Back to Languages

Urdu - Chapter 20 - Ta-Ha

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah Ta-Ha 20:1

طا، ہا (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)

Verse 2 — Surah Ta-Ha 20:2

(اے محبوبِ مکرّم!) ہم نے آپ پر قرآن (اس لئے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں

Verse 3 — Surah Ta-Ha 20:3

مگر (اسے) اس شخص کے لئے نصیحت (بنا کر اتارا) ہے جو (اپنے رب سے) ڈرتا ہے

Verse 4 — Surah Ta-Ha 20:4

(یہ) اس (اللہ) کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور بلند و بالا آسمان پیدا فرمائے

Verse 5 — Surah Ta-Ha 20:5

(وہ) نہایت رحمت والا (ہے) جو عرش (یعنی جملہ نظام ہائے کائنات کے اقتدار) پر (اپنی شان کے مطابق) متمکن ہوگیا

Verse 6 — Surah Ta-Ha 20:6

(پس) جو کچھ آسمانوں (کی بالائی نوری کائناتوں اور خلائی مادی کائناتوں) میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان (فضائی اور ہوائی کرّوں میں) ہے اور جو کچھ سطح ارضی کے نیچے آخری تہہ تک ہے سب اسی کے (نظام اور قدرت کے تابع) ہیں

Verse 7 — Surah Ta-Ha 20:7

اور اگر آپ ذکر و دعا میں جہر (یعنی آواز بلند) کریں (تو بھی کوئی حرج نہیں) وہ تو سِرّ (یعنی دلوں کے رازوں) اور اخفی (یعنی سب سے زیادہ مخفی بھیدوں) کو بھی جانتا ہے (تو بلند التجاؤں کو کیوں نہیں سنے گا)

Verse 8 — Surah Ta-Ha 20:8

اللہ (اسی کا اسمِ ذات) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو)، اس کے لئے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)

Verse 9 — Surah Ta-Ha 20:9

اور کیا آپ کے پاس موسٰی (علیہ السلام) کی خبر آچکی ہے

Verse 10 — Surah Ta-Ha 20:10

جب موسٰی (علیہ السلام) نے (مدین سے واپس مصر آتے ہوئے) ایک آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا میں نے ایک آگ میں انس و محبت کا شعلہ پایا ہے) شاید میں اس میں سے کوئی چنگاری تمہارے لئے (بھی) لے آؤں یا میں اس آگ پر (سے وہ) رہنمائی پا لوں (جس کی تلاش میں سرگرداں ہوں)

Verse 11 — Surah Ta-Ha 20:11

پھر جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ندا کی گئی: اے موسٰی

Verse 12 — Surah Ta-Ha 20:12

بیشک میں ہی تمہارا رب ہوں سو تم اپنے جوتے اتار دو، بیشک تم طوٰی کی مقدس وادی میں ہو

Verse 13 — Surah Ta-Ha 20:13

اور میں نے تمہیں (اپنی رسالت کے لئے) چن لیا ہے پس تم پوری توجہ سے سنو جو تمہیں وحی کی جا رہی ہے

Verse 14 — Surah Ta-Ha 20:14

بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو

Verse 15 — Surah Ta-Ha 20:15

بیشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس (عمل) کا بدلہ دیا جائے جس کے لئے وہ کوشاں ہے

Verse 16 — Surah Ta-Ha 20:16

پس تمہیں وہ شخص اس (کے دھیان) سے روکے نہ رکھے جو (خود) اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشِ (نفس) کا پیرو ہے ورنہ تم (بھی) ہلاک ہوجاؤ گے

Verse 17 — Surah Ta-Ha 20:17

اور یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسی

Verse 18 — Surah Ta-Ha 20:18

انہوں نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے کئی اور فائدے بھی ہیں

Verse 19 — Surah Ta-Ha 20:19

ارشاد ہوا: اے موسٰی! اسے (زمین پر) ڈال دو

Verse 20 — Surah Ta-Ha 20:20

پس انہوں نے اسے (زمین پر) ڈال دیا تو وہ اچانک سانپ ہوگیا (جو ادھر ادھر) دوڑنے لگا

Verse 21 — Surah Ta-Ha 20:21

ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور مت ڈرو ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

Verse 22 — Surah Ta-Ha 20:22

اور (حکم ہوا:) اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا لو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمک دار ہو کر نکلے گا (یہ) دوسری نشانی ہے

Verse 23 — Surah Ta-Ha 20:23

یہ اس لئے (کر رہے ہیں) کہ ہم تمہیں اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں

Verse 24 — Surah Ta-Ha 20:24

تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی و سرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہے

Verse 25 — Surah Ta-Ha 20:25

(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرما دے

Verse 26 — Surah Ta-Ha 20:26

اور میرا کارِ (رسالت) میرے لئے آسان فرما دے

Verse 27 — Surah Ta-Ha 20:27

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

Verse 28 — Surah Ta-Ha 20:28

کہ لوگ میری بات (آسانی سے) سمجھ سکیں

Verse 29 — Surah Ta-Ha 20:29

اور میرے گھر والوں میں سے میرا ایک وزیر بنا دے

Verse 30 — Surah Ta-Ha 20:30

(وہ) میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) ہو

Verse 31 — Surah Ta-Ha 20:31

اس سے میری کمرِ ہمت مضبوط فرما دے

Verse 32 — Surah Ta-Ha 20:32

اور اسے میرے کارِ (رسالت) میں شریک فرما دے

Verse 33 — Surah Ta-Ha 20:33

تاکہ ہم (دونوں) کثرت سے تیری تسبیح کیا کریں

Verse 34 — Surah Ta-Ha 20:34

اور ہم کثرت سے تیرا ذکر کیا کریں

Verse 35 — Surah Ta-Ha 20:35

بیشک تو ہمیں (سب حالات کے تناظر میں) خوب دیکھنے والا ہے

Verse 36 — Surah Ta-Ha 20:36

(اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے موسٰی! تمہاری ہر مانگ تمہیں عطا کردی

Verse 37 — Surah Ta-Ha 20:37

اور بیشک ہم نے تم پر ایک اور بار (اس سے پہلے بھی) احسان فرمایا تھا

Verse 38 — Surah Ta-Ha 20:38

جب ہم نے تمہاری والدہ کے دل میں وہ بات ڈال دی جو ڈالی گئی تھی

Verse 39 — Surah Ta-Ha 20:39

کہ تم اس (موسٰی علیہ السلام) کو صندوق میں رکھ دو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو پھر دریا اسے کنارے کے ساتھ آلگائے گا، اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا، اور میں نے تجھ پر اپنی جناب سے (خاص) محبت کا پرتَو ڈال دیا ہے (یعنی تیری صورت کو اس قدر پیاری اور من موہنی بنا دیا ہے کہ جو تجھے دیکھے گا فریفتہ ہو جائے گا)، اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے

Verse 40 — Surah Ta-Ha 20:40

اور جب تمہاری بہن (اجنبی بن کر) چلتے چلتے (فرعون کے گھر والوں سے) کہنے لگی: کیا میں تمہیں کسی (ایسی عورت) کی نشاندہی کر دوں جو اس (بچہ) کی پرورش کر دے، پھر ہم نے تم کو تمہاری والدہ کی طرف (پرورش کے بہانے) واپس لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ بھی ٹھنڈی ہوتی رہے اور وہ رنجیدہ بھی نہ ہو، اور تم نے (قومِ فرعون کے) ایک (کافر) شخص کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تمہیں (اس) غم سے (بھی) نجات بخشی اور ہم نے تمہیں بہت سی آزمائشوں سے گزار کر خوب جانچا، پھر تم کئی سال اہلِ مدین میں ٹھہرے رہے پھر تم (اللہ کے) مقرر کردہ وقت پر (یہاں) آگئے اے موسٰی! (اس وقت ان کی عمر ٹھیک چالیس برس ہوگئی تھی)

Verse 41 — Surah Ta-Ha 20:41

اور (اب) میں نے تمہیں اپنے (امرِ رسالت اور خصوصی انعام کے) لئے چن لیا ہے

Verse 42 — Surah Ta-Ha 20:42

تم اور تمہارا بھائی (ہارون) میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

Verse 43 — Surah Ta-Ha 20:43

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک وہ سرکشی میں حد سے گزر چکا ہے

Verse 44 — Surah Ta-Ha 20:44

سو تم دونوں اس سے نرم (انداز میں) گفتگو کرنا شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا (میرے غضب سے) ڈرنے لگے

Verse 45 — Surah Ta-Ha 20:45

دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! بیشک ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے (گا) یا (زیادہ) سرکش ہوجائے (گا)

Verse 46 — Surah Ta-Ha 20:46

ارشاد فرمایا: تم دونوں نہ ڈرو بیشک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں (سب کچھ) سنتا اور دیکھتا ہوں

Verse 47 — Surah Ta-Ha 20:47

پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو: ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں سو تو بنی اسرائیل کو (اپنی غلامی سے آزاد کرکے) ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں (مزید) اذیت نہ پہنچا، بیشک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی

Verse 48 — Surah Ta-Ha 20:48

بیشک ہماری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ عذاب (ہر) اس شخص پر ہوگا جو (رسول کو) جھٹلائے گا اور (اس سے) منہ پھیر لے گا

Verse 49 — Surah Ta-Ha 20:49

(فرعون نے) کہا: تو اے موسٰی! تم دونوں کا رب کون ہے

Verse 50 — Surah Ta-Ha 20:50

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو (اس کے لائق) وجود بخشا پھر (اس کے حسبِ حال) اس کی رہنمائی کی

Verse 51 — Surah Ta-Ha 20:51

(فرعون نے) کہا: تو (ان) پہلی قوموں کا کیا حال ہوا (جو تمہارے رب کو نہیں مانتی تھیں)

Verse 52 — Surah Ta-Ha 20:52

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں (محفوظ) ہے، نہ میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

Verse 53 — Surah Ta-Ha 20:53

وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے رہنے کی جگہ بنایا اور اس میں تمہارے (سفر کرنے کے) لئے راستے بنائے اور آسمان کی جانب سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعے (زمین سے) انواع و اقسام کی نباتات کے جوڑے نکال دیئے

Verse 54 — Surah Ta-Ha 20:54

تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے نشانیاں ہیں

Verse 55 — Surah Ta-Ha 20:55

(زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے

Verse 56 — Surah Ta-Ha 20:56

اور بیشک ہم نے اس (فرعون) کو اپنی ساری نشانیاں (جو موسٰی اور ہارون علیھما السلام کو دی گئی تھیں) دکھائیں مگر اس نے جھٹلایا اور (ماننے سے) انکار کر دیا

Verse 57 — Surah Ta-Ha 20:57

اس نے کہا: اے موسٰی! کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم اپنے جادو کے ذریعہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو

Verse 58 — Surah Ta-Ha 20:58

سو ہم بھی تمہارے پاس اسی کی مانند جادو لائیں گے تم ہمارے اور اپنے درمیان (مقابلہ کے لئے) وعدہ طے کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ ہی تم، (مقابلہ کی جگہ) کھلا اور ہموار میدان ہو

Verse 59 — Surah Ta-Ha 20:59

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تمہارے وعدے کا دن یومِ عید (سالانہ جشن کا دن) ہے اور یہ کہ (اس دن) سارے لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں

Verse 60 — Surah Ta-Ha 20:60

پھر فرعون (مجلس سے) واپس مڑ گیا سو اس نے اپنے مکر و فریب (کی تدبیروں) کو اکٹھا کیا پھر (مقررہ وقت پر) آگیا

Verse 61 — Surah Ta-Ha 20:61

موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں) سے فرمایا: تم پر افسوس (خبردار!) اللہ پر جھوٹا بہتان مت باندھنا ورنہ وہ تمہیں عذاب کے ذریعے تباہ و برباد کردے گا اور واقعی وہ شخص نامراد ہوا جس نے (اللہ پر) بہتان باندھا

Verse 62 — Surah Ta-Ha 20:62

چنانچہ وہ (جادوگر) اپنے معاملہ میں باہم جھگڑ پڑے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے

Verse 63 — Surah Ta-Ha 20:63

کہنے لگے: یہ دونوں واقعی جادوگر ہیں جو یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ تمہیں جادو کے ذریعہ تمہاری سر زمین سے نکال باہر کریں اور تمہارے مثالی مذہب و ثقافت کو نابود کردیں

Verse 64 — Surah Ta-Ha 20:64

(انہوں نے باہم فیصلہ کیا) پس تم (جادو کی) اپنی ساری تدابیر جمع کر لو پھر قطار باندھ کر (اکٹھے ہی) میدان میں آجاؤ، اور آج کے دن وہی کامیاب رہے گا جو غالب آجائے گا

Verse 65 — Surah Ta-Ha 20:65

(جادوگر) بولے: اے موسٰی! یا تو آپ (اپنی چیز) ڈال دیں اور یا ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہو جائیں

Verse 66 — Surah Ta-Ha 20:66

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: بلکہ تم ہی ڈال دو، پھر کیا تھا اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے موسٰی (علیہ السلام) کے خیال میں یوں محسوس ہونے لگیں جیسے وہ (میدان میں) دوڑ رہی ہیں

Verse 67 — Surah Ta-Ha 20:67

تو موسٰی (علیہ السلام) اپنے دل میں ایک چھپا ہوا خوف سا پانے لگے

Verse 68 — Surah Ta-Ha 20:68

ہم نے (موسٰی علیہ السلام سے) فرمایا: خوف مت کرو بیشک تم ہی غالب رہوگے

Verse 69 — Surah Ta-Ha 20:69

اور تم (اس لاٹھی کو) جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے (زمین پر) ڈال دو وہ اس (فریب) کو نگل جائے گی جو انہوں نے (مصنوعی طور پر) بنا رکھا ہے۔ جو کچھ انہوں نے بنا رکھا ہے (وہ تو) فقط جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر جہاں کہیں بھی آئے گا فلاح نہیں پائے گا

Verse 70 — Surah Ta-Ha 20:70

پس (ایسا ہی ہوا اور) سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے کہنے لگے: ہم ہارون اور موسٰی (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لے آئے

Verse 71 — Surah Ta-Ha 20:71

(فرعون) کہنے لگا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ (موسٰی) تمہارا (بھی) بڑا (استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے، پس (اب) میں ضرور تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی سمتوں سے کاٹوں گا اور تمہیں ضرور کھجور کے تنوں میں سولی چڑھاؤں گا اور تم ضرور جان لوگے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ مدت تک باقی رہنے والا ہے

Verse 72 — Surah Ta-Ha 20:72

(جادوگروں نے) کہا: ہم تمہیں ہرگز ان واضح دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آچکے ہیں، اس (رب) کی قسم جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے! تو جو حکم کرنے والا ہے کر لے، تُو فقط (اس چند روزہ) دنیوی زندگی ہی سے متعلق فیصلہ کر سکتا ہے

Verse 73 — Surah Ta-Ha 20:73

بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور اسے بھی (معاف فرما دے) جس جادوگری پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، اور اللہ ہی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے

Verse 74 — Surah Ta-Ha 20:74

بیشک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو بیشک اس کے لئے جہنم ہے، (اور وہ ایسا عذاب ہے کہ) نہ وہ اس میں مر سکے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا

Verse 75 — Surah Ta-Ha 20:75

اور جو شخص اس کے حضور مومن بن کر آئے گا (مزید یہ کہ) اس نے نیک عمل کئے ہوں گے تو ان ہی لوگوں کے لئے بلند درجات ہیں

Verse 76 — Surah Ta-Ha 20:76

(وہ) سدا بہار باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور یہ اس شخص کا صلہ ہے جو (کفر و معصیت کی آلودگی سے) پاک ہو گیا

Verse 77 — Surah Ta-Ha 20:77

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ، سو ان کے لئے دریا میں (اپنا عصا مار کر) خشک راستہ بنا لو، نہ (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف کرو اور نہ (غرق ہونے کا) اندیشہ رکھو

Verse 78 — Surah Ta-Ha 20:78

پھر فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا پس دریا (کی موجوں) نے انہیں ڈھانپ لیا جتنا بھی انہیں ڈھانپا

Verse 79 — Surah Ta-Ha 20:79

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور انہیں سیدھے راستہ پر نہ لگایا

Verse 80 — Surah Ta-Ha 20:80

اے بنی اسرائیل! (دیکھو) بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور ہم نے تم سے (کوہِ) طور کی داہنی جانب (آنے کا) وعدہ کیا اور (وہاں) ہم نے تم پر من و سلوٰی اتارا

Verse 81 — Surah Ta-Ha 20:81

(اور تم سے فرمایا:) ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جن کی ہم نے تمہیں روزی دی ہے اور اس میں حد سے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب واجب ہو جائے گا، اور جس پر میرا غضب واجب ہوگیا سو وہ واقعی ہلاک ہوگیا

Verse 82 — Surah Ta-Ha 20:82

اور بیشک میں بہت زیادہ بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر ہدایت پر (قائم) رہا

Verse 83 — Surah Ta-Ha 20:83

اور اے موسٰی! تم نے اپنی قوم سے (پہلے طور پر آجانے میں) جلدی کیوں کی

Verse 84 — Surah Ta-Ha 20:84

(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے (غلبۂ شوق و محبت میں) تیرے حضور پہنچنے میں جلدی کی ہے اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے

Verse 85 — Surah Ta-Ha 20:85

ارشاد ہوا: بیشک ہم نے تمہارے (آنے کے) بعد تمہاری قوم کو فتنہ میں مبتلا کر دیا ہے اور انہیں سامری نے گمراہ کر ڈالا ہے

Verse 86 — Surah Ta-Ha 20:86

پس موسٰی (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک (اور) رنجیدہ ہوکر پلٹ گئے (اور) فرمایا: اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں فرمایا تھا، کیا تم پر وعدہ (کے پورے ہونے) میں طویل مدت گزر گئی تھی، کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے غضب واجب (اور نازل) ہوجائے؟ پس تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے

Verse 87 — Surah Ta-Ha 20:87

وہ بولے: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی مگر (ہوا یہ کہ) قوم کے زیورات کے بھاری بوجھ ہم پر لاد دیئے گئے تھے تو ہم نے انہیں (آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیئے

Verse 88 — Surah Ta-Ha 20:88

پھر اس (سامری) نے ان کے لئے (ان گلے ہوئے زیورات سے) ایک بچھڑے کا قالب (تیار کرکے) نکال لیا اس میں (سے) گائے کی سی آواز (نکلتی) تھی تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا معبود ہے اور موسٰی (علیہ السلام) کا (بھی یہی) معبود ہے بس وہ (سامری یہاں پر) بھول گیا

Verse 89 — Surah Ta-Ha 20:89

بھلا کیا وہ (اتنا بھی) نہیں دیکھتے تھے کہ وہ (بچھڑا) انہیں کسی بات کا جواب (بھی) نہیں دے سکتا اور نہ ان کے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نفع کا

Verse 90 — Surah Ta-Ha 20:90

اور بیشک ہارون (علیہ السلام) نے (بھی) ان کو اس سے پہلے (تنبیہاً) کہہ دیا تھا کہ اے قوم! تم اس (بچھڑے) کے ذریعہ تو بس فتنہ میں ہی مبتلا ہوگئے ہو، حالانکہ بیشک تمہارا رب (یہ نہیں وہی) رحمان ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو

Verse 91 — Surah Ta-Ha 20:91

وہ بولی: ہم تو اسی (کی پوجا) پر جمے رہیں گے تاوقتیکہ موسٰی (علیہ السلام) ہماری طرف پلٹ آئیں

Verse 92 — Surah Ta-Ha 20:92

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اے ہارون! تم کو کس چیز نے روکے رکھا جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں

Verse 93 — Surah Ta-Ha 20:93

(مزید یہ کہ تمہیں کس نے منع کیا کہ انہیں سختی سے روکنے میں) تم میرے طریقے کی پیروی نہ کرو، کیا تم نے میری نافرمانی کی

Verse 94 — Surah Ta-Ha 20:94

(ہارون علیہ السلام نے) کہا: اے میری ماں کے بیٹے! آپ نہ میری داڑھی پکڑیں اور نہ میرا سر، میں (سختی کرنے میں) اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ (نہ) کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان فرقہ بندی کردی ہے اور میرے قول کی نگہداشت نہیں کی

Verse 95 — Surah Ta-Ha 20:95

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اے سامری! (بتا) تیرا کیا معاملہ ہے

Verse 96 — Surah Ta-Ha 20:96

اس نے کہا: میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی تھی سو میں نے اُس فرستادہ (فرشتے) کے نقش قدم سے (جو آپ کے پاس آیا تھا) ایک مٹھی (مٹی کی) بھر لی پھر میں نے اسے (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے (یہ بات) بھلی کر دکھائی

Verse 97 — Surah Ta-Ha 20:97

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: پس تو (یہاں سے نکل کر) چلا جا چنانچہ تیرے لئے (ساری) زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ تو (ہر کسی کو یہی) کہتا رہے: (مجھے) نہ چھونا (مجھے نہ چھونا)، اور بیشک تیرے لئے ایک اور وعدۂ (عذاب) بھی ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہ ہوگی، اور تو اپنے اس (من گھڑت) معبود کی طرف دیکھ جس (کی پوجا) پر تو جم کر بیٹھا رہا، ہم اسے ضرور جلا ڈالیں گے پھر ہم اس (کی راکھ) کو ضرور دریا میں اچھی طرح بکھیر دیں گے

Verse 98 — Surah Ta-Ha 20:98

(لوگو!) تمہارا معبود صرف (وہی) اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کو (اپنے) علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے

Verse 99 — Surah Ta-Ha 20:99

اس طرح ہم آپ کو (اے حبیبِ معظّم!) ان (قوموں) کی خبریں سناتے ہیں جو گزر چکی ہیں اور بیشک ہم نے آپ کو اپنی خاص جناب سے ذکر (یعنی نصیحت نامہ) عطا فرمایا ہے

Verse 100 — Surah Ta-Ha 20:100

جو شخص اس سے روگردانی کرے گا تو بیشک وہ قیامت کے دن سخت بوجھ اٹھائے گا

Verse 101 — Surah Ta-Ha 20:101

وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ (پڑے) رہیں گے، اور ان کے لئے قیامت کے دن بہت ہی بُرا بوجھ ہوگا

Verse 102 — Surah Ta-Ha 20:102

جس دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہم مجرموں کو یوں جمع کریں گے کہ ان کے جسم اور آنکھیں (شدّتِ خوف اور اندھے پن کے باعث) نیلگوں ہوں گی

Verse 103 — Surah Ta-Ha 20:103

آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں گے کہ تم دنیا میں مشکل سے دس دن ہی ٹھہرے ہوگے

Verse 104 — Surah Ta-Ha 20:104

ہم خوب جانتے ہیں وہ جو کچھ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان میں سے ایک عقل و عمل میں بہتر شخص کہے گا کہ تم تو ایک دن کے سوا (دنیا میں) ٹھہرے ہی نہیں ہو

Verse 105 — Surah Ta-Ha 20:105

اور آپ سے یہ لوگ پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، سو فرمادیجئے: میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا

Verse 106 — Surah Ta-Ha 20:106

پھر اسے ہموار اور بے آب و گیاہ زمین بنا دے گا

Verse 107 — Surah Ta-Ha 20:107

جس میں آپ نہ کوئی پستی دیکھیں گے نہ کوئی بلندی

Verse 108 — Surah Ta-Ha 20:108

اس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلتے جائیں گے اس (کے پیچھے چلنے) میں کوئی کجی نہیں ہوگی، اور (خدائے) رحمان کے جلال سے سب آوازیں پست ہوجائیں گی پس تم ہلکی سی آہٹ کے سوا کچھ نہ سنوگے

Verse 109 — Surah Ta-Ha 20:109

اس دن سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے (خدائے) رحمان نے اذن (و اجازت) دے دی ہے اور جس کی بات سے وہ راضی ہوگیا ہے (جیسا کہ انبیاء و مرسلین، اولیاء، متقین، معصوم بچوں اور دیگر کئی بندوں کا شفاعت کرنا ثابت ہے)

Verse 110 — Surah Ta-Ha 20:110

وہ ان (سب چیزوں) کو جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اپنے) علم سے اس (کے علم) کا احاطہ نہیں کرسکتے

Verse 111 — Surah Ta-Ha 20:111

اور (سب) چہرے اس ہمیشہ زندہ (اور) قائم رہنے والے (رب) کے حضور جھک جائیں گے، اور بیشک وہ شخص نامراد ہوگا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھا لیا

Verse 112 — Surah Ta-Ha 20:112

اور جو شخص نیک عمل کرتا ہے اور وہ صاحبِ ایمان بھی ہے تو اسے نہ کسی ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا

Verse 113 — Surah Ta-Ha 20:113

اور اسی طرح ہم نے اس (آخری وحی) کو عربی زبان میں (بشکلِ) قرآن اتارا ہے اور ہم نے اس میں (عذاب سے) ڈرانے کی باتیں بار بار (مختلف طریقوں سے) بیان کی ہیں تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا (یہ قرآن) ان (کے دلوں) میں یادِ (آخرت یا قبولِ نصیحت کا جذبہ) پیدا کردے

Verse 114 — Surah Ta-Ha 20:114

پس اللہ بلند شان والا ہے وہی بادشاہِ حقیقی ہے، اور آپ قرآن (کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کریں قبل اس کے کہ اس کی وحی آپ پر پوری اتر جائے، اور آپ (رب کے حضور یہ) عرض کیا کریں کہ اے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دے

Verse 115 — Surah Ta-Ha 20:115

اور درحقیقت ہم نے اس سے (بہت) پہلے آدم (علیہ السلام) کو تاکیدی حکم فرمایا تھا سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں بالکل (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی)

Verse 116 — Surah Ta-Ha 20:116

اور (وہ وقت یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا

Verse 117 — Surah Ta-Ha 20:117

پھر ہم نے فرمایا: اے آدم! بیشک یہ (شیطان) تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، سو یہ کہیں تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ گے

Verse 118 — Surah Ta-Ha 20:118

بیشک تمہارے لئے اس (جنت) میں یہ (راحت) ہے کہ تمہیں نہ بھوک لگے گی اور نہ برہنہ ہوگے

Verse 119 — Surah Ta-Ha 20:119

اور یہ کہ تمہیں نہ یہاں پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائے گی

Verse 120 — Surah Ta-Ha 20:120

پس شیطان نے انہیں (ایک) خیال دلا دیا وہ کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمہیں (قربِ الٰہی کی جنت میں) دائمی زندگی بسر کرنے کا درخت بتا دوں اور (ایسی ملکوتی) بادشاہت (کا راز) بھی جسے نہ زوال آئے گا نہ فنا ہوگی

Verse 121 — Surah Ta-Ha 20:121

سو دونوں نے (اس مقامِ قربِ الٰہی کی لازوال زندگی کے شوق میں) اس درخت سے پھل کھا لیا پس ان پر ان کے مقام ہائے سَتَر ظاہر ہو گئے اور دونوں اپنے (بدن) پر جنت (کے درختوں) کے پتے چپکانے لگے اور آدم (علیہ السلام) سے اپنے رب کے حکم (کو سمجھنے) میں فروگذاشت ہوئی٭ سو وہ (جنت میں دائمی زندگی کی) مراد نہ پا سکےo٭ (کہ ممانعت مخصوص ایک درخت کی تھی یا اس کی پوری نوع کی تھی، کیونکہ آپ علیہ السلام نے پھل اس مخصوص درخت کا نہیں کھایا تھا بلکہ اسی نوع کے دوسرے درخت سے کھایا تھا، یہ سمجھ کر کہ شاید ممانعت اسی ایک درخت کی تھی۔)

Verse 122 — Surah Ta-Ha 20:122

پھر ان کے رب نے انہیں (اپنی قربت و نبوت کے لئے) چن لیا اور ان پر (عفو و رحمت کی خاص) توجہ فرمائی اور منزلِ مقصود کی راہ دکھا دی

Verse 123 — Surah Ta-Ha 20:123

ارشاد ہوا: تم یہاں سے سب کے سب اتر جاؤ، تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے، پھر جب میری جانب سے تمہارے پاس کوئی ہدایت (وحی) آجائے سو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) بدنصیب ہوگا

Verse 124 — Surah Ta-Ha 20:124

اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے

Verse 125 — Surah Ta-Ha 20:125

وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے (آج) اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) بینا تھا

Verse 126 — Surah Ta-Ha 20:126

ارشاد ہوگا: ایسا ہی (ہوا کہ دنیا میں) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئیں پس تو نے انہیں بھلا دیا اور آج اسی طرح تو (بھی) بھلا دیا جائے گا

Verse 127 — Surah Ta-Ha 20:127

اور اسی طرح ہم اس شخص کو بدلہ دیتے ہیں جو (گناہوں میں) حد سے نکل جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب بڑا ہی سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے

Verse 128 — Surah Ta-Ha 20:128

کیا انہیں (اس بات نے) ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کی رہائش گاہوں میں (اب) یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں

Verse 129 — Surah Ta-Ha 20:129

اور اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی اور (ان کے عذاب کے لئے قیامت کا) وقت مقرر نہ ہوتا تو (ان پر عذاب کا ابھی اترنا) لازم ہو جاتا

Verse 130 — Surah Ta-Ha 20:130

پس آپ ان کی (دل آزار) باتوں پر صبر فرمایا کریں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کریں طلوعِ آفتاب سے پہلے (نمازِ فجر میں) اور اس کے غروب سے قبل (نمازِ عصر میں)، اور رات کی ابتدائی ساعتوں میں (یعنی مغرب اور عشاء میں) بھی تسبیح کیا کریں اور دن کے کناروں پر بھی (نمازِ ظہر میں جب دن کا نصفِ اوّل ختم اور نصفِ ثانی شروع ہوتا ہے، (اے حبیبِ مکرّم! یہ سب کچھ اس لئے ہے) تاکہ آپ راضی ہو جائیں

Verse 131 — Surah Ta-Ha 20:131

اور آپ دنیوی زندگی میں زیب و آرائش کی ان چیزوں کی طرف حیرت و تعجب کی نگاہ نہ فرمائیں جو ہم نے (کافر دنیاداروں کے) بعض طبقات کو (عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان (ہی چیزوں) میں ان کے لئے فتنہ پیدا کر دیں، اور آپ کے رب کی (اخروی) عطا بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے

Verse 132 — Surah Ta-Ha 20:132

اور آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم فرمائیں اور اس پر ثابت قدم رہیں، ہم آپ سے رزق طلب نہیں کرتے (بلکہ) ہم آپ کو رزق دیتے ہیں، اور بہتر انجام پرہیزگاری کا ہی ہے

Verse 133 — Surah Ta-Ha 20:133

اور (کفار) کہتے ہیں کہ یہ (رسول) ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے، کیا ان کے پاس ان باتوں کا واضح ثبوت (یعنی قرآن) نہیں آگیا جو اگلی کتابوں میں (مذکور) تھیں

Verse 134 — Surah Ta-Ha 20:134

اور اگر ہم ان لوگوں کو اس سے پہلے (ہی) کسی عذاب کے ذریعہ ہلاک کرڈالتے تو یہ کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہمارے پاس کسی رسول کو کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرلیتے اس سے قبل کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے

Verse 135 — Surah Ta-Ha 20:135

فرما دیجئے: ہر کوئی منتظر ہے، سو تم انتظار کرتے رہو، پس تم جلد ہی جان لوگے کہ کون لوگ راہِ راست والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں