse 4 — Surah Al-Hijr 15:4
ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی
Verse 5 — Surah Al-Hijr 15:5
کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے
Verse 6 — Surah Al-Hijr 15:6
یہ لوگ کہتے ہیں "اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے
Verse 7 — Surah Al-Hijr 15:7
اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا؟
Verse 8 — Surah Al-Hijr 15:8
ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی
Verse 9 — Surah Al-Hijr 15:9
رہا یہ ذکر، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں
Verse 10 — Surah Al-Hijr 15:10
اے محمدؐ، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں
Verse 11 — Surah Al-Hijr 15:11
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کہ پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو
Verse 12 — Surah Al-Hijr 15:12
مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اِسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں
Verse 13 — Surah Al-Hijr 15:13
وہ اِس پر ایمان نہیں لایا کرتے قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے
Verse 14 — Surah Al-Hijr 15:14
اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے
Verse 15 — Surah Al-Hijr 15:15
تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
Verse 16 — Surah Al-Hijr 15:16
یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا
Verse 17 — Surah Al-Hijr 15:17
اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا
Verse 18 — Surah Al-Hijr 15:18
کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا، الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے
Verse 19 — Surah Al-Hijr 15:19
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی
Verse 20 — Surah Al-Hijr 15:20
اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو
Verse 21 — Surah Al-Hijr 15:21
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں
Verse 22 — Surah Al-Hijr 15:22
بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اُس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں اِس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو
Verse 23 — Surah Al-Hijr 15:23
زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں
Verse 24 — Surah Al-Hijr 15:24
پہلے جو لوگ تم میں سے ہو گزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں
Verse 25 — Surah Al-Hijr 15:25
یقیناً تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی
Verse 26 — Surah Al-Hijr 15:26
ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا
Verse 27 — Surah Al-Hijr 15:27
اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے
Verse 28 — Surah Al-Hijr 15:28
پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں
Verse 29 — Surah Al-Hijr 15:29
جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا
Verse 30 — Surah Al-Hijr 15:30
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا
Verse 31 — Surah Al-Hijr 15:31
سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا
Verse 32 — Surah Al-Hijr 15:32
رب نے پوچھا "اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟
Verse 33 — Surah Al-Hijr 15:33
اس نے کہا "میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے
Verse 34 — Surah Al-Hijr 15:34
رب نے فرمایا "اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے
Verse 35 — Surah Al-Hijr 15:35
اور اب روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے
Verse 36 — Surah Al-Hijr 15:36
اُس نے عرض کیا "میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے
Verse 37 — Surah Al-Hijr 15:37
فرمایا "اچھا، تجھے مہلت ہے
Verse 38 — Surah Al-Hijr 15:38
اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے
Verse 39 — Surah Al-Hijr 15:39
وہ بولا "میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں اِن کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے اِن سب کو بہکا دوں گا
Verse 40 — Surah Al-Hijr 15:40
سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے اِن میں سے خالص کر لیا ہو
Verse 41 — Surah Al-Hijr 15:41
فرمایا "یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے
Verse 42 — Surah Al-Hijr 15:42
بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں
Verse 43 — Surah Al-Hijr 15:43
اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے
Verse 44 — Surah Al-Hijr 15:44
یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے
Verse 45 — Surah Al-Hijr 15:45
بخلاف اِس کے متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
Verse 46 — Surah Al-Hijr 15:46
اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر
Verse 47 — Surah Al-Hijr 15:47
اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے
Verse 48 — Surah Al-Hijr 15:48
اُنہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے
Verse 49 — Surah Al-Hijr 15:49
اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں
Verse 50 — Surah Al-Hijr 15:50
مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے
Verse 51 — Surah Al-Hijr 15:51
اور انہیں ذرا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا قصہ سناؤ
Verse 52 — Surah Al-Hijr 15:52
جب وہ آئے اُس کے ہاں اور کہا "سلام ہو تم پر،" تو اُس نے کہا "ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے
Verse 53 — Surah Al-Hijr 15:53
اُنہوں نے جواب دیا "ڈرو نہیں، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں
Verse 54 — Surah Al-Hijr 15:54
ابراہیمؑ نے کہا "کیا تم اِس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟
Verse 55 — Surah Al-Hijr 15:55
اُنہوں نے جواب دیا "ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو
Verse 56 — Surah Al-Hijr 15:56
ابراہیمؑ نے کہا "اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں
Verse 57 — Surah Al-Hijr 15:57
پھر ابراہیمؑ نے پوچھا "اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟
Verse 58 — Surah Al-Hijr 15:58
وہ بولے، "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
Verse 59 — Surah Al-Hijr 15:59
صرف لوطؑ کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، ان سب کو ہم بچا لیں گے
Verse 60 — Surah Al-Hijr 15:60
سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی
Verse 61 — Surah Al-Hijr 15:61
پھر جب یہ فرستادے لوطؑ کے ہاں پہنچے
Verse 62 — Surah Al-Hijr 15:62
تو اُس نے کہا "آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں
Verse 63 — Surah Al-Hijr 15:63
اُنہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے
Verse 64 — Surah Al-Hijr 15:64
ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں
Verse 65 — Surah Al-Hijr 15:65
لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے
Verse 66 — Surah Al-Hijr 15:66
اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے اِن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی
Verse 67 — Surah Al-Hijr 15:67
اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے
Verse 68 — Surah Al-Hijr 15:68
لوطؑ نے کہا "بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو
Verse 69 — Surah Al-Hijr 15:69
اللہ سے ڈرو، مجھے رسوا نہ کرو
Verse 70 — Surah Al-Hijr 15:70
وہ بولے "کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کر چکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکے دار نہ بنو؟
Verse 71 — Surah Al-Hijr 15:71
لوطؑ نے عاجز ہو کر کہا "اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں
Verse 72 — Surah Al-Hijr 15:72
تیری جان کی قسم اے نبیؐ، اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے
Verse 73 — Surah Al-Hijr 15:73
آخرکار پو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا
Verse 74 — Surah Al-Hijr 15:74
اور ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی
Verse 75 — Surah Al-Hijr 15:75
اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں
Verse 76 — Surah Al-Hijr 15:76
اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے
Verse 77 — Surah Al-Hijr 15:77
اُس میں سامان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں
Verse 78 — Surah Al-Hijr 15:78
اور ایکہ والے ظالم تھے
Verse 79 — Surah Al-Hijr 15:79
تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں
Verse 80 — Surah Al-Hijr 15:80
حجر کے لوگ بھی رسولوں کی تکذیب کر چکے ہیں
Verse 81 — Surah Al-Hijr 15:81
ہم نے اپنی آیات اُن کے پاس بھیجیں، اپنی نشانیاں اُن کو دکھائیں، مگر وہ سب کو نظر انداز ہی کرتے رہے
Verse 82 — Surah Al-Hijr 15:82
وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے
Verse 83 — Surah Al-Hijr 15:83
آخرکار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آ لیا
Verse 84 — Surah Al-Hijr 15:84
اور اُن کی کمائی اُن کے کچھ کام نہ آئی
Verse 85 — Surah Al-Hijr 15:85
ہم نے زمین اور آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے، پس اے محمدؐ، تم (اِن لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو
Verse 86 — Surah Al-Hijr 15:86
یقیناً تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے
Verse 87 — Surah Al-Hijr 15:87
ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے
Verse 88 — Surah Al-Hijr 15:88
تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو
Verse 89 — Surah Al-Hijr 15:89
اور (نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں
Verse 90 — Surah Al-Hijr 15:90
یہ اُسی کی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی
Verse 91 — Surah Al-Hijr 15:91
جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے
Verse 92 — Surah Al-Hijr 15:92
تو قسم ہے تیرے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے
Verse 93 — Surah Al-Hijr 15:93
کہ تم کیا کرتے رہے ہو
Verse 94 — Surah Al-Hijr 15:94
پس اے نبیؐ، جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے، اُسے ہانکے پکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو
Verse 95 — Surah Al-Hijr 15:95
تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں
Verse 96 — Surah Al-Hijr 15:96
جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا
Verse 97 — Surah Al-Hijr 15:97
ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے
Verse 98 — Surah Al-Hijr 15:98
اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ
Verse 99 — Surah Al-Hijr 15:99
اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے