Back to Languages

Urdu - Chapter 33 - Al-Ahzab

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Ahzab 33:1

اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہو، اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مانو۔ بیشک اللہ بہت علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

Verse 2 — Surah Al-Ahzab 33:2

اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر جو وحی بھیجی جارہی ہے اس کی پیروی کرو، تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ یقینی طور پر اسے پوری طرح باخبر ہے۔

Verse 3 — Surah Al-Ahzab 33:3

اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور کام بنانے کے لیے اللہ بالکل کافی ہے۔

Verse 4 — Surah Al-Ahzab 33:4

اللہ نے کسی بھی شخص کے سینے میں دو دل پیدا نہیں کیے اور تم اپنی جن بیویوں کو ماں کی پشت سے تشبیہ دیتے ہو ان کو تمہاری ماں نہیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا قرار دیا ہے۔ یہ تو باتیں ہی باتیں ہیں جو تم اپنے منہ سے کہہ دیتے ہو، اور اللہ وہی بات کہتا ہے جو حق ہو، اور وہی صحیح راستہ بتلاتا ہے۔

Verse 5 — Surah Al-Ahzab 33:5

تم ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے اپنے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہی طریقہ اللہ کے نزدیک پورے انصاف کا ہے۔ اور اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور تم سے جو غلطی ہوجائے اس کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ جو بات تم اپنے دلوں سے جان بوجھ کر کرو، (اس پر گناہ ہے) بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 6 — Surah Al-Ahzab 33:6

ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اس کے باوجود اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دارو دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں) زیادہ حق رکھتے ہیں الا یہ کہ تم اپنے دوستوں (کے حق میں کوئی وصیت کر کے ان) کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

Verse 7 — Surah Al-Ahzab 33:7

اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد رکھو جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا تھا اور تم سے بھی، اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا تھا۔

Verse 8 — Surah Al-Ahzab 33:8

تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھے اور اس نے کافروں کے لیے تو ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Verse 9 — Surah Al-Ahzab 33:9

اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ نے اس وقت تم پر کیسا انعام کیا جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے، پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھی بھیجی، اور ایسے لشکر بھی جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے۔ اور تم جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس کو دیکھ رہا تھا۔

Verse 10 — Surah Al-Ahzab 33:10

یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔

Verse 11 — Surah Al-Ahzab 33:11

اس موقع پر ایمان والوں کی بڑی آزمائش ہوئی اور انہیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا۔

Verse 12 — Surah Al-Ahzab 33:12

اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، یہ کہہ رہے تھے کہ : اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں

Verse 13 — Surah Al-Ahzab 33:13

اور جب انہی میں سے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ : یثرت کے لوگو ! تمہارے لیے یہاں ٹھہرے کا کوئی موقع نہیں ہے، بس واپس لوٹ جاؤ۔ اور انہی میں سے کچھ لوگ نبی سے یہ کہہ کر (گھر جانے کی) اجازت مانگ رہے تھے کہ : ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ (کسی طرح) بھاگ کھڑے ہوں۔

Verse 14 — Surah Al-Ahzab 33:14

اور اگر دشمن مدینے میں چاروں طرف سے آگھسے، پھر ان سے فساد میں شامل ہونے کو کہا جائے تو یہ اس میں ضرور شامل ہوجائیں گے، اور (اس وقت) گھروں میں تھوڑے ہی ٹھہریں گے۔

Verse 15 — Surah Al-Ahzab 33:15

اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے پہلے یہ عہد کر رکھا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں جائیں گے۔ اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس ضرور ہو کر رہے گی۔

Verse 16 — Surah Al-Ahzab 33:16

(اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگ بھی جاؤ تو یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، اور اس صورت میں تمہیں (زندگی کا) لطف اٹھانے کا جو موقع دیا جائے گا وہ تھوڑا ہی سا ہوگا۔

Verse 17 — Surah Al-Ahzab 33:17

کہو کہ : کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکے، اگر وہ تمہیں کوئی برائی پہنچانے کا ارادہ کرلے، یا (وہ کون ہے جو اس کی رحمت کو روک سکے) اگر وہ تم پر رحمت کرنے کا ارادہ کرلے ؟ اور اللہ کے سوا ان لوگوں کو نہ کوئی رکھوالا مل سکتا ہے، نہ کوئی مددگار۔

Verse 18 — Surah Al-Ahzab 33:18

اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جہاد میں) رکاوٹ ڈالتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ : ہمارے پاس چلے آؤ اور خود لڑائی میں آتے نہیں، اور آتے ہیں تو بہت کم۔

Verse 19 — Surah Al-Ahzab 33:19

(اور وہ بھی) تمہارے ساتھ لالچ رکھتے ہوئے چنانچہ جب خطرے کا موقع آجاتا ہے تو وہ تمہاری طرف چکرائی ہوئی آنکھوں سے اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہورہی ہو۔ پھر جب خطرہ دور ہوجاتا ہے تو تمہارے سامنے مال کی حرص میں تیز تیز زبانیں چلاتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ہیں، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے ہیں، اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

Verse 20 — Surah Al-Ahzab 33:20

وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ (دشمنوں کے) لشکر ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ دیہات میں جاکر رہیں (اور وہیں بیٹھے ہوئے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں۔ اور اگر تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں تھوڑا ہی حصہ لیں گے۔

Verse 21 — Surah Al-Ahzab 33:21

حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔

Verse 22 — Surah Al-Ahzab 33:22

اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، جب انہوں نے (دشمن کے) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ : یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کردیا تھا۔

Verse 23 — Surah Al-Ahzab 33:23

انہی ایمان والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا نذرانہ پورا کردیا، اور کچھ وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں۔ اور انہوں نے (اپنے ارادوں میں) ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی۔

Verse 24 — Surah Al-Ahzab 33:24

(یہ واقعہ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا انعام دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے، یا ان کی توبہ قبول کرلے۔ اللہ یقینا بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 25 — Surah Al-Ahzab 33:25

اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ اور مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے اللہ خود کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

Verse 26 — Surah Al-Ahzab 33:26

اور جن اہل کتاب نے ان (دشمنوں) کی مدد کی تھی، انہیں اللہ ان کے قلعوں سے نیچے اتار لایا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ (اے مسلمانوں ! ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے تھے، اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے۔)

Verse 27 — Surah Al-Ahzab 33:27

اور اللہ نے تمہیں ان کی زمین کا، ان کے گھروں کا اور ان کی دولت کا وارث بنادیا، اور ایک ایسی زمین کا بھی جس تک ابھی تمہارے قدم نہیں پہنچے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

Verse 28 — Surah Al-Ahzab 33:28

اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

Verse 29 — Surah Al-Ahzab 33:29

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

Verse 30 — Surah Al-Ahzab 33:30

اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

Verse 31 — Surah Al-Ahzab 33:31

اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔

Verse 32 — Surah Al-Ahzab 33:32

اے نبی کی بیویو ! اگر تم تقوی اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لہذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔

Verse 33 — Surah Al-Ahzab 33:33

اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت ! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

Verse 34 — Surah Al-Ahzab 33:34

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔

Verse 35 — Surah Al-Ahzab 33:35

بیشک فرمانبردار مرد ہوں یا فرمانبردار عورتیں مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں، عبادت گزار مرد ہوں یا عبادت گزار عورتیں، سچے مرد ہوں یا سچی عورتیں، صابر مرد ہوں یا صابر عورتیں، دل سے جھکنے والے مرد ہوں یا دل سے جھکنے والی عورتیں صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ دار مرد ہوں یا روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد ہوں یا ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے۔

Verse 36 — Surah Al-Ahzab 33:36

اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

Verse 37 — Surah Al-Ahzab 33:37

اور (اے پیغمبر !) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا یہ کہہ رہے تھے کہ : اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

Verse 38 — Surah Al-Ahzab 33:38

نبی کے لیے اس کام میں اعتراض کی کوئی بات نہیں ہوتی جو اللہ نے اس کے لیے طے کردیا ہو۔ یہی اللہ کی وہ سنت ہے جس پر ان (انبیاء) کے معاملے میں بھی عمل ہوتا آیا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور اللہ کا فیصلہ نپا تلا مقدر ہوتا ہے۔

Verse 39 — Surah Al-Ahzab 33:39

پیغمبر وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے احکام کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں، اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اور حساب لینے کے لیے اللہ کو کسی کی ضرورت نہیں۔

Verse 40 — Surah Al-Ahzab 33:40

(مسلمانو !) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔

Verse 41 — Surah Al-Ahzab 33:41

اے ایمان والو ! اللہ کو خوب کثرت سے یاد کیا کرو۔

Verse 42 — Surah Al-Ahzab 33:42

اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔

Verse 43 — Surah Al-Ahzab 33:43

وہی ہے جو خود بھی تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔

Verse 44 — Surah Al-Ahzab 33:44

جس دن مومن لوگ اللہ سے ملیں گے اس دن ان کا استقبال سلام سے ہوگا، اور اللہ نے ان کے لیے باعزت انعام تیار کر رکھا ہے۔

Verse 45 — Surah Al-Ahzab 33:45

اے نبی ! بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے ہو۔

Verse 46 — Surah Al-Ahzab 33:46

اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو۔

Verse 47 — Surah Al-Ahzab 33:47

تم مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے۔

Verse 48 — Surah Al-Ahzab 33:48

اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کی پرواہ نہ کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ رکھوالا بننے کے لیے کافی ہے۔

Verse 49 — Surah Al-Ahzab 33:49

اے ایمان والو ! جب تم نے مومن عورتوں سے نکاح کیا ہو، پھر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو، تو ان کے ذمہ تمہاری کوئی عدت واجب نہیں ہے جس کی گنتی تمہیں شمار کرنی ہو۔ لہذا انہیں کچھ تحفہ دے دو ، اور انہیں خوبصورتی سے رخصت کردو۔

Verse 50 — Surah Al-Ahzab 33:50

اے نبی ! ہم نے تمہارے لیے وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کو تم نے ان کا مہرا دا کردیا ہے۔ نیز اللہ نے غنیمت کا جو مال تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آچکی ہیں وہ بھی (تمہارے لیے حلال ہیں) اور تمہاری وہ چچا کی بیٹیاں اور پھوپی کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ نیز کوئی مسلمان عورت جس نے مہر کے بغیر نبی کو اپنے آپ (سے نکاح کرنے) کی پیش کش کی ہو، بشرطیکہ نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ سارے احکام خاص تمہارے لیے ہیں، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں وہ احکام خوب معلوم ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں اور کنیزوں کے بارے میں ان پر عائد کیے ہیں۔ (اور تمہیں ان سے مستثنی کیا ہے) تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

Verse 51 — Surah Al-Ahzab 33:51

ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان سب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، اور انہیں رنج نہیں ہوگا اور تم انہیں جو کچھ دے دو گے اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں گی۔ اور اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں اور اللہ علم اور حلم کا مالک ہے۔

Verse 52 — Surah Al-Ahzab 33:52

اس کے بعد دوسری عورتیں تمہارے لیے حلال نہیں ہیں، اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بدلے کوئی دوسری بیویاں لے آؤ، چاہے ان کی خوبی تمہیں پسند آئی ہو۔ البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں ہوں (وہ تمہارے لیے حلال ہیں) اور اللہ ہر چیز کی پوری نگرانی کرنے والا ہے۔

Verse 53 — Surah Al-Ahzab 33:53

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں (بلا اجازت) داخل نہ ہو، الا یہ کہ تمہیں کھانے پر آنے کی اجازت دے دی جائے، وہ بھی اس طرح کہ تم اس کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ، پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنی اپنی راہ لو، اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے (کہتے ہوئے) شرماتے ہیں، اور اللہ حق بات میں کسی سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے۔

Verse 54 — Surah Al-Ahzab 33:54

چاہے تم کوئی بات ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ، اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھنے والا ہے۔

Verse 55 — Surah Al-Ahzab 33:55

نبی کی بیویوں کے لیے اپنے اپنے باپ (کے سامنے بےپردہ آنے) میں کوئی گناہ نہیں ہے، نہ اپنے بیٹوں کو، نہ اپنے بھائیوں کے، نہ اپنے بھتیجوں کے، نہ اپنے بھانجوں کے، اور نہ اپنی عورتوں کے۔ اور نہ اپنی کنیزوں کے (سامنے آنے میں کوئی گناہ ہے) اور (اے خواتین !) تم اللہ سے ڈرتی رہو۔ یقین جانو کہ اللہ ہر بات کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔

Verse 56 — Surah Al-Ahzab 33:56

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

Verse 57 — Surah Al-Ahzab 33:57

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔

Verse 58 — Surah Al-Ahzab 33:58

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے۔

Verse 59 — Surah Al-Ahzab 33:59

اے نبی ! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

Verse 60 — Surah Al-Ahzab 33:60

اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو شہر میں شرانگیز افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن۔

Verse 61 — Surah Al-Ahzab 33:61

جن میں وہ پھٹکارے ہوئے ہوں گے۔ (پھر) جہاں کہیں ملیں گے، پکڑ لیے جائیں گے، اور انہیں ایک ایک کر کے قتل کردیا جائے گا۔

Verse 62 — Surah Al-Ahzab 33:62

یہ اللہ کا وہ معمول ہے جس پر ان لوگوں کے معاملے میں بھی عمل ہوتا رہا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم اللہ کے معمول میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پاؤ گے۔

Verse 63 — Surah Al-Ahzab 33:63

لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو۔

Verse 64 — Surah Al-Ahzab 33:64

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ نے کافروں کو رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔

Verse 65 — Surah Al-Ahzab 33:65

جس میں وہ ہمیشہ اس طرح رہیں گے کہ انہیں نہ کوئی حمایتی مل سکے گا، اور نہ کوئی مددگار۔

Verse 66 — Surah Al-Ahzab 33:66

جس دن ان کے چہروں کو آگ میں الٹا پلٹا جائے گا، وہ کہیں گے کہ : اے کاش ! ہم نے اللہ کی اطاعت کرلی ہوتی اور رسول کا کہنا مان لیا ہوتا۔

Verse 67 — Surah Al-Ahzab 33:67

اور کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا، اور انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔

Verse 68 — Surah Al-Ahzab 33:68

اے ہمارے پروردگار ! ان کو دوگنا عذاب دے، اور ان پر ایسی لعنت کر جو بڑی بھاری لعنت ہو۔

Verse 69 — Surah Al-Ahzab 33:69

اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ بن جانا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا تھا، پھر اللہ نے ان کو ان باتوں سے بری کردیا جو ان لوگوں نے بنائی تھیں اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے رتبے والے تھے۔

Verse 70 — Surah Al-Ahzab 33:70

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔

Verse 71 — Surah Al-Ahzab 33:71

اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔

Verse 72 — Surah Al-Ahzab 33:72

ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کا بوجھ اٹھا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم، بڑا نادان ہے۔

Verse 73 — Surah Al-Ahzab 33:73

نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو، نیز مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے گا، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔