Back to Languages

Urdu - Chapter 23 - Al-Muminun

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Muminun 23:1

بیشک ایمان والے مراد پا گئے

Verse 2 — Surah Al-Muminun 23:2

جو لوگ اپنی نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں

Verse 3 — Surah Al-Muminun 23:3

اور جو بیہودہ باتوں سے (ہر وقت) کنارہ کش رہتے ہیں

Verse 4 — Surah Al-Muminun 23:4

اور جو (ہمیشہ) زکوٰۃ ادا (کر کے اپنی جان و مال کو پاک) کرتے رہتے ہیں

Verse 5 — Surah Al-Muminun 23:5

اور جو (دائماً) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں

Verse 6 — Surah Al-Muminun 23:6

سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں، بیشک (احکامِ شریعت کے مطابق ان کے پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت نہیں

Verse 7 — Surah Al-Muminun 23:7

پھر جو شخص ان (حلال عورتوں) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے (سرکش) ہیں

Verse 8 — Surah Al-Muminun 23:8

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں

Verse 9 — Surah Al-Muminun 23:9

اور جو اپنی نمازوں کی (مداومت کے ساتھ) حفاظت کرنے والے ہیں

Verse 10 — Surah Al-Muminun 23:10

یہی لوگ (جنت کے) وارث ہیں

Verse 11 — Surah Al-Muminun 23:11

یہ لوگ جنت کے سب سے اعلیٰ باغات (جہاں تمام نعمتوں، راحتوں اور قربِ الٰہی کی لذتوں کی کثرت ہوگی ان) کی وراثت (بھی) پائیں گے، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے

Verse 12 — Surah Al-Muminun 23:12

اور بیشک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتداء) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی

Verse 13 — Surah Al-Muminun 23:13

پھر اسے نطفہ (تولیدی قطرہ) بنا کر ایک مضبوط جگہ (رحمِ مادر) میں رکھا

Verse 14 — Surah Al-Muminun 23:14

پھر ہم نے اس نطفہ کو (رحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلّق وجود بنا دیا، پھر ہم نے اس معلّق وجود کو ایک (ایسا) لوتھڑا بنا دیا جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، پھر ہم نے اس لوتھڑے سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (اور پٹھے) چڑھائے، پھر ہم نے اسے تخلیق کی دوسری صورت میں (بدل کر تدریجاً) نشو و نما دی، پھر اللہ نے (اسے) بڑھا (کر محکم وجود بنا) دیا جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے

Verse 15 — Surah Al-Muminun 23:15

پھر بیشک تم اس (زندگی) کے بعد ضرور مرنے والے ہو

Verse 16 — Surah Al-Muminun 23:16

پھر بیشک تم قیامت کے دن (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے

Verse 17 — Surah Al-Muminun 23:17

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر (کرّۂ اَرضی کے گرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں، اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اس کی حفاطت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھے

Verse 18 — Surah Al-Muminun 23:18

اور ہم ایک اندازہ کے مطابق (عرصہ دراز تک) بادلوں سے پانی برساتے رہے، پھر (جب زمین ٹھنڈی ہوگئی تو) ہم نے اس پانی کو زمین (کی نشیبی جگہوں) میں ٹھہرا دیا (جس سے ابتدائی سمندر وجود میں آئے) اور بیشک ہم اسے (بخارات بنا کر) اڑا دینے پر بھی قدرت رکھتے ہیں

Verse 19 — Surah Al-Muminun 23:19

پھر ہم نے تمہارے لئے اس سے (درجہ بہ درجہ یعنی پہلے ابتدائی نباتات پھر بڑے پودے پھر درخت وجود میں لاتے ہوئے) کھجور اور انگور کے باغات بنا دیئے (مزید برآں) تمہارے لئے زمین میں (اور بھی) بہت سے پھل اور میوے (پیدا کئے) اور (اب) تم ان میں سے کھاتے ہو

Verse 20 — Surah Al-Muminun 23:20

اور یہ درخت (زیتون بھی ہم نے پیدا کیا ہے) جو طورِ سینا سے نکلتا ہے (اور) تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن لے کر اگتا ہے

Verse 21 — Surah Al-Muminun 23:21

اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں (بھی) غور طلب پہلو ہیں، جو کچھ ان کے شکموں میں ہوتا ہے ہم تمہیں اس میں سے (بعض اجزاء کو دودھ بنا کر) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) بہت سے فوائد ہیں اور تم ان میں سے (بعض کو) کھاتے (بھی) ہو

Verse 22 — Surah Al-Muminun 23:22

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار (بھی) کئے جاتے ہو

Verse 23 — Surah Al-Muminun 23:23

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے

Verse 24 — Surah Al-Muminun 23:24

تو ان کی قوم کے سردار (اور وڈیرے) جو کفر کر رہے تھے کہنے لگے: یہ شخص محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے (اس کے سوا کچھ نہیں)، یہ تم پر (اپنی) فضیلت و برتری قائم کرنا چاہتا ہے، اور اگر اللہ (ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کو بھیجنا) چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا، ہم نے تو یہ بات (کہ ہمارے جیسا ہی ایک شخص ہمارا رسول بنا دیا جائے) اپنے اگلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی

Verse 25 — Surah Al-Muminun 23:25

یہ شخص تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے دیوانگی (کا عارضہ لاحق ہو گیا) ہے سو تم ایک عرصہ تک اس کا انتظار کرو (دیکھو آگے کیا کرتا ہے)

Verse 26 — Surah Al-Muminun 23:26

نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے

Verse 27 — Surah Al-Muminun 23:27

پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناؤ سو جب ہمارا حکمِ (عذاب) آجائے اور تنور (بھر کر پانی) ابلنے لگے تو تم اس میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو جوڑے (نر و مادہ) بٹھا لینا اور اپنے گھر والوں کو بھی (اس میں سوار کر لینا) سوائے ان میں سے اس شخص کے جس پر فرمانِ (عذاب) پہلے ہی صادر ہو چکا ہے، اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ عرض بھی نہ کرنا جنہوں نے (تمہارے انکار و استہزاء کی صورت میں) ظلم کیا ہے، وہ (بہر طور) ڈبو دیئے جائیں گے

Verse 28 — Surah Al-Muminun 23:28

پھر جب تم اور تمہاری سنگت والے (لوگ) کشتی میں ٹھیک طرح سے بیٹھ جائیں تو کہنا (کہ) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات بخشی

Verse 29 — Surah Al-Muminun 23:29

اور عرض کرنا: اے میرے رب! مجھے با برکت منزل پر اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے

Verse 30 — Surah Al-Muminun 23:30

بیشک اس (واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم آزمائش کرنے والے ہیں

Verse 31 — Surah Al-Muminun 23:31

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو پیدا فرمایا

Verse 32 — Surah Al-Muminun 23:32

سو ہم نے ان میں (بھی) انہی میں سے رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے

Verse 33 — Surah Al-Muminun 23:33

اور ان کی قوم کے (بھی وہی) سردار (اور وڈیرے) بول اٹھے جو کفر کر رہے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں (مال و دولت کی کثرت کے باعث) آسودگی (بھی) دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ یہ شخص تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، وہی چیزیں کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو

Verse 34 — Surah Al-Muminun 23:34

اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو پھر تم ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو گے

Verse 35 — Surah Al-Muminun 23:35

کیا یہ (شخص) تم سے یہ وعدہ کر رہا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور تم مٹی اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم (دوبارہ زندہ ہو کر) نکالے جاؤ گے

Verse 36 — Surah Al-Muminun 23:36

بعید (اَز قیاس) بعید (اَز وقوع) ہیں وہ باتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

Verse 37 — Surah Al-Muminun 23:37

وہ (آخرت کی زندگی کچھ) نہیں ہماری زندگانی تو یہی دنیا ہے ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور (بس ختم)، ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے

Verse 38 — Surah Al-Muminun 23:38

یہ تو محض ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے اور ہم بالکل اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

Verse 39 — Surah Al-Muminun 23:39

(پیغمبر نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما اس صورتحال میں کہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے

Verse 40 — Surah Al-Muminun 23:40

ارشاد ہوا: تھوڑی ہی دیر میں وہ پشیماں ہو کر رہ جائیں گے

Verse 41 — Surah Al-Muminun 23:41

پس سچے وعدہ کے مطابق انہیں خوفناک آواز نے آپکڑا سو ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا دیا، پس ظالم قوم کے لئے (ہماری رحمت سے) دوری و محرومی ہے

Verse 42 — Surah Al-Muminun 23:42

پھر ہم نے ان کے بعد (یکے بعد دیگرے) دوسری امتوں کو پیدا فرمایا

Verse 43 — Surah Al-Muminun 23:43

کوئی بھی امت اپنے وقت مقرر سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں

Verse 44 — Surah Al-Muminun 23:44

پھر ہم نے پے در پے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آتا وہ اسے جھٹلا دیتے تو ہم (بھی) ان میں سے بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک در ہلاک) کرتے چلے گئے اور ہم نے انہیں داستانیں بنا ڈالا، پس ہلاکت ہو ان لوگوں کے لئے جو ایمان نہیں لاتے

Verse 45 — Surah Al-Muminun 23:45

پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور روشن دلیل دے کر بھیجا

Verse 46 — Surah Al-Muminun 23:46

فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے بھی تکبّر و رعونت سے کام لیا اور وہ بھی (بڑے) ظالم و سرکش لوگ تھے

Verse 47 — Surah Al-Muminun 23:47

سو انہوں نے (بھی یہی) کہا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہماری پرستش کرتے ہیں

Verse 48 — Surah Al-Muminun 23:48

پس انہوں نے (بھی) ان دونوں کو جھٹلا دیا سو وہ بھی ہلاک کئے گئے لوگوں میں سے ہو گئے

Verse 49 — Surah Al-Muminun 23:49

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں

Verse 50 — Surah Al-Muminun 23:50

اور ہم نے ابن مریم (عیسٰی علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو اپنی (زبردست) نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک (ایسی) بلند زمین میں سکونت بخشی جو بآسائش و آرام رہنے کے قابل (بھی) تھی اور وہاں آنکھوں کے (نظارے کے) لئے بہتے پانی (یعنی نہریں، آبشاریں اور چشمے بھی) تھے

Verse 51 — Surah Al-Muminun 23:51

اے رُسُلِ (عظام!) تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو (جیسا کہ تمہارا معمول ہے) اور نیک عمل کرتے رہو، بے شک جو عمل بھی تم کرتے ہو میں اُس سے خوب واقف ہوں

Verse 52 — Surah Al-Muminun 23:52

اور بیشک یہ تمہاری امت ہے (جو حقیقت میں) ایک ہی امت (ہے) اور میں تمہارا رب ہوں سو مجھ سے ڈرا کرو

Verse 53 — Surah Al-Muminun 23:53

پس انہوں نے اپنے (دین کے) امر کو آپس میں اختلاف کر کے فرقہ فرقہ کر ڈالا، ہر فرقہ والے اسی قدر (دین کے حصہ) سے جو ان کے پاس ہے خوش ہیں

Verse 54 — Surah Al-Muminun 23:54

پس آپ ان کو ایک عرصہ تک ان کے نشۂ جہالت و ضلالت میں چھوڑے رکھئے

Verse 55 — Surah Al-Muminun 23:55

کیا وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو (دنیا میں) مال و اولاد کے ذریعہ ان کی مدد کر رہے ہیں

Verse 56 — Surah Al-Muminun 23:56

تو ہم ان کے لئے بھلائیوں (کی فراہمی) میں جلدی کر رہے ہیں، (ایسا نہیں) بلکہ انہیں شعور ہی نہیں ہے

Verse 57 — Surah Al-Muminun 23:57

بیشک جو لوگ اپنے رب کی خشیّت سے مضطرب اور لرزاں رہتے ہیں

Verse 58 — Surah Al-Muminun 23:58

اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

Verse 59 — Surah Al-Muminun 23:59

اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ (کسی کو) شریک نہیں ٹھہراتے

Verse 60 — Surah Al-Muminun 23:60

اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں اتنا کچھ) دیتے ہیں جتنا وہ دے سکتے ہیں اور (اس کے باوجود) ان کے دل خائف رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں (کہیں یہ نامقبول نہ ہو جائے)

Verse 61 — Surah Al-Muminun 23:61

یہی لوگ بھلائیوں (کے سمیٹنے) میں جلدی کر رہے ہیں اور وہی اس میں آگے نکل جانے والے ہیں

Verse 62 — Surah Al-Muminun 23:62

اور ہم کسی جان کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی استعداد کے مطابق اور ہمارے پاس نوشتۂ (اَعمال موجود) ہے جو سچ سچ کہہ دے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

Verse 63 — Surah Al-Muminun 23:63

بلکہ ان کے دل اس (قرآن کے پیغام) سے غفلت میں (پڑے) ہیں اور اس کے سوا (بھی) ان کے کئی اور (برے) اعمال ہیں جن پر وہ عمل پیرا ہیں

Verse 64 — Surah Al-Muminun 23:64

یہاں تک کہ جب ہم ان کے امیر اور آسودہ حال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لیں گے تو اس وقت وہ چیخ اٹھیں گے

Verse 65 — Surah Al-Muminun 23:65

(ان سے کہا جائے گا:) تم آج مت چیخو، بیشک ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گے

Verse 66 — Surah Al-Muminun 23:66

بیشک میری آیتیں تم پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ایڑیوں کے بل الٹے پلٹ جایا کرتے تھے

Verse 67 — Surah Al-Muminun 23:67

اس سے غرور و تکبّر کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں بے ہودہ گوئی کرتے تھے

Verse 68 — Surah Al-Muminun 23:68

سو کیا انہوں نے اس فرمانِ (الٰہی) میں غور و خوض نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

Verse 69 — Surah Al-Muminun 23:69

یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا سو (اس لئے) وہ اس کے منکر ہو گئے ہیں

Verse 70 — Surah Al-Muminun 23:70

یا یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنون (لاحق) ہو گیا ہے، (ایسا ہر گز نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر تشریف لائے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے

Verse 71 — Surah Al-Muminun 23:71

اور اگر حق (تعالیٰ) ان کی خواہشات کی پیروی کرتا تو (سارے) آسمان اور زمین اور جو (مخلوقات و موجودات) ان میں ہیں سب تباہ و برباد ہو جاتے بلکہ ہم ان کے پاس وہ (قرآن) لائے ہیں جس میں ان کی عزت و شرف (اور ناموری کا راز) ہے سو وہ اپنی عزت ہی سے منہ پھیر رہے ہیں

Verse 72 — Surah Al-Muminun 23:72

کیا آپ ان سے (تبلیغِ رسالت پر) کچھ اجرت مانگتے ہیں؟ (ایسا بھی نہیں ہے) آپ کے تو رب کا اجر (ہی بہت) بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر روزی رساں ہے

Verse 73 — Surah Al-Muminun 23:73

اور بیشک آپ تو (انہی کے بھلے کے لئے) انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیں

Verse 74 — Surah Al-Muminun 23:74

اور بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (وہ) ضرور (سیدھی) راہ سے کترائے رہتے ہیں

Verse 75 — Surah Al-Muminun 23:75

اور اگر ہم ان پر رحم فرما دیں اور جو تکلیف انہیں (لاحق) ہے اسے دور کر دیں تو وہ بھٹکتے ہوئے اپنی سرکشی میں مزید پکے ہو جائیں گے

Verse 76 — Surah Al-Muminun 23:76

اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا پھر (بھی) انہوں نے اپنے رب کے لئے عاجزی اختیار نہ کی اور نہ وہ (اس کے حضور) گڑگڑائے

Verse 77 — Surah Al-Muminun 23:77

یہاں تک کہ جب ہم ان پر نہایت سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے (تو) اس وقت وہ اس میں انتہائی حیرت سے ساکت و مایوس (پڑے) رہیں گے

Verse 78 — Surah Al-Muminun 23:78

اور وہی ہے جو تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل (و دماغ) رفتہ رفتہ وجود میں لایا، (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو

Verse 79 — Surah Al-Muminun 23:79

اور وہی ہے جس نے تمہیں روئے زمین پر پیدا کر کے پھیلا دیا اور تم اسی کے حضور جمع کئے جاؤ گے

Verse 80 — Surah Al-Muminun 23:80

اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور شب و روز کا گردش کرنا (بھی) اسی کے اختیار میں ہے۔ سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو

Verse 81 — Surah Al-Muminun 23:81

بلکہ یہ لوگ (بھی) اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں جس طرح کی اگلے (کافر) کرتے رہے ہیں

Verse 82 — Surah Al-Muminun 23:82

یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہم خاک اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

Verse 83 — Surah Al-Muminun 23:83

بیشک ہم سے (بھی) اور ہمارے آباء و اجداد سے (بھی) پہلے یہی وعدہ کیا جاتا رہا (ہے)، یہ (باتیں) محض پہلے لوگوں کے افسانے ہیں

Verse 84 — Surah Al-Muminun 23:84

(ان سے) فرمائیے کہ زمین اور جو کوئی اس میں (رہ رہا) ہے (سب) کس کی مِلک ہے، اگر تم (کچھ) جانتے ہو

Verse 85 — Surah Al-Muminun 23:85

وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ (سب کچھ) اللہ کا ہے، (تو) آپ فرمائیں: پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے؟

Verse 86 — Surah Al-Muminun 23:86

(ان سے دریافت) فرمائیے کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرشِ عظیم (یعنی ساری کائنات کے اقتدارِ اعلیٰ) کا مالک کون ہے؟

Verse 87 — Surah Al-Muminun 23:87

وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب کچھ) اللہ کا ہے (تو) آپ فرمائیں: پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ہو

Verse 88 — Surah Al-Muminun 23:88

آپ (ان سے) فرمائیے کہ وہ کون ہے جس کے دستِ قدرت میں ہر چیز کی کامل ملکیت ہے اور جو پناہ دیتا ہے اور جس کے خلاف (کوئی) پناہ نہیں دی جا سکتی، اگر تم (کچھ) جانتے ہو

Verse 89 — Surah Al-Muminun 23:89

وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب شانیں) اللہ ہی کے لئے ہیں، (تو) آپ فرمائیں: پھر تمہیں کہاں سے (جادو کی طرح) فریب دیا جا رہا ہے

Verse 90 — Surah Al-Muminun 23:90

بلکہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا اور بیشک وہ جھوٹے ہیں

Verse 91 — Surah Al-Muminun 23:91

اللہ نے (اپنے لئے) کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ ہر خدا اپنی اپنی مخلوق کو ضرور (الگ) لے جاتا اور یقیناً وہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرتے (اور پوری کائنات میں فساد بپا ہو جاتا)۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں

Verse 92 — Surah Al-Muminun 23:92

(وہ) پوشیدہ اور آشکار (سب چیزوں) کا جاننے والا ہے سو وہ ان چیزوں سے بلند و برتر ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں

Verse 93 — Surah Al-Muminun 23:93

آپ (دعا) فرمائیے کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ (عذاب) دکھانے لگے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

Verse 94 — Surah Al-Muminun 23:94

(تو) اے میرے رب! مجھے ظالم قوم میں شامل نہ فرمانا

Verse 95 — Surah Al-Muminun 23:95

اور بیشک ہم اس بات پرضرور قادر ہیں کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں

Verse 96 — Surah Al-Muminun 23:96

آپ برائی کو ایسے طریقہ سے دفع کیا کریں جو سب سے بہتر ہو، ہم ان (باتوں) کو خوب جانتے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں

Verse 97 — Surah Al-Muminun 23:97

اور آپ (دعا) فرمائیے: اے میرے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

Verse 98 — Surah Al-Muminun 23:98

اور اے میرے رب! میں اس بات سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں

Verse 99 — Surah Al-Muminun 23:99

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی (تو) وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے

Verse 100 — Surah Al-Muminun 23:100

تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہوگا اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے

Verse 101 — Surah Al-Muminun 23:101

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن نہ رشتے (باقی) رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھ سکیں گے

Verse 102 — Surah Al-Muminun 23:102

پس جن کے پلڑے (زیادہ اعمال کے باعث) بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب و کامران ہوں گے

Verse 103 — Surah Al-Muminun 23:103

اور جن کے پلڑے (اعمال کا وزن نہ ہونے کے باعث) ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں

Verse 104 — Surah Al-Muminun 23:104

ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں دانت نکلے بگڑے ہوئے منہ کے ساتھ پڑے ہوں گے

Verse 105 — Surah Al-Muminun 23:105

(ان سے کہا جائے گا:) کیا تم پر میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلایا کرتے تھے

Verse 106 — Surah Al-Muminun 23:106

وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم یقیناً گمراہ قوم تھے

Verse 107 — Surah Al-Muminun 23:107

اے ہمارے رب! تو ہمیں یہاں سے نکال دے پھر اگر ہم (اسی گمراہی کا) اعادہ کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے

Verse 108 — Surah Al-Muminun 23:108

ارشاد ہو گا: (اب) اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

Verse 109 — Surah Al-Muminun 23:109

بیشک میرے بندوں میں سے ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو (میرے حضور) عرض کیا کرتے تھے: اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو (ہی) سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے

Verse 110 — Surah Al-Muminun 23:110

تو تم ان کا تمسخر کیا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی اور تم (صرف) ان کی تضحیک ہی کرتے رہتے تھے

Verse 111 — Surah Al-Muminun 23:111

بیشک آج میں نے انہیں ان کے صبر کا جو وہ کرتے رہے (یہ) صلہ عطا فرمایا ہے کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں

Verse 112 — Surah Al-Muminun 23:112

ارشاد ہو گا کہ تم زمین میں برسوں کے شمار سے کتنی مدت ٹھہرے رہے (ہو)

Verse 113 — Surah Al-Muminun 23:113

وہ کہیں گے: ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے (ہوں گے) آپ اعداد و شمار کرنے والوں سے پوچھ لیں

Verse 114 — Surah Al-Muminun 23:114

ارشاد ہوگا: تم (وہاں) نہیں ٹھہرے مگر بہت ہی تھوڑا عرصہ، کاش! تم (یہ بات وہیں) جانتے ہوتے

Verse 115 — Surah Al-Muminun 23:115

سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (و بے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟

Verse 116 — Surah Al-Muminun 23:116

پس اللہ جو بادشاہِ حقیقی ہے بلند و برتر ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بزرگی اور عزت والے عرش (اقتدار) کا (وہی) مالک ہے

Verse 117 — Surah Al-Muminun 23:117

اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے سو اس کا حساب اس کے رب ہی کے پاس ہے۔ بیشک کافر لوگ فلاح نہیں پائیں گے

Verse 118 — Surah Al-Muminun 23:118

اور آپ عرض کیجئے: اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرما اور تو (ہی) سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے