Back to Languages

Urdu - Chapter 39 - Az-Zumar

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Az-Zumar 39:1

یہ کتاب (قرآن) اس خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 2 — Surah Az-Zumar 39:2

اے رسول(ص)) بے شک ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی ہے تو بس آپ اسی کی عبات کریں اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔

Verse 3 — Surah Az-Zumar 39:3

خبردار! خالص دین صرف اللہ کیلئے ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا ولی و سرپرست بنائے ہیں اور (تاویل یہ کرتے ہیں کہ) ہم ان کی صرف اسی لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ بے شک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ بے شک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا (اور) بڑا ناشکرا ہو۔

Verse 4 — Surah Az-Zumar 39:4

اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اپنا بیٹا بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کر لیتا وہ اس سے پاک ہے وہی اللہ ہے جو یکتا (اور سب پر) غالب ہے۔

Verse 5 — Surah Az-Zumar 39:5

اس نے آسمانوں اور زمین کو حق (حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو (اس طرح) مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک مقررہ مدت تک رواں دواں ہے آگاہ ہو جاؤ کہ وہ (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔

Verse 6 — Surah Az-Zumar 39:6

اس نے تم (سب) کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اسی (کی جنس) سے اس کا جوڑا (شریک حیات) پیدا کیا اور پھر تمہارے لئے (تعداد میں) چوپایوں کے آٹھ جوڑے پیدا کئے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں (تدریجاً) پیدا کرتا ہے۔ ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت تین تاریک پردوں میں یہ اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی حکومت ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے تم کدھر پھیرے جاتے ہو؟

Verse 7 — Surah Az-Zumar 39:7

اگر تم کفر (انکار و ناشکری کرو) تو بے شک وہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کیلئے (ناشکراپن) پسند نہیں کرتا اور اللہ کا تم شکر ادا کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور پھر تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو بے شک وہ سینوں کے رازوں کو جاننے والا ہے۔

Verse 8 — Surah Az-Zumar 39:8

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ دل سے رجوع کرکے اپنے پروردگار کو پکارتا ہے اور پھر جب وہ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کیلئے وہ پہلے اسے پکار رہا تھا اور اللہ کیلئے ہمسر (شریک) ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستہ سے (لوگوں کو) گمراہ کرے۔ آپ(ص) کہہ دیجئے! تھوڑے دن اپنے کفر (ناشکرے پن) سے فائدہ اٹھا لے (انجامِ کار) یقیناً تو دوزخ والوں سے ہے۔

Verse 9 — Surah Az-Zumar 39:9

بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں کبھی سجدہ کرکے اور کبھی قیام کرکے خدا کی عبادت کرتا ہے اور (اس کے باوجود) آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے؟ (تو کیا وہ شخص جو ایسا نہیں ہے یکساں ہو سکتے ہیں؟) کہیے کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ بے شک نصیحت تو صرف صاحبانِ عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔

Verse 10 — Surah Az-Zumar 39:10

کہہ دیجئے! اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے پروردگار (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ (اور یاد رکھو) جو لوگ اس دنیا میں نیک عمل کرتے ہیں ان کیلئے (آخرت میں) نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین وسیع (کشادہ) ہے بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

Verse 11 — Surah Az-Zumar 39:11

کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اس کیلئے خالص کرکے (مکمل اخلاص کے ساتھ) اس کی عبادت کروں۔

Verse 12 — Surah Az-Zumar 39:12

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب مسلمانوں سے پہلے مسلمان ہوں۔

Verse 13 — Surah Az-Zumar 39:13

کہئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن (قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

Verse 14 — Surah Az-Zumar 39:14

آپ(ص) کہئے کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اسی کیلئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے۔

Verse 15 — Surah Az-Zumar 39:15

تم اس کے سوا جن کی چاہو عبادت (کرو) نیز کہہ دیجئے کہ اصلی خسارے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں میں ڈالا آگاہ ہو جاؤ کہ یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔

Verse 16 — Surah Az-Zumar 39:16

ان (بدبختوں) کیلئے ان کے اوپر بھی آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی یہی وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! مجھ سے ڈرو۔

Verse 17 — Surah Az-Zumar 39:17

اور جن (خوش بخت) لوگوں نے طاغوت (معبودانِ باطل) کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے خوشخبری ہے (اے نبی(ص)) میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو۔

Verse 18 — Surah Az-Zumar 39:18

جو (ہر کہنے والے کی) بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے اور یہی صاحبانِ عقل ہیں۔

Verse 19 — Surah Az-Zumar 39:19

بھلا جس پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا تو کیا آپ اسے چھڑا سکتے ہیں جو (دوزخ کی) آگ میں ہیں۔

Verse 20 — Surah Az-Zumar 39:20

البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کیلئے ایسے بالا خانے ہیں کہ جن کے اوپر اور بالا خانے بنے ہوئے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی (اپنے) وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

Verse 21 — Surah Az-Zumar 39:21

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور پھر زیرِ زمین اس کے چشمے جاری کر دیتا ہے پھر اس سے مختلف قسم کی رنگ برنگی کھیتیاں برآمد کرتا ہے پھر وہ (پک کر) خشک ہونے لگتی ہیں تم انہیں زرد دیکھتے ہو پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں صاحبانِ عقل کیلئے نصیحت ہے۔

Verse 22 — Surah Az-Zumar 39:22

کیا وہ شخص جس کے سینہ کو اللہ نے (قبولِ) اسلام کیلئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (ہدایت) پر ہے (قسی القلب لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے) بربادی ہے ان کیلئے جن کے دل ذکرِ خدا سے سخت ہوگئے ہیں یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔

Verse 23 — Surah Az-Zumar 39:23

اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی جاتی ہیں اس (کے پڑھنے) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم (مائل) ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعہ سے وہ جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اس کیلئے کوئی راہنما نہیں۔

Verse 24 — Surah Az-Zumar 39:24

بھلا وہ (احمق) شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرہ سے اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچاتا ہے؟ (اس عذاب سے محفوظ شخص کی مانند ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ (آج) مزہ چکھو اس کمائی کا جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 25 — Surah Az-Zumar 39:25

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے (حق کو) جھٹلایا آخر ان پر وہاں سے عذاب آیا جدھر سے ان کو خیال نہ تھا۔

Verse 26 — Surah Az-Zumar 39:26

تو خدا نے ان کو اس دنیاوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتے۔

Verse 27 — Surah Az-Zumar 39:27

اور بے شک ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں پیش کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

Verse 28 — Surah Az-Zumar 39:28

یہ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کَجی نہیں ہے تاکہ وہ (ڈریں) پرہیزگاری اختیار کریں۔ اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایک غلام ہے جس کے کئی بد اخلاق مالک ہیں اور ایک دوسرا شخص ہے جو پورا ایک مالک کا ہے (ان دونوں) کا حال یکساں ہے؟ الحمد ﷲ! مگر اکثر لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔

Verse 29 — Surah Az-Zumar 39:29

اے پیغمبر(ص)) بے شک آپ نے بھی مرنا ہے اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔

Verse 30 — Surah Az-Zumar 39:30

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔

Verse 31 — Surah Az-Zumar 39:31

پس اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے اور جب سچائی اس کے پاس آئے تو وہ اسے جھٹلائے۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے؟

Verse 32 — Surah Az-Zumar 39:32

اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی تو یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔

Verse 33 — Surah Az-Zumar 39:33

ان کیلئے پروردگار کے پاس وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے یہ نیکوکاروں کی جزا ہے۔

Verse 34 — Surah Az-Zumar 39:34

تاکہ اللہ ان کے بدترین اعمال کو معاف کرے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا عطا فرمائے۔

Verse 35 — Surah Az-Zumar 39:35

کیا اللہ اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں ہے؟ اور یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔

Verse 36 — Surah Az-Zumar 39:36

اور جسے خدا ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے۔

Verse 37 — Surah Az-Zumar 39:37

کیا اللہ زبردست (اور) انتقام لینے والا نہیں ہے؟

Verse 38 — Surah Az-Zumar 39:38

اور اگر آپ(ص) اُن سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ یقینا کہیں گے کہ اللہ نے آپ(ص) کہیے! تمہارا کیا خیال ہے؟ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی جانب سے نقصان کو دور کر دیں گے؟ یا اگر اللہ مجھ پر کچھ رحمت کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟ بس آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔ بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

Verse 39 — Surah Az-Zumar 39:39

آپ(ص) کہہ دیجئے! اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اپنے طریقہ پر) کام کئے جاؤ۔ میں اپنا کام کرتا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

Verse 40 — Surah Az-Zumar 39:40

کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے؟

Verse 41 — Surah Az-Zumar 39:41

اے رسول(ص)) بیشک ہم نے یہ کتاب سب انسانوں (کی ہدایت) کیلئے حق کے ساتھ آپ(ص) پر اتاری ہے جو ہدایت حاصل کرے گا تو وہ اپنے لئے کرے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا آپ(ص) ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

Verse 42 — Surah Az-Zumar 39:42

اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جن کی موت (ابھی) نہیں آئی (تو ان کی روحیں) نیند کے وقت قبض کرتا ہے پھر جن (روحوں کی) موت کا فیصلہ کرتا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت تک چھوڑ دیتا ہے۔ بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے (قدرتِ خدا کی) نشانیاں ہیں۔

Verse 43 — Surah Az-Zumar 39:43

کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شفیع (سفارشی) بنا رکھا ہے آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اگرچہ وہ (سفارشی) نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ ہی عقل و شعور رکھتے ہوں؟

Verse 44 — Surah Az-Zumar 39:44

آپ(ص) کہہ دیجئے کہ شفاعت پوری کی پوری اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے (اور) اسی کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔

Verse 45 — Surah Az-Zumar 39:45

اور جب خدا کی توحید (اس کی وحدت و یکتائی) کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے دوسرے (مزعومہ شرکاء) کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔

Verse 46 — Surah Az-Zumar 39:46

آپ(ص) کہہ دیجئے! اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) اے غائب و حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ان چیزوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔

Verse 47 — Surah Az-Zumar 39:47

اور جن لوگوں نے (کفر و شرک کرکے) ظلم کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنی اور بھی تو وہ یہ سب کچھ قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کیلئے فدیہ دے دیں اور (اس دن) اللہ کی طرف سے وہ کچھ ظاہر ہوگا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔

Verse 48 — Surah Az-Zumar 39:48

اور وہاں ان پر ان کی کمائی کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Verse 49 — Surah Az-Zumar 39:49

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اسے اپنی جانب سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر دی گئی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

Verse 50 — Surah Az-Zumar 39:50

ایسی بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے تھے تو (ہماری گرفت کے وقت) ان کی کوئی کمائی ان کے کام نہ آئی۔

Verse 51 — Surah Az-Zumar 39:51

تو انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اس کے برے نتائج ان تک پہنچے اور جو ان لوگوں میں سے ظالم ہیں ان تک بھی۔ ان کی برائی کے برے نتائج پہنچیں گے اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے۔

Verse 52 — Surah Az-Zumar 39:52

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے (قدرت کی) بڑی نشانیاں ہیں۔

Verse 53 — Surah Az-Zumar 39:53

آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ پر گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ سب گناہوں کو بخش دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 54 — Surah Az-Zumar 39:54

اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

Verse 55 — Surah Az-Zumar 39:55

اور اس بہترین کلام و پیغام کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے پیشتر اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

Verse 56 — Surah Az-Zumar 39:56

مبادا کوئی شخص یہ کہے ہائے افسوس! میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں شامل رہا۔

Verse 57 — Surah Az-Zumar 39:57

یا کوئی یہ کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔

Verse 58 — Surah Az-Zumar 39:58

یا کوئی عذاب دیکھ کر یہ کہے کاش مجھے ایک بار (دنیا میں دوبارہ جانے کا) موقع ملتا تو میں بھی نیکوکاروں میں سے ہو جاتا۔

Verse 59 — Surah Az-Zumar 39:59

ہاں (کیوں نہیں) تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں مگر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔

Verse 60 — Surah Az-Zumar 39:60

اور قیامت کے دن تم دیکھوگے کہ جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟

Verse 61 — Surah Az-Zumar 39:61

اور اللہ متقیوں کو ان کی کامیابی کی وجہ سے اس طرح نجات دے گا کہ انہیں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 62 — Surah Az-Zumar 39:62

اور وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔

Verse 63 — Surah Az-Zumar 39:63

اور آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Verse 64 — Surah Az-Zumar 39:64

آپ(ص) کہہ دیجئے! اے جاہلو! کیا تم (پھر بھی) مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو؟

Verse 65 — Surah Az-Zumar 39:65

بیشک آپ(ص) کی طرف بھی وحی کی جا چکی ہے اور ان (انبیاء(ع)) کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرضِ محال) آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہو جائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

Verse 66 — Surah Az-Zumar 39:66

اے نبی(ص)) بلکہ آپ بس اللہ ہی کی عبادت کیجئے اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جائیے۔

Verse 67 — Surah Az-Zumar 39:67

اور ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح کہ اس کی قدر کرنی چاہیے تھی۔ حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سب آسمان بھی اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ پاک ہے اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں۔

Verse 68 — Surah Az-Zumar 39:68

اور (پہلی بار) صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں وہ بھی اور جو زمین میں وہ بھی سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ چاہے گا (وہ بے ہوش نہیں ہوں گے) پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم کھڑے ہوکر (ِادھر اُدھر) دیکھنے لگیں گے۔

Verse 69 — Surah Az-Zumar 39:69

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور نامۂ اعمال رکھ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 70 — Surah Az-Zumar 39:70

اور ہر شخص نے جو کچھ عمل کیا ہوگا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگ جو کچھ کرتے ہیں ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

Verse 71 — Surah Az-Zumar 39:71

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ (اس خدائی فیصلہ کے بعد) جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہی میں سے کچھ رسول(ع) نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے وہ (جواب میں) کہیں گے کہ ہاں (آئے تو تھے) لیکن (ہم نے نہ مانا کیونکہ) کافروں پر عذاب کا فیصلہ ہو چکا تھا۔

Verse 72 — Surah Az-Zumar 39:72

(پھر ان سے) کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ رہنے کیلئے کتنا برا ٹھکانا ہے متکبروں کا۔

Verse 73 — Surah Az-Zumar 39:73

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے تھے وہ گروہ در گروہ بہشت کی طرف لے جائے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھولے جا چکے ہوں گے اور اس کے نگہبان ان سے کہیں گے سلامٌ علیکم (سلام ہو تم پر) تم پاک ہو! اب تم اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے کیلئے۔

Verse 74 — Surah Az-Zumar 39:74

اور وہ کہیں گے کہ سب تعریف (اور شکر) ہے اس خدا کا جس نے ہم سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں (اس) زمین کا وارث بنایا کہ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں رہیں گے۔ کتنا اچھا صلہ ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا۔

Verse 75 — Surah Az-Zumar 39:75

اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ عرش (الٰہی) کے اردگرد اپنے پروردگار کی تسبیح (تقدیس) کر رہے ہوں گے اور ان (لوگوں) کے درمیان حق (و انصاف) کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ہر قِسم کی تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔