اور (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس کے لیے ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ہمارے کان بہرے ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ لہذا تم اپنا کام کرتے رہو۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ میں تو تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ (البتہ) مجھ پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا تم اپنا رخ سیدھا اسی کی طرف رکھو، اور اسی سے مغفرت مانگو۔ اور بڑی تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے۔
کہہ دو کہ : کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے
اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا : چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں
چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کردیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل
یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کے پاس پیغمبر (کبھی) ان کے آگے سے اور (کبھی) ان کے پیچھے سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ : اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے بھیجتا۔ لہذا جس بات کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے۔ ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
پھر عاد کا قصہ تو یہ ہوا کہ انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کا رویہ اختیار کیا، اور کہا کہ : کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو۔ بھلا کیا ان کو یہ نہیں سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ طاقت میں ان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے
چنانچہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں ان پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔
رہے ثمود، تو ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں اندھا رہنے کو زیادہ پسند کیا، چنانچہ انہوں نے جو کمائی کر رکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کو ایسے عذاب کے کڑ کے نے آپکڑا جو سراپا ذلت تھا
وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ کہیں گی کہ ہمیں اسی ذات نے بولنے کی طاقت دے دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی عطا فرمائی ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور اسی کی طرف تمہیں واپس لے جایا جا رہا ہے۔
اور تم (گناہ کرتے وقت) اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں لیکن تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے
اب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر یہ صبر کریں تب بھی آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر یہ معذرت چاہیں تو یہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی معذرت قبول کی جاتی ہے
اور ہم نے (دنیا میں) ان پر کچھ ساتھی مسلط کردئیے تھے جنہوں نے ان کے آگے پیچھے کے سارے کاموں کو خوشنما بنادیا تھا چنانچہ جو دوسرے جنات اور انسان ان سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر عذاب کی بات ان پر بھی سچی ہوئی۔ یقینا وہ سب خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں
اور یہ کافر لوگ کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان جنات اور انسانوں دونوں کی صورت دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ایسا روندیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں ۔
(دوسری طرف) جن لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر بیشک فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اتریں گے کہ : نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا
ہم دنیا والی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی تھے، اور آخرت میں بھی رہیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے ہے جس کو تمہارا دل چاہے، اور اس میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے جو تم منگوانا چاہو
اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو اور سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر واقعی تمہیں اسی کی عبادت کرتے ہو
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ مرجھائی پڑی ہے۔ پھر جونہی ہم نے اس پر پانی اتارا، وہ حرکت میں آگئی، اور اس میں بڑھوتری پیدا ہوگئی، حقیقت یہ ہے کہ جس نے اس زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے
جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔ بھلا بتاؤ کہ جس شخص کو آگ میں ڈال دیا جائے، وہ بہتر ہے، یا وہ شخص جو قیامت کے دن بےخوف و خطر آئے گا (اچھا) جو چاہو کرلو یقین جانو کہ وہ تمہارے ہر کام کو خوب دیکھ رہا ہے
جس تک باطل کی کوئی رسائی نہیں ہے نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے یہ اس ذات کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، تمام تعریفیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں
(اے پیغمبر !) تم سے جو باتیں کہی جا رہی ہیں، وہ وہی ہیں جو تم سے پہلے پیغمبروں سے کہی گئی تھیں، یقین رکھو تمہارا پروردگار مغفرت کرنے والا بھی ہے، اور دردناک سزا دینے والا بھی
اور اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ : اس کی آیتیں کھول کھول کر کیوں نہیں بیان کی گئیں ؟ یہ کیا بات ہے کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ؟ کہہ دو کہ جو لوگ ایمان لائیں، ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا کا سامان ہے اور جو ایمان نہیں لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اور یہ (قرآن) ان کے لیے اندھیرے میں بھٹکنے کا سامان ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی دور دراز جگہ سے پکارا جا رہا ہے
اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، پھر اس میں بھی اختلاف ہوا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، تو ان لوگوں کا معاملہ چکا ہی دیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو خلجان میں ڈال رکھا ہے
جو کوئی نیک عمل کرتا ہے، وہ اپنے ہے فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برائی کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کرتا ہے اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے
قیامت کے کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور اللہ کے علم کے بغیر نہ پھلوں میں سے کوئی پھل اپنے شگوفوں سے نکلتا ہے اور نہ کسی مادہ کو حمل ٹھہرتا ہے، اور نہ اس کے کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، اور جس دن وہ ان (مشرکوں) کو پکارے گا، کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ تو وہ کہیں گے کہ : ہم تو آپ سے یہی عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اب اس بات کا گواہ نہیں ہے (کہ آپ کا کوئی شریک ہے)
اور پہلے یہ لوگ جن (جھوٹے خداؤں) کو پکارا کرتے تھے ان کو اب ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا، اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے لیے اب بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
اور جو تکلیف اسے پہنچتی تھی اگر اس کے بعد ہم اسے اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیں تو وہ لازم یہ کہے گا کہ : یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے، اور اگر مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا تو مجھے یقین ہے کہ اس کے پاس بھی مجھے خوش حالی ہی ضرور ملے گی۔ اب ہم ان کافروں کو یہ ضرور جتلائیں گے کہ انہوں نے کیا عمل کیے ہیں اور انہیں ایک سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔
اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دور چلا جاتا ہے، اور جب اسے کوئی برائی چھو جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔
(اے پیغمبر ان کافروں سے) کہو کہ : ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے آیا ہے، پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا تو اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو (اس کی) مخالفت میں بہت دور نکل گیا ہو ؟
ہم انہیں اپنی نشانیاں کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل کر سامنے آجائے کہ یہی حق ہے۔ کیا تمہارے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا گواہ ہے ؟