Back to Languages

Urdu - Chapter 68 - Al-Qalam

Translation by Abul A Ala Maududi — Permalink

Verse 1 — Surah Al-Qalam 68:1

ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں

Verse 2 — Surah Al-Qalam 68:2

تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو

Verse 3 — Surah Al-Qalam 68:3

اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں

Verse 4 — Surah Al-Qalam 68:4

اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو

Verse 5 — Surah Al-Qalam 68:5

عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

Verse 6 — Surah Al-Qalam 68:6

کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے

Verse 7 — Surah Al-Qalam 68:7

تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں

Verse 8 — Surah Al-Qalam 68:8

لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ

Verse 9 — Surah Al-Qalam 68:9

یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں

Verse 10 — Surah Al-Qalam 68:10

ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے

Verse 11 — Surah Al-Qalam 68:11

طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

Verse 12 — Surah Al-Qalam 68:12

بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے

Verse 13 — Surah Al-Qalam 68:13

اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے

Verse 14 — Surah Al-Qalam 68:14

اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے

Verse 15 — Surah Al-Qalam 68:15

جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں

Verse 16 — Surah Al-Qalam 68:16

عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے

Verse 17 — Surah Al-Qalam 68:17

ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

Verse 18 — Surah Al-Qalam 68:18

اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے

Verse 19 — Surah Al-Qalam 68:19

رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی

Verse 20 — Surah Al-Qalam 68:20

اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو

Verse 21 — Surah Al-Qalam 68:21

صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا

Verse 22 — Surah Al-Qalam 68:22

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو

Verse 23 — Surah Al-Qalam 68:23

چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

Verse 24 — Surah Al-Qalam 68:24

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

Verse 25 — Surah Al-Qalam 68:25

وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں

Verse 26 — Surah Al-Qalam 68:26

مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں

Verse 27 — Surah Al-Qalam 68:27

نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے

Verse 28 — Surah Al-Qalam 68:28

اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

Verse 29 — Surah Al-Qalam 68:29

و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے

Verse 30 — Surah Al-Qalam 68:30

پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا

Verse 31 — Surah Al-Qalam 68:31

آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے

Verse 32 — Surah Al-Qalam 68:32

بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

Verse 33 — Surah Al-Qalam 68:33

ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے

Verse 34 — Surah Al-Qalam 68:34

یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں

Verse 35 — Surah Al-Qalam 68:35

کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟

Verse 36 — Surah Al-Qalam 68:36

تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟

Verse 37 — Surah Al-Qalam 68:37

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

Verse 38 — Surah Al-Qalam 68:38

کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟

Verse 39 — Surah Al-Qalam 68:39

یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟

Verse 40 — Surah Al-Qalam 68:40

اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟

Verse 41 — Surah Al-Qalam 68:41

یا پھر اِن کے ٹھیرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اِس کا ذمہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں

Verse 42 — Surah Al-Qalam 68:42

جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے

Verse 43 — Surah Al-Qalam 68:43

اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)

Verse 44 — Surah Al-Qalam 68:44

پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی

Verse 45 — Surah Al-Qalam 68:45

میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے

Verse 46 — Surah Al-Qalam 68:46

کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟

Verse 47 — Surah Al-Qalam 68:47

کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟

Verse 48 — Surah Al-Qalam 68:48

پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا

Verse 49 — Surah Al-Qalam 68:49

اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا

Verse 50 — Surah Al-Qalam 68:50

آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا

Verse 51 — Surah Al-Qalam 68:51

جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے، اور کہتے ہیں یہ ضرور دیوانہ ہے

Verse 52 — Surah Al-Qalam 68:52

حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے