Back to Languages

Urdu - Chapter 21 - Al-Anbiya

Translation by Syed Zeeshan Haider Jawadi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Anbiya 21:1

لوگوں کے لئے حساب کا وقت آپہنچا ہے اور وہ ابھی غفلت ہی میں پڑے ہوئے ہیں اور کنارہ کشی کئے جارہے ہیں

Verse 2 — Surah Al-Anbiya 21:2

ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی یاد دہانی نہیں آتی مگر یہ کہ کان لگا کر سوُ لیتے ہیں اور پھر کھیل تماشے میں لگ جاتے ہیں

Verse 3 — Surah Al-Anbiya 21:3

ان کے دل بالکل غافل ہوگئے ہیں اور یہ ظالم اس طرح آپس میں راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے ہیں کہ یہ بھی تو تمہارے ہی طرح کے ایک انسان ہیں کیا تم دیدہ و دانستہ ان کے جادو کے چکر میں آرہے ہو

Verse 4 — Surah Al-Anbiya 21:4

تو پیغمبر نے جواب دیا کہ میرا پروردگار آسمان و زمین کی تمام باتوں کو جانتا ہے وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے

Verse 5 — Surah Al-Anbiya 21:5

بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو سب خواب ه پریشاں کا مجموعہ ہے بلکہ یہ خود پیغمبر کی طرف سے افترائ ہے بلکہ یہ شاعر ہیں اور شاعری کررہے ہیں ورنہ ایسی نشانی لے کر آتے جیسی نشانی لے کر پہلے پیغمبر علیھ السّلامبھیجے گئے تھے

Verse 6 — Surah Al-Anbiya 21:6

ان سے پہلے ہم نے جن بستیوں کو سرکشی کی بنا پر تباہ کر ڈالا وہ تو ایمان لائے نہیں یہ کیا ایمان لائیں گے

Verse 7 — Surah Al-Anbiya 21:7

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی جن رسولوں علیھ السّلامکو بھیجا ہے وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے-تو تم لوگ اگر نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرلو

Verse 8 — Surah Al-Anbiya 21:8

اور ہم نے ان لوگوں کے لئے بھی کوئی ایسا جسم نہیں بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتا ہو اور وہ بھی ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے

Verse 9 — Surah Al-Anbiya 21:9

پھر ہم نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور انہیں اور ان کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا

Verse 10 — Surah Al-Anbiya 21:10

بیشک ہم نے تمہاری طرف وہ کتاب نازل کی ہے جس میں خود تمہارا بھی ذکر ہے تو کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے ہو

Verse 11 — Surah Al-Anbiya 21:11

اور ہم نے کتنی ہی ظالم بستیوں کو تباہ کردیا اور ان کے بعد ان کی جگہ پر دوسری قوموں کو ایجاد کردیا

Verse 12 — Surah Al-Anbiya 21:12

پھر جب ان لوگوں نے عذاب کی آہٹ محسوس کی تو اسے دیکھ کر بھاگنا شروع کردیا

Verse 13 — Surah Al-Anbiya 21:13

ہم نے کہا کہ اب بھاگو نہیں اور اپنے گھروں کی طرف اور اپنے سامان عیش و عشرت کی طرف پلٹ کر جاؤ کہ تم سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی

Verse 14 — Surah Al-Anbiya 21:14

ان لوگوں نے کہا کہ ہائے افسوس ہم واقعا ظالم تھے

Verse 15 — Surah Al-Anbiya 21:15

اور یہ کہہ کر فریاد کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بنا کر ان کے سارے جوش کو ٹھنڈا کردیا

Verse 16 — Surah Al-Anbiya 21:16

اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشے کے لئے نہیں بنایا ہے

Verse 17 — Surah Al-Anbiya 21:17

ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنی طرف ہی سے بنالیتے اگر ہمیں ایسا کرنا ہوتا

Verse 18 — Surah Al-Anbiya 21:18

بلکہ ہم تو حق کو باطل کے سر پر دے مارتے ہیں اور اس کے دماغ کو کچل دیتے ہیں اور وہ تباہ و برباد ہوجاتا ہے اور تمہارے لئے ویل ہے کہ تم ایسی بے ربط باتیں بیان کررہے ہو

Verse 19 — Surah Al-Anbiya 21:19

اور اسی خدا کے لئے زمین و آسمان کی کل کائنات ہے اور جو افراد اس کی بارگاہ میں ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے اکڑ کر انکار کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں

Verse 20 — Surah Al-Anbiya 21:20

دن رات اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور سستی کا بھی شکار نہیں ہوتے ہیں

Verse 21 — Surah Al-Anbiya 21:21

کیا ان لوگوں نے زمین میں ایسے خدا بنا لئے ہیں جو ان کو زندہ کرنے والے ہیں

Verse 22 — Surah Al-Anbiya 21:22

یاد رکھو اگر زمین و آسمان میں اللہ کے علاوہ اور خدا بھی ہوتے تو زمین و آسمان دونوں برباد ہوجاتے عرش کا مالک پروردگار ان کے بیانات سے بالکل پاک و پاکیزہ ہے

Verse 23 — Surah Al-Anbiya 21:23

اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے

Verse 24 — Surah Al-Anbiya 21:24

کیا ان لوگوں نے اس کے علاوہ اور خدا بنالئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ذرا اپنی دلیل تو لاؤ-یہ میرے ساتھ والوں کا ذکر اور مجھ سے پہلے والوں کا ذکر سب موجود ہے لیکن ان کی اکثریت حق سے ناواقف ہے اور اسی لئے کنارہ کشی کررہی ہے

Verse 25 — Surah Al-Anbiya 21:25

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہذا سب لوگ میری ہی عبادت کرو

Verse 26 — Surah Al-Anbiya 21:26

اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنالیا ہے حالانکہ وہ اس امر سے پاک و پاکیزہ ہے بلکہ وہ سب اس کے محترم بندے ہیں

Verse 27 — Surah Al-Anbiya 21:27

جو کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں

Verse 28 — Surah Al-Anbiya 21:28

وہ ان کے سامنے اور ان کے پس پشت کی تمام باتوں کو جانتا ہے اور فرشتے کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے اور وہ اس کے خوف سے برابر لرزتے رہتے ہیں

Verse 29 — Surah Al-Anbiya 21:29

اور اگر ان میں سے بھی کوئی یہ کہہ دے کہ خدا کے علاوہ میں بھی خدا ہوں تو ہم اس کو بھی جہنّم کی سزا دیں گے کہ ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں

Verse 30 — Surah Al-Anbiya 21:30

کیا ان کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ زمین و آسمان آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو الگ کیا ہے اور ہر جاندار کو پانی سے قرار دیا ہے پھر کیا یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے

Verse 31 — Surah Al-Anbiya 21:31

اور ہم نے زمین میں پہاڑ قرار دیئے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو لے کر کسی طرف جھک نہ جائے اور پھر اس میں وسیع تر راستے قرار دیئے ہیں کہ اس طرح یہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں

Verse 32 — Surah Al-Anbiya 21:32

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح بنایا ہے اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے برابر اعراض کررہے ہیں

Verse 33 — Surah Al-Anbiya 21:33

وہ وہی خدا ہے جس نے رات دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو پید اکیا ہے اور سب اپنے اپنے فلک میں تیر رہے ہیں

Verse 34 — Surah Al-Anbiya 21:34

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے ہمیشگی نہیں قرار دی ہے تو کیا اگر آپ مرجائیں گے تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں

Verse 35 — Surah Al-Anbiya 21:35

ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے اور تم سب پلٹا کر ہماری ہی بارگاہ میں لائے جاؤ گے

Verse 36 — Surah Al-Anbiya 21:36

اور جب بھی یہ کفّار آپ کو دیکھتے ہیں تو اس بات کا مذاق اُڑاتے ہیں کہ یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے اور یہ لوگ خود تو رحمان کے ذکر سے انکار ہی کرنے والے ہیں

Verse 37 — Surah Al-Anbiya 21:37

انسان کے خمیر میں عِجلت شامل ہوگئی ہے اور عنقریب ہم تمہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تو پھر تم لوگ جلدی نہیں کرو گے

Verse 38 — Surah Al-Anbiya 21:38

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ّ ہو تو اس وعدہ قیامت کا وقت آخر کب آئے گا

Verse 39 — Surah Al-Anbiya 21:39

کاش یہ کافر یہ جانتے کہ وہ ایسا وقت ہوگا جب یہ جہنمّ کی آگ کو نہ اپنے سامنے سے ہٹاسکیں گے اور نہ پشت سے اور نہ ان کی کوئی مدد کی جاسکے گی

Verse 40 — Surah Al-Anbiya 21:40

بلکہ یہ قیامت ان تک اچانک آجائے گی اور انہیں مبہوت کردے گی پھر یہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی

Verse 41 — Surah Al-Anbiya 21:41

اور پیغمبر آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا ہے جس کے بعد ان کفاّر کو اس عذاب نے گھیر لیا جس کا یہ مذاق اُڑارہے تھے

Verse 42 — Surah Al-Anbiya 21:42

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ انہیں رات یا دن میں رحمان کے عذاب سے بچانے کے لئے کون پہرہ دے سکتا ہے مگر یہ ہیں کہ رحمان کی یاد سے مسلسل منہ موڑے ہوئے ہیں

Verse 43 — Surah Al-Anbiya 21:43

کیا ان کے پاس ایسے خدا موجود ہیں جو ہمارے بغیر انہیں بچا سکیں گے یہ بیچارے تو خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے ہیں اور نہ انہیں خود بھی عذاب سے پناہ دی جائے گی

Verse 44 — Surah Al-Anbiya 21:44

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو تھوڑی سی لّذت دنیا دے دی ہے یہاں تک کہ ان کا زمانہ طویل ہوگیا تو کیا یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ہم برابر زمین کی طرف آتے جارہے ہیں اور اس کو چاروں طرف سے کم کرتے جارہے ہیں کیا اس کے بعد بھی یہ ہم پر غالب آجانے والے ہیں

Verse 45 — Surah Al-Anbiya 21:45

آپ کہہ دیجئے کہ میں تم لوگوں کو وحی کے مطابق ڈراتا ہوں اور بہرہ کو جب بھی ڈرایا جاتا ہے وہ آواز کو سنتا ہی نہیں ہے

Verse 46 — Surah Al-Anbiya 21:46

حالانکہ انہیں عذاب الٰہی کی ہوا بھی چھوجائے تو کہہ اُٹھیں گے کہ افسوس ہم واقعی ظالم تھے

Verse 47 — Surah Al-Anbiya 21:47

اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریں گے اور کسی نفس پر ادنیٰ ظلم نہیں کیا جائے گا اور کسی کا عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہے تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ہیں

Verse 48 — Surah Al-Anbiya 21:48

اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام اور ہارون علیھ السّلام کو حق و باطل میں فرق کرنے والی وہ کتاب عطا کی ہے جو ہدایت کی روشنی اور ان صاحبانِ تقویٰ کے لئے یاد الٰہی کا ذریعہ ہے

Verse 49 — Surah Al-Anbiya 21:49

جو ازغیب اپنے پروردگار سے ڈرنے والے ہیں اور قیامت کے خوف سے لرزاں ہیں

Verse 50 — Surah Al-Anbiya 21:50

اور یہ قرآن ایک مبارک ذکر ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے تو کیا تم لوگ اس کا بھی انکار کرنے والے ہو

Verse 51 — Surah Al-Anbiya 21:51

اور ہم نے ابراہیم علیھ السّلامکو اس سے پہلے ہی عقل سلیم عطا کردی تھی اور ہم ان کی حالت سے باخبر تھے

Verse 52 — Surah Al-Anbiya 21:52

جب انہوں نے اپنے مربی باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم حلقہ باندھے ہوئے ہو

Verse 53 — Surah Al-Anbiya 21:53

ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی ان ہی کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے

Verse 54 — Surah Al-Anbiya 21:54

ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ یقینا تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی ہوئی گمراہی میں ہو

Verse 55 — Surah Al-Anbiya 21:55

ان لوگوں نے کہا کہ آپ کوئی حق بات لے کر آئے ہیں یا خالی کھیل تماشہ ہی کرنے والے ہیں

Verse 56 — Surah Al-Anbiya 21:56

ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ تمہارا واقعی رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا رب ہے اور اسی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اسی بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں

Verse 57 — Surah Al-Anbiya 21:57

اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کے بارے میں تمہارے چلے جانے کے بعد کوئی تدبیر ضرور کروں گا

Verse 58 — Surah Al-Anbiya 21:58

پھر ابراہیم علیھ السّلامنے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو حُور چوِر کردیا کہ شاید یہ لوگ پلٹ کر اس کے پاس آئیں

Verse 59 — Surah Al-Anbiya 21:59

ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ برتاؤ کس نے کیا ہے وہ یقینا ظالمین میں سے ہے

Verse 60 — Surah Al-Anbiya 21:60

لوگوں نے بتایا کہ ایک جو ان ہے جوان کا ذکر کیا کرتا ہے اور اسے ابراہیم کہا جاتا ہے

Verse 61 — Surah Al-Anbiya 21:61

ان لوگوں نے کہا کہ اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ شاید لوگ گواہی دے سکیں

Verse 62 — Surah Al-Anbiya 21:62

پھر ان لوگوں نے ابراہیم علیھ السّلام سے کہا کہ کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ برتاؤ کیا ہے

Verse 63 — Surah Al-Anbiya 21:63

ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے تم ان سے دریافت کرکے دیکھو اگر یہ بول سکیں

Verse 64 — Surah Al-Anbiya 21:64

اس پر ان لوگوں نے اپنے دلوں کی طرف رجوع کیا اور آپس میں کہنے لگے کہ یقینا تم ہی لوگ ظالم ہو

Verse 65 — Surah Al-Anbiya 21:65

اس کے بعد ان کے سر شرم سے جھکا دئیے گئے اور کہنے لگے ابراہیم تمہیں تو معلوم ہے کہ یہ بولنے والے نہیں ہیں

Verse 66 — Surah Al-Anbiya 21:66

ابراہیم نے کہا کہ پھر تم خدا کو چھوڑ کر ایسے خداؤں کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان

Verse 67 — Surah Al-Anbiya 21:67

حیف ہے تمہارے اوپر اور تمہارے ان خداؤں پر جنہیں تم نے خدائے برحق کو چھوڑ کر اختیار کیا ہے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ہو

Verse 68 — Surah Al-Anbiya 21:68

ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو

Verse 69 — Surah Al-Anbiya 21:69

تو ہم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیھ السّلامکے لئے سرد ہوجا اور سلامتی کاسامان بن جا

Verse 70 — Surah Al-Anbiya 21:70

اور ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے بھی انہیں خسارہ والا اور ناکام قرار دے دیا

Verse 71 — Surah Al-Anbiya 21:71

اور ابراہیم علیھ السّلام اور لوط علیھ السّلام کو نجات دلاکر اس سرزمین کی طرف لے آئے جس میں عالمین کے لئے برکت کا سامان موجود تھا

Verse 72 — Surah Al-Anbiya 21:72

اور پھر ابراہیم علیھ السّلامکو اسحاق علیھ السّلاماور ان کے بعد یعقوب علیھ السّلامعطا کئے اور سب کو صالح اور نیک کردار قرار دیا

Verse 73 — Surah Al-Anbiya 21:73

اور ہم نے ان سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف کارخیر کرنے نماز قائم کرنے اور زکوِٰادا کرنے کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے

Verse 74 — Surah Al-Anbiya 21:74

اور لوط علیھ السّلام کو یاد کرو جنہیں ہم نے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور اس بستی سے نجات دلادی جو بدکاریوں میں مبتلا تھی کہ یقینا یہ لوگ بڑے بڑے اور فاسق تھے

Verse 75 — Surah Al-Anbiya 21:75

اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا کہ وہ یقینا ہمارے نیک کردار بندوں میں سے تھے

Verse 76 — Surah Al-Anbiya 21:76

اور نوح علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب انہوں نے پہلے ہی ہم کو آواز دی اور ہم نے ان کی گزارش قبول کرلی اور انہیں اور ان کے اہل کو بہت بڑے کرب سے نجات دلادی

Verse 77 — Surah Al-Anbiya 21:77

اور ان لوگوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے کہ یہ لوگ بہت بری قوم تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

Verse 78 — Surah Al-Anbiya 21:78

اور داؤد علیھ السّلاماور سلیمان علیھ السّلام کو یاد کرو جب وہ دونوں ایک کھیتی کے بارے میں فیصلہ کررہے تھے جب کھیت میں قوم کی بکریاں گھصَ گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کو دیکھ رہے تھے

Verse 79 — Surah Al-Anbiya 21:79

پھر ہم نے سلیمان علیھ السّلام کو صحیح فیصلہ سمجھا دیا اور ہم نے سب کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا تھا اور داؤد علیھ السّلام کے ساتھ پہاڑوں کو لَسّخر کردیا تھا کہ وہ تسبیح پروردگار کریں اور طیور کو بھی لَسّخر کردیا تھا اور ہم ایسے کام کرتے رہتے ہیں

Verse 80 — Surah Al-Anbiya 21:80

اور ہم نے انہیں زرہ بنانے کی صنعت تعلیم دے دی تاکہ وہ تم کو جنگ کے خطرات سے محفوظ رکھ سکے تو کیا تم ہمارے شکر گزار بندے بنو گے

Verse 81 — Surah Al-Anbiya 21:81

اور سلیماوُ کے لئے تیز و تند ہواؤں کو لَسّخر کردیا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھیں جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں اور ہم ہر شے کے جاننے والے ہیں

Verse 82 — Surah Al-Anbiya 21:82

اور بعض جناّت کو بھی لَسّخر کردیا جو سمندر میں غوطے لگایا کرتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی انجام دیا کرتے تھے اور ہم ان سب کے نگہبان تھے

Verse 83 — Surah Al-Anbiya 21:83

اور ایوب علیھ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے

Verse 84 — Surah Al-Anbiya 21:84

تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انہیں ان کے اہل وعیال دے دیئے اور ویسے ہی اور بھی دے دیئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے

Verse 85 — Surah Al-Anbiya 21:85

اور اسماعیل علیھ السّلام و ادریس علیھ السّلام و ذوالکفل علیھ السّلام کو یاد کرو کہ یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے

Verse 86 — Surah Al-Anbiya 21:86

اور سب کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کرلیا تھا اور یقینا یہ سب ہمارے نیک کردار بندوں میں سے تھے

Verse 87 — Surah Al-Anbiya 21:87

اور یونس علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب وہ غصّہ میں آکر چلے اور یہ خیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکیوں میں جاکر آواز دی کہ پروردگار تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا

Verse 88 — Surah Al-Anbiya 21:88

تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان هایمان کو نجات دلاتے رہتے ہیں

Verse 89 — Surah Al-Anbiya 21:89

اور زکریا علیھ السّلام کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ دینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے

Verse 90 — Surah Al-Anbiya 21:90

تو ہم نے ان کی دعا کو بھی قبول کرلیا اور انہیں یحیٰی علیھ السّلام جیسا فرزند عطا کردیا اور ان کی زوجہ کو صالحہ بنادیا کہ یہ تمام وہ تھے جو نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے تھے اور رغبت اور خوف کے ہر عالم میں ہم ہی کو پکارنے والے تھے اور ہماری بارگاہ میں گڑ گڑا کر الِتجا کرنے والے بندے تھے

Verse 91 — Surah Al-Anbiya 21:91

اور اس خاتون کو یاد کرو جس نے اپنی شرم کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور اسے اور اس کے فرزند کو تمام عالمین کے لئے اپنی نشانی قرار دے دیا

Verse 92 — Surah Al-Anbiya 21:92

بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین اسلام ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں لہذا میری ہی عبادت کیا کرو

Verse 93 — Surah Al-Anbiya 21:93

اور ان لوگوں نے تو اپنے دین کو بھی آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہے حالانکہ یہ سب پلٹ کر ہماری ہی بارگاہ میں آنے والے ہیں

Verse 94 — Surah Al-Anbiya 21:94

پھر جو شخص صاحب هایمان رہ کر نیک عمل کرے گا اس کی کوشش برباد نہ ہوگی اور ہم اس کی کوشش کو برابر لکھ رہے ہیں

Verse 95 — Surah Al-Anbiya 21:95

اور جس بستی کو ہم نے تباہ کردیا ہے اس کے لئے بھی ناممکن ہے کہ قیامت کے دن ہمارے پاس پلٹ کر نہ آئے

Verse 96 — Surah Al-Anbiya 21:96

یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آزاد کردیئے جائیں گے اور زمین کی ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے

Verse 97 — Surah Al-Anbiya 21:97

اور اللہ کا سچا وعدہ قریب آجائے گا تو سب دیکھیں گے کہ کفار کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ وائے بر حال ماہم اس طرف سے بالکل غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے تھے

Verse 98 — Surah Al-Anbiya 21:98

یاد رکھو کہ تم لوگ خود اور جن چیزوں کی تم پرستش کررہے ہو سب کو جہنمّ کا ایندھن بنایا جائے گا اور تم سب اسی میں وارد ہونے والے ہو

Verse 99 — Surah Al-Anbiya 21:99

اگر یہ سب واقعا خدا ہوتے تو کبھی جہنمّ میں وارد نہ ہوتے حالانکہ یہ سب اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں

Verse 100 — Surah Al-Anbiya 21:100

جہنمّ میں ان کے لئے چیخ پکار ہوگی اور وہ کسی کی بات سننے کے قابل نہ ہوں گے

Verse 101 — Surah Al-Anbiya 21:101

بیشک جن لوگوں کے حق میں ہماری طرف سے پہلے ہی نیکی مقدر ہوچکی ہے وہ اس جہنمّ سے دور رکھے جائیں گے

Verse 102 — Surah Al-Anbiya 21:102

اور اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے اور اپنی حسب خواہش نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ آرام سے رہیں گے

Verse 103 — Surah Al-Anbiya 21:103

انہیں قیامت کا بڑے سے بڑا ہولناک منظر بھی رنجیدہ نہ کرسکے گا اور ان سے ملائکہ اس طرح ملاقات کریں گے کہ یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

Verse 104 — Surah Al-Anbiya 21:104

اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں

Verse 105 — Surah Al-Anbiya 21:105

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے

Verse 106 — Surah Al-Anbiya 21:106

یقینا اس میں عبادت گزار قوم کے لئے ایک پیغام ہے

Verse 107 — Surah Al-Anbiya 21:107

اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے

Verse 108 — Surah Al-Anbiya 21:108

آپ کہہ دیجئے کہ ہماری طرف صرف یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہے تو کیا تم اسلام لانے والے ہو

Verse 109 — Surah Al-Anbiya 21:109

پھر اگر یہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ ہم نے تم سب کو برابر سے آگاہ کردیا ہے .اب مجھے نہیں معلوم کہ جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور ہے

Verse 110 — Surah Al-Anbiya 21:110

بیشک وہ خدا ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ لوگ چھپارہے ہیں

Verse 111 — Surah Al-Anbiya 21:111

اور میں کچھ نہیں جانتا شاید یہ تاخیر عذاب بھی ایک طرح کا امتحان ہو یا ایک مدّت معین تک کا آرام ہو

Verse 112 — Surah Al-Anbiya 21:112

پھر پیغمبر نے دعا کی کہ پروردگار ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا رب یقینا مہربان اور تمہاری باتوں کے مقابلہ میں قابل استعانت ہے