Back to Languages

Urdu - Chapter 13 - Ar-Rad

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Ar-Rad 13:1

الف، لام، میم، را۔ یہ الکتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سب بالکل حق ہے لیکن اکثر لوگ (اس پر) ایمان نہیں لاتے۔

Verse 2 — Surah Ar-Rad 13:2

اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا ہے بغیر ایسے ستونوں کے جو تم کو نظر آتے ہوں پھر وہ عرش (اقتدار) پر متمکن ہوا۔ اور سورج و چاند کو (اپنے قانون قدرت کا) پابند بنایا (چنانچہ) ہر ایک معینہ مدت تک رواں دواں ہے وہی (اس کارخانۂ قدرت کے) ہر کام کا انتظام کر رہا ہے اور اپنی قدرت کی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین کرو۔

Verse 3 — Surah Ar-Rad 13:3

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ بنا دیے اور نہریں جاری کر دیں اور اس میں ہر ایک پھل کے جوڑے دو قسم کے پیدا کر دیئے وہ رات (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو ڈھانپ دیتا ہے بے شک ان سب چیزوں میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔

Verse 4 — Surah Ar-Rad 13:4

اور خود زمین میں مختلف ٹکڑے آس پاس واقع ہیں (پھر ان میں) انگوروں کے باغ ہیں (غلہ کی) کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں کچھ ایسے جو ایک ہی جڑ سے کئی درخت نکلے ہیں اور کچھ وہ جو ایسے نہیں ہیں سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں مگر ہم (ذائقہ میں) بعض کو بعض پر برتری دیتے ہیں۔ یقیناً ان امور میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

Verse 5 — Surah Ar-Rad 13:5

(اے مخاطب) اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل ان (کفار) کا یہ قول ہے کہ جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا اور یہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

Verse 6 — Surah Ar-Rad 13:6

اور (اے رسول(ص)) یہ لوگ آپ سے نیکی (مغفرت) سے پہلے برائی (عذاب) کے لئے جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (ایسے لوگوں پر) خدائی سزاؤں کے نمونے گزر چکے ہیں اور آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کے ظلم و زیادتی کے باوجود بڑا بخشنے والا ہے اور یقیناً آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

Verse 7 — Surah Ar-Rad 13:7

اور کافر لوگ کہتے ہیں ان (پیغمبر اسلام(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (ہماری مرضی کے مطابق) کیوں نہیں اتاری جاتی؟ حالانکہ تم تو بس (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوتا ہے۔

Verse 8 — Surah Ar-Rad 13:8

اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر عورت (اپنے پیٹ میں) کیا اٹھائے پھرتی ہے؟ اور اس کو بھی (جانتا ہے) جو کچھ رحموں میں کمی یا بیشی ہوتی رہتی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے۔

Verse 9 — Surah Ar-Rad 13:9

وہ ہر پوشیدہ اور ظاہر سب چیزوں کا جاننے والا ہے وہ بزرگ ہے (اور) عالی شان ہے۔

Verse 10 — Surah Ar-Rad 13:10

تم میں سے کوئی چپکے سے کوئی بات کرے یا اونچی آواز میں کرے اور جو رات کے وقت چھپا رہتا ہے یا دن کے وقت (صاف ظاہر) چلتا ہے اس کے علم میں سب یکساں (برابر) ہیں۔

Verse 11 — Surah Ar-Rad 13:11

انسان کے آگے اور پیچھے (خدا کے مقرر کردہ) نگہبان ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب خدا کسی قوم کو (اس کے عمل کی پاداش میں) کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تو وہ ٹل نہیں سکتی (پہنچ کر ہی رہتی ہے)۔ اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حامی و مددگار ہے۔

Verse 12 — Surah Ar-Rad 13:12

وہ وہی (خدا) ہے جو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی (کی چمک) دکھاتا ہے اور (دوش ہوا پر) بوجھل بادل پیدا کرتا ہے۔

Verse 13 — Surah Ar-Rad 13:13

بادل کی گرج اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ آسمانی بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کی زد میں لاتا ہے درآنحالیکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ بڑا زبردست قوت والا ہے۔

Verse 14 — Surah Ar-Rad 13:14

(تکلیف کے وقت) اسی کو پکارنا برحق ہے اور اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ انہیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی (پیاسا) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا و پکار گمراہی میں بھٹکتی پھرتی ہے۔

Verse 15 — Surah Ar-Rad 13:15

اور جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ سب خوشی یا ناخوشی سے اللہ کو ہی سجدہ کر رہے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح و شام (اسی کو سجدہ کناں ہیں)۔

Verse 16 — Surah Ar-Rad 13:16

(اے رسول) ان سے کہو (پوچھو) آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (خود ہی) بتائیے کہ اللہ (نیز) ان سے کہو۔ کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر کچھ کارساز بنا لئے ہیں؟ جو اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہیں اور کیا نور و ظلمت (اندھیرا اور اجالا) یکساں ہیں؟ کیا ان لوگوں نے اللہ کے کچھ ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ مخلوق خلق کی ہے؟ جس کی وجہ سے تخلیق کا یہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا ہے؟ کہہ دیجیئے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے وہ یگانہ ہے اور سب پر غالب ہے۔

Verse 17 — Surah Ar-Rad 13:17

اسی (اللہ) نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہنے لگے اور (میل کچیل سے جھاگ اٹھا تو) سیلاب کی رو نے اس ابھرے ہوئے جھاگ کو اٹھا لیا اور جن چیزوں (دھاتوں) کو لوگ زیور یا کوئی اور چیز (برتن وغیرہ) بنانے کے لیے آگ کے اندر تپاتے ہیں ان سے بھی ایسا ہی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے پس جو جھاگ ہے وہ تو رائیگاں چلا جاتا ہے اور جو چیز (پانی اور دھات) لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔

Verse 18 — Surah Ar-Rad 13:18

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی دعوت پر لبیک کہا (اسے قبول کیا) ان کے لئے بھلائی (ہی بھلائی) ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ تو اگر ان کو روئے زمین کی سب دولت مل جائے اور اس کے ساتھ اتنی ہی اور ان کے اختیار میں آجائے تو یہ لوگ اسے اپنے بدلے (عذاب سے بچنے کے لیے) بطور فدیہ دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا سخت حساب ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور (وہ) کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

Verse 19 — Surah Ar-Rad 13:19

اے (رسول(ص)) کیا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو بالکل اندھا ہے؟ نصیحت تو بس وہی قبول کرتے ہیں جو دانشمند ہوتے ہیں (اور وہی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں)۔

Verse 20 — Surah Ar-Rad 13:20

وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے۔

Verse 21 — Surah Ar-Rad 13:21

اور جو ان رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں جن کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے (صلہ رحمی کرتے ہیں) اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور سخت حساب سے خائف و ترساں رہتے ہیں۔

Verse 22 — Surah Ar-Rad 13:22

اور جو اپنے پروردگار کی خوشنودی کی طلب میں صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے اعلانیہ اور پوشیدہ طور پر( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور جو برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں عاقبت کا گھر انہی کیلئے ہے۔

Verse 23 — Surah Ar-Rad 13:23

یعنی ہمیشگی کے باغ ہیں۔ جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے۔ اور ان کے آباء و اجداد، بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح اور نیکوکار ہوں گے۔ وہ بھی (ان کے ہمراہ داخل ہوں گے) اور فرشتے ہر دروازہ سے ان کے پاس آئیں گے۔

Verse 24 — Surah Ar-Rad 13:24

(اور کہیں گے) سلام علیکم اس دار آخرت کا انجام کیسا اچھا ہے؟

Verse 25 — Surah Ar-Rad 13:25

اور جو لوگ اللہ کے عہد و پیمان کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑتے ہیں اور جن رشتوں کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو توڑتے ہیں اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر (جہنم) ہے۔

Verse 26 — Surah Ar-Rad 13:26

اللہ جس کے رزق کو چاہتا ہے کشادہ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے اور یہ (کافر) لوگ دنیوی زندگی سے خوش ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں صرف ناپائیدار فائدہ ہے۔

Verse 27 — Surah Ar-Rad 13:27

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی برحق ہیں) تو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر (ہماری پسند کی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ کہہ دیجیئے! اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے ہدایت کرتا ہے۔

Verse 28 — Surah Ar-Rad 13:28

یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جن کے دل یادِ خدا سے مطمئن ہوتے ہیں یاد رکھو ذکرِ الٰہی سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

Verse 29 — Surah Ar-Rad 13:29

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے خوش حالی اور خوش انجامی ہے۔

Verse 30 — Surah Ar-Rad 13:30

اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی قوم میں رسول بنا کر بھیجا جس سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ انہیں وہ (کلام و پیغام) پڑھ کر سنائیں جو ہم نے بطور وحی آپ پر اتارا ہے حالانکہ وہ لوگ اپنے مہربان خدا کا انکار کر رہے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے! وہی میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف بازگشت ہے۔

Verse 31 — Surah Ar-Rad 13:31

اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین (کی مسافتیں) جلدی طے ہو جاتیں یا مردوں سے کلام کیا جا سکتا (تو وہ یہی قرآن ہوتا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لاتے) بلکہ یہ سب کام اللہ کے اختیار میں ہیں۔ کیا ایمان لانے والے اس بات سے مایوس نہیں ہوگئے اگر خدا (زبردستی) چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کر دیتا! اور کافروں پر ان کے کرتوتوں کی پاداش میں کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہے گی۔ یا ان کے گھروں کے آس پاس آتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کے وعدہ کے (ظہور) کا وقت آجائے بے شک اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

Verse 32 — Surah Ar-Rad 13:32

اے رسول(ص)) آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے مگر میں نے کافروں کو (کچھ مدت تک) ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑ لیا۔ تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا؟

Verse 33 — Surah Ar-Rad 13:33

کیا وہ ذات جو ہر نفس کے (نیک و بد) اعمال پر نگران ہے کہ اس نے کیا کمایا ہے؟ (وہ ان کے خود ساختہ معبودوں جیسا ہے؟) ان لوگوں نے اللہ کے کچھ شریک بنا لئے ہیں؟ اے رسول ان سے کہو کہ آخر ان کے نام تو بتاؤ یا تم اس (اللہ) کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ (ہمہ دان ہو کر بھی) زمین میں نہیں جانتا کہ کہاں ہے؟ یا یونہی یہ ظاہری الفاظ ہیں (جن کا کوئی مصداق نہیں ہے) بلکہ کافروں کے لئے ان کا مکر و فریب خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ راہ (راست) سے روک دیئے گئے ہیں اور جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے (اور اسے ہدایت نہ دے) تو اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔

Verse 34 — Surah Ar-Rad 13:34

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اور بھی زیادہ سخت ہے اور کوئی نہیں ہے جو انہیں اللہ (کی گرفت) سے بچائے۔

Verse 35 — Surah Ar-Rad 13:35

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ بھی (لازوال) ہے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے۔

Verse 36 — Surah Ar-Rad 13:36

اور (اے رسول) جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے خوش ہوتے ہیں جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے اور ان جماعتوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس کتاب کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میری بازگشت ہے۔

Verse 37 — Surah Ar-Rad 13:37

اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی فرمان کی شکل میں نازل کیا ہے اور اگر آپ اپنے پاس علم (قرآن) کے آجانے کے بعد بھی انکی خواہشات کی پیروی کریں گے تو اللہ کے مقابلہ میں آپ کا نہ کوئی سرپرست و کارساز ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

Verse 38 — Surah Ar-Rad 13:38

اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیوی بچے قرار دیئے اور کسی رسول کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ پیش کرے ہر وقت کے لیے ایک کتاب (نوشتہ) ہے۔

Verse 39 — Surah Ar-Rad 13:39

اللہ جو چاہتا ہے وہ (لکھا ہوا) مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یعنی لوح محفوظ) ہے۔

Verse 40 — Surah Ar-Rad 13:40

اور اگر ہم آپ کو کچھ وہ باتیں آنکھوں سے دکھا دیں جن کا ہم ان (کفار) سے وعدہ وعید کر رہے ہیں یا ہم (ان کے ظاہر ہونے سے پہلے) آپ کو اٹھا لیں بہرحال (ہمارا پیغام) پہنچانا آپ کا کام ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

Verse 41 — Surah Ar-Rad 13:41

کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے اطراف و جوانب سے برابر گھٹاتے چلے آتے ہیں اللہ ہی حکم دینے والا (اور فیصلہ کرنے والا) ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

Verse 42 — Surah Ar-Rad 13:42

جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے بڑی مخفی تدبیریں کیں سو ہر قسم کی تدبیریں اور ترکیبیں اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہیں وہی جانتا ہے کہ ہر شخص کیا کمائی کر رہا ہے اور بہت جلد کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ اس گھر کا انجام (بخیر) کس کا ہے؟

Verse 43 — Surah Ar-Rad 13:43

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ اللہ کافی ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔