نہیں بنائے اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کے لیے دو دل اس کے شکم میں اور نہیں بنایا اس نے تمھاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمھاری مائیں اور نہیں بنایا اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے فرزند یہ صرف تمھارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ تو سچی بات کہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے یدھی راہ پر چلنے
بُلایا کرو انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے ۔ یہ زیادہ قرین انصاف ہے اللہ کے نزدیک ۔ اگر تمھیں علم نہ ہو ان کے باپوں کا تو پھر وہ تمھارے دینی بھائی ہیں اور تمھارے دوست ہیں اور نہیں ہے تم پر کوئی گرفت جو تم نا دانستہ کر بیٹھو۔ البتہ وہ کام جو تمھارے دل قصداً کرتے ہیں (ان پر ضرور گرفت ہو گی) اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے
نبی (کریم) مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، کتاب اللہ کی رو سے عام مومنوں اور مہاجرین سے مگر یہ کہ تم کرنا چاہو اپنے دوستوں سے کوئی بھلائی (تو اس کی اجازت ہے) یہ (حکم) کتاب (الہی) میں لکھا ہوا ہے
اے ایمان والو! یاد کرو اللہ تعالیٰ کے احسان کو جو اس نے تم پر کیا ۔ جب (حملہ آور ہو کر) آگئے تم پر (کفار کے) لشکر پس ہم نے بھیج دی ان پر آندھی اور ایسی فوجیں جنھیں تم دیکھ نہیں سکے تھے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے خوب دیکھ رہا تھا
جب انہوں نے ہلّہ بول دیا تھا تم پر اوپر کی طرف سے بھی اور تمھارے نیچے کی طرف سے بھی اور جب مارے دہشت کے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے
اور یاد کرو جب کہتی پھرتی تھی ان میں سے ایک جماعت کے اے یثرب والو! تمھارے لیے اب یہاں ٹھیرنا ممکن نہیں (جان عزیز ہے) تو لوٹ چلو (اپنے گھروں کو) اور اجازت مانگنے لگا انمیں سے ایک گروہ نبی کریم سے یہ کہہ کر کہ (حضور) ہمارے گھر بالکل غیر محفوظ ہیں ، حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے (اس بہانہ سازی سے) ان کا ارادہ محض (میدان جنگ سے) فرار تھا
اور اگر گھس آتے (کفار کے لشکر) ان پر مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے درخواست کی جاتی فتنہ انگیزی میں شرکت کی تو فوراً اسے قبول کر لیتے اور توقف نہ کرتے اس میں مگر بہت کم
حالانکہ یہی لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر چکے تھے کہ وہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا جاتا ہے اس کے متعلق ضرور باز پرس کی جاتی ہے
فرما دیجیے (اے بھگوڑو!) تمھیں نفع نہیں دے گا بھاگنا اگر تم بھاگنا چاہتے ہو موت سے یا قتل سے اور (اگر بھاگ کر تم نے جان بچا بھی لی) تو تم لطف اندوز نہ ہو سکو گے مگر تھوڑی مُدّت
فرمائیے کون بچا سکتا ہے تمھیں اللہ تعالیٰ سے اگر وہ تمھیں عذاب دینے کا ارادہ کر لے یا اگر وہ تم پر رحمت فرمانا چاہے اور نہیں پائیں گے وہ لوگ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار
اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جہاد سے روکنے والوں کو تم میں سے اور انہیں جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں (اسلامی کیمپ چھوڑ کر) ہماری طرف آجاؤ اور خود بھی جنگ میں شرکت نہیں کرتے مگر برائے نام
پرلے درجے کے کنجوس ہیں تمھارے معاملے میں پھر جب خوف (و دہشت ) چھا جائے تو آپ انہیں ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہ آپ کی طرف یوں دیکھنے لگتے ہیں ان کی آنکھیں چکرا رہی ہوتی ہیں اس شخص کی مانند جس پر موت کی غشی طاری ہو پھر جب خوف دور ہو جائے تو تمھیں سخت اذیّت پہنچاتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے بڑے حریص ہیں مال غنیمت کے حصول میں (در حقیقت) یہ لوگ ایمان ہی نہیں لے آئے پس اللہ نے ضائع کر دئیے ہیں ان کے اعمال اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے
(دشمن بھاگ گیا لیکن یہ بزدل) یہی خیال کر رہے ہیں کہ ابھی جتھے نہیں گئے اور اگر جتھے (دوبارہ پلٹ کر) آجائیں تو یہ پسند کریں گے کہ کاش وہ صحرا میں بدوؤں کے ہاں ہوتے (آنے جانے والوں سے) تمھاری خبریں پوچھتے اور اگر یہ (بزدل ) تم میں موجود بھی ہوتے تو یہ (دشمن سے) جنگ نہ کرتے مگر برائے نام
بیشک تمھاری رہمنائی کے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے یہ نمونہ اس کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور قیامت کے آنے کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے
(منافقین کا حال آپ پڑھ چکے) اور جب ایمان والوں نے (کفار کے) لشکروں کو دیکھا تو (فرط جوش سے) پکار اٹھے یہ ہے وہ لشکر جس کا وعدہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا تھا اور سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول نے ۔ اور دشمن کے لشکر جرار نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم میں اور اضافہ کر دیا
اہل ایمان میں ایسے جوانمرد ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا جو وعدہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا ان جوانمردوں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض ( اس ساعت سعید کا) انتظار کر رہے ہیں (جنگ کے مہیب خطرات کے باوجود) ان کے رویہ میں ذرا تبدیلی نہیں ہوئی
(اذن جہاد میں ایک حکمت یہ بھی ہے ) کہ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اپنا وعدہ سچا کرنے والوں کو ان کے سچ کے باعث اور عذاب دے منافقوں کو اگر اس کی مرضی ہو یا ان کی توبہ قبول فرما لے بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے
اور (ناکام) لوٹا دیا اللہ تعالیٰ نے کفار کو در آنحالیکہ اپنے غضہ میں (پیچ و تاب کھار ہے) تھے (اس لشکر کشی سے) انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ اور بچا لیا اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جنگ سے اور اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور ، پر چیز پر غالب ہے
اہل کتاب سے جن لوگوں نے کفار کی امداد کی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے قلعوں سے اتار لیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قیدی بنا رہے ہو
اور اس نے وارث بنا دیا تمھیں ان کی زمینوں ، ان کے مکانوں اور ان کے مال و متاع کا اور وہ ملک بھی تمھیں دے دئیے جہاں تمھارے قدم ابھی نہیں پہنچے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے
اے نبی مکرّم! آپ فرما دیجیے اپنی بیبیوں کو کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی آرائش (و آسائش ) کی خواہاں ہو تو آؤ تمھیں مال و متاع دے دوں اور پھر تمھیں رخصت کر دوں بڑی خوبصورتی کے ساتھ
اے نبی کی ازواج (مطہرات) تم نہیں ہو دوسری عورتوں میں سے کسی عورت کی مانند۔ اگر تم پرہیزگاری اختیار کور پس ایسی نرمی سے بات نہ کرو کہ طمع کرنے لگے وہ (بے حیا) جس کے دل میں روگ ہے اور گفتگو کرو تو با وقار انداز سے کرو
اے نبی کی ازواج (مطہرات) تم نہیں ہو دوسری عورتوں میں سے کسی عورت کی مانند۔ اگر تم پرہیزگاری اختیار کور پس ایسی نرمی سے بات نہ کرو کہ طمع کرنے لگے وہ (بے حیا) جس کے دل میں روگ ہے اور گفتگو کرو تو با وقار انداز سے کرو
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، مومن مرد اور مومن عورتیں ، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں ، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ، خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں اور کثرت سے اللہ کو یاد کرنے اور یاد کرنے والیاں تیار کر رکھا ہے اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور اجر عظیم
نہ کسی مومن مرد کو یہ حق پہنچتا ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب فیصلہ فرما دے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا تو پھر انہیں کوئی اختیار ہو اپنے اس معاملہ میں اور جو نافرمانی کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی تو وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گیا
اور یاد کیجیے جب آپ نے فرمایا اس شخص کو جس پر اللہ نے بھی احسان فرمایا اور آپ نے بھی احسان فرمایا اپنی بی بی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور آپ مخفی رکھے ہوئے تھے اپنے جی میں وہ بات جسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ کو اندیشہ تھا لوگوں (کے طعن و تشنیع) کا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں پھر جب پوری کر لی زید نے اسے طلاق دینے کی خواہش، تو ہم نے اس کا آپ سے نکاح کر دیا تاکہ (اس عملی سنت کے بعد) ایمان والوں پر کوئی حرج نہ ہو اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں جب وہ انہیں طلاق دینے کا پورا ارادہ کر لیں اور اللہ کا حکم تو ہر حال میں ہو کر رہتا ہے
نہیں ہے نبی پر کوئی مضائقہ ایسے کام کرنے میں جنہیں حلال کر دیا ہے اللہ نے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے ان (انبیاء) کے بارے میں جو پہلے گزر چکے ہیں ۔ اور اللہ کا حکم ایسا فیصلہ ہوتا ہے جو طے پا چکا ہو تا ہے
اللہ وہ ہے جو رحمت نازل کرتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی (تم پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں) تاکہ وہ نکال کر لے جائیں تمھیں (طرح طرح کے ) اندھیروں سے نور کی طرف اور وہ مومنوں پر ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
اے ایمان والو! جب تم نکاح کرو مومن عورتوں سے پھر تم انہیں طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ پس تمھارے لیے ان پر عدّت گزارنا ضروری نہیں جسے تم شمار کرو لہذا انہیں کچھ مال دے دو اور انہیں رخصت کر دو خوبصورتی سے
اے نبی (مکّرم) ہم نے حلال کر دی ہیں آپ کے لیے آپکی ازواج جن کے مہر آپ نے ادا کر دئیے ہیں اور آپ کی کنیزیں جو اللہ نے بطور غنیمت آپ کو عطا کی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھُو پھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کے خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے ہجرت کی آپ کے ساتھ اور مومن عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کر دے اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ (اجازت) صرف آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں خوب علم ہے جو ہم نے مقرّر کیا ہے مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہیّ
(آپکو اختیار ہے) دُور کر دیں جس کو چاہیں اپنی ازواج سے اور اپنے پاس رکھیں جس کو آپ چاہیں ۔ اور اگر آپ (دوبارہ) طلب کریں جن کو آپ نے علحیدہ کر دیا تھا تب بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں ۔ اس (رخصت) سے پوری توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی اور وہ آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور سب کی سب خوش رہیں گی جو کچھ آپ انہیں عطا فرمائینگے اور (اے لوگو!) اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا بڑا بردبار ہے
حلال نہیں آپ کے لیے دوسری عورتیں ا س کے بعد اور نہ اس کی اجازت ہے کہ آپ تبدیل کر لیں ان ازواج سے دوسری بیویاں اگرچہ آپ کو پسند آئے ان کا حسن۔ بجز کنیزوں کے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے
اے ایمان والو! نہ داخل ہوا کرو نبی کریم کے گھروں میں بجز اس (صُورت) کے کہ تم کو کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے (اور) نہ کھانا پکنے کا انتظار کیا کرو لیکن جب تمھیں بلایا جائے ، تو اندر چلے آؤ پس جب کھانا کھا چکو، تو فوراََ منتشر ہو جاؤ اور نہ وہاں جا کر دل بہلانے کیلئے باتیں شروع کر دیا کرو۔ تمہاری یہ حرکتیں (میرے ) نبی کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں پس وہ تم سے حیا کر تے ہیں (اور چپ رہتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کسی کا شرم نہیں کرتا حق بیان کرنے میں ۔ اور جب تم مانگو ان سے کوئی چیز تو مانگو پس پردہ ہو کر یہ طریقہ پاکیزہ تر ہے تمہارے دلوں کے لیے نیز ان کے دلوں کے لیے اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیّت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو اور تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں کہ تم نکاح کرو ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی، بےشک ایسا کرنا اللہ کے نزدیک گناہ عظیم ہے (٥٣) چاہے تم کسی بات کو ظاہرکرو یا اسے چھپاؤ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے
کوئی حرج نہیں ان پر اگر ان کے ہاں آئیں ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی ان کے بھتیجے اور ان کے بھانجے اسی طرح مسلمان عورتیں اور لونڈیوں کی آمدروفت پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ (اے عورتو!) ڈرا کرو اللہ (کی نافرمانی) سے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے
بیشک جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ اور ا س کے رسول کو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے رسوا کن عذاب
اور جو لوگ دل دکھاتے ہیں مومن مردوں اور مومن عورتوں کا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (معیوب) کام کیا ہو، تو انہوں نے اٹھا لیا (اپنے سر پر) بہتان باندھنے اور کھلے گناہ کا بوجھ
اے نبی مکّرم! آپ فرمائیے اپنی ازواج مطہرات کو ، اپنی صاحبزادیوں کو اور جملہ اہل ایمان عورتوں کو کہ (جب وہ باہر نکلیں تو) ڈال لیا کریں اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو اس طرح کہ وہ بآسانی پہچان لی جائیں پھر انہیں ستایا نہیں جائے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، ہر دم رحم فرمانے والا ہے
اگر (اپنی حرکتوں سے) باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور شہر میں جھوٹی افواہیں اڑانے والے ، تو ہم آپ کو مسلّط کر دیں گے ان پر پھر وہ نہ ٹھہر سکیں گے آپ کے پاس مدینہ طیبہ میں مگر چند روز
اے ایمان والو! نہ بن جانا ان (بد بختوں ) کی طرح جنہوں نے موسیٰ کو ستایا۔ پس بری کری دیا للہ تعالیٰ نے اس سے جو انہوں نے کہا اور آپ کے نزدیک بڑی شان والے تھے
تو اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کو درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بھی بخش دے گا اور جو شخص حکم مانتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا تو وہی شخص حاصل کرتا ہے بہت بڑی کامیابی
ہم نے پیش کی یہ امانت آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے (کہ وہ اس کی ذمّہ داری اٹھائیں) تو انہوں نے انکار کر دیا، اس کے اٹھانے سے اور و ہ ڈر گئے اس سے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے، بےشک یہ ظلوم بھی ہے (اور) جہول بھی
تا کہ عذاب دے اللہ تعالیٰ نفاق کرنے والوں اور نفاق کرنے والیوں کو شرک کرنے والوں اور شرک کرنے والیوں کو اور نگاہ لطف وکرم فرمائے اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور ایمان والیوں پر اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، ہر دم رحم فرمانے والا ہے