Verse 1 — Surah Qaf 50:1
ق، قرآن مجید کی قسم ! (ان کافروں نے پیغمبر کو کسی دلیل کی وجہ سے نہیں جھٹلایا)
Verse 2 — Surah Qaf 50:2
بلکہ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کوئی (آخرت سے) ڈرانے والا خود انہی میں سے (کیسے) آگیا، چنانچہ ان کافروں نے یہ کہا ہے کہ : یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔
Verse 3 — Surah Qaf 50:3
بھلا کیا ہم مر کھپ جائیں اور مٹی ہوجائیں گے، (اس وقت ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا ؟) یہ واپسی تو ہماری سمجھ سے دور ہے۔
Verse 4 — Surah Qaf 50:4
واقعہ تو یہ ہے کہ زمین ان کے جن حصوں کو (کھا کر) گھٹا دیتی ہے ہمیں ان کا پورا علم ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سب کچھ محفوظ رکھتی ہے۔
Verse 5 — Surah Qaf 50:5
دراصل انہوں نے سچ کو اسی وقت جھٹلا دیا تھا جب وہ ان کے پاس آیا تھا، چنانچہ وہ متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔
Verse 6 — Surah Qaf 50:6
بھلا کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے ؟ اور ہم نے اسے خوبصورتی بخشی ہے، اور اس میں کسی قسم کے رخنے نہیں ہیں۔
Verse 7 — Surah Qaf 50:7
اور زمین ہے کہ ہم نے اسے پھیلا دیا ہے اور اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائی ہیں۔
Verse 8 — Surah Qaf 50:8
تاکہ وہ اللہ سے لو لگانے والے ہر بندے کے لیے بصیرت اور نصیحت کا سامان ہو۔
Verse 9 — Surah Qaf 50:9
اور ہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے۔
Verse 10 — Surah Qaf 50:10
اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن میں تہہ بر تہہ خوشے ہوتے ہیں۔
Verse 11 — Surah Qaf 50:11
تاکہ ہم بندوں کو رزق عطا کریں اور (اس طرح) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زندگی دے دی، بس اسی طرح (انسانوں کا قبروں سے) نکلنا بھی ہوگا۔
Verse 12 — Surah Qaf 50:12
ان سے پہلے نوح کی قوم اور اصحاب الرس اور ثمود کے لوگوں نے بھی (اس بات کو) جھٹلایا تھا۔
Verse 13 — Surah Qaf 50:13
نیز قوم عاد اور قوم فرعون اور لوط کے بھائیوں نے بھی۔
Verse 14 — Surah Qaf 50:14
اور اصحاب الایکہ اور تبع قوم نے بھی۔ ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا، اس لیے میں نے جس عذاب سے ڈرایا تھا، وہ سچ ہو کر رہا۔
Verse 15 — Surah Qaf 50:15
بھلا کیا ہم پہلی بات پیدا کرنے سے تھک گئے تھے ؟ نہیں ! لیکن یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کے بارے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
Verse 16 — Surah Qaf 50:16
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں، ان (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
Verse 17 — Surah Qaf 50:17
اس وقت بھی جب (اعمال کو) لکھنے والے دو فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے۔
Verse 18 — Surah Qaf 50:18
انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔
Verse 19 — Surah Qaf 50:19
اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔
Verse 20 — Surah Qaf 50:20
اور صورت پھونکا جانے والا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس سے ڈرایا جاتا تھا۔
Verse 21 — Surah Qaf 50:21
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا، اور ایک گواہی دینے والا
Verse 22 — Surah Qaf 50:22
حقیقت یہ ہے کہ تو اس واقعے کی طرف سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تجھ سے وہ پردہ ہٹا دیا ہے جو تجھ پر پڑا ہوا تھا۔ چنانچہ آج تیری نگاہ خوب تیز ہوگئی ہے۔
Verse 23 — Surah Qaf 50:23
اور اس کا ساتھی کہے گا کہ : یہ ہے وہ (اعمال نامہ) جو میرے پاس تیار ہے۔
Verse 24 — Surah Qaf 50:24
(حکم دیا جائے گا کہ) تم دونوں ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کٹر کافر اور حق کا پکا دشمن تھا۔
Verse 25 — Surah Qaf 50:25
جو دوسروں کو بھلائی سے روکنے کا عادی، بےحد زیادتی کرنے والا اور (حق بات میں) شک ڈالنے والا تھا۔
Verse 26 — Surah Qaf 50:26
جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنا رکھا تھا۔ لہذا اب تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو ۔
Verse 27 — Surah Qaf 50:27
اس کا ساتھی کہے گا کہ : اے ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔
Verse 28 — Surah Qaf 50:28
اللہ تعالیٰ کہے گا کہ : تم میرے سامنے جھگڑے نہ کرو، اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کی دھمکی بھیج چکا تھا۔
Verse 29 — Surah Qaf 50:29
میرے سامنے وہ بات بدلی نہیں جاسکتی اور میں بندوں پر کوئی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔
Verse 30 — Surah Qaf 50:30
وہ وقت (یاد رکھو) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ : کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ : کیا کچھ اور بھی ہے ؟
Verse 31 — Surah Qaf 50:31
اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔
Verse 32 — Surah Qaf 50:32
(اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے یہ وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے ہو، (اور) اپنی نگرانی رکھنے والا ہو۔
Verse 33 — Surah Qaf 50:33
جو خدائے رحمن سے اسے دیکھے بغیر ڈرتا ہو، اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا دل لے کر آئے۔
Verse 34 — Surah Qaf 50:34
تم سب اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ وہ دن ابدی زندگی کا دن ہوگا۔
Verse 35 — Surah Qaf 50:35
ان (جنتیوں) کو وہ سب کو کچھ ملے گا جو وہاں وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے۔
Verse 36 — Surah Qaf 50:36
اور ان (مکہ کے کافروں) سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی طاقت پر گرفت ان سے زیادہ سخت تھی، چنانچہ انہوں نے سارے شہر چھان مارے تھے۔ کیا ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ تھی ؟
Verse 37 — Surah Qaf 50:37
یقینا اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس دل ہو، یا جو حاضر دماغ بن کر کان دھرے۔
Verse 38 — Surah Qaf 50:38
اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، اور ہمیں ذرا سی تھکاوٹ بھی چھو کر نہیں گزری۔
Verse 39 — Surah Qaf 50:39
لہذا (اے پیغمبر) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں تم اس پر صبر کرو، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، سورج نکلنے سے پہلے بھی، اور سورج ڈوبنے سے پہلے بھی۔
Verse 40 — Surah Qaf 50:40
اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ اور سجدوں کے بعد بھی۔
Verse 41 — Surah Qaf 50:41
اور ذرا توجہ سے سنو ! جس دن ایک پکارنے والا ایک قریبی جگہ سے پکارے گا۔
Verse 42 — Surah Qaf 50:42
جس دن لوگ سچ مچ اس پکار کی آواز سنیں گے، وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔
Verse 43 — Surah Qaf 50:43
یقین رکھو ہم ہی ہیں جو زندگی بھی دیتے ہیں اور موت بھی اور آخر کار سب کو ہمارے پاس ہی لوٹنا ہے۔
Verse 44 — Surah Qaf 50:44
اس دن جب زمین پھٹ کر ان کو اس طرح باہر کردے گی کہ وہ جلدی جلدی نکل رہے ہوں گے۔ اس طرح سب کو جمع کرلینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔
Verse 45 — Surah Qaf 50:45
جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور (اے پیغمبر) تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ لہذا قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرتے رہو جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔