اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ(ع) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری قوم! تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو؟ حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا(بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور بھی) ٹیڑھا کر دیا اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)
اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ(ع) بن مریم(ع) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں میں اس تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے آئی ہے (اور جو موجود ہے) اورخوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول(ص) کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد(ص) ہوگا پھر جب وہ کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر ان کے پاس آئے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہو جادو ہے۔
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)
(اور وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
(اگر ایسا کروگے تو) اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ان باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور ان پاکیزہ مکانوں میں داخل کرے گا جو ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہوں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اے ایمان والو! اللہ کے (دین کے) انصار و مددگار بنو جیسا کہ عیسٰی(ع) بن مریم(ع) نے حواریوں سے کہا تھا کہ اللہ کی طرف بلانے میں کون میرا مددگار ہے؟ حواریوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا تو جو ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمن کے مقابلہ میں ان کی تائید کی پس وہ غالب ہو گئے۔