Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 23 - Al-Muminun
Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink
Verse 1 — Surah Al-Muminun 23:1
ان ایمان والوں نے یقینا فلاح پالی ہے۔
Verse 2 — Surah Al-Muminun 23:2
جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔
Verse 3 — Surah Al-Muminun 23:3
اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
Verse 4 — Surah Al-Muminun 23:4
اور جو زکوٰۃ پر عمل کرنے والے ہیں۔
Verse 5 — Surah Al-Muminun 23:5
اور جو اپنی شرمگاہوں کی (اور سب سے) حفاظت کرتے ہیں۔
Verse 6 — Surah Al-Muminun 23:6
سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں۔ کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔
Verse 7 — Surah Al-Muminun 23:7
ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔
Verse 8 — Surah Al-Muminun 23:8
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔
Verse 9 — Surah Al-Muminun 23:9
اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں۔
Verse 10 — Surah Al-Muminun 23:10
یہ ہیں وہ وارث۔
Verse 11 — Surah Al-Muminun 23:11
جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Verse 12 — Surah Al-Muminun 23:12
اور ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا۔
Verse 13 — Surah Al-Muminun 23:13
پھر ہم نے اسے ٹپکی ہوئی بوند کی شکل میں ایک محفوظ جگہ پر رکھا۔
Verse 14 — Surah Al-Muminun 23:14
پھر ہم نے اس بوند کو جمے ہوئے خون کی شکل دے دی، پھر اس جمے ہوئے خون کو ایک لوتھڑا بنادیا، پھر اس لوتھڑے کو ہڈیوں میں تبدیل کردیا، پھر ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنایا، پھر اسے ایسی اٹھان دی کہ وہ ایک دوسری ہی مخلوق بن کر کھڑا ہوگیا۔ غرض بڑی شان ہے اللہ کی جو سارے کاریگروں سے بڑھ کر کاریگر ہے۔
Verse 15 — Surah Al-Muminun 23:15
پھر اس سب کے بعد تمہیں یقینا موت آنے والی ہے۔
Verse 16 — Surah Al-Muminun 23:16
پھر قیامت کے دن تمہیں یقینا دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
Verse 17 — Surah Al-Muminun 23:17
اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہہ بر تہہ راستے پیدا کیے ہیں اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔
Verse 18 — Surah Al-Muminun 23:18
اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا، اور یقین رکھو، ہم اسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں۔
Verse 19 — Surah Al-Muminun 23:19
پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے جن سے تمہیں بہت سے میوے حاصل ہوتے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے ہو۔
Verse 20 — Surah Al-Muminun 23:20
اور وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے جو اپنے ساتھ تیل لے کر اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔
Verse 21 — Surah Al-Muminun 23:21
اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بڑی نصیحت کا سامان ہے جو (دودھ) ان کے پیٹ میں ہے، اس سے ہم تمہیں سیراب کرتے ہیں، اور ان میں تمہارے لیے بہت سے فوائد ہیں، اور انہی سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔
Verse 22 — Surah Al-Muminun 23:22
اور انہی پر اور کشتیوں پر تمہیں سوار بھی کیا جاتا ہے۔
Verse 23 — Surah Al-Muminun 23:23
اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ انہوں نے (قوم سے) کہا کہ : میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، بھلا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 24 — Surah Al-Muminun 23:24
اس پر ان کی قوم کے کافر سرداروں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر اپنی برتری جمانا چاہتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا۔ یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی۔
Verse 25 — Surah Al-Muminun 23:25
(رہا یہ شخص، تو) یہ اور کچھ نہیں ایک ایسا آدمی ہے جسے جنون لاحق ہوگیا ہے، اس لیے کچھ وقت تک اس کا انتظار کر کے دیکھ لو (کہ شاید اپنے حواس میں آجائے)
Verse 26 — Surah Al-Muminun 23:26
نوح نے کہا : یا رب ! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔
Verse 27 — Surah Al-Muminun 23:27
چنانچہ ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ : تم ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے، اور تنور ابل پڑے۔ تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اسے بھی اس کشتی میں سوار کرلینا۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی حکم صادر ہوچکا ہے۔ اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، یہ بات طے ہے کہ یہ سب غرق کیے جائیں گے۔
Verse 28 — Surah Al-Muminun 23:28
پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں ٹھیک ٹھیک بیٹھ چکیں تو کہنا : شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی۔
Verse 29 — Surah Al-Muminun 23:29
اور کہنا : یارب ! مجھے ایسا اترنا نصیب کر جو برکت والا ہو، اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔
Verse 30 — Surah Al-Muminun 23:30
اس سارے واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں، اور یقینی بات ہے کہ ہمیں آزمائش تو کرنی ہی کرنی تھی۔
Verse 31 — Surah Al-Muminun 23:31
پھر ان کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔
Verse 32 — Surah Al-Muminun 23:32
اور ان کے درمیان انہی میں کے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ (جس نے کہا) کہ : اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ بھلا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
Verse 33 — Surah Al-Muminun 23:33
ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اور جنہوں نے آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا تھا، اور جن کو ہم نے دنیوی زندگی میں خوب عیش دے رکھا تھا، انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے۔ جو چیز تم کھاتے ہو، یہ بھی کھاتا ہے، اور جو تم پیتے ہو، یہ بھی پیتا ہے۔
Verse 34 — Surah Al-Muminun 23:34
اور اگر کہیں تم نے اپنے ہی جیسے ایک انسان کی فرمانبرداری قبول کرلی تو تم بڑے ہی گھاٹے کا سودا کرو گے۔
Verse 35 — Surah Al-Muminun 23:35
بھلا بتاؤ یہ شخص تمہیں ڈراتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے، اور مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجاؤ گے تو تمہیں دوبارہ زمین سے نکالا جائے گا ؟
Verse 36 — Surah Al-Muminun 23:36
جس بات سے تمہیں ڈرایا جارہا ہے وہ تو بہت ہی بعید بات ہے، سمجھ سے بالکل ہی دور۔
Verse 37 — Surah Al-Muminun 23:37
زندگی تو ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا کوئی اور نہیں ہے (یہیں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔
Verse 38 — Surah Al-Muminun 23:38
(رہا یہ شخص، تو) یہ اور کچھ نہیں، ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑا ہے، اور ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Verse 39 — Surah Al-Muminun 23:39
پیغمبر نے کہا : یا رب ! ان لوگوں نے مجھے جس طرح جھوٹا بنایا ہے، اس پر تو ہی میری مدد فرما۔
Verse 40 — Surah Al-Muminun 23:40
اللہ نے فرمایا : اب تھوڑی ہی دیر کی بات ہے کہ یہ لوگ پچھتاتے رہ جائیں گے۔
Verse 41 — Surah Al-Muminun 23:41
چنانچہ اس سچے وعدے کے مطابق ان کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ بنا کر رکھ دیا۔ پھٹکار ہے ایسے ظالم لوگوں پر۔
Verse 42 — Surah Al-Muminun 23:42
اس کے بعد ہم نے دوسری نسلیں پیدا کیں۔
Verse 43 — Surah Al-Muminun 23:43
کوئی امت نہ اپنے معین وقت سے پہلے جاسکتی ہے، نہ اس کے بعد ٹھہر سکتی ہے۔
Verse 44 — Surah Al-Muminun 23:44
پھر ہم نے پے در پے اپنے پیغمبر بھیجے، جب بھی کسی قوم کے پاس اس کا پیغمبر آتا تو وہ اسے جھٹلاتے، چنانچہ ہم نے بھی ایک کے بعد ایک (کو ہلاک کرنے) کا سلسلہ باندھ دیا، اور انہیں قصہ کہانیاں بنا ڈالا۔ پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔
Verse 45 — Surah Al-Muminun 23:45
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح ثبوت کے ساتھ بھیجا
Verse 46 — Surah Al-Muminun 23:46
فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس تو انہوں نے گھمنڈ کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے تکبر والے لوگ تھے۔
Verse 47 — Surah Al-Muminun 23:47
چنانچہ کہنے لگے : کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے ؟
Verse 48 — Surah Al-Muminun 23:48
اس طرح انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا، اور آخر کار وہ بھی ان لوگوں سے جا ملے جنہیں ہلاک کیا گیا تھا۔
Verse 49 — Surah Al-Muminun 23:49
اور موسیٰ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی، تاکہ ان کے لوگ رہنمائی حاصل کریں۔
Verse 50 — Surah Al-Muminun 23:50
اور مریم کے بیٹے (عیسیٰ (علیہ السلام)) کو اور ان کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا، اور ان دونوں کو ایک ایسی بلندی پر پناہ دی جو ایک پرسکون جگہ تھی، اور جہاں صاف ستھرا پانی بہتا تھا۔
Verse 51 — Surah Al-Muminun 23:51
اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزوں میں سے (جو چاہو) کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، مجھے اس کا پورا پورا علم ہے۔
Verse 52 — Surah Al-Muminun 23:52
اور حقیقت یہ ہے کہ یہی تمہارا دین ہے، (سب کے لیے) ایک ہی دین، اور میں تمہارا پروردگار ہوں، اس لیے دل میں (صرف) میرا رعب رکھو۔
Verse 53 — Surah Al-Muminun 23:53
پھر ہوا یہ کہ لوگوں نے اپنے دین میں باہم پھوٹ ڈال کر فرقے بنا لیے، ہر گروہ نے اپنے خیال میں جو طریقہ اختیار کرلیا ہے، اسی پر مگن ہے۔
Verse 54 — Surah Al-Muminun 23:54
لہذا (اے پیغمبر) ان کو ایک خاص وقت تک اپنی جہالت میں ڈوبا رہنے دو ۔
Verse 55 — Surah Al-Muminun 23:55
کیا یہ لوگ اس خیال میں ہیں کہ ہم ان کو جو دولت اور اولاد دیے جارہے ہیں۔
Verse 56 — Surah Al-Muminun 23:56
تو ان کو بھلائیاں پہنچانے میں جلدی دکھا رہے ہیں ؟ نہیں، بلکہ ان کو حقیقت کا شعور نہیں ہے۔
Verse 57 — Surah Al-Muminun 23:57
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے پروردگار کے رعب سے ڈرے رہتے ہیں۔
Verse 58 — Surah Al-Muminun 23:58
اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔
Verse 59 — Surah Al-Muminun 23:59
اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے۔
Verse 60 — Surah Al-Muminun 23:60
اور وہ جو عمل بھی کرتے ہیں، اسے کرتے وقت ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے پروردگار کے پاس واپس جانا ہے۔
Verse 61 — Surah Al-Muminun 23:61
وہ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی دکھا رہے ہیں، اور وہ ہیں جو ان کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
Verse 62 — Surah Al-Muminun 23:62
اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کسی کام کی ذمہ داری نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (سب کا حال) ٹھیک ٹھیک بول دے گی، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
Verse 63 — Surah Al-Muminun 23:63
لیکن ان کے دل اس بات سے غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور اس کے علاوہ ان کی اور بھی کارستانیاں ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں۔
Verse 64 — Surah Al-Muminun 23:64
یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولت مند لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ ایک دم بلبلا اٹھیں گے۔
Verse 65 — Surah Al-Muminun 23:65
آج بلبلاؤ نہیں، ہماری طرف سے تمہیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
Verse 66 — Surah Al-Muminun 23:66
میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں مڑ جاتے تھے۔
Verse 67 — Surah Al-Muminun 23:67
بڑے غرور سے اس (قرآن) کے بارے میں رات کو مجلسیں جما کر بےہودہ باتیں کرتے تھے۔
Verse 68 — Surah Al-Muminun 23:68
بھلا کیا ان لوگوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا، یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے پچھلے باپ دادوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟
Verse 69 — Surah Al-Muminun 23:69
یا یہ اپنے پیغمبر کو (پہلے سے) جانتے ہی نہیں تھے، اس وجہ سے ان کا انکار کر رہے ہیں ؟
Verse 70 — Surah Al-Muminun 23:70
یا ان کا کہنا ہے کہ ان (پیغمبر) کو جنون لاحق ہوگیا ہے ؟ نہیں، بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) یہ پیغمبر ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے۔
Verse 71 — Surah Al-Muminun 23:71
اور اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجاتا تو آسمان اور زمین اور ان میں بسنے والے سب برباد ہوجاتے۔ نہیں، بلکہ ہم ان کے پاس خود ان کے لیے نصیحت کا سامان لے کر آئے ہیں، اور وہ ہیں کہ خود اپنی نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
Verse 72 — Surah Al-Muminun 23:72
یا (ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ) تم ان سے کوئی معاوضہ مانگ رہے ہو ؟ تو (یہ بات بھی غلط ہے، اس لیے کہ) تمہارے پروردگار کا دیا ہوا معاوضہ (تمہارے لیے) کہیں بہتر ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
Verse 73 — Surah Al-Muminun 23:73
اور حقیقت یہ ہے کہ تم تو انہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہو۔
Verse 74 — Surah Al-Muminun 23:74
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ راستے سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں۔
Verse 75 — Surah Al-Muminun 23:75
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور اس تکلیف کو دور کردیں جس میں یہ مبتلا ہیں تب بھی یہ بھٹکتے ہوئے اپنی سرکشی پر اڑے رہیں گے۔
Verse 76 — Surah Al-Muminun 23:76
واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو (ایک مرتبہ) عذاب میں پکڑا تھا، تو اس وقت بھی یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے نہیں جھکے۔ اور یہ تو عاجزی کی روش اختیار کرتے ہی نہیں ہیں۔
Verse 77 — Surah Al-Muminun 23:77
یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب والا دروازہ کھول دیں گے، تو یہ ایک دم اس میں مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔
Verse 78 — Surah Al-Muminun 23:78
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ (مگر) تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
Verse 79 — Surah Al-Muminun 23:79
اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تمہیں اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔
Verse 80 — Surah Al-Muminun 23:80
اور وہی ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے اور اسی کے قبضے میں رات اور دن کی تبدیلیاں ہیں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
Verse 81 — Surah Al-Muminun 23:81
اس کے بجائے یہ لوگ بھی ویسی ہی باتیں کرتے ہیں جیسی پچھلے لوگوں نے کی تھیں۔
Verse 82 — Surah Al-Muminun 23:82
کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیوں میں تبدیل ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟
Verse 83 — Surah Al-Muminun 23:83
یہ وہ یقین دہانی ہے جو ہم سے بھی کی گئی ہے اور اسے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی کی گئی تھی۔ اس کی کوئی حقیقت اس کے سوا نہیں کہ یہ پچھلے لوگوں کے بنائے ہوئے افسانے ہیں۔
Verse 84 — Surah Al-Muminun 23:84
(اے پیغمبر ! ذرا ان سے) کہو کہ : یہ ساری زمین اور اس میں بسنے والے کس کی ملکیت ہیں ؟ بتاؤ اگر جانتے ہو۔
Verse 85 — Surah Al-Muminun 23:85
وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ کہو کہ : کیا پھر بھی تم سبق نہیں لیتے ؟
Verse 86 — Surah Al-Muminun 23:86
کہو کہ : سات آسمانوں کا مالک اور عالی شان عرش کا مالک کون ہے ؟
Verse 87 — Surah Al-Muminun 23:87
وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ کہو کہ : کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟
Verse 88 — Surah Al-Muminun 23:88
کہو کہ : کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اختیار ہے، اور جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟ بتاؤ اگر جانتے ہو۔
Verse 89 — Surah Al-Muminun 23:89
وہ ضرور یہی کہیں گے کہ : سارا اختیار اللہ کا ہے۔ کہو کہ : پھر کہاں سے تم پر کوئی جادو چل جاتا ہے ؟
Verse 90 — Surah Al-Muminun 23:90
نہیں (یہ افسانے نہیں) بلکہ ہم نے انہیں حق بات پہنچائی ہے، اور یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں۔
Verse 91 — Surah Al-Muminun 23:91
نہ تو اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔
Verse 92 — Surah Al-Muminun 23:92
وہ اللہ جسے تمام چھپی اور کھلی باتوں کا مکمل علم ہے۔ لہذا وہ ان کے شرک سے بہت بلند وبالا ہے۔
Verse 93 — Surah Al-Muminun 23:93
(اے پیغمبر) دعا کرو کہ : میرے پروردگار ! جس عذاب کی دھمکی ان (کافروں) کو دی جارہی ہے، اگر آپ اسے میری آنکھوں کے سامنے لے آئیں۔
Verse 94 — Surah Al-Muminun 23:94
تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیے گا۔
Verse 95 — Surah Al-Muminun 23:95
اور یقین جانو کہ ہم جس چیز کی انہیں دھمکی دے رہے ہیں اسے تمہاری آنکھوں کے سامنے لانے پر پوری طرح قادر ہیں۔
Verse 96 — Surah Al-Muminun 23:96
(لیکن جب تک وہ وقت نہ آئے) تم برائی کا دفعیہ ایسے طریقے سے کرتے رہو جو بہترین ہو۔ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں۔
Verse 97 — Surah Al-Muminun 23:97
اور دعا کرو کہ : میرے پروردگار ! میں شیطان کے لگائے ہوئے چرکوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔
Verse 98 — Surah Al-Muminun 23:98
اور میرے پروردگار ! میں ان کے اپنے قریب آنے سے بھی آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔
Verse 99 — Surah Al-Muminun 23:99
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ : میرے پروردگار ! مجھے واپس بھیج دیجیے۔
Verse 100 — Surah Al-Muminun 23:100
تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ کر آیا ہوں، اس میں جاکر نیک عمل کروں۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے، اور ان (مرنے والوں) کے سامنے عالم برزخ کی آڑ ہے۔ جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک ان کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔
Verse 101 — Surah Al-Muminun 23:101
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ ان کے درمیان رشتے ناتے باقی رہیں گے، اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔
Verse 102 — Surah Al-Muminun 23:102
اس وقت جن کے پلڑے بھاری نکلے تو وہی ہوں گے جو فلاح پائیں گے۔
Verse 103 — Surah Al-Muminun 23:103
اور جن کے پلڑے ہلکے پڑگئے، تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے لیے گھاٹے کا سودا کیا تھا، وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Verse 104 — Surah Al-Muminun 23:104
آگ ان کے چہروں کو جھلس ڈالے گی، اور اس میں ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی۔
Verse 105 — Surah Al-Muminun 23:105
(ان سے کہا جائے گا کہ) کیا میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے۔
Verse 106 — Surah Al-Muminun 23:106
وہ کہیں گے کہ : ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی چھا گئی تھی، اور ہم گمراہ لوگ تھے۔
Verse 107 — Surah Al-Muminun 23:107
ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے باہر نکال دیجیے، پھر اگر ہم دوبارہ وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے۔
Verse 108 — Surah Al-Muminun 23:108
اللہ فرمائے گا۔ اسی (دوزخ) میں ذلیل ہو کر پڑے رہو، اور مجھ سے بات بھی نہ کرو۔
Verse 109 — Surah Al-Muminun 23:109
میرے بندوں میں سے ایک جماعت یہ دعا کرتی تھی کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں، پس ہمیں بخش دیجیے، اور ہم پر رحم فرمایے، اور آپ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہیں۔
Verse 110 — Surah Al-Muminun 23:110
تو تم نے ان لوگوں کا مذاق بنایا تھا۔ یہاں تک کہ ان ہی (کے ساتھ چھیڑ چھاڑ) نے تمہیں میری یاد تک سے غافل کردیا، اور تم ان کی ہنسی اڑاتے رہے۔
Verse 111 — Surah Al-Muminun 23:111
انہوں نے جس طرح صبر سے کام لیا تھا، آج میں نے انہیں اس کا یہ بدلہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی مراد پالی ہے۔
Verse 112 — Surah Al-Muminun 23:112
(پھر) اللہ (ان دوزخیوں سے) فرمائے گا : تم زمین میں گنتی کے کتنے سال رہے ؟
Verse 113 — Surah Al-Muminun 23:113
وہ کہیں گے کہ : ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم رہے ہوں گے۔ (ہمیں پوری طرح یاد نہیں) اس لیے جنہوں نے (وقت کی) گنتی کی ہو، ان سے پوچھ لیجیے۔
Verse 114 — Surah Al-Muminun 23:114
اللہ فرمائے گا : تم تھوڑی مدت سے زیادہ نہیں رہے۔ کیا خوب ہوتا اگر یہ بات تم نے (اس وقت) سمجھ لی ہوتی
Verse 115 — Surah Al-Muminun 23:115
بھلا کیا تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہم نے تمہیں یونہی بےمقصد پیدا کردیا، ، اور تمہیں واپس ہمارے پاس نہیں لایا جائے گا ؟
Verse 116 — Surah Al-Muminun 23:116
غرض بہت اونچی شان ہے اللہ کی جو صحیح معنی میں بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزت والے عرش کا مالک ہے۔
Verse 117 — Surah Al-Muminun 23:117
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے، جس پر اس کے پاس کسی قسم کی کوئی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اس کے پروردگار کے پاس ہے۔ یقین جانو کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاسکتے۔
Verse 118 — Surah Al-Muminun 23:118
اور تم (اے پیغمبر) یہ کہو کہ : میرے پروردگار ! ہماری خطائیں بخش دے، اور رحم فرمادے، تو سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔