وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت اتار دی، تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کا اضافہ ہو۔ اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
تاکہ وہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ بسے رہیں گے، اور ان کی برائیوں کو ان سے دور کردے، اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی زبردست کامیابی ہے۔
اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اللہ کے ساتھ بدگمانیاں رکھتے ہیں، برائی کا پھیرا انہی پر پڑا ہوا ہے، اور اللہ ان سے ناراض ہے اس نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
(اے پیغمبر !) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں ۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا، اس کے عہد کو توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اس کو زبردست ثواب عطا کرے گا۔
وہ دیہاتی جو (حدیبیہ کے سفر میں) پیچھے رہ گئے تھے، اب وہ تم سے ضرور یہ کہیں گے کہ : ہمارے مال و دولت اور ہمارے اہل و عیال نے ہمیں مشغول کرلیا تھا، اس لیے ہمارے لیے مغفرت کی دعا کردیجیے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ (ان سے) کہو کہ : اچھا تو اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا فائدہ پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے سامنے تمہارے معاملے میں کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتا ہو ؟ بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے یہ سمجھا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے مسلمان کبھی اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے، اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوتی تھی، اور تم نے برے برے گمان کیے تھے، اور تم ایسے لوگ بن گئے تھے جنہیں برباد ہونا تھا۔
(مسلمانو) جب تم غنیمت کے مال لینے کے لیے چلو گے تو یہ (حدیبیہ کے سفر سے) پیچھے رہنے والے تم سے کہیں گے کہ : ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ وہ چاہیں گے کہ اللہ کی بات کو بدل دیں۔ تم کہہ دینا کہ : تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ اللہ نے پہلے سے یوں ہی فرما رکھا ہے۔ اس پر وہ کہیں گے کہ : دراصل آپ لوگ ہم سے حسد رکھتے ہیں۔ نہیں ! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ایسے ہیں کہ بہت کم بات سمجھتے ہیں۔
ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دینا کہ : عنقریب تمہیں ایسے لوگوں کے پاس (لڑنے کے لیے) بلایا جائے گا جو بڑے سخت جنگجو ہوں گے، کہ یا تو ان سے لڑتے رہو، یا وہ اطاعت قبول کرلیں۔ اس وقت اگر تم (جہاد کے اس حکم کی) اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم منہ موڑو گے جیسا کہ تم نے پہلے منہ موڑا تھا تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔
اندھے آدمی پر (جہاد نہ کرنے کا) کوئی گناہ نہیں ہے، نہ لنگڑے آدمی پر کوئی گناہ ہے، اور نہ بیمار آدمی پر گناہ ہے۔ اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے، اللہ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو کوئی منہ موڑے گا، اسے دردناک عذاب دے گا۔
یقینا اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔
اللہ نے تم سے بہت سے مال غنیمت کا وعدہ کر رکھا ہے جو تم حاصل کرو گے، اب فوری طور پر اس نے تمہیں یہ فتح دے دی ہے، اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا، تاکہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے، اور تمہیں اللہ سیدھے راستے پر ڈال دے۔
اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا، جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا، اور تمہیں مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو جو ٹھہرے ہوئے کھڑے تھے، اپنی جگہ پہنچنے سے روک دیا، اور اگر کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (مکہ میں) نہ ہوتیں جن کے بارے میں تمہیں خبر بھی نہ ہوتی کہ تم انہیں پیس ڈالو گے، اور اس کی وجہ سے بیخبر ی میں تم کو نقصان پہنچ جاتا (تو ہم ان کافروں سے تمہاری صلح کے بجائے جنگ کروا دیتے، لیکن ہم نے جنگ کو اس لیے روکا) تاکہ اللہ جس کو چاہے، اپنی رحمت میں داخل کردے۔ (البتہ) اگر وہ مسلمان وہاں سے ہٹ جاتے تو ہم ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے، انہیں دردناک سزا دیتے۔
(چنانچہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں اس حمیت کو جگہ دی جو جاہلیت کی حمیت تھی تو اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی۔ اور ان کو تقوی کی بات پر جمائے رکھا، اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا ہے جو واقعے کے بالکل مطابق ہے۔ تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں اس طرح امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے کہ تم (میں سے کچھ) نے اپنے سروں کو بےخوف و خطر منڈوایا ہوگا اور (کچھ نے) بال تراشے ہوں گے۔ اللہ وہ باتیں جانتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے ایک قریبی فتح طے کردی ہے۔
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔