Back to Languages

Urdu - Chapter 90 - Al-Balad

Translation by Muhammad Tahir Ul Qadri — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Balad 90:1

میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں

Verse 2 — Surah Al-Balad 90:2

(اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں٭o٭ یہ ترجمہ ”لا زائدہ“ کے اعتبار سے ہے۔ لا ”نفئ صحیح“ کے لئے ہو تو ترجمہ یوں ہوگا: میں (اس وقت) اس شہر کی قَسم نہیں کھاؤں گا (اے حبیب!) جب آپ اس شہر سے رخصت ہو جائیں گے

Verse 3 — Surah Al-Balad 90:3

(اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی٭o٭ یعنی آدم علیہ السلام کی ذریّتِ صالحہ یا آپ ہی کی ذات گرامی جن کے باعث یہ شہرِ مکہ بھی لائقِ قَسم ٹھہرا ہے

Verse 4 — Surah Al-Balad 90:4

بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے

Verse 5 — Surah Al-Balad 90:5

کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کوئی بھی قابو نہ پا سکے گا؟

Verse 6 — Surah Al-Balad 90:6

وہ (بڑے فخر سے) کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کیا ہے

Verse 7 — Surah Al-Balad 90:7

کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے (یہ فضول خرچیاں کرتے ہوئے) کسی نے نہیں دیکھا

Verse 8 — Surah Al-Balad 90:8

کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیں

Verse 9 — Surah Al-Balad 90:9

اور (اسے) ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

Verse 10 — Surah Al-Balad 90:10

اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے

Verse 11 — Surah Al-Balad 90:11

وہ تو (دینِ حق اور عملِ خیر کی) دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا

Verse 12 — Surah Al-Balad 90:12

اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ وہ (دینِ حق کے مجاہدہ کی) گھاٹی کیا ہے

Verse 13 — Surah Al-Balad 90:13

وہ (غلامی و محکومی کی زندگی سے) کسی گردن کا آزاد کرانا ہے

Verse 14 — Surah Al-Balad 90:14

یا بھوک والے دن (یعنی قحط و اَفلاس کے دور میں غریبوں اور محروم المعیشت لوگوں کو) کھانا کھلانا ہے (یعنی ان کے معاشی تعطل اور ابتلاء کو ختم کرنے کی جدّ و جہد کرنا ہے)

Verse 15 — Surah Al-Balad 90:15

قرابت دار یتیم کو

Verse 16 — Surah Al-Balad 90:16

یا شدید غربت کے مارے ہوئے محتاج کو جو محض خاک نشین (اور بے گھر) ہے

Verse 17 — Surah Al-Balad 90:17

پھر (شرط یہ ہے کہ ایسی جدّ و جہد کرنے والا) وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی نصیحت کرتے ہیں اور باہم رحمت و شفقت کی تاکید کرتے ہیں

Verse 18 — Surah Al-Balad 90:18

یہی لوگ دائیں طرف والے (یعنی اہلِ سعادت و مغفرت) ہیں

Verse 19 — Surah Al-Balad 90:19

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں طرف والے ہیں (یعنی اہلِ شقاوت و عذاب) ہیں

Verse 20 — Surah Al-Balad 90:20

ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی آگ (چھائی) ہوگی