Back to Languages

Urdu - Chapter 40 - Ghafir

Translation by Muhammad Karam Shah Al Azhari — Permalink

Verse 1 — Surah Ghafir 40:1

Verse 2 — Surah Ghafir 40:2

اتاری گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے

Verse 3 — Surah Ghafir 40:3

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا سخت سزا دینے والا فضل و کرم فرمانے والا ہے نہیں کوئی معبود اس کے سوا اسی کی طرف (سب نے ) لوٹنا ہے

Verse 4 — Surah Ghafir 40:4

نہیں تنازعہ کیا کرتے اللہ کی آیتوں میں مگر کافر پس نہ دھوکے میں ڈالے تمہیں ان لوگوں کا (بڑے کرّو فر سے) آنا جانا مختلف شہروں میں

Verse 5 — Surah Ghafir 40:5

جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے اور کئی (دوسرے) گروہوں نے ان کے بعد۔ اور قصد کیا ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق کہ اسے گرفتار کر لیں اور جھگڑتے رہے (اس کے ساتھ) نا حق ۔ تاکہ جھٹلا دیں اس کے ذریعے حق کو ۔ پس میں نے پکڑ لیا انہیں ۔ پس کتنا شدید تھا میرا عذاب

Verse 6 — Surah Ghafir 40:6

اور اسی طرح واجب ہو گیا اللہ کا فیصلہ کفار پر کہ وہ دوزخی ہیں

Verse 7 — Surah Ghafir 40:7

جو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں عرش کو اور وہ جو عرش کے ارد گرد (حلقہ زن) ہیں وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور ایمان رکھتے ہیں اس پر اور استغفار کیا کرتے ہیں ایمان والوں کے لیے (کہتے ہیں) اے ہمارے رب! تو گھیرے ہوئے ہے ہر شے کو (اپنی) رحمت اور علم سے پس بخشدے انہیں جنہوں نے (کُفر سے) توبہ کی ہے اور پیروی کی ہے تیرے راستے کی اور بچا لے انہیں عذاب جہنم سے

Verse 8 — Surah Ghafir 40:8

اے ہمارے رب ! داخل فرما انہیں سدا بہار باغوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور جو قابل بخشش ہیں ان کے والدین ، ان کی بیویاں اور ان کی اولاد سے ۔ بیشک تو ہی سب سے زیادہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

Verse 9 — Surah Ghafir 40:9

اور بچا لے انہیں سزاؤں سے اور جس کو تو بچا لے سزاوں سے اس دن تو گویا تو نے بڑی رحمت فرمائی اس پر اور یہی ہے بہت بڑی کامیابی

Verse 10 — Surah Ghafir 40:10

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں ندا دی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کی (تم سے) بیزاری بہت زیادہ ہے اس بیزاری سے جو تمہیں اپنے آپ سے ہے (یاد ہے) جب تم بلائے جاتے ایمان کی طرف تو تم کفر کیا کرتے

Verse 11 — Surah Ghafir 40:11

وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا پس اب ہم اعتراف کرتے ہیں اپنے گناہوں کا۔ سو کیا (یہاں سے) نکلنے کی بھی کوئی صورت ہے

Verse 12 — Surah Ghafir 40:12

اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پکارا جاتا اللہ تعالیٰ کو اکیلا تو تم انکار کر دیتے اور اگر شریک بنایا جاتا کسی کو اس کا تو تم مان لیتے پس حکم کا اختیار اللہ کے لیے ہے جو برتر اور بزرگ ہے

Verse 13 — Surah Ghafir 40:13

اور وہی ہے جو دکھاتا ہے تمہیں اپنی آیتیں اور نازل فرماتا ہے تمہارے لیے آسمان سے رزق اور نہیں نصیحت قبول کرتا مگر وہ جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے

Verse 14 — Surah Ghafir 40:14

تو عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین کو اگرچہ نا پسند کریں کفار

Verse 15 — Surah Ghafir 40:15

بلند درجات پر فائز کرنے والا ، عرش کا مالک نازل فرماتا ہے وحی اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے

Verse 16 — Surah Ghafir 40:16

وہ دن جب وہ ظاہر ہوں گے پوشیدہ نہ ہو گی اللہ تعالیٰ پر ان کے حالات سے کوئی شے کس کی بادشاہی ہے آج؟ (کسی کی نہیں) صرف اللہ کی جو واحد (اور) قہار ہے

Verse 17 — Surah Ghafir 40:17

آج بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا تھا ذرا ظلم نہیں ہوگا آج بیشک اللہ تعالیٰ بہت تیزی سے حساب لینے والا ہے

Verse 18 — Surah Ghafir 40:18

اور آپ ڈرائیے انہیں قریب آنے والے دن سے جب کہ دل گلے میں اٹک جائیں گے خوف و دہشت سے بھرے ہوئے نہ ہوگا ظالموں کے لیے کوئی دوست اور نہ ایسا سفارشی جس کی سفارش مانی جائے

Verse 19 — Surah Ghafir 40:19

وہ جانتا ہے خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور ان باتوں کو جنہیں سینے چھپائے ہوئے ہیں

Verse 20 — Surah Ghafir 40:20

اور اللہ فیصلہ فرمائے گا حق کے ساتھ اور جنہیں وہ اللہ کے بغیر پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے بےشک اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ دیکھنے والا ہے

Verse 21 — Surah Ghafir 40:21

کیا انہوں نے سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ وہ دیکھتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت کے لحا ظ سے بھی ان سے طاقتور تھے اور زمین میں (چھوڑے ہوئے) آثار کے لحاظ سے بھی۔ تو پکڑ لیا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے باعث اور نہیں تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا

Verse 22 — Surah Ghafir 40:22

یہ اس لیے کہ لے کر آتے رہے ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں تو انہوں نے (ہر بار) ماننے سے انکار کر دیا پس پکڑ لیا انہیں اللہ نے ۔ بےشک وہ بڑا طاقتور سخت سزا دینے والا ہے

Verse 23 — Surah Ghafir 40:23

اور بےشک ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ

Verse 24 — Surah Ghafir 40:24

فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ) جا دوگر ہے بڑا جھوٹا ہے

Verse 25 — Surah Ghafir 40:25

پھر جب موسیٰ لے کر آئے ان لوگوں کے پاس حق ہمارے ہاں سے تو انہوں نے کہا کہ قتل کر ڈالو ان لوگوں کے بچوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے اور زندہ چھوڑ دو ان کی لڑکیوں کو اور نہیں ہے کافروں کا ہر مکر مگر رائیگان

Verse 26 — Surah Ghafir 40:26

اور فرعون نے (جھنجھلا کر) کہا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ بلائے اپنے رب کو (اپنی مدد کے لیے) مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارا دین بدل نہ دے یا فساد نہ پھیلا دے ملک میں

Verse 27 — Surah Ghafir 40:27

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں پناہ مانگتا ہوں اپنے رب کی اور تمہارے پر وردگار کی ہر اس متکبّر (کے شر) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا

Verse 28 — Surah Ghafir 40:28

اور کہنا لگا ایک مرد مومن جو فرعون کے خاندان سے تھا اور چھپائے ہوئے تھے اپنے ایمان کو کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو اس وجہ سے کہ وہ کہتا ہے میر اپروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، حالانکہ وہ لے آیا ہے تمہارے پاس دلیلیں تمہارے رب کی طرف سے (اسے اپنے حال پر رہنے دو) اگر وہ حقیقتاً جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کی شامت اس پر ہو گی اور اگر وہ سچا ہوا (اور تم نے اس کو گزند پہنچائی) تو ضرور پہنچے گا تمہیں عذاب جس کا اس نے تم سے وعدہ کیا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا ، بہت جھوٹ بولنے والا ہو

Verse 29 — Surah Ghafir 40:29

اے میری قوم ! مانا آج حکومت تمہاری ہے (نیز تمہیں) غلبہ حاصل ہے اس ملک میں (لیکن مجھے یہ تو بتاؤ) کون بچائے گا ہمیں خدا کے عذاب سے اگر وہ ہم پر آجائے (یہ سن کر) فرعون کہنے لگا میں تو تمہیں وہی مشورہ دیتا ہوں جس کو میں درست سمجھتا ہوں اور نہیں رہنمائی کرتا میں تمہاری مگر سیدھے راستے کی طرف

Verse 30 — Surah Ghafir 40:30

اور کہنے لگا وہی ایمان والا اے میری قوم ! میں ڈرتا ہوں کہ تم پر (بھی کہیں) پہلی قوموں کی تباہی کے دن جیسا دن نہ آجائے

Verse 31 — Surah Ghafir 40:31

جیسا حال ہوا تھا قوم نوح، عاد اور ثمود کا ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئے اور اللہ نہیں چاہتا کہ بندوں پر ظلم کرے

Verse 32 — Surah Ghafir 40:32

اور اے میری قوم! میں ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں پکار کے دن سے

Verse 33 — Surah Ghafir 40:33

جس روز تم بھاگو گے پیٹھ پھیرتے ہوئے نہیں ہوگا تمہارے لیے اللہ کے (عذاب) سے کوئی بچانے والا اور جسے گمراہ کردے اللہ تعالیٰ اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

Verse 34 — Surah Ghafir 40:34

(اے میری قوم) بیشک آئے تمہارے پاس یوسف (موسیٰ علیہ السلام) سے پہلے روشن دلائل لے کر ۔ پس تم شک میں گرفتار رہے ا س میں جو وہ لے کر آئے تھے یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہنا شروع کر دیا کہ نہیں بھیجے گا اللہ تعالیٰ ان کے بعد کوئی رسول یونہی گمراہ کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جو حد سے بڑھنے والا ، شک کرنے والا ہوتا ہے

Verse 35 — Surah Ghafir 40:35

(یونہی گمراہ کرتا ہے) انہیں جو جھگڑتے رہتے ہیں آیتوں میں بغیر کسی (معقول) دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو (یہ طریقہ) بڑی ناراضگی کا باعث ہے اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک۔ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر مغرور (اور) سر کش کے دل پر

Verse 36 — Surah Ghafir 40:36

اور فرعون نے کہا اے ہامان! بنا میرے لیے ایک اونچا محل (اس پر چڑھ کر) میں ان راہوں تک پہنچ جاؤں

Verse 37 — Surah Ghafir 40:37

یعنی آسمان کی راہوں تک پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے خدا کو اور میں تو یقین کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے اور یوں آراستہ کر دیا گیا فرعون کے لیے اس کا برا عمل اور روک دیا گیا اسے راہ (راست) سے اور نہیں تھا فرعون کا سارا فریب مگر اس کی اپنی تباہی کے لیے

Verse 38 — Surah Ghafir 40:38

اور کہنے لگا وہ جو ایمان لایا تھا اے میری قوم ! میرے پیچھے چلو میں دکھاؤں گا تمہیں ہدایت کی راہ

Verse 39 — Surah Ghafir 40:39

اے میری قوم! یہ دنیوی زندگی تو (چند روزہ ) لطف اندوز ہی ہے اور آخرت ہی ہمیشہ ٹھہرنے کی جگہ ہے

Verse 40 — Surah Ghafir 40:40

جو برے کام کرتا ہے اسے سزا دی جائے گی اسی قدر اور جو نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو وہ داخل ہوں گے جنت میں رزق دیا جائے گا انہیں وہاں بےحساب

Verse 41 — Surah Ghafir 40:41

اور اے میری قوم! میرا بھی عجیب حال ہے کہ میں تو تمہیں دعوت دیتا ہوں نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھے آگ کی طرف

Verse 42 — Surah Ghafir 40:42

تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور میں شریک ٹھیراؤں اس کے ساتھ اس کو جس کا مجھے علم تک نہیں اور میرا حال یہ ہے کہ میں پھر بھی تمہیں اس خدا کی طرف بلاتا ہوں جو عزت والا بہت بخشنے والا ہے

Verse 43 — Surah Ghafir 40:43

سچی بات تو یہ ہے کہ جس کی (بندگی کی) طرف تم مجھے بلاتے ہو اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اسے پکارا جائے اس دنیا میں اور نہ آخر ت میں اور یقیناً ہم سب کو لوٹنا ہے اللہ کی طرف اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی جہنمی ہیں

Verse 44 — Surah Ghafir 40:44

پس (اے میرے ہم وطنو!) عنقریب تم یاد کرو گے جو میں (آج ) تمہیں کہہ رہا ہوں اور میں اپنا (سارا) کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے (اپنے ) بندوں کو

Verse 45 — Surah Ghafir 40:45

پس بچا لیا اسے اللہ تعالیٰ نے ان اذیتوں سے جن کے پہچانے کا انہوں نے حیلہ کیا اور ہر طرف سے گھیر لیا فرعونیوں کو سخت عذاب نے

Verse 46 — Surah Ghafir 40:46

دوزخ کی آگ ہے پیش کیا جاتا ہے انہیں اس پر صبح و شام اور جس روز قیامت قائم ہو گی (حکم ہو گا) داخل کر دو فرعونیوں کو سخت تر عذاب میں

Verse 47 — Surah Ghafir 40:47

(کتنا ہو شربا سماں ہو گا) جب باہم جھگڑیں گے دوزخ میں پس کہیں گے کمزور لوگ انہیں جو تکبر کیا کرتے تھے کہ تم تو تمہارے تابع تھے پس کیا تم دور کر سکتے ہو ہم سے کچھ حصہ آگ (کے عذاب) کا

Verse 48 — Surah Ghafir 40:48

جواب دیں گے متکبّر ہم سب آگ میں (بُھن رہے ) ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے بندوں کے متعلق (اب اس میں ردو بدل نہیں ہو سکتا)

Verse 49 — Surah Ghafir 40:49

اور کہیں گے سارے دوزخی جہنم کے داروغوں کو دعا کرو اپنے رب سے کہ ایک دن تو ہمارے عذاب میں (کچھ) تخفیف فرما دے

Verse 50 — Surah Ghafir 40:50

وہ (جواب میں) کہیں گے کیا نہیں آیا کرتے تھے تمہا رے پاس تمہارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ ۔ وہ کہیں گے بیشک ! داروغہ کہیں گے تم خود ہی دعا مانگو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ نہیں ہے کافروں کی دعا مگر محض بےسود

Verse 51 — Surah Ghafir 40:51

بیشک ہم (اب بھی) مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور مومنین کی ۔ اس دنیوی زندگی میں اور اس دن بھی (مدد کرینگے ) جس دن گواہ (گواہی دینے کے لیے) کھڑے ہونگے

Verse 52 — Surah Ghafir 40:52

اس روز نفع نہ دے گی ظالموں کو ان کی عذر خواہی اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے (دوزخ کا ) بد ترین گھر ہو گا

Verse 53 — Surah Ghafir 40:53

اور ہم نے عطا فرمایا موسیٰ کو (نور) ہدایت اور وارث بنایا بنی اسرائیل کو کتاب کا

Verse 54 — Surah Ghafir 40:54

جو سراپا ہدایت اور نصیحت تھی عقلمندوں کے لیے (٥٤)

Verse 55 — Surah Ghafir 40:55

پس (اے محبوب) آپ صبر فرمائیے (کفار کی اذیتوں پر) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور استغفار کرتے رہیے اپنی (موہومہ) کوتاہی پر اور پاکی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے شام کے وقت اور صبح کے وقت

Verse 56 — Surah Ghafir 40:56

بیشک جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو ، نہیں ہے ان کے سینوں میں بجز بڑائی کی ایک ہوس کے جس کو وہ پا نہیں سکیں گے تو آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے بیشک وہی سب کچھ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے

Verse 57 — Surah Ghafir 40:57

بیشک پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا بہت بڑا کام ہے لوگوں کے پیدا کرنے سے لیکن بہت سے لوگ (اس کھلی حقیقت کو) نہیں جانتے

Verse 58 — Surah Ghafir 40:58

اور یکساں نہیں ہے اندھا اور بینا اور (اسی طرح) مومن نیکو کار اور بدکار بھی یکساں نہیں تم بہت کم غور کرتے ہو

Verse 59 — Surah Ghafir 40:59

یقیناً قیامت آکر رہے گی ذرا شک نہیں ا س میں لیکن بہت سے لوگ (قیامت پر) ایمان نہیں لاتے

Verse 60 — Surah Ghafir 40:60

اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل و خوا رہو کر

Verse 61 — Surah Ghafir 40:61

اللہ ہی ہے جس نے بنائی ہے تمہارے لیے رات تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا ہے) دن کو روشن بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل (و کرم) فرمانے والا ہے لوگوں پر لیکن بہت سے لوگ (اس کی نعمتوں کا) شکر ادا نہیں کرتے

Verse 62 — Surah Ghafir 40:62

وہ ہے اللہ تمہارا (رب) پیدا کرنے والا ہر چیز کا کوئی عبادت کے لائق نہیں بجز اس کے ۔ پس کیسے راہ حق سے تم رو گردانی کرتے ہو

Verse 63 — Surah Ghafir 40:63

اسی طرح (راہِ حق ) سے منہ پھیر دیا جاتا ہے ان (بد نصیبوں ) کا جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

Verse 64 — Surah Ghafir 40:64

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے بنایا ہے تمہارے لیے زمین کو قیام کی جگہ اور آسمان کو چھت (کی مانند) اور تمہاری صورت گری کی اور حسین بنا دیا تمہاری صورتوں کو اور کھانے کے لیے تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں ایسی (خوبیوں والا) اللہ تمہارا پروردگار ہے پس بڑی ہی برکتوں والا ہے اللہ تعالیٰ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

Verse 65 — Surah Ghafir 40:65

وہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے کوئی عبادت کے لائق نہیں بجز اس کے پس اس کی عبادت کرو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے سب تعریفیں اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے

Verse 66 — Surah Ghafir 40:66

آپ فرما دیجیے کہ مجھے منع کر دیا گیا ہے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا (میں ان کی عبادت کیسے کر سکتا ہوں) جب آگئی ہیں میرے پاس دلیلیں اپنے رب کی طرف سے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سر تسلیم خم کر دوں رب العالمین کے سامنے

Verse 67 — Surah Ghafir 40:67

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر نکالا تمہیں (شکم مادر سے) بچہ بنا کر پھر (پرورش کی تمہاری) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کو پھر (تمہیں زندہ رکھا) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور بعض تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں پہلے ہی اور (یہ سارا نظام اس لیے ہے) کہ تم پہنچ جاؤ مقررہ معیاد تک اور تاکہ تم (اپنے رب کی عظمتوں کو) سمجھنے لگ جاؤ

Verse 68 — Surah Ghafir 40:68

وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پس جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف اتنا فرماتا ہے اسے کہ ہو جا تو وہ کام ہو جاتا ہے

Verse 69 — Surah Ghafir 40:69

کیا تم نہیں دیکھتے ان (نادانوں ) کی طرف جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں ۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں

Verse 70 — Surah Ghafir 40:70

جن لوگوں نے جھٹلایا اس کتاب کو اور اس چیز کو بھی جو دے کر ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا ۔ انہیں (اپنی تکذیب کا انجام) معلوم ہو جائیگا

Verse 71 — Surah Ghafir 40:71

جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں ۔ انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا

Verse 72 — Surah Ghafir 40:72

کھولتے ہوئے پانی میں پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائینگے

Verse 73 — Surah Ghafir 40:73

پھر پوچھا جائے گا ان سے کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے

Verse 74 — Surah Ghafir 40:74

اللہ کے سوا (بصد یاس) کہیں گے وہ تو گم ہو گئے ہم سے بلکہ ہم تو کسی چیز کو پوجتے ہی نہ تھے اس سے پہلے اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے کافروں کو

Verse 75 — Surah Ghafir 40:75

یہ (سزا اور رسوائی) بدلہ ہے اس کام کا کہ تم خوشیاں منایا کرتے تھے زمین میں (اپنے عارضی اقتدار پر) ناحق اور بدلہ ہے اس کا جو تم (اپنے فانی اموال و املاک پر) اترایا کرتے تھے

Verse 76 — Surah Ghafir 40:76

اب داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں تم وہاں ہمیشہ رہنے والے ہو ۔ پس یہ بہت برا ٹھکانا ہے تکبر و غرور کرنے والوں کا

Verse 77 — Surah Ghafir 40:77

(اے حبیب!) آپ (ا ن کی نا زیبا حرکتوں پر) صبر فرمائیے اللہ کا وعدہ سچا ہے سو ہم خواہ آپ کو دکھائیں اس عذاب کا کچھ حصہ جس کا ان سے ہم نے وعدہ کیا ہے یا (اس سے پہلے ہی) آپ کو دینا سے اٹھا لیں (یہ بچ نہیں سکتے) آخر کار ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے

Verse 78 — Surah Ghafir 40:78

اور ہم نے بھیجے تھے پیغمبر آپ سے پہلے بھی ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کر دیا اور ان میں سے بعض کا ذکر (قرآن کریم میں) آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کی مجال نہ تھی کہ وہ لے آتا کوئی نشانی اللہ کی اجازت کے بغیر۔ پس جب آئے گا اللہ کا حکم (تو) فیصلہ کر دیا جائیگا حق (و انصاف) کے ساتھ اور باطل پرست وہاں (سراسر) گھاٹے میں رہیں گے

Verse 79 — Surah Ghafir 40:79

اللہ پاک وہ ہے جس نے بنائے تمہارے لیے مویشی تاکہ انمیں سے کسی پر سواری کرو اور کسی کا (گوشت) کھاؤ

Verse 80 — Surah Ghafir 40:80

اور تمہارے لیے ان میں طرح طرح کے فائدے ہیں اور ان میں سے ایک یہ فائدہ بھی ہے کہ ان پر سوار ہو کر اس منزل تک پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان مویشیوں پر اور کشتیوں پر تم لدے پھرتے ہو

Verse 81 — Surah Ghafir 40:81

اور وہ دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی کن کن آیتوں کا تم انکار کرو گے

Verse 82 — Surah Ghafir 40:82

کیاان منکروں نے کبھی سیر و سیاحت نہیں کی زمین میں تاکہ انہیں نظر آجاتا کہ کیا انجام ہوا ان (منکروں ) کا جو ان سے پہلے گزرے وہ لوگ ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور قوت میں زبردست تھے اور زمین میں اپنی نشانیوں کے لحاظ سے (کہیں ہنر مند تھے) پس یہ بتائیں کہ کیا فائدہ پہنچایا انہیں اس دولت نے جو وہ کماتے تھے

Verse 83 — Surah Ghafir 40:83

پس جب آئے ان کے پاس رسول روشن دلیلیں لے کر تو انہوں نے کفر کیا اور نازاں رہے اس علم پر جو ان کے پاس تھا ۔ اور (آخر کار) گھیر لیا انہیں جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

Verse 84 — Surah Ghafir 40:84

پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارا عذاب تو کہنے لگے ہم ایمان لائے ہیں ایک اللہ پر اور ہم ان معبودوں کا انکار کرتے ہیں جن کو ہم ان کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے

Verse 85 — Surah Ghafir 40:85

پس کوئی فائدہ نہ دیا انہیں ان کے ایمان نے جب دیکھ لیا انہوں نے ہمارا عذاب ۔ یہی دستور ہے اللہ تعالیٰ کا جو (قدیم سے) اس کے بندوں میں جاری ہے اور سرا سر خسارہ میں رہے اس وقت حق کا انکار کرنے والے