Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 38 - Sad
Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink
Verse 1 — Surah Sad 38:1
ص قسم ہے قرآن ، سراپا نصیحت کی (دعوت محمدی حق ہے)
Verse 2 — Surah Sad 38:2
لیکن یہ کفّار تکبّر اور مخالفت میں (اندھے ہو گئے ) ہیں
Verse 3 — Surah Sad 38:3
بہت سی امتوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اس سے پہلے ۔ پس وہ فریاد کرنے لگے اور نہیں تھا یہ وقت بچ نکلنے کا
Verse 4 — Surah Sad 38:4
اور وہ (اس پر) حیرا ن تھا کہ آیا ہے ان کے پاس ایک ڈرانے والا ان میں سے ، اور کفار کہنے لگے کہ یہ شخص ساحر ہے ، کذاب ہے
Verse 5 — Surah Sad 38:5
کیا بنا یا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا بیشک یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے
Verse 6 — Surah Sad 38:6
اور تیزی سے چل دیے قوم کے سردار (رسول کے پاس سے) اور (قوم سے کہا) یہاں سے نکلو اور جمے رہو اپنے بتوں پر ۔ بیشک اس میں اس کا کوئی (ذاتی ) مدعا ہے
Verse 7 — Surah Sad 38:7
ہم نے تو ایسی بات آخری ملت (نصرانیت ) میں بھی نہیں سنی۔ یہ بالکل من گھڑت مذہب ہے
Verse 8 — Surah Sad 38:8
کیا نازل کیا گیا ہے اس پر ’الذکر‘ (قرآن ) ہمارے درمیان میں سے بلکہ یہ کفار شک میں مبتلا ہیں میرے ذکر کے متعلق۔ بلکہ انہوں نے ابھی نہیں چکھا میرے عذاب کا مزہ
Verse 9 — Surah Sad 38:9
کیا ان کے قبضہ میں ہیں خزانے آپ کے رب کی رحمت کے ، جو عزت والا بےحساب عطا کرنے والا ہے
Verse 10 — Surah Sad 38:10
کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی جو کچھ ان کے درمیان ہے پس چاہیے کہ چڑھ جائیں (آسمان پر) اس کی راہوں سے
Verse 11 — Surah Sad 38:11
(در حقیقت) کفار کے لشکروں میں سے یہ ایک چھوٹا سا لشکر ہے جسے وہاں (بد ر میں) شکست دے دی جائے گی
Verse 12 — Surah Sad 38:12
جھٹلا یا تھا ان سے پہلے قوم نوح ، عاد اور میخوں والے فرعون نے
Verse 13 — Surah Sad 38:13
اور ثمود، قوم لوط اور اصحاب ایکہ نے یہی وہ گروہ ہیں (جنکا ذکر پہلے گزر چکا)
Verse 14 — Surah Sad 38:14
ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو (ا ن پر ) لازم ہو گیا میرا عذاب
Verse 15 — Surah Sad 38:15
اور نہیں انتظار کر رہے ہیں یہ (کفار مکّہ) مگر ایک کڑک کی جس کے بعد کوئی مہلت نہیں ہو گی
Verse 16 — Surah Sad 38:16
اور (مذاقاً) کہتے ہیں اے ہمارے رب جلدی دے دے ہمارے حصہ (کا عذاب) یوم حساب سے پہلے
Verse 17 — Surah Sad 38:17
(اے حبیب!) ان کی (نا معقول ) باتوں پر اور یاد فرماؤ ہمارے بندے داؤد کو جو بڑا طاقتور تھا وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا
Verse 18 — Surah Sad 38:18
ہم نے فرمانبردار بنا دیا تھا پہاڑوں کو وہ ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے عشاء اور اشراق کے وقت
Verse 19 — Surah Sad 38:19
اور پرندوں کو، وہ بھی تسبیح کے وقت جمع ہو جاتے سب ان کے فرمانبردار تھے
Verse 20 — Surah Sad 38:20
اور ہم نے مستحکم کر دیا ان کی حکومت کو اور ہم نے بخشی انہیں دانائی اور فیصلہ کُن بات کرنے کا ملکہ
Verse 21 — Surah Sad 38:21
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس اطلاع قریقان مقدمہ کی جب انہوں نے دیوار پھاندی عبادت گاہ کی
Verse 22 — Surah Sad 38:22
اور جب اچانک داخل ہوئے داؤد پر پس آپ کچھ گھبرا گئے ان سے ۔ انہوں نے کہا ڈرئیے نہیں ہم تو مقدمہ کے دو فریق ہیں ، زیادتی کی ہے ہم میں سے ایک نے دوسرے پر آپ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ فرمائیے اور بےانصافی نہ کیجیے اور دکھائیے ہمیں سیدھا راستہ
Verse 23 — Surah Sad 38:23
(صُورت نزاع یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اور اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کر دے اور سختی کرتا ہے میرے ساتھ گفتگو میں
Verse 24 — Surah Sad 38:24
آپ نے فرمایا بےشک اس نے ظلم کیا ہے تم پر یہ مطالبہ کر کے تیری دنبی کو اپنی دنبی میں ملا دے اور اکثر حصہ دار زیادتی کرتے ہیں ایک دوسرے پر سوائے ان حصہ داروں کے جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں ۔ اور فوراً خیال آگیا داؤد کو ہم نے اسے آزمایا ہے سو وہ معافی مانگنے لگ گئے اپنے رب سے اور گِر پڑے رکوع میں اور (دل وجان سے) اس کی طرف متوجہ ہو گئے
Verse 25 — Surah Sad 38:25
پس ہم نے بخش دی ان کی یہ تقصیر ۔ اور بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں بڑا قرب ہے اور خوبصورت انجام ہے
Verse 26 — Surah Sad 38:26
اے داود ہم نے مقرر کیا آپ کو (اپنا) نائب زمین میں پس فیصلہ کیا کرو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اور نہ پیروی کیا کرو ہوائے نفس کی وہ بہکا دے گی تمہیں راہ خدا سے ۔ بیشک جو لوگ بھٹک جاتے ہیں راہ خدا سے ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ انہوں نے بھلا دیا تھا یوم حساب کو
Verse 27 — Surah Sad 38:27
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بےفائدہ یہ تو کفار کا گمان ہے پس بربادی ہے کفّار کے لیے آگ (کے عذاب) سے
Verse 28 — Surah Sad 38:28
کیا ہم بنا دیں گے انہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، ان لوگوں کی مانند جو فساد برپا کرتے ہیں زمین میں ۔ یا ہم بنا دیں گے پرہیزگاروں کو فاجروں کی طرح
Verse 29 — Surah Sad 38:29
یہ کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف ، بڑی بابرکت ، تاکہ وہ تدبر کریں اس کی آیتوں میں اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقلمند
Verse 30 — Surah Sad 38:30
اور ہم نے عطا فرمایا داؤد کو سلیمان (جیسا فرزند) بڑی خوبیوں والابندہ، بہت رجوع کرنے والا
Verse 31 — Surah Sad 38:31
جب پیش کیے گئے آپ پر سہ پہر کو تین پاؤں پر کھڑے ہونے والے تیز رفتار گھوڑے
Verse 32 — Surah Sad 38:32
تو آپ نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ چھپ گئے پردہ کے پیچھے
Verse 33 — Surah Sad 38:33
(حکم دیا) واپس لاؤ انہیں میرے پاس تو ہاتھ پھیرنے لگے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر
Verse 34 — Surah Sad 38:34
اور ہم نے فتنہ میں ڈالا سلیمان (علیہ السلام) کو اور ڈال دیا ان کے تحت پر ایک بےجان جسم
Verse 35 — Surah Sad 38:35
پھر وہ (ہماری طرف) متوجہ ہوئے عرض کی میرے رب! مجھے معاف فرما دے اور عطا فرما مجھے ایسی حکومت جو کسی کو میسر نہ ہو میرے بعد۔ بےشک تو ہی نے انداز عطا کرنے والا ہے
Verse 36 — Surah Sad 38:36
پس ہم نے ہوا کو آپ کا فرمانبردار بنا دیا ۔ چلتی تھی آپ کے حسب حکم آرام سے جِدھر آپ چاہتے
Verse 37 — Surah Sad 38:37
اور سب دیو بھی ماتحت کر دیے کوئی معمار اور کوئی غوطہ خور
Verse 38 — Surah Sad 38:38
اور ان کے علاوہ (جو سر کش تھے) باندھ دیے گئے زنجیروں میں
Verse 39 — Surah Sad 38:39
(اے سلیمان!) یہ ہماری عطا ہے چاہے (کسی کو بخش کر) احسان کر چاہے اپنے پاس رکھ
Verse 40 — Surah Sad 38:40
تم سے کوئی باز پرس نہ ہو گی ۔ اور بیشک انہیں ہمارے ہاں بڑا قرب حاصل ہے اور خوبصورت انجام
Verse 41 — Surah Sad 38:41
اور یاد فرمائیے ہمارے بندے ایوب کو جب انہوں نے پکارا اپنے رب کو (الہٰی) پہنچائی ہے مجھے شیطان نے بہت تکلیف اور دکھ
Verse 42 — Surah Sad 38:42
(حکم ہوا) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ یہ نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کے لیے
Verse 43 — Surah Sad 38:43
اور ہم نے عطا فرمایا انہیں ان کا اہل و عیال اور ان کی مانند اور ان کے ساتھ بطور رحمت اپنی جناب سے اور بطور نصیحت اہل عقل کے لیے
Verse 44 — Surah Sad 38:44
اور ( حکم ملا ) پکڑ لو اپنے ہاتھ سے تنکوں کا ایک مٹھا اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے پایا انہیں صبر کرنے والا، بڑا خوبیوں والا بندہ، ہر وقت ہماری طرف متوجہ
Verse 45 — Surah Sad 38:45
اور یاد فرماؤ ہمارے (مقبول) بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کو بڑی قوتوں والے اور روشن دل تھے
Verse 46 — Surah Sad 38:46
ہم نے مختص کیا تھا انہیں ایک خاص چیز سے اور وہ دار آخر ت کی یاد تھی
Verse 47 — Surah Sad 38:47
اور یہ (حضرات) ہمارے نزدیک چنے ہوئے بہترین لوگ ہیں
Verse 48 — Surah Sad 38:48
اور یاد فرمائیے اسمعیل، یسع اور ذی الکفل کو یہ سب بہترین لوگوں میں سے ہیں
Verse 49 — Surah Sad 38:49
نہ نصیحت ہے اور بےشک پرہیزگاروں کے لیے بہت عمدہ ٹھکانا ہے
Verse 50 — Surah Sad 38:50
سدا بہار باغات، کُھلے ہوں گے ان کے لیے سب دروازے
Verse 51 — Surah Sad 38:51
تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ان میں۔ طلب فرماتے ہوں گے وہاں طرح طرح کے پھل اور مشروبات
Verse 52 — Surah Sad 38:52
اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی (عمر، جمال و کمال ہیں) ہم مثل (حوُریں) ہوں گی ۔
Verse 53 — Surah Sad 38:53
یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ روز حساب (تمہیں ملے گا)
Verse 54 — Surah Sad 38:54
بیشک یہ ہمارا (دیا ہوا) رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا
Verse 55 — Surah Sad 38:55
یہ (تو پرہیزگاروں کے لیے) اور بلاشبہ سر کشوں کے لیے برا ٹھکانا ہو گا
Verse 56 — Surah Sad 38:56
(یعنی ) جہنّم۔ وہ داخل ہوں گے اس میں۔ تو یہ کتنا تکلیف دہ بچھونا ہے
Verse 57 — Surah Sad 38:57
یہ کھولتا پانی اور پیپ ہے پس چاہیے کہ وہ اسے چکھیں
Verse 58 — Surah Sad 38:58
اور اس کے علاوہ اس کی مانند طرح طرح کا عذاب
Verse 59 — Surah Sad 38:59
یہ (لو) دوسری فوج گھُسنا چاہتی ہے تمہارے ساتھ کوئی خوش آمدید نہیں انہیں یہ ضرور آگ تانپے والے ہیں
Verse 60 — Surah Sad 38:60
وہ کہیں گے (ظالمو!) تمہیں کوئی خوش آمدید نہ ہو تم نے ہی آگے کیا اس عذاب کو ہمارے لیے سو بہت برا ٹھکانا ہے
Verse 61 — Surah Sad 38:61
کہیں گے اے ہمارے رب! جس (بدبخت ) نے آگے کیا ہے ہمارے لیے یہ عذاب پس بڑھا دے اس کا عذاب دوگُنا آگ میں
Verse 62 — Surah Sad 38:62
اور کہیں گے کیا وجہ ہے کہ ہمیں نظر نہیں آرہے (یہاں) وہ لوگ جنہیں ہم شمار کرتے تھے برے لوگوں میں
Verse 63 — Surah Sad 38:63
ہم جن کا تمسخر اڑایا کرتے تھے یا پھر گئی ہیں ان کی طرف سے ہماری آنکھیں
Verse 64 — Surah Sad 38:64
یقیناً یہ سچ ہے دوزخی آپس میں جھگڑیں گے
Verse 65 — Surah Sad 38:65
(اے حبیب!) آپ فرمائیے میں تو فقط ڈرانے والا ہوں اور نہیں ہے کوئی خدا مگر اللہ جو ایک ہے سب پر غالب ہے
Verse 66 — Surah Sad 38:66
مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عزت والا ، بہت بخشنے والا
Verse 67 — Surah Sad 38:67
فرمائیے یہ بڑی اہم اور عظیم خبر ہے
Verse 68 — Surah Sad 38:68
تم اس سے منہ موڑے ہوئے ہو
Verse 69 — Surah Sad 38:69
مجھے کوئی علم نہ تھا عالم بالا کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے
Verse 70 — Surah Sad 38:70
نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہ کہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں
Verse 71 — Surah Sad 38:71
(اے حبیب!) یاد فرمائیے جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں پیدا کرنیوالا ہوں بشر کو کیچڑ سے
Verse 72 — Surah Sad 38:72
پس جب میں اس کو سنوار دوں اور پھُونک دوں اس میں اپنی (طرف سے خاص ) روح تو تم گِر پڑنا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے
Verse 73 — Surah Sad 38:73
پھر سجدہ کیا سب کے سب فرشتوں نے
Verse 74 — Surah Sad 38:74
سوائے ابلیس کے۔ اس نے گھمنڈ کیا اور ہو گیا کافروں سے
Verse 75 — Surah Sad 38:75
ارشاد ہوا اے ابلیس! کس چیز نے باز رکھا تمھیں اس کو سجدہ کرنے سے جسے میں نے پیدا کیا اپنے دونوں ہاتھوں سے کیا تو نے تکبر کیا یا تو اپنے آپ کو اس سے عالی مرتبہ خیال کرتا ہے
Verse 76 — Surah Sad 38:76
وہ (گستاخ) بولا میں بہتر ہوں اس سے تو نے پیدا کیا ہے مجھے آگ سے اور پیدا کیا ہے اسے کیچڑ سے
Verse 77 — Surah Sad 38:77
حکم ملا (اے بےحیا!) نکل جا جنت سے بیشک تو پھٹکارا گیا
Verse 78 — Surah Sad 38:78
اور بےشک تجھ پر میری لعنت برسے گی قیامت تک
Verse 79 — Surah Sad 38:79
ابلیس بولا (اگر یہی اٹل فیصلہ ہے) تو میرے رب! مجھے مہلت دیجیے روز حشر تک
Verse 80 — Surah Sad 38:80
جواب ملا بےشک تو مہلت دیے جانے والوں میں سے ہے
Verse 81 — Surah Sad 38:81
(یہ مہلت) مقررہ وقت کے دن تک ہے
Verse 82 — Surah Sad 38:82
کہنے لگا تیری عزت کی قسم ! میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو
Verse 83 — Surah Sad 38:83
سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے تونے چُن لیا ہے
Verse 84 — Surah Sad 38:84
فرمایا تو میں حق ہوں اور میں سچ ہی کہتا ہوں
Verse 85 — Surah Sad 38:85
میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اور تیرے سب فرماں برداروں سے
Verse 86 — Surah Sad 38:86
آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا تم پر اس سے کوئی اجر اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں
Verse 87 — Surah Sad 38:87
نہیں ہے یہ (قرآن ) مگر نصیحت سب جہانوں کے لیے
Verse 88 — Surah Sad 38:88
اور (اے کفار!) تم ضرور جان لو گے اس کی خبر کچھ عرصہ بعد