Verse 1 — Surah Sad 38:1
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم
Verse 2 — Surah Sad 38:2
بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں
Verse 3 — Surah Sad 38:3
ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباه کر ڈاﻻ انہوں نے ہر چند چیﺦ وپکار کی لیکن وه وقت چھٹکارے کا نہ تھا
Verse 4 — Surah Sad 38:4
اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے
Verse 5 — Surah Sad 38:5
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے
Verse 6 — Surah Sad 38:6
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے
Verse 7 — Surah Sad 38:7
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے
Verse 8 — Surah Sad 38:8
کیا ہم سب میں سے اسی پر کلام الٰہی نازل کیا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ (صحیح یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرا عذاب چکھا ہی نہیں
Verse 9 — Surah Sad 38:9
یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں
Verse 10 — Surah Sad 38:10
یا کیا آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی بادشاہت ان ہی کی ہے، تو پھر یہ رسیاں تان کر چڑھ جائیں
Verse 11 — Surah Sad 38:11
یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے
Verse 12 — Surah Sad 38:12
ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا
Verse 13 — Surah Sad 38:13
اور ﺛمود نے اور قوم لوط نے اور ایکہ کے رہنے والوں نے بھی، یہی (بڑے) لشکر تھے
Verse 14 — Surah Sad 38:14
ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے رسولوں کی تکذیب نہ کی ہو پس میری سزا ان پر ﺛابت ہوگئی
Verse 15 — Surah Sad 38:15
انہیں صرف ایک چیﺦ کا انتظار ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے
Verse 16 — Surah Sad 38:16
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے
Verse 17 — Surah Sad 38:17
آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا
Verse 18 — Surah Sad 38:18
ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں
Verse 19 — Surah Sad 38:19
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے
Verse 20 — Surah Sad 38:20
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت دی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا
Verse 21 — Surah Sad 38:21
اور کیا تجھے جھگڑا کرنے والوں کی (بھی) خبر ملی؟ جبکہ وه دیوار پھاند کر محراب میں آگئے
Verse 22 — Surah Sad 38:22
جب یہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، پس یہ ان سے ڈر گئے، انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے! ہم دو فریق مقدمہ ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور ناانصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راه بتا دیجئے
Verse 23 — Surah Sad 38:23
(سنیے) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے لیکن یہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اپنی یہ ایک بھی مجھ ہی کو دے دے اور مجھ پر بات میں بڑی سختی برتتا ہے
Verse 24 — Surah Sad 38:24
آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا
Verse 25 — Surah Sad 38:25
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں
Verse 26 — Surah Sad 38:26
اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی، یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے
Verse 27 — Surah Sad 38:27
اور ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا، یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی۔
Verse 28 — Surah Sad 38:28
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دینگے؟
Verse 29 — Surah Sad 38:29
یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں
Verse 30 — Surah Sad 38:30
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا
Verse 31 — Surah Sad 38:31
جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کیے گئے
Verse 32 — Surah Sad 38:32
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا
Verse 33 — Surah Sad 38:33
ان (گھوڑوں) کو دوباره میرے سامنے ﻻؤ! پھر تو پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا
Verse 34 — Surah Sad 38:34
اور ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا
Verse 35 — Surah Sad 38:35
کہا کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے ﻻئق نہ ہو، تو بڑا ہی دینے واﻻ ہے
Verse 36 — Surah Sad 38:36
پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا اور آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی
Verse 37 — Surah Sad 38:37
اور (طاقت ور) جنات کو بھی (ان کا ماتحت کر دیا) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوطہ خور کو
Verse 38 — Surah Sad 38:38
اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے
Verse 39 — Surah Sad 38:39
یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں
Verse 40 — Surah Sad 38:40
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے
Verse 41 — Surah Sad 38:41
اور ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کر، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے رنج اور دکھ پہنچایا ہے
Verse 42 — Surah Sad 38:42
اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے
Verse 43 — Surah Sad 38:43
اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی (خاص) رحمت سے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے
Verse 44 — Surah Sad 38:44
اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ
Verse 45 — Surah Sad 38:45
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے
Verse 46 — Surah Sad 38:46
ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا
Verse 47 — Surah Sad 38:47
یہ سب ہمارے نزدیک برگزیده اور بہترین لوگ تھے
Verse 48 — Surah Sad 38:48
اسماعیل، یسع اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا بھی ذکر کر دیجئے۔ یہ سب بہترین لوگ تھے
Verse 49 — Surah Sad 38:49
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے
Verse 50 — Surah Sad 38:50
(یعنی ہمیشگی والی) جنتیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں
Verse 51 — Surah Sad 38:51
جن میں بافراغت تکیے لگائے بیٹھے ہوئے طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کی فرمائشیں کر رہے ہیں
Verse 52 — Surah Sad 38:52
اور ان کے پاس نیچی نظروں والی ہم عمر حوریں ہوں گی
Verse 53 — Surah Sad 38:53
یہ ہے جس کا وعده تم سے حساب کے دن کے لئے کیا جاتا تھا
Verse 54 — Surah Sad 38:54
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں
Verse 55 — Surah Sad 38:55
یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے
Verse 56 — Surah Sad 38:56
دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے
Verse 57 — Surah Sad 38:57
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ
Verse 58 — Surah Sad 38:58
اس کے علاوه اور طرح طرح کے عذاب
Verse 59 — Surah Sad 38:59
یہ ایک قوم ہے جو تمہارے ساتھ (آگ میں) جانے والی ہے، کوئی خوش آمدید ان کے لئے نہیں ہے یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں
Verse 60 — Surah Sad 38:60
وه کہیں گے بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے تم ہی نے تو اسے پہلے ہی سے ہمارے سامنے ﻻ رکھا تھا، پس رہنے کی بڑی بری جگہ ہے
Verse 61 — Surah Sad 38:61
وه کہیں گے اے ہمارے رب! جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے پہلے سے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی دگنی سزا کر دے
Verse 62 — Surah Sad 38:62
اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے
Verse 63 — Surah Sad 38:63
کیا ہم نے ہی ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ہماری نگاہیں ان سے ہٹ گئی ہیں
Verse 64 — Surah Sad 38:64
یقین جانو کہ دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہی ہوگا
Verse 65 — Surah Sad 38:65
کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں
Verse 66 — Surah Sad 38:66
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے
Verse 67 — Surah Sad 38:67
آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے
Verse 68 — Surah Sad 38:68
جس سے تم بے پرواه ہو رہے ہو
Verse 69 — Surah Sad 38:69
مجھے ان بلند قدر فرشتوں کی (بات چیت کا) کوئی علم ہی نہیں جبکہ وه تکرار کر رہے تھے
Verse 70 — Surah Sad 38:70
میری طرف فقط یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں تو صاف صاف آگاه کر دینے واﻻ ہوں
Verse 71 — Surah Sad 38:71
جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے واﻻ ہوں
Verse 72 — Surah Sad 38:72
سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں، تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا
Verse 73 — Surah Sad 38:73
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجده کیا
Verse 74 — Surah Sad 38:74
مگر ابلیس نے (نہ کیا)، اس نے تکبر کیا اور وه تھا کافروں میں سے
Verse 75 — Surah Sad 38:75
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
Verse 76 — Surah Sad 38:76
اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے
Verse 77 — Surah Sad 38:77
ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا
Verse 78 — Surah Sad 38:78
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے
Verse 79 — Surah Sad 38:79
کہنے لگا میرے رب مجھے لوگوں کے اٹھ کھڑے ہونے کے دن تک مہلت دے
Verse 80 — Surah Sad 38:80
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تو مہلت والوں میں سے ہے
Verse 81 — Surah Sad 38:81
متعین وقت کے دن تک
Verse 82 — Surah Sad 38:82
کہنے لگا پھر تو تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو یقیناً بہکا دوں گا
Verse 83 — Surah Sad 38:83
بجز تیرے ان بندوں کے جو چیده اور پسندیده ہوں
Verse 84 — Surah Sad 38:84
فرمایا سچ تو یہ ہے، اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں
Verse 85 — Surah Sad 38:85
کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا
Verse 86 — Surah Sad 38:86
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں
Verse 87 — Surah Sad 38:87
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے
Verse 88 — Surah Sad 38:88
یقیناً تم اس کی حقیقت کو کچھ ہی وقت کے بعد (صحیح طور پر) جان لو گے