Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 67 - Al-Mulk
Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink
Verse 1 — Surah Al-Mulk 67:1
بڑی شان ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
Verse 2 — Surah Al-Mulk 67:2
جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔
Verse 3 — Surah Al-Mulk 67:3
جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے، تم خدائے رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں پاؤ گے۔ اب پھر سے نظر دوڑا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟
Verse 4 — Surah Al-Mulk 67:4
پھر بار بار نظر دوڑاؤ، نتیجہ یہی ہوگا کہ نظر تھک ہار کر تمہارے پاس نامراد لوٹ آئے گی۔
Verse 5 — Surah Al-Mulk 67:5
اور ہم نے قریب والے آسمان کو روشن چراغوں سے سجا رکھا ہے، اور ان کو شیطانوں پر پتھر برسانے کا ذریعہ بھی بنایا ہے، اور ان کے لیے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Verse 6 — Surah Al-Mulk 67:6
اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کا معاملہ کیا ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
Verse 7 — Surah Al-Mulk 67:7
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے دہاڑ نے کی آواز سنیں گے، او وہ جوش مارتی ہوگی۔
Verse 8 — Surah Al-Mulk 67:8
ایسا لگے گا جیسے وہ غصے سے پھٹ پڑے گی۔ جب بھی اس میں (کافروں کا) کوئی گروہ پھینکا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟
Verse 9 — Surah Al-Mulk 67:9
وہ کہیں گے کہ ہاں بیشک ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا، مگر ہم نے (اسے) جھٹلا دیا، اور کہا کہ : اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا، تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم بڑی بھاری گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
Verse 10 — Surah Al-Mulk 67:10
اور وہ کہیں گے کہ : اگر ہم سن لیا کرتے اور سمجھ سے کام لیا کرتے تو (آج) دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔
Verse 11 — Surah Al-Mulk 67:11
اس طرح وہ اپنے گناہ کا خود اعتراف کرلیں گے۔ غرض پھٹکار ہے دوزخ والوں پر۔
Verse 12 — Surah Al-Mulk 67:12
(اس کے برخلاف) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بیشک مغفرت اور بڑا اجر ہے۔
Verse 13 — Surah Al-Mulk 67:13
اور تم اپنی بات چھپا کر کرو، یا زور سے کرو (سب اس کے علم میں ہے، کیونکہ) وہ دلوں تک کی باتوں کا پورا علم رکھنے والا ہے۔
Verse 14 — Surah Al-Mulk 67:14
بھلا جس نے پیدا کیا وہی نہ جانے ؟ جبکہ وہ بہت باریک بین، مکمل طور پر باخبر ہے۔
Verse 15 — Surah Al-Mulk 67:15
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رام کردیا ہے، لہذا تم اس کے مونڈھوں پر چلو پھرو، اور اس کا رزق کھاؤ، اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔
Verse 16 — Surah Al-Mulk 67:16
کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے، تو وہ ایک دم تھر تھرانے لگے ؟
Verse 17 — Surah Al-Mulk 67:17
یا کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بےخوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تم پر پتھروں کی بارش برسادے ؟ پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟
Verse 18 — Surah Al-Mulk 67:18
اور ان سے پہلے جو لوگ تھے، انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا تھا ؟
Verse 19 — Surah Al-Mulk 67:19
اور کیا انہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر نظر اٹھا کر نہیں دیکھا کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں، اور سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمن کے سوا کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے۔ یقینا وہ ہر چیز کی خوب دیکھ بھال کرنے والا ہے۔
Verse 20 — Surah Al-Mulk 67:20
بھلا خدائے رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے ؟ کافر لوگ تو نرے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
Verse 21 — Surah Al-Mulk 67:21
اگر وہ اپنا رزق بند کردے تو بھلا وہ کون ہے جو تمہیں رزق عطا کرسکے ؟ اس کے باوجود وہ سرکشی اور بیزاری پر جمے ہوئے ہیں۔
Verse 22 — Surah Al-Mulk 67:22
بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا چل رہا ہو، وہ منزل تک زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ جو ایک سیدھے راستے پر سیدھا سیدھا چل رہا ہو ؟
Verse 23 — Surah Al-Mulk 67:23
کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (مگر) تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔
Verse 24 — Surah Al-Mulk 67:24
کہہ دو کہ : وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اسی کے پاس تمہیں اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔
Verse 25 — Surah Al-Mulk 67:25
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟
Verse 26 — Surah Al-Mulk 67:26
کہہ دو کہ : اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں تو بس صاف صاف طریقے پر خبردار کرنے والا ہوں۔
Verse 27 — Surah Al-Mulk 67:27
پھر جب وہ اس (قیامت کے عذاب) کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے، اور کہا جائے گا کہ : یہ ہے وہ چیز جو تم مانگا کرتے تھے۔
Verse 28 — Surah Al-Mulk 67:28
(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ چاہے اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرما دے، (دونوں صورتوں میں) کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟
Verse 29 — Surah Al-Mulk 67:29
کہہ دو کہ : وہ رحمن ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں، اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے۔ چنانچہ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
Verse 30 — Surah Al-Mulk 67:30
کہہ دو کہ : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر کسی صبح تمہارا پانی نیچے کو اتر کر غائب ہوجائے تو کون ہے جو تمہیں چشمے سے ابلتا ہوا پانی لاکر دیدے ؟