Back to Languages

Urdu - Chapter 27 - An-Naml

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah An-Naml 27:1

طس۔ یہ قرآن کی اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں جو حقیقت کھول دینے والی ہے۔

Verse 2 — Surah An-Naml 27:2

یہ ان مومنوں کے لیے سراپا ہدایت اور خوشخبری بن کر آئی ہے۔

Verse 3 — Surah An-Naml 27:3

جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

Verse 4 — Surah An-Naml 27:4

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما بنادیا ہے۔ اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

Verse 5 — Surah An-Naml 27:5

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Verse 6 — Surah An-Naml 27:6

اور (اے پیغمبر) بلا شبہ تمہیں یہ قرآن اس (اللہ) کی طرف سے عطا کیا جارہا ہے جو حکمت کا بھی مالک ہے علم کا بھی مالک۔

Verse 7 — Surah An-Naml 27:7

اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ : مجھے ایک آگ نظر آئی ہے۔ میں ابھی تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں، یا پھر تمہارے پاس آگ کا کوئی شعلہ اٹھا کرلے آؤں گا، تاکہ تم آگ سے گرمی حاصل کرسکو۔

Verse 8 — Surah An-Naml 27:8

چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : برکت ہو ان پر جو اس آگ کے اندر ہیں، اور اس پر بھیجو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

Verse 9 — Surah An-Naml 27:9

اے موسیٰ : بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں، بڑے اقتدار والا، بڑی حکمت والا۔

Verse 10 — Surah An-Naml 27:10

اور ذرا اپنی لاٹھی کو نیچے پھینکو۔ پھر جب انہوں نے لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ کوئی سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (ارشاد ہوا) موسیٰ ! ڈرو نہیں، جن کو پیغمبر بنایا جاتا ہے ان کو میرے حضور کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔

Verse 11 — Surah An-Naml 27:11

الا یہ کہ کسی نے کوئی زیادتی کی ہو۔ پھر وہ برائی کے بعد اسے بدل کر اچھے کام کرلے، تو میں بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔

Verse 12 — Surah An-Naml 27:12

اور اپنا ہاتھ گریبان میں داخل کرو، تو وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ یہ دونوں باتیں ان نو نشانیوں میں سے ہیں جو فرعون اور اس کی قوم کی طرف (تمہارے ذریعے) بھیجی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔

Verse 13 — Surah An-Naml 27:13

پھر ہوا یہ کہ جب ان کے پاس ہماری نشانیاں اس طرح پہنچیں کہ وہ آنکھیں کھولنے والی تھیں تو انہوں نے کہا کہ : یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

Verse 14 — Surah An-Naml 27:14

اور اگرچہ ان کے دلوں کو ان (کی سچائی) کا یقین ہوچکا تھا، مگر انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ اب دیکھ لو ان فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟ ۔

Verse 15 — Surah An-Naml 27:15

اور ہم داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔

Verse 16 — Surah An-Naml 27:16

اور سلیمان کو داؤد کی وراثت ملی اور انہوں نے کہا : اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، اور ہمیں ہر (ضرورت کی) چیز عطا کی گئی ہے۔ یقینا یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔

Verse 17 — Surah An-Naml 27:17

اور سلیمان کے لیے ان کے سارے لشکر جمع کردیے گئے تھے جو جنات، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، چنانچہ انہیں قابو میں رکھا جاتا تھا۔

Verse 18 — Surah An-Naml 27:18

یہاں تک کہ ایک دن جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پیس ڈالے، اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔

Verse 19 — Surah An-Naml 27:19

اس کی بات پر سلیمان مسکرا کر ہنسے، اور کہنے لگے : میرے پر ورگار ! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔

Verse 20 — Surah An-Naml 27:20

اور انہوں نے (ایک مرتبہ) پرندوں کی حاضری لی تو کہا : کیا بات ہے، مجھے ہدہد نظر نہیں آرہا، کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟

Verse 21 — Surah An-Naml 27:21

میں اسے سخت سزا دوں گا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، الا یہ کہ وہ میرے سامنے کوئی واضح وجہ پیش کرے۔

Verse 22 — Surah An-Naml 27:22

پھر ہدہد نے زیادہ دیر نہیں لگائی اور (آکر) کہا کہ : میں نے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جن کا آپ کو علم نہیں ہے، اور میں ملک سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔

Verse 23 — Surah An-Naml 27:23

میں نے وہاں ایک عورت کو پایا جو ان لوگوں پر بادشاہت کر رہی ہے، اور اس کو ہر طرح کا سازوسامان دیا گیا ہے، اور اس کا ایک شاندار تخت بھی ہے۔

Verse 24 — Surah An-Naml 27:24

میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدے کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کے اعمال بہت اچھے ہیں، چنانچہ اس نے انہیں صحیح راستے سے روک رکھا ہے اور اس طرح وہ ہدایت سے اتنے دور ہیں۔

Verse 25 — Surah An-Naml 27:25

کہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے، جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکال لاتا ہے، اور تم جو کچھ چھپاؤ اور جو کچھ ظاہر کرو، سب کو جانتا ہے۔

Verse 26 — Surah An-Naml 27:26

اللہ تو وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور) جو عرش عظیم کا مالک ہے۔

Verse 27 — Surah An-Naml 27:27

سلیمان نے کہا : ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولنے والوں میں تم بھی شامل ہوگئے ہو۔

Verse 28 — Surah An-Naml 27:28

میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں۔

Verse 29 — Surah An-Naml 27:29

(چنانچہ ہدہد نے ایسا ہی کیا اور) ملکہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا : قوم کے سردارو ! میرے سامنے ایک باوقار خط ڈالا گیا ہے۔

Verse 30 — Surah An-Naml 27:30

وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو رحمن و رحیم ہے۔

Verse 31 — Surah An-Naml 27:31

(اس میں لکھا ہے) کہ : میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، اور میرے پاس تابع دار بن کر چلے آؤ

Verse 32 — Surah An-Naml 27:32

ملکہ نے کہا : قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے اس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلے کا حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔

Verse 33 — Surah An-Naml 27:33

انہوں نے کہا : ہم طاقتور اور ڈٹ کر لڑنے والے لوگ ہیں، آگے معاملہ آپ کے سپرد ہے، اب آپ دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔

Verse 34 — Surah An-Naml 27:34

ملکہ بولی : حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب کر ڈالتے ہیں، اور اس کے باعزت باشندوں کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے۔

Verse 35 — Surah An-Naml 27:35

اور میں ان کے پاس ایک تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر واپس آتے ہیں ؟

Verse 36 — Surah An-Naml 27:36

چنانچہ جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : کیا تم مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، البتہ تم ہی لوگ اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو۔

Verse 37 — Surah An-Naml 27:37

ان کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ اب ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر پہنچیں گے جن کے مقابلے کی ان میں تاب نہیں ہوگی، اور انہیں وہاں سے اس طرح نکالیں گے کہ وہ ذلیل ہوں گے، اور ماتحت بن کر رہیں گے۔

Verse 38 — Surah An-Naml 27:38

سلیمان نے کہا : اے اہل دربار ! تم میں سے کون ہے جو اس عورت کا تخت ان کے تابع دار بن کر آنے سے پہلے ہی میرے پاس لے آئے ؟

Verse 39 — Surah An-Naml 27:39

ایک قوی ہیکل جن نے کہا : آپ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ ہوں گے کہ میں اس سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آؤں گا، اور یقین رکھیے کہ میں اس کام کی پوری طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار بھی ہوں۔

Verse 40 — Surah An-Naml 27:40

جس کے پاس کتاب کا علم تھا، وہ بول اٹھا : میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ چنانچہ جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےنیاز ہے، کریم ہے۔

Verse 41 — Surah An-Naml 27:41

سلیمان نے (اپنے خدام سے) کہا کہ : اس ملکہ کے تخت کو اس کے لیے اجنبی بنادو ۔ دیکھیں وہ اسے پہچانتی ہے، یا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو حقیقت تک نہیں پہنچتے ؟

Verse 42 — Surah An-Naml 27:42

غرض جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا : کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ کہنے لگی : ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل وہی ہے۔ ہمیں تو اس سے پہلے ہی (آپ کی سچائی کا) علم عطا ہوگیا تھا، اور ہم سر جھکا چکے تھے۔

Verse 43 — Surah An-Naml 27:43

اور (اب تک) اس کو (ایمان لانے سے) اس بات نے روک رکھا تھا کہ وہ اللہ کے بجائے دوسروں کی عبادت کرتی تھی، اور ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی۔

Verse 44 — Surah An-Naml 27:44

اس سے کہا گیا کہ : اس محل میں داخل ہوجاؤ اس نے جو دیکھا تو یہ سمجھی کہ یہ پانی ہے، اس لیے اس نے (پائینچے چڑھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا کہ : یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے۔ ملکہ بول اٹھی : میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ میں نے (اب تک) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبرداری قبول کرلی ہے۔

Verse 45 — Surah An-Naml 27:45

اور ہم نے قوم ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ بن گئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔

Verse 46 — Surah An-Naml 27:46

صالح نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اچھائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو۔ تم اللہ سے معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے ؟

Verse 47 — Surah An-Naml 27:47

انہوں نے کہا : ہم نے تو تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے برا شگون لیا ہے، ۔ صالح نے کہا تمہارا شگون تو اللہ کے قبضے میں ہے، البتہ تم لوگوں کی آزمائش ہورہی ہے۔

Verse 48 — Surah An-Naml 27:48

اور شہر میں نو آدمی ایسے تھے جو زمین میں فساد مچاتے تھے، اور اصلاح کا کام نہیں کرتے تھے۔

Verse 49 — Surah An-Naml 27:49

انہوں نے (آپس میں ایک دوسرے سے) کہا : سب ملکر اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے، پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے۔ اور یقین جانو ہم بالکل سچے ہیں۔

Verse 50 — Surah An-Naml 27:50

انہوں نے یہ چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال اس طرح چلی کہ ان کو پتہ بھی نہ لگ سکا۔

Verse 51 — Surah An-Naml 27:51

اب دیکھو کہ ان کی چال بازی کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

Verse 52 — Surah An-Naml 27:52

چنانچہ وہ رہے ان کے گھر جو ان کے ظلم کی وجہ سے ویران پڑے ہیں۔ یقینا اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے جو علم سے کام لیتے ہیں۔

Verse 53 — Surah An-Naml 27:53

اور جو لوگ ایمان لائے تھے اور تقوی اختیار کیے ہوئے تھے ان سب کو ہم نے بچا لیا۔

Verse 54 — Surah An-Naml 27:54

اور ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے بھی بےحیائی کا یہ کام کرتے ہو ؟

Verse 55 — Surah An-Naml 27:55

کیا یہ کوئی یقین کرنے کی بات ہے کہ تم اپنی جنسی خواہش کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم بڑی جہالت کے کام کرنے والے لوگ ہو۔

Verse 56 — Surah An-Naml 27:56

اس پر یہ کہنے کے سوا ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا کہ : لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

Verse 57 — Surah An-Naml 27:57

پھر ہوا یہ کہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا، سوائے ان کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے یہ طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

Verse 58 — Surah An-Naml 27:58

اور ہم نے ان پر ایک زبردست بارش برسائی، چنانچہ بہت بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی جنہیں پہلے سے خبردار کردیا گیا تھا۔

Verse 59 — Surah An-Naml 27:59

(اے پیغمبر) کہو : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے ؟

Verse 60 — Surah An-Naml 27:60

بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ؟ پھر ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے، تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے۔ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ ان لوگوں نے راستے سے منہ موڑ رکھا ہے۔

Verse 61 — Surah An-Naml 27:61

بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، اور اس کے بیچ بیچ میں دریا پیدا کیے، اور اس (کو ٹھہرانے) کے لیے (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں، اور دو سمندروں کے درمیان ایک آڑ رکھ دی ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔

Verse 62 — Surah An-Naml 27:62

بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

Verse 63 — Surah An-Naml 27:63

بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (نہیں ! بلکہ) اللہ اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔

Verse 64 — Surah An-Naml 27:64

بھلا وہ کون ہے جس نے ساری مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق فراہم کرتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ کہو : لاؤ اپنی کوئی دلیل، اگر تم سچے ہو۔

Verse 65 — Surah An-Naml 27:65

کہہ دو کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

Verse 66 — Surah An-Naml 27:66

بلکہ آخرت کے بارے میں ان (کافروں) کا علم بےبس ہو کر رہ گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ اس سے اندھے ہوچکے ہیں۔

Verse 67 — Surah An-Naml 27:67

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادے مٹی ہوچکے ہوں گے تو کیا اس وقت واقعی ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا ؟

Verse 68 — Surah An-Naml 27:68

ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے اس قسم کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے، (لیکن) ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ قصہ کہانیاں ہیں جو پرانے زمانے کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

Verse 69 — Surah An-Naml 27:69

کہو کہ : ذرا زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ہے۔

Verse 70 — Surah An-Naml 27:70

اور (اے پیغمبر) تم ان لوگوں پر غم نہ کرو، اور یہ جس مکاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے گھٹن محسوس نہ کرو۔

Verse 71 — Surah An-Naml 27:71

یہ (تم سے) یوں کہتے ہیں کہ : یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟

Verse 72 — Surah An-Naml 27:72

کہہ دو کہ : کچھ بعید نہیں ہے کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو، اس کا کچھ حصہ تمہارے بالکل پاس آلگا ہو۔

Verse 73 — Surah An-Naml 27:73

اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

Verse 74 — Surah An-Naml 27:74

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار وہ ساری باتیں بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں، اور وہ باتیں بھی جو وہ علانیہ کرتے ہیں۔

Verse 75 — Surah An-Naml 27:75

اور آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیزایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو۔

Verse 76 — Surah An-Naml 27:76

واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن بنو اسرائیل کے سامنے اکثر ان باتوں کی حقیقت واضح کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

Verse 77 — Surah An-Naml 27:77

اور یقینا یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

Verse 78 — Surah An-Naml 27:78

اور تمہارا پروردگار یقینا ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا، اور وہ بڑا اقتدار والا، بڑا علم والا ہے۔

Verse 79 — Surah An-Naml 27:79

لہذا (اے پیغمبر) تم اللہ پر بھروسہ رکھو۔ یقینا تم کھلے کھلے حق پر ہو۔

Verse 80 — Surah An-Naml 27:80

یاد رکھو کہ تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔

Verse 81 — Surah An-Naml 27:81

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستے پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر وہی لوگ فرمانبردار ہوں گے۔

Verse 82 — Surah An-Naml 27:82

اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

Verse 83 — Surah An-Naml 27:83

اور اس دن کو نہ بھولو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی پوری فوج کو گھیر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کی جماعت بندی کی جائے گی۔

Verse 84 — Surah An-Naml 27:84

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو اللہ کہے گا کہ : کیا تم نے میری آیتوں کو پوری طرح سمجھے بغیر ہی جھٹلا دیا تھا، یا کیا کرتے رہے تھے ؟

Verse 85 — Surah An-Naml 27:85

اور انہوں نے جو ظلم کیا تھا، اس کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی، چنانچہ وہ کچھ بول نہیں سکیں گے۔

Verse 86 — Surah An-Naml 27:86

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات اس لیے بنائی ہے کہ وہ اس میں سکون حاصل کریں، اور دن اس طرح بنایا ہے کہ اس میں چیزیں دکھائی دیں ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

Verse 87 — Surah An-Naml 27:87

اور جس دن صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے گھبرا اٹھیں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ اور سب اس کے پاس جھکے ہوئے حاضر ہوں گے۔

Verse 88 — Surah An-Naml 27:88

تم (آج) پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں، حالانکہ (اس وقت) وہ اس طرح پھر رہے ہوں گے جیسے بادل پھرتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مستحکم طریقے سے بنایا ہے۔ یقینا اسے پوری خبر ہے کہ تم کیا کام کرتے ہو۔

Verse 89 — Surah An-Naml 27:89

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا۔ اور ایسے لوگ اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔

Verse 90 — Surah An-Naml 27:90

اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ تمہیں کسی اور بات کی نہیں، انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔

Verse 91 — Surah An-Naml 27:91

(اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کہ :) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو حرمت بخشی ہے، اور ہر چیز کا مالک وہی ہے، اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں شامل رہوں۔

Verse 92 — Surah An-Naml 27:92

اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ اب جو شخص ہدایت کے راستے پر آئے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راستے پر آئے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے، تو کہہ دینا کہ : میں تو بس ان لوگوں میں سے ہوں جو خبردار کرتے ہیں۔

Verse 93 — Surah An-Naml 27:93

اور کہہ دو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، پھر تم انہیں پہچان بھی لو گے۔ اور تمہارا پروردگار تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے۔