اور یہ کہ : ہم پہلے سن گن لینے کے لیے آسمان کی کچھ جگہوں پر جا بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن اب جو کوئی سننا چاہتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ایک شعلہ اس کی گھات میں لگا ہوا ہے۔
اور یہ کہ : ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ آیا زمین والوں سے کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے پروردگار نے ان کو راہ راست دکھانے کا ارادہ فرمایا ہے۔
اور یہ کہ : جب ہم نے ہدایت کی بات سن لی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ چنانچہ جو کوئی اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تو اس کو نہ کسی گھاٹے کا اندیشہ ہوگا، اور نہ کسی زیادتی کا۔
اور (اے پیغمبر ! اہل مکہ سے کہو کہ مجھ پر) یہ (وحی بھی آئی ہے) کہ : اگر یہ لوگ راستے پر آکر سیدھے ہوجائیں تو ہم انہیں وافر مقدار میں پانی سے سیراب کریں۔
البتہ (جس چیز پر مجھے اختیار دیا گیا ہے، وہ) اللہ کی طرف سے بات پہنچا دینا، اور اس کے پیغامات ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
(اور یہ لوگ نافرمانی کرتے رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز انہیں نظر آجائے گی جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے تو اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں، اور کون تعداد میں کم ہے۔
تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچا دیے ہیں، اور وہ ان کے سارے حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور اس نے ہر ہر چیز کی پوری طرح گنتی کر رکھی ہے۔