Back to Languages

Urdu - Chapter 25 - Al-Furqan

Translation by Abul A Ala Maududi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Furqan 25:1

نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو

Verse 2 — Surah Al-Furqan 25:2

وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی

Verse 3 — Surah Al-Furqan 25:3

لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، جو نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں، نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں

Verse 4 — Surah Al-Furqan 25:4

جن لوگوں نے نبیؐ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اِس کام میں اس کی مدد کی ہے بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں

Verse 5 — Surah Al-Furqan 25:5

کہتے ہیں یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کرتا ہے اور وہ اِسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں

Verse 6 — Surah Al-Furqan 25:6

اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "اِسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے

Verse 7 — Surah Al-Furqan 25:7

کہتے ہیں "یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟

Verse 8 — Surah Al-Furqan 25:8

یا اور کچھ نہیں تو اِس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا" اور ظالم کہتے ہیں "تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو

Verse 9 — Surah Al-Furqan 25:9

دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی

Verse 10 — Surah Al-Furqan 25:10

بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل

Verse 11 — Surah Al-Furqan 25:11

اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ "اُس گھڑی" کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے

Verse 12 — Surah Al-Furqan 25:12

وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے

Verse 13 — Surah Al-Furqan 25:13

اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے

Verse 14 — Surah Al-Furqan 25:14

(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو

Verse 15 — Surah Al-Furqan 25:15

اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنت جس کا وعدہ خداترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے اعمال کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہو گی

Verse 16 — Surah Al-Furqan 25:16

جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے

Verse 17 — Surah Al-Furqan 25:17

اور وہ وہی دن ہو گا جب کہ (تمہارا رب) اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبودوں کو بھی بُلا لے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا "کیا تم نے میرے اِن بندوں کر گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟

Verse 18 — Surah Al-Furqan 25:18

وہ عرض کریں گے "پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولا بنائیں مگر آپ نے اِن کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے

Verse 19 — Surah Al-Furqan 25:19

یوں جھٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

Verse 20 — Surah Al-Furqan 25:20

اے محمدؐ، تم سے پہلے جو رسول بھی ہم نے بھیجے ہیں وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے

Verse 21 — Surah Al-Furqan 25:21

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں

Verse 22 — Surah Al-Furqan 25:22

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا، چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا

Verse 23 — Surah Al-Furqan 25:23

اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے

Verse 24 — Surah Al-Furqan 25:24

بس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھیریں گے اور دوپہرگزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے

Verse 25 — Surah Al-Furqan 25:25

آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے

Verse 26 — Surah Al-Furqan 25:26

اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہو گی اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہو گا

Verse 27 — Surah Al-Furqan 25:27

ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا

Verse 28 — Surah Al-Furqan 25:28

ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

Verse 29 — Surah Al-Furqan 25:29

اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا

Verse 30 — Surah Al-Furqan 25:30

اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا

Verse 31 — Surah Al-Furqan 25:31

اے محمدؐ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے

Verse 32 — Surah Al-Furqan 25:32

منکرین کہتے ہیں "اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟" ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے

Verse 33 — Surah Al-Furqan 25:33

اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی

Verse 34 — Surah Al-Furqan 25:34

جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت برا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے

Verse 35 — Surah Al-Furqan 25:35

ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا

Verse 36 — Surah Al-Furqan 25:36

اور اُن سے کہا کہ جاؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا

Verse 37 — Surah Al-Furqan 25:37

یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے

Verse 38 — Surah Al-Furqan 25:38

اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے

Verse 39 — Surah Al-Furqan 25:39

اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا

Verse 40 — Surah Al-Furqan 25:40

اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے

Verse 41 — Surah Al-Furqan 25:41

یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) "کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

Verse 42 — Surah Al-Furqan 25:42

اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے" اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا

Verse 43 — Surah Al-Furqan 25:43

کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟

Verse 44 — Surah Al-Furqan 25:44

کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے

Verse 45 — Surah Al-Furqan 25:45

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ہم نے سورج کو اُس پر دلیل بنایا

Verse 46 — Surah Al-Furqan 25:46

پھر (جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں

Verse 47 — Surah Al-Furqan 25:47

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا

Verse 48 — Surah Al-Furqan 25:48

اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے پھر آسمان سے پاک پانی نازل کرتا ہے

Verse 49 — Surah Al-Furqan 25:49

تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے

Verse 50 — Surah Al-Furqan 25:50

اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں

Verse 51 — Surah Al-Furqan 25:51

اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے

Verse 52 — Surah Al-Furqan 25:52

پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو

Verse 53 — Surah Al-Furqan 25:53

اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے

Verse 54 — Surah Al-Furqan 25:54

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے

Verse 55 — Surah Al-Furqan 25:55

اس خدا کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ہر باغی کا مدد گار بنا ہوا ہے

Verse 56 — Surah Al-Furqan 25:56

اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے

Verse 57 — Surah Al-Furqan 25:57

اِن سے کہہ دو کہ "میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے

Verse 58 — Surah Al-Furqan 25:58

اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے

Verse 59 — Surah Al-Furqan 25:59

وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمان کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تخت سلطنت) "عرش" پر جلوہ فرما ہوا رحمٰن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو

Verse 60 — Surah Al-Furqan 25:60

اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں "رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟" یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے

Verse 61 — Surah Al-Furqan 25:61

بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا

Verse 62 — Surah Al-Furqan 25:62

وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے

Verse 63 — Surah Al-Furqan 25:63

رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام

Verse 64 — Surah Al-Furqan 25:64

جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں

Verse 65 — Surah Al-Furqan 25:65

جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے

Verse 66 — Surah Al-Furqan 25:66

وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے

Verse 67 — Surah Al-Furqan 25:67

جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے

Verse 68 — Surah Al-Furqan 25:68

جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا

Verse 69 — Surah Al-Furqan 25:69

قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا

Verse 70 — Surah Al-Furqan 25:70

اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے

Verse 71 — Surah Al-Furqan 25:71

جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے

Verse 72 — Surah Al-Furqan 25:72

(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں

Verse 73 — Surah Al-Furqan 25:73

جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے

Verse 74 — Surah Al-Furqan 25:74

جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا

Verse 75 — Surah Al-Furqan 25:75

یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا

Verse 76 — Surah Al-Furqan 25:76

وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام

Verse 77 — Surah Al-Furqan 25:77

اے محمدؐ، لوگوں سے کہو "میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہو گی