Back to Languages

Urdu - Chapter 20 - Ta-Ha

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Ta-Ha 20:1

Verse 2 — Surah Ta-Ha 20:2

ہم نے اس لئے آپ پر قرآن نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔

Verse 3 — Surah Ta-Ha 20:3

بلکہ (اس لئے نازل کیا ہے کہ) جو (خدا سے) ڈرنے والا ہے اس کی یاددہانی ہو۔

Verse 4 — Surah Ta-Ha 20:4

(یہ) اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔

Verse 5 — Surah Ta-Ha 20:5

وہ خدائے رحمن ہے جس کا عرش پر اقتدار قائم ہے۔

Verse 6 — Surah Ta-Ha 20:6

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔

Verse 7 — Surah Ta-Ha 20:7

اگر تم پکار کر بات کرو (تو تمہاری مرضی) وہ تو راز کو بلکہ اس سے بھی زیادہ مخفی بات کو جانتا ہے۔

Verse 8 — Surah Ta-Ha 20:8

وہ الٰہ ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ سب اچھے اچھے نام اسی کے لئے ہیں۔

Verse 9 — Surah Ta-Ha 20:9

کیا آپ(ص) تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے؟

Verse 10 — Surah Ta-Ha 20:10

جب انہوں نے آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہیں) ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے شاید تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آؤں یا آگ کے پاس راستہ کا کوئی پتّہ پاؤں؟

Verse 11 — Surah Ta-Ha 20:11

تو جب اس کے پاس گئے تو انہیں آواز دی گئی کہ اے موسیٰ

Verse 12 — Surah Ta-Ha 20:12

میں ہی تمہارا پروردگار ہوں! پس اپنی جوتیاں اتار دو (کیونکہ) تم طویٰ نامی ایک مقدس وادی میں ہو۔

Verse 13 — Surah Ta-Ha 20:13

اور میں نے تمہیں (پیغمبری کیلئے) منتخب کیا ہے۔ پس (تمہیں) جو کچھ وحی کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔

Verse 14 — Surah Ta-Ha 20:14

بےشک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے پس میری عبادت کرو اور میری یاد کیلئے نماز قائم کرو۔

Verse 15 — Surah Ta-Ha 20:15

یقیناً قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کا معاوضہ مل جائے۔

Verse 16 — Surah Ta-Ha 20:16

پس (خیال رکھنا) کہیں وہ شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش نفس کا پیرو ہے تمہیں اس کی فکر سے روک نہ دے ورنہ تم تباہ ہو جاؤگے۔

Verse 17 — Surah Ta-Ha 20:17

اور اے موسیٰ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟

Verse 18 — Surah Ta-Ha 20:18

کہا وہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کیلئے (درختوں سے) پتے جھاڑتا ہوں اور میرے لئے اس میں اور بھی کئی فائدے ہیں۔

Verse 19 — Surah Ta-Ha 20:19

ارشاد ہوا اے موسیٰ! اسے پھینک دو۔

Verse 20 — Surah Ta-Ha 20:20

چنانچہ موسیٰ نے اسے پھینک دیا تو وہ ایک دم دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔

Verse 21 — Surah Ta-Ha 20:21

ارشاد ہوا اسے پکڑ لو۔ اور ڈرو نہیں ہم ابھی اسے اس کی پہلی حالت کی طرف پلٹا دیں گے۔

Verse 22 — Surah Ta-Ha 20:22

اور اپنے ہاتھ کو سمیٹ کر اپنے بازو کے نیچے (بغل میں) کر لو وہ کسی برائی و بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہوگی۔

Verse 23 — Surah Ta-Ha 20:23

تاکہ ہم آپ کو اپنی بڑی نشانیوں سے کچھ دکھائیں۔

Verse 24 — Surah Ta-Ha 20:24

جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ بڑا سرکش ہو گیا ہے۔

Verse 25 — Surah Ta-Ha 20:25

موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ کشادہ فرما۔ (حوصلہ فراخ کر)۔

Verse 26 — Surah Ta-Ha 20:26

اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر۔

Verse 27 — Surah Ta-Ha 20:27

اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

Verse 28 — Surah Ta-Ha 20:28

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

Verse 29 — Surah Ta-Ha 20:29

اور میرے خاندان میں سے میرے بھائی۔

Verse 30 — Surah Ta-Ha 20:30

ہارون کو میرا وزیر بنا۔

Verse 31 — Surah Ta-Ha 20:31

اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط بنا۔

Verse 32 — Surah Ta-Ha 20:32

اسے میرے کام (رسالت) میں میرا شریک بنا۔

Verse 33 — Surah Ta-Ha 20:33

تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں۔

Verse 34 — Surah Ta-Ha 20:34

اور کثرت سے تیرا ذکر کریں۔

Verse 35 — Surah Ta-Ha 20:35

بےشک تو ہمارے حال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

Verse 36 — Surah Ta-Ha 20:36

خدا نے فرمایا اے موسیٰ! تمہاری درخواست منظور کر لی گئی ہے۔

Verse 37 — Surah Ta-Ha 20:37

اور ہم ایک مرتبہ اور بھی تم پر احسان کر چکے ہیں۔

Verse 38 — Surah Ta-Ha 20:38

جب ہم نے تمہاری ماں کی طرف وحی بھیجی جو بھیجنا تھی (جو اب بذریعہ وحی تمہیں بتائی جا رہی ہے)۔

Verse 39 — Surah Ta-Ha 20:39

کہ اس (موسیٰ) کو صندوق میں رکھ اور پھر صندوق کو دریا میں ڈال دے پھر دریا اسے کنارہ پر پھینک دے گا (اور) اسے وہ شخص (فرعون) اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (موسیٰ) کا بھی دشمن ہے میں نے تم پر اپنی محبت کا اثر ڈال دیا۔ (جو دیکھتا وہ پیار کرتا) اور اس لئے کہ تم میری خاص نگرانی میں پرورش پائے۔

Verse 40 — Surah Ta-Ha 20:40

اور وہ وقت یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی اور (فرعون کے اہل خانہ سے) کہہ رہی تھی کہ کیا میں تم لوگوں کو ایسی (دایہ) بتاؤں جو اس کی پرورش کرے؟ اور اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور رنجیدہ نہ ہو اور تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا تو ہم نے تمہیں اس غم سے نجات دی اور ہم نے تمہاری ہر طرح آزمائش کی۔ پھر تم کئی برس تک مدین کے لوگوں میں رہے اور پھر اے موسیٰ! تم اپنے معین وقت پر (یہاں) آگئے۔

Verse 41 — Surah Ta-Ha 20:41

اور میں نے تمہیں اپنی ذات کیلئے منتخب کر لیا۔

Verse 42 — Surah Ta-Ha 20:42

(سو اب) تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ (فرعون کے پاس) جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

Verse 43 — Surah Ta-Ha 20:43

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔

Verse 44 — Surah Ta-Ha 20:44

اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔

Verse 45 — Surah Ta-Ha 20:45

ان دونوں نے کہا اے ہمارے پروردگار! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے؟

Verse 46 — Surah Ta-Ha 20:46

ارشاد ہوا تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔

Verse 47 — Surah Ta-Ha 20:47

تم (بے دھڑک) اس کے پاس جاؤ۔ اور کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں۔ سو تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ روانہ کر اور ان کو تکلیف نہ پہنچا۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لئے جو ہدایت کی پیروی کرے۔

Verse 48 — Surah Ta-Ha 20:48

بےشک ہماری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ عذاب اس کیلئے ہے جو (آیات اللہ کو) جھٹلائے اور (اس کے احکام سے) روگردانی کرے۔

Verse 49 — Surah Ta-Ha 20:49

(چنانچہ وہ گئے) اور فرعون نے کہا اے موسیٰ! تمہارا پروردگار کون ہے؟

Verse 50 — Surah Ta-Ha 20:50

موسیٰ نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت بخشی پھر راہنمائی فرمائی۔

Verse 51 — Surah Ta-Ha 20:51

فرعون نے کہا پھر ان نسلوں کا کیا ہوگا جو پہلے گزر چکی ہیں؟

Verse 52 — Surah Ta-Ha 20:52

موسیٰ نے کہا ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا پروردگار نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔

Verse 53 — Surah Ta-Ha 20:53

وہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے اور آسمان سے پانی برسایا۔ تو ہم نے اس سے مختلف اقسام کے نباتات کے جوڑے پیدا کئے۔

Verse 54 — Surah Ta-Ha 20:54

خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ۔ بےشک اس (نظام قدرت) میں صاحبانِ عقل کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

Verse 55 — Surah Ta-Ha 20:55

اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے۔

Verse 56 — Surah Ta-Ha 20:56

اور ہم نے اس (فرعون) کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر اس پر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔

Verse 57 — Surah Ta-Ha 20:57

اور کہا اے موسیٰ! کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہماری سرزمین سے نکال دو؟

Verse 58 — Surah Ta-Ha 20:58

سو ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ویسا ہی جادو لائیں گے لہٰذا تم (مقابلہ کیلئے) ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ گاہ مقرر کرو۔ جس کی نہ ہم خلاف ورزی کریں گے اور نہ تم۔ اور وہ وعدہ گاہ ہو بھی ہموار اور کھلے میدان میں۔

Verse 59 — Surah Ta-Ha 20:59

موسیٰ نے کہا تمہارے لئے وعدہ کا دن جشن والا دن ہے اور یہ کہ دن چڑھے لوگ جمع کر لئے جائیں۔

Verse 60 — Surah Ta-Ha 20:60

اس کے بعد فرعون واپس چلا گیا اور اپنے سب مکر و فریب (داؤ) جمع کئے اور پھر (مقابلہ کیلئے) آگیا۔

Verse 61 — Surah Ta-Ha 20:61

موسیٰ نے (فرعونیوں سے) کہا افسوس ہے تم پر۔ اللہ پر جھوٹا بہتان نہ باندھو۔ ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہارا قلع قمع کر دے گا۔ اور جو کوئی بہتان باندھتا ہے وہ ناکام و نامراد ہوتا ہے۔

Verse 62 — Surah Ta-Ha 20:62

پھر وہ اپنے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے اور پوشیدہ سرگوشیاں کرنے لگے۔

Verse 63 — Surah Ta-Ha 20:63

(آخرکار) انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دیں اور تمہارے اعلیٰ و مثالی طریقہ کار کو مٹا دیں۔

Verse 64 — Surah Ta-Ha 20:64

لہٰذا تم اپنی سب تدبیریں (داؤ پیچ) جمع کرو۔ اور پرا باندھ کر (مقابلہ میں) آجاؤ۔ یقیناً فلاح وہی پائے گا جو غالب آئے گا۔

Verse 65 — Surah Ta-Ha 20:65

ان لوگوں (جادوگروں) نے کہا اے موسیٰ تم پہلے پھینکوگے یا پہلے ہم پھینکیں؟

Verse 66 — Surah Ta-Ha 20:66

موسیٰ علیہ السلام نے کہا: نہیں۔ بلکہ تم ہی (پہلے) پھینکو! پس اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

Verse 67 — Surah Ta-Ha 20:67

(یہ منظر دیکھ کر) موسیٰ نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔

Verse 68 — Surah Ta-Ha 20:68

ہم نے کہا (اے موسیٰ) ڈرو نہیں بےشک تم ہی غالب رہوگے۔

Verse 69 — Surah Ta-Ha 20:69

اور جو تمہارے دائیں ہاتھ میں (عصا) ہے اسے پھینک دو۔ یہ ان کی سب بناوٹی چیزوں کو نگل جائے گا۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کہیں بھی آئے (جائے) کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

Verse 70 — Surah Ta-Ha 20:70

چنانچہ (ایسا ہی ہوا کہ) سب جادوگر (بے ساختہ) سجدے میں گرا دیئے گئے (اور)کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے ہیں۔

Verse 71 — Surah Ta-Ha 20:71

فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہی تمہارا وہ بڑا (جادوگر) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اب میں ضرور تمہارے ہاتھ پاؤن مخالف سمت سے کٹواتا ہوں اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دیتا ہوں پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم (دونوں) میں اور موسیٰ میں سے کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے؟

Verse 72 — Surah Ta-Ha 20:72

جادوگروں نے کہا ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں ہم ان پر اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ کبھی تجھے ترجیح نہیں دیں گے بےشک تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے وہ تو (زیادہ سے زیادہ) اسی دنیاوی زندگی (کے ختم کرنے) کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

Verse 73 — Surah Ta-Ha 20:73

ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو اور اس جادوگری کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا معاف کر دے۔ ہمارے لئے اللہ ہی بہتر ہے اور وہی زیادہ دیرپا ہے۔

Verse 74 — Surah Ta-Ha 20:74

بےشک جو کوئی مجرم بن کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگا اس کیلئے وہ جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور نہ جیئے گا۔

Verse 75 — Surah Ta-Ha 20:75

اور جو کوئی مؤمن بن کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ جب کہ اس نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے ان کے لئے بڑے بلند درجے ہیں۔

Verse 76 — Surah Ta-Ha 20:76

(اور) ہمیشہ رہنے والے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اس کی جزاء ہے جو پاکباز رہا۔

Verse 77 — Surah Ta-Ha 20:77

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو لے کر نکل جاؤ پھر (عصا مار کر) ان کیلئے سمندر سے خشک راستہ بناؤ۔ نہ تمہیں پیچھے سے ان کے پکڑے جانے کا خطرہ ہو اور نہ ہی (غرق وغیرہ کا) کوئی اندیشہ۔

Verse 78 — Surah Ta-Ha 20:78

پھر فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو انہیں سمندر نے ڈھانپ لیا جیساکہ ڈھانپنے کا حق تھا۔

Verse 79 — Surah Ta-Ha 20:79

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا کوئی راہنمائی نہیں کی۔

Verse 80 — Surah Ta-Ha 20:80

اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں جانب توریت دینے کا قول و قرار کیا۔ اور تم پر من و سلویٰ نازل کیا۔

Verse 81 — Surah Ta-Ha 20:81

تم سے کہا گیا کہ جو پاکیزہ روزی تمہیں دی گئی ہے اس سے کھاؤ اور اس کے بارے میں سرکشی نہ کرو (حد سے نہ گزرو) ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ ہلاک ہی ہوگیا۔

Verse 82 — Surah Ta-Ha 20:82

اور جو کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے اور پھر راہِ راست پر قائم رہے تو میں اس کو بہت ہی بخشنے والا ہوں۔

Verse 83 — Surah Ta-Ha 20:83

اے موسیٰ! اپنی قوم سے پہلے کیا چیز تمہیں جلدی لے آئی؟

Verse 84 — Surah Ta-Ha 20:84

موسیٰ نے کہا: وہ لوگ میرے نقش قدم پر آرہے ہیں۔ اور اے میرے پروردگار! میں اس لئے جلدی تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا ہوں کہ تو خوش ہو جائے۔

Verse 85 — Surah Ta-Ha 20:85

ارشاد ہوا۔ ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔

Verse 86 — Surah Ta-Ha 20:86

پس موسیٰ غصہ میں افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے (اور) کہا اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے بڑا اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ تو کیا تم پر (وعدہ سے) زیادہ مدت گزر گئی؟ یا تم نے چاہا کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو؟ اس لئے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟

Verse 87 — Surah Ta-Ha 20:87

قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے تو آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی (البتہ بات یوں ہوئی) کہ ہمیں اس جماعت کے زیورات جمع کرکے لانے پر آمادہ کیا گیا اور یہ سامری ایک (سنہرا) بچھڑا نکال کر لایا۔ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔

Verse 88 — Surah Ta-Ha 20:88

تو لوگوں سے کہا یہی تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا بھی جسے وہ بھول گئے ہیں۔

Verse 89 — Surah Ta-Ha 20:89

کیا وہ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ وہ (گؤ سالہ) ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ہی وہ ان کو نقصان یا نفع پہنچانے کا کوئی اختیار رکھتا ہے۔

Verse 90 — Surah Ta-Ha 20:90

اور ہارون نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم! تم اس (گو سالہ) کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے ہو۔ اور یقیناً تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے سو تم میری پیروی کرو۔ اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔

Verse 91 — Surah Ta-Ha 20:91

مگر قوم نے کہا کہ ہم تو برابر اس کی عبادت پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف آجائیں۔

Verse 92 — Surah Ta-Ha 20:92

موسیٰ نے کہا اے ہارون! جب تم نے دیکھا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں۔

Verse 93 — Surah Ta-Ha 20:93

تو تمہیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ہے؟

Verse 94 — Surah Ta-Ha 20:94

ہارون نے کہا: اے میرے ماں جائے! میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑئیے! مجھے تو یہ ڈر تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا۔ اور میری بات کا خیال نہیں کیا (یا میرے حکم کا انتظار نہ کیا؟)۔

Verse 95 — Surah Ta-Ha 20:95

(بعد ازاں) کہا اے سامری! تیرا کیا معاملہ ہے؟

Verse 96 — Surah Ta-Ha 20:96

اس نے کہا کہ میں نے ایک ایسی چیز دیکھی جو اور لوگوں نے نہیں دیکھی تو میں نے (خدا کے) فرستادہ کے نقش قدم سے ایک مٹھی (خاک) اٹھا لی۔ اور اسے (اس گو سالہ میں) ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے یہ بات سجھائی (اور میرے لئے آراستہ کر دی)۔

Verse 97 — Surah Ta-Ha 20:97

موسیٰ نے کہا جا چلا جا! تیرے لئے اس زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ تو کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے (کہ میں اچھوت ہوں) اور تیرے لئے (آخرت میں عذاب) کا ایک وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں ہے۔ اور اب دیکھ اپنے اس معبود کو جس کی پرستش پر تو جما بیٹھا رہا۔ ہم (پہلے) اسے جلائیں گے اور پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں بہائیں گے۔

Verse 98 — Surah Ta-Ha 20:98

اے لوگو! تمہارا الٰہ تو بس اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ اور وہ ہر چیز کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے۔

Verse 99 — Surah Ta-Ha 20:99

(اے رسول) ہم اسی طرح گزرے ہوئے واقعات کی کچھ خبریں آپ سے بیان کرتے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ایک نصیحت نامہ (قرآن) عطا کیا ہے۔

Verse 100 — Surah Ta-Ha 20:100

جو کوئی اس سے روگردانی کرے گا تو وہ قیامت کے دن (اپنے اس جرم کا) بوجھ خود اٹھائے گا۔

Verse 101 — Surah Ta-Ha 20:101

ایسے لوگ ہمیشہ اسی حالت میں گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بوجھ بڑا برا بوجھ ہوگا۔

Verse 102 — Surah Ta-Ha 20:102

جس دن صور پھونکا جائے گا تو ہم مجرموں کو اس طرح محشور کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔

Verse 103 — Surah Ta-Ha 20:103

وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ تم (دنیا و برزخ میں) کوئی دس دن ہی رہے ہوگے۔

Verse 104 — Surah Ta-Ha 20:104

ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان کا سب سے زیادہ صائب الرائے یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن رہے ہو۔

Verse 105 — Surah Ta-Ha 20:105

اے رسول(ص)) لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ (قیامت کے دن کہاں جائیں گے)؟ تو آپ کہہ دیجئے! کہ میرا پروردگار ان کو (ریزہ ریزہ کرکے) اڑا دے گا۔

Verse 106 — Surah Ta-Ha 20:106

پھر ان کی جگہ زمین کو اس طرح چٹیل میدان بنا دے گا۔

Verse 107 — Surah Ta-Ha 20:107

کہ تم اس میں نہ کوئی ناہمواری دیکھوگے اور نہ بلندی۔

Verse 108 — Surah Ta-Ha 20:108

اس روز لوگ ایک پکارنے والے (اسرافیل) کے پیچھے اس طرح سیدھے آئیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور خدا کے سامنے اور سب آوازیں دب جائیں گی پس تم قدموں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنوگے۔

Verse 109 — Surah Ta-Ha 20:109

اس دن کوئی شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس کے جس کو خدا اجازت دے گا اور اس کے بولنے کو پسند کرے گا۔

Verse 110 — Surah Ta-Ha 20:110

جو کچھ لوگوں کے آگے ہے (آنے والے حالات) اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے (گزرے ہوئے واقعات) وہ سب کچھ جانتا ہے مگر لوگ اپنے علم سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

Verse 111 — Surah Ta-Ha 20:111

سب کے چہرے حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے اور جو شخص ظلم کا بوجھ اٹھائے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔

Verse 112 — Surah Ta-Ha 20:112

اور جو کوئی نیک کام کرے درآنحالیکہ وہ مؤمن بھی ہو تو اسے نہ ظلم و زیادتی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کمی و حق تلفی کا۔

Verse 113 — Surah Ta-Ha 20:113

اور اس طرح ہم نے اس (کتاب) کو عربی زبان میں قرآن بنا کر نازل کیا ہے اس میں وعید و تہدید بیان کی ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا وہ ان میں نصیحت پذیری پیدا کر دے۔

Verse 114 — Surah Ta-Ha 20:114

بلند و برتر ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے اور (اے پیغمبر(ص)) جب تک قرآن کی وحی آپ پر پوری نہ ہو جائے اس (کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کیجئے۔ اور دعا کیجئے کہ (اے پروردگار) میرے علم میں اور اضافہ فرما۔

Verse 115 — Surah Ta-Ha 20:115

اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم و ثبات نہ پایا۔

Verse 116 — Surah Ta-Ha 20:116

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (ع) کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ۔ (چنانچہ) ابلیس کے سوا سب سجدے میں گر گئے۔

Verse 117 — Surah Ta-Ha 20:117

سو ہم نے کہا اے آدم (ع)! یہ آپ کا اور آپ کی زوجہ کا دشمن ہے یہ کہیں آپ دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے؟ ورنہ مشقت میں پڑ جائیں گے۔

Verse 118 — Surah Ta-Ha 20:118

بیشک تم اس میں نہ کبھی بھوکے رہوگے اور نہ ننگے۔

Verse 119 — Surah Ta-Ha 20:119

اور نہ یہاں پیاسے رہوگے اور نہ دھوپ کھاؤگے۔

Verse 120 — Surah Ta-Ha 20:120

پھر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا اے آدم! کیا میں تمہیں بتاؤں ہمیشگی والا درخت اور نہ زائل ہونے والی سلطنت؟

Verse 121 — Surah Ta-Ha 20:121

پس ان دونوں نے اس (درخت) میں سے کچھ کھایا۔ تو ان پر ان کے قابل ستر مقامات ظاہر ہوگئے اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار (کے امر ارشادی) کی خلاف ورزی کی اور (اپنے مقصد میں) ناکام ہوئے۔

Verse 122 — Surah Ta-Ha 20:122

اس کے بعد ان کے پروردگار نے انہیں برگزیدہ کیا (چنانچہ) ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت بخشی۔

Verse 123 — Surah Ta-Ha 20:123

فرمایا (اب) تم زمین پر اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن ہوکر پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔

Verse 124 — Surah Ta-Ha 20:124

اور جو کوئی میری یاد سے روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگ زندگی ہوگی۔ اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا محشور کریں گے۔

Verse 125 — Surah Ta-Ha 20:125

وہ کہے گا اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے حالانکہ میں آنکھوں والا تھا؟

Verse 126 — Surah Ta-Ha 20:126

ارشاد ہوگا اسی طرح ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں اور تو نے انہیں بھلا دیا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا اور نظر انداز کر دیا جائے گا۔

Verse 127 — Surah Ta-Ha 20:127

اور جو کوئی حد سے تجاوز کرے اور اپنے پروردگار کی بات پر ایمان نہ لائے تو ہم اسے اسی طرح (دنیا میں) سزا دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا سخت اور پائیدار ہے۔

Verse 128 — Surah Ta-Ha 20:128

کیا (اس بات سے بھی) انہیں ہدایت نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلیں (ان گناہوں کی پاداش میں) ہلاک کر دیں جن کے مکانوں میں (آج) یہ چلتے پھرتے ہیں بےشک اس میں صاحبان عقل کیلئے خدا کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں۔

Verse 129 — Surah Ta-Ha 20:129

اور (اے رسول(ص)) اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور ایک (مہلت کی) مدت معین نہ ہو چکی ہوتی تو (عذاب) لازمی طور پر آچکا ہوتا۔

Verse 130 — Surah Ta-Ha 20:130

سو آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اول و آخر میں بھی اپنے پروردگار کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح کیجئے تاکہ آپ راضی ہو جائیں۔

Verse 131 — Surah Ta-Ha 20:131

اور جو کچھ ہم نے مختلف لوگوں کو آزمائش کیلئے دنیا کی زیب و زینت اور آرائش دے رکھی ہے اس کی طرف نگاہیں اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور آپ کے پروردگار کا دیا ہوا رزق بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے۔

Verse 132 — Surah Ta-Ha 20:132

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر قائم و برقرار رہیں ہم آپ سے روزی طلب نہیں کرتے۔ ہم تو خود آپ کو روزی دیتے ہیں اور انجام بخیر تو پرہیزگاری کا ہی ہے۔

Verse 133 — Surah Ta-Ha 20:133

اور یہ لوگ (اہل مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (رسول) ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کا کھلا ہوا ثبوت نہیں آیا؟

Verse 134 — Surah Ta-Ha 20:134

اور اگر ہم اس (رسول) سے پہلے انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یہ کہتے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے۔

Verse 135 — Surah Ta-Ha 20:135

آپ کہہ دیجئے! کہ ہر ایک اپنے (انجام کا) انتظار کر رہا ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں؟ اور ہدایت یافتہ کون ہیں۔