Back to Languages

Urdu - Chapter 7 - Al-Araf

Translation by Muhammad Hussain Najafi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Araf 7:1

الف، لام، میم، ص۔

Verse 2 — Surah Al-Araf 7:2

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ لہٰذا تمہارے دل میں اس کی وجہ سے کوئی تنگی نہیں ہونا چاہیے۔ (یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے) تاکہ آپ اس کے ذریعہ سے (لوگوں کو خدا کے عذاب سے) ڈرائیں اور اہلِ ایمان کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہو۔

Verse 3 — Surah Al-Araf 7:3

(اے لوگو) جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اور اس (پروردگار) کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں (حوالی موالی) کی پیروی نہ کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

Verse 4 — Surah Al-Araf 7:4

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے انہیں تباہ کر دیا پس ہمارا عذاب ان پر راتوں رات آیا یا جب وہ دن میں قیلولہ کر رہے تھے (سو رہے تھے)۔

Verse 5 — Surah Al-Araf 7:5

جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو اس کے سوا ان کی اور کوئی پکار نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔

Verse 6 — Surah Al-Araf 7:6

بے شک ہم ان لوگوں سے بھی باز پرس کریں گے۔ جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے۔ اور خود رسولوں سے بھی پوچھ گچھ کریں گے۔

Verse 7 — Surah Al-Araf 7:7

پھر ہم پورے علم کے ساتھ ان کے سامنے سب (حالات و واقعات) بیان کریں گے آخر ہم غیر حاضر تو تھے نہیں۔

Verse 8 — Surah Al-Araf 7:8

اور اس دن وزن (اعمال کا تولا جانا) بالکل حق ہے پس جس کے پلے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے۔

Verse 9 — Surah Al-Araf 7:9

اور جس کے پلے ہلکے ہوں گے۔ وہ اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ناانصافی کرتے تھے۔

Verse 10 — Surah Al-Araf 7:10

اور ہم نے تمہیں زمین میں تمکین دی (اقتدار و اختیار دیا) اور اس میں تمہارے لئے زندگی گزارنے کے سامان فراہم کئے۔ مگر تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

Verse 11 — Surah Al-Araf 7:11

بے شک ہم نے تمہاری تخلیق کا آغاز کیا اور پھر تمہاری صورت گری کی اس کے بعد فرشتوں سے کہا کہ آدم(ع) کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ چنانچہ سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا۔

Verse 12 — Surah Al-Araf 7:12

(خدا نے) فرمایا: جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو تجھے کس چیز نے روکا؟ کہا میں اس (آدم(ع)) سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Araf 7:13

ارشاد ہوا۔ تو پھر تو یہاں سے نیچے اتر جا۔ کیونکہ تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو یہاں رہ کر تکبر و غرور کرے۔ بس یہاں سے نکل جا۔ یقینا تو ذلیلوں میں سے ہے۔

Verse 14 — Surah Al-Araf 7:14

کہا۔ مجھے اس دن تک مہلت دے جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

Verse 15 — Surah Al-Araf 7:15

فرمایا: اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔

Verse 16 — Surah Al-Araf 7:16

کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو اب میں تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا۔

Verse 17 — Surah Al-Araf 7:17

پھر میں ان کے آگے کی طرف سے اور ان کے پیچھے کی جانب سے اور ان کی دائیں طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے آؤں گا (اور انہیں ورغلاؤں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

Verse 18 — Surah Al-Araf 7:18

فرمایا: ذلیل اور راندہ ہوکر یہاں سے نکل جا میں تجھے اور اسے جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔

Verse 19 — Surah Al-Araf 7:19

اور اے آدم(ع)! تم اور تمہاری بیوی دونوں اس بہشت میں رہو۔ اور جہاں سے چاہو (اور جو چیز دل چاہے) کھاؤ۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤگے۔

Verse 20 — Surah Al-Araf 7:20

تو شیطان نے جھوٹی قسم کھا کر ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا۔ تاکہ ان کے وہ ستر والے مقام جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھے ظاہر کر دے اور کہا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں صرف اس لئے اس درخت سے روکا ہے کہ کہیں فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

Verse 21 — Surah Al-Araf 7:21

اور اس نے دونوں سے قسم کھائی کہ میں تمہارے سچے خیرخواہوں میں سے ہوں۔

Verse 22 — Surah Al-Araf 7:22

اس طرح اس نے ان دونوں کو فریب سے مائل کر دیا (اور اس طرح جنت) کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں تک پہنچا دیا۔ پس جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا۔ تو ان کے جسم کے چھپے ہوئے حصے نمودار ہوگئے اور وہ جنت کے پتوں کو جوڑ کر اپنے یہ مقام (ستر) چھپانے لگے تب ان کے پروردگار نے ان کو ندا دی۔ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

Verse 23 — Surah Al-Araf 7:23

اس وقت ان دونوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور اگر تو درگزر نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

Verse 24 — Surah Al-Araf 7:24

ارشاد ہوا! تم دونوں (بہشت سے) نیچے اترو۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت معلوم تک تمہارا زمین میں ہی ٹھکانہ اور سامانِ زیست ہے۔

Verse 25 — Surah Al-Araf 7:25

(یہ بھی فرمایا) اسی زمین میں تم نے جینا ہے اور وہیں مرنا ہے اور پھر اسی سے دوبارہ نکالے جاؤگے۔

Verse 26 — Surah Al-Araf 7:26

اے اولادِ آدم(ع)! ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے قابلِ ستر حصوں کو چھپاتا ہے اور (باعث) زینت بھی ہے۔ اور تقویٰ و پرہیزگاری کا لباس یہ سب سے بہتر ہے یہ (لباس بھی) اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

Verse 27 — Surah Al-Araf 7:27

اے اولادِ آدم! (ہوشیار رہنا) کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اسی طرح فتنہ میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا۔ اور ان کے جسم سے کپڑے تک اتروا دیئے تھے تاکہ ان کے جسم کے قابلِ ستر حصے ان کو دکھا دے یقینا وہ (شیطان) اور اس کا قبیلہ تمہیں جس طرح اور جہاں سے دیکھتا ہے تم انہیں اس طرح نہیں دیکھ سکتے بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔

Verse 28 — Surah Al-Araf 7:28

اور جب وہ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور خدا نے (بھی) ہمیں یہی حکم دیا ہے اے رسول کہیئے کہ یقینا کبھی اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ پر ایسی بات کی تہمت لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے؟

Verse 29 — Surah Al-Araf 7:29

اے رسول(ص) کہو! میرے پروردگار نے مجھے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اپنے چہرہ کو سیدھ پر رکھو ہر نماز کے وقت اور اسی کو پکارو دین کو اسی کے لئے خالص کرکے جس طرح اس نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا تھا اسی طرح تم (اس کے حضور پلٹ) کر جاؤگے۔

Verse 30 — Surah Al-Araf 7:30

ایک گروہ کو تو اس نے ہدایت دے دی ہے اور ایک گروہ پر گمراہی ثبت ہوگئی ہے۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور پھر وہ (اپنے متعلق) خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

Verse 31 — Surah Al-Araf 7:31

اے اولادِ آدم! ہر نماز کے وقت زینت کرو اور کھاؤ پیو۔ اور اسراف (فضول خرچی) نہ کرو۔ کیونکہ وہ بے شک اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

Verse 32 — Surah Al-Araf 7:32

(اے رسول ان لوگوں سے) کہو کہ اللہ کی زیب و زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے کس نے حرام کیا ہے؟ اور کھانے کی اچھی اور پاکیزہ غذاؤں کو (کس نے حرام کیا ہے؟)! وہ تو دراصل ہیں ہی اہلِ ایمان کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور خاص کر قیامت کے دن تو خالص انہی کے لئے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنی آیتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔

Verse 33 — Surah Al-Araf 7:33

تم کہہ دو! میرے پروردگار نے صرف بے حیائی و بدکاری کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے خواہ ظاہری ہوں یا باطنی۔ اور اثم (ہر گناہ یا شراب) کو اور کسی پر ناحق زیادتی کو اور یہ کہ کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کے لئے اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جس کا تمہیں علم و یقین نہ ہو۔

Verse 34 — Surah Al-Araf 7:34

اور ہر امت (قوم) کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ پس جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ وہ ایک ساعت کے لیے پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ایک ساعت آگے بڑھ سکتے ہیں۔

Verse 35 — Surah Al-Araf 7:35

اے اولادِ آدم اگر تمہارے پاس تم ہی سے میرے کچھ رسول آئیں جو تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں (اور میرے احکام تم تک پہنچائیں) تو جو شخص پرہیزگاری اختیار کرے گا۔ اور اپنی اصلاح کرے گا۔ ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Verse 36 — Surah Al-Araf 7:36

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں تکبر کریں گے وہی لوگ جہنم والے ہوں گے جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 37 — Surah Al-Araf 7:37

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے (خود جھوٹی باتیں گھڑ کر اس کی طرف منسوب کرے) یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، ایسے لوگوں کو نوشتۂ کتاب (اپنے مقدر) کا حصہ تو ملے گا۔ لیکن جب ان کے پاس ہمارے فرستادہ (فرشتے) ان کی روحوں کو قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو وہ ان سے کہیں گے۔ (آج) وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے غائب ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بے شک وہ کافر تھے۔

Verse 38 — Surah Al-Araf 7:38

ارشاد ہوگا تم بھی اسی جہنم میں داخل ہو جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے جن و انس کے گروہ داخل ہو چکے ہیں (اور) جب بھی کوئی (جہنم میں) داخل ہوگا تو اپنے ساتھ (پیش رو) گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے (سب واصلِ جہنم ہو جائیں گے) تو بعد والا گروہ پہلے گروہ کے بارے میں کہے گا اے پروردگار! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا اس لئے انہیں دوزخ کا دوگنا عذاب دے۔ ارشاد ہوگا ہر ایک کے لئے دونا عذاب ہے لیکن تم جانتے نہیں ہو۔

Verse 39 — Surah Al-Araf 7:39

اور ان کا پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا۔ کہ (اگر ہم مستوجبِ الزام تھے) تو پھر تم کو ہم پر کوئی فضیلت تو نہ ہوئی؟ بس (ہماری طرح) تم بھی اپنے کئے کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔

Verse 40 — Surah Al-Araf 7:40

یقینا جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں تکبر و غرور کیا۔ ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اور اس وقت تک وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گزر جائے گا ہم اسی طرح مجرموں کو بدلہ دیا کرتے تھے۔

Verse 41 — Surah Al-Araf 7:41

ان کا بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کا ہم اسی طرح ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔

Verse 42 — Surah Al-Araf 7:42

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یہی لوگ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Verse 43 — Surah Al-Araf 7:43

اور جو کچھ ان کے دلوں میں کدورت ہوگی ہم اسے باہر نکال دیں گے ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ شکر کرتے ہوئے کہیں گے ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اس منزلِ مقصود تک پہنچایا اور ہم کبھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر وہ ہمیں نہ پہنچاتا۔ یقینا ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے اور انہیں ندا دی جائے گی کہ یہ بہشت ہے جس کے تم اپنے ان اعمال کی بدولت وارث بنائے گئے ہو۔ جو تم انجام دیا کرتے تھے۔

Verse 44 — Surah Al-Araf 7:44

اور جنتی لوگ دوزخیوں کو ندا دیں گے کہ ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا اس کو ہم نے تو سچا پا لیا ہے کیا تم نے بھی اس وعدہ کو جو تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا سچا پایا ہے؟ وہ (جواب میں) کہیں گے ہاں تب ایک منادی ان کے درمیان ندا کرے گا کہ خدا کی لعنت ان ظالموں پر۔

Verse 45 — Surah Al-Araf 7:45

جو اللہ کے راہ سے (لوگوں کو) روکتے رہے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے رہے ہیں۔ اور وہ آخرت کا انکار کرتے رہے ہیں۔

Verse 46 — Surah Al-Araf 7:46

اور ان دونوں (بہشت و دوزخ) کے درمیان پردہ ہے (حدِ فاصل ہے) اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی علامت سے پہچان لیں گے۔ اور وہ بہشت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو اور یہ لوگ (ابھی) اس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ حالانکہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہوں گے۔

Verse 47 — Surah Al-Araf 7:47

اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔

Verse 48 — Surah Al-Araf 7:48

اور پھر اعراف والے لوگ (دوزخ والے چند آدمیوں کو) آواز دیں گے جنہیں وہ علامتوں سے پہچانتے ہوں گے۔ کہ آج تمہاری جمعیت اور تمہارا غرور و پندار کچھ کام نہ آیا اور تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔

Verse 49 — Surah Al-Araf 7:49

(پھر کچھ مستحقین جنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہیں گے) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اللہ ان تک اپنی کچھ بھی رحمت نہیں پہنچائے گا۔ (پھر ان مستحقین جنت سے کہیں گے) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم مغموم ہوگے۔

Verse 50 — Surah Al-Araf 7:50

اور دوزخ والے بہشت والوں کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی یا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھانے کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ ہماری طرف انڈیل دو وہ (جواب میں) کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔

Verse 51 — Surah Al-Araf 7:51

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا لیا تھا اور جنہیں زندگانئ دنیا نے دھوکہ دیا تھا آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح انہوں نے آج کے اس دن کی حاضری کو بھلا دیا تھا۔ اور جیسے وہ ہماری آیتوں کو برابر جھٹلاتے رہے تھے۔

Verse 52 — Surah Al-Araf 7:52

اور بے شک ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے پورے علم کے ساتھ خوب واضح کر دیا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لئے برابر ہدایت و رحمت ہے۔

Verse 53 — Surah Al-Araf 7:53

کیا یہ لوگ اس (قرآن کی دھمکی) کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں؟ (کہ سامنے آئے) حالانکہ جس دن اس کا انجام (سامنے) آئے گا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اس کو بھلایا ہوگا کہیں گے بے شک ہمارے پروردگار کے رسول ہمارے پاس سچائی کے ساتھ آئے تھے تو کیا آج ہمارے لئے کچھ سفارشی ہیں؟ جو ہماری سفارش کریں یا (یہ ممکن ہے کہ) ہمیں دوبارہ واپس بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم (پہلے) کیا کرتے تھے اس کے خلاف کچھ اور (نیک عمل) کریں؟ یقینا انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور وہ افترا پردازیاں جو وہ کیا کرتے تھے آج ان سے گم ہوگئیں۔

Verse 54 — Surah Al-Araf 7:54

بے شک تمہارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش کی جانب متوجہ ہوا (اور کائنات کے اقتدارِ اعلیٰ پر قابض ہوا) جو رات سے دن کو ڈھانپ لیتا ہے۔ کہ اسے تیزی کے ساتھ جا پکڑتی ہے۔ اور جس نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ کہ وہ سب طبعی طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں خبردار! پیدا کرنا اور حکم دینا اس سے مخصوص ہے۔ بابرکت ہے اللہ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

Verse 55 — Surah Al-Araf 7:55

اپنے پروردگار سے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرو۔ بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

Verse 56 — Surah Al-Araf 7:56

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔ اور خدا سے خوف اور امید کے ساتھ دعا کرو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں سے قریب ہے۔

Verse 57 — Surah Al-Araf 7:57

وہ وہی (خدا) ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری کے لئے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم انہیں کسی مردہ بستی کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں اور پھر وہاں پانی برسا دیتے ہیں۔ اور پھر ہم اس کے ذریعہ سے طرح طرح کے پھل نکالتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو (بھی زندہ کرکے) باہر نکالیں گے شاید کہ تم عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔

Verse 58 — Surah Al-Araf 7:58

اور جو زمین عمدہ و پاکیزہ ہوتی ہے خدا کے حکم سے اس کی نبات (پیداوار) خوب نکلتی ہے اور جو خراب اور ناکارہ ہوتی ہے تو اس کی پیداوار بھی خراب اور بہت کم نکلتی ہے ہم اسی طرح شکر گزار قوم کے لیے اپنی نشانیاں الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

Verse 59 — Surah Al-Araf 7:59

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا۔ تو انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی اللہ نہیں ہے۔ یقینا مجھے تمہاری نسبت ایک بڑے سخت دن (قیامت) کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

Verse 60 — Surah Al-Araf 7:60

ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔ ہم تو تم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔

Verse 61 — Surah Al-Araf 7:61

نوح نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں تو سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔

Verse 62 — Surah Al-Araf 7:62

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچاتا ہوں (اور تمہاری خیر خواہی کے لیے) تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔ اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

Verse 63 — Surah Al-Araf 7:63

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس وعظ و نصیحت کا پیغام آیا ہے۔ تاکہ وہ تمہیں (خدا کے عذاب سے) ڈرائے! اور تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

Verse 64 — Surah Al-Araf 7:64

(مگر) ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا۔ (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ہم نے انہیں اور جو کشتی میں ان کے ساتھ تھے ان کو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کر دیا بے شک وہ اندھے (بے بصیرت) لوگ تھے۔

Verse 65 — Surah Al-Araf 7:65

اور ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے (قومی) بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا! اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ آخر تم پرہیزگاری کیوں اختیار نہیں کرتے؟

Verse 66 — Surah Al-Araf 7:66

ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تمہیں حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

Verse 67 — Surah Al-Araf 7:67

ہود نے کہا! اے میری قوم، مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے بلکہ میں تو سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔

Verse 68 — Surah Al-Araf 7:68

تمہارے پروردگار کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ اور تمہارا امانتدار ناصح ہوں۔

Verse 69 — Surah Al-Araf 7:69

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس وعظ و نصیحت کا پیغام آیا ہے تاکہ وہ تمہیں (خدا کے عذاب سے) ڈرائے اور یاد کرو (خدا کے اس احسان کو) کہ اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا۔ اور (تمہاری) خلقت میں یعنی قوت و طاقت اور قد و قامت میں زیادتی اور وسعت عطا کی پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم (ہر طرح) فلاح پاؤ۔

Verse 70 — Surah Al-Araf 7:70

انہوں نے کہا (اے ہود (ع)) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے چلے آئے ہیں اگر تم سچے ہو تو۔ ہمارے پاس لاؤ وہ (عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

Verse 71 — Surah Al-Araf 7:71

اس (ہود) نے کہا (سمجھ لو کہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہوگیا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (از خود) رکھ لئے ہیں۔ جن کے متعلق اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اچھا تو پھر تم (خدا کے عذاب کا) انتظار کرو مَیں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔

Verse 72 — Surah Al-Araf 7:72

پس (آخرکار) ہم نے اپنی رحمت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی (بچا لیا) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ایمان لانے والے نہیں تھے ان کی جڑ ہی کاٹ دی۔

Verse 73 — Surah Al-Araf 7:73

اور قومِ ثمود کی طرف ان کے (قومی) بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارے پروردگار کی طرف سے (میری صداقت کا) ایک خاص معجزہ آچکا ہے جو یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک (قدرتی) نشانی (معجزہ) ہے اسے کھلا چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چَرتی پھرے۔ اور (خبردار) اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا (اسے تکلیف نہ پہنچانا) ورنہ دردناک عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔

Verse 74 — Surah Al-Araf 7:74

اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کا جانشین بنایا۔ اور تمہیں زمین میں رہنے کے لئے ٹھکانا دیا کہ تم نرم اور ہموار زمین میں محلات بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر مکانات بناتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو۔

Verse 75 — Surah Al-Araf 7:75

قوم کے بڑے لوگوں نے جو متکبر تھے۔ ان کمزور لوگوں سے کہا جو ایمان لائے تھے۔ کیا تم جانتے ہو صالح واقعی اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں انہوں نے کہا بے شک ہم تو اس (پیغام) پر ایمان لائے جسے دے کر ان کو بھیجا گیا ہے۔

Verse 76 — Surah Al-Araf 7:76

(یہ سن کر) متکبر مزاج بڑے کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم اس کے کافر و منکر ہیں۔

Verse 77 — Surah Al-Araf 7:77

پھر انہوں نے اس اونٹنی کو پئے کر دیا (اس کی کونچیں کاٹ دیں) اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی و سرتابی کی اور کہا اے صالح! اگر تم رسولوں میں سے ہو تو پھر ہمارے پاس لاؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

Verse 78 — Surah Al-Araf 7:78

پس انہیں زلزلہ نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

Verse 79 — Surah Al-Araf 7:79

پس وہ (صالح) یہ کہتے ہوئے وہاں سے منہ موڑ کر نکل گئے اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا اور تم کو نصیحت کی مگر تم نصیحت کرنے والے خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔

Verse 80 — Surah Al-Araf 7:80

اور ہم نے لوط کو بھیجا انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسا بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ ایسا کام تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

Verse 81 — Surah Al-Araf 7:81

یعنی تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو؟ تم بڑے حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔

Verse 82 — Surah Al-Araf 7:82

ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے کہ انہیں اس بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

Verse 83 — Surah Al-Araf 7:83

تو ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو سوا ان کی بیوی کے نجات دی (بچا لیا) ہاں البتہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔

Verse 84 — Surah Al-Araf 7:84

اور ہم نے ان پر (پتھروں) کی بارش برسائی تو دیکھو مجرموں کا کیسا انجام ہوا؟

Verse 85 — Surah Al-Araf 7:85

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے (قومی) بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یقینا تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلا نشان بھی آچکا ہے۔ پس ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی (خرید کردہ) چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو۔

Verse 86 — Surah Al-Araf 7:86

اور ہر راستے پر اس طرح نہ بیٹھو کہ تم (راہ گیروں) کو ڈراؤ دھمکاؤ اور ایمان لانے والوں کو اللہ کی راہ سے روکو۔ اور اس راہ میں کجی تلاش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو۔ جب تم تھوڑے تھے تو اس (خدا) نے تمہیں بڑھا دیا اور دیکھو کہ فساد پھیلانے والوں کا انجام کیسا ہوتا رہا ہے۔

Verse 87 — Surah Al-Araf 7:87

اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس پر ایمان نہیں لایا تو صبر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

Verse 88 — Surah Al-Araf 7:88

اور ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا۔ اے شعیب ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم لوگ ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ۔ شعیب نے کہا اگرچہ ہم اسے ناپسند ہی کرتے ہوں؟

Verse 89 — Surah Al-Araf 7:89

جب اللہ نے ہمیں تمہارے مذہب سے نجات دے دی ہے۔ اگر اس کے بعد بھی ہم تمہارے مذہب میں واپس آجائیں تو پھر تو ہم نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا۔ اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ جو ہمارا پروردگار ہے چاہے ہمارا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ہمارا اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہی ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے۔ اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

Verse 90 — Surah Al-Araf 7:90

اور ان کی قوم کے ان سرداروں نے جو کافر تھے آپس میں کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے تو نقصان اٹھاؤگے۔

Verse 91 — Surah Al-Araf 7:91

سو زلزلہ نے انہیں آپکڑا جس کے بعد وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔

Verse 92 — Surah Al-Araf 7:92

جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا وہ (اس طرح برباد ہوئے کہ) گویا کبھی ان گھروں میں بستے ہی نہ تھے۔ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا وہی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوئے۔

Verse 93 — Surah Al-Araf 7:93

(اس وقت) وہ ان سے منہ موڑ کر چلے اور کہا اے میری قوم! میں نے تو یقیناً اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے تھے اور تمہیں نصیحت بھی کی تھی تو (اب) کافر قوم (کے عبرتناک انجام) پر کیونکر افسوس کروں؟

Verse 94 — Surah Al-Araf 7:94

اور ہم نے کبھی کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے باشندوں کو (ان کی تکذیب پر پہلے) سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ تضرع و زاری کریں۔

Verse 95 — Surah Al-Araf 7:95

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب بڑھے (اور پھلے پھولے) اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی کبھی تکلیف اور کبھی راحت یونہی پہنچتی رہی ہے۔ تو ایک دم ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو سکا۔

Verse 96 — Surah Al-Araf 7:96

اور اگر ان بستیوں کے باشندے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا۔ لہٰذا ہم نے ان کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔

Verse 97 — Surah Al-Araf 7:97

آیا ان بستیوں والے اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آجائے جبکہ وہ سو رہے ہوں؟

Verse 98 — Surah Al-Araf 7:98

یا کیا بستیوں والے اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے (چاشت کے وقت) آجائے جبکہ وہ کھیل کود رہے ہوں؟

Verse 99 — Surah Al-Araf 7:99

کیا یہ لوگ اللہ کے عذاب یا اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے عذاب یا اس کی خفیہ تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو گھاٹا اٹھانے والے ہوں۔

Verse 100 — Surah Al-Araf 7:100

کیا ان لوگوں پر جو پہلے اہل زمین کی تباہی کے بعد زمین کے وارث بنے ہیں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیتے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر لگا دیتے کہ وہ سن (سمجھ) نہ سکیں۔

Verse 101 — Surah Al-Araf 7:101

یہ وہ بستیاں ہیں کہ جن کی کچھ خبریں ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں بے شک ان کے پاس ان کے رسول کھلے ہوئے نشان (معجزے) لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ اس بات پر ایمان لاتے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اللہ اسی طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگاتا ہے۔

Verse 102 — Surah Al-Araf 7:102

اور ہم نے ان کی اکثریت میں عہد و پیمان کی پاسداری نہیں پائی اور ہم نے اکثر کو فاسق و فاجر پایا ہے۔

Verse 103 — Surah Al-Araf 7:103

پھر ہم نے ان (نبیوں) کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیاں (معجزے) دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ مگر انہوں نے ان (نشانیوں) کے ساتھ ظلم کیا (انکار کر دیا) دیکھو مفسدین کا کیا برا انجام ہوا؟

Verse 104 — Surah Al-Araf 7:104

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں۔

Verse 105 — Surah Al-Araf 7:105

میرے لئے ضروری ہے کہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہوں میں تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں۔ پس تو بنی اسرائیل کو (آزاد کرکے) میرے ساتھ بھیج دے۔

Verse 106 — Surah Al-Araf 7:106

فرعون نے کہا اگر تم کوئی معجزہ لائے ہو تو اگر تم سچے ہو تو اسے پیش کرو۔

Verse 107 — Surah Al-Araf 7:107

پس انہوں نے اپنا عصا پھینک دیا اور وہ یکایک کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔

Verse 108 — Surah Al-Araf 7:108

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا۔ تو وہ ایک دم دیکھنے والوں کے لیے سفید اور روشن تھا۔

Verse 109 — Surah Al-Araf 7:109

قومِ فرعون کے سرداروں نے (یہ منظر دیکھ کر) کہا کہ یہ شخص (موسیٰ) بڑا ماہر جادوگر ہے۔

Verse 110 — Surah Al-Araf 7:110

(اس پر فرعون نے کہا) یہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دینا چاہتا ہے تو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟

Verse 111 — Surah Al-Araf 7:111

ان لوگوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی کو روک رکھیے۔ اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے۔

Verse 112 — Surah Al-Araf 7:112

جو ہر بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں۔

Verse 113 — Surah Al-Araf 7:113

چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آگئے تو یقینا ہم ایک بڑے معاوضے کے حقدار ہوں گے۔

Verse 114 — Surah Al-Araf 7:114

فرعون نے کہا ہاں۔ اور اس کے علاوہ تم ہمارے مقرب بارگاہ لوگوں میں سے ہو جاؤگے۔

Verse 115 — Surah Al-Araf 7:115

انہوں نے کہا اے موسیٰ یا تم (پہلے) پھینکو یا پھر ہم ہی پھینکتے ہیں۔

Verse 116 — Surah Al-Araf 7:116

انہوں نے (جواب میں) کہا تم ہی پھینکو! پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کر دیا (ان کی نظر بندی کر دی) اور انہیں خوف زدہ کر دیا اور انہوں نے بڑا زبردست جادو پیش کیا۔

Verse 117 — Surah Al-Araf 7:117

ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا پھینکو۔ تو یکایک وہ (اژدھا بن کر) ان کے طلسموں (جادو کے جھوٹے سانپوں) کو نگلنے لگا۔

Verse 118 — Surah Al-Araf 7:118

(نتیجہ یہ نکلا کہ) حق ثابت ہوگیا۔ اور جو جھوٹے کاروائی کر رہے تھے وہ باطل ہوگئی۔

Verse 119 — Surah Al-Araf 7:119

اس طرح وہ (فرعون اور فرعونی) مغلوب ہوئے اور ذلیل و رسوا ہوکر رہ گئے۔

Verse 120 — Surah Al-Araf 7:120

اور تمام جادوگر (کسی غیبی طاقت سے) سجدہ میں گرا دیئے گئے۔

Verse 121 — Surah Al-Araf 7:121

اور کہنے لگے ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لائے۔

Verse 122 — Surah Al-Araf 7:122

جو موسیٰ و ہارون کا پروردگار ہے۔

Verse 123 — Surah Al-Araf 7:123

فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش ہے جو تم لوگوں نے کی ہے۔ تاکہ تم شہر کے باشندوں کو اس سے باہر نکالو۔ عنقریب تمہیں (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔

Verse 124 — Surah Al-Araf 7:124

میں تمہارے ہاتھ پاؤں کو مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔

Verse 125 — Surah Al-Araf 7:125

انہوں نے کہا (ہمیں کیا پروا ہے) ہم لوگ بہرحال اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔

Verse 126 — Surah Al-Araf 7:126

اور تم ہم سے صرف اس بات کا انتقام لینا چاہتے ہو کہ ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان لائے ہیں جب وہ ہمارے پاس آئی ہیں۔ (پھر یوں دعا کی) اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے سچے مسلمان (فرمانبردار) ہوں۔

Verse 127 — Surah Al-Araf 7:127

قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا! تو موسیٰ اور اس کی قوم کے آدمیوں کو اس لئے چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلاتے رہیں اور تمہیں اور تمہارے معبودوں کو چھوڑتے رہیں۔ اس (فرعون) نے (چین بجبین ہوکر) کہا ہم عنقریب ان کے لڑکوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم (پوری طرح) ان پر غالب ہیں۔

Verse 128 — Surah Al-Araf 7:128

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا! تم اللہ سے مدد طلب کرو۔ اور صبر و تحمل سے کام لو بے شک زمین اللہ کی ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اچھا انجام تو پرہیزگاروں کا ہی ہے۔

Verse 129 — Surah Al-Araf 7:129

ان لوگوں (بنی اسرائیل) نے کہا ہم آپ کے آنے سے پہلے بھی ستائے جاتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ انہوں نے کہا! عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنائے گا (تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا) تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟

Verse 130 — Surah Al-Araf 7:130

اور ہم نے فرعونیوں کو قحط اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں گرفتار کیا کہ شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔

Verse 131 — Surah Al-Araf 7:131

(مگر ان کی حالت یہ تھی کہ) جب خوش حالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارا حق ہے اور جب بدحالی آتی تو اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست اور فالِ بد قرار دیتے۔ حالانکہ ان کی نحوست اور بدشگونی خدا کے ہاں ہے لیکن اکثر لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔

Verse 132 — Surah Al-Araf 7:132

اور انہوں نے (موسیٰ سے) کہا تم جو بھی نشانی (معجزہ) ہمارے سامنے لے آؤ اور اس سے ہمیں مسحور کرنا چاہو ہم پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

Verse 133 — Surah Al-Araf 7:133

پھر ہم نے بھیجا ان پر عذاب، طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں اور خون (کی صورت میں) یہ کھلی ہوئی نشانیاں تھیں مگر وہ پھر بھی تکبر اور سرکشی ہی کرتے رہے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔

Verse 134 — Surah Al-Araf 7:134

اور جب کبھی ان پر کوئی عذاب نازل ہوتا تو کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جس کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر تم نے یہ عذاب ہم سے ٹلوا دیا۔ تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔

Verse 135 — Surah Al-Araf 7:135

تو جب ہم وہ عذاب ایک مقررہ مدت تک ہٹا دیتے جس تک وہ بہرحال پہنچنے والے تھے۔ تو وہ اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان کو توڑ دیتے۔

Verse 136 — Surah Al-Araf 7:136

تب ہم نے ان سے اس طرح انتقام لیا کہ انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی طرف سے غفلت برتتے تھے۔

Verse 137 — Surah Al-Araf 7:137

اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو وارث (اور مالک) بنایا جن کو کمزور سمجھا جاتا تھا۔ اور وارث بھی اس مشرق و مغرب کا بنایا جس میں ہم نے برکت دی ہے اور اسی طرح آپ کے پروردگار کا وہ اچھا وعدہ پورا ہوگیا جو اس نے بنی اسرائیل سے کیا تھا کیونکہ انہوں نے صبر و ضبط سے کام لیا تھا اور ہم نے اسے مٹا دیا جو کچھ فرعون اور اس کی قوم والے کرتے تھے اور برباد کر دیئے وہ اونچے مکان جو وہ تعمیر کرتے تھے۔

Verse 138 — Surah Al-Araf 7:138

اور جب ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے اس پار اتار دیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جو اپنے (خود ساختہ) معبودوں کی پرستش میں مگن بیٹھی تھی۔ انہوں نے کہا اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک الٰہ بنا دیں جیسے ان کے الٰہ ہیں۔ موسیٰ نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔

Verse 139 — Surah Al-Araf 7:139

جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ یقینا تباہ ہو کر رہے گا۔ اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ باطل ہوکر رہے گا۔

Verse 140 — Surah Al-Araf 7:140

کہا: کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی (اور) خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں تمام جہانوں کی قوموں پر فضیلت دی۔

Verse 141 — Surah Al-Araf 7:141

اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات عطا کی۔ جو تمہیں بدترین عذاب کا مزہ چکھاتے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

Verse 142 — Surah Al-Araf 7:142

اور ہم نے موسیٰ سے (توراۃ دینے کے لیے) تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اسے مزید دس (راتوں) سے مکمل کیا۔ اس طرح ان کے پروردگار کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوگئی اور جناب موسیٰ نے (کوہ طور پر جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہا تم میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو۔ اور اصلاح کرتے رہو اور (خبردار) مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔

Verse 143 — Surah Al-Araf 7:143

اور جب جنابِ موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آگئے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا۔ تو انہوں نے کہا پروردگار! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف نگاہ کر سکوں۔ ارشاد ہوا تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکوگے۔ مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر یہ (تجلئِ حق کے وقت) اپنی جگہ پر برقرار رہا تو پھر امید کرنا کہ مجھے دیکھ سکوگے پس جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر گئے۔ اور جب ہوش میں آئے تو بولے پاک ہے تیری ذات! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں (کہ تو نظر نہیں آتا)۔

Verse 144 — Surah Al-Araf 7:144

ارشاد ہوا اے موسیٰ میں نے تمہیں اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیے تمام لوگوں سے منتخب کیا ہے پس جو چیز (توراۃ) میں نے تمہیں عطا کی ہے اسے لو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔

Verse 145 — Surah Al-Araf 7:145

اور ہم نے موسیٰ کے لیے ان تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی ہے۔ پس اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو لے لیں (اس کے احکام پر کاربند ہو جائیں) میں عنقریب تم لوگوں کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھا دوں گا۔

Verse 146 — Surah Al-Araf 7:146

جو لوگ ناحق خدا کی زمین میں سرکشی کرتے ہیں میں اپنی نشانیوں سے ان کی نگاہیں پھرا دوں گا۔ وہ اگر ہر معجزہ بھی دیکھ لیں۔ تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھ بھی لیں تو اسے اپنا راستہ نہیں بنائیں گے۔ اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو (فوراً) اسے (اپنا) راستہ بنا لیں گے ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتتے رہے۔

Verse 147 — Surah Al-Araf 7:147

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے پس انہیں جزا یا سزا نہیں دی جائے گی مگر انہی اعمال کی جو وہ (دار دنیا میں) کرتے تھے۔

Verse 148 — Surah Al-Araf 7:148

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے (کوہِ طور پر چلے جانے کے) بعد اپنے زیوروں سے (ان کو گلا کر) ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا (نہ سوچا) کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی راہنمائی کر سکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ (اپنے اوپر) سخت ظلم کرنے والے تھے۔

Verse 149 — Surah Al-Araf 7:149

پھر جب وہ نادم ہوئے اور کفِ افسوس مَلنے لگے اور محسوس کیا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

Verse 150 — Surah Al-Araf 7:150

اور جب موسیٰ خشمناک اور افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے۔ تو فرمایا: اے قوم! تم نے میرے بعد بہت ہی بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کر لی (وعدہ خداوندی چالیس راتوں کے پورا ہونے کی انتظار بھی نہ کی) اور پھر (للہی جوش میں آخر تورات کی) تختیاں (ہاتھ سے) پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کا سر ہاتھ میں لے کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا اے میرے ماں جائے! قوم نے مجھے کمزور اور بے بس کر دیا تھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں پس تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔ اور نہ ہی مجھے ظالم گروہ کے ساتھ شامل کرو۔

Verse 151 — Surah Al-Araf 7:151

تب موسیٰ نے کہا۔ پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں میں سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 152 — Surah Al-Araf 7:152

بے شک جن لوگوں نے گو سالہ کو (اپنا معبود) بنایا۔ عنقریب ان پر ان کے پروردگار کا غضب نازل ہوگا۔ اور وہ دنیاوی زندگی میں ذلیل و رسوا ہوں گے اور ہم بہتان باندھنے والوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

Verse 153 — Surah Al-Araf 7:153

اور جو لوگ برے کام کریں اور پھر توبہ کر لیں۔ اور ایمان لے آئیں تو یقینا تمہارا پروردگار اس (توبہ و ایمان) کے بعد بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

Verse 154 — Surah Al-Araf 7:154

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا۔ تو انہوں نے تختیاں اٹھا لیں تو ان کی کتابت (تحریر) میں اپنے پروردگار سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت تھی۔

Verse 155 — Surah Al-Araf 7:155

ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہونے کے لیے موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا پھر جب ایک سخت زلزلہ نے انہیں آپکڑا (اور وہ ہلاک ہوگئے) تو موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار اگر تو چاہتا تو ان سب کو پہلے ہی ہلاک کر دیتا اور مجھے بھی۔ کیا تو ایسی بات کی وجہ سے جو ہمارے چند احمقوں نے کی ہے ہم سب کو ہلاک کرتا ہے؟ یہ نہیں ہے مگر تیری طرف سے ایک آزمائش! اس کی وجہ سے تو جسے چاہتا ہے (توفیق سلب کرکے) گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے تو ہی ہمارا ولی و سرپرست ہے۔ ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین مغفرت کرنے والا ہے۔

Verse 156 — Surah Al-Araf 7:156

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں (ہم نے تجھ سے لو لگائی ہے) ارشاد ہوا (میرے عذاب کا یہ حال ہے کہ) جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں اور میری رحمت (کا یہ حال ہے کہ وہ) ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ پس میں رحمت ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کریں گے (برائیوں سے بچیں گے) اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور ہماری آیتوں (نشانیوں) پر ایمان لے آئیں گے۔

Verse 157 — Surah Al-Araf 7:157

جو اس پیغمبر(ص) کی پیروی کریں گے جو نبیِ امی ہے جسے وہ اپنے ہاں توراۃ و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو انہیں نیک کاموں کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے جو ان کے لیے پاک و پسندیدہ چیزوں کو حلال اور گندی و ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اور ان پر سے ان کے بوجھ اتارتا ہے اور وہ زنجیریں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ پس جو لوگ اس (نبیِ امی) پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم کی اور اس کی مدد و نصرت کی اور اس نور (روشنی) کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے یہی لوگ فوز و فلاح پانے والے ہیں۔

Verse 158 — Surah Al-Araf 7:158

اے پیغمبر! (لوگوں سے) کہو اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ جس کے لیے سارے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے پس اللہ پر ایمان لاؤ۔ اور اس کے نبیِ امی رسول پر۔ جو خود بھی اللہ اور اس کے کلمات (کتابوں) پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

Verse 159 — Surah Al-Araf 7:159

اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو لوگوں کو حق کے راستہ پر چلاتا ہے اور حق کے ساتھ منصفانہ فیصلہ کرتا ہے۔

Verse 160 — Surah Al-Araf 7:160

اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو بارہ خاندانوں کے بارہ گروہوں میں تقسیم کر دیا اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی جب ان کی قوم نے ان سے پینے کے لیے پانی مانگا کہ ایک (خاص) چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر لیا اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا اور (غذا کے لیے) ان پر من و سلویٰ نازل کیا (اور ان سے کہا) کھاؤ ان پاک اور پسندیدہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔ انہوں نے (نافرمانی و ناشکری کرکے) ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے ہی اوپر ظلم و زیادتی کرتے رہے۔

Verse 161 — Surah Al-Araf 7:161

(وہ وقت یاد کرو) جب ان (بنی اسرائیل) سے کہا گیا کہ اس گاؤں میں جاکر آباد ہو جاؤ اور وہاں جہاں سے تمہارا جی چاہے (غذا حاصل کرکے) کھاؤ اور حطۃ حطۃ کہتے ہوئے سجدہ ریز ہوکر (عاجزی سے جھکے ہوئے) شہر کے دروازہ میں داخل ہو جاؤ۔ تو ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ اور جو نیک کردار ہیں ان کو مزید اجر سے نوازیں گے۔

Verse 162 — Surah Al-Araf 7:162

مگر ان میں سے جو ظالم تھے انہوں نے وہ کلمہ بدل دیا ایسے کلمہ سے جو مختلف تھا اس کلمہ سے جو ان سے کہا گیا تھا (اور حطۃ کی جگہ حنطہ حنطہ کہنا شروع کیا، ان کی اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ہم نے آسمان سے ان پر عذاب بھیجا۔ اس ظلم کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔

Verse 163 — Surah Al-Araf 7:163

اور (اے پیغمبر) ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ جبکہ وہ (بنی اسرائیل) ہفتہ کے دن خدا کی مقرر کردہ حد سے باہر ہو جاتے تھے۔ جبکہ ہفتہ کے دن مچھلیاں ابھر ابھر کر سطح آب پر تیرتی ہوئی آجاتی تھیں اور جس دن ہفتہ نہیں ہوتا ہے (باقی دنوں میں) تو نہیں آتی تھیں۔ ان کی نافرمانی کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے اس طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے۔

Verse 164 — Surah Al-Araf 7:164

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ان لوگوں سے جو ہفتہ کے دن شکار کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے) کہ تم ایسے لوگوں کو (بے فائدہ) کیوں نصیحت کرتے ہو۔ جن کو خدا ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا کہ ہم یہ اس لیے کرتے ہیں کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت پیش کر سکیں (کہ ہم نے اپنا فریضۂ امر و نہی ادا کر دیا ہے) اور اس لئے کہ شاید یہ لوگ اس روش سے پرہیز اختیار کریں۔

Verse 165 — Surah Al-Araf 7:165

آخرکار جب ان لوگوں نے وہ تمام نصیحتیں بھلا دیں جو ان کو کی گئی تھیں تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے رہتے تھے اور باقی سب ظالموں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے سخت عذاب میں گرفتار کیا۔

Verse 166 — Surah Al-Araf 7:166

(جب یہ عذاب بھی ان کو سرکشی سے باز نہ رکھ سکا) اور وہ برابر سرکشی کرتے چلے گئے ان چیزوں کے بارے میں جن سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے کہا بندر ہو جاؤ ذلیل اور راندے ہوئے۔

Verse 167 — Surah Al-Araf 7:167

اور (اے پیغمبر(ص)) یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان کر دیا تھا (کہ اگر یہ لوگ اپنی سیاہ کاریوں سے باز نہ آئے) تو خدا ان پر قیامت تک ایسے لوگ مسلط کرے گا جو انہیں بدترین عذاب میں گرفتار کریں گے یقینا تمہارا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔

Verse 168 — Surah Al-Araf 7:168

اور ہم نے ان کو زمین میں مختلف فرقوں کی صورت میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ان میں سے ناپائیدار ہوگا کچھ لوگ تو نیک ہیں اور کچھ اس کے خلاف اور طرح کے (بدکار) ہیں۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات میں مبتلا کرکے آزماتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔

Verse 169 — Surah Al-Araf 7:169

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے اور کتابِ الٰہی کے وارث بنے جو (دین فروشی کرکے) دنیائے دوں کے مال و متاع اور ساز و سامان جمع کرتے اور سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امید ہے کہ ہم بخش دیے جائیں گے اور اگر اتنا ہی اور عارضی ساز و سامان ان کے ہاتھ لگ جائے تو اسے بھی بے دریغ لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب (توراۃ) والا یہ عہد و پیمان نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی نسبت حق کے سوا اور کوئی بات نہیں کہیں گے؟ اور یہ خود کتاب میں پڑھ چکے ہیں جو اس میں لکھا ہے اور آخرت والا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

Verse 170 — Surah Al-Araf 7:170

اور جو لوگ کتابِ الٰہی سے تمسک رکھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔ بے شک ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کریں گے۔

Verse 171 — Surah Al-Araf 7:171

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر (اور جڑ سے اکھاڑ کر)۔ اس طرح ان کے اوپر بلند کیا۔ کہ گویا سائبان ہے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ( اور ان سے کہا کہ) جو کچھ (کتاب) ہم نے تمہیں عطا کی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ لو۔ اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

Verse 172 — Surah Al-Araf 7:172

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا (جو نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والی تھی) اور ان کو خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا ہاں بے شک ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے (یہ کاروائی اس لئے کی تھی کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔

Verse 173 — Surah Al-Araf 7:173

یا کہو کہ (خدایا) شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل سے تھے (اس لئے لاچار ان کی روش پر چل پڑے) تو کیا تو ہمیں اس (شرک) کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو باطل پرستوں نے کیا تھا۔

Verse 174 — Surah Al-Araf 7:174

اسی طرح ہم اپنی نشانیاں تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ (حق کی طرف) رجوع کریں۔

Verse 175 — Surah Al-Araf 7:175

اے رسول(ص)) ان لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان کرو جس کو ہم نے اپنی بعض نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے عاری ہوگیا (وہ جامہ اتار دیا) پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ اور آخرکار وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔

Verse 176 — Surah Al-Araf 7:176

اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں کی وجہ سے اس کا مرتبہ بلند کرتے۔ مگر وہ تو زمین (پستی) کی طرف جھک گیا۔ اور اپنی خواہشِ نفس کا پیرو ہوگیا۔ تو اب اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی ہانپتا ہے اور یونہی چھوڑ دو تب بھی ایسا کرتا ہے۔ (زبان لٹکائے ہانپتا ہے) یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا (اے رسول) تم یہ قصص و حکایات سناتے رہو شاید وہ غور و فکر کریں۔

Verse 177 — Surah Al-Araf 7:177

کیا بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ اور جو خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔

Verse 178 — Surah Al-Araf 7:178

جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔

Verse 179 — Surah Al-Araf 7:179

اور کتنے جن و انسان ایسے ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے (یعنی ان کا انجامِ کار جہنم ہے) ان کے دل و دماغ ہیں مگر سوچتے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ (اور گئے گزرے) ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل و بے خبر ہیں۔

Verse 180 — Surah Al-Araf 7:180

اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں اسے انہی کے ذریعہ سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں۔ عنقریب انہیں ان کے کئے کا بدلہ مل جائے گا۔

Verse 181 — Surah Al-Araf 7:181

ہماری مخلوق میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور اسی کے مطابق (لوگوں کا) فیصلہ کرتا ہے۔

Verse 182 — Surah Al-Araf 7:182

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا ہم انہیں بتدریج (آہستہ آہستہ ان کے انجام بد کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں اس کی خبر تک نہ ہوگی۔

Verse 183 — Surah Al-Araf 7:183

اور میں انہیں ڈھیل دیتا ہوں بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

Verse 184 — Surah Al-Araf 7:184

کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ان کے ساتھی (پیغمبر اسلام(ص)) میں ذرا بھی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس کھلم کھلا (خدا کے عذاب سے) ڈرانے والا ہے۔

Verse 185 — Surah Al-Araf 7:185

کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں اور ان چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اور کبھی نظر اٹھا کر ان کو نہیں دیکھا؟ اور اس بات پر کہ شاید ان کا (مقررہ) وقت آگیا ہو۔ تو اب وہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟

Verse 186 — Surah Al-Araf 7:186

جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کو کوئی ہدایت نہیں کر سکتا اور وہ (خدا) انہیں چھوڑ دیتا ہے تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

Verse 187 — Surah Al-Araf 7:187

(اے رسول) لوگ آپ سے قیامت کی گھڑی کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار کے ہی پاس ہے اسے اس کا وقت آنے پر وہی ظاہر کرے گا۔ وہ گھڑی آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری ہے (وہ بڑا بھاری حادثہ ہے جو ان میں رونما ہوگا) وہ نہیں آئے گی تمہارے پاس مگر اچانک۔ لوگ اس طرح آپ سے پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیق اور کاوش میں لگے ہوئے ہیں؟ کہہ دو۔ کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ حقیقت جانتے نہیں ہیں۔

Verse 188 — Surah Al-Araf 7:188

اے رسول(ص)) کہہ دو۔ کہ میں اپنے نفع و نقصان پر کوئی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو بہت سے فائدے حاصل کر لیتا اور (زندگی میں) مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو بس (نافرمانوں کو) ڈرانے والا اور ایمانداروں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔

Verse 189 — Surah Al-Araf 7:189

اللہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک متنفس (جاندار) سے پیدا کیا۔ اور پھر اس کی جنس سے اس کا جوڑا (شریک حیات) بنایا۔ تاکہ وہ (اس کی رفاقت میں) سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد عورت کو ڈھانک لیتا ہے۔ تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے جسے لئے وہ چلتی پھرتی رہتی ہے اور جب وہ بوجھل ہو جاتی ہے (وضعِ حمل کا وقت آجاتا ہے) تو دونوں (میاں بیوی) اپنے اللہ سے جو ان کا پروردگار ہے دعا مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں صحیح و سالم اولاد دے دی تو ہم تیرے بڑے شکر گزار ہوں گے۔

Verse 190 — Surah Al-Araf 7:190

مگر جب وہ ان دونوں کو صحیح و سالم فرزند عطا کر دیتا ہے۔ تو یہ دونوں اس کی عطا کردہ چیز (اولاد) میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے جو مشرک کرتے ہیں۔

Verse 191 — Surah Al-Araf 7:191

آیا یہ ان کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود کسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔

Verse 192 — Surah Al-Araf 7:192

اور وہ نہ ان کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی مدد پر قادر ہیں۔

Verse 193 — Surah Al-Araf 7:193

اور اگر تم ان کو سیدھے راستہ کی طرف بلاؤ تو وہ تمہارے پیچھے قدم نہیں اٹھا سکتے۔ تمہارے لئے برابر ہے کہ ان کو بلاؤ یا خاموش رہو (دونوں باتوں کا نتیجہ ایک ہی ہے)۔

Verse 194 — Surah Al-Araf 7:194

(اے کافرو) یقینا وہ جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر (اور خدا سمجھ کر) پکارتے ہو وہ تمہاری ہی طرح (خدا کے) بندے ہیں۔ اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو (کہ ان میں مافوقِ بشریت طاقتیں ہیں) تو انہیں پکارو۔ پھر تو انہیں چاہیے کہ تمہاری دعا و پکار کا جواب دیں۔

Verse 195 — Surah Al-Araf 7:195

آیا ان (بتوں) کے پاؤں ہیں کہ جن سے وہ چلتے ہوں آیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہوں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں اور کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں۔ (اے پیغمبر(ص)) کہو کہ تم اپنے تمام شریکوں کو پکارو۔ پھر میرے خلاف سب تدبیریں کرو اور مجھے بالکل مہلت نہ دو۔

Verse 196 — Surah Al-Araf 7:196

میرا ولی و سرپرست وہ اللہ ہے جس نے (یہ) کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک بندوں کا سرپرست اور کارساز ہے۔

Verse 197 — Surah Al-Araf 7:197

اور جنہیں تم اللہ کے سوا خدا پکارتے ہو۔ وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔

Verse 198 — Surah Al-Araf 7:198

اور اگر انہیں سیدھے راستہ کی دعوت دو تو وہ تمہاری بات سنتے نہیں ہیں اور تم انہیں دیکھوگے کہ گویا وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔

Verse 199 — Surah Al-Araf 7:199

اے نبی(ص)) عفو و درگزر سے کام لو۔ اور نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے روگردانی کریں (ان سے نہ الجھیں)۔

Verse 200 — Surah Al-Araf 7:200

اور اگر شیطان کی طرف سے جوش دلانے کی کوئی کوشش ہو تو خدا سے پناہ مانگیں۔ یقینا وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔

Verse 201 — Surah Al-Araf 7:201

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب انہیں کوئی شیطانی خیال چھو بھی جائے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں اور یادِ الٰہی میں لگ جاتے ہیں اور ان کی بصیرت تازہ ہو جاتی ہے (اور حقیقتِ حال کو دیکھنے لگتے ہیں)۔

Verse 202 — Surah Al-Araf 7:202

اور جو شیطانوں کے بھائی بند ہیں تو وہ (شیاطینِ انسی و جنی) ان کو گمراہی میں کھینچتے لئے جاتے ہیں اور (انہیں گمراہ کرتے ہیں) کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

Verse 203 — Surah Al-Araf 7:203

اے پیغمبر(ص)) جب تم ان کے سامنے (ان کا کوئی مطلوبہ) معجزہ لے کر نہ جاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے خود کوئی معجزہ کیوں نہ منتخب کر لیا؟ (یعنی اپنی مرضی سے کیوں نہ بنا لیا؟) کہہ دیجیے کہ میں تو صرف اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے (اس میں میری پسند کا کیا دخل؟) یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے سامانِ ہدایت اور سراسر رحمت ہے۔

Verse 204 — Surah Al-Araf 7:204

اور (اے مسلمانو) جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کر (توجہ سے) سنو اور خاموش ہو جاؤ تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔

Verse 205 — Surah Al-Araf 7:205

اور (اے پیغمبر(ص)) صبح و شام اپنے پروردگار کو یاد کرو۔ اپنے دل میں عجز و انکساری اور خوف و ہراس کے ساتھ۔ اور زبان سے بھی چِلائے بغیر (یعنی دھیمی آواز کے ساتھ) اور (یادِ خدا سے) غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

Verse 206 — Surah Al-Araf 7:206

جو تمہارے پروردگار کے خاص مقرب ہیں وہ کبھی اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور اس کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں (اس کی پاکی بیان کرتے ہیں)اور اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہوتے ہیں۔