جس نے سات (یا متعدّد) آسمانی کرّے باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق دَر طبق) پیدا فرمائے، تم (خدائے) رحمان کے نظامِ تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدمِ تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہِ (غور و فکر) پھیر کر دیکھو، کیا تم اس (تخلیق) میں کوئی شگاف یا خلل (یعنی شکستگی یا اِنقطاع) دیکھتے ہو
تم پھر نگاہِ (تحقیق) کو بار بار (مختلف زاویوں اور سائنسی طریقوں سے) پھیر کر دیکھو، (ہر بار) نظر تمہاری طرف تھک کر پلٹ آئے گی اور وہ (کوئی بھی نقص تلاش کرنے میں) ناکام ہوگی
اور بے شک ہم نے سب سے قریبی آسمانی کائنات کو (ستاروں، سیاروں، دیگر خلائی کرّوں اور ذرّوں کی شکل میں) چراغوں سے مزیّن فرما دیا ہے، اور ہم نے ان (ہی میں سے بعض) کو شیطانوں (یعنی سرکش قوتوں) کو مار بھگانے (یعنی ان کے منفی اَثرات ختم کرنے) کا ذریعہ (بھی) بنایا ہے، اور ہم نے ان (شیطانوں) کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
گویا (ابھی) شدتِ غضب سے پھٹ کر پارہ پارہ ہو جائے گی، جب اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تھا
وہ کہیں گے: کیوں نہیں! بے شک ہمارے پاس ڈر سنانے والا آیا تھا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم تو محض بڑی گمراہی میں (پڑے ہوئے) ہو
وُہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم و مسخر کر دیا، سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو، اور اُس کے (دئیے ہوئے) رِزق میں سے کھاؤ، اور اُسی کی طرف (مرنے کے بعد) اُٹھ کر جانا ہے
کیا اُنہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلائے ہوئے اور (کبھی) پر سمیٹے ہوئے نہیں دیکھا؟ اُنہیں (فضا میں گرنے سے) کوئی نہیں روک سکتا سوائے رحمان کے (بنائے ہوئے قانون کے)، بے شک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے
پھر جب اس (دن) کو قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ کر سیاہ ہو جائیں گے، اور (ان سے) کہا جائے گا: یہی وہ (وعدہ) ہے جس کے (جلد ظاہر کیے جانے کے) تم بہت طلب گار تھے
فرما دیجئے: بھلا یہ بتاؤ اگر اللہ مجھے موت سے ہم کنار کر دے (جیسے تم خواہش کرتے ہو) اور جو میرے ساتھ ہیں (ان کو بھی)، یا ہم پر رحم فرمائے (یعنی ہماری موت کو مؤخر کر دے) تو (ان دونوں صورتوں میں) کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا