وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین وک چھ دنوں میں پھر متمکن ہوا تخت حکومت پر، وہ جاناتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس کی طرف عروج کرتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی تم ہو اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہے
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو (اس کی راہ میں) ان مالوں سے جن میں اس نے تمہیں اپنا نائب بنایا ہے۔ پس جو لوگ ایمان لائے تم میں سے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے
آخرت تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ (اس کا ) رسول دعوت دے رہا ہے تمہیں کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر اور اللہ تعالی تم سے وعدہ بھی لے چکا ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو
وہی ہے جو نازل فرمارہا ہے اپنے (محبوب) بندہ پر روشن آیتیں تاکہ تمہیں نکال لے (کفر کے) اندھیروں سے (ایمان کے) نور کی طرف۔ اور بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بڑی شفقت فرمانے ولا، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
آخرتمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے (اپنے مال) راہ خدا میں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا وارث ہے تم میں سے کوئی برابر نہیں کرسکتا ان کی جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے (راہ خدا میں) مال خرچ کیا اور جنگ کی ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان سے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد مال خرچ کیا اور جنگ کی۔ (ویسے تو) سب کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے بھلائی کا۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے بخوبی خبردار ہے
کون ہے جو (اپنا مال) اللہ تعالیٰ کو (بطور) قرضۂ حسنہ دے اور اور اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا دے اس کے مال کو اس کے لیے (اسکے علاوہ) اسے شاندار اجر بھی ملے گا
جس روز آپ دیکھیں گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ضو فشانی کر رہا ہوگا ان کا نور ان کے آگے بھی اور ان کی دائیں جانب بھی (مومنو! ) تمہیں مژدہ ہو آج ان باغوں کا بہہ رہی ہیں جن کے نیچے نہریں تم ہمیشہ وہاں رہو گے۔ یہی وہ عظیم الشان کامیابی ہے
اس روز کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے (اے نیک بختو!) ذرا ہمارا بھی انتظار کرو ہم بھی روشنی حاصل کرلیں تمہارے نور سے ۔ (انہیں) کہا جائے گا لوٹ جاؤ پیچھے کی طرف (اور (وہاں ) نور تلاش کرو۔ پس کھڑی کردی جائے گی ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار جس کا ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے باطن میں رحمت اور اس کے ظاہر کی جانب عذاب ہوگا
منافق پکاریں گے اہل ایمان کو کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے کہیں گے بےشک! لیکن تم نے اپنے آپ کو خود فتنوں میں ڈال دیا اور (ہماری تباہی کا) انتظار کرتے رہے اور شک میں مبتلا رہے اور دھوکہ میں ڈال دیا تمہیں جھوٹی امیدوں نے یہاں تک کہ اللہ کا فرمان آ پہنچا اور دھوکہ دیا تمہیں اللہ کے بارے میں شیطان (دغا باز ) نے
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا اہل ایمان کے لیے کہ جھک جائیں ان کے دل یاد الہی کے لیے اور اس سچے کلام کے لیے جو اترا ہے اور نہ بن جائیں ان لوگوں کی طرح جنہیں کتاب دی گئی اس سے پہلے پس لمبی مدت گزر گئی ان پر تو سخت ہوگئے ان کے دل اور ایک کثیر تعداد ان میں سے نافرمان بن گئی
بے شک صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیا اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دیا کئی گنا بڑھا دیا جائے ان کے لیے (ان کا مال) اور انہیں فیاضانہ اجر ملے گا
اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی (خوش نصیب) اللہ جناب میں صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے (خصوص) اجر اور ان کا (مخصوص) نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ تو دوزخی ہیں۔
خوب جان لو! کہ دنیوی زندگی محض کھیل، تماشا اور (سامان) آرائش ہے اور آپس میں (حسب ونسب پر) اترانا اور ایک دوسرے سے زیادہ مال اور اولاد حاصل کرنا ہے اس کی مثال یوں سمجھو جیسے بادل برسے اور نہال کردے کسانوں کو اس کی (شاداب وسرسبز) کھیتی۔ پھر وہ (یکایک) سوکھنے لگے تو تو اسے دیکھے کہ اس کا رنگ زرد پڑ گیا ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور (دنیا پرستوں کے لیے) آخرت میں سخت عذاب ہوگا (اور خدا پرستوں کے لیے) اللہ کی بخشش اور (اس کی ) خوشنودی ہوگی اور نہیں ہے دنیوی زندگی مگر نرا دھوکہ
تیزی سے آگے بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے ۔ جو تیار کردی گئی ہے ان کے لیے جو ایمان لے آئے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ یہ اللہ کا فضل (وکرم) ہے عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی فضل فرمانے والاہے
(ہم نے تمہیں یہ اس لیے بتادیا ہے) کہ تم غمزدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہیں نہ ملے اور نہ اترانے لگو اس چیز پر جو تمہیں مل جائے۔ اور اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا کسی مغرور، شیخی باز کو
جو لوگ خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔ اور جو ( اللہ کے حکم سے ) رو گردانی کرے تو بےشک اللہ ہی بےنیاز، ہر تعریف کا مستحق ہے
یقینا ہم نے بھیجا ہے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے اتاری ہے اور ہم نے اتاری ہے ان کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور ہم نے پیدا کیا لوہے کو اس میں بڑی قوت ہے اور طرح طرح کے فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور (یہ سب اس لیے) تاکہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ کی کہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا زور آور ، سب پر غالب ہے
اور ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام ) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے رکھ دی ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب پس ان میں سے چند تو ہدایت یافتہ ہیں اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں
پھر ہم نے ان کے پیچھے انہیں کی راہ پر اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو اور انہیں انجیل عطا فرمائی۔ اور ہم نے رکھ دی ان لوگوں کے دلوں میں جو عیسیٰ کے تابعدار تھے ، شفقت اور رحمت اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا البتہ انہوں نے رضائے الہی کے حصول کے لیے اسے اختیار کیا تھا پھر اسے وہ نباہ نہ سکے جیسے اس کے نباہنے کا حق تھا پس ہم نے عطا فرمایا جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے (ان کے حسن عمل اور حسن نیت ) کا اجر اور ان میں سے اکثر فاسق (وفاجر) تھے
اے ایمان والو! تم ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور (سچے دل سے) ایمان لے آؤ اس کے رسول (مقبول) پر اللہ تمہیں عطا فرمائے گا دو حصے اپنی رحمت سے اور بنا دے گا تمہارے لیے ایک نور جس کی روشنی میں تم چلو گے اور بخش دے گا تمہیں اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے
(تم پر یہ خصوصی کرم اس لیے کیا) تاکہ جان لیں اہل کتاب کہ ان کا کوئی قابو نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل (وکرم) پر اور یہ کہ فضل تو اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے نوازتا ہے اس سے جس کو چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے