Back to Languages

Urdu - Chapter 29 - Al-Ankabut

Translation by Muhammad Junagarhi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Ankabut 29:1

Verse 2 — Surah Al-Ankabut 29:2

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟

Verse 3 — Surah Al-Ankabut 29:3

ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں

Verse 4 — Surah Al-Ankabut 29:4

کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وه ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے، یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں

Verse 5 — Surah Al-Ankabut 29:5

جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے

Verse 6 — Surah Al-Ankabut 29:6

اور ہر ایک کوشش کرنے واﻻ اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے

Verse 7 — Surah Al-Ankabut 29:7

اور جن لوگوں نے یقین کیا اور مطابق سنت کام کیے ہم ان کے تمام گناہوں کو ان سے دور کر دیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے

Verse 8 — Surah Al-Ankabut 29:8

ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا

Verse 9 — Surah Al-Ankabut 29:9

اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے انہیں میں اپنے نیک بندوں میں شمار کر لوں گا

Verse 10 — Surah Al-Ankabut 29:10

اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں لیکن جب اللہ کی راه میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالیٰ دانا نہیں ہے؟

Verse 11 — Surah Al-Ankabut 29:11

جو لوگ ایمان ﻻئے اللہ انہیں بھی ﻇاہر کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی ﻇاہر کرکے رہے گا

Verse 12 — Surah Al-Ankabut 29:12

کافروں نے ایماں والوں سے کہا کہ تم ہماری راه کی تابعداری کرو تمہارے گناه ہم اٹھا لیں گے، حاﻻنکہ وه ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے، یہ تو محض جھوٹے ہیں

Verse 13 — Surah Al-Ankabut 29:13

البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی۔ اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی

Verse 14 — Surah Al-Ankabut 29:14

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے، پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وه تھے بھی ﻇالم

Verse 15 — Surah Al-Ankabut 29:15

پھر ہم نے انہیں اور کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا

Verse 16 — Surah Al-Ankabut 29:16

اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اوراس سے ڈرتے رہو، اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے

Verse 17 — Surah Al-Ankabut 29:17

تم تو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔ سنو! جن جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وه تو تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

Verse 18 — Surah Al-Ankabut 29:18

اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے

Verse 19 — Surah Al-Ankabut 29:19

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعاده کرے گا، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت ہی آسان ہے

Verse 20 — Surah Al-Ankabut 29:20

کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

Verse 21 — Surah Al-Ankabut 29:21

جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے، سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

Verse 22 — Surah Al-Ankabut 29:22

تم نہ تو زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار

Verse 23 — Surah Al-Ankabut 29:23

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

Verse 24 — Surah Al-Ankabut 29:24

ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو۔ آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا، اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں

Verse 25 — Surah Al-Ankabut 29:25

(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے، تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے۔ اور تمہارا سب کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا

Verse 26 — Surah Al-Ankabut 29:26

پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان ﻻئے اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے واﻻ ہوں۔ وه بڑا ہی غالب اور حکیم ہے

Verse 27 — Surah Al-Ankabut 29:27

اور ہم نے انھیں (ابراہیم کو) اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اوﻻد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ﺛواب دیا اور آخرت میں تو وه صالح لوگوں میں سے ہیں

Verse 28 — Surah Al-Ankabut 29:28

اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا

Verse 29 — Surah Al-Ankabut 29:29

کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ

Verse 30 — Surah Al-Ankabut 29:30

حضرت لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما

Verse 31 — Surah Al-Ankabut 29:31

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں، یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں

Verse 32 — Surah Al-Ankabut 29:32

(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا اس میں تو لوط (علیہ السلام) ہیں، فرشتوں نے کہا یہاں جو ہیں ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے خاندان کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچالیں گے، البتہ وه عورت پیچھے ره جانے والوں میں سے ہے

Verse 33 — Surah Al-Ankabut 29:33

پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی

Verse 34 — Surah Al-Ankabut 29:34

ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ یہ بےحکم ہو رہے ہیں

Verse 35 — Surah Al-Ankabut 29:35

البتہ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنا دیا ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں

Verse 36 — Surah Al-Ankabut 29:36

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو

Verse 37 — Surah Al-Ankabut 29:37

پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وه اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے مرده ہو کر ره گئے

Verse 38 — Surah Al-Ankabut 29:38

اور ہم نے عادیوں اور ﺛمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ﻇاہر ہیں اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راه سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے

Verse 39 — Surah Al-Ankabut 29:39

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے

Verse 40 — Surah Al-Ankabut 29:40

پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے

Verse 41 — Surah Al-Ankabut 29:41

جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وه بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حاﻻنکہ تمام گھروں سے زیاده بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے، کاش! وه جان لیتے

Verse 42 — Surah Al-Ankabut 29:42

اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وه اس کے سوا پکار رہے ہیں، وه زبردست اور ذی حکمت ہے

Verse 43 — Surah Al-Ankabut 29:43

ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں

Verse 44 — Surah Al-Ankabut 29:44

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، ایمان والوں کے لیے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے

Verse 45 — Surah Al-Ankabut 29:45

جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے

Verse 46 — Surah Al-Ankabut 29:46

اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں

Verse 47 — Surah Al-Ankabut 29:47

اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه اس پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں

Verse 48 — Surah Al-Ankabut 29:48

اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے اور نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک وشبہ میں پڑتے

Verse 49 — Surah Al-Ankabut 29:49

بلکہ یہ (قرآن) تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں، ہماری آیتوں کا منکر بجز ﻇالموں کے اور کوئی نہیں

Verse 50 — Surah Al-Ankabut 29:50

انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں

Verse 51 — Surah Al-Ankabut 29:51

کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرما دی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں

Verse 52 — Surah Al-Ankabut 29:52

کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں

Verse 53 — Surah Al-Ankabut 29:53

یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا

Verse 54 — Surah Al-Ankabut 29:54

یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے

Verse 55 — Surah Al-Ankabut 29:55

اس دن ان کے اوپر تلے سے عذاب ڈھانﭗ رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزه چکھو

Verse 56 — Surah Al-Ankabut 29:56

اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو

Verse 57 — Surah Al-Ankabut 29:57

ہر جاندار موت کا مزه چکھنے واﻻ ہےاور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے

Verse 58 — Surah Al-Ankabut 29:58

اور جولوگ ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے انہیں ہم یقیناً جنت کے ان باﻻ خانوں میں جگہ دینگے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں جہاں وه ہمیشہ رہیں گے، کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے

Verse 59 — Surah Al-Ankabut 29:59

وه جنہوں نے صبر کیا، اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں

Verse 60 — Surah Al-Ankabut 29:60

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے

Verse 61 — Surah Al-Ankabut 29:61

اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں

Verse 62 — Surah Al-Ankabut 29:62

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے

Verse 63 — Surah Al-Ankabut 29:63

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیں کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں سے اکثر بے عقل ہیں

Verse 64 — Surah Al-Ankabut 29:64

اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے

Verse 65 — Surah Al-Ankabut 29:65

پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں

Verse 66 — Surah Al-Ankabut 29:66

تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں۔ ابھی ابھی پتہ چل جائے گا

Verse 67 — Surah Al-Ankabut 29:67

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حاﻻنکہ ان کے اردگرد سے لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں

Verse 68 — Surah Al-Ankabut 29:68

اور اس سے بڑا ﻇالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آجائے وه اسے جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟

Verse 69 — Surah Al-Ankabut 29:69

اور جو لوگ ہماری راه میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے