Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 36 - Ya-Sin
Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink
Verse 1 — Surah Ya-Sin 36:1
یاسین(ص)۔
Verse 2 — Surah Ya-Sin 36:2
قرآنِ حکیم کی قسم۔
Verse 3 — Surah Ya-Sin 36:3
یقیناً آپ(ص) (خدا کے) رسولوں میں سے ہیں۔
Verse 4 — Surah Ya-Sin 36:4
(اور) سیدھے راستے پر ہی ہیں۔
Verse 5 — Surah Ya-Sin 36:5
(یہ قرآنِ) عزیز (غالب اور) بڑے مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔
Verse 6 — Surah Ya-Sin 36:6
تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس کے باپ دادا کو (براہِ راست کسی پیغمبر سے) ڈرایا نہیں گیا اس لئے وہ غافل ہیں۔
Verse 7 — Surah Ya-Sin 36:7
ان میں سے اکثر پر (ان کے تعصب و عناد کی وجہ سے) یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Verse 8 — Surah Ya-Sin 36:8
ہم نے (ان کے پیہم کفر و عناد کی وجہ سے گویا) ان کی گردنوں میں (گمراہی اور شیطان کی غلامی کے) طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک آگئے ہیں اس لئے وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیں (لہٰذا وہ سر جھکا نہیں سکتے)۔
Verse 9 — Surah Ya-Sin 36:9
اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کر دی ہے (اس طرح) ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے پس وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے۔
Verse 10 — Surah Ya-Sin 36:10
ان کیلئے (دونوں باتیں) برابر ہیں خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Verse 11 — Surah Ya-Sin 36:11
آپ تو صرف اس شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمن سے ڈرے پس ایسے شخص کو مغفرت (بخشش) اور عمدہ اجر کی خوشخبری دے دیں۔
Verse 12 — Surah Ya-Sin 36:12
بے شک ہم ہی مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ان کے وہ اعمال لکھ لیتے ہیں جو وہ آگے بھیج چکے ہیں اور ان کے وہ آثار بھی ثبت کرتے ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو امامِ مبین میں جمع کر دیا ہے۔
Verse 13 — Surah Ya-Sin 36:13
اور (ان کو سمجھانے کیلئے) بطورِ مثال ایک خاص بستی کا قصہ سنائیں جب ان کے پاس (ہمارے) پیغام رساں آئے۔
Verse 14 — Surah Ya-Sin 36:14
(پہلے) ہم نے ان کی طرف دو (رسول) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تیسرے (رسول) کے ساتھ تقویت دی۔ چنانچہ تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں۔
Verse 15 — Surah Ya-Sin 36:15
ان لوگوں نے کہا تم بس ہمارے ہی جیسے انسان ہو اور خدائے رحمٰن نے (تم پر) کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم بالکل جھوٹ بول رہے ہو۔
Verse 16 — Surah Ya-Sin 36:16
رسولوں(ع) نے کہا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔
Verse 17 — Surah Ya-Sin 36:17
اور ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ ہم (خدا کا پیغام) صاف صاف پہنچا دیں۔
Verse 18 — Surah Ya-Sin 36:18
تو بستی والوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اپنے لئے فالِ بد سمجھتے ہیں (کہ تمہارے آنے سے قحط پڑ گیا ہے) اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک سزا ملے گی۔
Verse 19 — Surah Ya-Sin 36:19
رسولوں نے کہا کہ تمہاری فالِ بد تو تمہارے ساتھ ہے! کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو یہ بات بدشگونی ہے)؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔
Verse 20 — Surah Ya-Sin 36:20
اور ایک شخص شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور کہا اے میری قوم! رسولوں(ع) کی پیروی کرو۔
Verse 21 — Surah Ya-Sin 36:21
ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور خود ہدایت یافتہ بھی ہیں۔
Verse 22 — Surah Ya-Sin 36:22
مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اس ہستی کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے حالانکہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
Verse 23 — Surah Ya-Sin 36:23
کیا میں اسے چھوڑ کر ایسے خداؤں کو اختیار کروں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے اور نہ ہی وہ مجھے چھڑا سکیں۔
Verse 24 — Surah Ya-Sin 36:24
(اگر میں ایسا کروں) تو میں اس وقت کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوں گا۔
Verse 25 — Surah Ya-Sin 36:25
میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں تم میری بات (کان لگا کر) سنو (اور ایمان لے آؤ)۔
Verse 26 — Surah Ya-Sin 36:26
(انجامِ کار ان لوگوں نے اس مؤمن کو سنگسار کر دیا اور اس سے) کہا گیا کہ بہشت میں داخل ہو جا۔ وہ کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔
Verse 27 — Surah Ya-Sin 36:27
کہ میرے پروردگار نے کس وجہ سے مجھے بخش دیا ہے اور مجھے معزز لوگوں میں سے قرار دیا ہے۔
Verse 28 — Surah Ya-Sin 36:28
اور ہم نے اس (کی شہادت) کے بعد نہ تو اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر اتارا اور نہ ہی ہم کو (اتنی سی بات کیلئے لشکر) اتارنے کی ضرورت تھی۔
Verse 29 — Surah Ya-Sin 36:29
وہ (سزا) تو صرف ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) تھی جس سے وہ ایک دم بجھ کر رہ گئے۔
Verse 30 — Surah Ya-Sin 36:30
افسوس ہے (ایسے) بندوں پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Verse 31 — Surah Ya-Sin 36:31
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور) وہ کبھی ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
Verse 32 — Surah Ya-Sin 36:32
(ہاں البتہ) وہ سب (ایک بار) ہماری بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے۔
Verse 33 — Surah Ya-Sin 36:33
اور (ہماری نشانیوں میں سے) ان کیلئے ایک نشانی وہ مردہ زمین ہے جسے ہم نے زندہ کر دیا اور اس سے دانہ (غلہ) نکالا جس سے وہ کھاتے ہیں۔
Verse 34 — Surah Ya-Sin 36:34
اور ہم نے اس (زمین) میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے اور اس سے چشمے جاری کر دیئے۔
Verse 35 — Surah Ya-Sin 36:35
تاکہ وہ اس کے پھلوں سے کھائیں حالانکہ یہ ان کے ہاتھوں کی کارگزاری نہیں ہے کیا یہ لوگ (اس پر بھی) شکر ادا نہیں کرتے؟
Verse 36 — Surah Ya-Sin 36:36
پاک ہے وہ ذات جس نے سب اقسام کے جوڑے جوڑے پیدا کئے ہیں خواہ (نباتات) ہو جسے زمین اگاتی ہے یا خود ان کے نفوس ہوں (بنی نوع انسان) یا وہ چیزیں ہوں جن کو یہ نہیں جانتے۔
Verse 37 — Surah Ya-Sin 36:37
اور ان کیلئے ایک نشانی رات بھی ہے جس سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو ایک دم وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔
Verse 38 — Surah Ya-Sin 36:38
اور (ایک نشانی) سورج ہے جو اپنے مقررہ ٹھکانے (مدار) کی طرف چل رہا ہے (گردش کر رہا ہے) یہ اندازہ اس (خدا) کا مقرر کیا ہوا ہے جو غالب ہے (اور) بڑا علم والا۔
Verse 39 — Surah Ya-Sin 36:39
اور (ایک نشانی) چاند بھی ہے جس کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ (آخر میں) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔
Verse 40 — Surah Ya-Sin 36:40
نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات کیلئے ممکن ہے کہ وہ دن پر سبقت لے جائے اور سب (اپنے) ایک ایک فلک (دائرہ) میں تیر رہے ہیں۔
Verse 41 — Surah Ya-Sin 36:41
اور ان کیلئے (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی (نوح(ع)) میں سوار کیا۔
Verse 42 — Surah Ya-Sin 36:42
اور ان کیلئے (خشکی اور تری) میں کشتی کی مانند اور سواریاں پیدا کی ہیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔
Verse 43 — Surah Ya-Sin 36:43
اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد رس ہو اور نہ ہی وہ چھڑائے جا سکیں۔
Verse 44 — Surah Ya-Sin 36:44
مگر یہ کہ ہماری رحمت (شاملِ حال) ہو جائے اور ایک (خاص) وقت تک بہرہ مند کرنا منظور ہو۔
Verse 45 — Surah Ya-Sin 36:45
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس (انجام و عذاب) سے جو تمہارے آگے ہے اور اس سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے کہ تم پر رحم کیا جائے (تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے)۔
Verse 46 — Surah Ya-Sin 36:46
اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی بھی ان کے پاس نہیں آتی مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں۔
Verse 47 — Surah Ya-Sin 36:47
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس سے (کچھ) راہِ خدا میں بھی خرچ کرو تو کافر اہلِ ایمان سے کہتے ہیں کیا ہم اسے کھلائیں جسے اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو۔
Verse 48 — Surah Ya-Sin 36:48
اور وہ (کافر) کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ (قیامت کا) وعدہ وعید کب پورا ہوگا؟
Verse 49 — Surah Ya-Sin 36:49
وہ صرف ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) یعنی نَفَخ صُور کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں اپنی گرفت میں لے لے گی جبکہ یہ لوگ (اپنے معاملات میں) باہم لڑ جھگڑ رہے ہوں گے۔
Verse 50 — Surah Ya-Sin 36:50
(اس وقت) وہ نہ کوئی وصیت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف واپس جا سکیں گے۔
Verse 51 — Surah Ya-Sin 36:51
اور جب (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف تیز تیز چلنے لگیں گے۔
Verse 52 — Surah Ya-Sin 36:52
(اس وقت گھبرا کر) کہیں گے ہائے افسوس! کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا؟ (جواب دیا جائے گا) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ (وعید) کیا تھا اور پیغمبروں(ع) نے بھی سچ کہا تھا۔
Verse 53 — Surah Ya-Sin 36:53
بس وہ ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) ہوگی پھر سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیئے جائیں گے۔
Verse 54 — Surah Ya-Sin 36:54
پس آج کے دن کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔
Verse 55 — Surah Ya-Sin 36:55
بے شک آج بہشتی لوگ اپنے مشغلہ میں خوش ہوں گے۔
Verse 56 — Surah Ya-Sin 36:56
وہ اور ان کی بیویاں (گھنے) سایوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
Verse 57 — Surah Ya-Sin 36:57
وہاں ان کے (کھانے پینے) کیلئے (ہر قسم کے) پھل ہوں گے اور وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔
Verse 58 — Surah Ya-Sin 36:58
(انہیں) مہربان (پروردگار) کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔
Verse 59 — Surah Ya-Sin 36:59
(ارشادِ قدرت ہوگا) اے مجرمو! الگ ہو جاؤ۔
Verse 60 — Surah Ya-Sin 36:60
اے اولادِ آدم! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا؟ کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
Verse 61 — Surah Ya-Sin 36:61
ہاں البتہ میری عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔
Verse 62 — Surah Ya-Sin 36:62
(اس کے باوجود) اس نے تم میں سے ایک کثیر گروہ کو گمراہ کر دیا کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے؟
Verse 63 — Surah Ya-Sin 36:63
یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔
Verse 64 — Surah Ya-Sin 36:64
آج اپنے کفر کی پاداش میں اس میں داخل ہو جاؤ (اور اس کی آگ تاپو)۔
Verse 65 — Surah Ya-Sin 36:65
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے اس کے بارے میں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے؟
Verse 66 — Surah Ya-Sin 36:66
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو مٹا دیتے پھر وہ راستہ کی طرف دوڑتے تو ان کو کہاں نظر آتا؟
Verse 67 — Surah Ya-Sin 36:67
اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کی جگہ پر مسخ کرکے رکھ دیتے کہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے پلٹ سکتے۔
Verse 68 — Surah Ya-Sin 36:68
اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اسے خلقت (ساخت) میں الٹ دیتے ہیں کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟
Verse 69 — Surah Ya-Sin 36:69
اور ہم نے انہیں شعر و شاعری نہیں سکھائی اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے یہ تو بس ایک نصیحت اور واضح قرآن ہے۔
Verse 70 — Surah Ya-Sin 36:70
تاکہ آپ(ص) (اس کی ذریعہ سے) انہیں ڈرائیں جو زندہ (دل) ہیں اور تاکہ کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔
Verse 71 — Surah Ya-Sin 36:71
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے (غور نہیں کرتے) کہ ہم نے ان کیلئے اپنے دست ہائے قدرت سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے (چنانچہ اب) یہ ان کے مالک ہیں۔
Verse 72 — Surah Ya-Sin 36:72
اور ہم نے ان (مویشیوں) کو ان کا مطیع کر دیا ہے پس ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔
Verse 73 — Surah Ya-Sin 36:73
اور ان کیلئے ان میں اور بھی طرح طرح کے فائدے اور پینے کی چیزیں (دودھ وغیرہ) بھی ہیں تو کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے؟
Verse 74 — Surah Ya-Sin 36:74
اور کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور خدا بنا لئے ہیں کہ شاید ان کی مدد کی جائے گی۔
Verse 75 — Surah Ya-Sin 36:75
حالانکہ وہ ان کی (کچھ بھی) مدد نہیں کر سکتے (بلکہ) وہ (کفار) ان (بتوں) کی حفاظت اور ان کے (دفاع) کیلئے حاضر باش لشکر ہیں۔
Verse 76 — Surah Ya-Sin 36:76
اے پیغمبر(ص)) ان لوگوں کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بے شک ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔
Verse 77 — Surah Ya-Sin 36:77
کیا انسان یہ نہیں دیکھتا (اس پر غور نہیں کرتا) کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے سو وہ یکایک (ہمارا) کھلا ہوا مخالف بن گیا۔
Verse 78 — Surah Ya-Sin 36:78
وہ ہمارے لئے مثالیں پیش کرتا ہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے وہ کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہو چکی ہوں؟
Verse 79 — Surah Ya-Sin 36:79
آپ(ص) کہہ دیجئے! انہیں وہی (خدا دوبارہ) زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا وہ ہر مخلوق کو خوب جانتا ہے۔
Verse 80 — Surah Ya-Sin 36:80
(خدا) جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی ہے اس سے (اور) آگ سلگاتے ہو۔
Verse 81 — Surah Ya-Sin 36:81
کیا وہ (قادرِ مطلق) جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان (لوگوں) جیسے (دوبارہ) پیدا کرے؟ ہاں وہ بڑا پیدا کرنے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
Verse 82 — Surah Ya-Sin 36:82
اس کا معاملہ تو بس یوں ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ (فوراً) ہو جاتی ہے۔
Verse 83 — Surah Ya-Sin 36:83
پس پاک ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔