Back to Languages

Urdu - Chapter 68 - Al-Qalam

Translation by Muhammad Taqi Usmani — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Qalam 68:1

ن (اے پیغمبر) قسم ہے قلم کی، اور اس چیز کی جو وہ لکھ رہے ہیں۔

Verse 2 — Surah Al-Qalam 68:2

اپنے پروردگار کے فضل سے تم دیوانے نہیں ہو۔

Verse 3 — Surah Al-Qalam 68:3

اور یقین جانو تمہارے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔

Verse 4 — Surah Al-Qalam 68:4

اور یقینا تم اخلاق کے اعلی درجے پر ہو۔

Verse 5 — Surah Al-Qalam 68:5

چنانچہ تم بھی دیکھ لو گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے۔

Verse 6 — Surah Al-Qalam 68:6

کہ تم میں سے کون دیوانگی میں مبتلا ہے۔

Verse 7 — Surah Al-Qalam 68:7

یقینا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے جو اپنے راستے سے بھٹک گیا ہے اور ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جنہوں نے سیدھی راہ پالی ہے۔

Verse 8 — Surah Al-Qalam 68:8

لہذا تم ان کی باتوں میں نہ آنا جو (تمہیں) جھٹلا رہے ہیں۔

Verse 9 — Surah Al-Qalam 68:9

یہ چاہتے ہیں کہ تم ڈھیلے پڑجاؤ تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔

Verse 10 — Surah Al-Qalam 68:10

اور کسی بھی ایسے شخص کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھانے والا، بےوقعت شخص ہے۔

Verse 11 — Surah Al-Qalam 68:11

طعنے دینے کا عادی ہے، چغلیاں لگاتا پھرتا ہے۔

Verse 12 — Surah Al-Qalam 68:12

بھلائی سے روکنے والا، زیادتی کرنے والا، بد عمل ہے۔

Verse 13 — Surah Al-Qalam 68:13

بد مزاج ہے اور اس کے علاوہ نچلے نسب والا بھی۔

Verse 14 — Surah Al-Qalam 68:14

صرف اس وجہ سے کہ وہ بڑے مال اور اولاد والا ہے۔

Verse 15 — Surah Al-Qalam 68:15

جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

Verse 16 — Surah Al-Qalam 68:16

عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگا دیں گے۔

Verse 17 — Surah Al-Qalam 68:17

ہم نے ان (مکہ والوں) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسے (ایک) باغ والوں کو اس وقت آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس باغ کا پھل توڑ لیں گے۔

Verse 18 — Surah Al-Qalam 68:18

اور یہ (کہتے ہوئے) وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔

Verse 19 — Surah Al-Qalam 68:19

پھر ہوا یہ کہ جس وقت وہ سو رہے تھے، اس وقت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھیرا لگا گئی۔

Verse 20 — Surah Al-Qalam 68:20

جس سے وہ باغ صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا۔

Verse 21 — Surah Al-Qalam 68:21

پھر صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی۔

Verse 22 — Surah Al-Qalam 68:22

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو اپنے کھیت کی طرف سویرے چل نکلو۔

Verse 23 — Surah Al-Qalam 68:23

چنانچہ وہ ایک دوسرے سے چپکے چپکے یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے۔

Verse 24 — Surah Al-Qalam 68:24

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس اس باغ میں نہ آنے پائے۔

Verse 25 — Surah Al-Qalam 68:25

اور وہ بڑے زوروں میں تیز تیز چلتے ہوئے نکلے۔

Verse 26 — Surah Al-Qalam 68:26

پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ : ہم ضرور راستہ بھٹک گئے ہیں۔

Verse 27 — Surah Al-Qalam 68:27

(پھر کچھ دیر بعد کے بعد کہا کہ) نہیں بلکہ ہم سب لٹ گئے ہیں۔

Verse 28 — Surah Al-Qalam 68:28

ان میں جو شخص سب سے اچھا تھا، وہ کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

Verse 29 — Surah Al-Qalam 68:29

کہنے لگے : ہم اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں، یقینا ہم ظالم تھے۔

Verse 30 — Surah Al-Qalam 68:30

پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔

Verse 31 — Surah Al-Qalam 68:31

(پھر) سب نے (متفق ہوکر) کہا کہ : افسوس ہے ہم سب پر ! یقینا ہم سب نے سرکشی اختیار کرلی تھی۔

Verse 32 — Surah Al-Qalam 68:32

کیا بعید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمادے۔ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

Verse 33 — Surah Al-Qalam 68:33

عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔

Verse 34 — Surah Al-Qalam 68:34

البتہ متقیوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس نعمتوں بھرے باغات ہیں۔

Verse 35 — Surah Al-Qalam 68:35

بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟

Verse 36 — Surah Al-Qalam 68:36

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسی باتیں طے کرلیتے ہو ؟

Verse 37 — Surah Al-Qalam 68:37

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔

Verse 38 — Surah Al-Qalam 68:38

کہ تمہیں وہاں وہی کچھ ملے گا جو تم پسند کرو گے ؟

Verse 39 — Surah Al-Qalam 68:39

یا تم نے ہم سے قیامت کے دن تک باقی رہنے والی قسمیں لے رکھی ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم طے کرو گے ؟

Verse 40 — Surah Al-Qalam 68:40

(اے پیغمبر) ان سے پوچھو کہ : ان میں سے کون ہے جس نے اس بات کی ضمانت لے رکھی ہو ؟

Verse 41 — Surah Al-Qalam 68:41

کیا خدائی میں ان کے مانے ہوئے کچھ شریک ہیں (جو یہ ضمانت لیتے ہوں ؟) تو پھر لے آئیں اپنے ان شریکوں کو، اگر وہ سچے ہیں۔

Verse 42 — Surah Al-Qalam 68:42

جس دن ساق کھول دی جائے گی، اور ان کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ سجدہ کر نہیں سکیں گے۔

Verse 43 — Surah Al-Qalam 68:43

ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اس وقت بھی انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا جب یہ لوگ صحیح سالم تھے (اس وقت قدرت کے باوجود یہ انکار کرتے تھے)

Verse 44 — Surah Al-Qalam 68:44

لہذا (اے پیغمبر) جو لوگ اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں انہیں مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم انہیں اس طرح دھیرے دھیرے (تباہی کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

Verse 45 — Surah Al-Qalam 68:45

اور میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں۔ یقین رکھو میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

Verse 46 — Surah Al-Qalam 68:46

کیا تم ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہو کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جارہے ہیں ؟

Verse 47 — Surah Al-Qalam 68:47

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھ رہے ہوں ؟

Verse 48 — Surah Al-Qalam 68:48

غرض تم اپنے پروردگار کا حکم آنے تک صبر کیے جاؤ، اور مچھلی والے کی طرح مت ہوجانا۔ جب انہوں نے غم سے گھٹ گھٹ کر (ہمیں) پکارا تھا۔

Verse 49 — Surah Al-Qalam 68:49

اگر ان کے پروردگار کے فضل نے انہیں سنبھال نہ لیا ہوتا تو انہیں بری حالت کے ساتھ اسی کھلے میدان میں پھینک دیا جاتا۔

Verse 50 — Surah Al-Qalam 68:50

پھر ان کے پروردگار نے انہیں منتخب فرما لیا، اور انہیں صالحین میں شامل کردیا۔

Verse 51 — Surah Al-Qalam 68:51

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے جب وہ نصیحت کی یہ بات سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنی (تیز تیز) آنکھوں سے تمہیں ڈگمگا دیں گے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو دیوانہ ہے۔

Verse 52 — Surah Al-Qalam 68:52

حالانکہ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔