Back to Languages

Urdu - Chapter 4 - An-Nisa

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah An-Nisa 4:1

(اے انسانو!) اپنے اس پروردگار سے ڈرو۔ جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اسی سے (اس کی جنس سے) پیدا کیا اور پھر انہی دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ اور رشتہ قرابت کے بارے میں بھی ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر حاضر و ناظر ہے۔

Verse 2 — Surah An-Nisa 4:2

اور یتیموں کے مال ان کے سپرد کرو۔ اور پاک مال کے بدلے ناپاک مال حاصل نہ کرو۔ اور ان کے مالوں کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

Verse 3 — Surah An-Nisa 4:3

اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوگے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو، تین تین، چار چار سے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے ساتھ) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی (بیوی) کرو۔ یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں (ان پر اکتفا کرو) یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بے انصافی نہ کرو۔ (ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ)۔

Verse 4 — Surah An-Nisa 4:4

اور عورتوں کے حق مہر خوشدلی سے ادا کرو اور اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے تمہیں بخش دیں تو تم اسے شوق سے کھا سکتے ہو۔

Verse 5 — Surah An-Nisa 4:5

اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہاری زندگی کا سامان اور اسے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے ناسمجھ لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں البتہ ان کو (کھانا و طعام) کھلاؤ اور (کپڑا) پہناؤ اور ان سے اچھی گفتگو کرو۔

Verse 6 — Surah An-Nisa 4:6

اور یتیموں کی جانچ پڑتال کرتے رہو۔ یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر تک پہنچ جائیں اور تم ان میں اہلیت و سمجھداری بھی پاؤ تو پھر ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔ اور فضول خرچی سے کام لے کر اور اس جلد بازی میں کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں ان کا مال مت کھاؤ۔ اور جو سرپرست مالدار ہو تو اسے تو بہرحال ان کے مال سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ اور جو نادار ہو اسے معروف (مناسب) طریقہ سے کھانا چاہیے۔ پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرو۔ تو ان لوگوں کو گواہ بنا لو۔ اور یوں تو حساب کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔

Verse 7 — Surah An-Nisa 4:7

مردوں کے لیے اس ترکہ سے حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس ترکہ سے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جائیں خواہ وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ (خدا کی طرف سے) لازمی مقرر ہے۔

Verse 8 — Surah An-Nisa 4:8

اور جب تقسیم کے موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس (مال) میں سے کچھ دے دو اور ان سے درست اور مناسب طریقہ سے بات کرو۔

Verse 9 — Surah An-Nisa 4:9

اور ترکہ تقسیم کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس و کمزور بچے چھوڑ جاتے۔ تو انہیں ان کی کس قدر فکر ہوتی۔ لہٰذا وہ دوسروں کے یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈریں اور بالکل درست اور سیدھی بات کریں

Verse 10 — Surah An-Nisa 4:10

بے شک جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے (واصل جہنم ہوں گے۔)

Verse 11 — Surah An-Nisa 4:11

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ برابر ہے دو لڑکیوں کے اب اگر لڑکیاں ہی وارث ہوں اور ہوں بھی دو سے اوپر تو ان کو دو تہائی ترکہ دیا جائے گا اور ایک لڑکی (وارث) ہو تو اسے آدھا ترکہ دیا جائے گا۔ اور اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے ترکہ کا چھٹا حصہ ہوگا (اور باقی اولاد کا) اور اگر بے اولاد ہو۔ اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا (باقی ۳/۲ باپ کو ملے گا) اور اگر اس (مرنے والے) کے بھائی (بہن) ہوں تو پھر اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی ۶/۵ بہن بھائیوں کو ملے گا) مگر یہ تقسیم اس وقت ہوگی، جب میت کی وصیت پوری کر دی جائے۔ جو وہ کر گیا ہو اور اس کا قرضہ ادا کر دیا جائے گا جو اس پر ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ یا تمہاری اولاد میں سے نفع رسانی کے لحاظ سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، یقینا اللہ بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 12 — Surah An-Nisa 4:12

اور جو ترکہ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے آدھا تمہارے لئے ہوگا اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہو تو پھر تمہیں ان کے ترکہ کا چوتھا حصہ ملے گا۔ یہ تقسیم اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی، جو انہوں نے کی ہو اور اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو ان کے ذمہ ہو۔ اور وہ (بیویاں) تمہارے ترکہ میں سے چوتھے حصہ کی حقدار ہوں گی۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے اولاد ہو تو پھر ان کا آٹھواں حصہ ہوگا اور (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی جو تم نے کی ہو اور اس قرض کو ادا کرنے کے بعد جو تم نے چھوڑا ہو۔ اور اگر میت (جس کی وراثت تقسیم کی جانے والی ہے) کلالہ ہو یعنی مرد ہو یا عورت بے اولاد ہو اور اس کے ماں باپ نہ ہوں۔ مگر بھائی بہن ہوں تو اگر اس کا صرف ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی یا بہن کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ کل ترکہ کی ایک تہائی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ مگر (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے اور قرضہ کے ادا کرنے کے بعد ہوگی جو کی گئی (جبکہ وصیت کرنے والا وارثوں کو) ضرر پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے لازمی ہدایت ہے، اور اللہ بڑے علم و حلم والا ہے۔

Verse 13 — Surah An-Nisa 4:13

یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

Verse 14 — Surah An-Nisa 4:14

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا۔ تو اللہ اسے آتش دوزخ میں داخل کرے گا۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

Verse 15 — Surah An-Nisa 4:15

اور جو تمہاری عورتوں میں سے بدکاری کریں تو ان کی بدکاری پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو۔ اور اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ مقرر کرے۔

Verse 16 — Surah An-Nisa 4:16

اور تم میں سے جو دو شخص (مرد و عورت) بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

Verse 17 — Surah An-Nisa 4:17

توبہ قبول کرنے کا حق اللہ کے ذمہ صرف انہی لوگوں کا ہے جو جہالت (نادانی) کی وجہ سے کوئی برائی کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کر لیتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی توبہ خدا قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 18 — Surah An-Nisa 4:18

ان لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں ہے۔ جو (زندگی بھر) برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، اس وقت میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ان کے لیے توبہ ہے۔ جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

Verse 19 — Surah An-Nisa 4:19

اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور نہ یہ جائز ہے۔ کہ ان پر سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے (جہیز وغیرہ) انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ لے اڑو مگر یہ کہ وہ صریح بدکاری کا ارتکاب کریں (کہ اس صورت میں سختی جائز ہے) اور عورتوں کے ساتھ عمدہ طریقہ سے زندگی گزارو۔ اور اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو۔ مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

Verse 20 — Surah An-Nisa 4:20

اور اگر تم ایک بیوی کو بدل کر اس کی جگہ دوسری لانا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو (جسے فارغ کرنا چاہتے ہو) بہت سا مال دے چکے ہو۔ تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم جھوٹا الزام لگا کر اور صریح گناہ کرکے (واپس) لینا چاہتے ہو۔

Verse 21 — Surah An-Nisa 4:21

اور بھلا تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو۔ جبکہ تم (مقاربت کرکے) ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو؟ اور وہ تم سے پختہ عہد و پیمان لی چکی ہیں۔

Verse 22 — Surah An-Nisa 4:22

جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں۔ ان سے شادی (نکاح) نہ کرو۔ سوا اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ کھلی بے حیائی اور (خدا کی) ناراضی کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔

Verse 23 — Surah An-Nisa 4:23

تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (خوشدامنیں) اور تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم نے مباشرت کی ہے وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پا رہی ہیں اور اگر صرف نکاح ہوا ہے مگر مباشرت نہیں ہوئی ہے۔ تو پھر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں (بہوؤیں) اور یہ بھی حرام قرار دیا گیا کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں اکھٹا کرو۔ مگر جو پہلے ہو چکا ہے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 24 — Surah An-Nisa 4:24

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو شوہردار ہوں۔ مگر وہ ایسی عورتیں جو (شرعی جہاد میں) تمہاری ملکیت میں آئیں۔ یہ آئین ہے، اللہ کا جو تم پر لازم ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں کہ اپنے مال (حق مہر) کے عوض ان سے شادی کرلو۔ بدکاری سے بچنے اور پاکدامنی کو قائم رکھنے کے لیے اور ان عورتوں میں سے جن سے تم متعہ کرو۔ تو ان کی مقررہ اجرتیں ادا کر دو۔ اور اگر زرِ مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں (کم و بیش پر) راضی ہو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بے شک اللہ بہت جاننے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

Verse 25 — Surah An-Nisa 4:25

اور تم میں سے جو شخص مالی حیثیت سے اس کی قدرت نہ رکھتا ہو کہ وہ (خاندانی) مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کر سکے۔ تو وہ ان مسلمان لونڈیوں سے (نکاح کرلے) جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم (اسلام کی حیثیت سے) سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور بھلائی کے ساتھ ان کے حق مہر ادا کرو۔ تاکہ وہ (قید نکاح میں آکر) پاکدامن رہیں۔ اور شہوت رانی نہ کرتی پھریں۔ اور نہ ہی چوری چھپے آشنا بناتی پھریں۔ سو جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہو جائیں تو اگر اب بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں کی نصف سزا ہوگی۔ یہ رعایت (کہ خاندانی مسلمان آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو کنیز سے نکاح کرنے کا جواز) اس شخص کے لئے ہے جسے (نکاح نہ کرنے سے) بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور اگر ضبط سے کام لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 26 — Surah An-Nisa 4:26

اللہ چاہتا ہے کہ (تم سے اپنے احکام) کھول کر بیان کر دے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرے اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 27 — Surah An-Nisa 4:27

اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے مگر وہ لوگ جو خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے بھٹک کر) بہت دور نکل جاؤ۔

Verse 28 — Surah An-Nisa 4:28

اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ ہلکا کرے (کیونکہ) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

Verse 29 — Surah An-Nisa 4:29

اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔

Verse 30 — Surah An-Nisa 4:30

اور جو شخص ظلم و تعدی سے ایسا کرے گا۔ تو ہم عنقریب اسے آتش (دوزخ) میں ڈالیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔

Verse 31 — Surah An-Nisa 4:31

اگر تم ان بڑے (گناہوں) سے بچتے رہو، جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ تو ہم تمہاری (چھوٹی) برائیاں دور کر دیں گے (معاف کر دیں گے) اور تمہیں ایک معزز (جنت) میں داخل کریں گے۔

Verse 32 — Surah An-Nisa 4:32

اور اللہ نے تم سے بعض کو دوسرے بعض پر جو زیادتی (بڑائی) عطا کی ہے۔ تم اس کی تمنا نہ کرو۔ مردوں کا حصہ ہے (مال و اعمال وغیرہ سے) جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا حصہ ہے جو کچھ انہوں نے کمایا۔ اور اللہ سے اس کے فضل (مال اور اعمال وغیرہ کا) سوال کرو بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

Verse 33 — Surah An-Nisa 4:33

اور ہم نے ہر شخص کے لئے وارث مقرر کر دیئے ہیں، جو کچھ ماں، باپ اور قریب ترین رشتہ دار اور جن سے تم نے عہدوپیمان کر رکھا ہے۔ چھوڑ جائیں انہیں (وارثوں کو) ان کا حصہ دو۔ بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ (مطلع) ہے۔

Verse 34 — Surah An-Nisa 4:34

مرد عورتوں کے محافظ و منتظم (حاکم) ہیں (ایک) اس لئے کہ اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی ہے اور (دوسرے) اس لئے کہ مرد (عورتوں پر) اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ سو نیک عورتیں تو اطاعت گزار ہوتی ہیں اور جس طرح اللہ نے (شوہروں کے ذریعہ) ان کی حفاظت کی ہے۔ اسی طرح پیٹھ پیچھے (شوہروں کے مال اور اپنی ناموس کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ عورتیں جن کی سرکشی کا تمہیں اندیشہ ہو انہیں (نرمی سے) سمجھاؤ (بعد ازاں) انہیں ان کی خواب گاہوں میں چھوڑ دو اور (آخرکار)۔ انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف کوئی اور اقدام کرنے کے راستے تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ (اپنی کبریائی میں) سب سے بالا اور بڑا ہے۔

Verse 35 — Surah An-Nisa 4:35

اور اگر تمہیں دونوں (میاں بیوی) کی ناچاقی کا خوف دامنگیر ہو تو ایک ثالث مرد کے کنبے سے اور ایک ثالث عورت کے کنبے سے مقرر کرو۔ اگر دونوں اصلاح کا ارادہ کریں گے تو خدا ان دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا بڑا باخبر ہے۔

Verse 36 — Surah An-Nisa 4:36

اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پہلو میں بیٹھنے والے رفیق اور مسافر، اپنے مملوکہ (غلاموں کنیزوں) کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ بے شک اللہ مغرور و متکبر اور شیخی بگھارنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

Verse 37 — Surah An-Nisa 4:37

جو خود کنجوسی سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کرنے کا حکم (ترغیب) دیتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے دیا ہے وہ اسے چھپاتے ہیں ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

Verse 38 — Surah An-Nisa 4:38

اور جو اپنے مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں دراصل وہ خدا اور روزِ جزا پر ایمان و یقین نہیں رکھتے (اللہ ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا)۔ اور جس کا مصاحب شیطان ہو۔ وہ اس کا بہت بُرا مصاحب ہے۔

Verse 39 — Surah An-Nisa 4:39

اور ان کا کیا نقصان ہوتا اگر وہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے اور اللہ ان سے خوب واقف ہے۔

Verse 40 — Surah An-Nisa 4:40

بے شک اللہ ذرہ برابر (کسی پر) ظلم نہیں کرتا اور اگر وہ (ذرہ برابر) نیکی ہو تو اسے دوگنا (بلکہ چوگنا) کر دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔

Verse 41 — Surah An-Nisa 4:41

اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔

Verse 42 — Surah An-Nisa 4:42

اس دن کافر اور پیغمبر کے نافرمان تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین کے برابر کر دیئے جاتے۔ اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔

Verse 43 — Surah An-Nisa 4:43

اے ایمان والو۔ نماز کے قریب مت جاؤ جبکہ نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ (نشہ اتر جائے اور) تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اور نہ ہی جنابت کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ) یہاں تک کہ غسل کر لو۔ الا یہ کہ تم راستے سے گزر رہے ہو (سفر میں ہو)۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کے آئے۔ یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پھر پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ کہ (اس سے) اپنے چہروں اور ہاتھوں کے کچھ حصہ پر مسح کرلو۔ بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔

Verse 44 — Surah An-Nisa 4:44

کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) کا کچھ حصہ دیا گیا کہ وہ گمراہی خرید رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے سے بہک جاؤ۔

Verse 45 — Surah An-Nisa 4:45

اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ تمہاری کارسازی و سرپرستی اور مددگاری کے لیے کافی ہے

Verse 46 — Surah An-Nisa 4:46

یہودیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کلموں کو ان کے موقع و محل سے پھیر دیتے ہیں اور زبانوں کو توڑ موڑ کر اور دین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سمعنا و عصینا‘‘ (ہم نے سنا مگر مانا نہیں) اور ’’اسمع غیر مسمع‘‘ (اور سنو تمہاری بات نہ سنی جائے) اور ’’راعنا‘‘ (ہمارا لحاظ کرو)۔ اگر وہ اس کی بجائے یوں کہتے ’’سمعنا و اطعنا‘‘ (ہم نے سنا اور مانا) اور ‘‘اسمع‘‘ (اور سنیئے) ‘‘وانظرنا‘‘ (اور ہماری طرف دیکھئے) تو یہ ان کے لئے بہتر اور زیادہ درست ہوتا۔ مگر اللہ نے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے (اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے) اس لئے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔

Verse 47 — Surah An-Nisa 4:47

اے اہل کتاب اس (قرآن) پر (ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم کچھ چہروں کو بگاڑ دیں اور انہیں ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم نافذ ہوکر رہتا ہے۔

Verse 48 — Surah An-Nisa 4:48

یقینا اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (ہر گناہ) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بہت بڑے گناہ کے ساتھ بہتان باندھا۔

Verse 49 — Surah An-Nisa 4:49

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں (اور خود اپنی تعریف کرتے ہیں) حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے پاکیزگی عطا کرتا ہے (جس کی چاہتا ہے تعریف کرتا ہے)۔ اور ان پر سوت برابر (ذرہ برابر) ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 50 — Surah An-Nisa 4:50

دیکھو کہ یہ کس طرح خدا پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں۔ اور ان کے گنہگار ہونے کے لیے یہی کھلا ہوا گناہ کافی ہے۔

Verse 51 — Surah An-Nisa 4:51

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) سے کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ جبت (بت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان رکھتے ہیں (انہیں مانتے ہیں) اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔

Verse 52 — Surah An-Nisa 4:52

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے تم اس کا ہرگز کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔

Verse 53 — Surah An-Nisa 4:53

کیا ان کا سلطنت میں کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل بھر بھی نہ دیتے۔

Verse 54 — Surah An-Nisa 4:54

یا پھر وہ لوگوں پر اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ (اگر یہ بات ہے) تو ہم نے آلِ ابراہیم (ع) کو کتاب و حکمت عطا کی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت عطا کی۔

Verse 55 — Surah An-Nisa 4:55

پھر ان میں کچھ تو اس پر ایمان لائے اور کچھ روگردان ہوگئے اور (ایسوں کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔

Verse 56 — Surah An-Nisa 4:56

بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ) کی آگ میں جھونکیں گے۔ جب ان کی (پہلی) کھا لیں پک (جل) جائیں گی تو ہم ان کی کھالیں اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بے شک اللہ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے ۔

Verse 57 — Surah An-Nisa 4:57

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم عنقریب ان کو ان بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے وہاں پاک و پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں (اپنی رحمت) کے گنجان سایہ (گھنی چھاؤں) میں اتاریں گے۔

Verse 58 — Surah An-Nisa 4:58

(اے مسلمانو) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو ادا کرو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ بے شک اللہ تمہیں بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔

Verse 59 — Surah An-Nisa 4:59

اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمان روائی کے حقدار ہیں)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع (یا جھگڑا) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو یہ طریقہ کار تمہارے لئے اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہے۔

Verse 60 — Surah An-Nisa 4:60

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔ (اس کے باوجود) وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت کی طرف رجوع کریں۔ (غیر شرعی عدالت میں مقدمہ لے جائیں) حالانکہ انہیں اس کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بھٹکا کر گمراہی میں بہت دور لے جائے۔

Verse 61 — Surah An-Nisa 4:61

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے (قرآن) اور آؤ رسول (سنت) کی طرف تو آپ منافقین کو دیکھیں گے کہ وہ آپ سے بڑی سخت روگردانی کرتے ہیں۔

Verse 62 — Surah An-Nisa 4:62

پھر کیسی گزرتی ہے جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی (ان کے کرتوتوں کی وجہ سے) تو آپ کی خدمت میں اللہ کے نام کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو بھلائی اور (فریقین میں) مصالحت کرانا تھا۔

Verse 63 — Surah An-Nisa 4:63

یہ وہ ہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے آپ ان سے چشم پوشی کریں اور انہیں نصیحت کریں اور ان سے مؤثر باتیں کریں۔

Verse 64 — Surah An-Nisa 4:64

اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے کاش جب یہ لوگ (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے اگر آپ کے پاس آجاتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے تو یقینا اللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا مہربان پاتے۔

Verse 65 — Surah An-Nisa 4:65

نہیں۔ آپ کے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے۔ جب تک اپنے تمام باہمی جھگڑوں میں آپ کو حَکَم نہ مانیں۔ اور پھر آپ جو فیصلہ کریں (زبان سے اعتراض کرنا تو کجا) اپنے دلوں میں بھی تنگی محسوس نہ کریں اور اس طرح تسلیم کریں جس طرح تسلیم کرنے کا حق ہے۔

Verse 66 — Surah An-Nisa 4:66

اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو۔ یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ۔ تو اس پر معدودے چند لوگوں کے سوا اور کوئی عمل نہ کرتا اور اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے، جو ان کو کی جاتی ہے، تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ اور ثابت قدمی کا زیادہ موجب ہوتا۔

Verse 67 — Surah An-Nisa 4:67

اور اس وقت ہم انہیں اپنی طرف سے بڑا اجر دیتے۔

Verse 68 — Surah An-Nisa 4:68

اور انہیں سیدھے راستہ پر چلنے کی خاص توفیق عطا کرتے۔

Verse 69 — Surah An-Nisa 4:69

جو اللہ اور رسول(ص) کی اطاعت کرے گا۔ تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہ بہت اچھے رفیق ہیں۔

Verse 70 — Surah An-Nisa 4:70

یہ اللہ کا خاص فضل ہے اور اللہ کا علم کافی ہے۔

Verse 71 — Surah An-Nisa 4:71

اے ایمان والو! اپنی حفاظت کا سامان مکمل رکھو۔ ہر وقت تیار رہو پھر (موقع کی مناسبت سے) دستہ دستہ ہوکر نکلو یا اکھٹے ہوکر نکلو۔

Verse 72 — Surah An-Nisa 4:72

اور تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو پیچھے رکا رہنا پسند کرتے ہیں پس اگر تم پر کوئی مصیبت نازل ہو تو کہتا ہے کہ یہ مجھ پر اللہ کا احسان تھا کہ ان کے ساتھ حاضر نہ تھا۔

Verse 73 — Surah An-Nisa 4:73

اور اگر تم پر اللہ کا فضل و کرم ہو (فتح ہو اور مالِ غنیمت مل جائے) تو کہتا ہے جیسے اس کے اور تمہارے درمیان کبھی محبت اور دوستی تھی ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔

Verse 74 — Surah An-Nisa 4:74

اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو جنگ کرنا چاہیے جنہوں نے دنیا کی پست زندگی آخرت کے عوض فروخت کر دی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے، پھر مارا جائے یا غالب آجائے تو ہم ضرور اسے اجر عظیم عطا کریں گے۔

Verse 75 — Surah An-Nisa 4:75

آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ تم جنگ نہیں کرتے راہ خدا میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جو فریاد کر رہے ہیں۔ پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال دے۔ جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی سرپرست اور حامی و مددگار بنا۔

Verse 76 — Surah An-Nisa 4:76

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پس تم شیطان کے حوالی، موالی (حامیوں) سے جنگ کرو۔ یقینا شیطان کا مکر و فریب نہایت کمزور ہے۔

Verse 77 — Surah An-Nisa 4:77

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر جب ان پر جدال و قتال فرض کر دیا گیا۔ تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا، جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔ اور کہنے لگا پروردگار! تو نے کیوں (اتنا جلدی) ہم پر جہاد فرض کر دیا۔ اور تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہ دی؟ (اے نبی) کہہ دیجیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور جو متقی و پرہیزگار ہے اس کے لئے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر کھجور کی گھٹلی کے ریشہ برابر (ذرہ بھی) ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 78 — Surah An-Nisa 4:78

تم جہاں کہیں بھی ہوگے، موت تمہیں آئے گی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ ہو اور جب انہیں بھلائی پہنچتی ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور جب کوئی برائی اور تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ آپ کی وجہ سے ہے۔ کہہ دیجیے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھتے ہی نہیں ہیں؟ ۔

Verse 79 — Surah An-Nisa 4:79

آپ کو جو بھلائی پہنچتی ہے۔ وہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور آپ کو جو تکلیف پہنچتی ہے۔ وہ تمہاری وجہ سے ہے اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔

Verse 80 — Surah An-Nisa 4:80

اور جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے روگردانی کی، تو ہم نے آپ کو ان پر نگران و پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔

Verse 81 — Surah An-Nisa 4:81

اور وہ زبان سے اطاعت و فرمانبرداری کی لفظ کہتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں۔ تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے فرمان (یا اپنے قول و قرار کے) برعکس رات بھر تدبیریں کرتا ہے جو کچھ وہ رات کے وقت کرتے ہیں۔ اللہ وہ سب کچھ (ان کے صحیفۂ اعمال میں) لکھ رہا ہے۔ آپ ان کی طرف توجہ نہ کریں۔ اور اللہ پر توکل و بھروسہ کریں، کارسازی کے لیے اللہ کافی ہے۔

Verse 82 — Surah An-Nisa 4:82

آخر یہ لوگ قرآن میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔

Verse 83 — Surah An-Nisa 4:83

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اسے رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹاتے تو (حقیقت کو) وہ لوگ جان لیتے جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو چند آدمیوں کے سوا باقی شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے۔

Verse 84 — Surah An-Nisa 4:84

تو آپ(ص) اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ آپ پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی۔ سوائے اپنی ذات کے اور اہل ایمان کو (جہاد پر) آمادہ کریں۔ امید ہے کہ اللہ کافروں کا زور روک دے اور اللہ کا زور زبردست اور اس کی سزا بہت سخت ہے۔

Verse 85 — Surah An-Nisa 4:85

اور جو اچھی سفارش کرے گا۔ اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی بری سفارش کرے گا۔ اسے بھی اس کا حصہ (وزر و بال) ملے گا۔ اور اللہ ہر شی پر قدرت رکھنے والا ہے۔

Verse 86 — Surah An-Nisa 4:86

اور جب تمہیں سلام کیا جائے (یا کوئی تحفہ پیش کیا جائے) تو اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو۔ یا (کم از کم) اسی کو لوٹادو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا محاسبہ کرنے والا ہے۔

Verse 87 — Surah An-Nisa 4:87

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون بات میں سچا ہے۔

Verse 88 — Surah An-Nisa 4:88

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ہو۔ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے (ان کے کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اسے ہدایت دو جس سے اس کی بدعملی کی وجہ سے خدا نے توفیق ہدایت سلب کر لی ہے۔ اور جس سے اللہ توفیق ہدایت سلب کرے، تم اس کے لیے (ہدایت کا) راستہ نہیں پاؤگے۔

Verse 89 — Surah An-Nisa 4:89

وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کفر اختیار کرو جیسے انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔ تاکہ پھر تم سب برابر ہو جاؤ۔ لہٰذا تم انہیں اپنا حامی و سرپرست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور اگر وہ اس ہجرت کرنے سے روگردانی کریں تو انہیں پکڑو۔ اور جہاں کہیں انہیں پاؤ انہیں قتل کر ڈالو اور ان میں کسی کو اپنا سرپرست اور مددگار نہ بناؤ۔

Verse 90 — Surah An-Nisa 4:90

سوا ان کے جو ان لوگوں سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہے یا اس حالت میں تمہارے پاس آئیں کہ ان کے سینے (دل) میں تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ جنگ کرنے سے تنگ آچکے ہوں (ایسے منافق قتل کے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں) اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ ضرور تم سے لڑتے تو پھر اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔

Verse 91 — Surah An-Nisa 4:91

عنقریب تم کچھ ایسے لوگ (منافق) پاؤگے۔ جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب وہ کبھی فتنہ و فساد کی طرف بلائے جاتے ہیں تو اندھے منہ اس میں جا پڑتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ نہ بڑھائیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو پھر انہیں پکڑو۔ اور جہاں کہیں انہیں پاؤ۔ قتل کرو۔ یہی وہ لوگ ہیں! جن پر ہم نے تمہیں کھلا غلبہ عطا کیا ہے۔

Verse 92 — Surah An-Nisa 4:92

کسی مسلمان کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر غلطی سے۔ اور جو کوئی کسی مؤمن کو غلطی سے قتل کرے (تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ) ایک مؤمن غلام آزاد کیا جائے اور خون بہا اس کے گھر والوں (وارثوں) کو ادا کیا جائے، مگر یہ کہ وہ لوگ خود (خون بہا) معاف کر دیں۔ پھر اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو، مگر وہ خود مسلمان ہو تو پھر (اس کا کفارہ) ایک مؤمن غلام کا آزاد کرنا ہے اور اگر وہ (مقتول) ایسی (غیر مسلم) قوم کا فرد ہو جس کے اور تمہارے درمیان (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہے۔ تو (کفارہ میں) ایک خون بہا اس کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا۔ اور ایک مسلمان غلام بھی آزاد کیا جائے گا اور جس کو (غلام) میسر نہ ہو تو وہ مسلسل دو مہینے روزے رکھے گا۔ یہ اللہ کی طرف سے (اس گناہ کی) توبہ مقرر ہے۔ خدا بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 93 — Surah An-Nisa 4:93

اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا دوزخ ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔

Verse 94 — Surah An-Nisa 4:94

اے ایمان والو! جب خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو پہلے خوب تحقیق کر لیا کرو۔ اور جو تمہیں سلام کرے تم اسے نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ تم دنیاوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بڑی غنیمتیں ہیں۔ اس سے پہلے تم خود ایسے (کافر) ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا (کہ تم مسلمان ہوگئے) پس خوب تحقیق کر لیا کرو۔ یقینا اللہ اس سے باخبر ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو۔

Verse 95 — Surah An-Nisa 4:95

مسلمانوں میں سے بلا عذر گھر میں بیٹھے رہنے والے اور راہِ خدا میں مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو درجہ کے اعتبار سے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی ہے اور یوں تو اللہ نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ مگر اس نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ساتھ فضیلت دی ہے۔

Verse 96 — Surah An-Nisa 4:96

یعنی اس کی طرف سے (ان کے لئے) بڑے درجے، بخشش اور رحمت ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 97 — Surah An-Nisa 4:97

بے شک وہ لوگ جو اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ جب فرشتوں نے ان کی روحوں کو قبض کیا، تو ان سے کہا تم کس حال میں تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین میں کمزور و بے بس تھے۔ فرشتوں نے کہا کہ اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بُری جائے بازگشت ہے۔

Verse 98 — Surah An-Nisa 4:98

علاوہ ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے جن کے اختیار میں کوئی تدبیر نہ تھی اور وہ کوئی راستہ نہ نکال سکتے تھے۔

Verse 99 — Surah An-Nisa 4:99

یہی وہ لوگ ہیں جن کو عنقریب خدا معاف کر دے گا کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا بخشنے والا ہے۔

Verse 100 — Surah An-Nisa 4:100

اور جو کوئی راہِ خدا میں ہجرت کرے گا۔ وہ زمین میں بہت ہجرت گاہ، جائے پناہ اور بڑی کشائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے خدا اور رسول(ص) کی طرف ہجرت کے ارادہ سے نکلے پھر اسے موت آجائے، تو اس کا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہوگیا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

Verse 101 — Surah An-Nisa 4:101

اور جب تم زمین میں سفر کرو۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے (بلکہ واجب ہے کہ) نماز میں قصر کر دو۔ (بالخصوص) جب تمہیں خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائیں گے۔ بے شک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔

Verse 102 — Surah An-Nisa 4:102

اے رسول(ص) جب آپ(ص) ان (مسلمانوں) میں ہوں اور انہیں نماز (باجماعت) پڑھانے لگیں تو چاہیے کہ ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ اور جب یہ سجدہ کر چکیں (نماز پڑھ چکیں) تو یہ (پشت پناہی کے لیے) تمہارے پیچھے چلے جائیں اور پھر وہ دوسرا گروہ جس نے ہنوز نماز نہیں پڑھی ہے۔ آجائے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔ اور چوکنا رہے اور اپنا اسلحہ لئے رہے، کفار کی تو یہ خواہش ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سازوسامان سے (ذرا) غافل ہو جاؤ اور وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں کو رکھ دو۔ ہاں اپنی حفاظت کا خیال رکھو (چوکنا رہو) بے شک اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

Verse 103 — Surah An-Nisa 4:103

پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہوئے) اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر پابندی وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔

Verse 104 — Surah An-Nisa 4:104

اس (مخالف) جماعت کی تلاش اور تعاقب میں سستی نہ دکھاؤ۔ اگر اس میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ تو انہیں بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے۔ جس طرح تمہیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے اس چیز (ثواب) کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 105 — Surah An-Nisa 4:105

بے شک ہم نے (یہ) کتاب حق کے ساتھ آپ پر اتاری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے اور آپ خیانت کاروں کے طرفدار نہ بنیں۔

Verse 106 — Surah An-Nisa 4:106

اور اللہ سے مغفرت طلب کریں، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 107 — Surah An-Nisa 4:107

اور جو لوگ اپنی ذات سے خیانت کرتے ہیں۔ آپ ان کی وکالت نہ کریں۔ بے شک اللہ اسے دوست نہیں رکھتا، جو بڑا خیانت کار اور بڑا گنہگار ہے۔

Verse 108 — Surah An-Nisa 4:108

یہ لوگ (اپنی حرکات) لوگوں سے تو چھپا سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے، کیونکہ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ راتوں کو اس کی پسند کے خلاف گفتگوئیں (مشورے) کرتے ہیں اور وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

Verse 109 — Surah An-Nisa 4:109

(اے مسلمانو!) یہ تم ہو جو دنیاوی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑتے ہو (ان کی طرفداری کرتے ہو)۔ تو قیامت کے دن ان کی طرف سے خدا سے کون بحث کرے گا؟ یا کون ان کا وکیل (نمائندہ) ہوگا؟ ۔

Verse 110 — Surah An-Nisa 4:110

اور جو کوئی برائی کرے یا قبیح کام کرے یا کوئی اپنے اوپر ظلم کرے (گناہ کا ارتکاب کرے) پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے، تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا پائے گا۔

Verse 111 — Surah An-Nisa 4:111

اور جو گناہ کرتا ہے تو وہ اپنی ہی جان کے خلاف کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 112 — Surah An-Nisa 4:112

اور جو کوئی غلطی یا گناہ کرے یا کسی بے قصور پر تہمت لگائے، تو اس نے ایک بڑے بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے۔

Verse 113 — Surah An-Nisa 4:113

اور اگر اللہ کا فضل و کرم اور اس کی خاص رحمت آپ(ص) کے شامل حال نہ ہوتی تو ان کے ایک گروہ نے تو یہ تہیّہ کر لیا تھا کہ آپ کو گمراہ کرکے رہے گا۔ حالانکہ وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل کی ہے اور آپ کو وہ کچھ پڑھا دیا ہے۔ جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے۔

Verse 114 — Surah An-Nisa 4:114

لوگوں کی زیادہ تر سرگوشیوں میں کوئی خیر و خوبی نہیں ہے سوا اس کے کہ کوئی صدقہ دینے، نیکی کرنے یا لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے کی بات کرے اور جو شخص خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ایسا کرے ہم اسے اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔

Verse 115 — Surah An-Nisa 4:115

اور جو راہِ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اہل ایمان کے راستے کے خلاف چلے، تو ہم اسے ادھر ہی جانے دیں گے، جدھر وہ گیا ہے (ہم اسے کرنے دیں گے جو کچھ وہ کرتا ہے)۔ اور اسے آتش دوزخ کا مزا چکھائیں گے اور یہ بہت بری جاءِ بازگشت ہے۔

Verse 116 — Surah An-Nisa 4:116

بے شک اللہ اس جرم کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (جو کم درجہ کے جرائم ہیں) جس کے لئے چاہتا ہے، بخش دیتا ہے۔ اور جو کسی کو اس کا شریک ٹھرائے، وہ گمراہ ہوا (اور اس میں) بہت دور نکل گیا۔

Verse 117 — Surah An-Nisa 4:117

یہ (مشرک) لوگ اللہ کو چھوڑ کر نہیں پکارتے، مگر زنانی چیزوں (دیویوں) کو (ان کی عبادت کرتے ہیں) اور نہیں پکارتے، مگر سرکش شیطان کو (اس کی پرستش کرتے ہیں)۔

Verse 118 — Surah An-Nisa 4:118

جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے کہا کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقررہ حصہ لے کر رہوں گا۔

Verse 119 — Surah An-Nisa 4:119

اور انہیں ضرور گمراہ کروں گا اور میں انہیں مختلف آرزوؤں میں الجھاؤں گا (انہیں سبز باغ دکھاؤں گا) اور انہیں حکم دوں گا کہ وہ ضرور چوپاؤں کے کان شگافتہ کریں گے اور میں انہیں حکم دوں گا کہ وہ خدا کی خدائی ساخت کو ضرور بدل دیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنائے گا وہ کھلا ہوا نقصان اٹھائے گا۔

Verse 120 — Surah An-Nisa 4:120

وہ شیطان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں (جھوٹی) امیدیں دلاتا ہے۔ اور ان سے شیطان وعدہ نہیں کرتا مگر فریب کے طور پر۔

Verse 121 — Surah An-Nisa 4:121

یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جس سے وہ چھٹکارا کی راہ نہیں پائیں گے۔

Verse 122 — Surah An-Nisa 4:122

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم عنقریب انہیں ان بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون بات کا سچا ہے۔

Verse 123 — Surah An-Nisa 4:123

(اے مسلمانو) نہ تمہاری تمناؤں سے کچھ ہوتا ہے اور نہ اہلِ کتاب کی تمناؤں سے۔ جو بھی برائی کرے گا، اس کو اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اللہ کو چھوڑ کر اپنے لئے نہ کوئی سرپرست پائے گا اور نہ کوئی حامی و مددگار۔

Verse 124 — Surah An-Nisa 4:124

اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت درانحالیکہ وہ مؤمن ہو تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر تل برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 125 — Surah An-Nisa 4:125

اور اس شخص سے بڑھ کر کس کا دین اچھا ہوگا۔ جو اللہ کے لئے اپنا چہرہ جھکا دے (اپنے کو اللہ کے سپرد کر دے) اور وہ احسان کرنے والا ہو۔ اور اس ابراہیم حنیف کی ملت کا پیرو ہو۔ جسے اللہ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔

Verse 126 — Surah An-Nisa 4:126

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

Verse 127 — Surah An-Nisa 4:127

اے رسول! لوگ عورتوں کے معاملہ میں آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دیجیے! کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور متوجہ کرتا ہے ان آیات کی طرف جو کلام الٰہی کے اندر ہیں اور تمہیں ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں۔ جن کا تم مقررہ حق تو ادا نہیں کرتے مگر چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو۔ اور متوجہ کرتا ہے ان (آیات) کی طرف جو ان کمزور و بے بس لڑکوں کے بارے میں ہیں۔ اور جو (آیات) اس بارے میں ہیں کہ یتیم بچوں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور تم جو بھلائی کروگے تو اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے۔

Verse 128 — Surah An-Nisa 4:128

اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے حق تلفی یا بے توجہی محسوس کرے تو ان دونوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ (کچھ لو کچھ دو کی بنا پر) آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہرحال بہتر ہے اور نفوس میں بخل موجود رہتا ہے (تنگ دلی پر آمادہ رہتے ہیں) اور اگر تم بھلائی کرو۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو۔ تو بے شک اللہ تمہارے اس طرزِ عمل سے باخبر ہے۔

Verse 129 — Surah An-Nisa 4:129

یہ ٹھیک ہے کہ تم جس قدر چاہو مگر بیویوں میں پورا پورا عدل نہیں کر سکتے۔ مگر بالکل تو ایک طرف نہ جھک جاؤ۔ کہ (دوسری کو) بیچوں بیچ لٹکا چھوڑ دو۔ اور اگر تم اپنی اصلاح کر لو۔ اور تقویٰ اختیار کرو۔ تو خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 130 — Surah An-Nisa 4:130

اور اگر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنے فضل و کرم کی وسعت سے بے نیاز کر دے گا۔ اور اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے۔

Verse 131 — Surah An-Nisa 4:131

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور ہم نے ان لوگوں کو بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور تمہیں بھی ہدایت کی ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو۔ وہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے حمد و ثناء کا حقدار ہے۔

Verse 132 — Surah An-Nisa 4:132

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ سب اللہ کا ہے اور اللہ کارسازی کے لیے کافی ہے۔

Verse 133 — Surah An-Nisa 4:133

اے لوگو! اگر وہ چاہے، تو تم سب کو لے جائے (ختم کر دے) اور دوسروں کو لے آئے اور اللہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

Verse 134 — Surah An-Nisa 4:134

جو شخص صرف دنیاوی صلہ و ثواب کا طلبگار ہو (تو اس کی مرضی ورنہ) اللہ کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کا صلہ و ثواب ہے اور اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔

Verse 135 — Surah An-Nisa 4:135

اے ایمان والو! مضبوطی کے ساتھ انصاف کے علمبردار ہو جاؤ۔ اور محض اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو۔ خواہ تمہیں اپنے یا والدین کے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی گواہی دینا پڑے۔ وہ (جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے) چاہے امیر ہو چاہے فقیر ہو بہرحال اللہ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیرخواہ ہے پس اس طرح خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم نے ہیرپھیر کیا یا (حق سے) منہ موڑا تو بے شک جو کہ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

Verse 136 — Surah An-Nisa 4:136

اے ایمان والو! اللہ پر، اس کے رسول(ص) پر اور اس کی کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول(ص) پر نازل کی ہے۔ اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری ہے اور جو کوئی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا، اور آخرت کے دن کا انکار کرے۔ وہ گمراہ ہوا اور اس میں بہت دور نکل گیا۔

Verse 137 — Surah An-Nisa 4:137

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے۔ پھر کفر میں بڑھتے گئے۔ اللہ ہرگز نہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ انہیں سیدھی راہ تک پہنچائے گا۔

Verse 138 — Surah An-Nisa 4:138

منافقوں کو سنا دیجیے! کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

Verse 139 — Surah An-Nisa 4:139

وہ (منافق) جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں۔ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے (اس کے اختیار میں ہے)۔

Verse 140 — Surah An-Nisa 4:140

اور اس نے کتاب (قرآن) میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب سنو کہ (کسی جگہ) آیات الٰہیہ کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں (ورنہ) اس حالت میں تم بھی انہی جیسے ہو جاؤگے۔ بے شک خدا سب منافقوں اور سب کافروں کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے۔

Verse 141 — Surah An-Nisa 4:141

یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام) کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح و فیروزی حاصل ہوگئی تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (فتح کا) کچھ حصہ مل گیا تو (کافروں سے) کہتے ہیں۔ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے؟ اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا؟ اب اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کبھی کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔

Verse 142 — Surah An-Nisa 4:142

منافق (بزعم خود) خدا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے (انہیں ان کی دھوکہ بازی کی سزا دینے والا ہے) اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو بے دلی اور کاہلی کے ساتھ وہ بھی خلوص نیت سے نہیں بلکہ محض لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑ۔

Verse 143 — Surah An-Nisa 4:143

وہ (کفر و اسلام کے) درمیان ڈانواں ڈول ہیں نہ پورے اس طرف نہ پورے اس طرف جسے اللہ بھٹکنے دے (اس کی کج رفتاری کی وجہ سے توفیق ہدایت سلب کر لے) تو تو اس کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں پائے گا۔

Verse 144 — Surah An-Nisa 4:144

اے ایمان والو! اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو کھلی ہوئی دلیل مہیا کر دو۔

Verse 145 — Surah An-Nisa 4:145

بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے والے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ان کے کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔

Verse 146 — Surah An-Nisa 4:146

سوا ان کے جنہوں نے توبہ کی، اپنی اصلاح کرلی۔ اور اللہ سے وابستہ ہوگئے اور اللہ کے لئے اپنا دین خالص کر دیا (خلوص کے ساتھ اس کی اطاعت کرنے لگے) تو یہ لوگ مؤمنین کے ساتھ ہوں گے اور اللہ اہل ایمان کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

Verse 147 — Surah An-Nisa 4:147

اگر تم شکرگزار بن جاؤ۔ اور ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب کرکے کیا کرے گا؟ اور اللہ تو بڑا قدردان ہے (اور) بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 148 — Surah An-Nisa 4:148

اللہ علانیہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم ہوا ہو (کہ اس کے لیے ظالم کی بدگوئی جائز ہے) اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 149 — Surah An-Nisa 4:149

اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ۔ یا کسی برائی سے درگزر کرو۔ تو بے شک اللہ (بھی) بڑا معاف کرنے والا، بڑا قدرت والا ہے۔

Verse 150 — Surah An-Nisa 4:150

بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ (ایمان و کفر کے) درمیان کوئی راستہ نکالیں۔

Verse 151 — Surah An-Nisa 4:151

یہی وہ لوگ ہیں، جو حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

Verse 152 — Surah An-Nisa 4:152

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں وہ (اللہ) ان کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا۔

Verse 153 — Surah An-Nisa 4:153

آپ سے اہل کتاب مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی (لکھی ہوئی) کتاب اتروا دیں سو یہ تو جناب موسیٰ سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں یعنی کہا تھا کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ دکھا دو تو ان کے (اسی) ظلم کی وجہ سے ان کو بجلی نے پکڑ لیا۔ اور پھر ان لوگوں نے آیات و معجزات آجانے کے بعد گوسالے کو (خدا) بنا لیا۔ مگر ہم نے انہیں معاف کر دیا اور موسیٰ کو کھلا ہوا غلبہ عطا کیا۔

Verse 154 — Surah An-Nisa 4:154

اور ہم نے ان سے (فرمانبرداری کا) پختہ عہد لینے کے لیے ان کے اوپر کوہ طور کو بلند کیا اور ہم نے ان سے کہا سجدہ ریز ہوکر دروازہ (شہر) میں داخل ہو جاؤ اور ان سے کہا کہ قانون سبت کے بارے میں زیادتی نہ کرو (حد سے نہ بڑھو) اور ہم نے ان سے پختہ عہد و پیمان لیا تھا۔

Verse 155 — Surah An-Nisa 4:155

سو (ان کو جو سزا ملی وہ) ان کے عہد شکنی کرنے، آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرنے، نبیوں کو ناحق قتل کرنے اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے (دلوں) پر مہر لگا دی ہے۔ اس لیے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔

Verse 156 — Surah An-Nisa 4:156

نیز ان کے ساتھ یہ جو کچھ ہوا یہ ان کے کفر کی وجہ سے ہوا۔ اور جناب مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے۔

Verse 157 — Surah An-Nisa 4:157

اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے خدا کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان پر اصل معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ یقینا اس کے متعلق شک میں ہیں اور انہیں گمان کی پیروی کرنے کے سوا کوئی علم نہیں ہے۔ اور انہوں نے یقینا ان کو قتل نہیں کیا۔

Verse 158 — Surah An-Nisa 4:158

بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 159 — Surah An-Nisa 4:159

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں، جو اپنی موت (یا ان کی موت) سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور وہ قیامت کے دن ان کے خلاف گواہ ہوں گے۔

Verse 160 — Surah An-Nisa 4:160

یہودیوں کے ایسے ہی مظالم اور زیادتیوں کیوجہ سے ہم نے وہ بہت سی پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کر دیں، جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں۔ نیز ان کے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے بکثرت روکنے کی وجہ سے۔

Verse 161 — Surah An-Nisa 4:161

اور ان کے سود لینے کے سبب سے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کا ناحق مال کھانے کے باعث (یہ سب کچھ ہوا)۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

Verse 162 — Surah An-Nisa 4:162

البتہ ان میں سے جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان دار ہیں، وہ سب اس پر ایمان لاتے ہیں، جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ نماز کو قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم بہت بڑا اجر و ثواب عطا کریں گے۔

Verse 163 — Surah An-Nisa 4:163

بے شک ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے۔ جس طرح (جناب) نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اولادِ یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔

Verse 164 — Surah An-Nisa 4:164

کچھ پیغمبر وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے پہلے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان نہیں کئے اور اللہ نے موسیٰ سے اس طرح کلام کیا جیساکہ کلام کرنے کا حق ہے۔

Verse 165 — Surah An-Nisa 4:165

اور (ہم نے) رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اور اللہ زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 166 — Surah An-Nisa 4:166

اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ آپ پر نازل کیا۔ وہ اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی) اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اگرچہ گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔

Verse 167 — Surah An-Nisa 4:167

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکا گمراہی میں بہت دور نکل گئے۔

Verse 168 — Surah An-Nisa 4:168

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ظلم و ستم کیا، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھائے گا۔

Verse 169 — Surah An-Nisa 4:169

سوا جہنم کے راستہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بات اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔

Verse 170 — Surah An-Nisa 4:170

اے لوگو! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے رسول حق لے کر آگیا ہے۔ پس ان پر ایمان لاؤ۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر انکار کروگے تو (اللہ کا کیا نقصان کروگے) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 171 — Surah An-Nisa 4:171

اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اور اللہ کے بارے میں نہ کہو مگر سچی بات جناب عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ جسے اس نے مریم کی طرف بھیجا۔ اور اللہ کی طرف سے ایک خاص روح ہیں۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور تثلیث (یعنی تین خداؤں) کے قائل نہ ہو۔ (اس سے باز آجاؤ) (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ تو صرف ایک ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ سب اسی کا ہے اور اللہ کارسازی کے لئے کافی ہے۔

Verse 172 — Surah An-Nisa 4:172

عیسیٰ مسیح اللہ کا بندہ ہونے میں اپنے لئے عار نہیں سمجھتے اور نہ ہی مقرب فرشتے اس میں اپنے لئے کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور جو اس کی بندگی میں ننگ و عار محسوس کرے گا اور تکبر کرے گا۔ اللہ سب کو جلد اپنی طرف محشور فرمائے گا۔

Verse 173 — Surah An-Nisa 4:173

پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کئے ہوں گے انہیں ان کا پورا پورا صلہ و ثواب دے گا اور اپنے فضل و کرم سے انہیں مزید بھی عطا فرمائے گا۔ اور جنہوں نے (اس کی بندگی سے) ننگ و عار محسوس کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا ان کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا نہ کوئی سرپرست پائیں گے اور نہ کوئی یار و مددگار۔

Verse 174 — Surah An-Nisa 4:174

اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل آگئی ہے۔ اور ہم نے تمہاری طرف نمایاں نور اتارا ہے۔

Verse 175 — Surah An-Nisa 4:175

سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور مضبوطی سے اس کا دامن پکڑا تو ضرور اللہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا۔ اور ان کو اپنے سیدھے راستہ پر لگا دے گا۔

Verse 176 — Surah An-Nisa 4:176

اے رسول یہ لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے! کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کا آدھا ترکہ اس کا ہوگا۔ اور اگر وہ (بہن) مر جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو (اور ایک بھائی ہو) تو وہ اس کے پورے ترکہ کا وارث ہوگا۔ اور اگر کسی مرنے والے کی دو بہنیں ہوں تو ان کا اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہوگا۔ اور اگر کئی بھائی بہن ہوں یعنی مرد عورت دونوں ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کھول کر احکام بیان کرتا ہے۔ تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔