Back to Languages

Urdu - Chapter 22 - Al-Hajj

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Hajj 22:1

اے لوگو ! اپنے پروردگار (کے غضب) سے ڈرو۔ یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔

Verse 2 — Surah Al-Hajj 22:2

جس دن وہ تمہیں نظر آجائے گا اس دن ہر دودھ پلانے والی اس بچے (تک) کو بھول بیٹھے گی، جس کو اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا بیٹھے گی، اور لوگ تمہیں یوں نظر آئیں گے کہ وہ نشے میں بدحواس ہیں، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔

Verse 3 — Surah Al-Hajj 22:3

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بےجانے بوجھے جھگڑے کرتے ہیں، اور اس سرکش شیطان کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں۔

Verse 4 — Surah Al-Hajj 22:4

جس کے مقدر میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اسے دوست بنائے گا تو وہ اس کو گمراہ کرے گا، اور اسے بھڑکتی دوزخ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔

Verse 5 — Surah Al-Hajj 22:5

اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو (ذرا سوچو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو (کبھی) پورا بن جاتا ہے، اور (کبھی) پورا نہیں بنتا تاکہ ہم تمہارے لیے (تمہاری) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم (تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچے کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر (تمہیں پالتے ہیں) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو (پہلے ہی) دنیا سے اٹھالیے جاتے ہیں اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بدترین عمر (یعنی انتہائی بڑھاپے) تک لوٹا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین مرجھائی ہوئی پڑی ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے، اس میں بڑھوتری ہوتی ہے، اور وہ ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگاتی ہے۔

Verse 6 — Surah Al-Hajj 22:6

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی کا وجود برحق ہے، اور وہی بےجانوں میں جان ڈالتا ہے، اور وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔

Verse 7 — Surah Al-Hajj 22:7

اور اس لیے کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، جس میں کوئی شک نہیں ہے، اور اس لیے کہ اللہ ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔

Verse 8 — Surah Al-Hajj 22:8

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑے کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے نہ ہدایت، اور نہ کوئی روشنی دینے والی کتاب۔

Verse 9 — Surah Al-Hajj 22:9

وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

Verse 10 — Surah Al-Hajj 22:10

(کہ) یہ سب کچھ تیرے اس کرتوت کا بدلہ ہے جو تو نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم ڈھانے والا نہیں ہے۔

Verse 11 — Surah Al-Hajj 22:11

اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر اسے (دنیا میں) کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اس سے مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آگئی تو وہ منہ موڑ کر (پھر کفر کی طرف) چل دیتا ہے۔ ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی، اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔

Verse 12 — Surah Al-Hajj 22:12

وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں، نہ کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Hajj 22:13

یہ ایسے (جھوٹے خدا) کو پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا مددگار بھی کتنا برا ہے، اور ایسا ساتھی بھی کتنا برا۔

Verse 14 — Surah Al-Hajj 22:14

جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ یقینا ان کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یقینا اللہ ہر وہ کام کرتا ہے جس کا ارادہ کرلیتا ہے۔

Verse 15 — Surah Al-Hajj 22:15

جو شخص یہ سمجھتا تھا کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس (پیغمبر) کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تان کر رابطہ کاٹ ڈالے، پھر دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کی جھنجلاہٹ دور کرسکتی ہے ؟

Verse 16 — Surah Al-Hajj 22:16

اور ہم نے اس (قرآن) کو کھلی کھلی نشانیوں کی صورت میں اسی طرح اتارا ہے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔

Verse 17 — Surah Al-Hajj 22:17

بلاشبہ مومن ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا نصرانی اور مجوسی، یا وہ جنہوں نے شرک اختیار کیا ہے، اللہ قیامت کے دن ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

Verse 18 — Surah Al-Hajj 22:18

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے آگے وہ سب سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور وہ سب جو زمین میں ہیں۔ نیز سورج اور چاند، اور ستارے اور پہاڑ، اور درخت اور جانور، اور بہت سے انسان بھی۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر عذاب طے ہوچکا ہے۔ اور جسے اللہ ذلیل کردے، کوئی نہیں ہے جو اسے عزت دے سکے۔ یقینا اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

Verse 19 — Surah Al-Hajj 22:19

یہ (مومن اور کافر) دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کیا ہے۔ اب (اس کا فیصلہ اس طرح ہوگا کہ) جن لوگوں نے کفر اپنا یا ہے، ان کے لیے آگ کے کپڑے تراشے جائیں گے، ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی چھوڑا جائے گا۔

Verse 20 — Surah Al-Hajj 22:20

جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔

Verse 21 — Surah Al-Hajj 22:21

اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔

Verse 22 — Surah Al-Hajj 22:22

جب کبھی تکلیف سے تنگ آکر وہ اس سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں پھر اسی میں لوٹا دیا جائے گا، کہ چکھو جلتی آگ کا مزہ۔

Verse 23 — Surah Al-Hajj 22:23

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں، اللہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے سجایا جائے گا، اور جہاں ان کا لباس ریشم ہوگا۔

Verse 24 — Surah Al-Hajj 22:24

اور (وجہ یہ ہے کہ) ان لوگوں کی رسائی پاکیزہ بات (یعنی کلمہ توحید) تک ہوگئی تھی، اور وہ اس خدا کے راستے تک پہنچ گئے تھے جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔

Verse 25 — Surah Al-Hajj 22:25

بیشک وہ لوگ (سزا کے لائق ہیں) جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے اور جو دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے ایسا بنایا ہے کہ اس میں وہاں کے باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ اور جو کوئی شخص اس میں ظلم کر کے ٹیڑھی راہ نکالے گا، ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

Verse 26 — Surah Al-Hajj 22:26

اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر (یعنی خانہ کعبہ) کی جگہ بتادی تھی۔ (اور یہ ہدایت دی تھی کہ) میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اور میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک رکھنا جو (یہاں) طواف کریں، اور عبادت کے لیے کھڑے ہوں، اور رکوع سجدے بجا لائیں۔

Verse 27 — Surah Al-Hajj 22:27

اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔

Verse 28 — Surah Al-Hajj 22:28

تاکہ وہ ان فوائد کو آنکھوں سے دیکھیں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور متعین دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کیے ہیں۔ چنانچہ (مسلمانو) ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاؤ۔

Verse 29 — Surah Al-Hajj 22:29

پھر (حج کرنے والے) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی منتیں پوری کریں، اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔

Verse 30 — Surah Al-Hajj 22:30

یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص ان چیزوں کی تعظیم کرے گا جن کو اللہ نے حرمت دی ہے تو اس کے حق میں یہ عمل اس کے پروردگار کے نزدیک بہت بہتر ہے۔ سارے مویشی تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں، سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل تمہیں پڑھ کر سنا دی گئی ہے۔ لہذا بتوں کی گندگی اور جھوٹٰ بات سے اس طرح بچ کر رہو۔

Verse 31 — Surah Al-Hajj 22:31

کہ تم یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانتے ہو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں، یا ہوا اسے کہیں دور دراز کی جگہ لا پھینکے۔

Verse 32 — Surah Al-Hajj 22:32

یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔

Verse 33 — Surah Al-Hajj 22:33

تمہیں ایک معین وقت تک ان (جانوروں سے) فوائد حاصل کرنے کا حق ہے۔ پھر ان کے حلال ہونے کی منزل اسی قدیم گھر (یعنی خانہ کعبہ) کے آس پاس ہے۔

Verse 34 — Surah Al-Hajj 22:34

اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ لہذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ تم اسی کی فرمانبرداری کرو، اور خوشخبردی سنا دو ان لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔

Verse 35 — Surah Al-Hajj 22:35

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دلوں پر رعب طاری ہوجاتا ہے، اور جو اپنے اوپر پڑنے والی ہر مصیبت پر صبر کرنے والے ہیں، اور نماز قائم کرنے والے ہیں، اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں۔

Verse 36 — Surah Al-Hajj 22:36

اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے۔ چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں، ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب (ذبح ہوکر) ان کے پہلو زمین پر گرجائیں تو ان (کے گوشت) میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ جو صبر سے بیٹھے ہوں، اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں۔ اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنادیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

Verse 37 — Surah Al-Hajj 22:37

اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے، اس نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دئیے ہیں تاکہ تم اس بات پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی، اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں، انہیں خوشخبری سنا دو ۔

Verse 38 — Surah Al-Hajj 22:38

بیشک اللہ ان لوگوں کا دفاع کرے گا جو ایمان لے آئے ہیں، یقین جانو کہ اللہ کسی دغا باز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔

Verse 39 — Surah Al-Hajj 22:39

جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔

Verse 40 — Surah Al-Hajj 22:40

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔

Verse 41 — Surah Al-Hajj 22:41

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔

Verse 42 — Surah Al-Hajj 22:42

اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم، اور عاد وثمود کی قومیں بھی (اپنے اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں۔

Verse 43 — Surah Al-Hajj 22:43

نیز ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم۔

Verse 44 — Surah Al-Hajj 22:44

اور مدین کے لوگ بھی، اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا تھا، چنانچہ ان کافروں کو میں نے کچھ ڈھیل دی، پھر انہیں پکڑ میں لے لیا، اب دیکھ لو کہ میری پکڑ کیسی تھی۔

Verse 45 — Surah Al-Hajj 22:45

غرض کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ظلم کر رہی تھیں، چنانچہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں، اور کتنے ہی کنویں جو اب بیکار ہوئے پڑے ہیں، اور کتنے پکے بنے ہوئے محل (جو کھنڈر بن چکے ہیں) ۔

Verse 46 — Surah Al-Hajj 22:46

تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں جس سے انہیں وہ دل حاصل ہوتے جو انہیں سمجھ دے سکتے، یا ایسے کان حاصل ہوتے جن سے وہ سن سکتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

Verse 47 — Surah Al-Hajj 22:47

اور یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا، اور یقین جانو کہ تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے۔

Verse 48 — Surah Al-Hajj 22:48

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جنہیں میں نے مہلت دی تھی، اور وہ ظلم کرتی رہیں، پھر میں نے انہیں پکڑ میں لے لیا، اور سب کو آخر کار میرے پاس ہی لوٹنا ہوگا۔

Verse 49 — Surah Al-Hajj 22:49

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اے لوگو ! میں تو تمہیں وضاحت کے ساتھ خبردار کرنے والا ہوں۔

Verse 50 — Surah Al-Hajj 22:50

پھر جو لوگ ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرنے لگے، تو ان کے لیے مغفرت ہے، اور باعزت رزق ہے۔

Verse 51 — Surah Al-Hajj 22:51

اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کی ہے، تو وہ دوزخ کے باسی ہیں۔

Verse 52 — Surah Al-Hajj 22:52

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے جب بھی کوئی رسول یا نبی بھیجا تو اس کے ساتھ یہ واقعہ ضرور ہوا کہ جب اس نے (اللہ کا کلام) پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی (کفار کے دلوں میں) کوئی رکاوٹ ڈال دی، پھر جو رکاوٹ شیطان ڈالتا ہے، اللہ اسے دور کردیتا ہے، پھر اپنی آیتوں کو زیادہ مضبوط کردیتا ہے، اور اللہ بڑے علم کا، بڑی حکمت کا مالک ہے۔

Verse 53 — Surah Al-Hajj 22:53

یہ (شیطان نے رکاوٹ اس لیے ڈالی) تاکہ جو رکاوٹ شیطان نے ڈالی تھی، اللہ اسے ان لوگوں کے لیے فتنہ بنا دے جن کے دلوں میں روگ ہے، اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور یقین جانو کہ یہ ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور چلے گئے ہیں۔

Verse 54 — Surah Al-Hajj 22:54

اور (اس رکاوٹ کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے دور کیا) تاکہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے، وہ جان لیں کہ یہی (کلام) برحق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، پھر وہ اس پر ایمان لائیں، اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں، اور یقین رکھو کہ اللہ ایمان والوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دینے والا ہے۔

Verse 55 — Surah Al-Hajj 22:55

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس (کلام) کی طرف سے برابر شک ہی میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے، یا ایسے دن کا عذاب ان تک آپہنچے جو (ان کے لیے) کسی بھلائی کو جنم دینے کی صلاحیت سے خالی ہوگا۔

Verse 56 — Surah Al-Hajj 22:56

بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، وہ نعمتوں کے باغات میں ہوں گے۔

Verse 57 — Surah Al-Hajj 22:57

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، تو ایسے لوگوں کے لیے ذلت والا عذاب ہوگا۔

Verse 58 — Surah Al-Hajj 22:58

اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، پھر قتل کردیے گئے یا ان کا انتقال ہوگیا تو اللہ انہیں ضرور اچھا رزق دے گا، اور یقین رکھو کہ اللہ ہی بہترین رزق دینے والا ہے۔

Verse 59 — Surah Al-Hajj 22:59

وہ انہیں ضرور ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے، اور اللہ یقینا ہر بات جاننے والا، بڑا بردبار ہے۔

Verse 60 — Surah Al-Hajj 22:60

یہ بات طے ہے اور (آگے یہ بھی سن لو کہ) جس شخص نے کسی کو بدلے میں اتنی ہی تکلیف پہنچائی جتنی اس کو پہنچائی گئی تھی، اس کے بعد پھر اس سے زیادتی کی گئی، تو اللہ اس کی ضرور مدد کرے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔

Verse 61 — Surah Al-Hajj 22:61

یہ اس لیے کہ اللہ (کی قدرت اتنی بڑی ہے کہ وہ) رات کو دن میں داخل کردیتا اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ اور اس لیے کہ اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔

Verse 62 — Surah Al-Hajj 22:62

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی وہ ہے جس کی شان بھی اونچی ہے، رتبہ بھی بڑا۔

Verse 63 — Surah Al-Hajj 22:63

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، جس سے زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا مہربان، ہر بات سے باخبر ہے۔

Verse 64 — Surah Al-Hajj 22:64

جو کچھ آسمانوں میں ہے، اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ اور یقین رکھو کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

Verse 65 — Surah Al-Hajj 22:65

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین کی ساری چیزیں تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، اور وہ کشتیاں بھی جو اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہیں ؟ اور اس نے آسمان کو اس طرح تھام رکھا ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 66 — Surah Al-Hajj 22:66

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر وہ تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے۔

Verse 67 — Surah Al-Hajj 22:67

ہم نے ہر امت کے لوگوں کے لیے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں۔ لہذا (اے پیغمبر) لوگوں کو تم سے اس معاملے میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور تم اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیتے رہو۔ تم یقینا سیدھے راستے پر ہو۔

Verse 68 — Surah Al-Hajj 22:68

اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

Verse 69 — Surah Al-Hajj 22:69

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

Verse 70 — Surah Al-Hajj 22:70

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کے علم میں ہیں ؟ یہ سب باتیں ایک کتاب میں محفوظ ہیں۔ بیشک یہ سارے کام اللہ کے لیے بہت آسان ہیں۔

Verse 71 — Surah Al-Hajj 22:71

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن (کے معبود ہونے) کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور خود ان لوگوں کو بھی اس کے بارے میں کوئی علم حاصل نہیں۔ اور ان ظالموں کا (آخرت میں) کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

Verse 72 — Surah Al-Hajj 22:72

اور جب ان کو ہماری آیتیں اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری کے اثرات صاف پہچان لیتے ہو، ایسا لگتا ہے کہ یہ ان لوگوں پر حملہ کردیں گے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ کہہ دو کہ : لوگو ! کیا میں تمہیں ایسی چیز بتلا دوں جو اس سے زیادہ ناگوار ہے ؟ آگ ! اللہ نے کافروں سے اس کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

Verse 73 — Surah Al-Hajj 22:73

لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے اب اسے کان لگا کر سنو ! تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکٹھے ہوجائیں، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ایسا دعا مانگنے والا بھی بودا اور جس سے دعا مانگی جارہی ہے وہ بھی۔

Verse 74 — Surah Al-Hajj 22:74

ان لوگوں نے اللہ کی ٹھیک ٹھیک قدر ہی نہیں پہچانی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ قوت کا بھی مالک ہے، اقتدار کا بھی مالک۔

Verse 75 — Surah Al-Hajj 22:75

اللہ فرشتوں میں سے بھی اپنا پیغام پہنچانے والے منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ یقینا اللہ ہر بات سنتا ہر چیز دیکھتا ہے۔

Verse 76 — Surah Al-Hajj 22:76

وہ ان کے آگے اور پیچھے کی ساری باتوں کو جانتا ہے، اور اللہ ہی پر تمام معاملات کا دارومدار ہے۔

Verse 77 — Surah Al-Hajj 22:77

اے ایمان والو ! رکوع کرو، اور سجدہ کرو، اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو، اور بھلائی کے کام کرو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

Verse 78 — Surah Al-Hajj 22:78

اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں (اپنے دین کے لیے) منتخب کرلیا ہے، اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، اس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا، اور اس (قرآن) میں بھی، تاکہ یہ رسول تمہارے لیے گواہ بنیں، اور تم دوسرے لوگوں کے لیے گواہ بنو۔ لہذا نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہ تمہارا رکھوالا ہے، دیکھو، کتنا اچھا رکھوالا، اور کتنا اچھا مددگار۔