تا کہ دور فرما دے آپ کے لیے اللہ تعالیٰ جو الزام آپ پر (ہجرت سے) پہلے لگائے گئے اور جو ( ہجرت کے) بعد لگائے گئے اور مکمل فرما دے اپنے انعام کو آپ پر اور چلائے آپ کو سیدھی راہ پر
وہی ہے جس نے اتارا اطمینان کو اہل ایمان کے دلوں میں تاکہ وہ اور بڑھ جائیں (قوتِ) ایمان میں اپنے (پہلے ) ایمان کے ساتھ اور اللہ کے زیر فرمان ہیں سارے لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، بہت دانا ہے
تا کہ داخل کر دے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو باغوں میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور دور فرما دے ان سے ان کی برائیوں کو اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے
اور تاکہ عذاب میں مبتلا کر دے منافق مردوں اور منافق عورتوں ، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں ۔ انہیں پر ہے بری گردش اور ناراض ہو ا ہے اللہ تعالیٰ ان پر اور (اپنی رحمت سے) انہیں دور کر دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے جہنم ۔ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
(اے جان عالم) بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہو گا۔ اور جس نے ایفاء کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ سے کیا تو وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا
عنقریب آپ اس سے عرض کریں گے وہ دیہاتی جو پیچھے چھوڑے گئے تھے ہمیں بہت مشغول رکھا ہمارے مالوں اور اہل و عیال نے پس ہمارے لیے معافی طلب کریں ۔ (اے حبیب!) یہ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں آپ (انہیں) فرمائیے کون ہے جو اختیار رکھتا ہو تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی چیز کا اگر وہ فرمائے تمہارے لیے کسی ضرر کا یا ارادہ فرمائے تمہارے لیے کسی نفع کا بلکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے پوری طرح با خبر ہے
حقیقت یہ ہے کہ تم نے خیال کر لیا تھا کہ اب ہر گز لوٹ کر نہیں آئے گا یہ پیغمبر اور ایمان والے اپنے اہل خانہ کی طرف کبھی اور بڑا خوشنما لگتا تھا یہ ظن (فاسد) تمہارے دلوں کو اور تم طرح طرح کے برے خیالوں میں مگن رہے (اس وجہ سے) تم برباد ہونے والی قوم بن گئے
اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ۔ بخش دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے
کہیں گے (پہلے سفر جہاد سے) پیچھے چھوڑے جانے والے جب تم روانہ ہو گے اموال غنیمت کی طرف تاکہ تم ان پر قبضہ کر لو ، ہمیں بھی اجازت دو کہ تمہارے پیچھے پیچھے آئیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے حکم کو بدل دیں فرمائیے تم قطعاً ہمارے پیچھے نہیں آسکتے یونہی فرما دیا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے پھر وہ کہیں گے کہ (نہیں) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو (ان کا یہ غلط خیال ہے) در حقیقت وہ (احکام الٰہی کے اسرار کو) بہت کم سمجھتے ہیں
فرما دیجیے ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں کو کہ عنقریب تمہیں دعوت دی جائے گی ایک ایسی قوم سے جہاد کی جو بڑی سخت جنگجو ہے تم ان سے لڑائی کرو گے یا وہ ہتھیا ر ڈال دیں گے پس اگر تم نے اس وقت اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہت اچھا اجر دے گا ۔ اور اگر تم نے (اس وقت بھی) منہ موڑا جیسے پہلے تم نے منہ موڑا تھا تم تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک عذاب دے گا
نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ ہی مریض پر کوئی گناہ ہے (اگر یہ شریک جہاد) نہ ہو سکیں اور جو شخص اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی داخل فرمائے گا اسے باغات میں رواں ہیں جن کے نیچے نہریں ۔ اور جو شخص روگردانی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب دے گا
یقیناً راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آ پ کی اس درخت کے نیچے ۔ پس جان لیا اس نے جو کچھ ان کے دلوں میں تھا پس اتارا اس نے اطمینا ن کو ان پر اور بطور انعام انہیں یہ قریبی فتح بخشی
(اے غلامان مصطفی) اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جنہیں تم (اپنے اپنے وقت پر) حاصل کرو گے پس جلدی دے دی ہے تمہیں یہ (صلح) اور روک دیا ہے اس نے لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تاکہ ہو جائے یہ (ہماری نصرت کی) نشانی اہل ایمان کے لیے اور تاکہ ثابت قدمی سے گامزن رکھے تمہیں صراط مستقیم پر
اور اللہ وہی ہے جس نے روک دیا تھا ان کے ہاتھوں کو تم اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے وادی مکہ میں باوجودیکہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کر رہے تھے خوب دیکھ رہا تھا
یہی وہ (بد نصیب ) ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں بھی روک دیا مسجد حرام (میں داخل ہونے) سے اور قربانی کے جانوروں کو بھی کہ وہ بندھے رہیں اور اپنی جگہ تک نہ پہنچ سکیں اور اگر نہ ہوتے (مکہ میں) چند مسلمان مرد اور چند مسلمان عورتیں جن کو تم نہیں جانتے (اور یہ اندیشہ نہ ہوتا) کہ تم رونڈ ڈالو گے انہیں سو تمہیں پہنچے گی ان کی وجہ سے عار بےعلمی کے باعث (نیز ) تاکہ داخل کر دے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر یہ (کلمہ گو) الگ ہو جاتے تو (اس وقت) جنہوں نے کفر کیا ان میں سے تو ہم انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دیتے
جب جگہ دی کفار نے اپنے دلوں میں ضد کو وہی (زمانہ) جاہلیت کی ضد تو نازل فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی تسکین کو اپنے رسول (مکرم) پر اور اہل ایمان پر اور انہیں استقامت بخش دی تقویٰ کے کلمہ پر اور وہ اس کے حقدار بھی تھے اور اس کے اہل بھی تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والاہے
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا حق کے ساتھ کہ تم ضرور داخل ہو گے مسجد حرام میں جب اللہ نے چاہا امن و امان سے منڈواتے ہوئے اپنے سروں کو یا ترشواتے ہوئے ۔ تمہیں (کسی کا) خوف نہ ہوگا پس وہ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے تو اس نے عطا فر ما دی (تمہیں ) اس سے پہلے ایسی فتح جو قریب ہے
وہ (اللہ ) ہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو (کتاب) ہدایت اور دین حق دے کر تاکہ غالب کر دے اسے تمام دینوں پر اور (رسول کی صداقت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے
(جان عالم) محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ (سعادتمند) جو آپ کے ساتھی ہیں کفار کے مقابلہ میں بہادر اور طاقتور ہیں ۔ آپس میں بڑے رحم دل ہیں تو دیکھتا ہے انہیں کبھی رکوع کرتے ہوئے کبھی سجدہ کرتے ہوئے طلب گار ہیں اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے ان (کے ایمان و عبادت) کی علامت ان کے چہروں پر سجدہ کے اثر سے نمایاں ہے یہ ان کے اوصاف تورات میں (مذکور) ہیں ۔ نیز ان کی صفات انجیل میں بھی (مرقوم ) ہیں (یہ صحابہ) ایک کھیت کی مانند ہیں جس نے نکالا اپنا پٹھا پھر تقویت دی اس کو پھر وہ مضبوط ہو گیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اپنے تنے پر (اس کا جوبن) خوش کر رہا ہے بونے والوں کو تاکہ (آتش) غیظ میں جلتے رہیں انہیں دیکھ کر کفار اللہ نے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرتے رہے ان سے مغفرت کا اور اجر عظیم کا