Back to Languages

Urdu - Chapter 3 - Al-Imran

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Imran 3:1

الف۔ لام۔ میم۔

Verse 2 — Surah Al-Imran 3:2

اللہ ہی (کی ذات) ہے جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ زندہ (جاوید) ہے جو (ساری کائنات کا) بندوبست کرنے والا ہے۔

Verse 3 — Surah Al-Imran 3:3

اسی نے آپ پر حق کے ساتھ وہ کتاب اتاری ہے جو اس سے پہلے موجود (آسمانی کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے۔

Verse 4 — Surah Al-Imran 3:4

اور اسی نے اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات و انجیل نازل کی۔ اور (حق و باطل کا) فیصلہ کن کلام نازل کیا۔ بلاشبہ جو لوگ آیاتِ الٰہی کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے لیے بڑا سخت عذاب ہے۔ خدا زبردست ہے (اور برائی کا) بدلہ لینے والا ہے۔

Verse 5 — Surah Al-Imran 3:5

بے شک خدا پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے زمین میں اور نہ آسمان میں۔

Verse 6 — Surah Al-Imran 3:6

وہ (خدا) وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے، تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 7 — Surah Al-Imran 3:7

وہ وہی ہے جس نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی جس میں کچھ آیتیں تو محکم ہیں۔ جو کتاب کی اصل و بنیاد ہیں اور کچھ متشابہ ہیں اب جن لوگوں کے دلوں میں کجی (ٹیڑھ) ہے۔ تو وہ فتنہ برپا کرنے اور من مانی تاویلیں کرنے کی خاطر متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ حالانکہ خدا اور ان لوگوں کے سوا جو علم میں مضبوط و پختہ کار ہیں اور کوئی ان کی تاویل (اصل معنی) کو نہیں جانتا۔ جو کہتے ہیں کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے ہیں یہ سب (آیتیں) ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت کا اثر صرف عقل والے ہی لیتے ہیں۔

Verse 8 — Surah Al-Imran 3:8

(جو دعا کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! ہمیں سیدھے راستے پر لگانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے اور ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا فرما۔ یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔

Verse 9 — Surah Al-Imran 3:9

اے ہمارے پروردگار! بے شک تو ایک دن سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے جس (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے۔ بلاشبہ خدا کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

Verse 10 — Surah Al-Imran 3:10

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا۔ اللہ کے یہاں ان کے مال اور اولاد ہرگز ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہیں۔

Verse 11 — Surah Al-Imran 3:11

ان کا حال (معاملہ بھی وہی ہے) کہ جو فرعونی گروہ اور اس سے پہلے لوگوں کا تھا کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ تو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو گرفت میں لے لیا اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

Verse 12 — Surah Al-Imran 3:12

(اے رسول!) کافروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم (اہل اسلام کے مقابلہ میں) مغلوب ہوگے اور جہنم کی طرف محشور ہوگے اور وہ کیا بری آرام گاہ ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Imran 3:13

تمہارے لیے ان دو گروہوں (کے حالات) میں جن کی (میدانِ بدر میں) مڈبھیڑ ہوئی تھی (صداقت رسول(ص) کی) ایک بڑی نشانی (معجزہ) موجود ہے۔ ایک گروہ خدا کی راہ میں جنگ کر رہا تھا۔ اور دوسرا گروہ کافر تھا جن کو (مسلمان) اپنی آنکھوں سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد سے جس کی چاہتا ہے، تائید و تقویت کرتا ہے بے شک اس (واقعہ) میں بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ نگاہ (عبرت رکھنے) والوں کے لیے۔

Verse 14 — Surah Al-Imran 3:14

لوگوں کے لیے خوش نما بنا دی گئی ہے عورتوں، بیٹوں اور ڈھیروں سونے و چاندی پر مشتمل مال کی محبت اور (عمدہ) گھوڑے، چوپائے اور کھیتی باڑی۔ یہ سب (چیزیں) دنیاوی زندگی کا اثاثہ اور متاع ہیں۔ جبکہ (آخرت کا) اچھا ٹھکانہ اور بہترین انجام خدا کے یہاں ہے۔

Verse 15 — Surah Al-Imran 3:15

اے رسول(ص)) کہو۔ کیا میں تمہیں ان سب سے بہتر چیز بتاؤں؟ جن لوگوں نے پرہیزگاری اختیار کی ان کے لئے ان کے پروردگار کے یہاں ایسے بہشت ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ان کے علاوہ) پاک و پاکیزہ بیویاں ہیں اور (سب سے بڑی نعمت) خدا کی خوشنودی ہے۔ اور خدا (اپنے) بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔

Verse 16 — Surah Al-Imran 3:16

(ان متقیوں کی صفت یہ ہے کہ) کہتے ہیں (دعا کرتے ہیں) ہمارے پروردگار! بے شک ہم ایمان لائے ہیں تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آتش دوزخ کے عذاب سے بچا۔

Verse 17 — Surah Al-Imran 3:17

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں (قول و فعل میں) سچ بولنے والے، اطاعت کرنے والے، راہِ خدا میں خیرات کرنے والے اور سحر کے وقت طلب مغفرت کرنے والے ہیں۔

Verse 18 — Surah Al-Imran 3:18

خود اللہ، اس کے ملائکہ اور صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ قائم و برقرار ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے جو زبردست، حکمت والا (دانا) ہے۔

Verse 19 — Surah Al-Imran 3:19

بے شک خدا کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے (دین حق میں) اختلاف نہیں کیا مگر اپنے پاس علم آجانے (اور اصل حقیقت معلوم ہو جانے) کے بعد۔ محض آپس کی شرارت و ضد اور ناحق کوشی کی بنا پر اور جو بھی آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرے گا تو یقینا خدا بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

Verse 20 — Surah Al-Imran 3:20

پس اگر یہ لوگ آپ سے خواہ مخواہ حجت بازی کریں۔ تو کہہ دو کہ میں نے اور میری پیروی کرنے والوں نے تو اپنا سر خدا کے سامنے جھکا دیا ہے (اپنے کو اس کے سپرد کر دیا ہے) اور اہل کتاب اور جو کسی کتاب کے پڑھنے والے نہیں ہیں سے کہو: کیا تم بھی اسلام لائے ہو؟ پس اگر انہوں نے اسلام کا اقرار کر لیا تو گویا ہدایت پا گئے اور اگر (اس سے) منہ موڑا تو آپ کا فرض تو صرف پہنچا دینا ہے (منوانا نہیں ہے)۔ اور اللہ (اپنے) بندوں کو خوب دیکھنے (اور پہچاننے والا ہے)۔

Verse 21 — Surah Al-Imran 3:21

جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کا مژدہ سناؤ۔

Verse 22 — Surah Al-Imran 3:22

یہ وہ (بدنصیب) ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت و برباد ہوگئے۔ اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے۔

Verse 23 — Surah Al-Imran 3:23

کیا تم نے ان (علماءِ یہود) کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (تورات کے علم) سے تھوڑا سا حصہ ملا ہے جب انہیں کتابِ خدا کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے اس پر ان کا ایک گروہ پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ درآنحالیکہ وہ روگردانی کرنے والے ہوتے ہیں۔

Verse 24 — Surah Al-Imran 3:24

یہ (انداز) اس لئے ہے کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ گنتی کے چند دنوں کے سوا ہمیں آتش جہنم چھوئے گی بھی نہیں۔ یہ لوگ جو افتراء پردازیاں کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ان کو دین کے بارے میں دھوکہ دیا ہے۔

Verse 25 — Surah Al-Imran 3:25

اس وقت ان کی کیا حالت ہوگی جب ہم ان کو ایک دن (بروزِ قیامت) اکٹھا کریں گے جس (کے آنے) میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 26 — Surah Al-Imran 3:26

اے رسول(ص)!) کہو: اے خدا تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے، ہر قسم کی بھلائی تیرے قبضہ میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 27 — Surah Al-Imran 3:27

تو ہی رات کو (بڑھا کر) دن میں اور دن کو (بڑھا کر) رات میں داخل کرتا ہے اور تو جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی عطا کرتا ہے۔

Verse 28 — Surah Al-Imran 3:28

(خبردار) اہل ایمان، اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست (اور سرپرست) نہ بنائیں۔ اور جو ایسا کرے گا۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق اور سروکار نہیں ہوگا۔ مگر یہ کہ تمہیں ان (کافروں) سے خوف ہو تو پھر (بقصد تقیہ اور بچاؤ) ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور خدا تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

Verse 29 — Surah Al-Imran 3:29

کہہ دیجئے! جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے، تم اسے چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو، بہرحال خدا اسے جانتا ہے۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 30 — Surah Al-Imran 3:30

اس دن کو یاد کرو جب ہر شخص اس بھلائی کو اپنے سامنے پائے گا جو اس نے کی ہوگی۔ اور برائی کو بھی (جنہیں دیکھ کر) خواہش کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے برے اعمال کے درمیان بڑا فاصلہ ہوتا۔ اور خدا تمہیں اپنی ذات (اپنے عذاب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

Verse 31 — Surah Al-Imran 3:31

(اے رسول! میری محبت کے دعویداروں سے) کہہ دیں کہ اگر تم خدا سے (سچی) محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

Verse 32 — Surah Al-Imran 3:32

کہہ دیں خدا اور رسول(ص) کی اطاعت و فرماں برداری کرو اور اگر روگردانی کریں تو بے شک خدا کافروں (نافرمانوں) کو دوست نہیں رکھتا۔

Verse 33 — Surah Al-Imran 3:33

بے شک اللہ نے آدم، نو ح، خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو سارے جہانوں سے منتخب کیا ہے۔

Verse 34 — Surah Al-Imran 3:34

جو ایک نسل ہے جن کے بعض بعض سے ہیں (یہ اولاد ہے ایک دوسرے کی) اور خدا بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 35 — Surah Al-Imran 3:35

(اس وقت کو یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اسے میں (دنیا کے کاموں سے) آزاد کرکے (خانہ کعبہ کی) جاروب کشی اور تیری عبادت کے لئے تیری بارگاہ میں نذر کرتی ہوں تو میری (نذر) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 36 — Surah Al-Imran 3:36

پھر جب اس کے یہاں وہ (بچی) پیدا ہوئی۔ تو اس نے کہا: اے میرے پروردگار! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے (میں تو یہ لڑکی جنی ہوں) حالانکہ خدا خود خوب جانتا ہے کہ وہ کیا جنی ہے۔ اور وہ جانتا ہے کہ لڑکا، لڑکی یکساں نہیں ہوتے۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم (کے شر) سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

Verse 37 — Surah Al-Imran 3:37

تو اس کے پروردگار نے اس لڑکی (مریم) کو احسن طریقہ سے قبول فرما لیا۔ اور اچھی طرح اس کی نشوونما کا انتظام کیا (یعنی) جناب زکریا کو اس کا کفیل (اور سرپرست) بنایا۔ جب بھی زکریا محرابِ عبادت میں اس (مریم) کے پاس آتے تھے تو اس کے پاس کھانے کی کوئی چیز موجود پاتے۔ (اور) پوچھتے: اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے؟ وہ جواب دیتی۔ یہ خدا کے یہاں سے آیا ہے۔ بے شک خدا جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔

Verse 38 — Surah Al-Imran 3:38

اس موقع پر زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور عرض کیا اے میرے پروردگار! مجھے اپنی طرف سے پاک و پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ بے شک تو (ہر ایک کی) دعا کا سننے والا ہے۔

Verse 39 — Surah Al-Imran 3:39

تو فرشتوں نے انہیں اس حالت میں آواز دی جب کہ وہ محراب میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ کہ خدا آپ کو یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمہ (عیسیٰ) کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ سردار، ضبط نفس کرنے والا پارسا اور نیکوکار جماعت میں سے نبی ہوگا۔

Verse 40 — Surah Al-Imran 3:40

جناب زکریا نے (یہ خوشخبری سن کر) کہا: اے پروردگار! میرے یہاں لڑکا کس طرح ہوگا جبکہ میرا بڑھاپا آگیا۔ اور میری بیوی بانجھ ہے؟ ارشاد ہوا اسی طرح (خدا) جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔

Verse 41 — Surah Al-Imran 3:41

عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے (اطمینانِ قلب) کیلئے کوئی علامت مقرر فرما فرمایا: تمہاری علامت یہ ہے کہ تم تین دن رات تک لوگوں سے اشارہ کے سوا بات نہیں کر سکوگے۔ (شکرانۂ نعمت کے طور پر) اپنے پروردگار کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور صبح و شام اسی کی تسبیح کرو۔

Verse 42 — Surah Al-Imran 3:42

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاک و پاکیزہ بنایا ہے۔ اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے برگزیدہ بنا دیا ہے۔

Verse 43 — Surah Al-Imran 3:43

اے مریم۔ اپنے پروردگار کی اطاعت کرو۔ اور سجدہ کرو۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔

Verse 44 — Surah Al-Imran 3:44

اے رسول(ص)) یہ (خبر) غیب کی خبروں میں سے ایک ہے جو وحی کے ذریعہ ہم آپ کی طرف بھیج رہے ہیں اور آپ ان (دعویداران سرپرستی) کے پاس موجود نہ تھے جب وہ (قرعہ اندازی کیلئے) اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کی کفالت کون کرے؟ اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

Verse 45 — Surah Al-Imran 3:45

اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک خدا آپ کو اپنے کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ جو دنیا و آخرت میں عزت و آبرو والا ہوگا۔ اور (خدا کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا۔

Verse 46 — Surah Al-Imran 3:46

اور وہ گہوارے میں بھی لوگوں سے باتیں کرے گا۔ اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور نیکوکاروں میں سے ہوگا۔

Verse 47 — Surah Al-Imran 3:47

(یہ بشارت سن کر) مریم نے کہا: اے میرے پروردگار! میرے یہاں بچہ کہاں سے ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی انسان (مرد) نے ہاتھ تک نہیں لگایا؟ ارشاد ہوا: بات اسی طرح ہے مگر خدا جو چاہتا ہے (بلا اسباب بھی) پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہو جا تو بس وہ ہو جاتا ہے۔

Verse 48 — Surah Al-Imran 3:48

اور خدا اس (بچہ) کو کتاب و حکمت اور توراۃ و انجیل کی تعلیم دے گا۔

Verse 49 — Surah Al-Imran 3:49

اور اسے بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنائے گا۔ (اور جب وہ مبعوث ہوگا تو کہے گا کہ) میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندہ کی صورت بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ اور میں خدا کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ اور جو کچھ تم کھاتے ہو۔ اور اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو وہ تمہیں بتاتا ہوں بے شک اس میں تمہارے لئے (خدا کی قدرت اور میری نبوت کی) بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔

Verse 50 — Surah Al-Imran 3:50

اور جو مجھ سے پہلے (توراۃ) موجود ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور (میرے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ) میں تمہارے لئے ان چیزوں میں سے بعض کو حلال کروں جو تم پر حرام تھیں۔ اور میں تمہارے پروردگار کی طرف سے اعجاز کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہوں۔ لہٰذا اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور میری اطاعت کرو۔

Verse 51 — Surah Al-Imran 3:51

بے شک اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس تم اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

Verse 52 — Surah Al-Imran 3:52

پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) کی طرف سے کفر و انکار محسوس کیا۔ تو کہا کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان (فرمانبردار) ہیں۔

Verse 53 — Surah Al-Imran 3:53

اور کہا اے ہمارے پروردگار جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول (عیسیٰ) کی پیروی اختیار کی۔ لہٰذا ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں (کے دفتر) میں درج فرما۔

Verse 54 — Surah Al-Imran 3:54

انہوں (بنی اسرائیل) نے (عیسیٰ کے خلاف) مکاری کی اور اللہ نے بھی اپنی (جوابی) تدبیر و ترکیب کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر و ترکیب کرنے والا ہے۔

Verse 55 — Surah Al-Imran 3:55

(اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا (اے عیسیٰ) میں تمہیں پورا قبض کرنے والا اور تمہیں اپنی جانب اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو کافروں پر قیامت تک غالب اور برتر کرنے والا ہوں۔ پھر تم سب کی بازگشت میری طرف ہے تو اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

Verse 56 — Surah Al-Imran 3:56

تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دوں گا۔ اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

Verse 57 — Surah Al-Imran 3:57

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو خدا ان کو پورا پورا اجر و ثواب دے گا۔ اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

Verse 58 — Surah Al-Imran 3:58

(اے رسول) یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں (کتابِ الٰہی کی) آیات ہیں (یا خدا کی قدرت اور آپ کی حقانیت کی نشانیاں ہیں) اور وہ دانائی سے لبریز تذکرے ہیں۔

Verse 59 — Surah Al-Imran 3:59

بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر حکم دیا کہ ہو جا سو وہ ہوگیا۔

Verse 60 — Surah Al-Imran 3:60

یہ بات تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔

Verse 61 — Surah Al-Imran 3:61

اے پیغمبر(ص)) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے حجت بازی کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ (یعنی ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں)۔

Verse 62 — Surah Al-Imran 3:62

(جناب عیسیٰ کی) یہ برحق سرگزشت ہے (وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں بلکہ اس کے خاص بندے ہیں) اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ توانا اور بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 63 — Surah Al-Imran 3:63

اب اس کے بعد بھی یہ لوگ انحراف کریں تو خدا مفسدین کو خوب جانتا ہے۔

Verse 64 — Surah Al-Imran 3:64

(اے رسول) کہیے اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک اور یکساں ہے (اور وہ یہ کہ) ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب (مالک و مختار) نہ بنائے۔ اور اگر یہ لوگ اس (دعوت) سے منہ موڑیں تو (اے مسلمانو) تم کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم مسلمان (خدا کے فرمانبردار و اطاعت گزار ہیں)۔

Verse 65 — Surah Al-Imran 3:65

اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں (ہم سے) حجت بازی کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں کیا تم میں اتنی بھی عقل (سمجھ) نہیں ہے۔

Verse 66 — Surah Al-Imran 3:66

تم وہی لوگ ہو۔ جو (ہم سے) ان باتوں کے بارے میں بحث و تکرار کرتے رہے جن کا تمہیں کچھ علم تھا۔ اب ان باتوں کے بارے میں کیوں حجت بازی کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں (حقیقت حال) صرف اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

Verse 67 — Surah Al-Imran 3:67

ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو نرے کھرے خالص مسلمان (خدا کے فرمانبردار بندے) تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

Verse 68 — Surah Al-Imran 3:68

بے شک تمام لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب اور زیادہ تعلق رکھنے والے وہ ہیں جنہوں نے اُن کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو (ان پر) ایمان لائے ہیں اور اللہ ایمان والوں کا ساتھی و سرپرست ہے۔

Verse 69 — Surah Al-Imran 3:69

اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکے حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو بھی گمراہ نہیں کرتے مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔

Verse 70 — Surah Al-Imran 3:70

اے اہل کتاب تم آیاتِ الٰہیہ کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم خود گواہ ہو (کہ وہ آیاتِ الٰہیہ ہیں) اور برحق ہیں۔

Verse 71 — Surah Al-Imran 3:71

اے اہل کتاب! حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈمڈ کرتے ہو؟ اور حق کو کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ حق کیا ہے)۔

Verse 72 — Surah Al-Imran 3:72

اہل کتاب کا ایک گروہ (اپنے لوگوں سے) کہتا ہے کہ جو کچھ مسلمانوں پر نازل ہوا ہے اس پر صبح کے وقت ایمان لے آؤ اور شام کے وقت انکار کر دو۔ شاید (اس ترکیب سے) وہ مسلمان (اپنے دین سے) پھر جائیں۔

Verse 73 — Surah Al-Imran 3:73

خبردار۔ صرف اسی کی بات مانو جو تمہارے دین کی پیروی کرے۔ کہہ دیجیے کہ حقیقی ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے (اور یہ اسی کی دین ہے) کہ کسی کو ویسی ہی چیز مل جائے جو (کبھی) تم کو دی گئی تھی۔ یا وہ دلیل و حجت میں تمہارے پروردگار کے ہاں تم پر غالب آجائیں۔ کہہ دیجیے کہ بے شک فضل و کرم اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ وہ بڑی وسعت والا اور بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 74 — Surah Al-Imran 3:74

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کر لیتا ہے اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔

Verse 75 — Surah Al-Imran 3:75

اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے۔ کہ اگر تم ڈھیر بھر روپیہ بھی بطور امانت اس کے پاس رکھو تو وہ تمہیں ادا کر دے گا۔ اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار (اشرفی) بھی بطور امانت رکھو تو جب تک تم اس کے سر پر کھڑے نہ رہو وہ تمہیں واپس نہیں کرے گا (یہ بدمعاملگی) اس وجہ سے ہے کہ ان کا قول ہے کہ ہم پر امیّون (ان پڑھ عربوں جوکہ اہل کتاب نہیں) کے بارے میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ منڈھتے ہیں۔

Verse 76 — Surah Al-Imran 3:76

ہاں جو شخص اپنے عہد و پیمان کو پورا کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے تو بے شک خدا پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

Verse 77 — Surah Al-Imran 3:77

جو لوگ اللہ سے کئے گئے عہد و پیمان اور قسم اقسام کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ خدا قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت) کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں کی کثافت سے) پاک کرے گا۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

Verse 78 — Surah Al-Imran 3:78

بے شک ان (اہل کتاب) سے ایک گروہ ایسا بھی ہے۔ جو اپنی زبانوں کو کتاب (توراۃ وغیرہ) کے پڑھنے میں مروڑتا ہے اور کچھ کا کچھ پڑھتا ہے تاکہ تم یہ سمجھو کہ یہ (توڑ موڑ) بھی کتاب خدا میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے۔ اور کہتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے (آیا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے یہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ باندھتا ہے۔

Verse 79 — Surah Al-Imran 3:79

کسی ایسے انسان کو یہ بات زیب نہیں دیتی جسے خدا کتاب، حکمت (یا اقتدار) اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ (میری عبادت کرو) بلکہ (وہ تو یہ کہے گا کہ) تم اللہ والے ہو جاؤ۔ اس بنا پر کہ تم کتابِ الٰہی کی تعلیم دیتے ہو۔ اور اسے پڑھتے بھی رہتے ہو۔

Verse 80 — Surah Al-Imran 3:80

اور وہ کبھی تمہیں یہ حکم نہیں دے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو اپنا پروردگار بنا لو۔ بھلا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا۔ اس کے بعد کہ تم مسلمان ہو؟ ۔

Verse 81 — Surah Al-Imran 3:81

اور (یاد کرو) جب خدا نے تمام پیغمبروں سے یہ عہد و اقرار لیا تھا کہ میں نے جو تمہیں کتاب و حکمت عطا کی ہے۔ اس کے بعد جب تمہارے پاس ایک عظیم رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیزوں (کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہو تو تم اس پر ضرور ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا ارشاد ہوا۔ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اور اس پر میرے عہد و پیمان کو قبول کرتے ہو اور یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد ہوا۔ تم سب گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔

Verse 82 — Surah Al-Imran 3:82

اب جو کوئی بھی اس (عہد) سے منہ پھیرے گا تو ایسے ہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔

Verse 83 — Surah Al-Imran 3:83

کیا وہ اللہ کے دین (اسلام) کے سوا کسی اور (دین) کو تلاش کرتے ہیں حالانکہ جو آسمانوں میں ہیں یا زمین میں ہیں سب خوشی سے یا ناخوشی سے (چار و ناچار) اسی کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور بالآخر سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

Verse 84 — Surah Al-Imran 3:84

(اے رسول) کہہ دیجئے! کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہم پر اتارا اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط پر اتارا گیا۔ اور اس پر بھی جو کچھ موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو جو کچھ ان کے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا۔ ہم (بحیثیت نبی ہونے کے) ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ اور ہم اسی (خدائے یکتا) کے مسلمان (اطاعت گزار بندے) ہیں۔

Verse 85 — Surah Al-Imran 3:85

اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین اختیار کرے گا تو اس کا دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔

Verse 86 — Surah Al-Imran 3:86

بھلا خدا ان لوگوں کو کیوں کر ہدایت دے گا (منزل مقصود پر پہنچائے گا) جو ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہوگئے۔ حالانکہ وہ گواہی دے چکے تھے کہ رسول برحق ہے۔ اور ان کے پاس آیات بینات (واضح معجزات) بھی آچکے تھے۔ بے شک خدا ظلم و جور کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

Verse 87 — Surah Al-Imran 3:87

ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ، فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔

Verse 88 — Surah Al-Imran 3:88

وہ ہمیشہ اس لعنت (پھٹکار) میں گرفتار رہیں گے۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف (کمی) کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

Verse 89 — Surah Al-Imran 3:89

مگر وہ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کر لی تو بے شک خدا بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 90 — Surah Al-Imran 3:90

بے شک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور یہی لوگ حقیقی گمراہ ہیں۔

Verse 91 — Surah Al-Imran 3:91

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر کفر ہی کی حالت میں مر گئے تو ان میں سے کسی ایک سے ساری زمین بھر سونا بطور فدیہ و معاوضہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔

Verse 92 — Surah Al-Imran 3:92

لوگو! تم ہرگز اس وقت تک نیکی (کو حاصل) نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ راہِ خدا میں خرچ نہ کرو۔ اور تم (راہِ خدا میں) جو کچھ خرچ کرتے ہو خدا اس کو خوب جانتا ہے۔

Verse 93 — Surah Al-Imran 3:93

تورات نازل ہونے سے پہلے کھانے کی سب چیزیں (جو اسلام میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں۔ سوائے اس کے جو اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر حرام کر رکھی تھی (یہود سے) کہو کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو۔

Verse 94 — Surah Al-Imran 3:94

پھر اس کے بعد جو شخص خدا پر بہتان باندھے۔ تو (سمجھ لو کہ) ایسے لوگ ہی ظالم ہیں۔

Verse 95 — Surah Al-Imran 3:95

اے رسول(ص)) کہہ دیجیے خدا نے سچ فرمایا! پس تم ملت (دین) ابراہیم کی پیروی کرو جو باطل سے کنارہ کش ہوکر صرف اللہ کا ہو رہا تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔

Verse 96 — Surah Al-Imran 3:96

بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا یقینا وہی ہے جو مکہ میں ہے بڑی برکت والا اور عالمین کے لیے مرکز ہدایت ہے۔

Verse 97 — Surah Al-Imran 3:97

اس گھر میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں (منجملہ ان کے ایک) مقام ابراہیم ہے۔ اور جو اس میں داخل ہوا اسے امن مل گیا۔ اور لوگوں پر واجب ہے کہ محض خدا کے لیے اس گھر کا حج کریں جو اس کی استطاعت (قدرت) رکھتے ہیں اور جو (باوجود قدرت) کفر کرے (انکار کرے) تو بے شک خدا تمام عالمین سے بے نیاز ہے۔

Verse 98 — Surah Al-Imran 3:98

اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! اے اہل کتاب تم آیاتِ الٰہیہ کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم جو کچھ کرتے ہو خدا اس کا گو اہ ہے (سب کچھ دیکھ رہا ہے) ۔

Verse 99 — Surah Al-Imran 3:99

کہیے۔ اے اہل کتاب! آخر تم اس شخص کو جو ایمان لانا چاہتا ہے کیوں خدا کی راہ سے روکتے ہو؟ اور چاہتے ہو کہ اس راہ (راست) کو ٹیڑھا بنا دو حالانکہ تم خود گواہ ہو (کہ سیدھی راہ یہی ہے) اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے بے خبر نہیں ہے۔

Verse 100 — Surah Al-Imran 3:100

اے ایمان والو! اگر تم نے اہل کتاب میں سے کسی گروہ کی بات مان لی تو یہ تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹا دیں گے۔

Verse 101 — Surah Al-Imran 3:101

اور بھلا تم کیوں کر کفر اختیار کر سکتے ہو۔ جبکہ تمہارے سامنے برابر خدا کی آیتیں پڑھی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے۔ اور جو شخص خدا سے وابستہ ہوگیا وہ ضرور سیدھے راستے پر لگا دیا گیا۔

Verse 102 — Surah Al-Imran 3:102

اے ایمان والو! خدا سے اس طرح ڈرو جیساکہ ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرو مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔

Verse 103 — Surah Al-Imran 3:103

اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے کہ تم آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت (فضل و کرم) سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے بھرے ہوئے گڑھے (دوزخ) کے کنارے پر کھڑے تھے جو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔

Verse 104 — Surah Al-Imran 3:104

اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو نیکی کی دعوت دے اور اچھے کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی وہ لوگ ہیں (جو دین و دنیا کے امتحان میں) کامیاب و کامران ہوں گے۔

Verse 105 — Surah Al-Imran 3:105

اور خبردار تم ان لوگوں کی طرح نہ بننا جو انتشار کا شکار ہوگئے اور کھلی ہوئی نشانیوں (دلیلوں) کے آجانے کے بعد اختلاف میں مبتلا ہوگئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

Verse 106 — Surah Al-Imran 3:106

جس دن کچھ چہرے سفید (نورانی) ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔ تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کہ تم نے ہی ایمان لانے کے بعد کفر کیا تھا؟ تو اب اپنے کفر کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔

Verse 107 — Surah Al-Imran 3:107

اور جن کے چہرے سفید (نورانی) ہوں گے وہ خدا کی رحمت میں ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

Verse 108 — Surah Al-Imran 3:108

یہ آیاتِ الٰہیہ ہیں جو ہم سچائی کے ساتھ تمہیں پڑھ کر سنا رہے ہیں کیونکہ خدا جہان والوں پر ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔

Verse 109 — Surah Al-Imran 3:109

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ سب اللہ کا ہے اور سب معاملات کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہوتی ہے۔

Verse 110 — Surah Al-Imran 3:110

تم بہترین امت ہو جسے لوگوں (کی راہنمائی) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تم اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو ایمان لائے ہیں مگر بہت سے فاسق و نافرمان ہیں۔

Verse 111 — Surah Al-Imran 3:111

یہ معمولی اذیت کے سوا ہرگز تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر یہ تم سے جنگ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی (کہیں سے) مدد نہ کی جائے گی۔

Verse 112 — Surah Al-Imran 3:112

یہ جہاں بھی پائے جائیں ان پر ذلت کی مار پڑ گئی مگر یہ کہ خدا کے کسی عہد پر یا انسانوں کے کسی معاہدہ کے سہارے کچھ پناہ مل جائے۔ اور یہ خدا کے قہر و غضب میں گھر گئے ہیں اور ان پر محتاجی کی مار پڑی یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ وہ آیاتِ الٰہی کے ساتھ کفر کرتے رہے اور ناحق نبیوں کو قتل کرتے رہے نیز اس لئے کہ (خدا کی) نافرمانی اور زیادتیاں کیا کرتے تھے۔

Verse 113 — Surah Al-Imran 3:113

یہ لوگ سب برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب میں ایسی ثابت قدم جماعت بھی ہے جو رات کے مختلف اوقات میں آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرتی ہے۔ اور سجدہ ریز ہوتی ہے۔

Verse 114 — Surah Al-Imran 3:114

اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں تیزی کرتے ہیں اور یہ لوگ نیک لوگوں میں سے ہیں۔

Verse 115 — Surah Al-Imran 3:115

یہ جو نیکی بھی کریں گے اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔ اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔

Verse 116 — Surah Al-Imran 3:116

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں ان کے اموال اور اولاد اللہ (کی گرفت) سے کچھ بھی نہیں بچا سکیں گے۔ وہ تو دوزخی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 117 — Surah Al-Imran 3:117

یہ لوگ جو کچھ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

Verse 118 — Surah Al-Imran 3:118

اے ایمان والو! اپنے (لوگوں کے) سوا دوسرے ایسے لوگوں کو اپنا جگری دوست (رازدار) نہ بناؤ جو تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ جو چیز تمہیں مصیبت و زحمت میں مبتلا کرے وہ اسے محبوب رکھتے ہیں بغض و عناد ان کے مونہوں سے ٹپکتا ہے۔ اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اگر تم عقل سے کام لو۔

Verse 119 — Surah Al-Imran 3:119

تم ایسے (سیدھے) ہو کہ تم ان سے محبت کرتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ حالانکہ تم (آسمانی) کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ (ان کی حالت یہ ہے کہ) جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غیظ و غضب سے اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اپنے غم و غصہ سے مر جاؤ۔ بے شک اللہ سینے کے اندر والی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

Verse 120 — Surah Al-Imran 3:120

جب تمہیں کوئی بھلائی چھو بھی جائے تو ان کو برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر سے کام کرو۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو ان کی ترکیبیں اور چالیں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ بے شک جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے۔

Verse 121 — Surah Al-Imran 3:121

اور وہ موقع (یاد رکھنے کے لائق ہے کہ) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور (احد کے مقام پر) مؤمنوں کو جنگی مورچوں پر بٹھا رہے تھے اور جگہ دے رہے تھے اور اللہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 122 — Surah Al-Imran 3:122

جب تم میں سے دو گروہوں نے بزدلی دکھانے کا ارادہ کیا (مگر پھر سنبھل گئے) حالانکہ اللہ ان کا حامی و مددگار تھا اور مؤمنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

Verse 123 — Surah Al-Imran 3:123

بے شک (اس سے پہلے) جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ تم (اس وقت) بہت کمزور تھے سو اللہ کی نافرمانی سے ڈرو۔ تاکہ تم شکرگزار بنو۔

Verse 124 — Surah Al-Imran 3:124

اے پیغمبر(ص)) یاد کرو۔ جب تم مؤمنوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہ بات تمہارے (اطمینان) کے لئے کافی نہیں ہے۔ کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے جو (آسمان سے) اتارے گئے ہوں۔

Verse 125 — Surah Al-Imran 3:125

ہاں کیوں نہیں! اگر تم صبر کرو اور تقویٰ الٰہی اختیار کرو۔ اور وہ (دشمن جوش میں آکر) اس وقت فوری طور پر تم پر چڑھ آئے تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔

Verse 126 — Surah Al-Imran 3:126

اللہ نے اس (غیبی امداد) کو قرار نہیں دیا۔ مگر اس لئے کہ تمہارے لئے خوشخبری ہو۔ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں اور (یہ بات تو واضح ہے کہ) مدد اور فتح و نصرت اللہ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 127 — Surah Al-Imran 3:127

(اور یہ امداد اس لئے ہے) تاکہ کافروں کے ایک بڑے حصہ کو کاٹ دے (قلع قمع کر دے) یا ان کو ایسا ذلیل کرے کہ وہ ناکام و نامراد ہوکر واپس چلے جائیں۔

Verse 128 — Surah Al-Imran 3:128

اے رسول(ص)! خدا کے امر (فیصلہ) میں تمہیں کوئی اختیار نہیں ہے (بلکہ یہ اختیار اللہ کے پاس ہے) چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے اور چاہے تو انہیں سزا دے۔ کیونکہ یہ لوگ بہرحال ظالم ہیں۔

Verse 129 — Surah Al-Imran 3:129

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

Verse 130 — Surah Al-Imran 3:130

اے ایمان والو! یہ دوگنا چوگنا بڑھتا چڑھتا سود نہ کھاؤ (اللہ کی نافرمانی) سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

Verse 131 — Surah Al-Imran 3:131

اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

Verse 132 — Surah Al-Imran 3:132

اور اللہ اور رسول(ص) کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

Verse 133 — Surah Al-Imran 3:133

اور تیزی سے دوڑو اپنے پروردگار کی طرف سے بخشش۔ اور اس کے بہشت کی طرف جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

Verse 134 — Surah Al-Imran 3:134

وہ پرہیزگار جو خوشحالی اور بدحالی (غرضیکہ ہر حال میں راہِ خدا میں مال) خرچ کرتے ہیں جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں (کے قصور) معاف کر دیتے ہیں۔ اور اللہ بھلائی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

Verse 135 — Surah Al-Imran 3:135

یہ لوگ اگر (اتفاقاً) کوئی فحش کام (کوئی بڑا برا کام) کر بیٹھیں یا کوئی عام گناہ کرکے اپنے اوپر ظلم کر گذریں تو (فوراً) اللہ کو یاد کرکے اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے۔

Verse 136 — Surah Al-Imran 3:136

اور وہ اپنے کئے پر دیدہ دانستہ اصرار نہیں کرتے ایسے لوگوں کی جزاء ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت و بخشش ہے اور وہ جنات (باغات) کہ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور کتنا اچھا صلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔

Verse 137 — Surah Al-Imran 3:137

تم سے پہلے بہت سے نمونے (اور دور) گزر چکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (احکام خداوندی) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ ۔

Verse 138 — Surah Al-Imran 3:138

یہ (عام) لوگوں کے لیے تو واضح تذکرہ اور تنبیہ ہے اور پرہیزگاروں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔

Verse 139 — Surah Al-Imran 3:139

اے مسلمانو! کمزوری نہ دکھاؤ اور غمگین نہ ہو اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب و برتر ہوگے۔

Verse 140 — Surah Al-Imran 3:140

اگر تمہیں زخم لگا ہے تو اس جیسا زخم ان لوگوں (کافروں) کو بھی (جنگ بدر میں) لگ چکا ہے۔ یہ تو ایام (زمانہ کے اتفاقات اور نشیب و فراز) ہیں جنہیں ہم لوگوں میں باری باری ادلتے بدلتے رہتے ہیں (تمہیں یہ چوٹ اس لئے لگی) کہ خدا (خالص) ایمان والوں کو جان لے۔ اور بعض کو (چھانٹ کر) شہید (گواہ) بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

Verse 141 — Surah Al-Imran 3:141

نیز اللہ اس (ابتلا و آزمائش) سے یہ چاہتا تھا کہ خالص اہل ایمان کو چھانٹ کر الگ کر دے اور کافروں کو رفتہ رفتہ مٹا دے۔

Verse 142 — Surah Al-Imran 3:142

(اے مسلمانو!) کیا تم کو یہ خیال ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہو جاؤگے حالانکہ ابھی تک اللہ نے (جانچ کر) معلوم ہی نہیں کیا کہ تم میں واقعی مجاہد کون ہیں؟ اور نہ ابھی یہ معلوم کیا ہے کہ صابر اور ثابت قدم کون ہیں؟ ۔

Verse 143 — Surah Al-Imran 3:143

اور تم لوگ موت کا سامنا کرنے سے پہلے تو اس کی بہت تمنا کیا کرتے تھے۔ لو اب تم نے اسے دیکھ لیا۔ اور اب بھی (اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو) (تو پھر اس سے کنّی کیوں کتراتے ہو؟)۔

Verse 144 — Surah Al-Imran 3:144

اور حضرت محمد (ص) نہیں ہیں مگر پیغمبر جن سے پہلے تمام پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جاؤگے اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب خدا شکرگزار بندوں کو جزا دے گا۔

Verse 145 — Surah Al-Imran 3:145

کوئی ذی روح خدا کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا موت کا وقت تو لکھا ہوا (معیّن) ہے اور جو شخص (اپنے اعمال کا) بدلہ دنیا میں چاہتا ہے تو ہم اسی (دنیا) میں دے دیتے ہیں اور جو آخرت میں بدلہ چاہتا ہے تو ہم اسے آخرت میں دیتے ہیں اور ہم عنقریب شکرگزار بندوں کو جزا (خیر) عطا کریں گے۔

Verse 146 — Surah Al-Imran 3:146

اور بہت سے ایسے نبی (گزر چکے) ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی تو اللہ کی راہ میں ان پر جو مصیبتیں پڑیں ان پر وہ نہ پست ہمت ہوئے اور نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ (دشمن کے سامنے) سرنگوں ہوئے اور اللہ صبر و تحمل رکھنے والے (ثابت قدموں) سے محبت رکھتا ہے۔

Verse 147 — Surah Al-Imran 3:147

(ایسے مواقع پر) ان کا قول اس (دعا) کے سوا کچھ نہیں تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ اور اپنے کام میں ہماری زیادتی معاف فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر فتح و نصرت عطا فرما۔

Verse 148 — Surah Al-Imran 3:148

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی صلہ عطا کیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی عنایت فرمایا۔ اور اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

Verse 149 — Surah Al-Imran 3:149

اے ایمان والو! اگر تم نے ان لوگوں کی اطاعت کی جنہوں نے کفر اختیار کیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پھیر کر لے جائیں گے اور تم بڑا خسارہ اٹھا کر واپس ہوگے۔

Verse 150 — Surah Al-Imran 3:150

(تمہیں کسی کی اطاعت کی کیا ضرورت ہے) بلکہ تمہارا حامی و سرپرست خدا ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔

Verse 151 — Surah Al-Imran 3:151

(تم پریشان نہ ہو) ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس لئے کہ انہوں نے خدائی میں ان بتوں کو شریک بنایا ہے۔ جن کے بارے میں خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور ان کا انجام جہّنم ہوگا اور وہ ظالمین کا بدترین ٹھکانہ ہے۔

Verse 152 — Surah Al-Imran 3:152

خدا نے (جنگ احد میں) اپنا وعدہ (نصرت) اس وقت سچا کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے ان (کافروں) کا قلع قمع کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی تو تم نے حکم عدولی کی۔ (یہ اس لئے کہ) تم میں کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور کچھ آخرت کے طلبگار تھے پھر اس نے تمہیں ان کے مقابلے میں پسپا کر دیا تاکہ تمہارے ایمان و اخلاص کی آزمائش کرے۔ اور (پھر بھی) تمہیں معاف کر دیا۔ اور اللہ اہل ایمان پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

Verse 153 — Surah Al-Imran 3:153

(اس وقت کو یاد کرو) جب تم بے تحاشا بھاگے چلے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ حالانکہ پیغمبر(ص) تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے۔ (تمہاری اس روش کی وجہ سے) خدا نے تمہیں ثواب کے بدلے رنج پر رنج دیا۔ تاکہ (آئندہ) جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر ملول نہ ہو اور جو مصیبت درپیش ہو اس پر رنج نہ کرو۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خوب باخبر ہے۔

Verse 154 — Surah Al-Imran 3:154

پھر اس (خدا) نے رنج و غم کے بعد نیند کی صورت میں تم پر سکون و اطمینان اتارا۔ جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی۔ اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جسے صرف اپنی جانوں کی فکر تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق زمانۂ جاہلیت والے گمان کر رہا تھا وہ کہہ رہا تھا۔ کہ آیا اس معاملہ میں ہمیں بھی کچھ اختیار ہے؟ کہہ دیجیے۔ ہر امر کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں۔ جن کا آپ سے اظہار نہیں کرتے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ میں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ کہہ دیجیے! اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی جن کے لئے قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے مقتل کی طرف نکل کر جاتے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا) کہ خدا اسے آزمائے جو کچھ تمہارے سینوں کے اندر ہے اور نکھار کے سامنے لائے اس (کھوٹ) کو جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔

Verse 155 — Surah Al-Imran 3:155

بے شک جن لوگو ں نے دو جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن پیٹھ پھرائی (اس کا سبب یہ تھا) کہ ان کی بعض بدعملیوں کے نتیجہ میں جو وہ کر بیٹھے تھے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگائے تھے اور بے شک اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ یقینا اللہ بڑا بخشنے والا نہایت بردبار ہے۔

Verse 156 — Surah Al-Imran 3:156

اے ایمان والو! کافروں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے ان بھائی بندوں کے بارے میں کہتے ہیں جو سفر میں گئے۔ یا جہاد کے لیے نکلے (اور وہاں وفات پا گئے) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ (طبعی موت) مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ یہ لوگ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ خدا اسے ان کے دلوں میں رنج و حسرت کا باعث بنا دے۔ حالانکہ اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔

Verse 157 — Surah Al-Imran 3:157

اور اگر تم راہِ خدا میں قتل کئے جاؤ۔ یا اپنی موت سے مر جاؤ۔ تو بے شک اللہ کی بخشش اور اس کی رحمت بہت ہی بہتر ہے اس (مال و دولت) سے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔

Verse 158 — Surah Al-Imran 3:158

اور تم اپنی موت مرو۔ یا قتل کئے جاؤ۔ بہرحال اللہ کے ہی حضور میں محشور کئے جاؤگے۔

Verse 159 — Surah Al-Imran 3:159

اے رسول(ص)) یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے اتنے نرم مزاج ہو۔ ورنہ اگر تم درشت مزاج اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ انہیں معاف کر دیا کریں۔ ان کے لیے دعائے مغفرت کیا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ بھی لے لیا کریں۔ مگر جب کسی کام کے کرنے کا حتمی ارادہ ہو جائے تو پھر خدا پر بھروسہ کریں بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

Verse 160 — Surah Al-Imran 3:160

اگر اللہ تمہاری مدد کرے۔ تو کوئی بھی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (مدد نہ کرے) تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے اور اہل ایمان کو صرف خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

Verse 161 — Surah Al-Imran 3:161

کسی نبی کی یہ شان اور کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو خیانت کرے گا۔ وہ اپنی خیانت کردہ چیز سمیت قیامت کے دن حاضر ہو جائے گا۔ پھر ہر ایک شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

Verse 162 — Surah Al-Imran 3:162

بھلا وہ شخص جو ہمیشہ خدا کی رضا پر چلنے والا ہو۔ وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو خدا کے غضب میں گھر گیا ہو۔ اور جس کا آخری ٹھکانہ دوزخ ہو اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟ ۔

Verse 163 — Surah Al-Imran 3:163

(ان دو قسم کے لوگوں کے) اللہ کے یہاں (مختلف درجے ہیں)۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔

Verse 164 — Surah Al-Imran 3:164

اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان پر یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا۔ جو ان کے سامنے آیات الٰہی کی تلاوت کرتا ہے۔ ان کو پاکیزہ کرتا ہے (ان کی اصلاح کرتا ہے) اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

Verse 165 — Surah Al-Imran 3:165

(اے مسلمانو! تمہارا کیا حال ہے) کہ جب تم پر (جنگ احد میں) کوئی ایسی مصیبت آپڑی جس سے دگنی مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 166 — Surah Al-Imran 3:166

اور جو دو جماعتوں کی مڈبھیڑ والے دن (جنگ احد میں) تم پر جو مصیبت آئی وہ خدا کے اذن سے آئی تاکہ اللہ دیکھ لے (مخلص) مؤمن کون ہیں۔

Verse 167 — Surah Al-Imran 3:167

اور منافق کون؟ جن سے جب کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو۔ یا (کم از کم) دفاع ہی کرو۔ تو انہوں نے کہا۔ کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ جنگ ہوگی تو تمہارے پیچھے آتے جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے اس وقت وہ بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

Verse 168 — Surah Al-Imran 3:168

یہی وہ لوگ ہیں جو خود تو (گھروں میں) بیٹھے رہے مگر اپنے (شہید ہونے والے) بھائی بندوں کے بارے میں کہا کہ اگر یہ لوگ ہماری پیروی کرتے (اور جہاد کرنے نہ جاتے) تو مارے نہ جاتے۔ (اے رسول) ان سے کہو۔ کہ اگر تم سچے ہو تو جب خود تمہاری موت آئے تو اسے ٹال کر دکھا دینا۔

Verse 169 — Surah Al-Imran 3:169

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔

Verse 170 — Surah Al-Imran 3:170

اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ اس پر خوش و خرم ہیں۔ اور اپنے ان پسماندہ گان کے بارے میں بھی جو ہنوز ان کے پاس نہیں پہنچے خوش اور مطمئن ہیں کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔ اور نہ کوئی حزن و ملال ہے۔

Verse 171 — Surah Al-Imran 3:171

وہ اللہ کے فضل و انعام پر خوش اور شاداں ہیں اور اس بات پر فرحاں ہیں کہ اللہ اہل ایمان کے اجر و ثواب کو ضائع و برباد نہیں کرتا۔

Verse 172 — Surah Al-Imran 3:172

اور جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہی۔ ان میں سے جو نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لیے بڑا اجر و ثواب ہے۔

Verse 173 — Surah Al-Imran 3:173

وہ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف بڑا لشکر جمع کیا ہے لہٰذا تم ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کارساز ہے۔

Verse 174 — Surah Al-Imran 3:174

پس یہ لوگ اللہ کی عنایت اور اس کے فضل و کرم سے اس طرح (اپنے گھروں کی طرف) لوٹے کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نے چھوا بھی نہیں تھا۔ اور وہ رضاءِ الٰہی کے تابع رہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔

Verse 175 — Surah Al-Imran 3:175

دراصل یہ تمہارا شیطان تھا جو تمہیں اپنے حوالی موالی (دوستوں) سے ڈراتا ہے۔ اور تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو۔ اگر سچے مؤمن ہو۔

Verse 176 — Surah Al-Imran 3:176

(اے رسول) وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ تمہیں غمزدہ نہ کریں یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اللہ کا ارادہ ہے کہ آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہ رکھے۔ اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

Verse 177 — Surah Al-Imran 3:177

بے شک جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب (تیار) ہے۔

Verse 178 — Surah Al-Imran 3:178

اور کافر یہ ہرگز خیال نہ کریں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں (ان کی رسی دراز رکھتے ہیں) یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے یہ ڈھیل تو ہم صرف اس لئے انہیں دے رہے ہیں کہ وہ زیادہ گناہ کر لیں۔ (آخرکار) ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

Verse 179 — Surah Al-Imran 3:179

اللہ مؤمنوں کو اس حال پر نہیں چھوڑے گا جس حال پر تم اب ہو۔ جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کرے۔ البتہ اللہ (غیب کی باتیں بتانے کے لیے) اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔ سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر تم ایمان لاؤ۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا اجر و ثواب ہے۔

Verse 180 — Surah Al-Imran 3:180

اور جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل و کرم سے (بہت کچھ) دے رکھا ہے۔ اور وہ بخل کرتے ہیں وہ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ (بخل) ان کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ ان کے لیے بہت برا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن اس مال کا طوق انہیں پہنایا جائے گا جس میں وہ بخل کر رہے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب خبردار ہے ۔

Verse 181 — Surah Al-Imran 3:181

بے شک اللہ نے ان لوگوں (یہودیوں) کا قول سن لیا ہے جنہوں نے کہا کہ خدا مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں سو ان کی یہ باتیں ہم لکھ لیں گے نیز ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا بھی لکھ لیں گے۔ اور (فیصلے کے وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ اب آتش دوزخ کا مزہ چکھو۔

Verse 182 — Surah Al-Imran 3:182

یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے (زاد سفر کے طور پر) آگے بھیجا ہے اور یقینا اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

Verse 183 — Surah Al-Imran 3:183

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد و اقرار لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں۔ جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے (غیبی) آگ آکر کھا لے۔ ان سے کہیئے۔ مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے رسول(ص) روشن نشانیاں (معجزے) لے کر اور وہ (نشانی) بھی جو تم کہتے ہو لے کر آئے۔ تو اگر تم (اس شرط میں) سچے ہو تو تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا؟ ۔

Verse 184 — Surah Al-Imran 3:184

(اے رسول) اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (آزردہ خاطر نہ ہوں) آپ سے پہلے بہت سے رسول(ص) جھٹلائے جا چکے ہیں جو معجزات، صحیفے اور روشن کتاب (آئین حیات) لے کر آئے تھے۔

Verse 185 — Surah Al-Imran 3:185

ہر جاندار نے (انجام کار) موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور تم سب کو قیامت کے دن تمہیں (اپنے اعمال کا) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا پس جو شخص (اس دن) جہنم سے بچا لیا گیا۔ اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان اور سرمایہ فریب ہے۔

Verse 186 — Surah Al-Imran 3:186

(مسلمانو) ضرور تمہیں تمہارے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمایا جائے گا اور تمہیں اہل کتاب مشرکین سے بڑي دل آزار باتیں سننا پڑیں گی۔ اور اگر تم صبر و ضبظ سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو۔ تو بے شک یہ بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔

Verse 187 — Surah Al-Imran 3:187

اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو۔ جب خدا نے اہل کتاب سے عہد و پیمان لیا تھا کہ تم اسے ضرور لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کروگے۔ اور اسے ہرگز نہیں چھپاؤگے مگر انہوں نے اسے اپنے پس پشت ڈال دیا۔ اور اس کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کرلی۔ کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

Verse 188 — Surah Al-Imran 3:188

آپ ان لوگوں کے بارے میں خیال کریں جو اپنی کارستانیوں پر اتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریف و ستائش کی جائے۔ ان کے بارے میں خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے محفوظ ہیں (نہیں بلکہ) ان کے لیے دردناک عذاب (تیار) ہے۔

Verse 189 — Surah Al-Imran 3:189

اللہ کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی حکومت (اور وہی ان کا مالک ہے) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Verse 190 — Surah Al-Imran 3:190

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کی ادل بدل میں صاحبانِ عقل کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

Verse 191 — Surah Al-Imran 3:191

جو اٹھتے، بیٹھتے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے (برابر) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں و زمین کی تخلیق و ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (اور بے ساختہ بول اٹھتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ فضول و بیکار پیدا نہیں کیا۔ تو (عبث کام کرنے سے) پاک ہے ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

Verse 192 — Surah Al-Imran 3:192

اے ہمارے پروردگار! بے شک جسے تو نے دوزخ میں داخل کر دیا اسے تو نے ذلیل و رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کے لئے کوئی یار و مددگار نہیں ہیں۔

Verse 193 — Surah Al-Imran 3:193

اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیاں مٹا اور دور فرما اور نیکوکاروں کے ساتھ ہمارا خاتمہ فرما۔

Verse 194 — Surah Al-Imran 3:194

پروردگارا! تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عطا فرما قیامت کے دن ہم کو رسوا نہ فرما تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

Verse 195 — Surah Al-Imran 3:195

سو ان کے پروردگار نے ان کی دعا و پکار کو قبول کر لیا (اور فرمایا) میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت کبھی ضائع نہیں کرتا۔ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہی تو ہو۔ سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے۔ اور میری راہ میں انہیں ایذائیں دی گئیں۔ اور (دین کی خاطر) لڑے اور مارے گئے، تو میں ان کی برائیاں مٹا دوں گا اور ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ہے اللہ کے ہاں ان کی جزا۔ اور اللہ کے پاس بہترین ثواب و جزاء ہے۔

Verse 196 — Surah Al-Imran 3:196

(اے رسول) کافروں کا مختلف شہروں میں چلنا پھرنا (اور دندناتے پھرنا) تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے۔

Verse 197 — Surah Al-Imran 3:197

یہ صرف چند روزہ فائدہ (بہار) ہے۔ پھر ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیسی بُری آرام گاہ ہے۔

Verse 198 — Surah Al-Imran 3:198

مگر وہ لوگ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا (واجبات ادا کئے اور محرمات سے اجتناب کیا) ان کے لیے ایسے بہشت ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کی طرف سے ان کی مہمان نوازی ہوگی اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے۔

Verse 199 — Surah Al-Imran 3:199

اور یقیناً اہل کتاب میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ پر اور ان باتوں پر جو ہماری طرف اور جو ان کی طرف اتاری گئی ہیں پر ایمان رکھتے ہیں اللہ کے سامنے (نیازمندی سے) جھکے ہوئے ہیں اور آیاتِ الٰہیہ کو تھوڑی قیمت پر فروخت بھی نہیں کرتے یہ وہ ہیں جن کا اجر اپنے پروردگار کے پاس ہے بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

Verse 200 — Surah Al-Imran 3:200

اے ایمان والو! صبر و تحمل سے کام لو۔ اور (کفار کے) مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ اور (خدمت دین کے لیے) کمربستہ رہو۔ تاکہ تم فوز و فلاح پاؤ (اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ)۔