Back to LanguagesPrevious ChapterNext Chapter
Urdu - Chapter 26 - Ash-Shuara
Translation by Abul A Ala Maududi — Permalink
Verse 1 — Surah Ash-Shuara 26:1
Verse 2 — Surah Ash-Shuara 26:2
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں
Verse 3 — Surah Ash-Shuara 26:3
اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے
Verse 4 — Surah Ash-Shuara 26:4
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں
Verse 5 — Surah Ash-Shuara 26:5
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
Verse 6 — Surah Ash-Shuara 26:6
اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں
Verse 7 — Surah Ash-Shuara 26:7
اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟
Verse 8 — Surah Ash-Shuara 26:8
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
Verse 9 — Surah Ash-Shuara 26:9
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 10 — Surah Ash-Shuara 26:10
اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جا
Verse 11 — Surah Ash-Shuara 26:11
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟
Verse 12 — Surah Ash-Shuara 26:12
اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
Verse 13 — Surah Ash-Shuara 26:13
میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں
Verse 14 — Surah Ash-Shuara 26:14
اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے
Verse 15 — Surah Ash-Shuara 26:15
فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے
Verse 16 — Surah Ash-Shuara 26:16
فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے
Verse 17 — Surah Ash-Shuara 26:17
کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے
Verse 18 — Surah Ash-Shuara 26:18
فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے
Verse 19 — Surah Ash-Shuara 26:19
اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے
Verse 20 — Surah Ash-Shuara 26:20
موسیٰؑ نے جواب دیا "اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھا
Verse 21 — Surah Ash-Shuara 26:21
پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل کر لیا
Verse 22 — Surah Ash-Shuara 26:22
رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا
Verse 23 — Surah Ash-Shuara 26:23
فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟
Verse 24 — Surah Ash-Shuara 26:24
موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو
Verse 25 — Surah Ash-Shuara 26:25
فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟
Verse 26 — Surah Ash-Shuara 26:26
موسیٰؑ نے کہا "تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں
Verse 27 — Surah Ash-Shuara 26:27
فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں
Verse 28 — Surah Ash-Shuara 26:28
موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں
Verse 29 — Surah Ash-Shuara 26:29
فرعون نے کہا "اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں
Verse 30 — Surah Ash-Shuara 26:30
موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟
Verse 31 — Surah Ash-Shuara 26:31
فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے
Verse 32 — Surah Ash-Shuara 26:32
(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدھا تھا
Verse 33 — Surah Ash-Shuara 26:33
پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا
Verse 34 — Surah Ash-Shuara 26:34
فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے
Verse 35 — Surah Ash-Shuara 26:35
چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو ملک سے نکال دے اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟
Verse 36 — Surah Ash-Shuara 26:36
انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے
Verse 37 — Surah Ash-Shuara 26:37
کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں
Verse 38 — Surah Ash-Shuara 26:38
چنانچہ ایک روز مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کر لیے گئے
Verse 39 — Surah Ash-Shuara 26:39
اور لوگوں سے کہا گیا "تم اجتماع میں چلو گے؟
Verse 40 — Surah Ash-Shuara 26:40
شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے
Verse 41 — Surah Ash-Shuara 26:41
جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا "ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟
Verse 42 — Surah Ash-Shuara 26:42
اس نے کہا "ہاں، اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہو جاؤ گے
Verse 43 — Surah Ash-Shuara 26:43
موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے
Verse 44 — Surah Ash-Shuara 26:44
انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے
Verse 45 — Surah Ash-Shuara 26:45
پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا
Verse 46 — Surah Ash-Shuara 26:46
اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے
Verse 47 — Surah Ash-Shuara 26:47
اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو
Verse 48 — Surah Ash-Shuara 26:48
موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو
Verse 49 — Surah Ash-Shuara 26:49
فرعون نے کہا "تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا
Verse 50 — Surah Ash-Shuara 26:50
انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے
Verse 51 — Surah Ash-Shuara 26:51
اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں
Verse 52 — Surah Ash-Shuara 26:52
ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا
Verse 53 — Surah Ash-Shuara 26:53
اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیے
Verse 54 — Surah Ash-Shuara 26:54
(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں
Verse 55 — Surah Ash-Shuara 26:55
اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے
Verse 56 — Surah Ash-Shuara 26:56
اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے
Verse 57 — Surah Ash-Shuara 26:57
اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں
Verse 58 — Surah Ash-Shuara 26:58
اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے
Verse 59 — Surah Ash-Shuara 26:59
یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا
Verse 60 — Surah Ash-Shuara 26:60
صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے
Verse 61 — Surah Ash-Shuara 26:61
جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے
Verse 62 — Surah Ash-Shuara 26:62
موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا
Verse 63 — Surah Ash-Shuara 26:63
ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا
Verse 64 — Surah Ash-Shuara 26:64
اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے
Verse 65 — Surah Ash-Shuara 26:65
موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا
Verse 66 — Surah Ash-Shuara 26:66
اور دوسروں کو غرق کر دیا
Verse 67 — Surah Ash-Shuara 26:67
اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں
Verse 68 — Surah Ash-Shuara 26:68
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 69 — Surah Ash-Shuara 26:69
اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ
Verse 70 — Surah Ash-Shuara 26:70
جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ "یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟
Verse 71 — Surah Ash-Shuara 26:71
انہوں نے جواب دیا "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں
Verse 72 — Surah Ash-Shuara 26:72
اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟
Verse 73 — Surah Ash-Shuara 26:73
یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟
Verse 74 — Surah Ash-Shuara 26:74
انہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے
Verse 75 — Surah Ash-Shuara 26:75
اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم
Verse 76 — Surah Ash-Shuara 26:76
اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟
Verse 77 — Surah Ash-Shuara 26:77
میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے
Verse 78 — Surah Ash-Shuara 26:78
جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے
Verse 79 — Surah Ash-Shuara 26:79
جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
Verse 80 — Surah Ash-Shuara 26:80
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
Verse 81 — Surah Ash-Shuara 26:81
جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا
Verse 82 — Surah Ash-Shuara 26:82
اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا
Verse 83 — Surah Ash-Shuara 26:83
(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا
Verse 84 — Surah Ash-Shuara 26:84
اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر
Verse 85 — Surah Ash-Shuara 26:85
اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما
Verse 86 — Surah Ash-Shuara 26:86
اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے
Verse 87 — Surah Ash-Shuara 26:87
اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے
Verse 88 — Surah Ash-Shuara 26:88
جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد
Verse 89 — Surah Ash-Shuara 26:89
بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو
Verse 90 — Surah Ash-Shuara 26:90
(اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی
Verse 91 — Surah Ash-Shuara 26:91
اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی
Verse 92 — Surah Ash-Shuara 26:92
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟
Verse 93 — Surah Ash-Shuara 26:93
کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟
Verse 94 — Surah Ash-Shuara 26:94
پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ
Verse 95 — Surah Ash-Shuara 26:95
اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے
Verse 96 — Surah Ash-Shuara 26:96
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے
Verse 97 — Surah Ash-Shuara 26:97
کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے
Verse 98 — Surah Ash-Shuara 26:98
جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے
Verse 99 — Surah Ash-Shuara 26:99
اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا
Verse 100 — Surah Ash-Shuara 26:100
اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے
Verse 101 — Surah Ash-Shuara 26:101
اور نہ کوئی جگری دوست
Verse 102 — Surah Ash-Shuara 26:102
کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں
Verse 103 — Surah Ash-Shuara 26:103
یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں
Verse 104 — Surah Ash-Shuara 26:104
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 105 — Surah Ash-Shuara 26:105
قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا
Verse 106 — Surah Ash-Shuara 26:106
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟
Verse 107 — Surah Ash-Shuara 26:107
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
Verse 108 — Surah Ash-Shuara 26:108
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 109 — Surah Ash-Shuara 26:109
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
Verse 110 — Surah Ash-Shuara 26:110
پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو
Verse 111 — Surah Ash-Shuara 26:111
انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟
Verse 112 — Surah Ash-Shuara 26:112
نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں
Verse 113 — Surah Ash-Shuara 26:113
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو
Verse 114 — Surah Ash-Shuara 26:114
میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں
Verse 115 — Surah Ash-Shuara 26:115
میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کر دینے والا آدمی ہوں
Verse 116 — Surah Ash-Shuara 26:116
انہوں نے کہا "اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا
Verse 117 — Surah Ash-Shuara 26:117
نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
Verse 118 — Surah Ash-Shuara 26:118
اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے
Verse 119 — Surah Ash-Shuara 26:119
آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا
Verse 120 — Surah Ash-Shuara 26:120
اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا
Verse 121 — Surah Ash-Shuara 26:121
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں
Verse 122 — Surah Ash-Shuara 26:122
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 123 — Surah Ash-Shuara 26:123
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا
Verse 124 — Surah Ash-Shuara 26:124
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
Verse 125 — Surah Ash-Shuara 26:125
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
Verse 126 — Surah Ash-Shuara 26:126
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 127 — Surah Ash-Shuara 26:127
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
Verse 128 — Surah Ash-Shuara 26:128
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو
Verse 129 — Surah Ash-Shuara 26:129
اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے
Verse 130 — Surah Ash-Shuara 26:130
اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو
Verse 131 — Surah Ash-Shuara 26:131
پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 132 — Surah Ash-Shuara 26:132
ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو
Verse 133 — Surah Ash-Shuara 26:133
تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں
Verse 134 — Surah Ash-Shuara 26:134
باغ دیے اور چشمے دیے
Verse 135 — Surah Ash-Shuara 26:135
مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے
Verse 136 — Surah Ash-Shuara 26:136
انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہے
Verse 137 — Surah Ash-Shuara 26:137
یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں
Verse 138 — Surah Ash-Shuara 26:138
اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں
Verse 139 — Surah Ash-Shuara 26:139
آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں
Verse 140 — Surah Ash-Shuara 26:140
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 141 — Surah Ash-Shuara 26:141
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا
Verse 142 — Surah Ash-Shuara 26:142
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
Verse 143 — Surah Ash-Shuara 26:143
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
Verse 144 — Surah Ash-Shuara 26:144
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 145 — Surah Ash-Shuara 26:145
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
Verse 146 — Surah Ash-Shuara 26:146
کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟
Verse 147 — Surah Ash-Shuara 26:147
اِن باغوں اور چشموں میں؟
Verse 148 — Surah Ash-Shuara 26:148
اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟
Verse 149 — Surah Ash-Shuara 26:149
تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو
Verse 150 — Surah Ash-Shuara 26:150
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 151 — Surah Ash-Shuara 26:151
اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو
Verse 152 — Surah Ash-Shuara 26:152
جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے
Verse 153 — Surah Ash-Shuara 26:153
انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے
Verse 154 — Surah Ash-Shuara 26:154
تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے لا کوئی نشانی اگر تو سچّا ہے
Verse 155 — Surah Ash-Shuara 26:155
صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا
Verse 156 — Surah Ash-Shuara 26:156
اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا
Verse 157 — Surah Ash-Shuara 26:157
مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے
Verse 158 — Surah Ash-Shuara 26:158
عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں
Verse 159 — Surah Ash-Shuara 26:159
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 160 — Surah Ash-Shuara 26:160
لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا
Verse 161 — Surah Ash-Shuara 26:161
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
Verse 162 — Surah Ash-Shuara 26:162
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
Verse 163 — Surah Ash-Shuara 26:163
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 164 — Surah Ash-Shuara 26:164
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
Verse 165 — Surah Ash-Shuara 26:165
کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہو
Verse 166 — Surah Ash-Shuara 26:166
اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو
Verse 167 — Surah Ash-Shuara 26:167
انہوں نے کہا “اے لوطؑ، "اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا
Verse 168 — Surah Ash-Shuara 26:168
اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں
Verse 169 — Surah Ash-Shuara 26:169
اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے
Verse 170 — Surah Ash-Shuara 26:170
آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا
Verse 171 — Surah Ash-Shuara 26:171
بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی
Verse 172 — Surah Ash-Shuara 26:172
پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا
Verse 173 — Surah Ash-Shuara 26:173
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی
Verse 174 — Surah Ash-Shuara 26:174
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں
Verse 175 — Surah Ash-Shuara 26:175
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 176 — Surah Ash-Shuara 26:176
اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایا
Verse 177 — Surah Ash-Shuara 26:177
یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟
Verse 178 — Surah Ash-Shuara 26:178
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
Verse 179 — Surah Ash-Shuara 26:179
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Verse 180 — Surah Ash-Shuara 26:180
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
Verse 181 — Surah Ash-Shuara 26:181
پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو
Verse 182 — Surah Ash-Shuara 26:182
صحیح ترازو سے تولو
Verse 183 — Surah Ash-Shuara 26:183
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
Verse 184 — Surah Ash-Shuara 26:184
اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے
Verse 185 — Surah Ash-Shuara 26:185
انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے
Verse 186 — Surah Ash-Shuara 26:186
اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں
Verse 187 — Surah Ash-Shuara 26:187
اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے
Verse 188 — Surah Ash-Shuara 26:188
شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
Verse 189 — Surah Ash-Shuara 26:189
انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا
Verse 190 — Surah Ash-Shuara 26:190
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں
Verse 191 — Surah Ash-Shuara 26:191
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی
Verse 192 — Surah Ash-Shuara 26:192
یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے
Verse 193 — Surah Ash-Shuara 26:193
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے
Verse 194 — Surah Ash-Shuara 26:194
تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں
Verse 195 — Surah Ash-Shuara 26:195
صاف صاف عربی زبان میں
Verse 196 — Surah Ash-Shuara 26:196
اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے
Verse 197 — Surah Ash-Shuara 26:197
کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟
Verse 198 — Surah Ash-Shuara 26:198
(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر اہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے
Verse 199 — Surah Ash-Shuara 26:199
اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے
Verse 200 — Surah Ash-Shuara 26:200
اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے
Verse 201 — Surah Ash-Shuara 26:201
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
Verse 202 — Surah Ash-Shuara 26:202
پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے
Verse 203 — Surah Ash-Shuara 26:203
اُس وقت وہ کہتے ہیں "کہ “کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مِل سکتی ہے؟
Verse 204 — Surah Ash-Shuara 26:204
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟
Verse 205 — Surah Ash-Shuara 26:205
تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں
Verse 206 — Surah Ash-Shuara 26:206
اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے
Verse 207 — Surah Ash-Shuara 26:207
تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟
Verse 208 — Surah Ash-Shuara 26:208
(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے
Verse 209 — Surah Ash-Shuara 26:209
اور ہم ظالم نہ تھے
Verse 210 — Surah Ash-Shuara 26:210
اِس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں
Verse 211 — Surah Ash-Shuara 26:211
نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں
Verse 212 — Surah Ash-Shuara 26:212
وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں
Verse 213 — Surah Ash-Shuara 26:213
پس اے محمدؐ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے
Verse 214 — Surah Ash-Shuara 26:214
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ
Verse 215 — Surah Ash-Shuara 26:215
اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ
Verse 216 — Surah Ash-Shuara 26:216
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذ مہ ہوں
Verse 217 — Surah Ash-Shuara 26:217
اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو
Verse 218 — Surah Ash-Shuara 26:218
جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو
Verse 219 — Surah Ash-Shuara 26:219
اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے
Verse 220 — Surah Ash-Shuara 26:220
وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
Verse 221 — Surah Ash-Shuara 26:221
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟
Verse 222 — Surah Ash-Shuara 26:222
وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں
Verse 223 — Surah Ash-Shuara 26:223
سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں، اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں
Verse 224 — Surah Ash-Shuara 26:224
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں
Verse 225 — Surah Ash-Shuara 26:225
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں
Verse 226 — Surah Ash-Shuara 26:226
اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں
Verse 227 — Surah Ash-Shuara 26:227
بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں