Back to Languages

Urdu - Chapter 25 - Al-Furqan

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Furqan 25:1

(وہ اللہ) بڑی برکت والا ہے جس نے (حق و باطل میں فرق اور) فیصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرّب) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والا ہو جائے

Verse 2 — Surah Al-Furqan 25:2

وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لئے ہے اور جس نے نہ (اپنے لئے) کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے پھر اس (کی بقا و ارتقاء کے ہر مرحلہ پر اس کے خواص، افعال اور مدت، الغرض ہر چیز) کو ایک مقررہ اندازے پر ٹھہرایا ہے

Verse 3 — Surah Al-Furqan 25:3

اور ان (مشرکین) نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لئے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ وہ موت کے مالک ہیں اور نہ حیات کے اور نہ (ہی مرنے کے بعد) اٹھا کر جمع کرنے کا (اختیار رکھتے ہیں)

Verse 4 — Surah Al-Furqan 25:4

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض افتراء ہے جسے اس (مدعئ رسالت) نے گھڑ لیا ہے اور اس (کے گھڑنے) پر دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے، بیشک کافر ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

Verse 5 — Surah Al-Furqan 25:5

اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ انہیں یاد کر کے آگے سنا سکے)

Verse 6 — Surah Al-Furqan 25:6

فرما دیجئے: اِس (قرآن) کو اُس (اللہ) نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (موجود) تمام رازوں کو جانتا ہے، بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے

Verse 7 — Surah Al-Furqan 25:7

اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ (مل کر) ڈر سنانے والا ہوتا

Verse 8 — Surah Al-Furqan 25:8

یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا (کم از کم) اس کا کوئی باغ ہوتا جس (کی آمدنی) سے وہ کھایا کرتا اور ظالم لوگ (مسلمانوں) سے کہتے ہیں کہ تم تو محض ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو

Verse 9 — Surah Al-Furqan 25:9

(اے حبیبِ مکرّم!) ملاحظہ فرمائیے یہ لوگ آپ کے لئے کیسی (کیسی) مثالیں بیان کرتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے ہیں سو یہ (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں پا سکتے

Verse 10 — Surah Al-Furqan 25:10

وہ بڑی برکت والا ہے اگر چاہے تو آپ کے لئے (دنیا ہی میں) اس سے (کہیں) بہتر باغات بنا دے جن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں اور آپ کے لئے عالی شان محلات بنا دے (مگر نبوت و رسالت کے لئے یہ شرائط نہیں ہیں)

Verse 11 — Surah Al-Furqan 25:11

بلکہ انہوں نے قیامت کو (بھی) جھٹلا دیا ہے، اور ہم نے (ہر) اس شخص کے لئے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

Verse 12 — Surah Al-Furqan 25:12

جب وہ (آتشِ دوزخ) دور کی جگہ سے (ہی) ان کے سامنے ہوگی یہ اس کے جوش مارنے اور چنگھاڑنے کی آواز کو سنیں گے

Verse 13 — Surah Al-Furqan 25:13

اور جب وہ اس میں کسی تنگ جگہ سے زنجیروں کے ساتھ جکڑے ہوئے (یا اپنے شیطانوں کے ساتھ بندھے ہوئے) ڈالے جائیں گے اس وقت وہ (اپنی) ہلاکت کو پکاریں گے

Verse 14 — Surah Al-Furqan 25:14

(ان سے کہا جائے گا:) آج (صرف) ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو

Verse 15 — Surah Al-Furqan 25:15

فرما دیجئے: کیا یہ (حالت) بہتر ہے یا دائمی جنت (کی زندگی) جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ان (کے اعمال) کی جزا اور ٹھکانا ہے

Verse 16 — Surah Al-Furqan 25:16

ان کے لئے ان (جنتوں) میں وہ (سب کچھ میسّر) ہوگا جو وہ چاہیں گے (اس میں) ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمۂ (کرم) پر مطلوبہ وعدہ ہے (جو پورا ہو کر رہے گا)

Verse 17 — Surah Al-Furqan 25:17

اور اس دن اللہ انہیں اور ان کو، جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: کیا تم نے ہی میرے ان بندوں کو گمراہ کر دیا تھا یا وہ (خود) ہی راہ سے بھٹک گئے تھے

Verse 18 — Surah Al-Furqan 25:18

وہ کہیں گے: تیری ذات پاک ہے ہمیں (تو) یہ بات (بھی) زیبا نہ تھی کہ ہم تیرے سوا اوروں کو دوست (ہی) بنائیں (چہ جائے کہ ہم انہیں تیرے غیر کی عبادت کا کہتے) لیکن (اے مولا!) تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو (دنیوی مال و اسباب سے) اتنا بہرہ مند فرمایا، یہاں تک کہ وہ تیری یاد (بھی) بھول گئے، اور یہ (بدبخت) ہلاک ہونے والے لوگ (ہی) تھے

Verse 19 — Surah Al-Furqan 25:19

سو (اے کافرو!) انہوں نے (تو) ان باتوں میں تمہیں جھٹلا دیا ہے جو تم کہتے تھے پس (اب) تم نہ تو عذاب پھیرنے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ (اپنی) مدد کی، اور (سن لو!) تم میں سے جو شخص (بھی) ظلم کرتا ہے ہم اسے بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

Verse 20 — Surah Al-Furqan 25:20

اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر (یہ کہ) وہ کھانا (بھی) یقیناً کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی (حسبِ ضرورت) چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے، کیا تم (آزمائش پر) صبر کرو گے؟ اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے

Verse 21 — Surah Al-Furqan 25:21

اور جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے (تو پھر ضرور ایمان لے آتے)، حقیقت میں یہ لوگ اپنے دِلوں میں (اپنے آپ کو) بہت بڑا سمجھنے لگے ہیں اور حد سے بڑھ کر سرکشی کر رہے ہیں

Verse 22 — Surah Al-Furqan 25:22

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (تو) اس دن مجرموں کے لئے چنداں خوشی کی بات نہ ہوگی بلکہ وہ (انہیں دیکھ کر ڈرتے ہوئے) کہیں گے: کوئی روک والی آڑ ہوتی (جو ہمیں ان سے بچا لیتی یا فرشتے انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم پر داخلۂ جنت قطعاً ممنوع ہے)

Verse 23 — Surah Al-Furqan 25:23

اور (پھر) ہم ان اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے جو (بزعمِ خویش) انہوں نے (زندگی میں) کئے تھے تو ہم انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے

Verse 24 — Surah Al-Furqan 25:24

اس دن اہلِ جنت کی قیام گاہ (بھی) بہتر ہوگی اور آرام گاہ بھی خوب تر (جہاں وہ حساب و کتاب کی دوپہر کے بعد جا کر قیلولہ کریں گے)

Verse 25 — Surah Al-Furqan 25:25

اور اس دن آسمان پھٹ کر بادل (کی طرح دھوئیں) میں بدل جائے گا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے

Verse 26 — Surah Al-Furqan 25:26

اس دن سچی حکمرانی صرف (خدائے) رحمان کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر سخت (مشکل) ہوگا

Verse 27 — Surah Al-Furqan 25:27

اور اس دن ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا

Verse 28 — Surah Al-Furqan 25:28

ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

Verse 29 — Surah Al-Furqan 25:29

بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہے

Verse 30 — Surah Al-Furqan 25:30

اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا

Verse 31 — Surah Al-Furqan 25:31

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جرائم شعار لوگوں میں سے (ان کے) دشمن بنائے تھے (جو ان کے پیغمبرانہ مشن کی مخالفت کرتے اور اس طرح حق اور باطل قوتوں کے درمیان تضاد پیدا ہوتا جس سے انقلاب کے لئے سازگار فضا تیار ہو جاتی تھی)، اور آپ کا رب ہدایت کرنے اور مدد فرمانے کے لئے کافی ہے

Verse 32 — Surah Al-Furqan 25:32

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر قرآن ایک ہی بار (یک جا کرکے) کیوں نہیں اتارا گیا؟ یوں (تھوڑا تھوڑا کر کے اسے) تدریجاً اس لئے اتارا گیا ہے تاکہ ہم اس سے آپ کے قلبِ (اطہر) کو قوت بخشیں اور (اسی وجہ سے) ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تاکہ آپ کو ہمارے پیغام کے ذریعے بار بار سکونِ قلب ملتا رہے)

Verse 33 — Surah Al-Furqan 25:33

اور یہ (کفار) آپ کے پاس کوئی (ایسی) مثال (سوال اور اعتراض کے طور پر) نہیں لاتے مگر ہم آپ کے پاس (اس کے جواب میں) حق اور (اس سے) بہتر وضاحت کا بیان لے آتے ہیں

Verse 34 — Surah Al-Furqan 25:34

(یہ) ایسے لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے یہی لوگ ہیں جو ٹھکانے کے لحاظ سے نہایت برے اور راستے سے (بھی) بہت بہکے ہوئے ہیں

Verse 35 — Surah Al-Furqan 25:35

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور ہم نے ان کے ساتھ (ان کی معاونت کے لئے) ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو وزیر بنایا

Verse 36 — Surah Al-Furqan 25:36

پھر ہم نے کہا: تم دونوں اس قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے (جب وہ ہماری تکذیب سے پھر بھی باز نہ آئے) تو ہم نے انہیں بالکل ہی ہلاک کر ڈالا

Verse 37 — Surah Al-Furqan 25:37

اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو (بھی)، جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (تو) ہم نے انہیں غرق کر ڈالا اور ہم نے انہیں (دوسرے) لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

Verse 38 — Surah Al-Furqan 25:38

اور عاد اور ثمود اور باشندگانِ رس کو، اور ان کے درمیان بہت سی(اور) امتوں کو (بھی ہلاک کر ڈالا)

Verse 39 — Surah Al-Furqan 25:39

اور ہم نے (ان میں سے) ہر ایک (کی نصیحت) کے لئے مثالیں بیان کیں اور (جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو) ہم نے ان سب کو نیست و نابود کر دیا

Verse 40 — Surah Al-Furqan 25:40

اور بیشک یہ (کفار) اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی، تو کیا یہ اس (تباہ شدہ بستی) کو دیکھتے نہ تھے بلکہ یہ تو (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کی امید ہی نہیں رکھتے

Verse 41 — Surah Al-Furqan 25:41

اور (اے حبیبِ مکرّم!) جب (بھی) وہ آپ کو دیکھتے ہیں آپ کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے (اور کہتے ہیں:) کیا یہی وہ (شخص) ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے

Verse 42 — Surah Al-Furqan 25:42

قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے اور وہ عنقریب جان لیں گے جس وقت عذاب دیکھیں گے کہ کون زیادہ گمراہ تھا

Verse 43 — Surah Al-Furqan 25:43

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو کیا آپ اس پر نگہبان بنیں گے

Verse 44 — Surah Al-Furqan 25:44

کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) وہ تو چوپایوں کی مانند (ہو چکے) ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں

Verse 45 — Surah Al-Furqan 25:45

کیا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف نگاہ نہیں ڈالی کہ وہ کس طرح (دوپہر تک) سایہ دراز کرتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا پھر ہم نے سورج کو اس (سایہ) پر دلیل بنایا ہے

Verse 46 — Surah Al-Furqan 25:46

پھر ہم آہستہ آہستہ اس (سایہ) کو اپنی طرف کھینچ کر سمیٹ لیتے ہیں

Verse 47 — Surah Al-Furqan 25:47

اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پوشاک (کی طرح ڈھانک لینے والا) بنایا اور نیند کو (تمہارے لئے) آرام (کا باعث) بنایا اور دن کو (کام کاج کے لئے) اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا

Verse 48 — Surah Al-Furqan 25:48

اور وہی ہے جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، اور ہم ہی آسمان سے پاک (صاف کرنے والا) پانی اتارتے ہیں

Verse 49 — Surah Al-Furqan 25:49

تاکہ اس کے ذریعے ہم (کسی بھی) مُردہ شہر کو زندگی بخشیں اور (مزید یہ کہ) ہم یہ (پانی) اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سے چوپایوں اور (بادیہ نشین) انسانوں کو پلائیں

Verse 50 — Surah Al-Furqan 25:50

اور بیشک ہم اس (بارش) کو ان کے درمیان (مختلف شہروں اور وقتوں کے حساب سے) گھماتے (رہتے) ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں پھر بھی اکثر لوگوں نے بجز ناشکری کے (کچھ) قبول نہ کیا

Verse 51 — Surah Al-Furqan 25:51

اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیج دیتے

Verse 52 — Surah Al-Furqan 25:52

پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اِس (قرآن کی دعوت اور دلائلِ علم) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کر

Verse 53 — Surah Al-Furqan 25:53

اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں ہے اور یہ (دوسرا) کھاری نہایت تلخ ہے۔ اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط رکاوٹ بنا دی

Verse 54 — Surah Al-Furqan 25:54

اور وہی ہے جس نے پانی (کی مانند ایک نطفہ) سے آدمی کو پیدا کیا پھر اسے نسب اور سسرال (کی قرابت) والا بنایا، اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے

Verse 55 — Surah Al-Furqan 25:55

اور وہ (کفار) اللہ کے سوا ان (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ (تو) نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ (ہی) انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور کافر اپنے رب (کی نافرمانی) پر (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہے

Verse 56 — Surah Al-Furqan 25:56

اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر (اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (بغاوت شعار لوگوں کو) ڈر سنانے والا بنا کر

Verse 57 — Surah Al-Furqan 25:57

آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ بھی معاوضہ نہیں مانگتا مگر جو شخص اپنے رب تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے (کرلے)

Verse 58 — Surah Al-Furqan 25:58

اور آپ اس (ہمیشہ) زندہ رہنے والے (رب) پر بھروسہ کیجئے جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہئے، اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہے

Verse 59 — Surah Al-Furqan 25:59

جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اس (کائنات) کو جو ان دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوار میں پیدا فرمایا٭ پھر وہ (حسبِ شان) عرش پر جلوہ افروز ہوا (وہ) رحمان ہے، (اے معرفتِ حق کے طالب!) تو اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ (بے خبر اس کا حال نہیں جانتے)o٭ (ستۃ اَیّام سے مراد چھ اَدوارِ تخلیق ہیں، معروف معنٰی میں چھ دن نہیں کیونکہ یہاں تو خود زمین اور جملہ آسمانی کرّوں، کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں اور خلاؤں کی پیدائش کا زمانہ بیان ہو رہا ہے، اس وقت رات اور دن کا وجود کہاں تھا؟)

Verse 60 — Surah Al-Furqan 25:60

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم رحمان کو سجدہ کرو تو وہ (منکرینِ حق) کہتے ہیں کہ رحمان کیا (چیز) ہے؟ کیا ہم اسی کو سجدہ کرنے لگ جائیں جس کا آپ ہمیں حکم دے دیں اور اس (حکم) نے انہیں نفرت میں اور بڑھا دیا

Verse 61 — Surah Al-Furqan 25:61

وہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایا

Verse 62 — Surah Al-Furqan 25:62

اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے گردش کرنے والا بنایا اس کے لئے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (ان تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)

Verse 63 — Surah Al-Furqan 25:63

اور (خدائے) رحمان کے (مقبول) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیں

Verse 64 — Surah Al-Furqan 25:64

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لئے سجدہ ریزی اور قیامِ (نِیاز) میں راتیں بسر کرتے ہیں

Verse 65 — Surah Al-Furqan 25:65

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (ہمہ وقت حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض گزار رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے دوزخ کا عذاب ہٹا لے، بیشک اس کا عذاب بڑا مہلک (اور دائمی) ہے

Verse 66 — Surah Al-Furqan 25:66

بیشک وہ (عارضی ٹھہرنے والوں کے لئے) بُری قرار گاہ اور (دائمی رہنے والوں کے لئے) بُری قیام گاہ ہے

Verse 67 — Surah Al-Furqan 25:67

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا (زیادتی اور کمی کی) ان دو حدوں کے درمیان اعتدال پر (مبنی) ہوتا ہے

Verse 68 — Surah Al-Furqan 25:68

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیرِ حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں، اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزائے گناہ پائے گا

Verse 69 — Surah Al-Furqan 25:69

اس کے لئے قیامت کے دن عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ رہے گا

Verse 70 — Surah Al-Furqan 25:70

مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

Verse 71 — Surah Al-Furqan 25:71

اور جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیا تو اس نے اللہ کی طرف (وہ) رجوع کیا جو رجوع کا حق تھا

Verse 72 — Surah Al-Furqan 25:72

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو کذب اور باطل کاموں میں (قولاً اور عملاً دونوں صورتوں میں) حاضر نہیں ہوتے اور جب بے ہودہ کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو (دامن بچاتے ہوئے) نہایت وقار اور متانت کے ساتھ گزر جاتے ہیں

Verse 73 — Surah Al-Furqan 25:73

اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں)

Verse 74 — Surah Al-Furqan 25:74

اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے

Verse 75 — Surah Al-Furqan 25:75

انہی لوگوں کو (جنت میں) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا

Verse 76 — Surah Al-Furqan 25:76

یہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ (بلند محلاتِ جنت) بہترین قرار گاہ اور (عمدہ) قیام گاہ ہیں

Verse 77 — Surah Al-Furqan 25:77

فرما دیجئے: میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں اگر تم (اس کی) عبادت نہ کرو، پس واقعی تم نے (اسے) جھٹلایا ہے تو اب یہ (جھٹلانا تمہارے لئے) دائمی عذاب بنا رہے گا