وہی تو ہے جو باھر نکال لا یا اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلی جلاوطنی کے وقت تم نے کبھی یہ خیال بھی نہ کیا تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ بھی گمان کرتے تھے کہ انہیں ان کے قلعے بچالیں گے اللہ (کے قہر) سے پس آیا ان پر اللہ (کا قہر) اس جگہ سے جس کا انہیں خیال بھی نہ آیا تھا اور اللہ نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب چنانچہ وہ برباد کر رہے ہیں اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے پس عبرت حاصل کرو اے دیدۂ بینا رکھنے والو
اور جو مال پلٹا دیے اللہ نے اپنے رسول کی طرف ان سے لے کر تو نہ تم نے اس پر گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالی تسلط بخشتا ہے اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ۔ اور اللہ تعالی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے
جو مال پلٹا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف ان گاؤں کے رہنے والوں سے تو وہ اللہ کا ہے ، اس کے رسول کا ہے اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال گردش نہ کرتا رہے تمہارے دولت مندوں کے درمیان اور رسول (کریم) جو تمہیں عطا فرمادیں وہ لے لو اور جس سے تمہٰں روکیں تو رک جاؤ اور ڈرتے رہا کرو ۔ اللہ سے بےشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے
(نیز وہ مال) نادار مہاجرین کے لیے ہے جنہیں (جبراً) نکال دیا گیا تھاان کے گھروں سے اور جائیداد وں سے یہ (نک بخت) تلاش کرتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضا اور (ہر وقت) مدد کرتے رہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ۔ یہی رستباز لوگ ہیں
اور (اس مال میں) ان کا بھی حق ہے جو دار ہجرت میں مقیم ہیں اور ایمان میں (ثابق قدم ) ہیں مہاجرین کی آمد سے پہلے محبت کرتے ہیں ان سے جو ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں اور نہیں پاتے اپنے سینوں میں کوئی خلش اس چیز کے بارے میں جو مہاجرین کو دے دی جائے اور ترجیح دیتے ہیں، انہیں اپنے آپ پر اگرچہ خود انہیں اس چیز کی شدید حاجت ہو اور جس کو بچا لیا گیا اپنے نفس کی حرص سے تو وہی لوگ بامراد ہیں
اور اس مال میں ان کا بھی حق ہے جو ان کے بعد آئے جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لے آئے اور نہ پیدا کر ہمارے دلوں میں بغض اہل ایمان کے لیے اے ہمارے رب! بےشک تو رؤف رحیم ہے
کیا آپ نے منافقوں کی طرف نہیں دیکھا جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے کہ اگر تمہیں (یہاں سے) نکالا گیا تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ یہاں سے نکل جائیں گے اور ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات ہر گز نہیں مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے ۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹ بول رہے ہیں
(سن لو!) اگر یہودیوں کو نکالا گیا تو یہ نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر (جی کڑا کر کے) انہوں نے ان کی مدد کی تو یقیناً پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔ پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی
(یہ بڑے بزدل ہیں) کبھی اکٹھے ہو کر (کھلے میدان میں) تم سے جنگ نہیں کریں گے۔ جنگ کریں گے تو قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی آڑ لے کر ان کا اختلاف آپس میں بہت سخت ہے ۔ تم انہیں متحد خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں یہ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں
منافقین اور یہود کی مثال شیطان کی سی ہے جو ( پہلے) انسان کو کہتا ہے انکار کردے۔ اور جب وہ انکار کردیتا ہے تو شیطان کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو رب العالمین ہے
اے ایمان والو! ڈرتے رہا کرو اللہ اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا آگے بھیجا ہے کل کے لیے۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ تعالیٰ سے بےشک اللہ تعالیٰ خوب آگاہ ہے جو تم کرتے رہتے ہو
اگر ہم نے اتارا ہوتا اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو آپ اس کو دیکھتے کہ وہ جھک جاتا (اور) پاش پاش ہوجاتا اللہ کے خوف سے ۔ اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ غور وفکر کریں
اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں سب کا بادشاہ نہایت مقدس، سلامت رکھنے والا، امان بخشنے والا، نگہبان، عزت والا، ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا، متکبر ہے پاک ہے اللہ تعالیٰ اس شرک سے جو لوگ کرر ہے ہیں
وہی اللہ سب کا خالق، سب کو پیدا کرنے والا (سب کی مناسب) صورت بنانے والا ہے سارے خوبصورت نام اسی کے ہیں ۔ اس کی تسبیح کرر ہے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہی عزت والا، حکمت والا ہے