Back to Languages

Urdu - Chapter 46 - Al-Ahqaf

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Ahqaf 46:1

Verse 2 — Surah Al-Ahqaf 46:2

(یہ) کتابِ عزیز و حکیم (غالب اور بڑے حکمت والے خدا) کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

Verse 3 — Surah Al-Ahqaf 46:3

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو پیدا نہیں کیا مگر حق و حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت تک اور جو کافر لوگ ہیں وہ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں وہ اس سے رُوگردانی کرتے ہیں۔

Verse 4 — Surah Al-Ahqaf 46:4

آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں سے کیا پیدا کیا ہے؟ یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کی کچھ شرکت ہے؟ میرے پاس پہلے کی کوئی کتاب لاؤ! یا کوئی عِلمی روایت(اور علمی ثبوت) لاؤ اگر تم سچے ہو۔

Verse 5 — Surah Al-Ahqaf 46:5

اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہیں دے سکتے بلکہ وہ ان کی دعا و پکار سے غافل ہیں۔

Verse 6 — Surah Al-Ahqaf 46:6

اور جب سب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبود) ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔

Verse 7 — Surah Al-Ahqaf 46:7

اور جب ان کو ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (یہ) کافر لوگ حق کے بارے میں کہتے ہیں جبکہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

Verse 8 — Surah Al-Ahqaf 46:8

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول(ص)) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ آپ(ص) کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ اللہ کے مقابلہ میں میرے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے (ذرا بھی مجھے نہیں بچا سکتے) (قرآن کے متعلق) تم جن باتوں میں مشغول ہو وہ (اللہ) ان کو خوب جانتا ہے اور وہی میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے اور بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 9 — Surah Al-Ahqaf 46:9

آپ کہہ دیجئے کہ رسولوں(ع) میں سے میں کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیاجائے گا؟ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھے وحی کی جاتی ہے اور میں نہیں ہوں مگر کھلا ہوا ڈرانے والا۔

Verse 10 — Surah Al-Ahqaf 46:10

آپ کہیے کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا درآنحالیکہ تم بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی (کتاب پر) گواہی دے چکا اور ایمان بھی لا چکا مگر تم نے تکبر کیا؟ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

Verse 11 — Surah Al-Ahqaf 46:11

اور کافر لوگ ایمان لانے والوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ (قرآن و اسلام) کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہلے جاتے اب چونکہ انہوں نے اس (قرآن) سے ہدایت نہیں پائی تو وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔

Verse 12 — Surah Al-Ahqaf 46:12

حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ(ع) کی کتاب (توراۃ) بھی راہنماورحمت تھی اور یہ کتاب (قرآن) تو اس کی تصدیق کرنے والی ہے (اور) عربی زبان میں ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Ahqaf 46:13

بےشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس (اقرار) پر ثابت و برقرار رہے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 14 — Surah Al-Ahqaf 46:14

یہی لوگ بہشتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ صِلہ ہے ان کے ان اعمال کا جو وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔

Verse 15 — Surah Al-Ahqaf 46:15

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے زحمت کے ساتھ اسے پیٹ میں رکھا اور زحمت کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینوں میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا (جوان ہوا) اور پورے چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا اے میرے پروردگار! تو مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کاشکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لئے میری اولاد میں بھی صالحیت پیدا فرما میں تیری بارگاہ میں توبہ (رجوع) کرتا ہوں اور میں مسلمانوں(فرمانبرداروں) میں سے ہوں۔

Verse 16 — Surah Al-Ahqaf 46:16

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کرتے ہیں یہ بہشتیوں میں ہوں گے اس سچے وعدہ کی بناء پر جو برابر ان سے کیا جاتا رہا ہے۔

Verse 17 — Surah Al-Ahqaf 46:17

اور جس نے اپنے والدین سے کہا تُف ہے تم پر کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میں (دوبارہ قبر سے) نکالا جاؤں گا۔ حالانکہ مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر چکی ہیں (اور کوئی ایک بھی زندہ نہ ہوا) اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) وائے ہو تجھ پر ایمانلے آ۔ بےشک اللہ کا وعدہ سچاہے(مگر) وہ کہتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی (پرانی) کہانیاں ہیں۔

Verse 18 — Surah Al-Ahqaf 46:18

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کے قول (عذاب) کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ ان گروہوں کے ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے پہلے گزر چکے ہیں۔یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں تھے۔

Verse 19 — Surah Al-Ahqaf 46:19

اور ہر ایک کیلئے ان کے اعمال کے مطابق درجے ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

Verse 20 — Surah Al-Ahqaf 46:20

اور جس دن کافروں کو دوزخ کے سامنے لایا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم اپنے حصے کی نعمتیں دنیاوی زندگی میںلے چکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بوجہ اس کے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے۔

Verse 21 — Surah Al-Ahqaf 46:21

اے رسول(ص)) قومِ عاد کے بھائی (جنابِ ہود(ع)) کاذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو مقامِ احقاف (ریت کے ٹیلوں والی بستی) میں ڈرایا تھا جبکہ بہت سے ڈرانے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے اوران کے بعد بھی (جنابِ ہود(ع) نے کہا کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (ورنہ) مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

Verse 22 — Surah Al-Ahqaf 46:22

ان قوم والوں نے کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اپنے معبودوں سے منحرف کردو۔ لاؤ ہمارے پاس وہ (عذاب) جس کی دھمکی تم ہمیں دیتے ہواگر تم سچے ہو۔

Verse 23 — Surah Al-Ahqaf 46:23

جنابِ ہود(ع) نے کہا اس (نزولِ عذاب) کا علم تو بس اللہ کے پاس ہے میں تو صرف تم تک وہ (پیغام) پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم بالکل جاہل قوم ہو۔

Verse 24 — Surah Al-Ahqaf 46:24

پس جب انہوں نے (عذاب) کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر برسنے والا ہے بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے (یہ تند و تیز) ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔

Verse 25 — Surah Al-Ahqaf 46:25

وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گی۔ چنانچہ وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہیں آتا تھا ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

Verse 26 — Surah Al-Ahqaf 46:26

ہم نے ان لوگوں کو ان کاموں کی قدرت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے مگر ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا کیونکہ وہ آیاتِ الہیہ کا انکار کیا کرتے تھے اور ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Verse 27 — Surah Al-Ahqaf 46:27

اور ہم نے تمہارے اردگرد کی کئی بستیوں کو ہلاک و برباد کر دیا اور ہم نے اپنی (قدرت کی) نشانیاں پھیر پھیر کر(مختلف انداز سے) پیش کیں تاکہ وہ باز آجائیں۔

Verse 28 — Surah Al-Ahqaf 46:28

تو انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کیلئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے غائب ہو گئے، یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان کا بہتان جو وہ باندھتے تھے۔

Verse 29 — Surah Al-Ahqaf 46:29

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے جنات کے کچھ افراد کو آپ(ص) کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ غور سے قرآن سنیں۔ پس وہ اس جگہ پہنچے (جہاں قرآن پڑھا جا رہاتھا) تو (آپس میں کہنے لگے) خاموش ہو کر سنو پس جب (قرآن) پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔

Verse 30 — Surah Al-Ahqaf 46:30

انہوں نے کہا اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسٰی (ع)ٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور جو) حق اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔

Verse 31 — Surah Al-Ahqaf 46:31

اے ہماری قوم! اللہ کیطرف بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمانلے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔

Verse 32 — Surah Al-Ahqaf 46:32

اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیک نہیں کہے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا (اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا) اور نہ اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی مددگار و سازگار ہے ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔

Verse 33 — Surah Al-Ahqaf 46:33

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے۔ ہاں بےشک وہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔

Verse 34 — Surah Al-Ahqaf 46:34

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہمیں قَسم ہے اپنے پروردگار کی! ارشاد ہوگا اپنے کفر و انکارکی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔

Verse 35 — Surah Al-Ahqaf 46:35

اے رسول(ص)) آپ(ص) اسی طرح صبر کریں جس طرح اولوالعزم رسولوں(ع) نے صبر کیا ہے اور ان کیلئے جلدی نہ کریں جس دن وہ دیکھیں گے (وہ عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ بس یہ پیغام پہنچا دینا ہے۔ انجامِ کار ہلاک و برباد وہی ہوں گے جو فاسق و فاجر ہیں۔