کیا لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پیغمبر نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں (اے پیغمبر) یہ تو وہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ تم اس کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، تاکہ وہ صحیح راستے پر آجائیں۔
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان ساری چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی سفارشی کیا پھر بھی تم کسی نصیحت پر دھیان نہیں دیتے ؟
وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم زمین میں رل کر کھو جائیں گے، تو کیا اس وقت ہم کسی نئے جنم میں پیدا ہوں گے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار سے جاملنے کا انکار کرتے ہیں۔
اور کاش تم وہ منظر دیکھو جب یہ مجرم لوگ اپنے رب کے سامنے سرجھکائے ہوئے (کھڑے) ہوں گے (کہہ رہے ہوں گے کہ) ہمارے پروردگار ! ہماری آنکھیں اور ہمارے کان کھل گئے، اس لیے ہمیں (دنیا میں) دوبارہ بھیج دیجیے، تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ ہمیں اچھی طرح یقین آچکا ہے۔
اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن وہ بات جو میری طرف سے کہی گئی تھی، طے ہوچکی ہے کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔
اب (جہنم کا) مزہ چکھو کیونکہ تم نے اپنے اس دن کا سامنا کرنے کو بھلا ڈالا تھا۔ ہم نے (بھی) تمہیں بھلا دیا ہے۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو، اس کے بدلے اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔
ہماری آیتوں پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ جب انہیں ان آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔
چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے مستقل قیام کے باغات ہیں جو ان کو پہلی مہمانی ہی کے طور پردے دیے جائیں گے، ان اعمال کے صلے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی ہے، تو اس کے مستقل قیام کی جگہ جہنم ہے۔ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے، انہیں وہیں واپس لوٹا دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ : آگ کے جس عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کا مزہ چکھو۔
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کو اپنے پروردگار کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی گئی، تو اس نے ان سے منہ موڑ لیا۔ ہم یقینا ایسے مجرموں سے بدلہ لے کر رہیں گے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، لہذا (اے پیغمبر) تم اس کے ملنے کے بارے میں کسی شک میں نہ رہو۔ اور ہم نے اس کتاب کو بنو اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔
اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صبر کیا، ایسے پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔
اور کیا ان (کافروں) کو اس بات سے کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کے گھروں میں یہ خود چلتے پھرتے ہیں ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں ؟
اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو کھینچ کر خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں، پھر اس سے وہ کھیتی نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں، اور وہ خود بھی۔ تو کیا انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ؟