اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بےسمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں، اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔
اور جب ایسے شخص کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ پورے تکبر کے ساتھ منہ موڑ لیتا ہے، جیسے انہیں سنا ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بہرا پن ہے۔ لہذا اس کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔
اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر پیدا کیا جو تمہیں نظر آسکیں۔ اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگائے نہیں، اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئیے ہیں۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس (زمین) میں ہر قابل قدر قسم کی نباتات اگائیں۔
اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (اور ان سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں یہ تاکید کی ہے۔ (کیونکہ) اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کر کے پیٹ میں رکھا، اور دو سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے۔ کہ تم میرا شکر ادا کرو، اور اپنے ماں باپ کا میرے پاس ہی (تمہیں) لوٹ کر آنا ہے۔
اور اگر وہ تم پر یہ زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو (خدائی میں) شریک قرار دو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی بات مت مانو، اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے رہو، اور ایسے شخص کا راستہ اپناؤ جس نے مجھ سے لو لگا رکھی ہو۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
(لقمان نے یہ بھی کہا) بیٹا ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، اور وہ کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں یا زمین میں، تب بھی اللہ اسے حاضر کردے گا۔ یقین جانو اللہ بڑا باریک بیں، بہت باخبر ہے۔
کیا تم لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے اللہ نے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے، اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری پوری نچھاور کی ہیں ؟ پھر بھی انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں، جبکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے، نہ ہدایت ہے، اور نہ کوئی ایسی کتاب ہے جو روشنی دکھائے۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اس چیز کی اتباع کرو جو اللہ نے اتاری ہے۔ تو وہ کہتے ہیں : نہیں، بلکہ ہم تو اس طریقے کے پیچھے چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داداوں کو پایا ہے۔ بھلا اگر شیطان ان (باپ دادوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو، کیا تب بھی (وہ انہی کے پیچھے چلیں گے ؟)
اور جو شخص فرمانبردار بن کر اپنا رخ اللہ کی طرف کردے، اور نیک عمل کرنے والا ہو، تو اس نے یقینا بڑا مضبوط کنڈا تھام لیا۔ اور تمام کاموں کا آخری انجام اللہ ہی کے حوالے ہے۔
اور (اے پیغمبر) جس کسی نے کفر اپنا لیا ہے، تمہیں اس کا کفر صدمے میں نہ ڈالے۔ آخر انہیں ہمارے پاس ہی تو لوٹنا ہے، پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟ یقینا اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : اللہ ! کہو : الحمدللہ ! اس کے باوجود ان میں سے اکثر لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔
اور زمین میں جتنے درخت ہیں، اگر وہ قلم بن جائیں، اور یہ جو سمندر ہے، اس کے علاوہ سات سمندر اس کے ساتھ اور مل جائیں (اور وہ روشنائی بن کر اللہ کی صفات لکھیں) تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک
تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا (اللہ کے لیے) ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان کو (پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا) یقینا اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا ہے۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے، اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک کسی متعین میعاد تک رواں دواں ہے، اور (کیا تمہیں یہ معلوم نہیں) کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے کہ تم کیا کرتے ہو ؟
یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اللہ ہی کا وجود سچا ہے، اور اس کے سوا جن (معبودوں) کو یہ (مشرک) پکارتے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں، اور اللہ ہی وہ ہے جس کی شان بہت اونچی ہے، جس کی ذات بہت بڑی۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی مہربانی سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ؟ یقینا اس میں ہر اس شخص کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر کا پکا، اعلی درجے کا شکر گزار ہو۔
اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چڑھ آتی ہیں تو وہ اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ اس وقت ان کا اعتقاد خالص اسی پر ہوتا ہے۔ پھر جب وہ ان کو بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہیں جو راہ راست پر رہتے ہیں (باقی پھر شرک کرنے لگتے ہیں) اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو پکا بدعہد، پرلے درجے کا ناشکر ہو۔
اے لوگو ! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے بچو، اور ڈرو اس دن سے جب کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہیں آئے گا، اور نہ کسی بیٹے کی یہ مجال ہوگی کہ وہ اپنے باپ کے ذرا بھی کام آجائے۔ یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اس لیے ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ یہ دنیوی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈال دے، اور ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ وہ (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکے میں ڈال دے جو سب سے بڑا دھوکا باز ہے۔
یقیناً (قیامت کی) گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے، اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ کونسی زمین میں اسے موت آئے گی۔ بیشک اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھنے والا، ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔