Back to Languages

Urdu - Chapter 55

Translation by Abul A Ala Maududi

Verse 1

رحمٰن نے

Verse 2

اِس قرآن کی تعلیم دی ہے

Verse 3

اُسی نے انسان کو پیدا کیا

Verse 4

اور اسے بولنا سکھایا

Verse 5

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

Verse 6

اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں

Verse 7

آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی

Verse 8

اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو

Verse 9

انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو

Verse 10

زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا

Verse 11

اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں

Verse 12

طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی

Verse 13

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 14

انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا

Verse 15

اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا

Verse 16

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 17

دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے

Verse 18

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 19

دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں

Verse 20

پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے

Verse 21

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 22

اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

Verse 23

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 24

اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں

Verse 25

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 26

ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے

Verse 27

اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے

Verse 28

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 29

زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے

Verse 30

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 31

اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں

Verse 32

(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو

Verse 33

اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے

Verse 34

اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 35

(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے

Verse 36

اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟

Verse 37

پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟

Verse 38

اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 39

اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی

Verse 40

پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو

Verse 41

مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا

Verse 42

اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

Verse 43

(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے

Verse 44

اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے

Verse 45

پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 46

اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں

Verse 47

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 48

ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور

Verse 49

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 50

دونوں باغوں میں دو چشمے رواں

Verse 51

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 52

دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں

Verse 53

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 54

جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی

Verse 55

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 56

اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا

Verse 57

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 58

ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی

Verse 59

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 60

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے

Verse 61

پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟

Verse 62

اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے

Verse 63

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 64

گھنے سرسبز و شاداب باغ

Verse 65

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 66

دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے

Verse 67

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 68

اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار

Verse 69

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 70

اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں

Verse 71

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 72

خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں

Verse 73

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 74

اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا

Verse 75

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 76

وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے

Verse 77

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

Verse 78

بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام