تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے ان فرشتوں کو پیغام لے جانے کے لیے مقرر کیا ہے، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں۔ وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے۔
جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
اے لوگو ! یاد کرو ان نعمتوں کو جو اللہ نے تم پر نازل کی ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر آخر تم کہاں اوندھے چلے جارہے ہو ؟
اے لوگو ! یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لہذا تمہیں یہ دنیوی زندگی ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ اللہ کے معاملے میں تمہیں وہ (شیطان) دھوکے میں ڈالنے پائے جو بڑا دھوکے باز ہے۔
یقین جانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے اس کو دشمن ہی سمجھتے رہو۔ وہ تو اپنے ماننے والوں کو جو دعوت دیتا ہے وہ اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ دوزخ کے باسی بن جائیں۔
بھلا بتاؤ کہ جس شخص کی نظروں میں اس کی بدعملی ہی خوشنما بنا کر پیش کی گئی ہو، جس کی بنا پر وہ اس بدعملی کو اچھا سمجھتا ہو (وہ نیک آدمی کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟) کیونکہ اللہ جس کو چاہتا ہے راستے سے بھٹکا دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ٹھیک راستے پر پہنچا دیتا ہے۔ لہذا (اے پیغمبر) ایسا نہ ہو کہ ان (کافروں) پر افسوس کے مارے تمہاری جان ہی جاتی رہے۔ یقین رکھو کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
اور اللہ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم انہیں ہنکا کر ایک ایسے شہر کی طرف لے جاتے ہیں جو (قحط سے) مردہ ہوچکا ہوتا ہے، پھر ہم اس (بارش) کے ذریعے مردہ زمین کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ بس اسی طرح انسانوں کی دوسری زندگی ہوگی۔
جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو، تو تمام تر عزت اللہ کے قبضے میں ہے۔ پاکیزہ کلمہ اسی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اس کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اور جو لوگ بری بری مکاریاں کر رہے ہیں، ان کو سخت عذاب ہوگا، اور ان کی مکاری ہی ہے جو مل یا میٹ ہوجائے گی۔
اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنادیا۔ اور کسی مادہ کو جو کوئی حمل ہوتا ہے، اور جو کچھ وہ جنتی ہے وہ سب اللہ کے علم سے ہوتا ہے۔ اور کسی عمر رسیدہ کو جتنی عمر دی جاتی ہے، اور اس کی عمر میں جو کوئی کمی ہوتی ہے، وہ سب ایک کتاب میں درج ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
اور دو دریا برابر نہیں ہوتے۔ ایک ایسا میٹھا ہے کہ اس سے پیاس بجھتی ہے، جو پینے میں خوشگوار ہے اور دوسرا کڑوا نمکین۔ اور ہر ایک سے تم (مچھلیوں کا) تازہ گوشت کھاتے ہو، اور وہ زیور نکالتے ہو جو تمہارے پہننے کے کام آتا ہے۔ اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ اس (دریا) میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔
وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہے۔ (ان میں سے) ہر ایک کسی مقررہ میعاد تک کے لیے رواں دواں ہے۔ یہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے، ساری بادشاہی اسی کی ہے۔ اور اسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو تم پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سنیں گے ہی نہیں، اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔ اور قیامت کے دن وہ خود تمہارے شرک کی تردید کریں گے۔ اور جس ذات کو تمام باتوں کی مکمل خبر ہے اس کی برابر تمہیں کوئی اور صحیح بات نہیں بتائے گا۔
اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جس کسی پر بڑا بوجھ لدا ہوا ہو، وہ اگر کسی اور کو اس کے اٹھانے کی دعوت دے گا تو اس میں سے کچھ بھی اٹھایا نہیں جائے گا، چاہے وہ (جسے بوجھ اٹھانے کی دعوت دی گئی تھی) کوئی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اے پیغمبر) تم انہی لوگوں کو خبردار کرسکتے ہو جو اپنے پروردگار کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتے ہوں۔ اور جنہوں نے نماز قائم کی ہو، اور جو شخص پاک ہوتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے پاک ہوتا ہے۔ اور آخرکار سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اور اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو جو (کافر) ان سے پہلے تھے، انہوں نے بھی (رسولوں کو) جھٹلایا تھا۔ ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر، صحیفے لے کر اور روشنی پھیلانے والی کتاب لے کر آئے تھے۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ذریعے رنگ برنگ کے پھل اگائے ؟ اور پہاڑوں میں بھی ایسے ٹکڑے ہیں جو رنگ برنگ کے سفید اور سرخ ہیں، اور کالے سیاہ بھی۔
اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی ایسے ہیں جن کے رنگ مختلف ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ یقینا اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، بہت بخشنے والا بھی۔
جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اور جنہوں نے نماز کی پابندی کر رکھی ہے، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ (نیک کاموں میں) خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی نقصان نہیں اٹھائے گی۔
اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہارے پاس وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی ہے وہ سچی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے۔ یقینا اللہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
پھر ہم نے اس کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جنہیں ہم نے چن لیا تھا پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں جو درمیانے درجے کے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں۔ اور یہ (اللہ کا) بہت بڑا فضل ہے۔
اور جن لوگوں نے کفر کی روش اپنا لی ہے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے، نہ تو ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر ہی جائیں، اور نہ ان سے دوزخ کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ ہر ناشکرے کافر کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
اور وہ اس دوزخ میں چیخ پکار مچائیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں باہر نکال دے تاکہ ہم جو کام پہلے کیا کرتے تھے انہیں چھوڑ کر نیک عمل کریں۔ (ان سے جواب میں کہا جائے گا کہ) بھلا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اس میں سوچنا سمجھنا ہوتا، وہ سمجھ لیتا ؟ اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا۔ اب مزا چکھو، کیونکہ کوئی نہیں ہے جو ایسے ظالموں کا مددگار بنے۔
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (پچھلے لوگوں کا) جانشین بنایا۔ اب جو شخص کفر کرے گا تو اس کا کفر اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے پاس غضب کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کرتا، اور کافروں کو ان کے کفر سے خسارے کے سوا کسی چیز میں ترقی حاصل نہیں ہوتی۔
(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : بھلا بتاؤ تم اللہ کو چھوڑ کر اپنے جن من گھڑت شریکوں کو پوجا کرتے ہو، ذرا مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں (کی پیدائش میں) ان کی کونسی شرکت ہے ؟ یا پھر ہم نے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے جس کی کسی واضح ہدایت پر یہ لوگ قائم ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ ظالم لوگ ایک دوسرے کو خالص دھوکے کی یقین دہانی کرتے آئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹلیں نہیں، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو انہیں تھام سکے۔ یقینا اللہ بڑا بردبار، بہت بخشنے والا ہے۔
اور انہوں نے پہلے اللہ کی بڑے زوروں میں قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) آیا تو وہ ہر دوسری امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے۔ مگر جب ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا تو اس کے آنے سے ان کی حالت میں اور کوئی ترقی نہیں ہوئی، سوائے اس کے کہ یہ (حق کے راستے سے) اور زیادہ بھاگنے لگے۔
اس لیے کہ انہیں زمین میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ تھا، اور انہوں نے (حق کی مخالفت میں) بری بری چالیں چلنی شروع کردیں۔ حالانکہ بری چالیں کسی اور کو نہیں خود اپنے چلنے والوں ہی کو گھیرے میں لے لیتی ہیں۔ اب یہ لوگ اس دستور کے سوا کس بات کے منتظر ہیں جس پر پچھلے لوگوں کے ساتھ عمل ہوتا آیا ہے ؟ (اگر یہ بات ہے) تو تم اللہ کے طے شدہ دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے، اور نہ تم اللہ کے طے شدہ دستور کو کبھی ٹلتا ہوا پاؤ گے۔
اور کیا ان لوگوں نے زمین میں کبھی سفر نہیں کیا جس سے وہ یہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں، ان کا انجام کیسا ہوا، جبکہ وہ طاقت میں ان سے بہت زیادہ مضبوط تھے ؟ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں یا زمین کی کوئی چیز اسے عاجز کرسکے۔ بیشک وہ علم کا بھی مالک ہے، قدرت کا بھی مالک۔
اور اگر اللہ لوگوں کے ہر کرتوت پر ان کی پکڑ کرنے لگتا تو اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ایک معین مدت تک کے لیے ان کو مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھ لے گا۔