Back to Languages

Urdu - Chapter 16 - An-Nahl

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah An-Nahl 16:1

اللہ کا حکم آن پہنچا ہے، لہذا اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ ۔ جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں، وہ اس سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے۔

Verse 2 — Surah An-Nahl 16:2

وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس زندگی بخشنے والی وحی کے ساتھ اتارتا ہے کہ : لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، لہذا تم مجھی سے ڈرو، (کسی اور سے نہیں) ۔

Verse 3 — Surah An-Nahl 16:3

اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جو شرک یہ لوگ کرتے ہیں، وہ اس سے بہت بالا و برتر ہے۔

Verse 4 — Surah An-Nahl 16:4

اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلم کھلا جھگڑے پر آمادہ ہوگیا۔

Verse 5 — Surah An-Nahl 16:5

اور چوپائے اسی نے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے سردی سے بچاؤ کا سامان ہے، اور اس کے علاوہ بہت سے فائدے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو۔

Verse 6 — Surah An-Nahl 16:6

اور جب تم انہیں شام کے وقت گھر واپس لاتے ہو، اور جب انہیں صبح کو چرانے لے جاتے ہو تو ان میں تمہارے لیے ایک خوشنما منظر بھی ہے۔

Verse 7 — Surah An-Nahl 16:7

اور یہ تمہارے بوجھ لاد کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان جوکھوں میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے تمہارا پروردگار بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔

Verse 8 — Surah An-Nahl 16:8

اور گھوڑے، خچر اور گدھے اسی نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو، اور وہ زینت کا سامان بنیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔

Verse 9 — Surah An-Nahl 16:9

اور سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے، اور بہت سے راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے پر پہنچا بھی دیتا۔

Verse 10 — Surah An-Nahl 16:10

وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اور اسی سے وہ درخت اگتے ہیں جن سے تم مویشیوں کو چراتے ہو۔

Verse 11 — Surah An-Nahl 16:11

اسی سے اللہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔

Verse 12 — Surah An-Nahl 16:12

اور اس نے دن اور رات کو اور سورج اور چاند کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے، اور ستارے بھی اس کے حکم سے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

Verse 13 — Surah An-Nahl 16:13

اسی طرح وہ ساری رنگ برنگ کی چیزیں جو اس نے تمہاری خاطر زمین میں پھیلا رکھی ہیں، وہ بھی اس کے حکم سے کام پر لگی ہوئی ہیں۔ بیشک ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سبق حاصل کریں۔

Verse 14 — Surah An-Nahl 16:14

اور وہی ہے جس نے سمندر کو کام پر لگایا، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیورات نکالو جو تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ اس میں کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔

Verse 15 — Surah An-Nahl 16:15

اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگڑ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگائے نہیں، اور دریا اور راستے بنائے ہیں تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔

Verse 16 — Surah An-Nahl 16:16

اور (راستوں کی پہچان کے لیے) بہت سی علامتیں بنائی ہیں۔ اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں۔

Verse 17 — Surah An-Nahl 16:17

اب بتاؤ کہ جو کچھ پیدا نہیں کرتے ؟ کیا پھر بھی تم کوئی سبق نہیں لیتے ؟

Verse 18 — Surah An-Nahl 16:18

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو، تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 19 — Surah An-Nahl 16:19

اور اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپ کر کرتے ہو، اور وہ بھی جو تم علی الاعلان کرتے ہو۔

Verse 20 — Surah An-Nahl 16:20

اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ تو خود ہی مخلوق ہیں۔

Verse 21 — Surah An-Nahl 16:21

وہ بےجان ہیں، ان میں زندگی نہیں، اور ان کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ ان لوگوں کو کب زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

Verse 22 — Surah An-Nahl 16:22

تمہارا معبود تو بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل میں انکار پیوست ہوگیا ہے، اور وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں۔

Verse 23 — Surah An-Nahl 16:23

ظاہر بات ہے کہ اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو وہ چھپ کر کرتے ہیں، اور وہ بھی جو وہ علی الاعلان کرتے ہیں۔ وہ یقینا گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

Verse 24 — Surah An-Nahl 16:24

اور جب ان سے کہا گیا کہ : تمہارے رب نے کیا بات نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ : گزرے ہوئے لوگوں کے افسانے !۔

Verse 25 — Surah An-Nahl 16:25

(ان باتوں کا) نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن خود اپنے (گناہوں) کے پورے پورے بوجھ بھی اپنے اوپر لادیں گے، اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ کسی علم کے بغیر گمراہ کر رہے ہیں۔ یاد رکھو کہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ لاد رہے ہیں۔

Verse 26 — Surah An-Nahl 16:26

ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کے منصوبے بنائے تھے۔ پھر ہوا یہ کہ (منصوبوں کی) جو عمارتیں انہوں نے تعمیر کی تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا، پھر ان کے اوپر سے چھت بھی ان پر آگری، اور ان پر عذاب ایسی جگہ سے آدھمکا جس کا انہیں احساس تک نہیں تھا۔

Verse 27 — Surah An-Nahl 16:27

پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا، اور ان سے پوچھے گا کہ : کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کی خاطر تم (مسلمانوں سے) جھگڑا کیا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ (اس دن) کہیں گے کہ : بڑی رسوائی اور بدحالی مسلط ہے آج ان کافروں پر۔

Verse 28 — Surah An-Nahl 16:28

جن کی روحیں فرشتوں نے اس حالت میں قبض کیں جب انہوں نے اپنی جانوں پر (کفر کی وجہ سے) ظلم کر رکھا تھا۔ اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ (ان سے کہا جائے گا) کیسے نہیں کرتے تھے ؟ اللہ کو سب معلوم ہے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

Verse 29 — Surah An-Nahl 16:29

لہذا اب ہمیشہ جہنم میں رہنے کے لیے اس کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، کیونکہ تکبر کرنے والوں کا یہی برا ٹھکانا ہے۔

Verse 30 — Surah An-Nahl 16:30

اور (دوسری طرف) متقی لوگوں سے پوچھا گیا کہ : تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : خیر ہی خیر اتاری ہے۔ (اسی طرح) جن لوگوں نے نیکی کی روش اختیار کی ہے، ان کے لیے اس دنیا میں بھی بہتری ہے، اور آخرت کا گھر تو ہے ہی سراپا بہتری، یقینا متقیوں کا گھر بہترین ہے۔

Verse 31 — Surah An-Nahl 16:31

ہمیشہ ہمیشہ بسنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ داخل ہوں گے، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے، انہیں ملے گا۔ متقی لوگوں کو اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے۔

Verse 32 — Surah An-Nahl 16:32

یہ وہ لوگ ہیں جن کی روحیں فرشتے ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ : سلامتی ہو تم پر ! جو عمل تم کرتے رہے ہو، اس کے صلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔

Verse 33 — Surah An-Nahl 16:33

یہ (کافر) لوگ اب (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آکھڑے ہوں، یا (قیامت یا عذاب کی صورت میں) تمہارے پروردگار کا حکم ہی آجائے۔ جو امتیں ان سے پہلے گزری ہیں، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے تھے۔

Verse 34 — Surah An-Nahl 16:34

اس لیے ان کے برے اعمال کا وبال ان پر پڑا، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اسی نے ان کو آکر گھیر لیا۔

Verse 35 — Surah An-Nahl 16:35

اور جن لوگوں نے شرک اختیار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی اور چیز کی عبادت نہ کرتے، نہ ہم، نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کوئی چیز حرام قرار دیتے۔ جو امتیں ان سے پہلے گزری ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ لیکن پیغمبروں کی ذمہ داری اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ صاف صاف طریقے پر پیغام پہنچا دیں۔

Verse 36 — Surah An-Nahl 16:36

اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر اس ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ تو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

Verse 37 — Surah An-Nahl 16:37

(اے پیغمبر) اگر تمہیں یہ حرص ہے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ جن کو (ان کے عناد کی وجہ سے) گمراہ کردیتا ہے ان کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا، اور ایسے لوگوں کو کسی قسم کے مددگار بھی میسر نہیں آتے۔

Verse 38 — Surah An-Nahl 16:38

اور ان لوگوں نے بڑا زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھائی ہیں کہ جو لوگ مرجاتے ہیں، اللہ ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ بھلا کیوں نہیں کرے گا ؟ یہ تو ایک وعدہ ہے جسے سچا کرنے کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

Verse 39 — Surah An-Nahl 16:39

(دوبارہ زندہ کرنے کا یہ وعدہ اللہ نے اس لیے کیا ہے) تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان باتوں کو اچھی طرح واضح کردے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کافر لوگ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

Verse 40 — Surah An-Nahl 16:40

اور جب ہم کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری طرف سے صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ ہم اسے کہتے ہیں : ہوجا۔ بس وہ ہوجاتی ہے۔

Verse 41 — Surah An-Nahl 16:41

اور جن لوگوں نے دوسروں کے ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر اپنا وطن چھوڑا ہے، یقین رکھو کہ انہیں ہم دنیا میں بھی اچھی طرح بسائیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے۔

Verse 42 — Surah An-Nahl 16:42

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر سے کام لیا ہے، اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

Verse 43 — Surah An-Nahl 16:43

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی کسی اور کو نہیں، انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ (اے منکرو) اب اگر تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو۔

Verse 44 — Surah An-Nahl 16:44

ان پیغمبروں کو روشن دلائل اور آسمانی کتابیں دے کر بھیجا گیا تھا۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کر دو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

Verse 45 — Surah An-Nahl 16:45

تو کیا وہ لوگ جو برے برے منصوبے بنا رہے ہیں اس بات سے بالکل بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے، یا ان پر عذاب ایسی جگہ سے آپڑے کہ انہیں احساس تک نہ ہو ؟

Verse 46 — Surah An-Nahl 16:46

یا انہیں چلتے پھرتے ہی اپنی پکڑ میں لے لے، کیونکہ وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے۔

Verse 47 — Surah An-Nahl 16:47

یا انہیں اس طرح گرفت میں لے کہ وہ دھیرے دھیرے گھٹتے چلے جائیں۔ کیونکہ تمہارا پروردگار بڑا شفیق، نہایت مہربان ہے۔

Verse 48 — Surah An-Nahl 16:48

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدے کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکے رہتے ہیں اور وہ سب عاجزی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ؟

Verse 49 — Surah An-Nahl 16:49

اور آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں وہ اور سارے فرشتے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ ذرا تکبر نہیں کرتے۔

Verse 50 — Surah An-Nahl 16:50

وہ اپنے اس پروردگار سے ڈرتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

Verse 51 — Surah An-Nahl 16:51

اور اللہ نے فرمایا ہے کہ : دو دو معبود نہ بنا بیٹھنا، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے۔ اس لیے بس مجھی سے ڈرا کرو۔

Verse 52 — Surah An-Nahl 16:52

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور اسی کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے۔ کیا پھر بھی تم اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو ؟

Verse 53 — Surah An-Nahl 16:53

اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔

Verse 54 — Surah An-Nahl 16:54

اس کے بعد جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اچانک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک شروع کردیتا ہے۔

Verse 55 — Surah An-Nahl 16:55

تاکہ ہم نے اسے جو نعمت دی تھی اس کی ناشکری کرے۔ اچھا ! کچھ عیش کرلو، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔

Verse 56 — Surah An-Nahl 16:56

اور ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں وہ ان (بتوں) کا حصہ لگاتے ہیں جن کی حقیقت خود انہیں معلوم نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! تم سے ضرور باز پرس ہوگی کہ تم کیسے بہتان باندھا کرتے تھے۔

Verse 57 — Surah An-Nahl 16:57

اور اللہ کے لیے تو انہوں نے بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں۔ سبحان اللہ ! اور خود اپنے لیے وہ (بیٹے چاہتے ہیں) جو اپنی خواہش کے مطابق ہوں

Verse 58 — Surah An-Nahl 16:58

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔

Verse 59 — Surah An-Nahl 16:59

اس خوشخبری کو برا سمجھ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کر کے اسے اپنے پاس رہنے دے، یا اسے زمین میں گاڑھ دے۔ دیکھو انہوں نے کتنی بری باتیں طے کر رکھی ہیں۔

Verse 60 — Surah An-Nahl 16:60

بری بری باتیں تو انہی میں ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور اعلی درجے کی صفات صرف اللہ کی ہیں، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

Verse 61 — Surah An-Nahl 16:61

اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے (فورا) اپنی پکڑ میں لیتا تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو ایک معین وقت تک مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ معین وقت آجائے گا تو وہ گھڑی بھر بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکیں گے۔

Verse 62 — Surah An-Nahl 16:62

اور انہوں نے اللہ کے لیے وہ چیزیں گھڑ رکھی ہیں جنہیں خود ناپسند کرتے ہیں، پھر بھی ان کی زبانیں (اپنی) جھوٹی تعریف کرتی رہتی ہیں کہ ساری بھلائی انہی کے حصے میں ہے۔ لازمی بات ہے کہ (ایسے رویے کی وجہ سے) ان کے حصے میں تو دوزخ ہے، اور انہیں اسی میں پڑا رہنے دیا جائے گا۔

Verse 63 — Surah An-Nahl 16:63

(اے پیغمبر) اللہ کی قسم ! تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، ہم نے ان کے پاس پیغمبر بھیجے تھے، تو شیطان نے ان کے اعمال کو خوب بنا سنوار کر ان کے سامنے پیش کیا۔ چنانچہ وہی (شیطان) آج ان کا سرپرست بنا ہوا ہے اور (اس کی وجہ سے) ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

Verse 64 — Surah An-Nahl 16:64

اور ہم نے تم پر یہ کتاب اسی لیے اتاری ہے تاکہ تم ان کے سامنے وہ باتیں کھول کھول کر بیان کردو جن میں انہوں نے مختلف راستے اپنائے ہوئے ہیں، اور تاکہ یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہو۔

Verse 65 — Surah An-Nahl 16:65

اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، اور زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس میں جان ڈال دی۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو بات سنتے ہیں۔

Verse 66 — Surah An-Nahl 16:66

اور بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں بھی سوچنے کا بڑا سامان ہے، ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے اس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے۔

Verse 67 — Surah An-Nahl 16:67

اور کھجور کے پھلوں اور انگوروں سے بھی (ہم تمہیں ایک مشروب عطا کرتے ہیں) جس سے تم شراب بھی بناتے ہو، اور پاکیزہ رزق بھی بیشک اس میں بھی ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

Verse 68 — Surah An-Nahl 16:68

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ : تو پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور لوگ جو چھتریاں اٹھاتے ہیں ان میں اپنے گھر بنا۔

Verse 69 — Surah An-Nahl 16:69

پھر ہر قسم کے پھلوں سے اپنی خوراک حاصل کر، پھر ان راستوں پر چل جو تیرے رب نے تیرے لیے آسان بنا دیے ہیں۔ (اسی طرح) اس مکھی کے پیٹ سے وہ مختلف رنگوں والا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔

Verse 70 — Surah An-Nahl 16:70

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔

Verse 71 — Surah An-Nahl 16:71

اور اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں کو رزق کے معاملے میں دوسروں پر برتری دے رکھی ہے۔ اب جن لوگوں کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو اس طرح نہیں لوٹا دیتے کہ وہ سب برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ؟

Verse 72 — Surah An-Nahl 16:72

اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائی ہیں، اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے ہیں، اور تمہیں اچھی اچھی چیزوں میں سے رزق فراہم کیا ہے۔ کیا پھر بھی یہ لوگ بےبنیاد باتوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟

Verse 73 — Surah An-Nahl 16:73

اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں سے کسی طرح کا رزق دینے کا نہ کوئی اختیار رکھتی ہیں نہ رکھ سکتی ہیں۔

Verse 74 — Surah An-Nahl 16:74

لہذا تم اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو۔ بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

Verse 75 — Surah An-Nahl 16:75

اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔

Verse 76 — Surah An-Nahl 16:76

اور اللہ ایک اور مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا، اور اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں کہیں بھیجتا ہے، وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر کے نہیں لاتا، کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے ؟

Verse 77 — Surah An-Nahl 16:77

اور آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اور قیامت کا معاملہ آنکھ جھپکنے سے زیادہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے بھی جلدی۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

Verse 78 — Surah An-Nahl 16:78

اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔

Verse 79 — Surah An-Nahl 16:79

کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ وہ آسمان کی فضا میں اللہ کے حکم کے پابند ہیں ؟ انہیں اللہ کے سوا کوئی اور تھامے ہوئے نہیں ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہوں۔

Verse 80 — Surah An-Nahl 16:80

اور اس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جو تمہیں سفر پر روانہ ہوتے وقت اور کسی جگہ ٹھہرتے وقت ہلکے پھلکے محسوس ہوتے ہیں۔ اور ان کے اون، ان کے رویں اور ان کے بالوں سے گھریلو سامان اور ایسی چیزیں پیدا کیں جو ایک مدت تک تمہیں فائدہ پہنچاتی ہیں۔

Verse 81 — Surah An-Nahl 16:81

اور اللہ ہی نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لیے سائے پیدا کیے، اور پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گا ہیں بنائیں، اور تمہارے لیے ایسے لباس پیدا کیے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں، اور ایسے لباس جو تمہاری جنگ میں تمہیں محفوظ رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نعمتوں کو تم پر مکمل کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔

Verse 82 — Surah An-Nahl 16:82

پھر بھی اگر یہ (کافر) منہ موڑے رہیں تو (اے پیغمبر) تمہاری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ واضح طریقے پر پیغام پہنچا دو ۔

Verse 83 — Surah An-Nahl 16:83

یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں، پھر بھی ان کا انکار کرتے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔

Verse 84 — Surah An-Nahl 16:84

اور اس دن کو یاد رکھو جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے۔ پھر جن لوگوں نے کفر اپنایا تھا انہیں (عذر پیش کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی، اور نہ ان سے یہ فرمائش کی جائے گی کہ وہ توبہ کریں۔

Verse 85 — Surah An-Nahl 16:85

اور جب یہ ظالم عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو نہ ان سے اس عذاب کو ہلکا کیا جائے گا، اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

Verse 86 — Surah An-Nahl 16:86

اور جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تھا، جب وہ اپنے (گھڑے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! یہ ہیں ہمارے (بنائے ہوئے) وہ شریک جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے۔ اس موقع پر وہ (گھڑے ہوئے شریک) ان پر بات پھینک ماریں گے کہ : تم بالکل جھوٹے ہو۔

Verse 87 — Surah An-Nahl 16:87

اور وہ اس دن اللہ کے سامنے فرمانبرداری کے بول بولنے لگیں گے، اور جو بہتان وہ باندھا کرتے تھے اس کا انہیں کوئی سراغ نہیں ملے گا۔

Verse 88 — Surah An-Nahl 16:88

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا تھا، ان کے عذاب پر ہم مزید عذاب کا اضافہ کرتے رہیں گے، کیونکہ وہ فساد مچایا کرتے تھے۔

Verse 89 — Surah An-Nahl 16:89

اور وہ دن بھی یاد رکھو جب ہر امت میں ایک گواہ انہی میں سے کھڑا کریں گے اور (اے پیغمبر) ہم تمہیں ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کے لیے لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر یہ کتاب اتار دی ہے تاکہ وہ ہر بات کھول کھول کر بیان کردے، اور مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور خوشخبری کا سامان ہو۔

Verse 90 — Surah An-Nahl 16:90

بیشک اللہ انصاف کا، احسان کا، اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی، بدی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

Verse 91 — Surah An-Nahl 16:91

اور جب تم نے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو، جبکہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو، یقینا اللہ اسے جانتا ہے۔

Verse 92 — Surah An-Nahl 16:92

اور جس عورت نے اپنے سوت کو مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ادھیڑ کرتار تار کردیا تھا، اس جیسے نہ بن جانا کہ تم بھی اپنی قسموں کو (توڑ کر) آپس کے فساد کا ذریعہ بنانے لگو، صرف اس لیے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ فائدے حاصل کرلیں۔ اللہ اس کے ذریعے تمہاری آزمائش کر رہا ہے۔ اور قیامت کے دن وہ تمہیں وہ باتیں ضرور کھول کر بتادے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

Verse 93 — Surah An-Nahl 16:93

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت (یعنی ایک ہی دین کا پیرو) بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔

Verse 94 — Surah An-Nahl 16:94

اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ نہ بناؤ، جس کے نتیجے میں کسی (اور) کا پاؤں جمنے کے بعد پھسل جائے ، پھر تمہیں (اس کو) اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے بری سزا چکھنی پڑے، اور تمہیں (ایسی صورت میں) بڑا عذاب ہوگا۔

Verse 95 — Surah An-Nahl 16:95

اور اللہ کے عہد کو تھوڑ سی قیمت میں نہ بیچ ڈالو۔ اگر تم حقیقت سمجھو تو جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

Verse 96 — Surah An-Nahl 16:96

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا ہم انہیں ان کے بہترین کاموں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

Verse 97 — Surah An-Nahl 16:97

جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

Verse 98 — Surah An-Nahl 16:98

چنانچہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔

Verse 99 — Surah An-Nahl 16:99

اس کا بس ایسے لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

Verse 100 — Surah An-Nahl 16:100

اس کا بس تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے دوست بناتے ہیں، اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

Verse 101 — Surah An-Nahl 16:101

اور جب ہم ایک آیت کو دوسری آیت سے بدلتے ہیں۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ (کافر) کہتے ہیں کہ : تم تو اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ہو۔ حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت کا علم نہیں رکھتے۔

Verse 102 — Surah An-Nahl 16:102

کہہ دو کہ : یہ (قرآن کریم) تو روح القدس (یعنی جبریل علیہ السلام) تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک لے کر آئے ہیں، تاکہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے، اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری کا سامان ہو۔

Verse 103 — Surah An-Nahl 16:103

اور (اے پیغمبر) ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ (تمہارے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : ان کو تو ایک انسان سکھاتا پڑھاتا ہے۔ (حالانکہ) جس شخص کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس کی زبان عجمی ہے۔ اور یہ (قرآن کی زبان) صاف عربی زبان ہے

Verse 104 — Surah An-Nahl 16:104

جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے، ان کو اللہ ہدایت پر نہیں لاتا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Verse 105 — Surah An-Nahl 16:105

اللہ پر جھوٹ تو (پیغمبر نہیں) وہ لوگ باندھتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے، اور وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔

Verse 106 — Surah An-Nahl 16:106

جو شخص اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرے، وہ نہیں جسے زبردستی (کفر کا کلمہ کہنے پر) مجبور کردیا گیا ہو، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، بلکہ وہ شخص جس نے اپنا سینہ کفر کے لیے کھول دیا ہو۔ تو ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے غضب نازل ہوگا، اور ان کے لیے زبردست عذاب تیار ہے۔

Verse 107 — Surah An-Nahl 16:107

یہ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں زیادہ محبوب سمجھا، اور اس لیے کہ اللہ ایسے ناشکرے لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچایا کرتا۔

Verse 108 — Surah An-Nahl 16:108

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے، اور یہی لوگ ہیں جو (اپنے انجام سے) بالکل غافل ہیں۔

Verse 109 — Surah An-Nahl 16:109

لازمی بات یہ ہے کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔

Verse 110 — Surah An-Nahl 16:110

پھر یقین جانو تمہارے پروردگار کا معاملہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے فتنے میں مبتلا ہونے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور صبر سے کام لیا تو ان باتوں کے بعد تمہارا پروردگار یقینا بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 111 — Surah An-Nahl 16:111

یہ سب کچھ اس دن ہوگا جب ہر شخص اپنے دفاع کی باتیں کرتا ہوا آئے گا اور ہر ہر شخص کو اس کے سارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

Verse 112 — Surah An-Nahl 16:112

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا۔

Verse 113 — Surah An-Nahl 16:113

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تھا، مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا، چنانچہ جب انہوں نے ظلم اپنا لیا تو ان کو عذاب نے آپکڑا۔

Verse 114 — Surah An-Nahl 16:114

لہذا اللہ نے جو حلال پاکیزہ چیزیں تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں، انہیں کھاؤ، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرتے ہو۔

Verse 115 — Surah An-Nahl 16:115

اس نے تو تمہارے لیے بس مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ البتہ جو شخص بھوک سے بالکل بےتاب ہو، لذت حاصل کرنے کے لیے نہ کھائے، اور (ضرورت کی) حد سے آگے نہ بڑھے تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 116 — Surah An-Nahl 16:116

اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں جھوٹی باتیں بناتی ہیں، ان کے بارے میں یہ مت کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو گے۔ یقین جانو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔

Verse 117 — Surah An-Nahl 16:117

(دنیا میں) انہیں جو عیش حاصل ہے، وہ بہت تھوڑا سا ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

Verse 118 — Surah An-Nahl 16:118

اور یہودیوں کے لیے ہم نے وہ چیزیں حرام کی تھیں جن کا تذکرہ ہم تم سے پہلے ہی کرچکے ہیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔

Verse 119 — Surah An-Nahl 16:119

پھر بھی تمہارا رب ایسا ہے کہ جن لوگوں نے نادانی میں برائی کا ارتکاب کرلیا اور اس کے بعد توبہ کرلی، اور اپنی اصلاح کرلی تو ان سب باتوں کے بعد بھی تمہارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 120 — Surah An-Nahl 16:120

بیشک ابراہیم ایسے پیشوا تھے جنہوں نے ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ کی فرمانبرداری اختیار کرلی تھی، اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔

Verse 121 — Surah An-Nahl 16:121

وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اس نے انہیں چن لیا تھا، اور ان کو سیدھے راستے تک پہنچا دیا تھا۔

Verse 122 — Surah An-Nahl 16:122

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بھلائی دی تھی، اور آخرت میں تو یقینا ان کا شمار صالحین میں ہے۔

Verse 123 — Surah An-Nahl 16:123

پھر (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی وحی کے ذریعے یہ حکم نازل کیا ہے کہ تم ابراہیم کے دین کی پیروی کرو جس نے اپنا رخ اللہ ہی کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

Verse 124 — Surah An-Nahl 16:124

سینچر کے دن کے احکام تو ان لوگوں پر لازم کیے گئے تھے جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ اور یقین رکھو کہ تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں لوگ اختلاف کیا کرتے تھے۔

Verse 125 — Surah An-Nahl 16:125

اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقینا تمہارا پروردگار ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راہ راست پر قائم ہیں۔

Verse 126 — Surah An-Nahl 16:126

اور اگر تم لوگ (کسی کے ظلم کا) بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی تھی۔ اور اگر صبر ہی کرلو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت بہتر ہے۔

Verse 127 — Surah An-Nahl 16:127

اور (اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ اور ان (کافروں) پر صدمہ نہ کرو، اور جو مکاریاں یہ لوگ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے تنگ دل نہ ہو۔

Verse 128 — Surah An-Nahl 16:128

یقین رکھو کہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔