Back to Languages

Urdu - Chapter 51 - Adh-Dhariyat

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Adh-Dhariyat 51:1

قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو گرد اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔

Verse 2 — Surah Adh-Dhariyat 51:2

پھر ان کی جو (بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔

Verse 3 — Surah Adh-Dhariyat 51:3

پھر ان کی جو آسانی سے رواں دواں ہوجاتی ہیں۔

Verse 4 — Surah Adh-Dhariyat 51:4

پھر ان کی جو چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔

Verse 5 — Surah Adh-Dhariyat 51:5

کہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ یقینی طور پر سچا ہے۔

Verse 6 — Surah Adh-Dhariyat 51:6

اور اعمال کا بدلہ یقینا مل کر رہے گا۔

Verse 7 — Surah Adh-Dhariyat 51:7

قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔

Verse 8 — Surah Adh-Dhariyat 51:8

کہ تم متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔

Verse 9 — Surah Adh-Dhariyat 51:9

اس (آخرت کی حقیقت) سے وہی منہ موڑتا ہے جو حق سے بالکل ہی مڑا ہوا ہے۔

Verse 10 — Surah Adh-Dhariyat 51:10

خدا کی مار ہو ان پر جو (عقیدے کے معاملے میں) اٹکل پیچوں باتیں بنایا کرتے ہیں۔

Verse 11 — Surah Adh-Dhariyat 51:11

جو غفلت میں ایسے ڈوبے ہیں کہ سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں۔

Verse 12 — Surah Adh-Dhariyat 51:12

پوچھتے ہیں کہ : جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟

Verse 13 — Surah Adh-Dhariyat 51:13

اس دن ہوگا جب انہیں آگ پر تپایا جائے گا۔

Verse 14 — Surah Adh-Dhariyat 51:14

کہ چکھو مزہ اپنی شرارت کا۔ یہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ جلدی آجائے۔

Verse 15 — Surah Adh-Dhariyat 51:15

متقی لوگ بیشک باغوں اور چشموں میں اس طرح رہیں گے۔

Verse 16 — Surah Adh-Dhariyat 51:16

کہ ان کا پروردگار انہیں جو کچھ دے گا، اسے وصول کر رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے ہی نیک عمل کرنے والے تھے۔

Verse 17 — Surah Adh-Dhariyat 51:17

وہ رات کے و قت کم سوتے تھے۔

Verse 18 — Surah Adh-Dhariyat 51:18

اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔

Verse 19 — Surah Adh-Dhariyat 51:19

اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔

Verse 20 — Surah Adh-Dhariyat 51:20

اور ان کے لیے جو یقین کرنے والے ہوں، زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

Verse 21 — Surah Adh-Dhariyat 51:21

اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

Verse 22 — Surah Adh-Dhariyat 51:22

اور آسمان ہی میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

Verse 23 — Surah Adh-Dhariyat 51:23

لہذا آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم ! یہ بات یقینا ایسی ہی سچی ہے جیسے یہ بات کہ تم بولتے ہو۔

Verse 24 — Surah Adh-Dhariyat 51:24

(اے پیغمبر) کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ تمہیں پہنچا ہے ؟

Verse 25 — Surah Adh-Dhariyat 51:25

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کہا۔ ابراہیم نے بھی سلام کہا۔ (اور دل میں سوچا کہ) یہ کچھ انجان لوگ ہیں۔

Verse 26 — Surah Adh-Dhariyat 51:26

پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے۔

Verse 27 — Surah Adh-Dhariyat 51:27

اور اسے ان مہمانوں کے سامنے رکھا۔ کہنے لگے : کیا آپ لوگ کھاتے نہیں ؟

Verse 28 — Surah Adh-Dhariyat 51:28

اس سے ابراہیم نے ان کی طرف سے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : ڈرییے نہیں، اور انہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا عالم ہوگا۔

Verse 29 — Surah Adh-Dhariyat 51:29

اس پر ان کی بیوی زور سے بولتی ہوئی آئیں، اور انہوں نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگیں (کیا) ایک بانجھ بڑھیا (بچہ جنے گی ؟)

Verse 30 — Surah Adh-Dhariyat 51:30

مہمانوں نے کہا : تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ یقین جانو وہی ہے جو بڑی حکمت کا، بڑے علم کا مالک ہے۔

Verse 31 — Surah Adh-Dhariyat 51:31

ابراہیم نے کہا : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تم کس مہم پر ہو ؟

Verse 32 — Surah Adh-Dhariyat 51:32

انہوں نے کہا : ہمیں کچھ مجرم لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔

Verse 33 — Surah Adh-Dhariyat 51:33

تاکہ ہم ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائیں۔

Verse 34 — Surah Adh-Dhariyat 51:34

جن پر حد سے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے تمہارے پروردگار کے پاس سے خاص نشان بھی لگا ہوگا۔

Verse 35 — Surah Adh-Dhariyat 51:35

پھر ہوا یہ کہ اس بستی میں جو کوئی مومن تھا اس کو ہم نے وہاں سے نکال لیا۔

Verse 36 — Surah Adh-Dhariyat 51:36

اور اس میں ایک گھر کے سوا ہم نے کسی اور گھر کو مومن نہیں پایا۔

Verse 37 — Surah Adh-Dhariyat 51:37

اور ہم نے اس بستی میں ان لوگوں کے لیے (عبرت کی) ایک نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔

Verse 38 — Surah Adh-Dhariyat 51:38

اور موسیٰ (کے واقعے) میں بھی (ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے انہیں ایک کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تھا۔

Verse 39 — Surah Adh-Dhariyat 51:39

تو فرعون نے اپنی قوت بازو کے بل پر منہ موڑا، اور کہا کہ : یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

Verse 40 — Surah Adh-Dhariyat 51:40

چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا، اور وہ تھا ہی ملامت کے لائق۔

Verse 41 — Surah Adh-Dhariyat 51:41

نیز قوم عاد میں (بھی ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے ان پر ایک ایسی آندھی بھیجی جو ہر بہتری سے بانجھ دی۔

Verse 42 — Surah Adh-Dhariyat 51:42

وہ جس چیز پر بھی گزرتی، اسے ایسا کر چھوڑتی، جیسے وہ گل کر چورا چورا ہوگئی ہو۔

Verse 43 — Surah Adh-Dhariyat 51:43

اور ثمود میں بھی (ایسی ہی نشانی تھی) جب ان سے کہا گیا تھا کہ : تھوڑے وقت تک مزے اڑا لو۔ (پھر سیدھے نہ ہوئے تو عذاب آئے گا)

Verse 44 — Surah Adh-Dhariyat 51:44

اس پر بھی انہوں نے اپنے پروردگار کا حکم ماننے سے سرکشی اختیار کی تو انہیں کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھتے رہ گئے۔

Verse 45 — Surah Adh-Dhariyat 51:45

نتیجہ یہ کہ نہ تو ان میں یہ سکت رہی کہ کھڑے ہوسکیں اور نہ وہ اس قابل تھے کہ اپنا بچاؤ کرتے۔

Verse 46 — Surah Adh-Dhariyat 51:46

اور اس سے بھی پہلے نوح کی قوم کو بھی ہم نے پکڑ میں لیا تھا۔ یقین جانو وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔

Verse 47 — Surah Adh-Dhariyat 51:47

اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا ہے، اور ہم یقینا وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔

Verse 48 — Surah Adh-Dhariyat 51:48

اور زمین کو ہم نے فرش بنایا، چنانچہ ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔

Verse 49 — Surah Adh-Dhariyat 51:49

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

Verse 50 — Surah Adh-Dhariyat 51:50

لہذا دوڑو اللہ کی طرف یقین جانو، میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔

Verse 51 — Surah Adh-Dhariyat 51:51

اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ۔ یقین جانو میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔

Verse 52 — Surah Adh-Dhariyat 51:52

اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کے بارے میں انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ : جادوگر ہے، یا دیوانہ ہے۔

Verse 53 — Surah Adh-Dhariyat 51:53

کیا یہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں۔

Verse 54 — Surah Adh-Dhariyat 51:54

لہذا (اے پیغمبر) تم ان سے بےرخی اختیار کرو، کیونکہ تم قابل ملامت نہیں ہو۔

Verse 55 — Surah Adh-Dhariyat 51:55

اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔

Verse 56 — Surah Adh-Dhariyat 51:56

اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔

Verse 57 — Surah Adh-Dhariyat 51:57

میں ان سے کسی قسم کا رزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔

Verse 58 — Surah Adh-Dhariyat 51:58

اللہ تو خود ہی رزاق ہے، مستحکم قوت والا۔

Verse 59 — Surah Adh-Dhariyat 51:59

اب تو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کی بھی ایسی ہی باری آئے گی جیسے ان کے (پچھلے) ساتھیوں کی باری آئی تھی، اس لیے وہ مجھ سے جلدی (عذاب لانے) کا مطالبہ نہ کریں۔

Verse 60 — Surah Adh-Dhariyat 51:60

غرض جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، ان کی اس دن کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔