Back to Languages

Urdu - Chapter 21 - Al-Anbiya

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Anbiya 21:1

لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں (پڑے طاعت سے) منہ پھیرے ہوئے ہیں

Verse 2 — Surah Al-Anbiya 21:2

ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں (بے پرواہی سے) سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں

Verse 3 — Surah Al-Anbiya 21:3

ان کے دل غافل ہو چکے ہیں، اور (یہ) ظالم لوگ (آپ کے خلاف) آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، کیا پھر (بھی) تم (اس کے) جادو کے پاس جاتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہو

Verse 4 — Surah Al-Anbiya 21:4

(نبئ معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ میرا رب آسمان اور زمین میں کہی جانے والی (ہر) بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے

Verse 5 — Surah Al-Anbiya 21:5

بلکہ (ظالموں نے یہاں تک) کہا کہ یہ (قرآن) پریشان خوابوں (میں دیکھی ہوئی باتیں) ہیں بلکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے (خود ہی) گھڑ لیا ہے بلکہ (یہ کہ) وہ شاعر ہے، (اگر یہ سچا ہے) تو یہ (بھی) ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئے جیسا کہ اگلے (رسول نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے

Verse 6 — Surah Al-Anbiya 21:6

ان سے پہلے ہم نے جس بھی بستی کو ہلاک کیا وہ (انہی نشانیوں پر) ایمان نہیں لائی تھی، تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

Verse 7 — Surah Al-Anbiya 21:7

اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے (لوگو!) تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم (خود) نہ جانتے ہو

Verse 8 — Surah Al-Anbiya 21:8

اور ہم نے ان (انبیاء) کو ایسے جسم والا نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (دنیا میں بہ حیاتِ ظاہری) ہمیشہ رہنے والے تھے

Verse 9 — Surah Al-Anbiya 21:9

پھر ہم نے انہیں اپنا وعدہ سچا کر دکھایا پھر ہم نے انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات بخشی اور ہم نے حد سے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کر ڈالا

Verse 10 — Surah Al-Anbiya 21:10

بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہاری نصیحت (کا سامان) ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے

Verse 11 — Surah Al-Anbiya 21:11

اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ و برباد کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے اور قوموں کو پیدا فرما دیا

Verse 12 — Surah Al-Anbiya 21:12

پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب (کی آمد) کو محسوس کیا تو وہ وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگنے لگے

Verse 13 — Surah Al-Anbiya 21:13

(ان سے کہا گیا:) تم جلدی مت بھاگو اور اسی جگہ واپس لوٹ جاؤ جس میں تمہیں آسائشیں دی گئی تھیں اور اپنی (پرتعیش) رہائش گاہوں کی طرف (پلٹ جاؤ) شاید تم سے باز پرس کی جائے

Verse 14 — Surah Al-Anbiya 21:14

وہ کہنے لگے: ہائے شومئ قسمت! بیشک ہم ظالم تھے

Verse 15 — Surah Al-Anbiya 21:15

سو ہمیشہ ان کی یہی فریاد رہی یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی (اور) بجھی ہوئی آگ (کے ڈھیر) کی طرح بنا دیا

Verse 16 — Surah Al-Anbiya 21:16

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر (بے کار) نہیں بنایا

Verse 17 — Surah Al-Anbiya 21:17

اگر ہم کوئی کھیل تماشا اختیار کرنا چاہتے تو اسے اپنی ہی طرف سے اختیار کر لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہوتے

Verse 18 — Surah Al-Anbiya 21:18

بلکہ ہم حق سے باطل پر پوری قوت کے ساتھ چوٹ لگاتے ہیں سو حق اسے کچل دیتا ہے پس وہ (باطل) ہلاک ہو جاتا ہے، اور تمہارے لئے ان باتوں کے باعث تباہی ہے جو تم بیان کرتے ہو

Verse 19 — Surah Al-Anbiya 21:19

اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا (بندہ و مملوک) ہے، اور جو (فرشتے) اس کی قربت میں (رہتے) ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے تکبّر کرتے ہیں اور نہ وہ (اس کی طاعت بجا لاتے ہوئے) تھکتے ہیں

Verse 20 — Surah Al-Anbiya 21:20

وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سا وقفہ بھی نہیں کرتے

Verse 21 — Surah Al-Anbiya 21:21

کیا ان (کافروں) نے زمین (کی چیزوں) میں سے ایسے معبود بنا لئے ہیں جو (مُردوں کو) زندہ کر کے اٹھا سکتے ہیں

Verse 22 — Surah Al-Anbiya 21:22

اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے، پس اللہ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں

Verse 23 — Surah Al-Anbiya 21:23

اس سے اس کی بازپرس نہیں کی جا سکتی وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اور ان سے (ہر کام کی) بازپرس کی جائے گی

Verse 24 — Surah Al-Anbiya 21:24

کیا ان (کافروں) نے اسے چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں؟ فرما دیجئے: اپنی دلیل لاؤ، یہ (قرآن) ان لوگوں کا ذکر ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا (بھی) ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اِس لئے وہ اِس سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیں

Verse 25 — Surah Al-Anbiya 21:25

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو

Verse 26 — Surah Al-Anbiya 21:26

یہ لوگ کہتے ہیں کہ (خدائے) رحمان نے (فرشتوں کو اپنی) اولاد بنا رکھا ہے وہ پاک ہے، بلکہ (جن فرشتوں کو یہ اُس کی اولاد سمجھتے ہیں) وہ (اللہ کے) معزز بندے ہیں

Verse 27 — Surah Al-Anbiya 21:27

وہ کسی بات (کے کرنے) میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے امر کی تعمیل کرتے رہتے ہیں

Verse 28 — Surah Al-Anbiya 21:28

وہ (اللہ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیں

Verse 29 — Surah Al-Anbiya 21:29

اور ان میں سے کون ہے جو کہہ دے کہ میں اس (اللہ) کے سوا معبود ہوں سو ہم اسی کو دوزخ کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں

Verse 30 — Surah Al-Anbiya 21:30

اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے

Verse 31 — Surah Al-Anbiya 21:31

اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) انہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکیں

Verse 32 — Surah Al-Anbiya 21:32

اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوتوں اور جارحانہ لہروں کے مضر اثرات سے بچائیں) اور وہ اِن (سماوی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیں

Verse 33 — Surah Al-Anbiya 21:33

اور وہی (اللہ) ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیں

Verse 34 — Surah Al-Anbiya 21:34

اور ہم نے آپ سے پہلے کسی اِنسان کو (دنیا کی ظاہری زندگی میں) بقائے دوام نہیں بخشی، تو کیا اگر آپ (یہاں سے) اِنتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں؟

Verse 35 — Surah Al-Anbiya 21:35

ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں آزمائش کے لئے مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف پلٹائے جاؤ گے

Verse 36 — Surah Al-Anbiya 21:36

اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے محض تمسخر ہی کرنے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں:) کیا یہی ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا (ردّ و انکار کے ساتھ) ذکر کرتا ہے؟ اور وہ خود (خدائے) رحمان کے ذکر سے انکاری ہیں

Verse 37 — Surah Al-Anbiya 21:37

انسان (فطرتًا) جلد بازی میں سے پیدا کیا گیا ہے، میں تمہیں جلد ہی اپنی نشانیاں دکھاؤں گا پس تم جلدی کا مطالبہ نہ کرو

Verse 38 — Surah Al-Anbiya 21:38

اور وہ کہتے ہیں: یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہو

Verse 39 — Surah Al-Anbiya 21:39

اگر کافر لوگ وہ وقت جان لیتے جبکہ وہ (دوزخ کی) آگ کو نہ اپنے چہروں سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی (تو پھر عذاب طلب کرنے میں جلدی کا شور نہ کرتے)

Verse 40 — Surah Al-Anbiya 21:40

بلکہ (قیامت) انہیں اچانک آپہنچے گی تو انہیں بدحواس کر دے گی سو وہ نہ تو اسے لوٹا دینے کی طاقت رکھتے ہوں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی

Verse 41 — Surah Al-Anbiya 21:41

اور بیشک آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ مذاق کیا گیا سو ان لوگوں میں سے انہیں جو تمسخر کرتے تھے اسی (عذاب) نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

Verse 42 — Surah Al-Anbiya 21:42

فرما دیجئے: شب و روز (خدائے) رحمان (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت و نگہبانی کون کر سکتا ہے، بلکہ وہ اپنے (اسی) رب کے ذکر سے گریزاں ہے

Verse 43 — Surah Al-Anbiya 21:43

کیا ہمارے سوا ان کے کچھ اور معبود ہیں جو انہیں (عذاب سے) بچا سکیں، وہ تو خود اپنی ہی مدد پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہماری طرف سے انہیں کوئی تائید و رفاقت میسّر ہوگی

Verse 44 — Surah Al-Anbiya 21:44

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو (فراخئ عیش سے) بہرہ مند فرمایا تھا یہاں تک کہ ان کی عمریں بھی دراز ہوتی گئیں، تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم (اب اسلامی فتوحات کے ذریعہ ان کے زیرِ تسلّط) علاقوں کو تمام اَطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں، تو کیا وہ (اب) غلبہ پانے والے ہیں

Verse 45 — Surah Al-Anbiya 21:45

فرما دیجئے: میں تو تمہیں صرف وحی کے ذریعہ ہی ڈراتا ہوں، اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب بھی انہیں ڈرایا جائے

Verse 46 — Surah Al-Anbiya 21:46

اگر واقعتاً انہیں آپ کے رب کی طرف سے تھوڑا سا عذاب (بھی) چھو جائے تو وہ ضرور کہنے لگیں گے: ہائے ہماری بدقسمتی! بیشک ہم ہی ظالم تھے

Verse 47 — Surah Al-Anbiya 21:47

اور ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کے ترازو رکھ دیں گے سو کسی جان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا، اور اگر (کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا (تو) ہم اسے (بھی) حاضر کر دیں گے، اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

Verse 48 — Surah Al-Anbiya 21:48

اور بیشک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کو (حق و باطل میں) فرق کرنے والی اور (سراپا) روشنی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت (پر مبنی کتاب تورات) عطا فرمائی

Verse 49 — Surah Al-Anbiya 21:49

جو لوگ اپنے رب سے نادیدہ ڈرتے ہیں اور جو قیامت (کی ہولناکیوں) سے خائف رہتے ہیں

Verse 50 — Surah Al-Anbiya 21:50

یہ (قرآن) برکت والا ذکر ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، کیا تم اِس سے انکار کرنے والے ہو

Verse 51 — Surah Al-Anbiya 21:51

اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھے

Verse 52 — Surah Al-Anbiya 21:52

جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے فرمایا: یہ کیسی مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم جمے بیٹھے ہو

Verse 53 — Surah Al-Anbiya 21:53

وہ بولے: ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی پرستش کرتے پایا تھا

Verse 54 — Surah Al-Anbiya 21:54

(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک تم اور تمہارے باپ دادا (سب) صریح گمراہی میں تھے

Verse 55 — Surah Al-Anbiya 21:55

وہ بولے: کیا (صرف) تم ہی حق لائے ہو یا تم (محض) تماشا گروں میں سے ہو

Verse 56 — Surah Al-Anbiya 21:56

(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان (سب) کو پیدا فرمایا اور میں اس (بات) پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں

Verse 57 — Surah Al-Anbiya 21:57

اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک تدبیر عمل میں لاؤں گا اس کے بعد کہ جب تم پیٹھ پھیر کر پلٹ جاؤ گے

Verse 58 — Surah Al-Anbiya 21:58

پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں

Verse 59 — Surah Al-Anbiya 21:59

وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہے

Verse 60 — Surah Al-Anbiya 21:60

(کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم کہا جاتا ہے

Verse 61 — Surah Al-Anbiya 21:61

وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں

Verse 62 — Surah Al-Anbiya 21:62

(جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو) وہ کہنے لگے: کیا تم نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حال کیا ہے اے ابراہیم

Verse 63 — Surah Al-Anbiya 21:63

آپ نے فرمایا: بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تو ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیں

Verse 64 — Surah Al-Anbiya 21:64

پھر وہ اپنی ہی (سوچوں کی) طرف پلٹ گئے تو کہنے لگے: بیشک تم خود ہی (ان مجبور و بے بس بتوں کی پوجا کر کے) ظالم (ہوگئے) ہو

Verse 65 — Surah Al-Anbiya 21:65

پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیئے گئے (یعنی ان کی عقلیں اوندھی ہوگئیں اور کہنے لگے:) بیشک (اے ابراہیم!) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیں

Verse 66 — Surah Al-Anbiya 21:66

(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان (مورتیوں) کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں

Verse 67 — Surah Al-Anbiya 21:67

تف ہے تم پر (بھی) اور ان (بتوں) پر (بھی) جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

Verse 68 — Surah Al-Anbiya 21:68

وہ بولے: اس کو جلا دو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو

Verse 69 — Surah Al-Anbiya 21:69

ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا

Verse 70 — Surah Al-Anbiya 21:70

اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کر دیا

Verse 71 — Surah Al-Anbiya 21:71

اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو (جو آپ کے بھتیجے یعنی آپ کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے) بچا کر (عراق سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف لے گئے جس میں ہم نے جہان والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں

Verse 72 — Surah Al-Anbiya 21:72

اور ہم نے انہیں (فرزند) اسحاق (علیہ السلام) بخشا اور (پوتا) یعقوب (علیہ السلام ان کی دعا سے) اضافی بخشا، اور ہم نے ان سب کو صالح بنایا تھا

Verse 73 — Surah Al-Anbiya 21:73

اور ہم نے انہیں (انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اَعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے

Verse 74 — Surah Al-Anbiya 21:74

اور لوط (علیہ السلام) کو (بھی) ہم نے حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ بہت ہی بری (اور) بد کردار قوم تھی

Verse 75 — Surah Al-Anbiya 21:75

اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اپنے حریمِ رحمت میں داخل فرما لیا۔ بیشک وہ صالحین میں سے تھے

Verse 76 — Surah Al-Anbiya 21:76

اور نوح (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے ان (انبیاء علیہم السلام) سے پہلے (ہمیں) پکارا تھا سو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے شدید غم و اندوہ سے نجات بخشی

Verse 77 — Surah Al-Anbiya 21:77

اور ہم نے اس قوم (کے اذیت ناک ماحول) میں ان کی مدد فرمائی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ بیشک وہ (بھی) بہت بری قوم تھی سو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا

Verse 78 — Surah Al-Anbiya 21:78

اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھے

Verse 79 — Surah Al-Anbiya 21:79

چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے

Verse 80 — Surah Al-Anbiya 21:80

اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زِرہ بنانے کا فن سکھایا تھا تاکہ وہ تمہاری لڑائی میں تمہیں ضرر سے بچائے، تو کیا تم شکر گزار ہو

Verse 81 — Surah Al-Anbiya 21:81

اور (ہم نے) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوا کو (مسخّر کردیا) جو ان کے حکم سے (جملہ اَطراف و اَکناف سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف چلا کرتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، اور ہم ہر چیز کو (خوب) جاننے والے ہیں

Verse 82 — Surah Al-Anbiya 21:82

اور کچھ شیاطین (دیووں اور جنّوں) کو بھی (سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا) جو ان کے لئے (دریا میں) غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا (ان کے حکم پر) دیگر خدمات بھی انجام دیتے تھے، اور ہم ہی ان (دیووں) کے نگہبان تھے

Verse 83 — Surah Al-Anbiya 21:83

اور ایوب (علیہ السلام کا قصّہ یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف چھو رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر مہربان ہے

Verse 84 — Surah Al-Anbiya 21:84

تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں جو تکلیف (پہنچ رہی) تھی سو ہم نے اسے دور کر دیا اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال (بھی) عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (عطا فرما دیئے)، یہ ہماری طرف سے خاص رحمت اور عبادت گزاروں کے لئے نصیحت ہے (کہ اللہ صبر و شکر کا اجر کیسے دیتا ہے)

Verse 85 — Surah Al-Anbiya 21:85

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھے

Verse 86 — Surah Al-Anbiya 21:86

اور ہم نے انہیں اپنے (دامنِ) رحمت میں داخل فرمایا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھے

Verse 87 — Surah Al-Anbiya 21:87

اور ذوالنون (مچھلی کے پیٹ والے نبی علیہ السلام کو بھی یاد فرمائیے) جب وہ (اپنی قوم پر) غضبناک ہو کر چل دیئے پس انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ان پر (اس سفر میں) کوئی تنگی نہیں کریں گے پھر انہوں نے (دریا، رات اور مچھلی کے پیٹ کی تہہ در تہہ) تاریکیوں میں (پھنس کر) پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا

Verse 88 — Surah Al-Anbiya 21:88

پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں

Verse 89 — Surah Al-Anbiya 21:89

اور زکریا (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: اے میرے رب! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے

Verse 90 — Surah Al-Anbiya 21:90

تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں یحیٰی (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی خاطر ان کی زوجہ کو (بھی) درست (قابلِ اولاد) بنا دیا۔ بیشک یہ (سب) نیکی کے کاموں (کی انجام دہی) میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں شوق و رغبت اور خوف و خشیّت (کی کیفیتوں) کے ساتھ پکارا کرتے تھے، اور ہمارے حضور بڑے عجز و نیاز کے ساتھ گڑگڑاتے تھے

Verse 91 — Surah Al-Anbiya 21:91

اور اُس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیھا السلام) کو بھی (یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیا

Verse 92 — Surah Al-Anbiya 21:92

بیشک یہ تمہاری ملت ہے (سب) ایک ہی ملت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو

Verse 93 — Surah Al-Anbiya 21:93

اور ان (اہلِ کتاب) نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، یہ سب ہماری ہی جانب لوٹ کر آنے والے ہیں

Verse 94 — Surah Al-Anbiya 21:94

پس جو کوئی نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش (کی جزا) کا انکار نہ ہوگا، اور بیشک ہم اس کے (سب) اعمال کو لکھ رہے ہیں

Verse 95 — Surah Al-Anbiya 21:95

اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر ڈالا ناممکن ہے کہ اس کے لوگ (مرنے کے بعد) ہماری طرف پلٹ کر نہ آئیں

Verse 96 — Surah Al-Anbiya 21:96

یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے اتر آئیں گے

Verse 97 — Surah Al-Anbiya 21:97

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو اچانک کافر لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی (وہ پکار اٹھیں گے:) ہائے ہماری شومئ قسمت! کہ ہم اس (دن کی آمد) سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم ظالم تھے

Verse 98 — Surah Al-Anbiya 21:98

بیشک تم اور وہ (بت) جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے (سب) دوزخ کا ایندھن ہیں، تم اس میں داخل ہونے والے ہو

Verse 99 — Surah Al-Anbiya 21:99

اگر یہ (واقعۃً) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے

Verse 100 — Surah Al-Anbiya 21:100

وہاں ان کی (آہوں کا شور اور) چیخ و پکار ہوگی اور اس میں کچھ (اور) نہ سن سکیں گے

Verse 101 — Surah Al-Anbiya 21:101

بیشک جن لوگوں کے لئے پہلے سے ہی ہماری طرف سے بھلائی مقرر ہو چکی ہے وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے

Verse 102 — Surah Al-Anbiya 21:102

وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان (نعمتوں) میں ہمیشہ رہیں گے جن کی ان کے دل خواہش کریں گے

Verse 103 — Surah Al-Anbiya 21:103

(روزِ قیامت کی) سب سے بڑی ہولناکی (بھی) انہیں رنجیدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے:) یہ تمہارا (ہی) دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا

Verse 104 — Surah Al-Anbiya 21:104

اس دن ہم (ساری) سماوی کائنات کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اسی عملِ تخلیق کو دہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اعادہ) ضرور کرنے والے ہیں

Verse 105 — Surah Al-Anbiya 21:105

اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے

Verse 106 — Surah Al-Anbiya 21:106

بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزاروں کے لئے (حصولِ مقصد کی) کفایت و ضمانت ہے

Verse 107 — Surah Al-Anbiya 21:107

اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر

Verse 108 — Surah Al-Anbiya 21:108

فرما دیجئے کہ میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود فقط ایک (ہی) معبود ہے، تو کیا تم اسلام قبول کرتے ہو

Verse 109 — Surah Al-Anbiya 21:109

پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو فرما دیجئے: میں نے تم سب کو یکساں طور پر باخبر کر دیا ہے، اور میں (از خود) نہیں جانتا کہ وہ (عذاب) نزدیک ہے یا دور جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

Verse 110 — Surah Al-Anbiya 21:110

بیشک وہ بلند آواز کی بات بھی جانتا ہے اور وہ (کچھ) بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو

Verse 111 — Surah Al-Anbiya 21:111

اور میں (از خود) یہ نہیں جانتا شاید یہ (تاخیرِ عذاب اور تمہیں دی گئی ڈھیل) تمہارے حق میں آزمائش ہو اور (تمہیں) ایک مقرر وقت تک فائدہ پہنچانا مقصود ہو

Verse 112 — Surah Al-Anbiya 21:112

(ہمارے حبیب نے) عرض کیا: اے میرے رب! (ہمارے درمیان) حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے، اور ہمارا رب بے حد رحم فرمانے والا ہے، اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے ان (دل آزار) باتوں پر جو (اے کافرو!) تم بیان کرتے ہو