کہ ان کے دل فضولیات میں منہمک ہوتے ہیں۔ اور یہ ظالم چپکے چپکے (ایک دوسرے سے) سرگوشی کرتے ہیں کہ : یہ شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہی جیسا ایک انسان نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا پھر بھی تم سوجھتے بوجھتے جادو کی بات سننے جاؤ گے ؟
یہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ : یہ (قرآن) بےجوڑ خوابوں کا مجموعہ ہے، بلکہ یہ ان صاحب نے خود گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ ایک شاعر ہیں۔ بھلا یہ ہمارے سامنے کوئی نشانی تو لے آئیں جیسے پچھلے پیغمبر (نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے۔
اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی اور کو نہیں، آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ لہذا (کافروں سے کہو کہ) اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو نصیحت کا علم رکھنے والوں سے پوچھ لو۔
پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچا کر دکھایا کہ ان کو بھی بچا لیا، اور (ان کے علاوہ) جن کو ہم نے چاہا ان کو بھی، اور جو لوگ حد سے گزر چکے تھے، انہیں ہلاک کردیا۔
بلکہ ہم تو حق بات کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں، جو اس کا سر توڑ ڈالتا ہے، اور وہ ایک دم مل یا میٹ ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان کی وجہ سے خرابی تمہاری ہی ہے۔
بھلا کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا رکھے ہیں ؟ (اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : لاؤ اپنی دلیل ! یہ (قرآن) بھی موجود ہے جس میں میرے ساتھ والوں کے لیے نصیحت ہے، اور وہ (کتابیں) بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق بات کا یقین نہیں کرتے، اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ سارے آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے انہیں کھول دیا۔ اور پانی سے ہر جاندار چیز پیدا کی ہے ؟ کیا پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے ؟
اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں ؟
اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے، وہ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو اس کے سوا ان کا کوئی کام نہیں ہوتا کہ وہ تمہارا مذاق بنانے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں) کیا یہی صاحب ہیں جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتے ہیں ؟ (یعنی یہ کہتے ہیں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں) حالانکہ ان (کافروں) کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن ہی کا ذکر کرنے سے انکار کیے بیٹھے ہیں۔
بھلا کیا ان کے پاس ہمارے سوا کوئی ایسے خدا ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہوں ؟ وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہمارے مقابلے میں کوئی ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔
بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباؤاجداد کو سامان عیش عطا کیا، یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان پر ایک عمر گزر گئی۔ بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو اس کے مختلف کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ پھر کیا وہ غالب آجائیں گے ؟
اور ہم قیامت کے دن ایسی ترازویں لا رکھیں گے جو سراپا انصاف ہوں گی، چنانچہ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا، تو ہم اسے سامنے لے آئیں گے، اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں۔
ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے، جس نے یہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں، اور لوگو میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔
اور ان سب کو ہم نے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور ہم نے وحی کے ذریعے انہیں نیکیاں کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید کی تھی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔
اور نوح کو بھی (ہم نے حکمت اور علم عطا کیا) وہ وقت یاد کرو جب اس واقعے سے پہلے انہوں نے ہمیں پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی بھاری مصیبت سے بچا لیا۔
اور داؤد اور سلیمان (کو بھی ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا) جب وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے کا فیصلہ کر رہے تھے، کیونکہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت اس کھیت میں جا گھسی تھیں۔ اور ان لوگوں کے بارے میں جو فیصلہ ہوا اسے ہم خود دیکھ رہے تھے۔
چنانچہ اس فیصلے کی سمجھ ہم نے سلیمان کو دے دی، اور (ویسے) ہم نے دونوں ہی کو حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو تابع دار بنادیا تھا کہ وہ پرندوں کو ساتھ لے کر تسبیح کریں۔ اور یہ سارے کام کرنے والے ہم تھے۔
اور ہم نے انہیں تمہارے فائدے کے لیے ایک جنگی لباس (یعنی زرہ) بنانے کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تمہیں لڑائی میں ایکد وسرے کی زد سے بچائیں۔ اب بتاؤ کہ کیا تم شکر گزار ہو ؟
اور ہم نے تیز چلتی ہوئی ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ اور ہمیں ہر ہر بات کا پورا پورا علم ہے۔
اور کچھ ایسے شریر جنات بھی ہم نے ان کے تابع کردئیے تھے جو ان کی خاطر پانی میں غوطے لگاتے تھے۔ اور اس کے سوا اور بھی کام کرتے تھے۔ اور ان سب کی دیکھ بھال کرنے والے ہم تھے۔
پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور انہیں جو تکلیف لاحق تھی، اسے دور کردیا اور ان کو ان کے گھر والے بھی دیے، اور ان کے ساتھ اتنے ہی لوگ اور بھی تاکہ ہماری طرف سے رحمت کا مظاہرہ ہو، اور عبادت کرنے والوں کو ایک یادگار سبق ملے۔
اور مچھلی والے (پیغمبر یعنی یونس (علیہ السلام)) کو دیکھو ! جب وہ خفا ہو کر چل کھڑے ہوئے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم ان کی کوئی پکڑ نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے اندھیریوں میں سے آواز لگائی کہ : (یا اللہ !) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک میں قصور وار ہوں۔
چنانچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور ان کو یحی (جیسا بیٹا) عطا کیا، اور ان کی خاطر ان کی بیوی کو اچھا کردیا، یقینا یہ لوگ بھلائی کے کاموں میں تیزی دکھاتے تھے، اور ہمیں شوق اور رعب کے عالم میں پکارا کرتے تھے، اور ان کے دل ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔
اور اس خاتون کو دیکھو جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی، اور انہیں اور ان کے بیٹے کو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادیا۔
(لوگو) یقین رکھو کہ یہ (دین جس کی یہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں) تمہارا دین ہے جو ایک ہی دین ہے، اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ لہذا تم میری عبادت کرو۔
اور سچا وعدہ پورا ہونے کا وقت قریب آجائے گا تو اچانک حالت یہ ہوگی کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی (اور وہ کہیں گے کہ :) ہائے ہماری کم بختی ! ہم اس چیز سے بالکل ہی غفلت میں تھے، بلکہ ہم نے بڑے ستم ڈھائے تھے۔
ان کو وہ (قیامت کی) سب سے بڑی پریشانی غمگین نہیں کرے گی، اور فرشتے ان کا (یہ کہہ کر) استقبال کریں گے (کہ) یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
اس دن (کا دھیان رکھو) جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے کاغذوں کے طومار میں تحریریں لپیٹ دی جاتی ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلے بار تخلیق کی ابتدا کی تھی، اسی طرح ہم اسے دوبارہ پیدا کردیں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنے کا ہم نے ذمہ لیا ہے۔ ہمیں یقینا یہ کام کرنا ہے۔
پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ : میں نے تمہیں علی الاعلان خبردار کردیا ہے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ جس (سزا) کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے، وہ قریب ہے یا دور۔
(آخرکار) پیغمبر نے کہا کہ : اے میرے پروردگار ! حق کا فیصلہ کردیجیے، اور ہمارا پروردگار بڑٰی رحمت والا ہے، اور جو باتیں تم بناتے ہو، ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔