الر۔ (اے پیغمبر) یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ، یعنی اس ذات کے راستے کی طرف جس کا اقتدار سب پر غالب ہے، (اور) جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔
وہ لوگ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں، اور اس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
اور ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا، خود اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کرسکے۔ پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے۔ اور وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ : اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، اور (مختلف لوگوں کو) اللہ نے (خوشحالی اور بدحالی کے) جو دن دکھائے ہیں، ان کے حوالے سے انہیں نصیحت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو صبر اور شکر کا خوگر ہو، اس کے لیے ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں۔
وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے، اسے یاد رکھو کہ اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی، جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور ان تمام واقعات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا زبردست امتحان تھا۔
اور وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے۔
اور موسیٰ نے کہا تھا کہ : اگر تم اور زمین پر بسنے والے تمام لوگ بھی ناشکری کریں، تو (اللہ کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔
(اے کفار مکہ) کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قومیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، تو انہوں نے ان کہ منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے، اور کہا کہ : جو پیغام تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اور جس بات کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں ہمیں بڑا بھاری شک ہے۔
ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا : کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو سارے آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے کہ تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے، اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا کہ : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ایسے ہی انسان ہو جیسے ہم ہیں۔ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے ہیں ان سے ہمیں روک دو ، لہذا کوئی صاف صاف معجزہ لاکر دکھاؤ۔
ان سے ان کے پیغمبروں نے کہا : ہم واقعی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے خصوصی احسان فرما دیتا ہے۔ اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں، اور مومنوں کو صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اور آخر ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں، جبکہ اس نے ہمیں ان راستوں کی ہدایت دے دی ہے جن پر ہمیں چلنا ہے ؟ اور تم نے ہمیں جو تکلیفیں پہنچائی ہیں، ان پر ہم یقینا صبر کریں گے، اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو، انہیں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا، انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ : ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے، ورنہ تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ : یقین رکھو، ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔
وہ اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، اور اسے ایسا محسوس ہوگا کہ وہ اسے حلق سے اتار نہیں سکے گا، موت اس پر ہر طرف سے آرہی ہوگی، مگر وہ مرے گا نہیں، اور اس کے آگے (ہمیشہ) ایک اور سخت عذاب موجود ہوگا، ۔
جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کی روش اختیار کی ہے، ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے آندھی طوفان والے دن میں ہوا تیزی سے اڑا لے جائے، انہوں نے جو کچھ کمائی کی ہوگی، اس میں سے کچھ ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔
کیا تمہیں یہ بات نظر نہیں آتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اور ایک نئی مخلوق وجود میں لے آئے۔
اور یہ سب لوگ اللہ کے آگے پیش ہوں گے۔ پھر جو لوگ (دنیا میں) کمزور تھے، وہ بڑائی بگھارنے والوں سے کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے لوگ تھے، تو کیا اب تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لو گے ؟ وہ کہیں گے : اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے۔ چاہے ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں، دونوں صورتیں ہمارے لیے برابر ہیں، ہمارے لیے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں۔
اور جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان (اپنے ماننے والوں سے) کہے گا : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو اس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ تمہاری فریاد پر میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں، اور نہ میری فریاد پر تم میری مدد کرسکتے ہو۔ تم نے اس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، (آج) میں نے اس کا انکار کردیا ہے۔ جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا، ان کے حصے میں تو اب دردناک عذاب ہے۔
اور جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، انہیں ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اپنے پروردگار کے حکم سے وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کا استقبال سلام سے کریں گے۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان کی ہے ؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوطی سے جمی ہوئی ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔
جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی، اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ (اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
اور انہوں نے اللہ کے ساتھ (اس کی خدائی میں) کچھ شریک بنا لیے، تاکہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ ان سے کہو کہ : (تھوڑے سے) مزے اڑا لو، کیونکہ آخر کار تمہیں جانا دوزخ ہی کی طرف ہے۔
میرے جو بندے ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ وہ نماز قائم کریں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی (نیکی کے کاموں میں) خرچ کریں (اور یہ کام) اس دن کے آنے سے پہلے پہلے (کرلیں) جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی، نہ کوئی دوستی آئے گی۔
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے لیے پھل اگائے، اور کشتیوں کو تمہارے لیے رام کردیا، تاکہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلیں، اور دریاؤں کو بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا۔
اور تم نے جو کچھ مانگا، اس نے اس میں سے (جو تمہارے لیے مناسب تھا) تمہیں دیا۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار (بھی) نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بےانصاف، بڑا ناشکرا ہے۔
اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم نے (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : یا رب ! اس شہر کو پر امن بنا دیجیے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے بچایے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔
میرے پروردگار ! ان بتوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا ہے۔ لہذا جو کوئی میری راہ پر چلے، وہ تو میرا ہے، اور جو میرا کہنا نہ مانے، تو (اس کا معاملہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں) آپ بہت بخشنے والے بڑے مہربان ہیں۔
اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی، ہمارے پروردگار ! (یہ میں نے اس لیے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ لہذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کشش پیدا کردیجیے، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمایے۔ تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔
اے ہمارے رب ! ہم جو کام چھپ کر کرتے ہیں، وہ بھی آپ کے علم میں ہیں، اور جو کام علانیہ کرتے ہیں، وہ بھی۔ اور اللہ سے نہ زمین کی کوئی چیز چھپی ہوئی ہے، نہ آسمان کی کوئی چیز۔
یا رب ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا دیجیے اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ پیدا فرمایے جو نماز قائم کریں) اے ہمارے پروردگار ! اور میری دعا قبول فرمالیجیے ،
اور یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔ وہ تو ان لوگوں کو اس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
اور (اے پیغمبر) تم لوگوں کو اس دن سے خبردار کرو جب عذاب ان پر آن پڑے گا، تو اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لیے اور مہلت دے دیجیے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کرلیں، اور پیغمبروں کی پیرویں کریں۔ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ :) ارے کیا تم لوگوں نے قسمیں کھا کھا کر پہلے یہ نہیں کہا تھا کہ تم پر کوئی زوال نہیں آسکتا ؟
اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں رہ چکے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اور یہ بات کھل کر تمہارے سامنے آچکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا، اور ہم نے تمہیں مثالیں بھی دی تھیں۔
اور وہ لوگ اپنی ساری چالیں چل چکے تھے، اور ان کی ساری چالوں کا توڑ اللہ کے پاس تھا، چاہے ان کی چالیں ایسی کیوں نہ ہوں جن سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں۔
لہذا اللہ کے بارے میں ہرگز یہ خیال بھی دل میں نہ لانا کہ اس نے اپنے پیغمبروں سے جو وعدہ کر رکھا ہے، اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنے اقتدار میں سب پر غالب ہے، (اور) انتقام لینے والا ہے۔
یہ تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے، اور اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ انہیں اس کے ذریعے خبردار کیا جائے، اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود برحق بس ایک ہی ہے، اور تاکہ سمجھ رکھنے والے نصیحت حاصل کرلیں۔