یاد رکھو کہ خالص بندگی اللہ ہی کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے بجائے دوسرے رکھوالے بنا لیے ہیں۔ (یہ کہہ کر کہ) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ ان کے درمیان اللہ ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ کسی ایسے شخص کو راستے پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو، کفر پر جما ہوا ہو۔
اگر اللہ یہ چاہتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا، (لیکن) وہ پاک ہے (اس بات سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو) وہ تو اللہ ہے، ایک، اور زبردست اقتدار کا مالک۔
اس نے سارے آسمان اور زمین برحق پیدا کیے ہیں۔ وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا، اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا یا ہوا ہے۔ ہر ایک کسی معین مدت تک کے لیے رواں دواں ہے۔ یاد رکھو وہ بڑے اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔
اس نے تم سب کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑ بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے پیدا کیے وہ تمہاری تخلیق تمہاری ماؤں کے پیٹ میں اس طرح کرتا ہے کہ تین اندھیریوں کے درمیان تم بناوٹ کے ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے سے گزرتے ہو۔ وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے۔ ساری بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر بھی تمہارا منہ آخر کوئی کہاں سے موڑ دیتا ہے ؟
اگر تم کفر اختیار کرو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تم سے بےنیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ دلوں کی باتیں بھی خوب جانتا ہے۔
اور جب انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی سے لو لگا کر پکارتا ہے، پھر جب وہ انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا، اور اللہ کے لیے شریک گھڑ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے۔ کہہ دو کہ : کچھ دن اپنے کفر کے مزے اڑالے، یقینا تو دوزخ والوں میں شامل ہے۔
بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے ؟ کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابر ہیں ؟ (مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔
اب تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو، عبادت کرو۔ کہہ دو کہ : گھاٹے کا سودا کرنے والے تو وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں سب کو ہرا بیٹھیں گے۔ یاد رکھو کہ کھلا ہوا گھاٹا یہی ہے۔
ایسے لوگوں کے لیے ان کے اوپر بھی آگ کے بادل ہیں اور ان کے نیچے بھی ویسے ہی بادل۔ یہ وہی چیز ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لہذا اے میرے بندو۔ میرا خوف دل میں رکھو۔
اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا ہے کہ وہ طاغوت کی عبادت کرنے لگیں اور انہوں نے اللہ سے لوگ لگائی ہے خوشی کی خبر انہی کے لیے، لہذا میرے ان بندوں کو خوشی کی خبر سنا دو ۔
البتہ جنہوں نے اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھا ہے ان کے لیے اوپر تلے بنی ہوئی اونچی اونچی عمارتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ کبھی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے زمین کے سوتوں میں پرو دیا ؟ پھر وہ اس پانی سے ایسی کھیتیاں وجود میں لاتا ہے جن کے رنگ مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں سو کھ جاتی ہیں تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ پیلی پڑگئی ہیں، پھر وہ انہیں چورا چورا کردیتا ہے۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو عقل رکھتے ہیں۔
بھلا کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے پروردگار کی عطا کی ہوئی روشنی میں آچکا ہے، (سنگ دلوں کے برابر ہوسکتا ہے ؟) ہاں، بربادی ان کی ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، جس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں اپنے پروردگار کا رعب ہے ان کی کھالیں اس سے کانپ اٹھتی ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعے وہ جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ راستے سے بھٹکا دے، اسے کوئی راستے پر لانے والا نہیں۔
بھلا (اس شخص کا کیسا برا حال ہوگا) جو قیامت کے دن اپنے چہرے ہی سے بدترین عذاب کو روکنا چاہے گا ؟ اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ : چکھو مزہ اس کمائی کا جو تم نے کر رکھی تھی۔
اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت ایسی جیسی ہوسکتی ہے ؟ الحمدللہ (اس مثال سے بات بالکل واضح ہوگئی) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔
اب بتاؤ کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، اور جب سچی بات اس کے پاس آئے تو وہ اس کو جھٹلا دے ؟ کیا جہنم میں ایسے کافروں کا ٹھکانا نہیں ہوگا ؟
(اے پیغمبر !) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ اور یہ لوگ تمہیں اس کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ راستے سے بھٹکا دے، اسے کوئی راستے پر لانے والا نہیں
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے (ان سے) کہو کہ : ” ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن (بتوں) کو پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کیا یہ اس کے پہنچائے ہوئے نقصان کو دور کرسکتے ہیں ؟ یا اگر اللہ مجھ پر مہربانی فرمانا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ “ کہو کہ ” میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ “
(اے پیغمبر !) ہم نے لوگوں کے فائدے کے لیے تم پر یہ کتاب برحق نازل کی ہے۔ اب جو شخص راہ راست پر آجائے گا۔ وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے آئے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے گا، وہ اپنی گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرے گا، اور تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو۔
اللہ تمام روح کو ان کی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے، اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کرلیتا ہے،) پھر جن کے بارے میں اس نے موت کا فیصلہ کرلیا۔ انہیں اپنے پاس روک لیتا ہے، اور دوسری روحوں کو ایک معین وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے یقینا اس بات میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔
بھلا کیا ان لوگوں نے اللہ (کی اجازت) کے بغیر کچھ سفارشی گھڑ رکھے ہیں ؟ (ان سے) کہو کہ : چاہے یہ نہ کوئی اختیار رکھتے ہوں، نہ کچھ سمجھتے ہوں (پھر بھی تم انہیں سفارشی مانتے رہو گے ؟)
اور جب کبھی تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل بیزار ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ لوگ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔
کہو :” اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر غائب و حاضر کے جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں “۔
اور جن لوگوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی، تو قیامت کے دن بد ترین عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ کے طور پر دینے لگیں گے، اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ ان کے سامنے آجائے گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔
پھر انسان (کا حال یہ ہے کہ جب اس) کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، اس کے بعد جب ہم اسے اپنی طرف سے کسی نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ : ” یہ تو مجھے (اپنے) ہنر کی وجہ سے ملی ہے “۔ نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے
اور انہوں نے جو کمائی کی تھی، اس کی برائیاں انہی پر آپڑیں، اور ان (عرب کے) لوگوں میں جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، ان کی کمائی کی برائیاں بھی عنقریب ان پر آپڑیں گی، اور یہ (اللہ) کو عاجز نہیں کرسکتے۔
اور کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے، رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور وہی تنگی بھی کردیتا ہے ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
کہہ دو کہ : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس جو بہترین باتیں نازل کی گئی ہیں، ان کی پیروی کرو، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی شخص کو یہ کہنا پڑے کہ : ” ہائے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے معاملے میں برتی ! اور سی بات یہ کہ میں تو (اللہ تعالیٰ کے احکام کا) مذاق اڑانے والوں میں شامل ہوگیا تھا۔ “
اور جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، اللہ ان کو نجات دے کر ان کی مراد کو پہنچا دے گا، انہیں کوئی تکلیف چھوے گی بھی نہیں، اور نہ انہیں کسی بات کا غم ہوگا
اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے اور تم سے پہلے تمام پیغمبروں سے وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا۔ اور تم یقین طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔
اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں پہچانی جیسا کہ اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ پوری کی پوری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی، اور سارے کے سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بالا و برتر اس شرک سے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔
اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں وہ سب بےہوش ہوجائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، پھر دوسری بار پھونکا جائے تو وہ سب لوگ پل بھر میں کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اور انبیاء اور سب گواہوں کو حاضر کردیا جائے گا اور لوگوں کے درمیان بالکل برحق فیصلہ کیا جائے گا۔ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
اور جن لوگوں نے کفر اپنایا تھا انہیں جہنم کی طرف گروہوں کی شکل میں ہانکا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہوں، اور تمہیں اس دن کا سامنا کرنے سے خبر دار کرتے ہوں ؟ وہ کہیں گے کہ بیشک آئے تھے، لیکن عذاب کی بات کافروں پر سچی ہو کر رہی۔
اور جنہوں نے اپنے پروردگار سے تقویٰ کا معاملہ رکھا تھا انہیں جنت کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے جبکہ اس کے دروازے ان کے لیے پہلے سے کھولے جا چکے ہوں گے (تو وہ عجیب عالم ہوگا۔) اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے کہ : سلام ہو آپ پر، خوب رہے آپ لوگ ! اب اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لیے آ جائیے۔
اور وہ (جنتی) کہیں گے کہ تمام تر شکر اللہ کا ہے جس نے ہم سے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں اس سرزمین کا ایسا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنالیں۔ ثابت ہوا کہ بہترین انعام (نیک) عمل کرنے والوں کا ہے۔
اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان برحق فیصلہ کردیا جائے گا، اور کہنے والے کہیں گے کہ : تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔