لہذا (اے مشرکو) تمہیں چار مہینے تک اجازت ہے کہ تم (عرب کی) سرزمین میں آزادی سے گھومو پھرو، اور یہ بات جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور یہ بات بھی کہ اللہ اب کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔
اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ بھی مشرکین سے دست بردار ہوچکا ہے، اور اس کا رسول بھی۔ اب (اے مشرکو) اگر تم توبہ کرلو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا، اور اگر تم نے (اب بھی) منہ موڑے رکھا تو یاد رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور تمام کافروں کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔
البتہ (مسلمانو) جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا، پھر ان لوگوں نے تمہارے ساتھ عہد میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تو ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
چنانچہ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو (جنہوں نے تمہارے ساتھ بدعہدی کی تھی) جہاں بھی پاؤ قتل کر ڈالو، اور انہیں پکڑو، انہیں گھیرو، اور انہیں پکڑنے کے لیے ہر گھات کی جگہ تاک لگا کر بیٹھو۔ ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے اس وقت تک پناہ دو جب تک وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو ۔ یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں علم نہیں ہے۔
ان مشرکین سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ کیسے باقی رہ سکتا ہے ؟ البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے قریب معاہدہ کیا ہے، جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو۔ بیشک اللہ متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
(لیکن دوسرے مشرکین کے ساتھ) کیسے معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی تم پر غالب آجائیں تو تمہارے معاملے میں نہ کسی رشتہ داری کا خیال کریں، اور نہ کسی معاہدے کا ؟ یہ تمہیں اپنی زبانی باتوں سے راضی کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔
انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت لے لینا پسند کرلیا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے کرتوت بہت برے ہیں۔
لہذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے۔ اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں۔
اور اگر ان لوگوں نے اپنا عہد دے دینے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالی ہوں اور تمہارے دین کو طعنے دئیے ہوں، تو ایسے کفر کے سربراہوں سے اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں۔ کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حقیقت نہیں۔
کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا، اور رسول کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا، اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہل کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔
بھلا کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ جہاد کرتے ہیں، اور اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی اور کو خصوصی رازدار نہیں بناتے ؟ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
مشرکین اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، حالانکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ بنے ہوئے ہیں، ان لوگوں کے تو اعمال ہی غارت ہوچکے ہیں، اور دوزخ ہی میں ان کو ہمیشہ رہنا ہے۔
اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ بھائی کفر کو ایمان کے مقابلے میں ترجیح دیں تو ان کو اپنا سرپرست نہ بناؤ ۔ اور جو لوگ ان کو سرپرست بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔
(اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات پر مدد کی ہے، اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا، مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم نے پیٹھ دکھا کر میدان سے رخ موڑ لیا۔
پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔
اے ایمان والو ! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں، اور (مسلمانو) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے (مشرکین سے) بےنیاز کردے گا۔ بیشک اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔
وہ اہل کتاب جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔
یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں۔ اللہ کی مار ہو ان پر ! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں ؟
انہوں نے اللہ کی بجائے اپنے احبار (یعنی یہودی علماء) اور راہبوں (یعنی عیسائی درویشوں) کو خدا بنا لیا ہے۔ اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ ان کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے۔
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔
اے ایمان والو ! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔
جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹیں اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اور تم سب ملکر مشرکوں سے اسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔
اور یہ نسیئ (یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کردینا) تو کفر میں ایک مزید اضافہ ہے جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس عمل کو ایک سال حلال کرلیتے ہیں، اور ایک سال حرام قرار دے دیتے ہیں، تاکہ اللہ نے جو مہینے حرام کیے ہیں ان کی بس گنتی پوری کرلیں، اور (اس طرح) جو بات اللہ نے حرام قرار دی تھی اسے حلال سمجھ لیں۔ ان کی بدعملی ان کی نگاہ میں خوشنما بنادی گئی ہے، اور اللہ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوچ کرو تو تم بوجھ ہو کر زمین سے لگ گئے ؟ کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی پر راضی ہوچکے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر تھوڑا۔
اگر تم کوچ نہیں کرو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا، اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
اگر تم ان کی (یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) مدد نہیں کرو گے تو (ان کا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ ان کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ : غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھی ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی، اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور کافر لوگوں کا بول نیچا کر دکھایا، اور بول تو اللہ ہی کا بالا ہے، اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
(جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔
اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، اور سفر درمیانہ قسم کا ہوتا، تو یہ (منافق لوگ) ضرور تمہارے پیچھے ہو لیتے، لیکن یہ کٹھن فاصلہ ان کے لیے بہت دور پڑگیا۔ اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
(اے پیغمبر) اللہ نے تمہیں معاف کردیا ہے، (مگر) تم نے ان کو (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) اجازت اس سے پہلے ہی کیوں دے دی کہ تم پر یہ بات کھل جاتی کہ کون ہیں جنہوں نے سچ بولا ہے اور تم جھوٹوں کو بھی اچھی طرح جان لیتے۔
اگر ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو اس کے لیے انہوں نے کچھ نہ کچھ تیاری کی ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کا اٹھنا پسند ہی نہیں کیا، اس لیے انہیں سست پڑا رہنے دیا، اور کہہ دیا گیا کہ جو (اپاہج ہونے کی وجہ سے) بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔
اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے تو سوائے فساد پھیلانے کے تمہارے درمیان کوئی اور اضافہ نہ کرتے، اور تمہارے لیے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش میں تمہاری صفوں کے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور خود تمہارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کے مطلب کی باتیں خوب سنتے ہیں۔ اور اللہ ان ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
ان لوگوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے معاملات کی الٹ پھیر کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ حق آیا، اللہ کا حکم غالب ہوا، اور یہ کڑھتے رہ گئے۔
اور انہی میں وہ صاحب بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : مجھے اجازت دے دیجیے، اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے، ارے فتنے ہی میں تو یہ خود پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقین رکھو کہ جہنم سارے کافروں کو گھیرے میں لینے والی ہے۔
اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتے ہیں کہ : ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا، اور (یہ کہہ کر) بڑے خوش خوش واپس جاتے ہیں۔
کہہ دو کہ : اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔
کہہ دو کہ : تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔
اور ان کے چندے قبول کیے جانے میں رکاوٹ کی کوئی اور وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا ہے، اور یہ نماز میں آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور (کسی نیکی میں) خرچ کرتے ہیں تو برا مانتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔
تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔
اور انہی (منافقین) میں وہ بھی ہیں جو صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں آپ کو طعنہ دیتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں صدقات میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) دے دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں، اور اگر ان میں سے انہیں نہ دیا جائے تو ذرا سی دیر میں ناراض ہوجاتے ہیں۔
جو کچھ بھی انہیں اللہ اور اس کے سول نے دے دیا تھا، کیا اچھا ہوتا کہ یہ اس پر راضی رہتے، اور یہ کہتے کہ : اللہ ہمارے لیے کافی ہے، آئندہ اللہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا، اور اس کا رسول بھی۔ ہم تو اللہ ہی سے لو لگائے ہوئے ہیں۔
صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
اور انہی (منافقین) میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ پہنچاتے ہیں اور (ان کے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : وہ تو سراپا کان ہیں۔ کہہ دو کہ : وہ کان ہیں اس چیز کے لیے جو تمہارے لیے بھلائی ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین کرتے ہیں، اور تم میں سے جو (ظاہری طور پر) ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے وہ رحمت (کا معاملہ کرنے والے) ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔
(مسلمانو) یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں اس لیے کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ واقعی مومن ہوں تو اللہ اور اس کے رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کریں۔
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے ٹکر لے تو یہ بات طے ہے کہ اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بڑی بھاری رسوائی ہے۔
منافق لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کہیں کوئی ایسی سورت نازل نہ کردی جائے جو انہیں ان (منافقین) کے دلوں کی باتیں بتلا دے۔ ۔ کہہ دو کہ : (اچھا) تم مذاق اڑاتے رہو، اللہ وہ بات ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈرتے تھے۔
اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقینا یوں کہیں گے کہ : ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو کہ : کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے ؟
بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معافی دے بھی دیں تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے۔ کیونکہ وہ مجرم لوگ ہیں۔
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔ وہ برائی کی تلقین کرتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے، تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بلاشبہ یہ منافق بڑے نافرمان ہیں۔
اللہ نے منافق مردوں، منافق عورتوں اور تمام کافروں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہی ان کو راس آئے گی۔ اللہ نے ان پر پھٹکار ڈال دی ہے، اور ان کے لیے اٹل عذاب ہے۔
(منافقو) تم انہی لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ وہ طاقت میں تم سے مضبوط تر اور مال اور اولاد میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے حصے کے مزے اڑا لیے، پھر تم نے اسی طرح اپنے حصے کے مزے اڑائے، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے کے مزے اڑائے تھے، اور تم بھی ویسی ہی بےہودہ باتوں میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوگئے، اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے خسارے کا سودا کیا۔
کیا ان (منافقوں) کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ہیں ؟ نوح کی قوم، اور عاد وثمود، ابراہیم کی قوم، مدین کے باشندے اور وہ بستیاں جنہیں الٹ ڈالا گیا۔ ان سب کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے۔ پھر اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔
اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے وعدہ کیا ہے ان باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان پاکیزہ مکانات کا جو سدا بہار باغات میں ہوں گے۔ اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔ (جو جنت والوں کو نصیب ہوگی) یہی تو زبردست کامیابی ہے۔
یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں کہ انہوں نے فلاں بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی ہے، اور اپنے اسلام لانے کے بعد انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔ انہوں نے وہ کام کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس میں یہ کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ اور انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے مال دار بنادیا ہے۔ اب اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا، اور اگر یہ منہ موڑیں گے تو اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا، اور روئے زمین پر ان کا نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار۔
اور انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے، اور یقینا نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔
نتیجہ یہ کہ اللہ نے سزا کے طور پر نفاق ان کے دلوں میں اس دن تک کے لیے جما دیا ہے جس دن وہ اللہ سے جاکر ملیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کی خلاف ورزی کی، اور کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔
(یہ منافق وہی ہیں) جو خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں کو بھی طعنے دیتے ہیں، اور ان لوگوں کو بھی جنہیں اپنی محنت (کی آمدنی) کے سوا کچھ میسر نہیں ہے اس لیے وہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے، اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
(اے نبی) تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرو گے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا ہے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔
جن لوگوں کو (غزوہ تبوک سے) پیچھے رہنے دیا گیا تھا، وہ رسول اللہ کے جانے کے بعد اپنے (گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بڑے خوش ہوئے، اور ان کو یہ بات ناگوار تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کریں، اور انہوں نے کہا تھا کہ : اس گرمی میں نہ نکلو۔ کہو کہ : جہنم کی آگ گرمی میں کہیں زیادہ سخت ہے۔ کاش۔ ان کو سمجھ ہوتی۔
(اے پیغمبر) اس کے بعد اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے آئے، اور یہ (کسی اور جہاد میں) نکلنے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان سے کہہ دینا کہ : اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکو گے، اور میرے ساتھ ملکر کسی دشمن سے کبھی نہیں لڑ سکو گے۔ تم نے پہلی بار بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا، لہذا اب بھی انہی کے ساتھ بیٹھ رہو جن کو (کسی معذوری کی وجہ سے) پیچھے رہنا ہے۔
اور (اے پیغمبر) ان (منافقین) میں سے جو کوئی مرجائے، تو تم اس پر کبھی نماز (جنازہ) مت پڑھنا، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا یقین جانو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا، اور اس حالت میں مرے ہیں کہ وہ نافرمان تھے۔
اور تمہیں ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) سے تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں سے ان کو دنیا میں عذاب دے، اور ان کی جان بھی کفر ہی کی حالت میں نکلے۔
اور جب کوئی سورت یہ حکم لے کر نازل ہوتی ہے کہ : اللہ پر ایمان لاؤ، اور اس کے رسول کی رفاقت میں جہاد کرو، تو ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ جو صاحب استطاعت ہیں، تم سے اجازت مانگتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل ہونے دیجیے جو (گھر میں) بیٹھے رہیں گے۔
اور دیہاتیوں میں سے بھی بہانہ باز لوگ آئے کہ ان کو (جہاد سے) چھٹی دی جائے، اور (اس طرح) جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا، وہ سب بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنہوں نے کفر (مستقل طور پر) اپنا لیا ہے، ان کو دردناک عذاب ہوگا۔
کمزور لوگوں پر (جہاد میں نہ جانے کا) کوئی گناہ نہیں، نہ بیماروں پر، اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے، جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص ہوں۔ نیک لوگوں پر کوئی الزام نہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم انہیں کوئی سواری مہیا کردو، اور تم نے کہا کہ : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کرسکوں۔ تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ ان کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے۔ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔
(مسلمانو) جب تم لوگ (تبوک سے) واپس ان (منافقوں) کے پاس جاؤ گے، تو یہ تمہارے سامنے (طرح طرح کے) عذر پیش کریں گے۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دینا کہ : تم عذر پیش نہ کرو ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے اچھی طرح باخبر کردیا ہے۔ اور آئندہ اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی، پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ لہذا تم بھی ان سے درگزر کرلینا۔ یقین جانو یہ سراپا گندگی ہیں، اور جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
جو دیہاتی (منافق) ہیں، وہ کفر اور منافقت میں زیادہ سخت ہیں، اور دوسروں سے زیادہ اسی لائق ہیں کہ اس دین کے احکام سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
انہی دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو (اللہ کے نام پر) خرچ کیے ہوئے مال کو ایک تاوان سمجھتے ہیں، اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر مصیبتوں کے چکر آپڑیں، (حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ) بدترین مصیبت کا چکر تو خود ان پر پڑا ہوا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔
اور انہی دیہاتیوں میں وہ بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ (اللہ کے نام پر) خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کے پاس قرب کے درجے حاصل کرنے اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں یہ ان کے لیے یقینا تقرب کا ذریعہ ہے۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں، ان میں بھی منافق لوگ موجود ہیں، اور مدینہ کے باشندوں میں بھی۔ یہ لوگ منافقت میں (اتنے) ماہر ہوگئے ہیں (کہ) تم انہیں نہیں جانتے، انہیں ہم جانتے ہیں۔ ان کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے۔ پھر ان کو ایک زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کیے ہیں، کچھ نیک کام، اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرلے گا۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
(اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے اور ان کے لیے باعث برکت بنو گے، اور ان کے لیے دعا کرو۔ یقینا تمہاری دعا ان کے لیے سراپا تسکین ہے، اور اللہ ہر بات سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔
کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ بھی قبول کرتا ہے اور صدقات بھی قبول کرتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ؟
اور (ان سے) کہو کہ : تم عمل کرتے رہو۔ اب اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی اور مومن لوگ بھی۔ پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔
اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے، یا اللہ ان کو سزا دے گا، یا معاف کردے گا، اور اللہ کامل علم والا بھی ہے، کامل حکمت والا بھی۔
اور کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد اس کام کے لیے بنائی ہے کہ (مسلمانوں کو) نقصان پہنچائیں، کافرانہ باتیں کریں، مومنوں میں پھوٹ ڈالیں اور اس شخص کو ایک اڈہ فراہم کریں جس کی پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ اور یہ قسمیں ضرور کھا لیں گے کہ بھلائی کے سوا ہماری کوئی اور نیت نہیں ہے، لیکن اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔
(اے پیغمبر) تم اس (نام نہاد مسجد) میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے مت ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
بھلا کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر اٹھائی ہو، یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک ڈھانگ کے کسی گرتے ہوئے کنارے پر رکھی ہو، پھر وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں جاگرے ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔
جو عمارت ان لوگوں نے بنائی تھی، وہ ان کے دلوں میں اس وقت تک برابر شک پیدا کرتی رہے گی جب تک ان کے دل ہی ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجاتے۔ اور اللہ کامل علم والا بھی ہے، کامل حکمت والا بھی۔
واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں، اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے، اور قرآن میں بھی۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ لہذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کرلیا ہے۔ اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
(جنہوں نے یہ کامیاب سودا کیا ہے وہ کون ہیں ؟) توبہ کرنے والے ! اللہ کی بندگی کرنے والے ! اس کی حمد کرنے والے ! روزے رکھنے والے ! رکوع میں جھکنے والے ! سجدے گزرنے والے ! نیکی کی تلقین کرنے والے، اور برائی سے روکنے والے، اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (اے پیغمبر) ایسے مومنوں کو خوشخبری دے دو ۔
یہ بات نہ تو نبی کو زیب دیتی ہے اور نہ دوسرے مومنوں کو کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی لوگ ہیں۔
اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو مغفرت کی دعا مانگی تھی، اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ انہوں نے اس (باپ) سے ایک وعدہ کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، تو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے، بڑے بردبار تھے۔
اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے جب تک اس نے ان پر یہ بات واضح نہ کردی ہو کہ انہیں کن باتوں سے بچنا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
یقینا اللہ ہی ہے جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ وہ زندگی بھی دیتا ہے، اور موت بھی، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ مددگار۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبی پر ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کا ساتھ دیا، جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں، پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ یقینا وہ ان کے لیے بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔
اور ان تینوں پر بھی (اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے) جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب ان پر یہ زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی، ان کی زندگیاں ان پر دو بھر ہوگئیں، اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ (کی پکڑ) سے خود اسی کی پناہ میں آئے بغیر کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی، تو پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا، تاکہ وہ آئندہ اللہ ہی سے رجوع کیا کریں۔ یقین جانو اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔
مدینہ کے باشندوں اور ان کے ارد گرد کے دیہات میں رہنے والوں کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (کا ساتھ دینے سے) پیچھے رہیں، اور نہ یہ جائز تھا کہ وہ بس اپنی جان پیاری سمجھ کر ان کی (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) جان سے بےفکر ہوبیٹھیں۔ یہ اس لیے کہ ان (مجاہدین) کو جب کبھی اللہ کے راستے میں پیاس لگتی ہے، یا تھکن ہوتی ہے، یا بھوک ستاتی ہے، یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔ یقین جانو کہ اللہ نیک لوگوں کے کسی عمل کو بیکار جانے نہیں دیتا۔
نیز وہ جو کچھ (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں، چاہے وہ خرچ چھوٹا ہو یا بڑا، اور جس کسی وادی کو وہ پار کرتے ہیں، اس سب کو (ان کے اعمال نامے میں نیکی کے طور پر) لکھا جاتا ہے، تاکہ اللہ انہیں (ہر ایسے عمل پر) وہ جزاء دے جو ان کے بہترین اعمال کے لیے مقرر ہے۔
اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں، تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔
اور جب کبھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو انہی (منافقین) میں وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ : اس (سورت) نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ؟ اب جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو (واقعی) ایمان لائے ہیں، ان کے ایمان میں تو اس سورت نے واقعی اضافہ کیا ہے، اور وہ (اس پر) خوش ہوتے ہیں۔
اور جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں (اور اشاروں میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں) کہ کیا کوئی تمہیں دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر وہاں سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کا دل پھیر دیا ہے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔
(لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔
پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو (اے رسول ! ان سے) کہہ دو کہ : میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔