(اے نبئ مکرم) جب منافق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا ً اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ تعالی بھی جانتا ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ تعالی گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعی جھوٹے ہیں
اور جب آپ انہیں دیکھیں تو ان کے جسم آپ کو بڑے خوشنما معلوم ہوں گے اور اگر وہ گفتگو کریم تو توجہ سے آپ ان کی بات سنیں گے (در حقیقت) وہ (بیکار) لکڑیوں کی مانند ہیں جو دیوار کے ساتھ کھڑی کردی گئی ہوں گمان کرتے ہیں کہ ہر گرج ان کے خلاف ہی ہے یہی حقیقی دشمن ہیں پس آپ ان سے ہو شیار رہیے ہلاک کرے انہیں اللہ تعالی کیسے سرگرداں پھرتے
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت طلب کرے تو ( انکار سے ) اپنے سروں کو گھماتے ہیں اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ ( حاضری سے) رک رہے ہیں تکبرکرتے ہوئے
یکساں ہے ان کے لیے کہ آپ طلب مغفرت کریں ان کے لیے یاطلب مغفرت نہ کریں ان کے لیے اللہ تعالی ہر گز نہ بخشے گا انہیں بےشک اللہ تعالی فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا
یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں نہ خرچ کرو ان (درویشوں ) پر جو اللہ کے رسول کے پاس ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ (بھوک سے تنگ آکر) تتر بتر ہوجائیں اور اللہ کے لیے ہی ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے لیکن منافقین ( اس حقیقت کو) سمجھتے ہی نہین
منافق کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر گئے مدینہ میں تو نکال دیں گے عزت والے وہاں سے ذلیلوں کو حالانکہ (ساری) عزت تو صرف اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے مگر منافقوں کو ( اس بات ا) علم ہی نہیں
اور خرچ کرلو اس رزق سے جو ہم نے تم کو دیا اس سے پیشتر کہ آجائے تم میں سے کسی کے پاس موت تو (اسوقت) وہ یہ کہنے لگے کہ اے میرے رب ! تونے مجھے تھوڑی مدت کے لیے کیوں مہلت نہ دی تاکہ میں صدقہ (وخیرات) کرلیتا اور نیکوں میں شامل ہوجاتا